28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 28:1–3

طٰسٓمّٓ Open ayah 28:1 in the Quran reader

طا۔ سیم۔ میم۔

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ کتاب واضح کی آیتیں ہیں

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

ہم آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) و فرعون کا کچھ قصہ ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں،1۔

1۔ یعنی نفع اس سے وہی اٹھائیں گے، سبق اس سے وہی حاصل کریں گے جو صاحب ایمان ہیں خواہ حقیقۃ، یا حکما، یعنی ایمان کا ارادہ رکھتے ہوں۔ (آیت) ” من نبا “۔ میں (آیت) ” من “۔ تبعیضیہ ہے ” کچھ “ کے معنی میں۔ جیسا کہ ظاہر ہے، قصہ پورا نہیں بلکہ اس کا کچھ حصہ یہاں بیان ہورہا ہے۔ (آیت) ” بالحق “۔ بالکل صحیح ومتعبر۔ توریت وغیرہ کے ذریعہ سے ناقص اور محرف قصہ پہلے سے مشہور تھا ،
Ayah 28:4

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

بیشک فرعون ملک میں بہت بڑھ چڑھ گیا تھا، اور اس نے وہاں کے باشندوں کو طبقات میں تقسیم کر رکھا تھا، ان میں سے ایک جماعت کا زور گھٹا رکھا تھا، ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا تھا واقعی وہ (بڑے) مفسدوں میں سے تھا،2۔

2۔ ملک سے مراد ملک مصر ہے (آیت) ” الارض “ کا اطلاق جس طرح سارے روئے زمین پر ہوتا ہے اسی طرح اس کے ہر ٹکڑے پر (آیت) ” طآئفۃ منھم “۔ یعنی بنی اسرائیل یہ فرعون کونسا تھا، کس زمانہ میں تھا۔ اس کے مظالم کی کیا نوعیت تھی، اسی قسم کے سارے سوالات کے جوابات تفسیر کے ابتدائی حصوں میں آچکے ہیں۔
Ayah 28:5

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم کو یہ منظور ہوا کہ جن لوگوں کا زور ملک میں گھٹایا جارہا ہے ہم ان پر احسان کریں اور انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں (زمین کا) ملک بنائیں،3۔

3۔ یعنی ہماری مشیت میں یہ تھا کہ ہم انہیں دنیوی ودینی عروج دے کر رہیں۔ (آیت) ” نجعلھم ائمۃ “۔ اس ارادۂ الہی کا ظہور دینی پیشوائی میں یوں ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر صحفیہ آسمانی نازل ہوا۔ شریعت الہی اسی قوم پر اتری۔ انبیاء اس میں برابر پیدا ہوتے رہے۔ (آیت) ” نجعلھم الورثین “۔ اس مشیت کا ظہور یوں ہوا کہ فرعون کی غلامی سے آزادی نصیب ہوئی اور آگے چل کر شام و فلسطین کی حکومت بھی مل گئی۔ (آیت) ” نمن ..... الارض “۔ بعض عارفوں نے اس سے یہ نکتہ بھی نکالا ہے کہ کمزور ومظلوم ہونا خود موجب التفات ونصرت الہی ہے۔
Ayah 28:6

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور ہم انہیں زمین میں حکومت دیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے تابعین کو ان میں سے وہ کچھ دکھلائیں جن سے وہ بچنا چاہتے تھے،4۔

4۔ (اور اپنی قضاوقدر کے سامنے ان کی ایک تدبیر بھی نہ چلے دیں) (آیت) ” ھامن “۔ ھامان کا نام یہاں پہلی بار قرآن میں آیا ہے۔ یہ کون شخص تھا ؟ یہود ونصاری کہتے ہیں کہ مصر میں کوئی شخص اس نام کا تھا ہی نہیں۔ البتہ ایران میں ایک شخص اس نام کا گزرا ہے۔ اور (نعوذ باللہ) قرآن نے دونوں میں خلط کردیا۔ لیکن ہامان کو شخصی نام فرض ہی کیوں کیا جائے ؟ جس طرح اس کا عطف ” فرعون “ کے ساتھ یہاں اور آگے چل کر بھی آیا ہے اس سے تو قیاس یہی ہوتا ہے کہ جس طرح فرعون شخصی نام نہیں بلکہ شاہی لقب تھا اسی طرح ہامان بھی کوئی سرکاری لقب ہی تھا۔ تاریخ سے اتنا تو بہرحال ثابت ہے کہ مصر کے ایک بہت بڑے دیوتا کا نام آمن (AMON) تھا اس کے بڑے پجاری کے اختیارات بادشاہ سے بس کچھ ہی کم ہوتے تھے۔ عجب کیا کہ اس بڑے پجاری کا سرکاری لقب عربی تلفظ میں ہامان ہی ہو۔ (ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی) (آیت) ” ماکانوا یحذرون “۔ یعنی زوال سلطنت اور ہلاکت۔ اسی کا انہیں اندیشہ تھا اور یہی واقع ہو کر رہا۔ (آیت) ” فی الارض “۔ یہ لازمی نہیں کہ اسرائیلیوں کو یہ تمکین وتمکن اسی ملک مصر ہی میں حاصل ہوا ہو۔ روئے زمین کے کسی حصہ میں بھی ہوجانا، وعدۂ الہی کے تحقق کے لیے کافی تھا۔
Ayah 28:7

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی والدہ کو الہام کیا کہ تم انہیں دودھ پلاؤ، پھر جب تم کو انکی نسبت اندیشہ ہو،5۔ تو تم انہیں دریا میں ڈال دو اور نہ اندیشہ کرو اور نہ غم کرو ہم ضرور ان کو تمہارے پاس واپس پہنچا دیں گے اور انہیں پیغمبر بنا دیں گے،6۔

5۔ بنی اسرائیل کی اولاد مذکور تو چن چن کر قتل کی ہی جارہی تھی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ کو بھی قدرۃ یہ فکر پیدا ہوئی کہ اب ان کی بھی تلاش ہوگی، اس وقت ان کے دل میں بات غیب سے ڈال دی گئی، (آیت) ” اوحینا “۔ وحی یہاں الہام یا القاء کے معنی میں ہے۔ اے القینا فی قلبھا (ابن قتیبہ) الوحی کل ما دللت علیہ من کلام او کتاب او اشارۃ اور سالۃ (ابن قتیبہ) اس اصطلاحی معنی میں نہیں جو انبیاء کے ساتھ مخصوص ہے، اس وحی کا ذکر سورة طہ پ 16 میں گزر چکا ہے۔ بہرحال نہ یہ وحی، وحی رسالت تھی اور نہ والدۂ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نبی یا رسول تھیں ولیس ھذا وحی رسالۃ ولا تکونھی رسولا (مدارک) توریت میں ہے :۔ ” وہ عورت حاملہ ہوئی اور بیٹا جنی اور اس نے اسے خوبصورت دیکھ کے تین مہینے تک چھپا رکھا اور جب آگے کو نہ چھپا سکی تو اس نے سرکنڈوں کا ایک ٹوکر ا بنایا اور اس پر لاسا اور رال لگایا اور لڑکے کو اس میں رکھا اور اس نے اسے دریا کے کنارہ پر جھاڑ میں رکھ دیا۔ “ (خروج۔ 2: 1۔ 3) 6۔ یعنی سردست تو یہ کرو کہ ان کی رضاعت بدستور کرتی رہو۔ پھر جب دیکھو کہ افشاء راز ہوا جاتا ہے تو ایک صندوق میں انہیں بند کرکے دریائے نیل میں ڈال دو ۔ نہ ان کے ڈوب جانے کا اندیشہ کرو نہ ان کی مفارقت کا غم کرو، ہم ایسا انتظام کیے دیتے ہیں کہ عنقریب ہی یہ پھر تمہارے پاس پہنچ جائیں اور پھر ایک خاص وقت پر انہیں پیغمبری عنایت کردیں گے۔ (آیت) ” لاتخافی ولا تحزنی “۔ جس خوف وحزن سے یہاں ممانعت ہے وہ عقلی واختیاری تھا، اس خوف وحزن کے علاوہ جو طبعی اور غیر اختیاری ہوتا ہے۔ (آیت) ” فی الیم “ یم سے یہاں مراد مصر کا مشہور اور لمبا چوڑا دریائے نیل ہے۔ جو اسرائیلیوں کے محلہ سے ہوتا ہوا عین شاہی محل کے دامن سے گزرا تھا۔
Ayah 28:8

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

چناچہ فرعون کے لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھالیا تاکہ وہ ان کے لئے دشمن اور غم (کا باعث) بنیں،7۔ بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے تابعین (بڑے) خطا کار تھے،8۔

7۔ حضرت موصوفہ نے ان ہدایتوں پر عمل کیا۔ دریائے نیل فرعون کے شاہی محل کے نیچے ہو کر بہا تھا۔ صندوق بہتے بہتے وہاں پہنچا۔ فرعونیوں کے نظر پڑی جھپٹ کر نکالا۔ اس کے اندر سے ایک پیارا بچہ نکلا، اس کی پرورش کی گئی۔ اور اس طرح اپنے ہاتھوں اپنی ہلاکت اور مصیبت کا سبب بن گئے۔ (آیت) ” ال فرعون “۔ یعنی فرعون کے لوگ (آیت) ” لیکون “۔ میں ل عاقبت کا ہے یعنی ان کے اس بچہ کو اٹھا لینے کا نتیجہ یہی ہونا تھا۔ تعلیل لا لتقاطھم ایاہ بما ھو عاقبتہ (بیضاوی) وھذہ اللام تسمی لام العاقبۃ ولام الصیرورۃ لانھم لم یلتقطوہ لیکون لھم عدوا وحزنا ولکن صارعاقبۃ امرھم الی ذلک (معالم) اے لیصیر الامر الی ذلک لانھم اخذوہ لھذا کذا قالہ الزجاج وعن ھذا قال المفسرون ان ھذہ لام العاقبۃ والصیرورۃ (مدارک) 8۔ (اور ایسے ظالموں فاجروں کو سزا ملنی ہی تھی) جمہور مفسرین کا یہی مذہب ہے۔ واما جمھور المفسرین فقالوا معناہ کانوا خاطئین فی ماکانوا علیہ من الکفر والظلم (کبیر) کانوا خاطئین سے دوسری مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اپنے اس عمل میں بڑے خطا کا ر، بڑے لغزش کرنے والے، بڑے چوکنے والے ثابت ہوئے۔ حسن بصری (رح) سے یہی معنی مروی ہے۔ قال الحسن معنی کانوا خاطئین لیس معنی الخطیءۃ بل المعنی ھم لایشعرون انہ الذی یذھب بملکھم (کبیر) یہ پہلو بھی اختیار کیا جاسکتا ہے اور کیا گیا ہے کہ خطا شعاری تو ان میں رچی ہوئی تھی ہی۔ سو اگر اس معاملہ میں بھی غلطی کربیٹھے تو ان کے لیے کوئی انوکھی چیز نہ ہوئی۔ اے کانوا خاطئین فی کل شیء فلیس خطؤھم فی تربیۃ عدوھم ببدع منھم (مدارک)
Ayah 28:9

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور فرعون کی بیوی بولیں کہ یہ (بچہ) میری اور تیری آنکھ کی ٹھنڈک ہے اسے قتل مت کرنا عجب کیا کہ یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں اور انہیں کچھ خبر نہ تھی (انجام کی) ،9۔

9۔ (کہ اسی بچہ کے ہاتھوں فرعون کی سلطنت غارت ہوگی) اے لایشعرون ان ھلاکھم بسببہ وعلی یدہ وھذا قول مجاھد وقتادۃ والضحاک ومقاتل (کبیر) (آیت) ” امرات فرعون “۔ سے مراد حضرت آسیہ ہیں۔ توریت محرف میں انہیں فرعون کی لڑکی بتایا گیا ہے۔ قرآن نے اس پرانی تاریخی غلطی کی اصلاح کرکے بتایا کہ وہ خاتون بیٹی نہیں بیوی تھیں۔ البتہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اصلا بیٹی ہی ہو جس کے ساتھ بعد کو فرعون نے شادی کرلی ہو۔ اس پر حیرت نہ کی جائے۔ متعدد جاہلی شاہی خاندانوں میں عام رواج محرمات ہی سے شادی کرنے کا رہا ہے۔ اور مصر کے شاہی (فرعونی) خاندان میں بادشاہ کا اپنی ہمشیر سے نکاح کرنے کا دستور تو عام تھا۔ بیٹی سے شادی کرکے اسے ملکہ بنالینے کا تاریخی ثبوت تو موجود نہیں۔ لیکن ہمشیر کے نکاح پر قیاس کرکے اس کا امکان تو بہرحال موجود ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ توریت میں ہے :۔” تب فرعون کی بیٹی غسل کرنے دریا پر اتری اور اس کی سہیلیاں دریا کے کنارہ پر پھرنے لگیں۔ اس نے جھاڑ میں ٹوکرا دیکھ کر اپنی سہیلی کو بھیجا کہ اسے اٹھا لے جب اس نے اسے کھولا تو لڑکے کو دیکھا، اور دیکھا کہ وہ روتا ہے۔ اسے اس پر رحم آیا۔ اور بولی یہ کسی عبرانی کا لڑکا ہے “۔ (خروج۔ 2: 5، 6) عارفین نے کہا کہ اہل اللہ سے محبت رائیگاں نہیں جاتی چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) سے محبت کا نتیجہ حضرت آسیہ نے مشاہدہ کرلیا کہ مشرف باایمان ہی نہیں ہوئیں بلکہ افضل نساء عالمین قرار پائیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس قول کا سبب محض حب طبعی تھا لیکن اہل اللہ کے ساتھ حب طبعی بھی، بشرطیکہ کوئی مانع موجود نہ ہو۔ ایمان وہدایت میں نافع ہوجاتی ہے۔
Ayah 28:10

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور والدہ موسیٰ (علیہ السلام) کا دل بےقرار ہوا (ایسا کہ) قریب تھا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کا حال ظاہر کردیتیں اگر ہم ان کے دل کو اسی لئے مضبوط نہ کیے رہتے کہ وہ یقین کیے رہیں،10۔

10۔ یعنی ادھر انہوں نے اپنے نور نظر کو سپرددریا کیا اور ادھر ان کے قلب پر غم و صدمہ نے اتنا ہجوم کیا کہ قریب تھا کہ مضطر ہو کر وہ سب ہی راز ظاہر کردیں لیکن ہم نے ان کے دل کو مضبوط رکھا تاکہ وہ ہمارے وعدہ پر یقین کیے بیٹھی رہیں۔ گویا طبعی تقاضا تو شدت غم وحزن میں اس راز کے افشاء ہی کا تھا لیکن تائید ایزدی کے شامل حال رہی اور انہوں نے طبیعت کے مقتضا پر عمل نہ کیا، عارفین نے لکھا ہے کہ کاملین بھی امور طبعیہ کے اثرات سے بالکل محفوظ نہیں ہوجاتے چناچہ حضرت موصوفہ کو باجود وعدہ الہی کے تردد قلبی شدت کے ساتھ محسوس ہوا لیکن آپ نے بفضل الہی اس کے مقتضا پر عمل نہ کیا اور یہ شیوہ کاملین کا ہوتا ہے۔ (آیت) ” لولا ان ربطنا “۔ سے مرشد تھانوی (رح) نے یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ تکمیل اخلاق میں قوت بشری تنہا کافی نہیں، تائید الہی کا شامل ہونا ضروری ہے۔
Ayah 28:11

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن سے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا سراغ تو لگانا، سو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دور سے دیکھا اور وہ لوگ (یعنی فرعون والے) بیخبر تھے،11۔

11۔ (اس امر سے کہ وہ ان کی بہن ہیں اور اسی سراغ رسی میں آئی ہیں) (آیت) ” وقالت لاختہ قصیہ “۔ سے مرشد تھانوی (رح) نے یہ افادہ کیا ہے کہ درجہ اعتدال میں تدبیر اختیار کرنا مرتبہ توکل کے منافی نہیں۔ توریت میں ان کا نام مریم آیا ہے۔ یہ بھی لکھا ہے کہ وہ (نبیہ “ ) تھی (خروج۔ 10: 20) اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ کوئی عورت نبی نہیں ہوئی ہے۔ اسرائیلی اصطلاحی دوسری تھی۔ وہاں ” نبیہ “ کے معنی صرف پیشین گوئی کرنیوالی یا تقریبا کاہنہ کے ہیں۔ توریت میں یہ بھی ہے :۔” اور اس کی بہن دور سے کھڑی دیکھتی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے “۔ (خرورج۔ 2: 4)
Ayah 28:12

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) پر دائیوں کی بندش پہلے ہی کر رکھی تھی،12۔ سو وہ کہنے لگیں کیا میں تم لوگوں کو ایسے گھرانے کا پتہ بتاؤں جو تمہارے لئے اس بچہ کی پرورش کریں اور ساتھ ہی اس کے خیر خواہ بھی ہوں،13۔

12۔ (چنانچہ آپ کسی کا دودھ نہ لیتے تھے) ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ 13۔ محل والے پریشان تو ہو ہی رہے تھے کہ بچہ کسی دایہ کی دایہ گری نہیں قبول کررہا ہے۔ خواہر موسیٰ (علیہ السلام) نے اجنبی اور انجان بن کر ان سے کہا کہ میں تمہیں ایسے گھرانے کا پتہ بتا سکتی ہوں جو بچہ کی پرورش کا کام ہی نہ کردیں بلکہ پوری دلسوزی سے اسے انجام دیں۔ وہ لوگ تو دل سے یہی چاہتے تھے فورا راضی ہوگئے۔ والدہ موسیٰ ایک اجنبی دایہ کی حیثیت سے بلائی گئیں۔ رضاعت شروع کی۔ کبھی اپنے گھر لاتیں، کبھی محل میں جارکھتیں۔ روایات یہود کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
Ayah 28:13

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

غرض ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی والدہ کے پاس واپس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور تاکہ غم میں نہ رہیں اور تاکہ اس بات کو جان لیں،14۔ کہ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے، البتہ اکثر لوگ اس کا یقین نہیں رکھتے،15۔

14۔ (مشاہدہ ومعائنہ کے مرتبہ میں) (آیت) ” فرددنہ “۔ یعنی واپس پہنچا دیا، اپنے وعدہ کے مطابق۔ (آیت) ” تقرعینھا “۔ یعنی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اپنی اولاد کو دیکھ کر۔ اور یہ جو بعض روایات میں آیا ہے کہ والدہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس ارضاع کی اجرت بھی لی تھی تو اپنے کو اجنبی اور انجان ظاہر کرنے کے بعد بھی بالکل قرین قیاس یہی ہے۔ رہا اس پر یہ فقہی شبہ کہ واجب پر تو اجرت جائز ہی نہیں۔ سو اس کے متعدد جوابات ممکن ہیں۔ اول تو یہ کیا ضرور ہے کہ فقہ اسرائیلی میں بھی یہ جزئیہ موجود ہو۔ اور پھر حربی کا مال اس کی رضا مندی سے لینا، خواہ کسی طریق سے بھی ہو، ہماری شریعت میں بھی جائز ہے۔ ان کے علاوہ یہاں ضرورت ومصلحت کا تقاضا بھی یہی تھا۔ 15۔ تعریض ہے کافروں پر کہ ان بدبختوں کو وعدۂ الہی پر بھی اطمینان نہیں ہوتا۔ ذرا اسی دیر لگی، یا درمیان میں کوئی پیچ پڑا اور یہ بدعقیدہ ہوجاتے ہیں۔
Ayah 28:14

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

پھر جب وہ اپنی پختگی کو پہنچ گئے اور درست ہوگئے ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا کیا،16۔ اور ہم نیک کاروں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں،17۔

16۔ یعنی فہم سلیم وعقل مستقیم بطور مقدمہ نبوت کے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ابھی تک نبی نہ تھے، لیکن آثار نبوت سب بیدار ہوچکے تھے۔ (آیت) ” استوی “۔ یعنی قوائے جسمانی وعقلی پورے بلوغ کو پہنچ لیے۔ 17۔ یعنی عمل صالح سے فیضان علمی میں ترقی ہوتی رہتی ہے۔ (آیت) ” نجزی “ سے معلوم ہوتا ہے کہ حکم سے مراد یہاں نبوت نہیں۔ کیونکہ نبوت جزاء اعمال و احسان نہیں، محض خدائے رحمن کا فضل خاص ہے (کبیر)
Ayah 28:15

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور وہ شہر میں ایسے وقت پہنچے کہ وہاں کے باشندے بیخبر تھے، تو انہوں نے وہاں دو آدمیوں کو لڑتے پایا ایک تو ان کی برداری کا تھا اور ایک ان کے مخالفین میں تھا،18۔ سو وہ جو ان کی برادری کا تھا اس نے ان سے داد خواہی کی اس کے مقابلہ میں جو ان کے مخالفین میں تھا، سو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو گھونسا مارا پس اس کا کام تمام کردیا،19۔ (موسی علیہ السلام) بولے یہ تو شیطانی حرکت ہوگئی بیشک شیطان کھلا ہو ادشمن بہکا دینے والا ہے،20۔

18۔ یعنی ایک اسرائیلی (سبطی) تھا اور ایک مصری (قبطی) (آیت) ” المدینۃ “ شہر سے مراد مصر کا قدیم شہر ممفس ہے اور توریت میں یہ نام موف کرکے آتا ہے اور ہمارے ہاں کی قدیم روایات میں منف کرکے۔ موجودہ دارالسلطنت شہر قاہرہ سے کوئی 12 میل جنوب میں واقع تھا۔ اور اپنے زمانہ کا بڑا نام آور شہر تھا۔ اب موقع مطراینہ اسی جگہ پر ہے۔ ملاحظہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” حین غفلۃ من اھلھا “۔ یعنی لوگ بیخبر پڑے سو رہے تھے۔ وقت غالبا دوپہر کا تھا۔ 19۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پایا کہ مصری ظالم تھا اور اسرائیلی مظلوم آپ نے گھونسا محض رفع ظلم کے لیے تادیبا مارا۔ اور یہ محض اتفاق تھا کہ اس سے وہ مصری مرگیا۔ توریت میں یہ حکایت یوں درج ہے :۔” جب موسیٰ (علیہ السلام) بڑا ہوا تو اپنے بھائیوں کے پاس باہر گیا اور ان کی مشقتوں کو دیکھا اور دیکھا کہ ایک مصری ایک عبرانی کو جو اس کے بھائیوں میں سے ایک تھا مار ہا ہے۔ پھر اس نے ادھر ادھر ہر طرف نظر کیا اور دیکھا کہ کوئی نہیں، تب اس مصری کو مار ڈالا۔ اور ریت میں چھپا دیا “۔ (خروج۔ 2: 11، 12) یہ قتل نہ عمدا تھا نہ ظلما محض خطا تھا اور قتل خطا تو معصیت یوں ہی نہیں ہوتی۔ چہ جائیکہ جب مقصود اس سے اصلاح وخیر اور ایک مظلوم کی نصرت و رہائی ہو۔ یہ قتل ایسا ہی ہے جیسا ہماری شریعت میں کسی مجرم پر حد یا تعزیر جاری ہو اور وہ اتفاقا اسی میں مرجائے تو نہ قاضی پر گناہ ہوگا نہ جلاد پر۔ 20۔ یعنی شیطان کا کام ہی انسان کو بہکانا، غلطیوں میں مبتلا کرنا ہے۔ (آیت) ” عمل الشیطن “۔ اس فرعونی کا قتل اس کے حربی ہونے کی بنا پر تو یوں ہی مباح تھا اور حق العبد نہ تھا۔ پھر قتل عمد نہیں قتل خطا تھا اور مقصود اس سے تادیب تھی، لیکن موسیٰ (علیہ السلام) پیغمبر تھے کمال خشیت سے خلاف اولی کو بھی گناہ قرار دیا (تھانوی (رح) (آیت) ” ھذا “۔ یعنی یہ قتل جو بالکل بےارادہ عمل میں آگیا۔ اشارۃ الی القتل الحاصل بغیر قصد (مدارک)
Ayah 28:16

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

عرض کیا اے میرے پروردگار مجھ سے قصور ہوگیا،21۔ سو تو بخش دے پھر (اللہ نے) انہیں بخش دیا، بیشک وہ تو ہی ہے بڑا بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا

21۔ (اور جو نتیجہ میں نہیں چاہتا تھا وہ نکل آیا) (آیت) ” ظلمت نفسی “۔ حضرت کا اپنی زبان سے یہ ادا کرنا ہرگز اثبات جرم کے مرادف نہیں۔ یہ تو کاملین کی عام عادت ہی ہوتی ہے کہ اپنی خفیف سی بےاحتیاطی کو بھی گویا خطا ولغزش کا ایک پہاڑ بنا کر پیش کرتے ہیں انما عدہ من عمل الشیطان وسماہ ظلما واستغفر منہ علی عادتھم فی استعظام محقرات فرطت منھم (بیضاوی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تو محض رفع ظلم چاہا تھا، قتل بلاقصد واقع ہوگیا۔ آپ کو بعد تامل معلوم ہوا کہ رفع ظلم دوسرے طریق سے بھی ممکن تھا جو قصد کے وقت سمجھ میں نہ آیا بس اس لیے آپ نے استغفار فرمایا، اس سے چند مسئلے ثابت ہوئے۔ ایک یہ کہ کاملین سے بھی بعض طبعیات مثلا غضب کا صدور ہوتا رہتا ہے۔ دوسرے حسنات الابرار سیئات المقربین اور یہاں وہ حسنہ دفع ظلم تھا تیسرے یہ کہ کا ملین کو خشیت دوسروں سے کہیں زائد ہوتی ہے۔
Ayah 28:17

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

(موسی (علیہ السلام) نے) عرض کی اے میرے پروردگار تو نے مجھ پر (بڑے بڑے) انعامات کئے ہیں، سو میں بھی مجرموں کی مدد نہ کروں گا،22۔

22۔ یہاں مجرمین سے مراد وہ ہیں جو دوسروں سے گناہ کا کام کرانا چاہیں کیونکہ گناہ کسی سے کرانا یہ بھی جرم ہے بس اس میں شیطان بھی داخل ہوگیا کہ وہ گناہ کراتا ہے اور گناہ کرنے والا اس کی مدد کرتا ہے خواہ عمدا یا خطا “ (تھانوی (رح) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس مغفرت ومغفوریت کا حال بطریق الہام معلوم ہوگیا تھا۔ جیسا کہ ہر ولی اللہ کو مکشوف ہوسکتا ہے۔
Ayah 28:18

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

پھر (موسی (علیہ السلام) کو) شہر میں صبح ہوئی خوف واندیشہ کی حالت میں کہ اتنے میں وہی جس نے کل ان سے مدد چاہی تھی،23۔ (آج پھر) اسے پکار رہا ہے (موسی (علیہ السلام) نے) اس سے کہا تو بھی بڑا ہی بد راہ ہے،24۔

23۔ (اور اس وقت کسی اور سے الجھ رہا تھا) (آیت) ” یترقب “۔ یعنی آپ کو برابر یہ دھڑکا لگا ہوا تھا کہ کہیں مصری پولیس گرفتار کرنے نہ آرہی ہو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس وقت تک نبی نہیں ہوئے تھے لیکن اگر ہوتے بھی تو طبعی خوف واندیشہ کسی بھی مرتبہ کمال کے منافی نہیں۔ (آیت) ” خآئفایترقب “۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ جو لوگ مطلقا غیر اللہ کے خوف کو ناجائز بتاتے ہیں۔ یہ آیت ان کے خیال کی بالکل تردید کررہی ہے۔ فیہ دلیل علی انہ لاباس بالخوف من دون اللہ بخلاف مایقولہ بعض الناس انہ لایسوغ الخوف من دون اللہ (مدارک) 24۔ (کہ روز ہی لوگوں سے الجھتا رہتا ہے) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کل کی بات یاد آگئی۔ اسی پر آپ کو ناخوشی پیدا ہوئی۔ توریت میں ہے :۔” اور جب وہ دوسرے دن باہر گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ دو عبرانی آپس میں جھگڑ رہے ہیں، تب اس نے اس کو جو ناحق پر تھا کہا کہ تو اپنے یار کو کیوں مارتا ہے ؟ “ (خروج۔ 2: 13)
Ayah 28:19

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

پھر جب (موسی (علیہ السلام) نے) اس پر ہاتھ بڑھا یا جو ان دونوں کا مخالف تھا،25۔ تو وہ (اسرائیلی) بول اٹھا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا اب مجھے قتل کرنا چاہتے ہو جیساکل ایک آدمی کو قتل کرچکے ہو بس تم دنیا میں اپنا زور بٹھانا چاہتے ہو اور (صلح و) اصلاح نہیں چاہتے،26۔

25۔ (کہ اس کو ظلم و زیادتی سے روک دیں) مراد فرعونی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اس اسرائیلی فریادی دونوں کا مخالف تھا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کاملین جس طرح دشمن پر سیاست کرتے ہیں دوست پر بھی کرتے ہیں، جیسا جس کے حال کا مقتضا ہوا۔ چناچہ یہاں آپ نے قول سے سیاست سبطی کی فرمائی اور ارادہ بطش سے قبطی کی۔ غرض ان میں عدل کامل ہوتا ہے۔ عصبیت قومی نہیں ہوتی۔ 26۔ وہ اسرائیلی جس پر ابھی ڈانٹ پڑچکی تھی قدرۃ یہ سمجھا کہ اب کہ وار مجھ پر ہوگا۔ یہ سمجھ کر چلا اٹھا۔ بس اسی سے شہر میں خبر پھوٹ گئی۔ توریت میں ہے :” وہ بولا کہ کس نے تجھے ہم پر حاکم یا منصف مقرر کیا ہے آیا تو چاہتا ہے کہ جس طرح تو نے اس مصری کو مار ڈالا، مجھے بھی مار ڈالے۔ (خروج۔ 2: 14)
Ayah 28:20

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور ایک شخص شہر کے کنارہ سے،27۔ دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا اے موسیٰ (علیہ السلام) اہل دربار آپ کے متعلق مشورہ کررہے ہیں کہ آپ کو قتل کردیں،28۔ سو آپ چلے جائیے میں آپ کا بڑا خیر خواہ ہوں

27۔ یعنی بڑے فاصلہ پر اس مقام سے جہاں شاہی کمیٹیاں منعقد ہوتی رہتی تھیں۔ (آیت) ” رجل “ یہ شخص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مومن مخلص تھا۔ 28۔ یعنی سرکاری کمیٹی میں گفتگو اس موضوع پر ہورہی ہے کہ آپ کو اس مصری نے یہ سنا تو چاہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرے۔ “ (خروج۔ 2: 15)
Ayah 28:21

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

سوموسی (علیہ السلام) وہاں سے نکل کھڑے ہوئے خوف واندیشہ کے ساتھ،29۔ بولے اے میرے پروردگار مجھے ظالم لوگوں سے بچا لیجیے،30۔

29۔ توریت میں ہے :۔” تب موسیٰ (علیہ السلام) ڈرا اور کہا کہ یقیناً یہ بھید فاش ہوا “۔ (خروج۔ 2: 14) کاملین یہاں تک کہ انبیاء کے لیے بھی یہ ہرگز ضروری نہیں کہ امور طبعیہ میں وہ عام انسانوں سے الگ ہوں۔ (آیت) ” فخرج منھا ظاہر ہے کہ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے مملکت مصر میں کہیں بھی ٹھہرنا خطرہ سے خالی نہ تھا۔ جائے امن اب آپ کے لیے حدود مصر سے باہر ہی ہوسکتی تھی۔ (آیت) ” منھا “۔ یعنی اس شہر سے۔ اے من المدینۃ (بیضاوی) 30۔ (اور امن کی جگہ پہنچا دیجئے) انبیاء اپنا تعلق ہر حال میں اللہ سے جوڑے رکھتے ہیں۔ ہجرت اس ملک سے خود کر رہے ہیں۔ لیکن دعا حق تعالیٰ سے کرتے جاتے ہیں۔
Ayah 28:22

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب (موسی علیہ السلام) مدین کی طرف ہولئے تو بولے کہ امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے سیدھی راہ پر چلا دے،31۔

31۔ (چنانچہ ایسا ہی ہوا اور آپ مدین پہنچ گئے) مدین پر حواشی پہلے گزر چکے۔ سورة الاعراف (پ 8) وغیرہ میں۔ ملزم کی تلاش میں سڑکوں کی ناکہ بندی ہوچکی تھی۔ اس لیے آپ جنگل بہیڑ ہوتے ہوئے چلے۔
Ayah 28:23

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب وہ مدین کے پانی پر پہنچے تو اس پر آدمیوں کا ایک مجمع دیکھا پانی پلاتے اور ان لوگوں سے ایک طرف دو عورتیں دیکھی کہ وہ (اپنے جانور) روکے کھڑی ہیں،32۔ پوچھا تمہارا کیا مقصود ہے ؟ دونوں بولیں ہم پانی نہیں پلاتے جب تک (یہ) چرواہے (اپنے جانوروں کو) ہٹا کر نہیں لے جاتے اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں،33۔

32۔ (وہ مردوں کے مجمع میں گھسی نہیں پڑتیں) (آیت) ” مآء مدین “۔ سے مراد شہر مدین کا کنواں ہے۔ قدیم تہذیب و تمدن میں کنوؤں کو بڑی اہمیت اور مرکزیت حاصل تھی، جس کا کچھ نمونہ آج بھی دیہات میں نظر آجاتا ہے۔ یہ دونوں نوجوان لڑکیاں شہر کے رئیس وچودھری اور اللہ کے پیغمبر حضرت شعیب (علیہ السلام) کی تھیں۔ توریت میں ان کا نام رعدایل آیا ہے۔ اور اس موقع پر توریت کا بیان حسب ذیل ہے۔ ” موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے حضور سے بھاگا۔ اور مدیان کی زمین میں گیا اور ایک کنوئیں کے نزدیک بیٹھا اور مدیان کے کاہن کی سات بیٹیاں تھیں وہ آئیں اور پانی نکالنے لگیں اور کٹھروں کو بھرا تاکہ اپنے باپ کے گلے کو پانی پلاویں “۔ (خروج۔ 2: 16) قدیم تمدن میں اونچی شریف زادیوں کا بھی کنوئیں پر جاکر پانی بھرنا یا جانوروں کا پانی پلانا خلاف دستور نہ تھا۔ باہر نکلنا تو ہماری شریعت میں بھی جائز ہے بشرطیکہ حیاء وپردہ داری کے ساتھ ہو۔ (آیت) ” تذودن “۔ اس میں خود اس طرف اشارہ ہوگیا کہ دونوں صاحبزادیاں الگ حیاء وتہذیب کے ساتھ کھڑی ہوئی تھیں۔ مردوں کے مجمع میں گھسی نہیں پڑتی تھیں۔ 33۔ (سو وہ خود تو آنے سے معذور ہیں اور یہ کام ہمیں کو کرنا پڑتا ہے لیکن ہم اپنی طرف سے اتنی احتیاط رکھتے ہیں کہ اپنے جانوروں کو مردوں کے مجمع سے الگ کیے کھڑے رہتے ہیں۔ جب مردوں کا مجمع رخصت ہولیتا ہے جب جاکر ہم اپنے جانوروں کو پانی پلاتے ہیں) شریف زادیوں کی یہ غیرت وحیاداری کتنی سبق آموز ہے۔
Ayah 28:24

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

پس (موسی (علیہ السلام) نے) ان کے لئے پانی پلادیا پھر ہٹ کر سایہ میں آگئے اور عرض کیا کہ اے میرے پروردگار تو جو نعمت بھی مجھے دے دے میں اس کا حاجت مند ہوں،34۔

34۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا طویل سفر کے بعد بھوکا پیاسا، تھکا ماندہ ہونا بالکل قدرتی تھا۔ آپ سایہ میں آکر بیٹھ گئے۔ اور اللہ تعالیٰ سے رزق کے لیے دعا کی، انس بن مالک ؓ کی حدیث مرفوع میں آتا ہے۔ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حاجت صرف بقدر ایک کف دست کے بیان فرمائی تھی، مرشد تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ تفسیر اس پر دلالت کرتی ہے کہ کاملین کی شان اپنی ہر حاجت قلیل وکثیر کا حق تعالیٰ کے سامنے ظاہر کرنا ہے۔ بخلاف مدعیان زہد کے جو حق تعالیٰ کی نعمتوں سے استغناء بلکہ نفرت ظاہر کیا کرتے ہیں۔ (آیت) ” فسقی لھما “۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے ان عورتوں کی خاطر ان کے جانوروں کو پانی بھر کر پلا دیا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں دلالت ہے اس پر کہ ماملین کو خدمت خلق سے عار نہیں ہوتی۔ توریت میں ہے :۔ وہ آئیں اور پانی نکالنے لگیں اور کٹھروں کو بھراتا کہ اپنے باپ کے گلے کو پانی پلادیں۔ تب گڈریوں نے آکے انہیں ہانکا۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے کھڑے ہو کر ان لڑکیوں کی مدد کی اور ان کے گلے کو پانی پلایا “۔ (خروج۔ 2: 16، 17) (آیت) ” تولی الی الظل “ یہاں یہ جتا دیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دھوپ کے وقت سایہ کے بھی محتاج تھے۔۔ کمال یہ ہرگز نہیں کہ کوئی بشر لوازم بشریت مثلا بھوک، پیاس، گرمی، سردی کے احساس سے بےنیاز ہوجائے۔ (آیت) ” رب ..... فقیر “ کامل سے کامل بندے یہاں تک کہ انبیاء اللہ کے دیئے ہوئے رزق سے مستغنی نہیں ہوتے۔ بھوک کے وقت للک کر اس کے لیے دعائیں، آرزوئیں کرتے ہیں۔
Ayah 28:25

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

پھر ان دو میں سے ایک لڑکی موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئی کہ شرماتی ہوئی چلتی تھی بولی کہ میرے والد تم کو بلاتے ہیں تاکہ تم کو اس کا صلہ دیں جو تم نے ہماری خاطر پانی پلا دیا تھا،35۔ پھر جب ان کے پاس پہنچے اور ان سے حالات بیان کئے تو انہوں نے کہا خوف مت کرو (اب) تم ظالم لوگوں سے بچ آئے،36۔

35۔ ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کھانے پینے کے لیے خدا سے دعا کی، ادھر یہ ہوا کہ لڑکیاں جو آج خلاف معمول سویرے واپس آگئیں تو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے سبب دریافت کیا۔ لڑکیوں نے اصل ماجرا سنا دیا۔ حضرت کی شرافت کب اسے گوارا کرسکتی تھی کہ ایسے محسن کو یوں ہی بالا بالا چلا جانے دیتے لڑکی کو بھیج اپنے گھر بلوایا کہ کچھ تو حق میزبانی کا ادا کریں۔ توریت میں ہے :۔” اور جب وہ اپنے باپ رعد ایل کے پاس آئیں اس نے پوچھا کہ آج تم کیونکر سویرے پھریں ؟ وہ بولیں ایک مصری نے ہمیں گڈریوں کے ہاتھ سے بچایا اور ہمارے لیے جتنا کافی تھا پانی بھرا۔ اور گلے کو پلایا۔ اس نے اپنی بیٹیوں سے کہا کہ وہ مرد کہاں ہے ؟ تم اسے کیوں چھوڑ آئیں ؟ اسے بلاؤ کہ روٹی کھاوے “۔ (خروج۔ 2: 18۔ 20) (آیت) ” تمشی علی استحیآء “۔ میں صاف دلالت اس امر پر ہے کہ شریف زادیوں کے لیے چٹک مٹک، تیزی طراری نہیں، بلکہ غیرت وحیاء لجانا اور شرمانا امر طبعی ہے۔ (آیت) ” تذودن۔ لا نسقی حتی یصدر الرعآء “۔ اور پھر اب (آیت) ” تمشی علی استحیآء “۔ عورت کے لیے اگر غیرت وحیاداری اس درجہ میں مطلوب ومقصود نہیں تو آخر قرآن کو بار بار ان تصریحات کی ضرورت کیا تھی۔ (آیت) ” احدھما “۔ ان صاحبزادی کا نام بی بی صفورہ تھا۔ روایات اسلامی میں آتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب رروانہ ہوئے تو ان سے کہا کہ تم میرے پیچھے ہوجاؤ۔ میں پسند نہیں کرتا کہ نامحرم پر بلاضرورت نظر بلاقصد بھی پڑے۔ 36۔ (یہاں فرعون مصر کا حکم نہیں چلتا) مدین حدود مصر سے باہر تھا۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ان صاحبزادی کی زبان سے (آیت) ” لیجزیک اجرما سقیت لنا “۔ سن کر چلا آنا اس پر دال ہے کہ اگر عمل بقصد عوض نہ ہو پھر بعد عمل کچھ عوض قبول کرلیا جائے تو یہ منافی اخلاص نہیں۔
Ayah 28:26

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

پھر) ان دو میں سے ایک لڑکی بولی اے اباان کو نوکر رکھ لیجیے کیونکہ اچھا نوکر وہی ہے جو قوت دار ہو، امانت دار ہو،37۔

37۔ یعنی جس کے قوائے جسمانی بھی اچھے ہوں، محنت سے اپنے کام انجام دے سکے اور اخلاقی صفات سے بھی متصف ہو۔ خدمت کی بجا آوری میں خیانت و بددیانتی سے کام نہ لے۔ بی بی صاحبہ کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق دونوں چیزوں کے تجربے اتنے عرصہ میں ہوچکے تھے۔
Ayah 28:27

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

وہ بولے میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک تمہارے نکاح میں دے دوں اس شرط پر کہ تم آٹھ سال میری نوکری کرو،38۔ اور اگر تم دس سال پورے کردو تو یہ تمہاری طرف سے (احسان) ہے اور میں تم پر کوئی سختی نہیں چاہتا تم انشاء اللہ مجھ کو خوش معاملہ پاؤ گے،39۔

38۔ (اور اس نوکری کا بدل وہی نکاح ہے) یعنی آٹھ سال کی خدمت اس نکاح کا مہر قرار پایا۔ کسی مدت معینہ تک مویشیوں کی چرائی کا مہر مقرر ہوجانا فقہ اسلامی ظاہر ہے۔ اور اگر باپ کی تھیں تو بالغہ کی رضا سے ایسا معاملہ اس شریعت میں بھی جائز ہے “۔ (تھانوی (رح ) 39۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمہاری خوشی ہو تو تم دس برس رہ جانا، اس میں میری طرف سے کوئی جبر یا اصرار نہیں۔ میں تو کام کی تعداد، وقت کی پابندی وغیرہ ہر معا ملہ میں تمہاری سہولت کو مد نظر رکھوں گا۔ مرشدی تھانوی (رح) نے فرمایا کہ نوکری یا مزدوری یا دوسرے اسباب معاش منافی توکل نہیں۔
Ayah 28:28

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا تو یہ بات میرے اور آپ کے درمیان ہوگئی، میں ان دونوں میں سے جو مدت بھی پوری کردوں مجھ پر کوئی جبر نہ ہوگا، اور ہم جو کچھ کہہ (سن) رہے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے،40۔

40۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اچھا یہ معاملہ میرے آپ کے درمیان پختہ ہوگیا، خدائے حاضر وناظر اس معاہدہ کا گواہ ہے۔
Ayah 28:29

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) اس مدت کو پورا کرچکے اور اپنے گھروالوں کو لے کر روانہ ہوئے،41۔ تو انہوں نے طور کی طرف ایک آگ دیکھی،42۔ اپنے گھروالوں سے بولے کہ تم (یہیں) ٹھہرو میں نے تو آگ دیکھ لی ہے۔ شاید میں وہاں سے کچھ خبر لاؤں یا آگ کا (کوئی) انگارا ہی لیتا آؤں تاکہ تم سینک کرلو،43۔

41۔ (مصر کی طرف) اپنی مدت مقرر بسر کرکے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مع اہل و عیال اب اپنے وطن مصر کو روانہ ہوئے ہیں۔ (آیت) ” اھلہ “۔ توریت میں تصریح ہے کہ ساتھ میں آپ کی زوجہ محترمہ حضرت صفورہ تھیں اور ان کے دونوں بچے تھے۔ (خروج۔ 4: 20) نیزملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ 42۔ یعنی ایسی روشنی جسے وہ آگ سمجھے اور آگ ہی وہ معلوم ہوتی بھی تھی۔ 43۔ رات اندھیری تھی اور سردی کا موسم۔ راستہ بھی یہ چھوٹا سا قافلہ بھول گیا تھا۔ آگ کی روشنی آبادی کی علامت تھی۔ مفصل حاشیے سورة طہ پ 16 میں گزر چکے، نیز سورة النمل پ 19 میں۔
Ayahs 28:30–31

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

سو جب وہ اس آگ کے پاس پہنچے تو انہیں آواز آئی، اس میدان کے داہنی جانب سے اس مبارک مقام میں ایک درخت سے کہ اسے موسیٰ یہ تو میں ہوں اللہ پروردگار عالم

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور یہ بھی کہ تم اپنا عصا ڈال دو پھر جب انہوں نے اسے لہراتا ہوا دیکھا جیسا پتلا (تیز) سانپ تو وہ پشت پھیر کر بھاگے اور پیچھے پھر کر بھی نہ دیکھا (حکم ہوا) اے موسیٰ آگے آؤ اور ڈرو مت۔ تم (ہر طرح) امن میں ہو،44۔

44۔ (اور یہ تو تمہارا معجزہ ہے) (آیت) ” الوادالایمن “۔ میدان کی داہنی جانب۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی داہنی جانب تھی۔ سارے واقعہ پر مفصل حاشیے سورة طہ پ 16 میں گزر چکے، نیز سورة النمل پ 19، سورة الاعراف پ 8 میں۔ (آیت) ” انی انا اللہ “۔ کے ساتھ صفت (آیت) ” رب العلمین “۔ کا اضافہ اس حقیقت کو اور مؤکد ومصرح کررہا ہے کہ جو سارے عالم کا مالک وحاکم ہے وہ کسی محدود جگہ کے اندر گھر کیونکر سکتا ہے ؟۔ (آیت) ” ولی مدبرا ولم یعقب “۔ سانپ، شیر، وغیرہ زہریلے اور خطرناک جانوروں سے ڈرنا بالکل ایک امر طبعی ہے، اور بڑے سے بڑے کمالات ولایت، یہاں تک کہ نبوت کے بھی منافی نہیں۔ اور حضرت کلیم اللہ کا یہ خوف تمامتر خوف طبعی ہی تھا۔ آٰت سے ضمنا اس حقیقت پر بھی روشنی پڑجاتی ہے کہ معجزہ تمامتر ایک فعل خداوندی ہوتا ہے، پیغمبر اس کا صرف واسطہ ہوتا ہے پیغمبر کو اس معجزہ کی تکوین میں مطلق دخل نہیں ہوتا، ورنہ کم از کم اپنے معجزہ سے تو حضرت کلیم اللہ (علیہ السلام) خوف نہ کھاتے۔
Ayah 28:32

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ روشن ہو کر نکلے گا بغیر کسی مرض کے اور خوف (رفع کرنے) کے واسطے اپنا بازو پھر اپنے سے ملا لینا،45۔ سو یہ دو سندیں ہیں تمہارے پروردگار کی طرف سے فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس (جانے کے لئے) بیشک وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں

45۔ (جس سے ہاتھ اپنے اصلی رنگ پر لوٹ آئے گا اور یہ تمہارا طبعی خوف بھی جاتا رہے گا) (آیت) ” واضمم الیک “۔ الخ کی تعبیر وتقریر میں ائمہ مفسرین کو اشکالات پیش آئے ہیں یہاں ترجمہ وتقریر میں مفسر تھانوی (رح) کی پیروی کی گئی ہے جو بالکل بےتکلف وبے غبار ہے۔ عصا کے بعد یہ ذکر دوسرے معجزہ یدبیضا کا ہے۔ (آیت) ” من غیر سوٓء “۔ یہ تصریح توریت مروجہ کی تغلیط کے لیے ہے جس کا بیان ہے کہ نعوذ باللہ آپ کو برص کا مرض تھا۔ (حاشیے سورة طہ وغیرہ میں گزر چکے) (آیت) ” برھانن “۔ یعنی سندیں اور دلیلیں جو مشرکوں کے بھی سمجھ میں آجائیں۔
Ayah 28:33

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

(موسی (علیہ السلام) نے) عرض کیا اے میرے پروردگار میں نے ان میں سے ایک شخص کا خون کردیا تھا سو مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے قتل کرڈالیں،46۔

46۔ (اسی خون کے عوض میں، اور آگے کچھ میری سنیں ہی نہیں) فرعون کے سلسلہ میں یہ خوب ذہن نشین رہے کہ وہ ایک خود مختار، مطلق العنان جابر بادشاہ تھا۔ اس کے فیصلے کے خلاف اپیل کی کہیں گنجائش نہیں تھی، وہ اپنے اختیارات سے سب کچھ کرسکتا تھا۔ یہ مضمون بھی اوپر کئی بار آچکا ہے۔
Ayah 28:34

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرے بھائی ہارون کو وہ مجھ سے زیادہ خوش بیان ہیں انہیں بھی میرے ساتھ رسالت دے دیجیے مددگار بنا کر کہ وہ میری تصدیق کرتے رہیں،47۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب بھی کریں گے

47۔ (اور گفتگو مناظرہ کے لیے روانی زبان وفصاحت بیان کی ضرورت بہت پڑا کرے گی) (آیت) ” ھرون “۔ اور ” ھو افصح منی “۔ پر بھی حاشیے سورة طہ پ 16 میں گزر چکے۔ ” ردا “۔ ردء وہ چیز ہے جس کا سہارا لیا جائے۔ یہاں مراد مددگار ہے۔ معینا وھو فی الاصل اسم مایعان بہ (بیضاوی) الرداء الذی یتبع غیرہ معینا لہ (راغب)
Ayahs 28:35–36

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

(اللہ نے) فرمایا ہم ابھی تمہارے بھائی کو تمہاری قوت بازو بنائے دیتے ہیں اور ہم تم دونوں کو ایک شوکت (خاص) عطا کرتے ہیں، سو انہیں تم دونوں پر دسترس نہ ہوگی، ہمارے نشان لے کر جاؤ تم دونوں اور جو تمہارے پیرو ہوں گے غالب رہیں گے

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے پاس ہمارے کھلے ہوئے نشان لے کر آئے،48۔ تو وہ بولے کہ یہ تو ایک بس گڑھا ہوا جادو ہے اور ہم نے ایسی بات اپنے اگلوں باپ دادوں کے وقت تو سنی نہیں،49۔

48۔ معجزات و دلائل وغیرہ سب اس میں شامل ہیں۔ (آیت) ” نجعل لکما سلطنا “۔ یہ یاد کرلیجئے کہ موسیٰ وہارون (علیہما السلام) دونوں محکوم قوم اور رعایا کے فرد تھے اور ان کا مقابلہ ایسے بادشاہ خود مختار سے ہورہا تھا جس کی زبان خود ہی قانون تھی۔ اور جو ملک میں مطاع مطلق ہی کی حیثیت نہیں رکھتا تھا بلکہ ملک کی اکثریت کے عقیدہ میں معبود والہ (سب سے بڑے دیوتا کا اوتار) بھی تھا ! اس استحضار حقیقت کے بعد اس رعب نبوت کی پوری قدر ہوگی، فرعون تو فرعون، اس کے درباری اور ارکان حکومت تک موسیٰ اسرائیلی وہارون اسرائیلی کی حقیقت کیا سمجھتے تھے اور اپنے کو ان کے پیس ڈالنے کے لیے کافی سمجھ رہے تھے۔ (آیت) ” فلایصلون الیکما “۔ اسی رعب خداداد کا یہ نتیجہ تھا کہ بڑے بڑے ہیکڑوں میں سے کوئی آپ دونوں پر دسترس نہ پاسکا۔ (آیت) ” بایتنا “ تقدیر کلام یوں ہے۔ (آیت) ” اذھبا بایتنا “۔ 49۔ مصری قوم شرک درشرک میں مبتلا، عقیدۂ توحید ونبوت سے سرے سے ناآشنا تھی، پیام موسوی سن کر اور دلائل سے واقف ہو کر اور معجزات کے مشاہدہ ہونے کے بعد بولی کہ یہ تو محض ایک ساحرانہ کاروائی ہے اور اسے دل سے گڑھ کر خدا کی جانب منسوب کیا جارہا ہے۔
Ayah 28:37

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ میرا پروردگار خوب جانتا ہے اس کو جو (دین) ہدایت لے کر اس کے پاس سے آیا ہے اور جس کو آخرت کا گھر ملنے والا ہے بیشک ظالم (کبھی) فلاح نہ پائیں گے،50۔

50۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے منکروں کی ہٹ دھرمی دیکھ کر آخر میں عاجز آکرکہا کہ خیر آج میری نہیں سنتے ہو تو نہ سنو اللہ کو تو خوب معلوم ہے کہ راہ ہدایت پر کون ہے اور ظالم کون ؟ عاقبت بخیر کس کی ہونا ہے اور محروم الفلاح کون ؟ (آیت) ” عاقبۃ الدار “۔ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ العاقبۃ المحمودۃ فی الدار الاخرۃ (جلالین)
Ayah 28:38

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا اے سردارو، مجھ کو تو اپنے سوا کوئی تمہارا معبود معلوم نہیں،51۔ تو اے ہامان،52۔ میرے لئے مٹی کو آگ میں پکا پھر میرے واسطے ایک بلند عمارت بناؤ تاکہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو دیکھوں اور میں تو موسیٰ (علیہ السلام) کو جھوٹا ہی سمجھتا ہوں،53۔

51۔ میں ہی تمہارا اصلی اور قدیمی دیوتا ہوں، میری ہی پوجا تمہارے باپ دادا ہمیشہ سے کرتے چلے آتے ہیں تو اب یہ نیا نام کس خدا کا سننے میں آرہا ہے۔ فراعنہ مصر کی نسل مصریوں کے عقیدہ میں خدائی اوتار تھی اور بادشاہ سب سے بڑے دیوتا سورج کا زندہ نمائندہ ہوتا تھا۔ ملاحظہ ہو سورة الشعراء (پ 19) میں آیہ (آیت) ” لئن اتخذت الھا غیری “۔ پر حاشیہ۔ نیز انگریزی تفسیر القرآن۔ 52۔ ھامان پر حاشیہ ابھی اوپر گزر چکا نمبر 4 یہاں بھی سیاق کلام سے اندازہ یہی ہوتا ہے کہ ہامان کسی اعلی ترین عہدہ دار کا سرکاری لقب ہے۔ 53۔ حق تعالیٰ گویا یہاں اور اور کہیں بھی نہیں ہے۔ بلکہ مجسم ہو کر آسمان پر بیٹھا ہوا ہے، اور اس تک رسائی کسی بڑی اونچی سیڑھی سے چڑھ کر یا فضا میں اڑ کر ممکن ہے۔ یہ عقیدہ آج بھی بہت سی قوموں کے عوام ہی میں نہیں، خواص میں بھی شائع ہے۔ چناچہ ابھی چند ہی سال ہوئے سوویٹ روس سے اطلاع آئی تھی کہ دو ملحد ہوابازوں نے اپنا بیان شائع کیا ہے کہ ہم اتنا اونچا اڑآئے، ہمیں تو کہیں خدا نظر نہیں آیا۔ مصری خاص طور پر اسی قسم کے شرک میں مبتلا تھے۔ فرعون نے انہیں عقائد وخیالات کے ماتحت ایک ان دیکھے خدا کے وجود کو باطل ثابت کرنے بلکہ اس کا مضحکہ کرنے کو یہ اپچ کرلی۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” اوقدلی ...... علی الطین “۔ قرآن یہاں فرعون کی زبان سے یہ بھی کہلا سکتا تھا کہ ” ہامان “ میرے لیے پتھر کی عمارت تیار کر “۔ یا اینٹ پتھر وغیرہ کسی چیز کی تصریح ہی نہ کرتا۔ لیکن نہیں۔ قرآن کو تو علم صحیح کی بیشمار مثالوں میں سے ایک اور مثال کرنی اور اپنے دعوی اعجاز پر ایک اور دلیل قائم کرنی تھی۔ مصری قوم اینٹوں ہی کے کام کے لیے مشہور تھی یہاں تک کہ اس کی مشہور شاہی عمارتیں بھی پتھر کی نہیں، اینٹ ہی کی ہیں۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔
Ayah 28:39

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور فرعون اور اس کے تابعین نے ناحق ملک میں اپنا سر اٹھا رکھا تھا اور یہ سمجھ رکھا تھا کہ انہیں ہمارے پاس لوٹ کر آنا نہیں ہے،54۔

54۔ یہ فرعونیوں کے عام فسق اعمال و فساد عقائد کا بیان ہے۔ یوں بھی روز جزا کا اعتقاد اور پرسش اعمال کا یقین ان کے مذہب میں داخل نہ تھا۔
Ayah 28:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

سو ہم نے اس کو اور اس کے تابعین کو پکر کر سمندر میں پھینک دیا سودیکھئے ظالموں کا کیا انجام ہوا،55۔

55۔ اس واقعہ غرقابی کی تفصیل (سورۃ البقر پ 1) کے علاوہ کئی جگہ گزر چکی۔