28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 28:1–3

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں کھلی کتاب کی

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

ہم سناتے ہیں تجھ کو کچھ احوال موسیٰ اور فرعون کا تحقیقی ان لوگوں کے واسطے جو یقین کرتے ہیں5

5 یعنی مسلمان لوگ اپنا حال قیاس کرلیں ظالموں کے مقابلہ میں (موضح) جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو باوجود کمزوری کے فرعونیوں کی طاقت کے مقابلہ میں منصور و کامیاب کیا۔ ایسے ہی مسلمان جو فی الحال مکہ میں قلیل اور ضعیف و ناتواں نظر آتے ہیں اپنے بیشمار طاقتور حریفوں کے مقابلہ پر کامیاب ہوں گے۔
Ayah 28:4

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

فرعون چڑھ رہا تھا ملک میں اور کر رکھا تھا وہاں کے لوگوں کو کئی فرقے کمزور کر رکھا تھا ایک فرقہ کو ان میں6 ذبح کرتا تھا ان کے بیٹوں کو اور زندہ رکھتا تھا انکی عورتوں کو7 بیشک وہ تھا خرابی ڈالنے والاف 8

6 یعنی " مصر " میں قبطی بھی آباد تھے جو فرعون کی قوم تھی اور سبطی بھی جو " بنی اسرائیل " کہلاتے تھے لیکن فرعون ظلم وتکبر کی راہ سے " بنی اسرائیل " کو پنپنے اور ابھرنے نہیں دیتا تھا۔ گویا سب قبطی آقا بنے ہوئے تھے اور پیغمبروں کی اولاد بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا رکھا تھا۔ ان سے ذلیل کام اور بیگاریں لیتے اور کسی طرح اس قابل نہ ہونے دیتے کہ ملک میں وہ کوئی قوت و وقعت حاصل کرسکیں۔ 7 کہتے ہیں فرعون نے کوئی خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر کاہنوں نے یہ دی کہ کسی اسرائیلی کے ہاتھ سے تیری سلطنت برباد ہوگی۔ اس لیے پیش بندی کے طور پر یہ احمقانہ اور ظالمانہ تدبیر سوچی کہ بنی اسرائیل کو ہمیشہ کمزور کرتے رہنا چاہیے کہ انھیں حکومت کے مقابلہ کا حوصلہ ہی نہ ہو اور آئندہ جو لڑکے ان کے پیدا ہوں ان کو ایک طرف سے ذبح کر ڈالنا چاہیے۔ اس طرح آنے والی مصیبت رک جائے گی۔ البتہ لڑکیوں سے چونکہ کوئی خطرہ نہیں، انھیں زندہ رہنے دیا جائے۔ وہ بڑی ہو کر باندیوں کی طرح ہماری خدمت کیا کریں گی۔ اور ابن کثیر لکھتے ہیں کہ بنی اسرائیل آپس میں حضرت ابراہیم خلیل کی ایک پیشین گوئی کا تذکرہ کیا کرتے تھے۔ جس میں خبر دی گئی تھی کہ ایک اسرائیلی جو ان کے ہاتھ پر اس سلطنت مصر کی تباہی مقدر ہے۔ شدہ شدہ یہ تذکرے فرعون کے کانوں تک پہنچ گئے اس احمق نے قضاء و قدر کی روک تھام کے لیے ظلم و ستم کی یہ اسکیم جاری کی۔ 8 یعنی زمین میں خرابی پھیلانے والا تو تھا ہی۔ لہذا اسے ایسا ظلم و ستم کرنے میں کیا جھجک ہوتی۔ بس جو دل میں آیا، اپنے کبرو غرور کے نشہ میں بےسوچے سمجھے کر گزرا۔
Ayahs 28:5–6

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم چاہتے ہیں کہ احسان کریں ان لوگوں پر جو کمزور ہوئے پڑے تھے ملک میں اور کردیں ان کو سردار اور کردیں ان کو قائم مقام

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور جما دیں ان کو ملک میں9 اور دکھا دیں فرعون اور ہامان کو10 اور ان کے لشکروں کو ان کے ہاتھ سے جس چیز کا ان کو خطرہ تھا11

9 یعنی اس ملعون کے انتظامات تو وہ تھے، اور ہمارا ارادہ یہ تھا کہ کمزوروں کو قوی اور پستوں کو بالا کیا جائے۔ جس قوم کو فرعونیوں نے ذلیل غلام بنا رکھا تھا ان ہی کے سر پر دین کی امامت اور دنیا کی سرداری کا تاج رکھ دیں۔ ظالموں اور متکبروں سے جگہ خالی کرا کر اس مظلوم و ستم رسیدہ قوم سے زمین کو آباد کریں اور دینی سیادت کے ساتھ دنیاوی حکومت بھی اس مظلوم و مقہور قوم کے حوالے کی جائے۔ 10 " ہامان " وزیر تھا فرعون کا جو ظلم و ستم میں اس کا شریک اور آلہ کار بنا ہوا تھا۔ 11 یعنی جس خطرہ کی وجہ سے انہوں نے بنی اسرائیل کے ہزارہا بچوں کو ذبح کر ڈالا تھا۔ ہم نے چاہا کہ وہ ہی خطرہ ان کے سامنے آئے۔ فرعون نے امکانی کوشش کر دیکھی اور پورے زور خرچ کرلیے کہ کسی طرح اسرائیلی بچہ سے مامون ہوجائے۔ جس کے ہاتھ پر اس کی تباہی مقدر تھی، لیکن تقدیر الٰہی کہاں ٹلنے والی تھی۔ خداوند قدیر نے اس بچہ کو اسی کی گود میں اسی کے بستر پر اسی کے محلات کے اندر شاہانہ ناز و نعم سے پرورش کرایا۔ اور دکھلا دیا کہ خدا جو انتظام کرنا چاہے، کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔
Ayah 28:7

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے حکم بھیجا موسیٰ کی ماں کو کہ اس کو دودھ پلاتی رہ پھر جب تجھ کو ڈر ہو اس کا تو ڈال دے اس کو دریا میں1 اور نہ خطرہ کر اور نہ غمگین ہو ہم پھر پہنچا دیں گے اس کو تیری طرف اور کریں گے اس کو رسولوں سے2

1 ان کی ماں کو الہام ہوا یا خواب دیکھایا اور کسی ذریعہ سے معلوم کرا دیا گیا کہ جب تک بچہ کے قتل کا اندیشہ نہ ہو برابر دودھ پلاتی رہیں، جب اندیشہ ہو تو صندوق میں رکھ کر دریائے نیل میں چھوڑ دیں۔ سورة " طہٰ " میں یہ قصہ گزر چکا ہے۔ 2 ماں کی تسلی کردی کہ ڈرے مت، بےکھٹکے دریا میں چھوڑ دے، بچہ ضائع نہیں ہوسکتا۔ اور بچہ کی جدائی سے غمگین بھی مت ہو ہم بہت جلد اس کو تیری ہی آغوش شفقت میں پہنچا دیں گے خدا کو اس سے بڑے کام لینے ہیں۔ وہ منصب رسالت پر سرفراز کیا جائے گا۔ کوئی طاقت اللہ کے ارادہ میں حائل و مانع نہیں ہوسکتی۔ تمام رکاوٹیں عبور کر کے وہ مقصد پورا کرتا ہے جو اس محترم بچہ کی پیدائش سے متعلق ہے۔
Ayah 28:8

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

پھر اٹھا لیا اس کو فرعون کے گھر والوں نے کہ ہو ان کا دشمن اور غم میں ڈالنے والا بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر تھے چوکنے والے3

3 آخر ماں نے بچہ کو لکڑی کے صندوق میں ڈال کر چھوڑ دیا۔ صندوق بہتا ہوا ایسی جگہ جا لگا جہاں سے فرعون کی بیوی حضرت آسیہ کے ہاتھ لگ گیا۔ ان کو اس پیارے بچہ کی پیاری صورت بھلی معلوم ہوئی۔ آثار نجابت و شرافت سے نظر آئے۔ پالنے کی غرض سے اٹھا لیا۔ مگر اس اٹھانے کے آخری نتیجہ یہ ہونا تھا کہ وہ بچہ بڑا ہو کر فرعون اور فرعونیوں کا دشمن ثابت ہو، اور ان کے حق میں سوہان روح بنے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھانے کا موقع دیا۔ فرعون لعین کو کیا خبر تھی کہ جس دشمن کے ڈر سے ہزارہا معصوم بچے تہہ تیغ کرا چکا ہوں وہ یہ ہی ہے جسے بڑے چاؤ پیار سے آج ہمارے ہاتھوں میں پرورش کرایا جا رہا ہے۔ فی الحقیقت فرعون اور اس کے وزیر و مشیر اپنے ناپاک مقصد کے اعتبار سے بہت چوکے کہ بیشمار اسرائیلی بچوں کو ایک شبہ پر قتل کرنے کے باوجود موسیٰ کو زندہ رہنے دیا۔ لیکن نہ چوکتے تو کیا کرتے، کیا خدا کی تقدیر کو بدل سکتے تھے یا مشیت ایزدی کو روک سکتے تھے ان کی بڑی چوک تو یہ تھی کہ سمجھے کہ قضاء و قدر کے فیصلوں کو انسانی تدبیروں سے روکا جاسکتا ہے۔
Ayah 28:9

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور بولی فرعون کی عورت یہ تو آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میرے اور تیرے لیے4 اس کو مت مارو، کچھ بعید نہیں جو ہمارے کام آئے یا ہم اس کو کرلیں بیٹا5 اور ان کو کچھ خبر نہ تھی6

4 یعنی کیسا پیارا بچہ ہے، ہمارے کوئی لڑکا نہیں، لاؤ اسی سے دل بہلائیں اور آنکھیں ٹھنڈی کیا کریں۔ بعض روایات میں ہے کہ فرعون نے کہا " لَکِ لاَ لِی " (تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگی میری نہیں) تقدیر ازلی یہ الفاظ اس ملعون کی زبان سے کہلا رہی تھی۔ آخر وہ ہی ہوا۔ 5 یعنی کم ازکم بڑا ہو کر ہمارے کام آئے گا یا مناسب سمجھا تو متبنیٰ بنالیں گے۔ 6 یعنی یہ تو خبر نہ تھی کہ بڑا ہو کر کیا کرے گا۔ سمجھے کہ بنی اسرائیل میں سے کسی نے خوف سے ڈالا ہے ایک لڑکا نہ مارا تو کیا ہوا۔ کیا ضرور ہے کہ یہ ہی وہ بچہ ہو جس سے ہمیں خوف ہے۔ پھر جب ہم پرورش کریں گے وہ خود ہی ہم سے شرمائے گا۔ کس طرح ممکن ہے کہ ہم سے ہی دشمنی کرنے لگے۔ انھیں کیا خبر تھی کہ یہ اس کا دوست ہوگا جو سارے جہان کا پرورش کرنے والا ہے اور تم چونکہ اس کے دشمن ہو اس لیے مجبور ہوگا کہ پروردگار حقیقی کے حکم سے تمہاری مخالفت کرے۔ تم اپنی ظاہری تربیت پر تو ایسی اچھی امیدیں باندھتے ہو، مگر شرم نہیں آتی کہ اس رب حقیقی کے مقابلہ میں (اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى) 79 ۔ النازعات :24) کی آواز بلند کر رہے ہو۔
Ayah 28:10

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور صبح کو موسیٰ کی ماں کے دل میں قرار نہ رہا قریب تھی کہ ظاہر کر دے بےقراری کو اگر نہ ہم نے گرہ دی ہوتی اس کے دل پر اس واسطے کہ رہے یقین کرنے والوں میں7

7 موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ بچہ کو دریا میں ڈال آئیں مگر ماں کی مامتا کہاں چین سے رہنے دیتی۔ موسیٰ کا رہ رہ کر خیال آتا تھا۔ دل سے قرار جاتا رہا۔ موسیٰ کی یاد کے سوا کوئی چیز دل میں باقی نہ رہی، قریب تھا کہ صبرو ضبط کا رشتہ ہاتھ سے چھوٹ جائے اور عام طور پر ظاہر کردیں کہ میں نے اپنا بچہ دریا میں ڈالا ہے کسی کو خبر ہو تو لاؤ۔ لیکن خدائی الہام (اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ) 28 ۔ القصص :17) کو یاد کر کے تسلی پاتی تھی۔ یہ خدا ہی کا کام تھا کہ اس کے دل کو مضبوط باندھ دیا کہ خدائی راز قبل از وقت کھلنے نہ پائے۔ اور تھوڑی دیر بعد خود موسیٰ کی والدہ کو عین الیقین حاصل ہوجائے کہ اللہ کا وعدہ ضرور پورا ہو کر رہتا ہے۔
Ayah 28:11

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور کہہ دیا اس کی بہن کو پیچھے چلی جا پھر دیکھتی رہی اس کو اجنبی ہو کر اور ان کو خبر نہ ہوئی8

8 یعنی جب فرعون کے محل سرا میں صندوق کھلا اور بچہ برآمد ہوا تو شہر میں شہرت ہوگئی۔ موسیٰ کی والدہ نے اپنی بیٹی کو (جو موسیٰ کی بہن تھی) حکم دیا کہ بچہ کا پتہ لگانے کے لیے چلی جا اور علیحدہ رہ کر دیکھ کیا ماجرہ ہوتا ہے۔ لڑکی ہوشیار تھی، جہاں بچہ کے گرد بھیڑ لگی تھی وہاں بےتعلق اجنبی بن کر دور سے دیکھتی رہی۔ کسی کو پتہ نہ لگا کہ اس بچہ کی بہن ہے۔
Ayah 28:12

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور روک رکھا تھا ہم نے موسیٰ سے دائیوں کو پہلے سے پھر بولی میں بتلاؤں تم کو ایک گھر والے کہ اس کو پال دیں تمہارے لیے اور وہ اس کا بھلا چاہنے والے ہیں9

9 یعنی فرعون کی بیوی نے اس ملعون کو بھی بچہ کی پرورش پر راضی کرلیا تو دودھ پلانے کی فکر ہوئی اور دائیاں طلب کی گئیں۔ مگر قدرت نے پہلے ہی سے بند لگا دیا تھا کہ موسیٰ اپنی ماں کے سوا کسی کا دودھ نہ پکڑے۔ سخت تشویش تھی کہ کہاں سے مرضعہ لائی جائے جس کا دودھ بچہ منہ کو لگا سکے۔ کسی عورت کا دودھ نہ پیتے تھے۔ فرعون کے آدمی اسی فکر و تجسس میں تھے کہ موسیٰ کی بہن نے کہا میں تم کو ایک گھرانے کا پتہ بتاسکتی ہوں جو امید ہے بچہ کو پال دیں گے اور جہاں تک ان کی طبائع کا اندازہ ہے بہت خیر خواہی اور غورو پرداخت سے پالیں گے کیونکہ شریف گھرانا ہے اور بادشاہ کے گھر سے انعام و اکرام کی بڑی توقعات ہوں گی، پھر تربیت میں کمی کیوں کرنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لڑکی کے مشورہ کے موافق حضرت موسیٰ کی والدہ طلب کی گئیں۔ بس بچہ کو چھاتی سے لگانا تھا کہ اس نے دودھ پینا شروع کردیا۔ فرعون کے گھر والوں کو بہت غنیمت معلوم ہوا کہ بچہ نے ایک عورت کا دودھ قبول کرلیا ہے، بڑی خوشیاں منائی گئیں اور انعام و اکرام کیے گئے۔ مرضعہ نے عذر کیا کہ میں یہاں نہیں رہ سکتی، اپنے گھر لے جا کر اس کی پرورش کروں گی۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) امن و اطمینان کے ساتھ پھر آغوش مادری میں پہنچ گئے۔ اور فرعون کے یہاں سے جو روزینہ ان کی مال کا مقرر ہوا وہ مفت میں رہا۔
Ayah 28:13

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

پھر ہم نے پہنچا دیا اس کو اس کی ماں کی طرف کہ ٹھنڈی رہے اس کی آنکھ اور غمگین نہ ہو اور جانے کہ اللہ کا وعدہ ٹھیک ہے1 پر بہت لوگ نہیں جانتے2

1 یعنی (اِنَّا رَاۗدُّوْهُ اِلَيْكِ وَجَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ) 28 ۔ القصص :7) میں جو دو وعدے کیے تھے ایک تو آنکھوں سے دیکھ لیا کس حیرت انگیز طریقہ سے پورا ہو کر رہا۔ اور دوسرے کو اسی پر قیاس کرنے کا موقع ملا کہ بلاشبہ وہ بھی اپنے وقت پر پورا ہو کر رہے گا۔ 2 یعنی وعدہ اللہ کا پہنچ کر رہتا ہے۔ ہاں بیچ میں بڑے بڑے پھیر پڑجاتے ہیں۔ اس میں بہت لوگ بےیقین ہونے لگتے ہیں (موضح)
Ayah 28:14

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب پہنچ گیا اپنے زور پر اور سنبھل گیا دی ہم نے اس کو حکمت اور سمجھ اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکی والوں کو3

3 یعنی موسیٰ (علیہ السلام) جب اپنی بھرپور جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو بہت حکمت کی باتیں سجھائیں اور خصوصی علم و فہم عطا فرمایا کیونکہ بچپن ہی سے وہ نیک کردار تھے۔ ایسے ہونہار کو ہم اسی طرح نوازا کرتے ہیں۔
Ayah 28:15

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور آیا شہر کے اندر جس وقت بیخبر ہوئے تھے وہاں کے لوگ4 پھر پائے اس میں دو مرد لڑتے ہوئے یہ ایک اس کے رفیقوں میں اور یہ دوسرا اس کے دشمنوں میں پھر فریاد کی اس سے اس نے جو تھا اس کے رفیقوں میں اس کی جو تھا اس کے دشمنوں میں پھر مکا مارا اس کو موسیٰ نے پھر اس کو تمام کردیا بولا یہ ہوا شیطان کے کام سے بیشک وہ دشمن ہے بہکانے والا صریح

4 یعنی حضرت موسیٰ جوان ہو کر ایک روز شہر میں پہنچے جس وقت لوگ غافل پڑے سو رہے تھے شاید رات کا وقت ہوگا یا دوپہر ہوگی۔
Ayah 28:16

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

بولا اے میرے رب میں نے برا کیا اپنی جان کا، سو بخش مجھ کو پھر اس کو بخش دیا بیشک وہی ہے بخشنے والا مہربان5

5 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب جوان ہوئے، فرعون کی قوم سے بسبب ان کے ظلم و کفر کے بیزار رہتے اور بنی اسرائیل ان کے ساتھ لگے رہتے تھے، ان کی والدہ کا گھر شہر سے باہر تھا۔ حضرت موسیٰ کبھی وہاں جاتے کبھی فرعون کے گھر آتے۔ فرعون کی قوم (قبط) ان کی دشمن تھی کہ غیر قوم کا شخص ہے ایسا نہ ہو کہ زور پکڑ جائے۔ ایک روز دیکھا کہ دو شخص آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ایک اسرائیلی دو قبطی۔ اسرائیلی نے موسیٰ کو دیکھ کر فریاد کی کہ مجھے اس قبطی کے ظلم سے چھڑاؤ۔ کہتے ہیں قبطی فرعون کے مطبخ کا آدمی تھا۔ موسیٰ پہلے ہی قبطیوں کے ظلم و ستم کو جانتے تھے۔ اس وقت آنکھ سے اس کی زیادتی دیکھ کر رگ حمیت پھڑک اٹھی۔ ممکن ہے سمجھانے بجھانے میں قبطی نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی کوئی سخت لفظ کہا ہو۔ جیسا کہ بعض تفاسیر میں ہے غرض موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی تادیب و گوشمالی کے لیے ایک گھونسہ رسید کیا ماشاء اللہ بڑے طاقتور جوان تھے ایک ہی گھونسہ میں قبطی نے پانی نہ مانگا۔ خود موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اندازہ نہ تھا کہ ایک گھونسہ میں اس کم بخت کا کام تمام ہوجائے گا۔ پچھتائے کہ بےقصد خون ہوگیا۔ مانا کہ قبطی کافر حربی تھا، ظالم تھا، اور موسیٰ (علیہ السلام) کی نیت بھی محض ادب دینے کی تھی، جان سے مار ڈالنے کی نہ تھی۔ مگر ظاہر ہے اس وقت کوئی معرکہ جہاد نہ تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے قبطی قوم کو کوئی الٹی میٹم نہیں دیا تھا۔ بلکہ مصر میں ان کی بودوماند کا شروع سے جو طرز عمل رہا تھا اس سے لوگ مطمئن تھے کہ وہ یونہی کسی کی جان و مال لینے والے نہیں پھر ممکن ہے غیظ و غضب کے جوش میں معاملہ کی تحقیق بھی سرسری ہوئی ہو اور مکا مارتے وقت پوری طرح اندازہ نہ رہا ہو کہ کتنی ضرب تادیب کے لیے کافی ہے ادھر اس بلا ارادہ قتل سے اندیشہ تھا کہ فرقہ اور اشتعال پیدا ہو کر دوسرے مصائب و فتن کا دروازہ نہ کھل جائے۔ اس لیے اپنے فعل پر نادم ہوئے۔ اور سمجھے کہ اس میں کسی درجہ تک شیطان کا دخل ہے انبیاء (علیہم السلام) کی فطرت ایسی پاک و صاف اور ان کی استعداد اس قدر اعلیٰ ہوتی ہے کہ نبوت ملنے سے پیشتر ہی وہ اپنے ذرہ ذرہ عمل کا محاسبہ کرتے ہیں اور ادنیٰ سی لغزش یا خطائے اجتہادی پر بھی حق تعالیٰ سے رو رو کر معافی مانگتے تھے۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے اپنی تقصیرات کا اعتراف کر کے معافی چاہی جو دے دی گئی اور غالباً اس معافی کا علم ان کو بذریعہ الہام وغیرہ ہوا ہوگا۔ آخر پیغمبر لوگ نبوت سے پہلے ولی تو ہوتے ہیں۔
Ayah 28:17

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

بولا اے رب جیسا تو نے فضل کردیا مجھ پر پھر میں کبھی نہ ہوں گا مددگار گنہگاروں کا6

6 یعنی آپ نے جیسے اپنے فضل سے مجھ کو عزت، راحت، قوت عطا فرمائی اور میری تقصیرات کو معاف کیا اس کا شکر یہ ہے کہ میں آئندہ کبھی مجرموں کا مددگار نہ ہوں گا۔ شاید اس فریادی (اسرائیلی) کی بھی کچھ تقصیر معلوم ہوئی ہوگی، مجرم اسے کہا ہو۔ یا مجرمین سے کفار اور ظالم لوگ مراد ہوں۔ یعنی تیری دی ہوئی قوتوں کو آئندہ بھی کبھی ان کی حمایت و اعانت میں خرچ نہ کروں گا۔ یا مجرمین سے شیاطین مراد ہوں یعنی شیاطین کے مشن میں ان کا مددگار کبھی نہ بنوں گا کہ وہ وسوسہ اندازی کر کے مجھ سے ایسا کام کرا دیں جس پر بعد کو پچھتانا پڑے۔ یا اسرائیلی کو مجرم اس حیثیت سے کہا کہ وہ وقوع جرم کا سبب بنا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 28:18

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

پھر صبح کو اٹھا اس شہر میں ڈرتا ہوا انتظار کرتا ہوا7 پھر ناگہاں جس نے کل مدد مانگی تھی اس سے آج پھر فریاد کرتا ہے اس سے8 کہا موسیٰ نے بیشک تو بےراہ ہے صریح9

7 یعنی انتظار کرتے اور راہ دیکھتے تھے کہ مقتول کے وارث فرعون کے پاس فریاد لے گئے ہوں گے دیکھئے کس پر جرم ثابت ہو اور مجھ سے کیا سلوک کریں۔ 8 یعنی اسی اسرائیلی کی لڑائی آج کسی اور سے ہو رہی تھی۔ 9 یعنی روز ظالموں سے الجھتا ہے اور مجھ کو لڑواتا ہے۔
Ayah 28:19

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

پھر جب چاہا کہ ہاتھ ڈالے اس پر جو دشمن تھا ان دونوں کا بول اٹھا اے موسیٰ کیا تو چاہتا ہے کہ خون کرے میرا جیسے خون کرچکا ہے کل ایک جان کا1 تیرا یہی جی چاہتا ہے کہ زبردستی کرتا پھرے ملک میں اور نہیں چاہتا کہ ہو صلح کرا دینے والاف 2

1 ہاتھ ڈالنا چاہا اس ظالم پر بول اٹھا مظلوم جانا کہ زبان سے مجھ پر غصہ کیا ہے، ہاتھ بھی مجھ پر چلائیں گے۔ وہ کل کا خون چھپا رہا تھا کہ کس نے کیا، آج اس کی زبان سے مشہور ہوا۔ (موضح) 2 یعنی زور زبردستی سے قتل کرنا ہی آتا ہے، یہ نہیں کہ سمجھا بجھا کر فریقین میں صلح کروا دے۔
Ayah 28:20

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور آیا شہر کے پرلے سرے سے ایک مرد دوڑتا ہوا کہا اے موسیٰ دربار والے مشورہ کرتے ہیں تجھ پر کہ تجھ کو مار ڈالیں سو نکل جا میں تیرا بھلا چاہنے والا ہوں3

3 یعنی خون کی خبر فرعون کو پہنچ گئی۔ وہاں مشورے ہوئے کہ غیر قوم کے آدمی کا یہ حوصلہ ہوگیا ہے کہ شاہی قوم کے افراد اور سرکاری ملازموں کو قتل کر ڈالے۔ سپاہی دوڑائے گئے کہ موسیٰ کو گرفتار کر کے لائیں۔ شاید مل جاتے تو قتل کرتے، اسی مجمع میں سے ایک نیک طینت کے دل میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی خیر خواہی ڈال دی۔ وہ جلدی کر کے مختصر راستہ سے بھاگا ہوا آیا۔ اور حضرت موسیٰ کو واقعہ کی اطلاع کر کے مشورہ دیا کہ تم فوراً شہر سے نکل جاؤ۔ حضرت شاہ صاحب ' لکھتے ہیں کہ یہ سنایا ہمارے پیغمبر کو کہ لوگ ان کی جان لینے کی فکر کریں گے اور وہ بھی وطن سے نکلیں گے۔ چناچہ کافر سب اکٹھے ہوئے تھے کہ ان پر مل کر چوٹ کریں، اسی رات میں آپ وطن سے ہجرت کر گئے۔
Ayahs 28:21–22

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

پھر نکلا وہاں سے ڈرتا ہوا راہ دیکھتا بولا اے رب بچا لے مجھ کو اس قوم بےانصاف سے

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب منہ کیا مدین کی سیدھ پر بولا امید ہے کہ میرا رب لے جائے مجھ کو سیدھی راہ پر4

4 حضرت موسیٰ مصر سے نکل کھڑے ہوئے، راہ سے واقف نہ تھے۔ اللہ سے درخواست کی کہ سیدھی راہ پر چلائے۔ اس نے " مدین " کی سیدھی سڑک پر ڈال دیا۔ جہاں پہنچا کر انھیں امن واطمینان کے ساتھ متاہل بنانا تھا۔ صرف یہ ہی نہیں، بلکہ بہت دور تک کی سیدھی راہ پر لے چلنا تھا۔
Ayah 28:23

وَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْیَنَ وَجَدَ عَلَیْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ یَسْقُوْنَ١٘۬ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَیْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِیْ حَتّٰى یُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَیْخٌ كَبِیْرٌ Open ayah 28:23 in the Quran reader

اور جب پہنچا مدین کے پانی پر پایا وہاں ایک جماعت کو لوگوں کی پانی پلاتے ہوئے5 اور پایا ان سے ورے دو عورتوں کو کہ روکے ہوئے کھڑی تھیں اپنی بکریاں، بولا تمہارا کیا حال ہے بولیں ہم نہیں پلاتیں پانی چرواہوں کے پھیر لیجانے تک6 اور ہمارا باپ بوڑھا ہے بڑی عمر کا7

5 " مدین "، " مصر " سے آٹھ دس دن کی راہ ہے۔ وہاں پہنچے بھوکے پیاسے، دیکھا کنوئیں پر لوگ اپنے مواشی کو پانی پلا رہے ہیں۔ 6 وہ دونوں بکریاں لے کر حیا سے کنارے کھڑی تھیں۔ اتنی قوت نہ تھی کہ مجمع کو ہٹا دیں یا بذات خود بھاری ڈول نکال لیں۔ شاید اوروں سے بچا ہوا پانی پلاتی ہوں۔ 7 یعنی ہمارا باپ جوان اور توانا ہوتا تو ہم کو آنا نہ پڑتا۔ وہ خود ان مردوں سے نبٹ لیا کرتا۔
Ayah 28:24

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

پھر اس نے پانی پلا دیا ان کے جانوروں کو8 پھر ہٹ کر آیا چھاؤں کی طرف، بولا اے رب تو جو چیز اتارے میری طرف اچھی میں اس کا محتاج ہوں9

8 پیغمبروں کے فطری جذبات و ملکات ایسے ہوتے ہیں، تھکے ماندے، بھوکے پیاسے تھے مگر غیرت آئی کہ میری موجودگی میں یہ صنف ضعیف ہمدردی سے محروم رہے۔ اٹھے اور مجمع کو ہٹا کر یا ان کے بعد کنوئیں سے تازہ پانی نکال کر لڑکیوں کے جانوروں کو سیراب کیا۔ 9 یعنی اے اللہ کسی عمل کی اجرت مخلوق سے نہیں چاہتا۔ البتہ تیری طرف سے کوئی بھلائی پہنچے اس کا ہمہ وقت محتاج ہوں۔ حضرت شاہ صاحب ' لکھتے ہیں " عورتوں نے پہچانا کہ چھانؤں پکڑتا ہے مسافر ہے۔ دور سے آیا ہوا، تھکا، بھوکا۔ جا کر اپنے باپ سے کہا (وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے علی القول المشہور) ان کو درکار تھا کہ کوئی مرد ملے نیک بخت جو بکریاں تھامے اور بیٹی بھی بیاہ دیں۔ " (موضح)
Ayah 28:25

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

پھر آئی اس کے پاس ان دونوں میں سے ایک چلتی تھی شرم سے 10 بولی میرا باپ تجھ کو بلاتا ہے کہ بدلے میں دے حق اس کا کہ تو نے پانی پلا دیا ہمارے جانوروں کو1 پھر جب پہنچا اس کے پاس اور بیان کیا اس سے احوال کہا مت ڈر بچ آیا تو اس قوم بےانصاف سے2

10 جیسا کہ شریف اور پاکباز عورتوں کا قاعدہ ہے۔ کہتے ہیں کہ شرم کے مارے چہرہ چھپا کر بات کی۔ 1 حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کر رہے تھے۔ اس نے اپنے فضل سے غیر متوقع طور پر خیر بھیجی، تو قبول کیوں نہ کرتے۔ اٹھ کر عورت کے ساتھ ہو لیے۔ لکھتے ہیں کہ چلتے وقت اس کو ہدایت فرمائی کہ میں آگے چلوں گا تم پیچھے آؤ۔ مبادا اجنبیہ پر عمدًا نظر کرنے کی نوبت آئے۔ چناچہ وہ پیچھے پیچھے راستہ بتلاتی ان کو لے کر گھر پہنچی۔ 2 موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب کو اپنی ساری سرگذشت کہہ سنائی۔ انہوں نے تسلی دی اور فرمایا کہ اب تو اس ظالم قوم کے پنجہ سے بچ نکلا۔ انشاء اللہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (مدین فرعون کی حدود و سلطنت سے باہر تھا)
Ayah 28:26

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

بولی ان دونوں میں سے ایک اے باپ اس کو نوکر رکھ لے البتہ بہتر نوکر جس کو تو رکھنا چاہے وہ ہے جو زور آور ہو امانت دار3

3 یعنی موسیٰ میں دونوں باتیں موجود ہیں۔ زور دیکھا، ڈول نکالنے یا مجمع کو ہٹا دینے سے، اور امانتدار سمجھا بےطمع اور عفیف ہونے سے۔
Ayah 28:27

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

کہا میں چاہتا ہوں کہ بیاہ دوں تجھ کو ایک بیٹی اپنی زن دونوں میں سے اس شرط پر کہ تو میری نوکری کرے آٹھ برس4 پھر اگر تو پورے کر دے دس برس تو وہ تیری طرف سے ہے5 اور میں نہیں چاہتا کہ تجھ پر تکلیف ڈالوں تو پائے گا مجھ کو اگر اللہ نے چاہا نیک بختوں سے6

4 شاید یہ ہی خدمت لڑکی کا مہر تھا۔ ہمارے حنفیہ کے ہاں اب بھی اگر بالغہ راضی ہو تو اس طرح کی خدمت اقارب مہر ٹھہر سکتا ہے (کذا نقلہ الشیخ الانور اطال اللہ بقاءہ) یہاں صرف نکاح کی ابتدائی گفتگو مذکور ہے۔ ظاہر ہے حضرت شعیب نے نکاح کرتے وقت ایک لڑکی کی تعیین اور اس کی رضامندی حاصل کرلی ہوگی۔ 5 یعنی کم ازکم آٹھ برس میری خدمت میں رہنا ضروری ہوگا۔ اگر دو سال اور زائد رہے تو تمہارا تبرع ہے۔ 6 یعنی کوئی سخت خدمت تم سے نہ لوں گا، تم کو میرے پاس رہ کر انشاء اللہ خود تجربہ ہوجائے گا کہ میں بری طبیعت کا آدمی نہیں۔ بلکہ خدا کے فضل سے نیک بخت ہوں، میری صحبت میں تم گھبراؤ گے نہیں، بلکہ مناسبت طبع کی وجہ سے انس حاصل کرو گے۔
Ayah 28:28

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

بولا یہ وعدہ ہوچکا میرے اور تیرے بیچ جونسی مدت ان دونوں میں پوری کر دوں سو زیادتی نہ ہو مجھ پر اور اللہ پر بھروسہ اس چیز کا جو ہم کہتے ہیں7

7 یعنی مجھے اختیار ہوگا کہ آٹھ برس رہوں یا دس برس۔ بہرحال جو معاہدہ ہوچکا خدا کے بھروسہ پر مجھے منظور ہے۔ اللہ کو گواہ بنا کر معاملہ ختم کرتا ہوں۔ احادیث میں ہے کہ حضرت موسیٰ نے بڑی مدت (یعنی دس برس) پورے کیے۔ حضرت شاہ صاحب ' لکھتے ہیں۔ " ہمارے حضرت ﷺ بھی وطن سے نکلے، سو آٹھ برس پیچھے آ کر مکہ فتح کیا۔ اگر چاہتے اسی وقت کافروں سے شہر خالی کرا لیتے لیکن اپنی خوشی سے دس برس پیچھے کافروں سے پاک کیا۔ "
Ayahs 28:29–30

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

پھر جب پوری کرچکا موسیٰ وہ مدت اور لے کر چلا اپنے گھر والوں کو دیکھی کوہ طور کی طرف سے ایک آگ کہا اپنے گھر والوں کو ٹھہرو میں نے دیکھی ہے ایک آگ شاید لے آؤں تمہارے پاس وہاں کی کچھ خبر یا انگارا آگ کا تاکہ تم تاپو

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

پھر جب پہنچا اس کے پاس آواز ہوئی میدان کے داہنے کنارے سے برکت والے تختہ میں ایک درخت ہے8 کہ اے موسیٰ میں ہوں اللہ جہان کا رب

8 یہ وہ ہی درخت تھا جس پر آگ بھڑکتی ہوئی نظر آئی۔
Ayahs 28:31–32

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور یہ کہ ڈال دے اپنی لاٹھی پھر جب دیکھا اس کو پھنپھناتے جیسے سانپ کی سٹک الٹا پھرا منہ موڑ کر اور نہ دیکھا پیچھے پھر کر اے موسیٰ آگے آ اور مت ڈر تجھ کو کچھ خطرہ نہیں

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

ڈال اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں نکل آئے سفید ہو کر نہ کہ کسی برائی سے1 اور ملا لے اپنی طرف اپنا بازو ڈر سے2 سو یہ دو سندیں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے سرداروں پر3 بیشک وہ تھے لوگ نافرمان

1 شروع رکوع سے یہاں تک کے مفصل واقعات سورة " طہٰ " وغیرہ میں گزر چکے ملاحظہ کرلیے جائیں۔ 2 یعنی بازو کو پہلو سے ملا لو۔ سانپ وغیرہ کا ڈر جاتا رہے گا۔ شاید آگے کے لیے بھی خوف زائل کرنے کی یہ ترکیب بتلائی ہو۔ 3 یعنی معجزہ " عصا " و " ید بیضاء " بطور سند نبوت کے دیے گئے ہیں تاکہ فرعون اور اس کی قوم پر اتمام حجت کرسکے۔
Ayah 28:33

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

بولا اے رب میں نے خون کیا ہے ان میں ایک جان کا سو ڈرتا ہوں کہ مجھ کو مار ڈالیں گے4

4 یعنی پہنچتے ہی قتل کردیا تو آپ کی دعوت کیسے پہنچاؤں گا۔
Ayah 28:34

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرا بھائی ہارون اس کی زبان چلتی ہے مجھ سے زیادہ سو اس کو بھیج میرے ساتھ مدد کو کہ میری تصدیق کرے میں ڈرتا ہوں کہ مجھ کو جھوٹا کریں5

5 یعنی کوئی تصدیق و تائید کرنے والا ساتھ ہو تو فطرۃً دل مضبوط و قوی رہتا ہے۔ اور ان کے جھٹلانے پر اگر بحث و مناظرہ کی نوبت آجائے تو میری زبان کی لکنت ممکن ہے بولنے میں رکاوٹ ڈالے۔ اس وقت ہارون کی رفاقت مفید ہوگی۔ کیونکہ ان کی زبان زیادہ صاف اور تیز ہے۔
Ayah 28:35

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

فرمایا ہم مضبوط کردیں گے تیرے بازو کو تیرے بھائی سے اور دیں گے تم کو غلبہ پھر وہ نہ پہنچ سکیں گے تم تک ہماری نشانیوں سے تم اور جو تمہارے ساتھ ہو غالب رہو گے6

6 یعنی دونوں درخواستیں منظور ہیں، ہارون تمہارے قوت بازو رہیں گے اور فرعونیوں کو تم پر کچھ دسترس نہ ہوگی۔ ہماری نشانیوں کی برکت سے۔ تم اور تمہارے ساتھی ہی غالب و منصور رہیں گے۔
Ayah 28:36

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

پھر جب پہنچا ان کے پاس موسیٰ لے کر ہماری نشانیاں کھلی ہوئی بولے اور کچھ نہیں یہ جادو ہے باندھا ہوا7 اور ہم نے سنا نہیں یہ اپنے اگلے باپ دادوں میں1

7 یعنی معجزات دیکھ کر کہنے لگے جادو ہے اور جو باتیں خدا کی طرف منسوب کر کے کہتا ہے وہ بھی جادو کی باتیں ہیں جو خود تصنیف کر کے لے آیا، اور دعویٰ کرنے لگا کہ خدا نے مجھ پر وحی کی ہے۔ حقیقت میں وحی وغیرہ کچھ نہیں۔ محض ساحرانہ تخیل و افتراء ہے۔ 1 یعنی جو باتیں یہ کرتا ہے (مثلاً ایک خدا نے ساری دنیا کو پیدا کیا، اور ایک وقت سب کو فنا کر کے دوبارہ زندہ کرے گا پھر حساب کتاب ہوگا اور مجھ کو اس نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے، وغیرہ وغیرہ) اپنے اگلے بزرگوں سے ہمارے کانوں میں یہ چیزیں کبھی نہیں پڑیں۔
Ayah 28:37

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور کہا موسیٰ نے میرا رب تو خوب جانتا ہے جو کوئی لایا ہے ہدایت کی بات اس کے پاس سے اور جس کو ملے گا آخرت کا گھر بیشک بھلا نہ ہوگا بےانصافوں کا2

2 یعنی خدا خوب جانتا ہے کہ میں اپنے دعوے میں سچا ہوں اور اسی کے پاس سے ہدایت لایا ہوں اس لیے انجام میرا ہی بہتر ہوگا۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی کھلی نشانیاں دیکھ کر اور دلائل صداقت سن کر ناانصافی سے حق کو جھٹلاتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوسکتے۔ انجام کار ان کو ذلت و ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔
Ayah 28:38

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور بولا فرعون اے دربار والو مجھ کو تو معلوم نہیں تمہارا کوئی حاکم ہو میرے سوا سو آگ دے اے ہامان میرے واسطے گارے کو پھر بنا میرے واسطے ایک محل تاکہ میں جھانک کر دیکھ لوں موسیٰ کے رب کو اور میری اٹکل میں تو وہ جھوٹا ہے3

3 یعنی اپنے وزیر ہامان کو کہا کہ اچھا اینٹوں کا ایک پزاوہ لگواؤ تاکہ پکی اینٹوں کی خوب اونچی عمارت بنوا کر اور آسمان کے قریب ہو کر میں موسیٰ کے خدا کو جھانک آؤں کہ کہاں ہے اور کیسا ہے۔ کیونکہ زمین میں تو مجھے کوئی خدا اپنے سوا نظر نہیں پڑتا۔ آسمان میں بھی خیال تو یہ ہے کہ کوئی نہ ہوگا، تاہم موسیٰ کی بات کا جواب ہوجائے گا۔ یہ بات ملعون نے استہزاء و تمسخر سے کہی اور ممکن ہے اس قدر بدحواس و پاگل ہوگیا ہو کہ اس طرح کی لچر پوچ اور مضحکہ خیز تجویزیں سوچنے لگا۔
Ayahs 28:39–40

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور بڑائی کرنے لگے وہ اور اس کے لشکر ملک میں ناحق اور سمجھے کہ وہ ہماری طرف پھر کر نہ آئیں گے

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

پھر پکڑا ہم نے اس کو اور اس کے لشکروں کو، پھر پھینک دیا ہم نے ان کو دریا میں سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام گناہ گاروں کا4

4 یعنی انجام سے بالکل غافل ہو کر لگے ملک میں تکبر کرنے یہ نہ سمجھا کہ کوئی ان کی گردن نیچی کرنے والا اور سر توڑنے والا بھی موجود ہے۔ آخر خداوند قہار نے اس کو لاؤ لشکر سمیت بحرقلزم میں غرق کردیا تاکہ یادگار رہے کہ بدبخت ظالموں کا جو انجام سے غافل ہوں ایسا انجام ہوا کرتا ہے۔ غرق وغیرہ کے واقعات کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔