Ayah 28:1طا ۔۔۔۔۔۔۔ سی ۔۔۔۔۔۔۔ می ۔۔۔۔۔۔۔ م حروف مقطعات میں سے تین حروف ہیں جو اس کے مضامین پر آگاہ کرنے کے لئے بولے گئے ہیں اور 1۔ حروف مقطعات کی مکمل بحث پیچھے سورة البقرہ کے شروع میں بیان کردی گئی ہے اگر دیکھنا درکار ہو تو وہی سے ملاحظہ کرلیں سورة القصص 28 ویں سورت ہے اور اس سورت تک 14 سورتوں پر حروف مقطعات آئے ہیں اور 14 پر حروف مقطعات نہیں ہیں اور کل 29 سورتوں پر حروف مقطعات دیئے گئے ہیں ۔ تفصیل ان کی پیچھے گزر چکی ہے ۔
Ayah 28:2یہ آیتیں ہیں بات کو کھول کھول کر بیان کرنے والی کتاب کی :
2۔ اس کتاب قرآن کریم میں جتنے اوامر ونواہی بیان کئے گئے ہیں سب واضح ہیں اس کا کوئی حکم بھی ایسا مبہم نہیں ہے جس سے بات واضح نہ ہوتی ہو اور جو قصص وواقعات اس میں بیان کئے گئے ہیں ان کا مقصد وحید نصیحت وتذکیر ہے اور ہر حصہ اور واقعہ کا صرف اتنا حصہ بیان کیا گیا ہے جس سے کسی چیز کی وضاحت پیش کرنا مطلوب ہے اور ہماری زندگی کے لئے کوئی نہ کوئی سبق اس میں ضرور موجود ہے گویا کسی قصہ کو بھی صرف قصہ گوئی کے رنگ سے پیش نہیں کیا گیا بلکہ کسی نہ کسی وضاحت کے لئے اس کو پیش کیا گیا ہے قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے کے پیش نظر یہ بات رہے اور قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھے تو ایسی تلاوت ہی کو تلاوت کہا جاسکتا ہے ۔
Ayah 28:3موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی مختلف خبریں بتائی جا رہی ہیں تاکہ لوگ ایمان لائیں :
3۔ سورة القصص 28 ویں سورت ہے اسمیں سے بیس سورتوں میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر آیا ہے اور صرف 8 سورتوں میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر نہیں کیا گیا گزشتہ سورتوں میں موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم بنی اسرائیل کے قصہ کی بہت سی باتیں بیان ہوچکی ہیں لیکن یہاں اس قصہ کی چند ایسی کڑیاں ذکر کی جا رہی ہیں جو کسی اور جگہ مذکور نہیں ہے اور جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے اس کا مقصد داستان سرائی نہیں بلکہ ان اہل ایمان کے دلوں کو تازہ اور شگفتہ کرنا مقصود ہے جو ایک عرصہ سے مشرکین کے مظالم کا ہدف بنے ہوئے تھے تاکہ انہیں یقین ہوجائے کہ جس اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے فرعون جیسے متشدد اور متعصب مطلق العنان بادشاہ اور اس کی کثیرالتعداد اور تنگ دل قبطی قوم کو غرق کردیا تھا اور بنی اسرائیل جیسی کمزور قوم کو جو کبھی فرعون کے سامنے اٹھ کر کھڑا ہونے کے لئے تیار نہ تھی دیکھتے ہی دیکھتے ان کو کامیاب کردیا وہی اللہ رب ذوالجلال والاکرام اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ کی مدد فرما رہا ہے اس لئے آخر کار کامیابی کاسہرا آپ ﷺ ہی کے سر باندھا جائے گا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ جو کچھ اس قصہ میں نبی اعظم وآخر ﷺ اور آپ ﷺ پر ایمان لانے والی ایک کمزور سی جماعت کو کہا گیا اسی طرح ہوا کہ دیکھے ہی دیکھتے ان کو کامیاب کردیا بالکل اسی طرح جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے مقابلہ میں کامیاب وکامران کیا گیا تھا اور بلاشبہ اس میں ایمان لانے والوں کے لئے کتنی ہی نشانیاں ہیں اگر وہ غور کریں ۔
Ayah 28:4فرعون کے اقتدار پر قبضہ کرنے اور پھر قبضہ قائم رکھنے کا اصل راز :
4۔ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کس حکمت کے تحت مصر میں لایا تھا اس کا خاکہ ذرا ذہن میں تازہ کرو کہ یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائیوں کے درمیان ایک خاندانی چپقلش کے نتیجہ میں بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو اٹھا کر ایک کنوئیں میں گرا دیا اور یہ واقعہ عین اس وقت معرض وجود میں آیا جب ایک تجارتی قافلہ اس راستے سے گزرنے والا تھا بھائی یوسف کو ٹھکانے لگا کر واپس آئے ادھر اس قافلہ کے سقہ نے کنوئیں میں ڈول ڈالا تاکہ پانی نکالے اور کام میں لائے اس نے جب ڈول کھینچا تو بجائے پانی کے ایک خوبرو اور خوش اخلاق بچے کو دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا قافلہ والوں نے اس بچے کو ساتھ لیا اور مصر پہنچ کر اس کے فروخت کرنے کا اعلان کردیا یہ اعلان وہاں کی حکومت وقت نے بھی سنا اور حکومت میں ایک بہت بڑے عہدہ پر فائز عزیز مصر نے اس بچہ کو خرید لیا اور گھر لا کر بیوی کو کہا کہ اولاد تو موجود نہیں اس بچہ پر نظر ڈال اور اس کی اچھی پرورش کر اور اس سے خدمت کا کام لے بعد میں دیکھیں گے اگر ضرورت ہوئی تو اس کو اولاد قرار دے لیں گے کہ یہ اپنے نقش ونگار سے اس کا اہل ہے کہ اس کو اولاد بنا لیا جائے ، یوسف عزیز مصر کے ہاں پرورش پاتا رہا تا آنکہ مکمل جوان ہوگیا اور بجائے اس کے کہ وہ لوگ اس کو اولاد قرار دے لیتے وہ عورت جو عزیز مصر کی بیوی تھی اس کو یوسف کا حسن ایسا لگا کہ اس نے اولاد کی بجائے اس کو خاوند بنانے کی کوشش شروع کردی لیکن وہ یوسف کو اس بات پر آمادہ کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی اور اس نے اپنی ناکامی کا انتقام لیتے ہوئے یوسف کو قید کروا دیا اور یوسف (علیہ السلام) بھی ایک ایسا نوجوان تھا جس نے قید کو ناجائز خاوند بننے پر سو بار ترجیح دی اور قید میں پہنچ کر اپنے علم وفضل اور تعبیر الرؤیا میں ایک مقام حاصل کرلیا اور یوگ یوسف سے فائز یاب ہونا شروع ہوگئے یوسف نے قید سے نکلنے کی کوئی جستجو نہ کی اور نہ ہی جیل میں پہنچنے کا کوئی افسوس کیا حتی کہ فرعون وقت نے ایک خواب دیکھا اور وہ پریشان ہوا اور اس نے تعبیر کے لئے بڑے بڑے معبرین سے اپنی پریشانی کا ذکر کیا لیکن کہیں سے بھی اطمینان بخش جواب نہ پایا ان حالات میں یوسف (علیہ السلام) کے ایک قید کے ساتھی نے بادشاہ سے اجازت طلب کی تاکہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے اس خواب کی تعبیر پوچھے بادشاہ نے اجازت دی تو وہ آدمی قید کی کو ٹھری میں پہنچا اور خواب کی تعبیر چاہی حضرت یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر اس کو بتا دی اس نے واپس جا کر بادشاہ کو جب اس کے خواب کی تعبیر بتائی جو بادشاہ کے دل کو وہ اس قدر بھائی کہ اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو حاضر کرنے کا حکم دیا ، وہ آدمی دوبارہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس گیا تاکہ یوسف (علیہ السلام) بادشاہ سے براہ راست ملاقات کرے لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس آدمی کو جواب دے دیا کہ میں اس وقت تک قید سے نکلنے کے لئے تیار نہیں جب تک میرے قضیہ کا فیصلہ نہ ہوجائے ۔ بادشاہ نے اس کے قضیہ کو حل کرایا اور وہ اس طرح کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بری قرار دے دیا گیا اور سارا الزام عزیز مصر کی بیوی پر رہا حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی بریت کے اعلان کے بعد بادشاہ کے سامنے حاضر ہوا اور بالمشافہ گفتگو ہوئی ، بادشاہ اس بالمشافہ گفتگو سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے لئے خاص کرلیا اور اس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) کو تمکن فی الارض عطا کردیا گیا ، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی صلاحتیوں سے کام لیتے ہوئے قحط سالی کے سالوں کے لئے اس طرح تیاری کی کہ جب قحط فی الواقع پڑگیا تو مصر دوسرے ملکوں کی آماجگاہ بن گیا اور اردگرد کے تمام ممالک مصر سے غلہ حاصل کرنے لگے اسی پریشانی کو دور کرنے کے لئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی مصر میں پہنچے اور ایک دو بار غلہ حاصل کرکے لے گئے جب وہ تیسری بار مصر آئے تو ان کی کسی کمزوری کے باعث یا اتفاقیہ ان پر چوری کا الزام لگا پھر وہ جب اس الزام سے بری قرار پائے اور ان کو یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اس وقت جو شخص غلہ دوسرے ملکوں کے ہاتھوں فروخت کررہا ہے وہ ان ہی لوگوں کا بھائی حضرت یوسف (علیہ السلام) ہے تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی ادھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو مصر میں آکر آباد ہونے کی ہدایت کی جو منظور ہوئی اور اس طرح بنی اسرائیل گویا مصر میں آکر آباد ہوگئے اور حکومت کی باگ ڈور بھی ان ہی کے ہاتھوں میں تھی وہ کئی پشت تک مصر کے تخت پر حکمران رہے اور بڑھتے بڑھتے ایک بہت بڑی قوم بن گئے اور اپنے آباء کے نام سے بارہ گروہوں میں تقسیم ہوئے اگرچہ اس وقت یہ تقسیم ان کی محض ایک دوسرے کی پہچان کے لئے تھی پھر آہستہ آہستہ وہ کمزور ہونے شروع ہوگئے اور چونکہ فرعون اور اس کی قوم بنی اسرائیل کے آنے سے پہلے یہاں آباد تھے اس لئے انہوں نے دوبارہ کوشش کرکے زمام حکومت خود سنبھال لی اور قوم بنی اسرائیل پر مختلف طریقوں سے ظلم و ستم کرنے لگے تاکہ یہ لوگ دوبارہ کہیں اٹھ کھڑے نہ ہوں اس ظلم و ستم کی جب انہوں نے کوئی انتہاء نہ چھوڑی تو اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ سے قوم بنی اسرائیل کو دوبارہ برسراقتدار لانا چاہا اور اس زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ فرعون نے قوم بنی اسرائیل کو دبانے کے لئے کیا کیا چالیں اختیار کی تھیں ان کی چالوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرعونی سیاست کے سارے خدوخال کو مختصر سے مختصر الفاظ میں عمدگی کے ساتھ بیان کردیا گیا اور بلاشبہ یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام وعلام الغیوب جو حکیم وخبیر بھی ہے قرآن کریم اس کا کلام ہے اور اللہ رب العزت سے کسی جابر سے جابر سے بادشاہ کے اسرار سربستہ بھی مخفی نہیں ۔
زیر نظر آیت میں بتایا گیا ہے کہ فرعون مصر کا حکمران تھا لیکن اس کے دل میں اپنی اس رعایا کے لئے جس کو قوم بنی اسرائیل کے نام سے یاد کیا جاتا تھا ہمدردی ‘ شفقت اور خیر خواہی کا قطعا کوئی جذبہ نہ تھا ‘ وہ ایک مغرور اور متکبر بادشاہ تھا جس کے پیش نظر اپنا ذاتی مفاد اور اپنی قوم کے ایک حصہ یعنی قبطی لوگوں ہی کا مفاد تھا جس قدر بھی تھا وہ کیا چاہتا تھا ؟ صرف اپنی حکومت کا استحکام اور اپنی شوکت وصولت کی بقاء اسی مقصد کے حصول کے لئے وہ ہر غیر قانونی اور غیر انسانی تجویذ پر عمل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا تھا ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ ہر غیر قانونی اور غیر انسانی تجویذ پر عمل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا تھا ، اس مقصد کے حصول کے لئے اس نے قوم بنی اسرائیل کو مستقل بارہ حصوں میں تقسیم کیا اور اس طرح اس نے گروہ بندی کر کے انکو کمزور سے کمزور تر کرنے کی ساری کوشش کی اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ قوم بنی اسرائیل ایک قوم کے افراد بن کر رہیں اس نے ہر وہ حربہ اختیار کیا جس نے نتیجے میں غریب روز بروز غریب اور امیر روز بروز امیر تر سے امیر تر ہونا شروع ہوگئے اس طرح قوم بنی اسرائیل قوم کا وہ طبقہ جو کسی نہ کسی طرح مالی پوزیشن میں تھا ان کو بنی اسرائیل سے بالکل الگ کرکے انکو اپنے ساتھ ملالیا اور باقی قوم کو وہ اچھوت سمجھنے لگے اور ان کا کمزور طبقہ روز بروز کمزور ہی ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ ان میں قومی تصور بھی نہ ہونے کے برابر ہوگیا اور اس طرح بنی اسرائیل ایک قوم ہونے کے باوجود مختلف گروہوں میں تقسیم ہوگئے اور بنی اسرائیل کا وہ طبقہ جن کے پاس مال و دولت کی ریل پیل تھی اس کو اس نے اس طرح انگلی پر لپیٹا کہ وہ لوگ اس کے اشاروں پر ناچنے لگے اور کمزوروں کو مزید کمزور کرنے کے لئے اس نے ان کے بچوں کو قتل کروانا شروع کردیا اور قتل کرنے کی خضواہ کوئی سی صورت تھی بہرحال ان کی افرادی قوت کم کرنے کے لئے اس نے ان کی نرینہ اولاد کو قتل کرانے کے ساتھ ساتھ نسوانی اولاد کو باقی رکھ کر اپنے کام کاج میں ان سے بیگار لینا شروع کردی اور اپنی نفسانی خواہشوں کی ہوس کا نشانہ بھی ان کو بنایا اس طرح اس نے ملک میں ایک فساد عظیم بپا کر رکھا تھا ، فرعون نے جتنی سکیمیں اس وقت قوم بنی اسرائیل کے ایک خاص طبقہ کے علاوہ باقی ساری قوم کے لئے تیار کی تھیں وہ ساری آج اس ملک عزیز کے متوسط طقبہ اور غریب عوام کے لئے رائج نظر آرہی ہیں بلکہ ان ساری سکیموں پر کچھ مزید اضافہ ہی ہوا ہے ، ساری اسکیمیں اگر گنوائیں گے تو بہت وقت لگے گا اور مضمون کو بہت وسعت دینا ہوگی تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے لیکن اتنا وقت کہاں ؟ اس کی ساری سکیموں کا نچوڑ ان تین سکیموں میں آسکتا ہے ایک یہ کہ قوم مستقل گروہ بندی میں تقسیم رہے اور دوسری یہ کہ جو لوگ کمزور ہیں وہ روز بروز کمزور تر ہوتے چلے جائیں اور تیسری یہ کہ قوم میں شرک جاری وساری رہے کوئی ایسی صورت پیدا نہ ہوجائے کہ شرک کی بیخ کنی ہوجائے بلکہ شرک پھیلنے کی جو صورتیں بھی ممکن ہوں ان کی حوصلہ افزائی کی جائے باقی اسکیمیں ان ہی تین بڑی اسکیموں کے گردا گرد گھومتی ہیں اور آج بھی ہمارے اس ملک عزیز میں حکمران طبقہ کی یہ تینوں اسکیمیں بدستور قائم ہیں اور ان تینوں کو برقرار رکھنے کی ہر حکومت داعی ہے اور بلاشبہ اس کے نتیجہ میں فرقہ بندی دن بدن زوروں پر ہے اور غریب طبقہ روز بروز غریب سے غریب تر اور غریب ترین ہوتا چلا جا رہا ہے اور شرک کی ساری اسکیموں کی حوصلہ افزائی بدستور جاری ہے اشارہ ہم نے کردیا ہے اور اس کی وضاحت کوئی مشکل نہیں اگر آپ خلوص نیت سے چاہیں گے تو ذرا غور وفکر کرنے سے وضاحت خود بخود ہوتی چلی جائے گی ، یہی وہ فساد تھا جو اس وقت فرعون موسیٰ نے بپا کر رکھا تھا اور یہی وہ فساد ہے جو اس وقت سارے فرعون اپنے اپنے ملکوں میں بپا کر رہے ہیں اگر کوئی فرق ہے تو صرف یہ کہ فرعون موسیٰ کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے اس لئے اس کا نام ہر جگہ لیا جاتا ہے اور خصوصا مسلمان قوم تو اس کا نام اس سلسلہ میں لینے پر مجبور ہے اور موجودہ فرعونوں کا ذکر قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ نہیں ہے اور اس زمانہ میں وہ فرقہ جو مذہبی فرقہ کہلاتا ہے وہ وقت کے فرعونوں سے اس قدر رشوت کھا رہا ہے کہ وہ ان کا نام صراحت کے ساتھ لینے کے لئے کبھی تیار نہیں لیکن اللہ رب العزت کی سکیم بھی بڑی سلجھی ہوئی ہے وہی جب چاہے گا اس کا علاج کرے گا اور ہمارا ایمان ہے کہ ضرور کرے گا کیونکہ اس کے ہاں دیر ہے کہ اس کا ایک دن ہمارے پچاس ہزار سالوں کے برابر ہے لیکن اندھیر یقینا نہیں۔
Ayah 28:5کمزور لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے احسان کا ارادہ کیا تو انکو ملک کا وارث بنا دیا :
5۔ یہ آیت گویا موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے لے کر فرعون کی ہلاکت تک کے سارے مضمون پر محیط ہے اور اس طرح تقریبا ایک صد سالہ زندگی کی پوری روئیداد اس میں بیان کردی گئی ہے ، فرعون اور اس کی قوم یا اس کے اعوان وانصار کی اسکیم کیا تھی ؟ یہی کہ وہ لوگ جو ملک میں کمزور ہوچکے ہیں ان کو کمزور سے کمزور بنا دیا جائے تاکہ اس بات کا خطرہ مکمل طور پر ٹل جائے کہ کبھی یہ لوگ بھی حکومت کے اہل ہو سکتے ہیں ، ادھر اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ وہ لوگ جو اس وقت ملک کے حصہ مغرب سے لے کر مشرک تک کمزور سے کمزور تر بنا دیئے گئے ہیں اب ہمارے قانون کا فیصلہ یہ ہے کہ ملک کا وارث ان کو بنایا جائے ، اس طرح فرعون کی ساری اسکیمیں فیل کر کے رکھ دی جائیں ، اس کے لئے کیا ہوا ؟ قدرت الہی نے ان حالات کو بدلنے کے لئے فرعون کی اپنی اہلیہ کا دل اپنی طرف مائل کیا اور وہ باجود فرعون کی بیوی ہونے کے اللہ کی ایک نیک بندی بن کر رہ گئی اور سورة طہ میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ دراصل اس اللہ کی بندی کا تعلق بھی قوم موسیٰ ہی سے تھا بلکہ وہ موسیٰ کی والدہ ماجدہ کی حقیقی رشتہ دار تھیں ، فرعون نے جب بنی اسرائیل کے نوزائیدہ بچوں کو اپنی سکیم کے تحت مروانا چاہا تو یہ اللہ کی بندی موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ کے ساتھ اللہ کی رضا کے لئے مل گئی اور اس کو اس بات پر آمادہ کیا کہ تو جب بچہ کو وضع کرے تو اگر وہ نرینہ اولاد ہو تو جب تک یہ بات پوشیدہ رہ سکے اس کو پوشیدہ رکھے اور اگر خطرہ ہو کہ وہ قانون کی زد میں آئے گی تو اللہ کے حکم کے مطابق اس طرح ایک صندوقچہ تیار کرا کر بچہ اس میں رکھ کر دریا میں بہا دے اس رخ پر جس رخ سے فرعون کے محل کی طرف جانے والی نہر میں پانی گرتا ہے تاکہ بچہ محل کے قریب پہنچ جائے یہ بات طے ہوجانے کے بعد بھی اس پر عمل کرنا بلاشبہ اتنا آسان نہیں تھا اور یہ سکیم بھی بہت گہری تھی لیکن چونکہ تائید خداوندی اس کو حاصل تھی اور اللہ کے دو خاص بندوں کے درمیان وعدہ تھا موسیٰ کی والدہ محترمہ نے وہی کچھ کیا جو طے تھا جب بچہ کو دریا میں عین اس رخ پر بہا دیا گیا تو موسیٰ کی ماں کا دل یقینا دھک کر رہ گیا لیکن اللہ تعالیٰ کی باتیں ہمیشہ پوری ہوتی ہیں اور بالکل اسی طرح ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ کی ضمانت میں طے ہوا تھا ، مضمون آگے جاری ہے کہ اس طرح اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی تدبیر نہایت احتیاط کے ساتھ شروع ہوگئی جس کا نتیجہ اپنے وقت پر وہی نکلے گا جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی ماں میں ڈالا تھا اور ان دونوں اللہ کی بندیوں میں طے ہوا تھا ۔
Ayah 28:6بنی اسرائیل کے تسلط کی بنیاد اللہ نے رکھ دی اور فرعون وہامان کی سکیموں کو فیل کردیا :
6۔ فرعون کے ظالمانہ عزائم تو یہ تھے کہ بنی اسرائیل کو مختلف طریقوں سے بےبس اور کمزور کردیا جائے تاکہ وہ اپنی قومی انفرادیت کو قائم نہ رکھ سکیں لیکن اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی مرضی یہ نہ تھی بلاشبہ وہ یعقوب کے گھرانے کو برقرار اور آباد رکھنا چاہتا تھا جیسا کہ گزشتہ آیت میں خود اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے چاہا کہ جس قوم کو عرصہ سے ظلم وستم کی چکی میں پیسا جا رہا ہے ان پر ہم اپنا فضل و کرم فرمائیں اور ان سرکشوں اور ظالموں کا تخت وتاج ان سے چھین کر بنی اسرائیل کو بخش دیں تاکہ فرعون اور اس کے بدمست مشیروں اور ان کے لشکریوں کو پتہ چل جائے کہ حقیقی بادشاہ ہم ہیں اور جس کو چاہتے ہیں تخت سلطانی پر بٹھا دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں تخت سے اٹھا کر خاک مذلت پر لوٹنے کے لئے چھوڑ دیتے ہیں ، تمہاری ساری کی ساری احتیاطی تدبیریں ‘ سیاسی حربے اور منصوبے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ عملی صورت میں کس طرح رونما ہوا اب اس کا تذکرہ کیا گیا ہے :
Ayah 28:7ہم نے موسیٰ کی ماں کے دل میں ایک بات ڈالی اور حالات اس کے موافق کردیئے :
7۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش پر اللہ تعالیٰ نے ان کی والدہ محترمہ کے دل میں ایک بات ڈال دی کہ اپنے لخت جگر کو دودھ پلاتی رہ جب تم کو راز فاش ہونے کا اندیشہ ہو تو اسے صندوق میں ڈال کر دریائے نیل میں اس رخ پر جس رخ پر سے نہر نکل کر محل فرعون کو جاتی ہے ڈال دے اور کسی طرح کا ڈر اور خوف و خطرہ اپنے دل میں مت ڈال ، ہمارا وعدہ ہے کہ ہم تیرے بچے کو تیری گود میں لا ڈالیں گے اور پھر اپنے وقت پر اس کو رسول بھی بنائیں گے اور قوم بنی اسرائیل کا راہنمابھی یہ بات موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں ہی کے دل میں کیوں ڈالی گئی اس کا ذکر ہم نے پیچھے کردیا ہے کہ ان کی قریبی رشتہ دار فرعون کی بیوی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اس میں مشورہ کرنے کی توفیق بہم پہنچائی اور اس طرح اللہ نے اپنی خفیہ تدبیر کو پورا کر دکھایا اور ویسے بھیم معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ ان مخصوص عورتوں میں سے ایک تھیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے اپنے زمانہ میں کامل عورتیں بنایا گھا اور وہ اپنے خاوندوں پر مجموعی طور پر فوقیت رکھتی تھیں جس طرح موسیٰ کی ماں اور آسیہ فرعون کی بیوی اور مریم عمران کی بیٹی اور فاطمہ محمد رسول اللہ ﷺ کی چھوٹی اور آخری بیٹی جو آپ ﷺ کی وفات کے بعد اس دنیا سے اٹھائی گئیں ، بلاشبہ ان ساری عورتوں کے باپ بھی تھے اور مائیں بھی اور خاوند بھی اور اولادیں بھی لیکن کوئی کسی نام وکنیت سے مشہور ہوئی اور کوئی کسی نام وکنیت سے اور جس طرح انکی شہرت ہوئی اسی طرح قرآن کریم نے ان کا ذکر کردیا اور یہی طریقہ قرآن کریم اختیار کرتا ہے اور اسی طریقہ کی ہم کو ہدایت کرتا ہے ۔
Ayah 28:8فرعون کے لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھا لیا اور گناہگاروں کی مت اسی طرح ماری جاتی ہے :
8۔ تدبیر الہی کے مطابق جو بات موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ سیدہ یوکا بد اور سیدہ آسیہ کے درمیان طے ہوئی تھی اللہ نے اس کو من وعن پورا کر دکھایا یہ بھی کہا گیا کہ سیدہ آسیہ موسیٰ کی چچا زاد تھی بہرحال موسیٰ کا تابوت دریا میں بہتا ہوا اس نہر کی طرف بہہ نکلا اور عین محل کے قریب فرعون کے لوگوں نے آسیہ کے حکم سے اس کو نکال لیا ان کے نکالنے کا کیا مقصد تھا اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو کیا منظور تھا اور سکیم میں کیا کچھ پاس ہوا تھا اور اس کا انجام کیا نکلنے والا تھا ان ساری باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے قرآن کریم نے مال ونتیجہ کی بات کو اس جگہ ذکر کردیا تاکہ بغیر کی بحث وتمہید کے جو بات مشیت ایزدی میں طے تھی اس کو بیان کردیا جائے اور چونکہ واقعہ گزر چکا تھا اور اس کا نتیجہ بھی نکل چکا تھا اس لئے قرآن کریم نے اس کا وہی نتیجہ بیان کردیا کہ انہوں نے اس بچہ کو دراصل ان پر ایک طرح کی تلمیح بیان کی کہ غور کرو کہ ایک طرف تو فرعون خدائی کا دعویدار تھا لیکن دوسری طرف وہ یہ بھی نہ معلوم کرسکا کہ یہ بچہ انجام کار اس ہلاکت کا اور تباہی کا باعث بنے گا کرو کہ یہ کتنا عجیب خدا ہے جس کی بےعلمی اور جہالت کا یہ عالم ہے اپنے دشمن کو بھی نہیں پہچان سکا اس طرح ہامان کو بھی اپنی فراست اور سمجھ بوجھ پر بڑا ناز تھا وہ بھی اس چیز کو نہ سمجھ سکا اس طرح یہ بات گویا ثابت ہوئی کہ جیسا راجہ ویسی پر جا۔
Ayah 28:9بلاشبہ انہوں نے بچہ کو مارنے کی کوشش کی لیکن ہم نے اس کو ناکام کردیا :
9۔ زیر نظر آیت میں لفظ (لاتقتلوہ) اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے یقینا موسیٰ کے قتل کرنے کے متعلق کہا تھا یا آپس میں مشورہ کیا تھا کیونکہ اتنی بات تو وہ سمجھتے تھے کہ یہ بچہ ہو نہ ہو کسی اسرائیلی ہی کا ہو سکتا ہے لیکن سیدہ آسیہ ؓ نے اپنا مشورہ فرعون کو دیا کہ نہیں اس کو قتل نہ کریں بلکہ اس سے دل بہلائیں اور اس سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں کہ اولاد تو موجود نہیں اور کتنا خوبصورت بچہ ہے جب ہم خود اس کی پرورش کریں گے تو ظاہر ہے کہ ایسا کوئی خدشہ نہیں رہے گا جس خدشہ کے پیش نظر بنی اسرائیل کے بچوں کو مروایا جا رہا ہے شاید کہ یہ بچہ ہمارے مفید ثابت ہو یا ہم اس کو اپنا متبنی ہی بنا لیں دراصل یہ بات تو فرعون اور اس کے درباری نہیں سمجھتے تھے کہ اصل حقیقت کیا ہے ؟ اب مضمون کو ایک بار پھر پیچھے سے شروع کیا جا رہا ہے کہ بچہ کو اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے بہا تو دیا لیکن بچہ بہرحال بچہ تھا ۔
Ayah 28:10موسیٰ کی ماں کا دل بےقرار ہوا تو ہم نے اس کو فورا مضبوط کردیا :
10۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں یوکابد کا دل بےقرار ہوگیا کیونکہ فطری تقاضے بھی بڑے ہی عجیب ہوتے ہیں ماں کی مامتا اپنے نور نظر کی دریا کی لہروں کے سپرد کرکے کیوں بےچین نہ ہوجاتی بلاشبہ اس کا دل بےچین ہوا اور اس کا دل بار بار یہ تقاضا کر رہا تھا کہ وہ اپنے دل کی بھڑاس کس سے نکالے کہ میں نے ایسا کیوں کیا اور نہ معلوم اس کے دل میں کیا کیا باتیں گزریں اور وہ کن کن سوالوں سے دوچار ہوئی ، شیطان نے اس نے دل کے اندر کیا کیا بات ڈالی ہوگی لیکن بہرحال جیسے کیسے بھی ہوا اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو مضبوط رکھا اور سارے خطرات کو اپنے دل ہی دل تک محدود رکھا جس کے نتیجہ میں وہ سچے مومنوں سے ہوئی کہ اللہ کے بھروسہ پر ایک کام کیا اور جو لوگ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ خود ان کا حامی و مددگار ہوجاتا ہے زیر نظر آیت نے ان سارے خطرات کا ذکر مجمل طور پر کردیا جو ایک ماں کی مامتا کے دل میں پیدا ہوسکتے تھے لیکن اللہ کا ذکر ہی دلوں کے خطرات ٹالنے والا ہے اور دلوں کے اطمینان کا بہترین علاج ہے اور اس کے ایمان کا تقاضا یہ تھا کہ وہ دل کو مضبوط رکھے ۔
Ayah 28:11اس نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ نظر رکھے کہ صندوقطچہ کس رخ کو جاتا ہے :
11۔ ہم نے اس کے دل پر ایک ایسی گرہ لگا دی جس سے اس کو ایک وقت تک یقینا بہت سہارا ملا وہ اس طرح کہ اس نے اپنی بیٹی یعنی موسیٰ کی بہن کو کہا کہ وہ دریا کے کنارے کنارے تھوڑی دیر تک چلتی رہے اور آنکھ بچا کر دیکھتی رہی یعنی اس صندوقچہ پر نظر رکھے کہ اس کا کیا ہوتا ہے اور وہ کس رخ کو بہتا ہوا جاتا ہے لیکن یہ احتیاط بھی بتا دی کہ وہ اس واقعہ کو کسی کے سامنے بیان نہ کرے اور نہ ہی یہ راز کھولے کہ یہ بچہ کہاں سے آیا اور کس نے اس کو پانی میں ڈالا اور وہ کیوں اس پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے یقینا ماں کی ہدایت پر عمل کیا اور جدھر کو وہ صندوقچہ بہتا ہوا چلا گیا وہ کچھ فاصلہ پر رہ کر اس پر نظر رکھے رہی اور اللہ نے اس کو جس رخ پر بہایا وہ اسی رخ کو چلتی رہی تا آنکہ وہ محل کے قریب پہنچ گیا اور وہ صندوقچہ بھی فرعون کے لوگوں نے پکڑ لیا ‘ اس کو کھولا اور اس بچہ کا دیدار کیا اور جو خطرات ان کے دل میں گزرے ان کا انہوں نے ایک دوسرے سے اظہار بھی یقینا کیا اور وہ مشورہ طے پایا جس کا ذکر گزشتہ آیت میں کیا جا چکا ۔
Ayah 28:12سکیم الہی میں تو یہ بات طے ہی تھی کہ اب بچہ کو دودھ کس نے پلانا ہے ؟ :
12۔ اور ہم نے اس بچہ پر ساری دودھ پلانے والیاں تو حرام کر ہی دی ہوئی تھیں (من قبل) کیونکہ یہ پہلے طے ہوچکا تھا کہ اب اس بچہ کو کیا کرنا ہے لیکن آخر بظاہر اس کی کوئی صورت بھی تو پیدا کرنی تھی کہ اس پروگرام الہی کی تکمیل ہوجائے گویا اس طرح ایک بہت سارا حصہ تو باقاعدہ طے پا گیا اور یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اس بچہ کو فرعون اپنے لئے رکھے گا جب اس کی پرورش کا خیال پیدا ہوا اور دایہ کی ضرورت محسوس ہوئی تو موسیٰ کی بہن ہی نے مسئلہ حل کردیا ، درباریوں کو اس نے توجہ دلائی کہ ایک مرضع تم کو بتا دیتی ہو کہ وہ تمہارے لئے اس بچہ کی پرورش صحیح طریقہ سے کر دے گی اور وہ یقینا اس کے حق میں تمہارا ٹھیک ٹھیک ہاتھ بٹائے گی ، اس طرح گویا اس راز کو خفیہ رکھ کر اس پروگرام پر مکمل طور پر عملدر آمد شروع کرا دیا گیا ۔
Ayah 28:13بچہ کو ہم نے ماں کی طرف لوٹا دیا اور اس طرح وعدہ الہی کی تکمیل ہوگئی :
13۔ اس پروگرام کے مطابق ہم نے بچہ کو ماں کی گود میں واپس دے دیا اور اس طرح صرف اس کی مامتا ہی کو تسکین نہ ہوئی بلکہ بچے کی طرف سے مکمل طور پر مطمئن ہوگئی اور اس کے سارے خطرات بھی ٹل گئے اور ایک سیدہ آسیہ ؓ اور فرعون دونوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار پایا اور وعدہ الہی سکیم الہی کے مطابق من وعن پورا ہوگیا بلاشبہ بیخبر لوگ حقیقت کو نہیں جانتے اور حقیقت کو حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتے ۔
Ayah 28:14موسیٰ کا بچپن نکل گیا اور اب وہ بلوغت کو پہنچا اور اللہ نے علم و حکمت سے اسے نوازا :
14۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کا بچپن نہایت ناز ونعمت اور آسائش و آرام کے ساتھ گزرا والدین کی گود میں بھی رہا اور شاہی مزاج کے مطابق پرورش بھی پائی اور ہوتے ہوتے وہ اب ماشاء اللہ جوان ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے عقل وفکر بھی وافر عطا کیا تھا اور ماحول بھی بہت بہتر عطا کیا اور شہزادگی میں کا بچپن گزر گیا اور اب وہ ہر لحاظ سے جوان تھا عمر کا لحاظ سے بھی ‘ قوت کے لحاظ سے بھی اور عقل وفکر کے لحاظ سے بھی اور اس طرح وہ خوب کار ہوگیا جس طرح لوگ خوب کار ہوتے ہیں اور اس کی ساری سوئی ہوئی قوتیں بیدار ہونے لگیں اور اب اس کو یہ معلوم ہوگیا کہ وہ فرعون کے پاس کس طرح گیا اور اس کا اصل تعلق فرعون سے نہیں بلکہ بنی اسرائیل سے ہے گویا اب وہ فرعونی محل کا شہزادہ ہے اور قوم بنی اسرائیل کا ایک درد مند نوجوان ہے ۔ قرآن کریم نے صرف یہ کہہ کر ” جب اس کی نشو ونما مکمل ہوگئی تو ہم نے اسے حکم اور علم عطا کیا “ اس بات کی وضاحت کردی کہ جوان ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ان ساری حالات سے آگاہ ہوگئے کہ آپ کا تعلق قوم بنی اسرائیل سے ہے اور وہ کسی طرح فرعون کے پاس سکیم الہی کے تحت پہنچائے گئے اور پھر کس طرح روز اول ہی سے اپنی والدہ کے پاس رہنے اور ان کی باتیں سننے کا موقع مل گیا تھا اس ساری صورت سے آپ اچھی طرح آگاہ ہوگئے تھے نیز آپ کو اپنے جلیل القدر آباء و اجداد کے منصب نبوت پر بھی آگاہی ہوچکی تھی ، آپ نے جب دیکھا کہ فرعون خود خدا بنا بیٹھا ہے اور لوگوں سے اپنی پرستش کراتا ہے اور اس طرح سورج کی بھی جس کا وہ دیوتا کہلاتا ہے تو بلاشبہ آپ کا موحد ذہن اس شرک کو زیادہ دیر تک برداشت نہ کرسکا اور خاندان یعقوب کے خوش نے جوش مارا اور آپ نے فرعون کو اس ظلم وستم سے حتی الامکان روکنے کی کوشش کی اور ظاہر ہے کہ اب فرعون کو بھی یہ بات کوئی سمجھانے کی نہیں تھی کہ اس نوجوان کا تعلق قوم بنی اسرائیل سے ہے اور اس طرح یقینا دونوں میں کچھ کدورت پیدا ہوچکی ہوگی لیکن اب اس کے لئے کوئی چارہ کار نہ رہا تھا کہ وہ موسیٰ سے مکمل طور پر الگ ہوجائے کیونکہ جوانی تک پہنچے پہنچتے یقینا دربار فرعون میں بھی آپ نے ایک مقام پیدا کرلیا ہوگا جو فطری طور پر بھی پیدا ہونا چاہئے تھا کہ فرعون نے آپ کو متبنی قرار دے لیا تھا اور ان حالات میں شاید آپ مستقل طور پر بنی اسرائیل ہی کی بستی میں رہنے لگے تھے جو قصر شاہی سے کچھ فاصلے پر تھی۔
Ayah 28:15اس دوران ایک عجیب طریقہ کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک قتل سرزد ہوگیا :
15۔ اب وہ وقت آگیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اکثر لوگوں کے آرام کے اوقات میں شرہ کا گشت کرتے اور حالات معلوم کرتے کہ بنی اسرائیل کیا کر رہے ہیں اور آپ کی مخالف جماعت یعنی قبطی لوگ کس حال میں ہیں ۔ اس طرح ایک روز جب آپ شہر کی طرف نکلے تو ایک جگہ پر دو آدمیوں کو الجھتے دیکھا کہ دونوں آپس میں دست و گریبان ہیں ایک اسرائیلی ہے اور دوسرا قبطی ۔ اسرائیلی نے جب آپ کو دیکھا تو مدد کے لئے آواز دی آپ آگے بڑھے کہ قبطی کو دست درازی سے منع کریں جب اس نے بات نہ مانی اور زیادتی سے باز نہ آیا تو آپ نے اس کو ایک مکا رسید کردیا یا پیچھے کرنے کے لئے دھکا دے دیا اور یہ بات محض آپ نے دونوں کا الجھاؤ ختم کرنے کے لئے کی اسے مارنے اور قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا لیکن وہ مکا یا دھکا جو کچھ بھی تھا جان لیو ثابت ہوا اور اتنے ہی میں اس کا قصہ تمام ہوگیا اچانک یہ حادثہ رونما ہوگیا تو یقینا آپ کو روحانی اذیت بھی ہوئی کہ ناحق ایک جان تلف ہوگئی بلاشبہ وہ قبطی بھی کوئی سرکش قسم کا آدمی تھا جو شراب پینے اور بدکاری کرنے کے باعث اندر سے کھوکھلا ہوچکا تھا لیکن وہ جو کچھ بھی تھا آپ نے اس کو جان سے مار دینے کا کوئی ارادہ نہیں کیا تھا بس یہ اتفاق ہوگیا اور اتنے میں لوگ ادھر ادھر جمع ہوگئے تو اس وقت تک آپ ادھر ادھر ہو کر روپوش ہوگئے لیکن دل کے اندر تو ضرور کھٹکا تھا کہ فرعون پہلے ہی اب مجھ سے بیزار رہنے لگا ہے اور اب اگر یہ راز کھل گیا کہ اس قبطی کا قتل بھی مجھ سے ہوا ہے تو حالات یقینا بگڑ جائیں گے چناچہ جذبات و افکار کی اس کشمکش میں آپ کی زبان سے جو فقرہ نکلا وہ یہ تھا کہ (ھذا من عمل الشیطن) یہ کام شیطان کی ایگخت سے ہوا ہے کہ بلاشبہ وہ انسان کا کھلا دشمن ہے اور اس جملہ کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ جو کچھ ہوا اس سے کسی انسان کا اس طرح مارا جانا ثابت کرتا ہے کہ شیطانی کاموں کے باعث اس کا کام ایسے اخیر کو پہنچا ہوا تھا اس کو میرا دھکا دینے یا مکا مارنے کی دیر ہوئی ہے کہ وہ گویا پہلے ہی مرا پڑا تھا۔
قرآن کریم کا بیان بسلسلہ قتل موسیٰ آپ نے پڑھا کہ اس نے کس صفائی کے ساتھ بیان دیا کہ یہ قتل آپ سے بلا ارادہ سرزد ہوا جس کو قتل خطا کا نام دیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود آپ نے اس پر اظہار دکھ وغم کیا بلکہ نہایت وضاحت سے بیان کیا کہ یہ شیطان کے عمل سے ہے کہ وہ انسان کا ابدی دشمن ہے لیکن آپ کے امتیوں نے جس طرح بائبل میں اس واقعہ کو بیان کیا ہے اس کو بھی ذرا دیکھتے چلو تاکہ بات واضح ہوجائے ” اتنے میں موسیٰ جب بڑا ہوا تو باہر اپنے بھائیوں کے پاس گیا اور انکی مشقتوں پر اس کی نظر پڑی اور اس نے دیکھا کہ ایک مصری اس کے ایک عبرانی بھائی کو مار رہا ہے پھر اس نے ادھر ادھر نگاہ کی اور جب دیکھا کہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے تو اس مصری کو جان سے مار کر اسے ریت میں چھپا دیا ۔ “ (خروج 2 : 11 ‘ 12)
قرآن کریم کا یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مونہہ پر لگے ہوئے سارے داغوں کو دھو کر صاف کردیا خواہ وہ داغ ان کے دشمنوں نے دانستہ لگائے تھے خواہ ان کے نادان دوستوں نے کرم فرمائی کی تھی کہ پیار ہی پیار میں ان کا کردار بدنما داغوں سے داغدار کردیا تھا ۔
ان دونوں کی لڑائی کی اصل وجہ کیا تھی ؟ قرآن کریم نے اس کا ذکر نہیں کیا اور یہ بات قبل ازیں کئی بار عرض کی جا چکی ہے کہ قرآن کریم بےجابحثوں کو نہیں اٹھاتا ‘ صرف اتنی بات بیان کرتا ہے جس کا ہماری زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نکلتا ہے تاکہ ہم ایسی باتوں سے پرہیز کریں اور ان کے قریب نہ جائیں بعض لوگوں نے اس کی وجہ اس طرح بیان کی ہے کہ وہ قبطی اسرائیلی کو لکڑیوں کا ایک بھاری گٹھا اٹھانے کا حکم دے رہا تھا اور اس نے اس کو اٹھانے سے انکار کردیا چناچہ اس قبطی نے حاکم وقت قوم کا فرد ہوتے ہوئے اسے زدوکوب کرنا شروع کردیا کہ اتنے میں موسیٰ (علیہ السلام) ادھر سے گزرے اور اسرائیلی نے آپ سے مدد طلب کی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کی مدد کے لئے آگے بڑھے اور بلاشبہ آپ کا آگے بڑھنا محض قومی ہمدردی ہی نہ تھا بلکہ ایک مظلوم کی مدد کرنا تھا اگرچہ اس مظلوم کا تعلق آپ کی قوم سے تھا اور بلاشبہ مظلوم کی مدد کرنا ہر دین میں لازم وضروری قرار دیا گیا ہے زیرنظر آیت میں (وکز) کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی پورے ہاتھ کی ضرب لگانے کے ہیں وہ مکا مارنے کی صورت ہو یا دھکا دینے کی اور کہا گیا ہے کہ لوکز ‘ للکزو ‘ للھزو ‘ للھدو چاروں کے معنی ایک ہی ہیں ۔
Ayah 28:16موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی زیادتی کا اعتراف کیا اور اللہ سے حفاظ طلب کی :
16۔ قتل اگرچہ عمدا انہیں کیا گیا تھا تاہم قتل ہی تھا پھر مخالفین کو کیسے باور کرایا جاسکتا ہے کہ یہ اتفاقی ہے کیونکہ ان کو تو کوئی بہانہ چاہئے تھا اور وہ ان کو مل گیا اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے گویا ظالموں کو اپنے اوپر ظلم کرنے کا ایک موقع فراہم کردیا اگرچہ وہ اتفاق تھا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے میری حفاظت فرما سو اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت فرمائی اور بلاشبہ وہ حفاظت کرنے والا ‘ پیار کرنے والا ہے ۔ ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس اتفاقیہ معاملہ کو نہ چھپایا اور نہ ہی کسی طرح کی کوئی غلط بیانی کی بلکہ اپنے خاندان اور گھر والوں کو سارا ماجرا سنایا اور حکومت کی مداخلت کرنے سے پہلے ہی یہ قضیہ فیصل ہوگیا ۔ اس قضیہ کا فیصلہ کیسے ہوا قرآن کریم نے اس کی وضاحت نہیں کی تاہم جن کا قتل ہوا تھا انہوں نے جیسے کیسے بھی ہوا اس معاملہ کو ختم کردیا خواہ دیت لے کر ختم کیا یا معاف کر کے اور بلاشبہ یہ تب ہی ہوا جیسا کہ واضح ہوگیا کہ یہ قتل عمد نہیں تھا اور نہ ہی موسیٰ (علیہ السلام) کا کوئی ایسا ارادہ تھا اور یہ بھی کہ آپ بنی اسرائیل کے جس گھرانہ کے فرد تھے وہ گھرانہ بھی ایک مذہبی گھرانہ تھا اور فرعون کے دربار میں بھی آپ کو ابھی عزت سے دیکھا جاتا تھا اور اگر سارے نہیں تو بہت سے لوگ آپ کے ساتھ مانوس تھے اور آپ کو شہزادہ ہی سمجھتے تھے اس طرح کے سارے عوامل مل گئے اور قتل کا یہ سلسلہ تقریبا دب گیا بلکہ اس کا فیصلہ ہو کر ختم ہوگیا ۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے جو یہ فرمایا ہے کہ ” میں ہرگز مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا “ تو بلاشبہ کوئی نبی بھی کبھی مجرموں کا مددگار نہیں ہوا چناچہ نبی اعظم وآخر ﷺ کا ارشاد گرامی بھی اس طرح ہے کہ :
من مشی مع مظلوم لیعینہ علی مظلتہ ثبت اللہ قدمیہ علی الصراط یوم القیمہ یوتزل فیہ الاقدام ومن مشی مع الظالم لیعینہ علی ظلمہ ازل اللہ قدمیہ علی الصراط یوم فدحض فیہ الاقدام : ۔
” جو شخص کسی مظلوم کی مدد کے لئے اس کے ساتھ چلے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جو قدموں کے پھسلنے کا دن ہے اس کے قدموں کو پل صراط پر ثابت قدم رکھے گا اور جو شخص ظالم کے ساتھ اس کے ظلم پر اس کی مدد کرنے کے لئے جاتا ہے تو اس دن اس کے قدم پل صراط سے پھسل جائیں گے ۔ “
بلاشبہ سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تعلیم یکساں تھی اور کوئی نبی بھی کبھی ظلم کا ساتھ دینے کے لئے نہیں آیا کاش کہ آج یہ بات ورثۃ الانبیاء کہلانے والوں کو یاد رہتی لیکن بالکل یاد نہیں رہی اسی لئے وہ دنیا کے ظالم ترین انسانوں کے ساتھی بن کر رہ گئے ” والی اللہ المشتکی فنعم المولی ونعم النصیر “۔
Ayah 28:17فیصلہ قتل پر آپ نے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور آئندہ محتاط رہنے کا وعدہ بھی :
17۔ زیر نظر آیت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ یقینا اس قتل خطا کا معاملہ رفع دفع ہوگیا تھا جو بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم ہی سے ہوا تھا لہذا آپ نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سابقہ انعامات کے ساتھ اس خاص وقتی انعام کا بھی شکریہ ادا کیا اور نہایت تضرع اور عاجزی کے ساتھ آئندہ کبھی ایسی غلطی نہ کرنے کا وعدہ بھی کیا اور وضاحت بھی فرما دی کہ میں زندگی میں کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پہلے آپ نے کسی مجرم کی مدد کی تھی بلاشبہ آپ نے پہلے بھی مجرم کی مدد نہیں کی تھی اور اب بھی اپنی دعا میں اس بات کا ذکر فرمایا کہ میں کبھی مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا جیسا کہ پہلے بھی میں نے کسی مجرم کی مدد میں یہ کام نہیں کیا تھا تاہم میری طرف سے جو سزا اس کو ملی وہ اس کے جرم لاریب زیادہ تھی کہ وہ اپنے جرم میں قتل کا مستحق نہیں تھا لیکن تقدیر میں جو بات طے تھی اس کو کون ٹال سکتا تھا ۔ بہرحال اس واقعہ یعنی اتفاقی قتل کے بعد آپ مزید محتاط ہوگئے اور فرعون کی حکومت سے غیر وابستگی کا اعلان بھی اس میں شامل ہے کیونکہ اس کی حکومت بلاشبہ مجرموں کی حکومت تھی جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا معاملہ بلاشبہ طے ہوگیا تھا لیکن قتل ایک ایسا جرم ہوتا ہے جو بغیر حکومت کی دست اندازی کے ختم نہیں ہو سکتا ۔ حکومت کا قانون اس پر گرفت کرے گا ‘ مقدمہ چلے گا اور اس کے بعد فیصلہ کا وقت آئے گا تو قصاص ودیت یا ورثا مقتول کی طرف معافی ہوگی بغیر حکومت کی دست اندازی کے معاملہ خود بخود ہی ختم نہیں ہوجاتا اندریں وجہ موسیٰ (علیہ السلام) کو محتاط رہنا پڑا اور وہ محتاط ہی رہے کہ کسی وقت بھی اس مسئلہ کو حکومت کھڑا کرسکتی ہے اس لئے یہ خطرہ اپنی جگہ موجود تھا۔
Ayah 28:18موسیٰ (علیہ السلام) دوسرے روز دوبارہ ایسے معاملہ سے دوچار ہوگئے :
18۔ (فاصبح) کے لفظ سے یہ لازم تو نہیں آتا کہ جب وہ اتفاقیہ قتل آپ سے سرزد ہوا اس سے اگلے روز ہی کی وہ صبح تھی بلکہ اس واقعہ کے بعد قریب ہی کسی دن کی صبح بھی مراد لی جاسکتی ہے ، مطلب یہ ہے کہ گزشتہ واقعہ کو ابھی کوئی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ موسیٰ صبح کے وقت دوبارہ جب شہر سے گزرے کہ ابھی گزشتہ واقعہ کا خوف بھی زائل نہیں ہوا تھا بلکہ انتظار ہی میں تھے کہ کسی وقت بھی کچھ ہو سکتا ہے تو آپ نے دیکھا کہ وہی شخص جو گزشتہ دنوں کے اس واقعہ میں کسی کے ساتھ الجھا ہوا تھا آج پھر کسی سے دست و گریبان ہے اور آپ کو دیکھ کر اس نے پھر مدد کے لیے چیخنا شروع کردیا موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اس کی طرف دیکھا تو دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ یہ شخص کوئی بہت ہی لڑاکا قسم کا ہے کہ آج پھر کسی سے گتھم گتھا لگتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی روزانہ کسی نہ کسی سے الجھتا ہی رہتا ہے ۔ آپ نے غصہ سے اس کو ڈانٹا اور زور دار آواز سے کہنے لگے ” بلاشبہ تو بھی کوئی بڑا ہی گمراہ آدمی ہے “ کہ چھیڑتا بھی ہے اور مار بھی کھاتا ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو جھڑکی دی اور اس کی طرف جلدی سے چلے ۔
Ayah 28:19موسیٰ (علیہ السلام) کا ارادہ تو مظلوم ساتھی کی مدد ہی کا تھا لیکن مظلوم انکے حق میں ظالم بن گیا :
19۔ قرآن کریم نے خاموشی کے ساتھ اس واقعہ کو نقل کردیا ہے اور اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اس لئے کہ واقعہ خود اپنی حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے بول رہا ہے ، پیچھے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل پر فرعون کے ظلم کی انتہا کی دو باتیں قرآن کریم نے ذکر کی ہیں وہ بھی محض اس لئے کہ ان باتوں کو دنیا کا کوئی انسان بھی خواہ وہ کسی ملت و مذہب سے تعلق رکھتا ہو ایسا نہیں ہوگا جو اس کی ان دونوں باتوں کو کھلا ظلم نہ قرار دے ، بنی اسرائیل کی نرینہ اولاد کو ذبح کرنا اور عورتوں کو زندہ رکھ کر ان سے اپنی نفسانی خواہش کو پورا کرنا اور حیوانوں سے بھی بڑھ کر ان پر ظلم کرنا علاوہ اس کے ظلم کی کوئی داستان بیان نہیں کی البتہ اس واقعہ کو اس انداز میں ذکر کردیا کہ ہر صاحب شعور خود بخود سمجھ جائے کہ مصری عبرانیوں پر کس کس طرح ظلم ڈھاتے تھے اور ان سے بگار لیتے تھے کہ روزانہ ان واقعات کا رونما ہونا ان کی ظلم کی کہانی خود بیان کر رہا ہے جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے اس واقعہ سے ظاہر ہو رہا ہے ، مختصر یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادہ کیا کہ آگے بڑھ کر اس شخص کو گزشتہ دن کی طرح ماریں یا دھکا تو نہ دین لیکن کم از کم اس کو پکڑیں تو سہی اور حقیقت حال کو معلوم کریں لیکن چونکہ زبان سے جو ڈانٹ پلائی وہ اپنی قوم کے آدمی بنی اسرائیل ہی کو پلائی تو وہ بھی عقل کا اتنا کورا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) قریب جانے ہی والے تھے کہ وہ گھبرا کر بول اٹھا کہ اے موسیٰ کیا تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے جیسا گزشتہ کل تو نے ایک آدنی کو بےگناہ قتل کردیا ہے ، کیا تو اسی طرح ملک میں ایک زبردست آدمی بننا چاہتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) گزشتہ قتل کو چھپا کر بیٹھے تھے جیسا کہ ہمارے مفسرین نے بیان کیا ہے ہرگز نہیں بلکہ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ظالم ہونا ثابت ہوجائے اس طرح اس نے عین موقع پر قبطی کے جذبات کو جلا دینا چاہی اور قوم کے ایک محسن کی حمایت کرنے کی بجائے مخالفت میں کھڑا ہوگیا ہاں ! اس نے ایسا کیوں کیا ؟ لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہونے لئے کہ قومی لیڈر کے خلاف غداری کر کے فرعون کا منظور نظر بن جائے اور ظاہر ہے کہ ملک وملت کے خلاف بیان جاری کرکے لوگ محض سیاسی فائدہ ہی حاصل کرنا چاہتے ہیں جو فائدہ ان کا ذاتی ہوتا ہے اور اس طرح وہ ہمیشہ قومی نقصان کرکے ذاتی فوائد حاصل کرتے ہیں بہرحال وہ ابھی اس جگہ اس طرح کی باتوں میں مصروف تھے کہ دور سے دوڑتا ہوا ایک آدمی آیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو الگ کر کے مخاطب ہوا ۔
Ayah 28:20دور سے ایک آدمی بھاگتا ہوا آیا اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کو الگ کرکے بات کرنے لگا :
20۔ گزشتہ قتل کا قضہ ابھی ابھی حال ہوا تھا کہ ایک نیا مقدمہ کھڑا ہو گیا ادھر عبرانی نے اپنی طرف سے شور مچانا شروع کیا اور ادھر قبطی اپنی جگہ یہی سمجھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) میری طرف بڑھا ہے اور چاہتا ہے کہ مجھے بھی قتل کردے اس طرح ایک واقعہ تو معرض وجود میں آ ہی چکا تھا اور یک نہ شد دو شہ ہوتے ، چونکہ ابھی گزشتہ قتل کے متعلق بھی حکومت وقت تو حرکت میں نہیں آئی تھی اس کے بعد جب اس قبطی نے بھی اس بات کی شہادت دی کہ موسیٰ تو آج مجھ پر بھی ٹوٹنے والا تھا تو بات ایک بار دوبارہ حرکت کرنے لگی اور اس طرح فرعون وقت کے سامنے قبطیوں نے شور کرنا شروع کردیا تو فرعون نے بھی اپنے اعوان وانصار سے مشورہ کیا کہ اس کا کوئی حل مستقل ہونا چاہئے گویا اب دونوں طرف سے بیزاری کا اظہار شروع ہوگیا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خلاف ہوچکے تھے اور ادھر فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف حرکت کرنا چاہی کہ ایک آدمی فرعون کی مجلس سے اٹھ کر موسیٰ کی تلاش میں آیا اور موسیٰ کو دیکھ کر اس کو مشورہ دیا کہ اے موسیٰ فرعون کی مجلس میں تیرے خلاف بیان بازی شروع ہوچکی ہے اور عین ممکن ہے کہ وہ لوگ تیرے قتل کردینے کی کوشش کریں کیونکہ تیری طرف سے کی جانے والی ساری باتیں فرعون تک پہنچ چکی ہیں لہذا میں تجھے مشورہ دیتا ہوں کہ تو جتنا جلدی ممکن ہو اس شہر کو چھوڑ دے ، یہ شخص کون تھا ؟ قرآن کریم نے اس کا ذکر نہیں کیا صرف اتنا اشارہ کیا ہے کہ آنے والا شہر کے دوسرے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا تھا بعض لوگوں نے اس کی نشاندہی کرتے ہوئے یوشع بن نون کا ناملیا ہے لیکن یوشع کا تعلق تو یقینا قوم بنی اسرائیل سے تھا اور آنے والا فرعون کے دربار کا آدمی معلوم ہوتا ہے تاہم وہ کوئی بھی تھا جو کچھ اس نے آکر کہا تھا وہ بالکل صحیح تھا اور جو رپورٹ اس نے دی تھی وہ صداقت پر مبنی تھا ۔
Ayah 28:21موسیٰ (علیہ السلام) نے خاموشی سے اس شہر کو چھوڑ دیا اور مدین کی راہ لی :
21۔ ہم نے پہلے بھی وضاحت سے تحریر کیا ہے اور اب بھی کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دوست کے مشورہ کے مطابق جب مصر کو چھوڑنے کا پختہ ارادہ کیا تو وہاں سے نکل کر اس طرف کو چلے جس طرف سے مصر کے اندر رہتے ہوئے کسی اللہ کے بندے کا ذکر سنا تھا کہ وہ بہت ہی نیک اور صالح انسان ہے جس کی تفصیل پیچھے سورة الکہف میں گزر چکی ہے اور یہ بھی کہ جب آپ مصر سے نکلے تو ایک آدمی آپ کے ساتھ نکلا آپ نے اپنے ساتھ اس کو لیا وہ یہی اطلاع دینے والا شخص تھا یوشع بن نون یا کوئی دوسرا شخص بہرحال اس سفر میں وہ اکیلے نہیں تھے اور یہ سفر مصر سے نکلنے کے بعد مدین پہنچنے سے پہلے آپ کو پیش آیا تھا یا یوں کہیں کہ آپ نے اختیار کیا تھا اور بلاشبہ اس وقت ابھی آپ نبوت پر فائز نہیں ہوئے تھے اور آپ کی عمر کا انتیسواں یا تیسواں سال گزر رہا تھا ۔
مختصر یہ کہ مصر سے نکل کر آپ کو وہ سفر درپیش ہوا جو مجمع البحرین کی طرف تھا اور وہاں تک موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ایک اور نوجوان بھی موجود تھا جب مجمع البحرین پر موسیٰ (علیہ السلام) کی ملاقات اس اللہ کے بندے سے ہوئی جس کا لوگوں نے خضر کے نام سے موسوم کیا تو وہاں سے آپ نے اپنے اس ساتھی کو رخصت کردیا اور اپنا سفر اس اللہ کے بندے کے ساتھ شروع کردیا یہ سفر جتنے روز اور جتنا عرصہ بھی جاری رہا جب آپ نے اس کی مصاحبت سے رخصت پائی تو اس وقت آپ نے مدین کا رخ کیا ۔ جب مصر سے مجمع البحرین کو نکلے تو اس وقت بلاشبہ ابھی آپ کو کھٹکا لگا ہوا تھا کہ فرعون چونکہ بپھر چکا ہے ممکن ہے کہ وہ میرا پیچھا کرے اس لئے بارگاہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام میں اس طرح دعا فرمائی کہ ” اے میرے رب ! مجھے اس ظلم وستم کرنے والی قوم سے نجات عطا فرما “ (آیت) ” رب نجنی من القوم الظلمین “۔
Ayah 28:22جب آپ ساتھی سے رخصت ہوئے تو سیدھا مدین کا رخ کیا :
22۔ مدین کے لوگ بھی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی نسل سے تعلق رکھتے تھے کیونکہ یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے جو بعد میں بنو قطورا کے نام سے معروف ہوئے وہ آباد ہوئے تھے اور انہیں کی نسل سے متعلق تھے ۔ مجمع البحرین والے ساتھی سے جب آپ رخصت ہوئے تو مدین کی طرف رخ کیا کیونکہ یہی ایک ایسا علاقہ تھا جو فرعون کی مملکت سے باہر تھا اور رہائش کے لئے مصر کے مقابہ کا بھی تھا یعنی خوب آباد تھا اور سب سے بڑھ کر یہ مملکت فرعون کے قریب بھی تھا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ خاندان کے اعتبار سے بھی آپ کے لئے بہت مفید تھا لیکن اس مسافر کی حالت بڑی عجیب ہے کہ زندگی بھر کبھی سفر کی صعوبت برداشت نہ کی تھی اور نازونعمت میں پرورش پائی تھی لیکن مشیت ایزدی نے کہاں سے کہاں تک پہنچا دیا حالانکہ نہ کوئی سواری پاس موجود ہے اور نہ سفر کا کوئی ساتھی ہے اور یہ کہ وہ مسافر ہے جس کی کوئی منزل متعین نہیں کہ کہاں جانا ہے اور کہاں رہنا ہے بس دل میں ایک سہارا ہے تو وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا ہے ۔ پاؤں چل رہے ہیں اور دل ہے کہ کسی سیدھی راہ کی رہنمائی طلب کر رہا ہے ‘ کس سے ؟ اس سے جو سارے گم گشتہ راہوں کا صراط مستقیم پر لگانے والا ہے بشرطیکہ وہ راہ مستقیم پر لگانے والا ہے بشرطیکہ وہ راہ مستقیم کی طلب رکھتے ہوں کیونکہ یہ بات اس کے قانون میں طے ہے کہ وہ راہ صرف اور صرف انہیں لوگوں کو دکھاتا ہے جو متلاشی ہوتے ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کی طلب قرآن کریم واضح کر رہا ہے کہ آپ مدین کی طرف رواں دواں ہیں اور دل میں کہہ رہے ہیں کہ (آیت) ’ ) ’ عسی ربی ان یھدینی سوآء السبیل “۔
Ayah 28:23مدین کے قریب پہنچ کر آپ کو جو سب سے پہلا واقعہ پیش آیا وہ کیا تھا ؟ :
23۔ موسیٰ (علیہ السلام) سفر کی صعوبت سے تھک ہار کر جب مدین کے قریب ایک کنویں پر پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کا ایک بہت بڑا نبوہ ہے جو کئی ایک پارٹیوں کی شکل میں مختلف جگہوں پر دکھائی دے رہا ہے اور ہر ایک اپنے اپنے ریوڑ کو پلانی پلانے میں مصروف ہے لیکن دو نوجوان لڑکیاں الگ تھلک اپنے ریوڑ کر روک کر کھڑی ہیں اور اپنی بکریوں کو ادھر ادھر منتشر ہونے سے روک رہی ہیں ، موسیٰ نے کچھ دیر تک اس سارے منظر کو دیکھا اور آخر کار آپ سے رہا نہ کیا تو ان کے قریب جا کر پوچھا کہ تم اس طرح کیوں کھڑی ہو ۔ وہ دونوں بیک زبان بول گئیں کہ ہم اپنے ریوڑ کو پانی نہیں پلا سکتیں جب وہ چلے جائیں گے تو ہم اپنے ریوڑ کو پانی پلائیں گی رہی یہ بات کہ ہم دونوں بہنیں کیوں ریوڑ کر لائی ہیں ؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ والد بزرگوار بہت بوڑھے ہیں نہ بکریاں چرا سکتے ہیں اور نہ ہی ان کو پانی پلا سکتے ہیں اس طرح ان دونوں بہنوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ساری بات خودی ہی بیان کردی ، قرآن کریم نے مردوں اور عورتوں دونوں فریقوں کو نظریں نیچے رکھنے کا حکم دیا ہے لیکن ضرورت کی بت چیت سے منع نہیں کیا ، ضرورت کی بات انجام لوگوں سے بھی پوچھی جاسکتی ہے اور جس سے سوال کیا جائے وہ جائز جواب بھی دے سکتا ہے مرد ہو یا عورت اور اپنے گھر کے کام کاج بھی کئے جاسکتے ہیں ہر معاملہ میں ضرورت کا لحاظ رکھا گیا ہے تذودان کی اصل ذود ہے ذادہ یذودا ساقہ وطردہ ودفعہ وہ دونوں ہانکتی ہیں اور وہ دونوں روکتی ہیں وہ دونوں ہٹاتی ہیں ، یہ لفظ قرآن کریم میں صرف ایک بار استعمال ہوا اور اس مادہ کا لفظ بھی کسی دوسری جگہ استعمال نہیں ہوا ۔ ” ووجد من دونھم امراتن تذودان ای تمنعان و تدفعان اغنامھما عن التفرق او عن الزحام خوفا من السقاہ الاقویاء ومن اختلاط بغنم الاخرین ‘ یصدر کا مادہ ص در ہے اور صدر کے معنی سینہ کے ہیں اور ہرچیز کے اگلے حصہ کو کہتے ہیں ” یصدر “ کے معنی ہیں ” پانی پلا کر واپس چلے جانا “ الراعاچرواہے ‘ گڈرئیے ‘ ہاں من دونھم کے الفاظ بھی بلاشبہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ عورتوں اور مردوں کے جتنے کام بھی ہیں وہ مخلوط صحیح نہیں بلکہ ان کا الگ الگ ہونا ہی ضروری ہے ، ظالموں کے معاشرے میں انفرادی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر صورت ان آداب کا لحاظ رکھیں اور مسلم معاشرے کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ ان کی تعلیم وتربیت سے لے کر دکان ودفتر تک الگ الگ کام کرنے کا قانون وضع کرے اور اس کی نگرانی بھی کرے اور اس پر عمل درآمد بھی کرائے ۔