28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 28:1–4

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 28:2 in the Quran reader

یہ کتاب مبین کی آیات ہیں

نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَ فِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:3 in the Quran reader

ہم آپ کو موسیٰ اور فرعون کی بعض خبریں حق کے ساتھ سناتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں

اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَةً مِّنْهُمْ یُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ یَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 28:4 in the Quran reader

بلاشبہ فرعون زمین میں چڑھ گیا تھا اور اس نے زمین والوں کی کئی قسمیں بنا رکھی گھیں۔ ان میں ایک جماعت کو کمزور کر رکھا تھا، ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑدیتا تھا بلاشبہ وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا۔

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کی باتوں میں سے ایک بات یہ ہے کہ اس نے انی نیند میں ایک خواب دیکھا کہ ایک آگ بیت المقدس سے آئی یہاں تک کہ اس نے مصر کے تمام تھروں کو گھیرلیا قبطیوں کو جلادیا ہے۔ اور بنی اسرائیل کو چھوڑد یا ہے یہ خواب دیکھنے بعد اس نے جادوگروں کو کاہنوں کو فال پکڑنے والوں کو بلایا زجرہ سے مراد فال پکڑنے والے ہیں۔ پرندوں کو اڑاتے ہیں اس نے ان سے اپنے خواب کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرعون سے کہا ایک آدمی اس شہر سے جہاں بنواسرائیل آئے ہیں یعنی بیت المقدس سے نکلے گا اس کی وجہ سے مصر تباہ و برباد ہوجائے گا یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو بچہ پیدا ہو اس کو ذبح کردیا جائے اور جو بچی پیدا ہو اسے زندہ رہنے دیا جائے اس نے قبطیوں سے کہا اپنے غلاموں پر نظر رکھو جو باہر کرم کرتے ہوین ان کو اندر شہر میں داخل کرلو اور بنی اسرائیل کو ان کاموں میں لگاؤ جو غلاظت والے ہیں ان قبطیوں نے بنو اسرائیل کو اپنے غلاموں کے کام دے دئیے پھر اپنے غلاموں اور خادموں کے ہاں رہنے کو کہا۔ اور یہ اسی موقع پر فرمایا آیت ان فرعون علا فی الارض (یعنی فرعون زمین میں بہت بڑھ چڑھ گیا تھا اور وہ بہت منکر ہوگیا تھا زمین مین۔ آیت وجعل اہلہا شیعا۔ سے مراد بنواسرائیل ہیں۔ آیت یستضعف طائفۃ منہم جب ان کو گندگی والے کاموں میں لگادیا جا اور بنی اسرائیل کے بچے کو پیدا ہوتے ہی ذبھ کردیا جاتا تھا کہ کوئی چھوٹا بڑا نہ سہوکستا (یعنی بڑا ہونے سے پہلے ہی ذبح کردیا جاتا ) اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بوڑھوں میں موت ڈال دی موت ان میں جلدی آنے لگی قبط کے سردار فرعون کے پاس آئے اور اس سے بات کی کہ اس قوم میں موت عام ہوگئی ہے ممکن ہے کام کی ذمہ داری ہمارے گلاموں پر آپڑے کہ وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتے ہیں تو چھوٹے بڑے نہیں ہوتے کہ بڑوں کی مدد کریں کاش آپ ان کی اولادوں کو باقری رہنے دیتے تو فرعون نے حکم دیا کہ وہ ایک سال بچوں کو ذبح کریں اور ایک سال چھوڑدیں جب وہ سال جس میں وہ لوگ بچوں کو ذبح نہیں کرتے تھے تو ہارون (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور وہ چھوڑ دئیے گئے جب وہ سال جس میں وہ بچوں کو ذبح کرتے تھے تو موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ موسیٰ کے ساتھ حاملہ ہوئیں جب بچہ پیدا ہونے کا ارادہ کیا تو بچے کے بارے میں گھبرا گئیں کہیں ذبح نہ کردیا جب ان کو جنا تو اس کو دودھ پلایا پھر ایک لکڑی کا کام کرنے والے کو بلایا اس نے ان کے لیے ایک صندوق بنادیا اور صندوق کی کنڈی اندر رکھ دی اور موسیٰ کو اس میں رکھ دیا گیا اور پھر ان کو پتھروں کے درمیان میں ڈال دیا گیا فرعون کے گھر کے پاس آسیہ فرعون کی بیوی کی لونڈیاں نہانے گئی تھیں تو انہوں نے صندوق کو پایا اور آپ کے پاس لے آئیں یہ گمان کرتے ہوئے کہ اس میں مال ہے جب لڑکے حرکت کی تو آسیہ نے بچے کو دیکھا جب آسیہ کی نظر اس پر پڑی تو اسکے لیے رحم کے جذبات پیدا ہوئے وہ اس بچے سے محبت کرنے لگی۔ جب فرعون کو خبر پہنچی تو فرعون نے ان کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا آسیہ اس سے برابر بات کرتی رہی یاں تک کہ اس نے ان کو چھوڑدیا اور اس نے کہا میں ڈرتا کہ یہ بچہ بنی اسرائیل کا ہوگا اور یہ وہی ہو جس کے ہاتھ پر ہماری ہلاکت ہوگی اس اثناء میں ایک روز حضرت آسیہ اس سے کھیل رہی تھی کہ وہ بچہ فرعون کو دے دیا اور کہا اس کی پکڑ کو لو۔ آیت قرۃ عین لی ولک (القصص، 9) یعنی یہ تیری اور میری آنکھوں کی ٹھنڈ ہوگی۔ فرعون نے کہا یہ تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ عبداللہ بن عباس نے فرمایا اگر وہ یہ کہتا کہ وہ میری بھی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے تو وہ آپ پر ضروا یمان لے آتا لیکن اس نے انکار کیا جب فرعون نے ان کو یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھایا تو موسیٰ نے اس کی داڑھی کو پکڑ لیا فرعون نے کہا ذبح کرنے والوں کو لے آؤ یہ وہی لڑکا ہے۔ آسیہ نے کہا اس کو قتل نہ کر آیت عسی ان ینفعنا او نتخذہ ولدا۔ یعنی قریب ہے کہ وہ ہم کو نفع دے گا یا ہم اس کو بیٹا بنالیں گے یہ تو ناسمجھ بچہ ہے اور اس نے یہ کام اپنے بچپنے کی وجہ سے کیا میں اس کے لیے یاقوت کے زیورا اور ایک انگارہ رکھتی ہوں اگر اس نے یاقوت اٹھایاتو عقل من ہے تو اسے ذبح کردینا اور اگر اس نے انگارے کو اٹھایاتو وہ ناسمجھ بچہ ہے اس نے ایک یاقوت نکالے اور اس کے لیے انگاروں کا ایک تھال رکھا۔ جبرئیل تشریف لائے اور ان کے ہاتھ میں انگارہ رکھ دیا پھر موسیٰ نے اس انگارے کو منہ میں رکھ لیا تو ان کی زبان جل اب انہوں نے ان کے لیے دودھ پلانے والی عورت کا ارادہ کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کسی عورت کا دودھ نہیں پیا اور عورتوں نے دودھ پلانے کا مطالبہ کیا تاکہ دودھ پلانے کے عرصہ میں فرعون کے پاس رہیں مگر بچے نے دودھ پینے سے انکار کردیا۔ موسی کی بہن آئیں اور کہنے لگی آیت ” ہل ادلکم علی اہل بیت یکفلونہ لکم وہم لہ نصحون “ یعنی کیا میں تم کو ایسے گھر والوں کا پتہ نہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس کی کفایت کریں گے اور وہ اس کی خیر خواہی کرنے والے ہیں انہوں نے اس بچے کو لے لیا لوگوں نے اسے پکڑ لیا اور کہا تو اس بچے کے گھروالوں کو جانتی ہے ہم کو بھی اس کے گھروالوں کے بارے میں بتادے اس نے کہا میں نہیں جانتی مگر یہ کہ وہ لوگ بادشاہ کے لیے خیر خواہی کرنے والے ہیں جب اس کی ماں اس بچے کے پاس آئی تو اس بچے نے اس کا دودھ پی لیا اور قریب تھا کہ وہ کہہ دیتی کہ یہ میرا بیٹا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسے یہ بات کہنے سے محفوظ رکھا اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ان کا دت لتبدی بہ لولا ان ربطنا علی قلبہا لتکون من المومنین، یعنی قریب تھا کہ وہ ظاہر کردیتی ہے ہم اس کے دل کو نہ باندھتے تاکہ وہ ہوجائے ایمان لانے والوں میں فرمایا حالانکہ وہ عورت ایمان والوں میں سے تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت انا رادوہ الک وجاعلوہ من المرسلین۔ یعنی ہم نے س کو تیری طرف واپس لوٹادیا اور اس کو ہم نے رسولوں میں سے بنادیا۔ سدی (رح) نے فرمایا کہ موسیٰ اس لیے نام رکھا گیا کیونکہ لوگوں نے آپ کو پانی اور درختوں کے درمیان پایا تھا اور قبطی زبان میں ماء کو مو کہتے ہیں اور شجر کو سی کہتے ہیں۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت نتلو علیک من نبا موسیٰ و فرعون یعنی اس قرآن میں ہم کو ان کی خبریں بیان کیں، آیت ان فرعون علا فی الارض بیشک فرعون نے زمین میں بغاوت کی آیت وجعل اہلہا شیعا یعنی ان کے درمیان تفریق ڈال دی۔ 4۔ عبدالراق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعل اہلہا شیعا یعنی ایک جماعت کو غلام بناتا ہے ایک جماعت کو قتل کرتا ہے اور ایک جماعت کو زندہ رہنے دیتا ہے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ وہ سرکنڈے لانے کا حکم دیتا پھر ان کو چیرا جاتا ہے یہاں تک کہ ان کو چھریوں کی طرح بنادیا جاتا پھر ان کو ایک دوسرے کے برابر رکھ دیا جاتا پھر وہ بنی اسرائیل کی حاملہ عورتوں کے پاس لایا جاتا انہیں اس پر کھڑا کردیا جاتا وہ ان کے قدموں کو کاٹتا یہاں تک کہ ایک عورت حمل کو گرادیتی اور وہ ان کی ٹانگوں کے درمیان پڑا رہتا۔ وہ اسے رونڈی اور سرکنڈے کی تیز دھار سے بچتی جب وہ ان کو تکلیف دینے میں انتہا کو پہنچ گیا یہاں تک کہ اس نے اس سلسلہ میں اسراف سے کام لیا وہ ان کو تباہ کیے جارہا تھا اور اس سے کہا گیا کہ تو نے لوگوں کو فنا کردیا اور نسل کو کاٹ دیا ہے وہ تیرے خالو اور تیرے چچے ہیں اب حکم دے کہ وہ ایک سال بچوں کو قتل کریں اور ایک سال ان کو چھوڑدیں ہارون (علیہ السلام) اس سال میں پیدا ہوئے کہ جس میں لڑکوں کو چھوڑ دیا جاتا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) اس سال میں پیدا ہوئے جس میں لڑکوں کو قتل کیا جاتا تھا اور ہارون (علیہ السلام) ان سے ایک سال بڑے تھے جب اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو ارادہ کیا اور بنی اسرائیل کو اس مصیبت سے چھٹکارے کا ارادہ کیا جس میں وہ مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کی طرف جب ان کی پیدائش قریب ہوئی آیت ” ان ارضعیہ “ کہ اس کو دودھ پلاتی رہے۔
Ayahs 28:5–6

وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَۙ Open ayah 28:5 in the Quran reader

اور ہم نے چاہا کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور کیا ہوا ہے ان پر احسان کریں اور ان کو پیشوا بنادیں اور انہیں وارث بنادیں

وَ نُمَكِّنَ لَهُمْ فِی الْاَرْضِ وَ نُرِیَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَحْذَرُوْنَ Open ayah 28:6 in the Quran reader

اور زمین میں انہیں حکومت دے دیں۔ اور فرعون اور ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو ان مستضعفین کی جانب سے وہ واقعہ دکھلائیں جس سے وہ اپنا بچاؤ کرتے تھے

1۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض سے یوسف اور آپ کی اولاد مراد ہے۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض سے بنواسرائیل مراد ہیں آیت وجنعلہم ائمۃ سے مراد معاملات کے نگران ہیں آیت ونجعلہم الوارثین یعنی فرعون اور اس کی قوم کے بعد وہ زمین کے وارث ہیں آیت ونری فرعون وہامان وجنودہما منہم ماکانوا یحذرون یعنی وہ قوم جن سے ڈرتی تھی۔ 3۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ونجعلہم الوارثین یعنی آل فرعون کے بعد وہ زمین کے ورث ہوں گے آیت ونری فرعون یعنی ایک قیافہ شناس نے فرعون کے لیے یہ قیافہ لگایا تھا کہ س سال میں ایک بچہ پیدا ہوگا جو تمہارا ملک برباد کردے گا۔ اور فرعون آیت یذبح ابناء ہم ویستحیی نساء ہم ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان کی عورتوں کو چھوڑدیتا تھا اس قیافہ شناس کے قول کی وجہ سے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ونری فرعون وہامان وجنودہما منہم ما کانوا یحذرون، اور فرعون اور ہامان اور اس کے تابعین کو وہ بات دکھا دیں جس کا بنی اسرائیل کی طرف سے ان کو اندیشہ تھا۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا بلاشبہ میں نے عمال مقرر کیے ہیں اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے آیت ونرید انمن علی الذین استضعفوا فی الارض، اور ہم چاہتے ہیں کہ ہم احسان کریں ان لوگوں پر جو ضعیف سمجھے جاتے ہیں زمین میں۔
Ayahs 28:7–8

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِیْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَیْهِ فَاَلْقِیْهِ فِی الْیَمِّ وَ لَا تَخَافِیْ وَ لَا تَحْزَنِیْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَیْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:7 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کی والدہ کے دل میں ڈالا کہ تم ان کو دودھ پلاؤ پھر جب تمہیں ان کی جان کا خطرہ ہو تو انہیں سمندر میں ڈال دینا اور نہ ڈرنا نہ غم کرنا، بلاشبہ ہم اسے تیری طرف واپس کردیں گے اور اسے پیغمبروں میں سے بنادیں گے

فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِئِیْنَ Open ayah 28:8 in the Quran reader

سو اسے آل فرعون نے اٹھالیا تاکہ ان کے لیے دشمن بن جائے اور غم کا باعث بنے۔ بلاشبہ فرعون اور ہامان اور اس کا لشکر خطا کرنے والوں میں سے تھے

اللہ تعالیٰ پر اعتماد و توکل کی برکت 1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اوحینا الی ام موسیٰ یعنی ہم نے اس کو الہام کیا جو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کیا۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واوحینا الی ام موسیٰ کہ ہم نے اس کے دل میں ڈال دیا۔ 3۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واوحینا الی ام موسیٰ کہ اللہ کی طرف سے ان کی طرف وحی آنے کا مطلب یہ ہے کہ اور اس کے دل میں ڈالا اور یہ نبوت والی وحی نہیں تھی، آیت خفت علیہ فالقیہ فی الیم، آپ کی والدہ نے اس کو ایک صندوق میں رکھا اور اس کو دریا میں ڈال دیا۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو عبدالرحمن الحبلی (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی بھیجی جب آپ کی والدہ نے آپ کو جنا آیت ان ارضعیہ فاذا خفت علیہ فالقیہ فی الیم، یعنی جب ان کو موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں خوف ہوا تو ان کو ایک صندوق میں رکھ دیا اور چابی صندوق کے ساتھ رکھ دی اور صندوق کو سمندر میں ڈال دیا فرعون کی بیوی دریا کی طرف نکلی انہوں نے دریا میں ایک صندوق کو دیکھا صندوق ان کی طرف نکالا گیا فرعون کی بیٹی صندوق کی طرف جلدی گئی اور وہ برص والی تھی اس نے صندوق میں موسیٰ کو پایا جبکہ آپ بچے تھے۔ اس نے اس صندوق کو پکڑا تو اسے برص کے مرض سے نجات مل گئی۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس نے فرمایا کہ آیت فاذا خفت علیہ یعنی جب تجھے خوف ہو کہ تیرے پڑوسی اس کی آواز سنیں گے۔ والدہ ہی دودھ پلانے کے لیے مقرر 6۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت واوحینا الی امر موسیٰ ان ارجعیہ یعنی ان کی والدہ نے آپ کو ایک باغ میں رکھا اور وہ دن میں ایک مرتبہ آپ کے پاس آتی اور آپ کو دودھ پلاتی اور ہر رات ایک مرتبہ آتی اور آپ کو دودھ پلاتی یہ دودھ آپ کو کافی ہوتا آیت فاذا خفت علیہ یعنی جب وہ چار ماہ کے ہوگئے اور چیخے اور اس سے زیادہ دودھ کی خواہش کی اسی کو فرمایا آیت فاذا خفت علیہ فالقیہ فی الیم (یعنی جب تو خوف کرے تو اس کو دریا میں ڈال دے۔ 7۔ ابن جریر وابن ابی حاتم ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا تخافی یعنی اس پر سمندر کا خوف نہ کر آیت ” ولا تحزنی اور اس کی جدائی پر غم نہ کر۔ 8۔ عبد بن حید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فالتقطہ اٰل فرعون لیکون لہم عدو یعنی دین میں ان کا دشمن ہو آیت وحزنا اور ان کے لیے غم کا باعث ہو۔
Ayah 28:9

وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 28:9 in the Quran reader

اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ یہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے قتل نہ کرو، کچھ بعید نہیں کہ یہ ہمیں نفع پہنچادے یا ہم اس کو اپنا بیٹا بنالیں اور ان کو خبر نہ تھی

1۔ ابن جریر نے محمد بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کی بیوی نے کہا قرۃ عین لی ولک، لاتقتلو، یہ میری آنکھوں کی ٹھنڈ اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈ ہے۔ اس کو قتل نہ کرو، فرعون نے کہا یہ تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میری آنکھوں کی نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر فرعون کہہ دیتا کہ وہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور تیری آنکھوں کی بھی تو یہ دونوں کے لیے ایسا ہی ہوتا۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقالت امرأ ۃ فرعون قرۃ تین لی ولک اس سے مراد موسیٰ ہیں آیت عسی ان ینفعنا و نتخذہ ولدا یعنی میں نے اس موسیٰ پر اپنی رحمت ڈال دی جب اس نے اس کو دیکھا آیت وہم لا یشعرون کہ ان کی ہلات اس کے ہاتھ اور زمانے میں ہوگی۔ 3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وہم لایشعرون یعنی فرعون والے اس حالت کا شعور نہیں رکھتے تھے کہ یہ ان کا دشمن ہے 4۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وہم لایشعرون “ یعنی انہیں اس بات کا شعور نہیں کہ ان کو انجام کار کی تہمت پہنچیگی۔ 5۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ نہیں سمجھتے تھے کہ ان کی ہلاکت ان کے ہاتھ سے ہوگی واللہ اعلم۔
Ayah 28:10

وَ اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰى فٰرِغًا١ؕ اِنْ كَادَتْ لَتُبْدِیْ بِهٖ لَوْ لَاۤ اَنْ رَّبَطْنَا عَلٰى قَلْبِهَا لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:10 in the Quran reader

اور موسیٰ کی ماں کا دل بےقرار ہوگیا قریب تھا کہ وہ اس کا حال ظاہر کردیتی اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کردیتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں رہے

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت واصبح فؤاد ام موسیٰ فارغا یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ دنیا کی تمام چیزوں سے بےنیاز ہوگئیں مگر موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر سے بےنیاز نہ ہوئی۔ یعنی اگر ذکر کرتیں تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کرتی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصھحہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واصبح فؤاد ام موسیٰ فرغا، سے مراد ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے سوا ہر ذکر سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل فارغ ہوگیا آیت ان کا دت لتبدی بہ، یعنی قریب تھا کہ وہ کہہ اٹھتی اے میرے بیٹے۔ 3۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واصبح فؤاد ام موسیٰ فرغا یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے علاوہ ان کا دل ہر چیز سے خالی ہوگیا۔ 4۔ الفریابی نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت واصبح فؤاد ام موسیٰ فرغا سے مراد ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے غم کے علاوہ ان کی والدہ کا دل دنیا وآخرت کی ہر چیز سے فارغ ہوگیا۔ 5۔ عبد بن حمید نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت واصبح فؤاد ام موسیٰ فرغا سے مراد ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا دل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سوا ہر چیز سے خالی ہوگیا۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے ابوعبیدہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت ’ ان کا دت لتبدی بہ یعنی قریب تھا کہہ دیتی کہ اس کا بیٹا ہے اس شدت غم سے جو اس نے پایا آیت لولا ان ربطنا علی قلبہا یعنی اگر اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ایمان کے ساتھ مضبوط نہ کرتا۔
Ayah 28:11

وَ قَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ١٘ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 28:11 in the Quran reader

اور موسیٰ کی والدہ نے اس کی بہن سے کہا کہ تو اس کے پیچھے چلی جا سو اس نے اسے دور سے دیکھ لیا اور انہیں خبر بھی نہ ہوئی

1۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وقالت لاختہ قصیہ یعنی اس کے پیچھے چلی جا آیت فبصرت بہ عن جنب یعنی ایک جانب سے دیکھرہ۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقالت لاختہ قصیہ آپکی والدہ نے آپ کی بہن سے کہا اس کے نشانات پر چلی جا، آیت فبصرت بہ عن جنب یعنی وہ ان سے اپنے آپ کو دور رکھنے والی تھیں آیت وہم لایشعرون یعنی نہیں جانتے تھے کہ اس بچے کی بہن ہے۔ پھر فرمایا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں دیکھ رہی تھی گویا کہ وہ اس کا ارادہ نہیں رکھتی۔ 4۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کا نام یواخید تھا اور اس کی ماں کا یحنذ تھا۔ 5۔ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خدیجہ ؓ سے فرمایا کیا تو جانتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نکاح کردیا ہے تیرے ساتھ جنت میں اور مریم بنت عمران کا اور کلثم بیٹی موسیٰ کا اور آسیہ فرعون کی بیوی کا یعنی ان کو میری بیویاں بنایا ہے۔ خدیجہ ؓ نے پوچھا یارسول اللہ کیا اللہ تعالیٰ نے ایسا کردیا ہے فرمایا ہاں حضرت خدیجہ ؓ نے خوشحالی اور بیٹوں کی دعا کی۔
Ayahs 28:12–13

وَ حَرَّمْنَا عَلَیْهِ الْمَرَاضِعَ مِنْ قَبْلُ فَقَالَتْ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰۤى اَهْلِ بَیْتٍ یَّكْفُلُوْنَهٗ لَكُمْ وَ هُمْ لَهٗ نٰصِحُوْنَ Open ayah 28:12 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے ہی سے موسیٰ پر دودھ پلانے والیوں پر بندش کر رکھی تھی سو موسیٰ کی بہن بولی کیا میں تمہیں ایسے گھرانے کا پتہ بتادوں جو تمہارے لیے اس کی پرورش کریں اور وہ اس کے خیر خواہ بھی ہوں

فَرَدَدْنٰهُ اِلٰۤى اُمِّهٖ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ وَ لِتَعْلَمَ اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 28:13 in the Quran reader

سو ہم نے موسیٰ کو اس کی والدہ کی طرف لوٹادیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور غمگین نہ ہو اور تاکہ وہ اس بات کو جان لے کہ بلاشبہ اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن ان میں سے بہت سے لوگ نہیں جانتے

1۔ الفریابی وابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن عباس ؓ نے فرمایا آیت وحرمنا علیہ المراضع من قبل یعنی کوئی دودھ پلانے والی نہ لائی جاتی جسے آپ قبول کرتے۔ 2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر مجاہد رحمۃ اللہ علہ سے روایت کیا کہ آیت وحرمنا علیہ المراضع من قبل یعنی کسی عورت کی چھاتی کو آپ نے قبول نہیں کیا یہاں تک کہ وہ اپنی ماں کی طرف لوٹ آئے۔ 3۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ جب اس کی بہن نے کہا آیت ہل ادلکم علی اہل بیت یکفلونہ لکم وہم لہ نصحون کیا میں تم کو ایسے گھرانے کا بتاؤں جو تماہرے لیے اس بچے کی پرورش کریں اور اس کی خیر خواہی کرتے رہیں تو لوگوں نے کہا کہ تو اس بچے کو جانتی ہے تو اس نے کہا میں نے اس سے بادشاہ کی خیر خواہی کا ارادہ کیا کہ وہ لوگ بادشاہ کے خیر خواہ ہیں۔ 4۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وحرمنا علیہ المراضع یعنی جو عورت بھی آپ کے پاس لائی جاتی مگر آپ اس کا پستان نہ پکڑتے یعنی اس کا دودھ نہ پیا۔ آیت ولتعلم ان وعدللہ حق یعنی اس کا وعدہ کہ وہ اس کی طرف لوٹادے گا اور اس کو رسولوں میں سے بنادے گا اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ ایسا ہی کیا اپنا وعدہ پورا فرمایا۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے ابو عمران جونی ؓ سے روایت کیا کہ فرعون ہر دن موسیٰ کی والدہ کو مسوی کے دودھ پلانے پر ایک دینار دیتا تھا۔ 6۔ ابو داوٗ دنے مراسیل میں جبیر بن نفیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان لوگوں کی مثال جو میری امت میں سے جہاد کرتے ہیں اور انعام لیتے ہیں یعنی اپنے دشمن پر قوت والے ہوتے ہیں جیسے موسیٰ کی والدہ کی مثال کہ وہ اپنے بچے کو دودھ پلاتی تھی اور اس پر اجر بھی لیتی تھی۔
Ayah 28:14

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗ وَ اسْتَوٰۤى اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 28:14 in the Quran reader

اور جب موسیٰ اپنی بھری جوانی کو پہنچے اور پوری طرح درست ہوگئے تو ہم نے ان کو حکمت اور علم عطا فرمایا اور اچھا کام کرنے والوں کو ہم اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابوا لشیخ والمحاملی فی امالیہ مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولما بلغ اشدہ میں اشدہ سے مراد 33 سال کی عمر اور واستوی سے مراد چالیس سال کی عمر ہے۔ 2۔ ابن ابی الدنیا میں فی کتاب المعمرین کلبی عن ابی صالح کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولما بلغ اشدہ واستوی میں اشدہ سے مراد اٹھارہ سال کی عمر سے تیس سال کی عمر ہے آیت واستوی سے مراد تیس سال کی عمر سے چالیس سال کی عمر ہے جب وہ چالیس سال کی عمر سے بڑھ جاتا ہے تو وہ نقصان میں پڑجاتا ہے۔ 3۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولما بلغ اشدہ سے مراد تینتیس سال آیت واستوی چالیس سال ہے اتینہ حکم وعلما کہ ہم نے اس کو حکم اور علم عطا فرمایا اور حکما سے مراد ہے فقہ اوعر عقل اور علما سے مراد ہے علم نبوت۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابوقبیصہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آیت واستوی سے مراد ہے اس کی داڑھی کا نکلنا 5۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولما بلغ اشدہ سے مراد ہے تینتیس سال اور واستوی سے مراد ہے چالیس سال۔
Ayah 28:15

وَ دَخَلَ الْمَدِیْنَةَ عَلٰى حِیْنِ غَفْلَةٍ مِّنْ اَهْلِهَا فَوَجَدَ فِیْهَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلٰنِ١٘ۗ هٰذَا مِنْ شِیْعَتِهٖ وَ هٰذَا مِنْ عَدُوِّهٖ١ۚ فَاسْتَغَاثَهُ الَّذِیْ مِنْ شِیْعَتِهٖ عَلَى الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّهٖ١ۙ فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَیْهِ١٘ۗ قَالَ هٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:15 in the Quran reader

اور وہ ایسے وقت میں شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے لوگ غافل تھے سو اس میں دو مردوں کو پایا جو آپ میں لڑ رہے تھے ایک ان کی جماعت میں تھ اور ایک دشمن کی جماعت میں سے تھا سو جو شخص ان کی جماعت میں سے تھا اس نے ان سے اس شخص کے مقابلہ میں مدد طلب کی جو ان کے دشمنوں میں سے تھا۔ سوموسی نے اس کا کام تمام کردیا۔ موسیٰ نے کہا یہ شیطانی حرکت ہے بلاشبہ وہ دشمن ہے گمراہ کرنے والا ہے واضح طور پر

موسیٰ (علیہ السلام) کا شہر میں داخل ہونا 1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ فرعون اپنی سواری پر سوار ہوا اور اس کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) نہیں تھے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) آئے تو ان سے کہا گیا کہ فرعون سوار ہو کر چلا گیا تو موسیٰ بھی سوار ہو کر اس کے پیچھے چل دئیے انہوں نے ایک زمین میں قیلولہ کرنے کی جگہ کو پایا جس کو منف کہا جاتا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نصف النہار کے وقت وہاں داخل ہوئے جبکہ بازار بند ہوچکے تھے اور اس کے راستوں میں کوئی بھی نہ سنسان پڑے ہوئے تھے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، آیت ودخل المدینۃ علی حین غفلۃ من اہلہا، یعنی وہ شہر میں داخل ہوئے جب اس نے رہنے والے غفلت میں پڑے سو رہے تھے 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ودخل المدینۃ علی حین غلۃ سے مراد ہے کہ آپ نصف النہار کو داخل ہوئے۔ 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر حمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت ودخل المدینۃ علی حین غفلۃ سے مراد ہے کہ آپ نصف النہار کے وقت شہر میں داخل ہوئے جبکہ لوگ دوپہر کو سو رہے تھے۔ 4۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ اس میں داخل ہوئے دوپہر کو قیلولہ کے وقت اور لوگ سو رہے تھے اور یہ وقت لوگوں کی غفلت کا ہوتا ہے۔ 5۔ ابن ابی حاتم وابن جریر کے طریق سے عطاء الخراسانی سے روایت کیا کہ اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے وایت کیا کہ آیت حین غفلۃ سے مراد ہے مغرب اور عشاء کے درمیان کے وقت۔ 6۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت علی حین غفلۃ سے مراد مغرب اور عشاء کا درمیانی وقت ہے اور دوسرے لوگوں نے کہا کہ دوپہر کا وقت مراد ہے ابن عباس نے فرمایا ان دونوں میں ایک مراد ہے۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ فوجد فیہا رجلین یقتتلن ہذا من شیعتہ اس سے اسرائیل ی مراد ہے آیت وہذا من عدوہ سے قبطی مراد ہے آیت فاستغاثہ الذی من شیعتہ یعنی اسرائیل نے مدد مانگی آیت علی الذی من عدوہ یعنی قبطی کے خلاف آیت فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ یعنی اس کو مکا مارا تو وہ مرگیا فرمایا یہ واقعہ موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے بڑا بھاری گذرا۔ 8۔ الریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فوکزہ موسیٰ یعنی اس کو ڈنڈا مارا اور اس کے قتل کا ارادہ نہیں تھا۔ 10۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جس کو موسیٰ نے مکا مارا وہ فرعون کا روٹی پکانے والا تھا۔ 11۔ احمد نے الزہد میں وہب (رح) سے روایت کیا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا اے عمران کے بیٹے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) میری عزت کی قسم اگر اس آدمی نے جس کو تو نے مکا مارا اور اس کو قتل کردیا رات یا دن میں کسی وقت میرے لیے اس بات کا اعتراف کیا ہوتا کہ میں اس کا خالق یارازق ہوں تو میں ضرور تجھ کو اس جرم میں عذاب کا مزہ چکھاتا لیکن میں نے تجھ کو اس معاملے میں معاف کردیا کیونکہ اس نے راد یا دن کسی وقت میں ذرا بھی اس نے اعتراف نہیں کیا کہ میں اس کا خالق یا رازق ہوں۔
Ayah 28:16

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَهٗ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 28:16 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا کہ اے میرے رب بلاشبہ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، سو آپ میری مغفرت فرمادیجیے سو اللہ نے ان کو بخش دیا بلاشبہ وہ بخشنے والا ہے مہربان ہے

1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) انی ظلمت نفسی کے بارے روایت کیا کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ کسی نبی کو یہ لائق نہیں کہ وہ کسی جان کو قتل کرے حکم ہونے سے پہلے اور انہوں نے اس قبطی کو قتل کیا حالانکہ ابھی حکم نہیں دیا گیا تھا۔ 2۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قال رب انی ظلمت نفسی کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کے نبی (علیہ السلام) نے پہچان لیا کہ اس سے بچ نکلنے کا راستہ کیا ہے اور انہوں نے نکلنے کے راستے کا ارادہ کیا مگر اپنے گناہ کو اپنے رب کے پاس نہ پایا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ مقدور کی وجہ سے گناہ کو نہ پایا گیا۔
Ayah 28:17

قَالَ رَبِّ بِمَاۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَكُوْنَ ظَهِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 28:17 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کیا کہ اے میرے رب اس سبب سے کہ آپ نے مجھ پر انعام فرمایا سو میں ہرگز بھی مجرمین کی مدد کرنے والا نہیں بنوں گا۔

1۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت اکون ظہیر اللمجرمین یعنی میں کبھی بھی مجرم لوگوں کی مدد کرنے والا نہیں بنوں گا۔ 2۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت قال رب انی ظلمت نفسی سے مراد ہے کہ میں ہرگز کبھی بھی مجرموں کی مدد کرنے والا نہیں بنوں گا۔ اگر میں نے اس کے فجور پر کسی ظالم کی مدد کی تو میں مجرم لوگوں کی مدد کرنے والا بن جاؤں گا۔ ظالم کی مدد کرنا جائز نہیں 3۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عبداللہ بن الولید الرصافی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے عطاء بن ابی رباح سے اپنے بھائی کے بارے میں سوال کیا جو کاتب تھا کہ وہ مملکت کے کاموں میں کوئی ذمہ داری نہیں لیتا مگر جو چیز خزانہ میں داخل ہوتی ہے اور چیز خارج ہوتی ہے اسے لکھتا ہے اگر اپنے قلم کو چھوڑتا ہے یعنی اپنے معاوضے کو چھوڑتا ہے۔ تو اس پر قرضہ ہوجاتا ہے اور اس کے خلاف بہتان قائم ہوجاتا ہے اگر اپنے کام کا معاوضہ لیتا ہے تو وہ مالدار ہوجاتا ہے عطیہ نے پوچھا کس کے لیے وہ کتابت کا کام کرتا ہے کہا کہ خالد بن عبداللہ قشیری کے لیے فرمایا کیا تو نے نہیں سنا وہ جو ایک نیک بندے نے کہا آیت قال رب بما انعمت علی فلن اکون ظہیرا للمجرمین یعنی اس پر کوئی الزام نہیں ہوگا اسے یہی قلم کی مزدوری چھوڑدینی چالیے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے رزق عطا فرمائے گا۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو حنظلہ جابر بن حنظلہ الکاتب الضبی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے عامر سے کہا اے ابو عمر میں ایک کاتب ہوں میں لکھتا ہوں جو چیز خزانہ میں داخل ہوتی ہے اور جو چیز نکلتی ہے اس کے درہم لیتا ہوں جس کے ذریعہ میں اور میرے گھر والے غنی محسوس ہوتے ہیں پوچھا شاید تو خون بہا کو لکھتا ہے۔ کہا نہیں پھر پوچھا شاید کہ تو لکھتا ہے اس مال کے بارے میں جو لیا جاتا ہے کہا نہیں پھر پوچھا کیا تو لکھتا ہے اس گھر کے بارے میں جو گرایا جاتا کہا نہیں ؟ فرمایا کیا تو نے سنا جو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا آیت رب بما انعمت علی فلن اکون ظہیر اللمجمرین، حضرت عامر نے کہا کہ میں نے ابن عمر کے پہلو میں عصر کی نماز پڑھی تو میں ان کو رکوع میں یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا آیت قال رب بما انعمت علی فلن اکون ظہیرا للمجرمین حضرت عامر نے کہا کہ میں نے ابن عمر کے پہلو میں عصر کی نماز پڑھی تو میں نے ان کو رکوع میں یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا آیت قال رب بما انعمت علی فلن اکون ظہیر للمجرمین۔ 5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے سلمہ بن نبی ط (رح) سے روایت کیا کہ عبد الرحمن بن مسلم نے ضحاک کی طرف آدمی بھیجا اور فرمایا کہ اہل بخارا کے عطیات لے جاؤ اور ان کو دے دو ۔ انہوں نے فرمایا مجھے معاف رکھو ضحاک لگاتار معافی کی درخواست کرتے رہے یہاں تک کہ ان کو معاف کردیا آپ کے بعض ساتھیوں نے کہا اگر آپ چلے جاتے تو کیا حرج تھا ان کو عطیات عطا کرتے جبکہ آپ کو گناہ بھی نہ ہوتا۔ انہوں نے فرمایا میں نہیں پسند کرتا کہ میں کسی چیز پر ظلم کا مددگار بنوں ان کے کاموں میں سے۔
Ayahs 28:18–19

فَاَصْبَحَ فِی الْمَدِیْنَةِ خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَهٗ بِالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُهٗ١ؕ قَالَ لَهٗ مُوْسٰۤى اِنَّكَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 28:18 in the Quran reader

پھر اگلے دن شہر میں موسیٰ کو صبح ہوئی خوف کی حالت میں اچانک وہی شخص جس نے کل گزشتہ میں ان سے مدد طلب کی تھی پھر ان سے مدد طلب کررہا ہے موسیٰ نے کہا کہ بلا شبہ تو صریح گمراہ ہے

فَلَمَّاۤ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بِالَّذِیْ هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا١ۙ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِالْاَمْسِ١ۖۗ اِنْ تُرِیْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ جَبَّارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَا تُرِیْدُ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 28:19 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو پکڑیں جو ان دونوں کا دشمن تھا تو وہ اسرائیلی شخص بول اٹھا کہ اے موسیٰ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ مجھے قتل کردو جیسا کہ کل تم نے ایک شخص کو قتل کردیا۔ بس تم یہی چاہتے ہو کہ زمین میں اپنا زور بٹھلاتے رہو اور اصلاح کرنے والوں میں سے نہیں ہونا چاہتے

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاصبح فی المدینۃ خائفا سے مراد ہے کہ انہوں نے پکڑے جانے کے خوف سے صبح کی۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت یترقب سے مراد ہے دائیں باءٰں دیکھتے ہوئے 3۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت یترقب یعنی گھبرائے ہوئے 4۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت فاذا الذی استنصرہ بالامس یستصرخہ کے بارے میں روایت کیا کہ وہی آدمی مدد کے لیے پکارنے لگا جس نے ان سے کل مدد مانگی تھی 5۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ اسی آدمی نے پکارا جس نے پہلے مدد کے لیے پکارا تھا۔ لڑاکو آدمی پسندیدہ نہیں 6۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاذا الذی استنصرہ بالامس یستصرخہ میں الاستصراخ سے مراد وہ مدد طلب کرنا اور فرمایا کہ استنصار اور استصراخ ایک ہی ہے۔ آیت قال لہ موسیٰ انک لغوی مبین موسیٰ (علیہ السلام) اس کی طرف بڑھے تو اس آدمی نے یہ گمان کیا کہ وہ اس کے قتل کا ارادہ کر رہے ہیں تو اس نے کہا آیت یموسی اترید ان تقتلنی کما قتلت نفسا بالامس یعنی اے موسیٰ کیا تو مجھے قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اسی کو فرمایا آیت یموسی اترید انتقتلنی کما قتلت نفسا بالامس کیا تو مجھے قتل کرنے کا ارادہ کر رہا ہے جیسے تو نے کل ایک آدمی کو قتل کیا تھا اس آدمی کا قتل اس کے علاوہ کسی پر ظاہر نہ ہوا۔ اس نے اس قول آیت یموسی اترید انتقتلنی کما قتلت نفسا بالامس کو سن لیا جو ان دونوں کا دشمن تھا اور اس کے بارے میں لوگوں کو بتادیا۔ 8۔ ابن جریر وابن المنذر نے شعبی (رح) سیر وایت کیا کہ جس نے دو آدمیوں کو قتل کیا وہ جابر ہے پھر یہ آیت تلاوت کی آیت اترید ان تقتلنی کما قتلت نفسا بالامس، ان ترید الا ان تکون جبارا فی الارض۔ 9۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ نے فرمایا کہ ایک آدمی جابر نہیں بن سکتا یہاں تک کہ دو آدمیوں کو قتل نہ کرے۔ 10۔ ابن ابی حاتم نے ابوعمران جونی (رح) سے روایت کیا کہ جبابرہ کی نشانہ ہے ناحق قتل کرنا واللہ اعلم۔
Ayahs 28:20–21

وَ جَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَةِ یَسْعٰى١٘ قَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِكَ لِیَقْتُلُوْكَ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَكَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 28:20 in the Quran reader

اور ایک شخص شہر کے دور والے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا کہنے لگا کہ اے موسیٰ بلاشبہ بات یہ ہے کہ اہل دربار آپ کے بارے میں مشورہ کر رہے کہ آپ کو قتل کردیں لہٰذا آپ نکل جائیے بلاشبہ میں آپ کی بھلائی چاہنے والوں میں سے ہوں

فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا یَّتَرَقَّبُ١٘ قَالَ رَبِّ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:21 in the Quran reader

سو وہاں سے ڈرتے ہوئے انتظار کرتے ہوئے نکل گئے کہنے لگے کہ اے میرے پروردگار مجھے ظالم قوم سے نجات دیجیے

1۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجاء رجل من اقصا المدینۃ یسع سے مراد ہے فرعون والوں میں سے ایک مومن آدمی۔ 2۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے شعیب الجبائی (رح) سے روایت کیا کہ وہ جس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا آیت ان الملأ یاتمرون بک، یعنی فرعون کے درباری آپ کو قتل کرنے کا مشورہ کر رہے ہیں اس کا نام شمعون تھا۔ قبطی نے راز فاش کردیا ؛ 4۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ قبطی گیا اور اس نے راز فاش کردیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے آدمی کو قتل کیا ہے تو فرعون نے ان کو طلب کیا اور کہا اس کو پکڑ لو کیونکہ اس نے ہماری قو کے ایک فرد کو قتل کیا ہے اور ان لوگوں نے کہا جو ان کو تلاش کر رہے تھے کہ ان کو راستوں کی گھاٹیوں میں تلاش کرو کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نوجوان ہیں وہ راستے کو نہیں جانتے۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) راستے کی گھاٹیوں میں تھے کہ ایک آدمی ا کے پاس آیا اور ان کو خبر دی کہ آیت ان الملأ یاتمرون بک لیقتلوک فاخرج یعنی فرعون کے درباری آپ کو قتل کرنے کا مشورہ کر رہے ہیں فورا نکل جائیے۔ آیت فخرج منہا خائفا یترقب قال رب نجنی من القوم الظلمین۔ تو موسیٰ نکل کھڑے ہوئے ڈرتے ہوئے اور ٹوہ لگاتے ہوئے اور فرمایا اے میرے رب مجھے ظالم قوم سے نجات دیجیے جب راستے کی گھاٹیوں میں پہنچے تو ایک فرشت گھوڑے پر آیا اس کے ہاتھ میں ایک کپڑا تھا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو دیکھا تو خوف زدہ ہو کر اس کو سجدہ کیا فرشتے نے کہا مجھ کو سجدہ نہ کیجیے لیکن میرے ساتھ چلیے تو آپ اس کے پیچھے چل دئیے اور اس نے ان کو مدین کا راستہ دکھایا۔ فرشتہ چلتا رہا یہاں تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا جب شیخ کے پاس پہنچے یعنی شعیب کے پاس اور اسکو سارا قصہ سنایا انہوں نے فرمایا قال رب نجنی من القوم الظالمین یعنی مت ڈروا آپ ظالم قوم سے نجات پاچکے ہیں پھر اپنی ایک بیٹی سے حکم فرمایا کہ وہ عصا لے آئے یہ عصا وہ تھا جس کو ایک فرشتہ نے آدمی کی صورت میں آکر ان کے پاس امانت رکھی تھی۔ لڑکی اندر گئی ور وہ عصا اٹھا کر ان کے پاس لے آئی۔ جب شیخ نے اس کو دیکھا اپنی بیٹی سے فرمایا اس کے علاوہ اور عصا لے آ۔ اس نے اسے پھینک دیا اور کسی اور کی تلاش کرنے لگی مگر اس کے ہاتھ پھر وہی عصا آجاتا وہ شیخ اسے بار بار لوٹاتے مگر اس بچی کے ہاتھ میں وہی عصا آجاتا جب شیخ نے اس ماجرا کو دیکھا تو موسیٰ (علیہ السلام) کو وصیت کی وہ عصا موسیٰ (علیہ السلام) کو دے دیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عصا کے ذریعہ بکریاں چراتے رہے پھر شیخ شرمندہ ہوئے اور فرمایا وہ عصا امانت تھا وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی ملاقات کے لیے نکلے جب موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو کہا مجھے عصا دیدو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ میرا عصا ہے اور ان کو دینے سے انکار کردیا دونوں میں جھگڑا ہوا پھر دونوں اس بات پر راضی ہوئے کہ اس آدمی کو فیصلہ کرنے والا بنادیں گے جو سب سے پہلے ان کو ملے گا۔ ان کے پاس ایک فرشتہ چلتا ہوا آیا اور ان کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کو زمین پر رکھ دو جو اس کو اٹھالے گا تو وہ اسی کا ہوگا شیخ نے اسے اٹھانے کی کوشش کی مگر اس کو نہ اٹھاسکے اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو اپنے ہاتھ سے پکڑا تو اس کو اٹھا لیا اور شیخ نے اس کو ان کے لیے چھوڑدیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے ساتھ دس سال بکریاں چرائی۔ 5۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجاء رجل من اقصا المدینۃ یسع سے فرعون والوں کا وہ مومن مراد ہے جو دوڑتا ہوا آیا آیت فخرج منہا خائفا یترقب یعنی موسیٰ نکل کھڑا ہوئے ڈرتے ڈرتے ٹوہ لگاتے ہوئے کہ ان کو تلاش کرنے والے پکڑ نہ لیں۔
Ayah 28:22

وَ لَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَآءَ مَدْیَنَ قَالَ عَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یَّهْدِیَنِیْ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 28:22 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے مدین کی طرف توجہ کی تو یوں کہا کہ امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ چلا دے گا

ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولما توجہ تلقاء مدین کے بارے میں روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے چار راستے آئے وہ نہیں جانتے تھے کہ کس راستے پر چلیں تو عرض کیا عسی ربی ان یہدینی سواء السبیل یعنی عنقریب میرا رب مجھ کو سیدھا راستہ دکھائے گا پھر مدین کا راستہ لیا۔ 2۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ سے آیت تلقاء مدین کے بارے میں روایت کیا کہ مدین ایک چشمہ ہے جس پر شعیب (علیہ السلام) رہتے تھے۔ 3۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قال عسی ربی ان یہدینی سواء السبیل یعنی عنقریب میرا رب مجھ کو سیدھا راستہ دکھائے گا سواء السبیل سے مراد ہے سیدھا راستہ اور وہ راستہ مدین کی طرف تھا۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت عسی ربی ان یہدینی سواء السبیل سے مراد ہے سیدھا راستہ پھر فرمایا اللہ کی قسم اس دن اس کے رہنے والے لوگوں میں بہترین لوگ آپس میں ملے تھے اور وہ شعیب اور موسیٰ ابن عمران (علیہما السلام) تھے۔ 5۔ احمد نے الزہد میں کعب بن علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب فرعون سے بھاگتے ہوئے نکلے تو فرمایا اے میرے رب مجھ کو وصیت فرمائیے فرمایا تجھ کو وصیت کرتا ہوں کہ تو میرے ساتھ کبھی بھی کسی کو ہم پلہ قرار نہ دینا۔ بلکہ مجھے اس پر ترجیح دینا ایسا نہ ہو تو میں اس پر رحم کرتا ہوں اور نہ اسے پاک کرتا ہوں۔ پھر عرض کیا اے میرے رب میں کس کے ساتھ اچھا سلوک کروں فرمایا اپنی ماں کے ساتھ کیونکہ اس نے تجھ کو اٹھایا کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے پھر عرض کیا پھر کس کے ساتھ حسن سلوک فرمایا میرے بندوں کے معاملات کا تجھے ذمہ دار بناؤں تو ان کی ضروریات کے معاملہ ان کو نہ تھکانا اگر تو ایسا کرے گا تو تھکائے گا میری روح کو اور بلاشبہ میں دیکھنے والا ہوں سننے والا اور مشاہدہ کرنے والا ہوں۔