Ayahs 28:1–6طسم اس کے متعلق گفتگو گزر چکی ہے۔ تلک ایت الکتب المبین تلک محل میں ہے یہ ھذہ تلک کے معنی میں ہے آیات اس سے بدل ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ تلو کی وجہ سے محل نصب میں ہو۔ ایٓات اس سے بدل ہو تو اس کو نصب دے گا جس طرح تو کہتا ہے : زید اضربت۔
المبین اس کی برکت اور خیر کو واضح کرنے والی ہے، حق کو باطل سے واضح کرنے والی ہے، حلال کو حرام سے واضح کرنے والی ہے۔ انبیاء کے قصے اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت کو واضح کرنے والی ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : بان الثی، وأبان شے واضح ہوگئی۔ نتلوا علیک من نبا موسیٰ و فرعون بالحق لقوم یومنون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور قارون کے قصہ کا ذکر کیا اور قریش کے مشرکین کے خلاف استدلال کیا اور اس کو واضح کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے قارون کی رشتہ داری نے قارون کو اس کے کفر کے ساتھ کوئی نفع نہ دیا۔ اسی طرح حضور ﷺ سے قریش کی قرابت انہیں کوئی نفع نہ دے گی۔ اس امر کو واضح کیا کہ فرعون نے زمین میں بالا دستی اور ظلم کو اپنا یا یہ اس کے کفر میں سے ایک صورت تھی اسے چاہئے کہ زمین میں بالا دستی سے اجتناب کرتا اسی طرح کثرت مال سے غلبہ حاصل کرنا یہ فرعون اور قارون کی سیرت ہے۔ نتلوا علیک جبریل امین ہمارے حکم سے تم پر پڑھتے ہیں من نبا موسیٰ و فرعون یعنی دونوں کی خبریں۔ من بعضیہ ہے من نبا، تتلو کا مفعول ہے یعنی ہم ان کی بعض خبریں تم پر تلاوت کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : تنبت بالدھن اور بالحق کا معنی ہے اس سچائی کے ساتھ جس میں شک اور جھوٹ نہیں۔ لقوم یومنون اس قوم کے لئے جو قرآن کی صدیق کرتی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے جہاں تک اس شخص کا تعق ہے جو ایمان نہ لایا تو یہ اعتقاد نہیں رکھتا کہ یہ حق ہے۔
ان فرعون علا فی الارض اس نے تکبر کیا اور جبر کو اپنایا، یہ حضرت ابن عباس ؓ اور سدی کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : اس نے اپنے کفر کی وجہ سے اپنے رب کی عبادت سے اپنے نفس میں بڑائی کو پایا اور ربوبیت کا دعویٰ کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے ملک اور بادشاہت کی وجہ سے اپنے ماتحت لوگوں سے بڑا اور بلند ہوگیا۔ فی الارض سے مراد مصر کا علاقہ ہے۔ وجعل اھلھا شیعاً خدمت میں مختلف جماعتیں اور صنفیں بنا دیا۔ اعشی نے کہا :
حتی تراہ علیھا یبتغی الشیعا
یہاں تک کہ تو اسے اس پر پائے گا کہ وہ جماعتوں کی خواہش کرتا ہے۔
یستضعف طآئفۃ منھم طًئفۃ منھم ضمیر سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ یذبح ابنآء ھم و یستحی نسآء ھم، انہ کان من المفدین اس بارے میں گفتگو سورة بقرہ میں یسومونکم سوآء العذاب یذبحون ابنآء کم (آیت 49) کے ضمن میں گزر چکی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کاہنوں نے کہا : ایک بچہ بنی اسرائیل میں پیدا ہوگا تیری بادشاہت اسی کے ہاتھ پر ختم ہوجائے گی یا نجومیوں نے اسے یہ کہا تھا یا اس نے خواب دیکھا تو اس کی یہ تعبیر لی۔
زجاج نے کہا : اس کی حماقت پر تعجب ہے کہ وہ یہ نہ جان سکا کہ اگر کاہن نے سچ بولا ہے تو قتل اسے کوئی نفع نہ دے گا اور اگر اس نے جھوٹ بولا تو قتل کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس نے ان کے کئی گروہ بنا دیئے جنہوں نے بنی اسرائیل کی ہر جماعت کا اس کے عمل پر مذاق اڑایا۔ انہ کان من المفسدین وہ زمین میں عمل، معاصی اور ظلم و جبر کے ساتھ فساد برپا کرنے والا تھا۔
ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض ہم ان پر فضل و احسان فرماتے ہیں اور ہم ان پر انعام کرتے ہیں یہ حکایت گزر چکی ہے ونجعلھم ابمۃ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : بھلائی میں قیادت کرنے والے۔ جاہد نے کہا بھلائی کی طرف دعوت دینے والے۔ قتادہ نے کہا : والی اور بادشاہ۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : وجعلکم ملوکاً (المائدہ : 20)
میں کہتا ہوں : یہ عام ہے کیونکہ بادشاہ امام ہوتا ہے اس کی اقتدا کی جاتی ہے۔ ونجعلھم الورثین فرعون کے ملک کے وارث بنانے والے ہیں وہ اس کے وارث بنیں گے اور قبطیوں کے مسکنوں میں رہائش رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان و تمت کلمت ربک الحسنی علی بنی اسرآئیل بما صبروا (الاعراب : 137) کا یہی معنی ہے۔
ونمکن لھم فی الارض ہم انہیں زمین اور اس کے اہل پر قدرت حاصل کرنے والے بنا دیں گے یہاں تک کہ شام اور مصر کے علاقہ پر والی بنا دیا جائے گا۔ ونری فرعون وھامن وجنودھما ہم ارادہ کرتے ہیں کہ ہم فرعون کو دکھائیں۔ اعمش، یحییٰ ، حمزہ کسائی، اور خلف نے یری یاء کے ساتھ قرأت کی ہے۔ کہ یہ فعل ثلاثی ہے جو رای سے مشتق ہے۔ فرعون وھامن وجنودھما مرفوع ہیں کیونکہ کے فاعل ہیں۔ باقی قراء نے نری نون کے ضمہ اور راء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ فعل رباعی ہے اری یری سے مشتق ہے یہ سباق کلام کے مطابق ہے کیونکہ اس سے ماقبل یرید اور اس کے بعد نمکن ہے۔ فرعون وھامن وجنودھما مفعو بہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہیں۔ فراء نے ویری فرعون یاء کے ضمہ راء کے کسرہ اور آخری یاء کے فتحہ کے ساتھ قرأت کو جائز قرار دیا ہے معنی ہے اللہ تعالیٰ فرعون کو دکھائے۔ منھم ماکانوا یحذرون اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں خبر دی گئی کہ ان کی ہلاکت بنی اسرائیل کے ایک آدمی کے ہاتھ پر ہوگی وہ اس وجہ سے بنی اسرئایل سے خوفزدہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ کچھ دکھا دیا جس سے وہ ڈرتے تھے۔ قتادہ نے کہا : فرعون کا ایک نجومی تھا اس نے کہا، اس سال ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیرا ملک چھین لے گا۔ فرعون نے اس سال بچوں کے قتل کا حکم دے دیا۔
Ayahs 28:7–9واوحینآ الی ام موسیٰ ان ارضعیہ وحی کی اعمنی اور اس کے مصداق کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کی طرف جو وحی کی گئی ہے اس میں اختلاف ہے۔ ایک جماعت کا کہنا ہے : یہ قول اس کی نیند میں کیا۔ قتادہ نے کہا : وہ الہام تھا۔ ایک جماعت نے کہا : وہ فرشتہ تھا جو مثالی شکل میں اس کے پاس آیا تھا۔ مقتال نے کہ، حضرت جبریل امین یہ پیغام لائے تھے۔ اس تعبیر کی بناء پر وہ وحی اعلام تھی الہام نہیں تھا۔ تمام علماء کا اسپر اتفاق ہے وہ نبی نہ تھیں۔ اس کی طرف فرشتے کے بھیجنے کی صورت وہی تھی جس طرح فرشتے نے اقرع، ابرص اور اور اعمی سے گفتگو کی تھی جس کا ذکر حدیث مشہور میں ہے امام بخاری اور امام مسلم نے اسے نقل کیا ہے سورة براۃ میں ہم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی مروی ہے کہ فرشتوں نے لوگوں سے ان کی نبوت کے بغیر کلام کیا۔ عمران بن حصین کو سلام کیا وہ نبی نہیں تھا اس کا نام ایاز خا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت موسیٰ کی ماں کا نام ایارخت تھا : سہیلی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ثعلبی نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا نام لوحابنت ہاند بن لاوی بن یعقوب تھا۔
ان ارضعیہ عمر بن عبدالعزیز نے ان ارضعیہ نون کے کسرہ اور الف وصل کی صورت میں پڑھا ہے۔ ارضع کے ہمزہ کو تخفیف کے طریقہ پر حذف کیا پھر دو ساکنوں کے جمع ہونے کی وجہ سے نون کو کسرہ دیا۔ مجاہد نے کہا : یہ وحی ولادت سے پہلے رضاعت کے بارے میں تھی۔ دوسرے علماء نے کہا، یہ وحی ولادت کے بعد تھی۔ سدی نے کہا، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جنا تو انہیں حکم دیا گیا کہ وہ ولادت کے بعد اسے دودھ پلائیں اور اس بچے کے ساتھ وہ کچھ کریں جس کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے کیونکہ خوف ولادت کے بعد شرع ہوا تھا۔ ابن جریج نے کہا : انہیں حکم دیا گیا کہ چار ماہ تک ایک باغ میں دودھ پلائیں اور جب اس کے چیخنے کا خوف ہوا (کیونکہ ان کا دودھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے کافی نہ تھا) تو اس وقت انہوں نے یہ کہا۔ پہلا قول زیادہ نمایاں ہے مگر دوسرے قول کی تائید فاذا خفت علیہ کے الفاظ کرتے ہیں اذا یہ زمانہ مستقبل کے لئے آتا ہے روایت بیان کی جاتی ہے انہوں نے بردی لکڑی کا تابوت بنایا اس کے اندر کی جانب تار کول ملا، اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو رکھا اور دریائے نیل میں اسے بہاد یا۔ اس کی وضاحت سورة طہ میں گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب بنی اسرائیل مصر میں بہت زیادہ ہوگئے تو وہ لوگوں پر اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگے برائیاں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر قبطیوں کو مسلط کردیا اور انہوں نے بنی اسرائیل کو سخت عذاب میں مبتلا کیا یہاں تک کہ انہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر نجات ہوئی۔ وہب نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تلاش میں ستر ہزار بچے ذبح کیے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے، نوے ہزار بچے ذبح کئے۔ یہ روایت کی جاتی ہے جب ولادت کا عمل قریب آیا اور آپ کی ماں کو دروازہ شروع ہوا اور ایک دائی جو بنی اسرائیل کی حاملہ عورتوں پر معین تھی وہ آپ کی والدہ کی مخلص اور حمبت کرنے والی تھی۔ آپ کی والدہ نے کہا، ممکن ہے تیری محبت مجھے آج نفع دے اس دائی نے آپ کی والدہ کا علاج کیا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) زمین پر آئے تو آپ کی آنکھوں کے درمیان موجود نور نے اسے خوفزدہ کردیا اس کا ہر جوڑ کا نپنے لگا اور آپ کی محبت اس کے دل میں پیوست ہوگئی پھر اس نے کہا، میں تیرے پاس اس لئے آئی تھی کہ تیرے بچے کو قتل کروں اور فرعون کو خبر دوں لیکن میں نے تیرے بیٹے کے لئے ایسی محبت پائی ہے جیسی محبت میں نے کسی کے لئے نہیں پائی اس بچے کی حفاظت کرنا۔ جب دائی نکلی تر فرعون کے جاسوس آگئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اسے ایک کپڑے میں لپیٹا اور دہکتے ہوئے تنور میں ڈال دیا وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ تنور اس بچے کے ساتھ کیا کرے گا وجہ اس کی یہ تھی کہ آپ کی عقل نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے بچے کو تلاش کیا مگر کوئی چیز نہ پائی وہ چلے گئے مگر وہ بچے کی جگہ کو نہیں پہچانتی تھی اس نے تنور سے بچے کے رونے کی آواز سنی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ٹھنڈک اور سلامتی والا بنا دیا۔
ولاتخافی اس میں دو وجود ہیں (1) تو اس پر غرق ہونے کا خوف نہ کر، یہ ابن زید کا قول ہے۔ (2) تو اس کے بارے میں ضائع ہونے کا خوف نہ کر۔ ولا تخزنی اس میں بھی دو وجوہ ہیں (1) اس کے فراق پر غمگین نہ ہو، یہ ابن زید کا قول ہے (2) اس کی قتل ہونے کے بارے میں غم نہ کرو، یہ یحییٰ بن سلام کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے آپ کو ایسے تابوت میں رکھا جس کی لمبائی پانچ بالشت اور چوڑائی بھی پانچ بالشت تھی۔ اس کی چابی تابوت کے ساتھ رکھی اور اسے موج کے سپرد کردیا جب کہ آپ کو چار ماہ تک دودھ پلا چکی تھی۔ دوسرے علماء نے کہا : تین ماہ دودھ پلا چکی تھی۔ کئی دوسرے علماء نے کہا : آٹھ ماہ دودھ پلا چکی تھی، یہ کلبی کی حکایت میں ہے۔ حکایت بیان کی گئی ہے جب بڑہی تابوت بنانے سے فارغ ہوگیا اس نے فرعون کو چغل خوری کی اس نے سپاہی اس کے ساتھ بھیجا جو اسے لے آئے اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھوں اور دل کو بےنور کردیا تو وہ راستہ بھول گیا اسے یقین ہوگیا کہ یہ وہی بچہ ہے جس سے فرعون کو خوف ہے تو وہ اسی وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا وہ آل فرعون کا مومن ہے، ماوردی نے اسے ذکر کیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تابوت ان کی والدہ کی آنکھوں سے اوجھل ہوگیا شیطان نے ان کو شرمندہ کیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے دل میں کہا، اگر وہ میرے پاس ذبح کردیا جاتا اور میں اسے اپنے ہاتھ سے کفن دیتی اور دفن کرتی تو یہ مجھے زیادہ محبوب ہوتا بنسبت اس کے کہ میں نے سمندر میں پھینکا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انار آدوہ الیک وجاعلوا من المرسلین اہل مصر کی طرف رسول بنا کر بھیجنے والے ہیں۔ اصمعی نے کہا، میں نے ایک بدوی لڑکی کو یہ شعر پڑھتے ہوئے سنا۔
استغفر اللہ لذبنی کلہ قبتلت انساناً بغیر حلہ
مثل الغزال ناعماً فی دلہ فانتصف اللیل ولم اصلہ
میں اللہ تعالیٰ سے اپنے ہر گناہ پر معافی مانگتی ہوں میں نے بغیر حلت کے ایک انسان کو بوسہ دیا۔ ہرن کی مانند وہ نازو و ادا میں نرم و نازک تھا رات آدھی ہوگئی اور میں نے اس کی نماز نہیں پڑھی۔
میں نے کہا : اللہ تعالیٰ تجھے قتل کرتے کتنی فصیح ہے۔ اس نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ہوتے ہوئے اس کو فصیح شمار کیا جاسکتا ہے و اوحیناً الی ام موسیٰ ان ارضعیہ اللہ تعالیٰ نے اس ایک آیت میں دو امر، دونہی، دو خبریں اور دو بشارتیں جمع کردیں۔
فالتقطہ ال فرعون لیکون لھم عدوا احزنا کیونکہ ان کا اس بچہ کو لینا اس امر کی طرف لے جاتا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے دشمن ہوں گے اور انہیں غم عطا کریں گے تو لیکون میں لام عاقبت اور لام صیرورت کا ہوگا، کیونکہ انہوں نے تو اس لئے پکڑا تھا تاکہ یہ ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہو۔ اس امر کا انجام یہ تھا کہ یہ ان کے لئے دشمن ہوں گے اور غم کا باعث ہوں گے۔ تو حال کا ذکر مآل کے ساتھ کردیا۔ جس طرح شاعر نے کہا :
وللمنایا تربی کل مرضعۃ ودرنا لخراب الدھر نبنیھا
موتوں کے لئے ہر دودھ پلانے والی پرورش کرتی ہے اور ہم اپنے گھر اس لئے بناتے ہیں کہ زمانہ ان کو کھنڈر بنا دے۔
ایک اور شاعر نے کہا :
فللموت تغذو الوالدات سخالھا کما لخراب تبنی المساکن
مائیں موت کے لئے اپنے بچوں کو غذا دیتی ہیں جس طرح زمانہ کے برباد کرنے کے لئے گھر بنائے جاتے ہیں۔
تعمیر کا انجام بربادی ہے اگرچہ فی الحال اس پر خوش ہوا جاتا ہے۔ التقاط سے مراد طلب اور ارادہ کے بغیر کسی چیز کو پانا۔ عرب جب کسی چیز کو طب اور ارادہ کے بغیر پاتے ہیں تو کہتے ہیں : التقصہ التقاطا لقیت فلانا التقاطا راجز نے کہ، ومنھل وردتہ التقاطا میں اچانک گھاٹ پروارد ہوا۔
اسی سے لقطہ ہے۔ سورة یوسف میں اس کے احکام کے متعقل اتنی بحث گزر چکی ہے جو اس کے لئے کافی و شافی ہے۔ اعمش، یحییٰ ، مفضل، حمزہ، کسائی اور لخف نے وحزنا حاء کے ضمہ اور زاء کے سکون کے ساتھ قرأت کی ہے۔ باق قراء نے دونوں کے فتحہ کے ساتھ قرأت کی ہے۔ ابوعبید نے اس کو پسند کیا ہے۔ ابو حاتم نے کہا، اس میں تفخیم کا قاعدہ جاری ہوتا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں جس طرح العدم اور العدم، السقم اور السقم، الرشد اور الرشد
ان فزعون وھا من ہامان قبطیوں میں سے اس کا وزیر تھا وجنودھما کانوا خطین وہ نافرمان تھے، مشرک تھے اور گناہگار تھے۔
وقالت امرات فرعون قرت عین لی ولک لاتقتلوہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ حضرت آسیہ جو فرعون کی بیوی تھی اس نے تابوت کو پانی میں تیرتے ہوئے دیکھا اس نے حکم دیا کہ اس تابوت کو اس کی طرف لایا جائے اور اسے کھولا جائے اس نے تابوت میں ایک چھوٹا بچہ دیکھا تو اس پر اسے رحم آگیا اور اس کے دل میں بچے کی محبت پیدا ہوگئی۔ اس نے فرعون سے کہ، یہ میرے اور تیرے لئے آنکھوں کی ٹھنک ہے۔ قرۃ یہ مبتدا مخذوف کی خبر ہے، یہ کسائی کا قول ہے۔ نحاس نے کہا، اس میں ایک بعیدی توجیہ ہے جسے ابواسحاق نے ذکر کیا ہے اس نے کہا، یہ مبتداء ہونے کے اعتبار سے مرفوع ہے اس کی خبر لاتقتلوہ ہے یہ بعید اس لئے ہے کیونکہ معنی یہ بنتا ہے یہ معروف ہے کہ یہ آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کا یہ معنی بھی کرنا جائز ہے جب یہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے تو تم اسے قتل نہ کرو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام ولک پر مکمل ہوجاتی ہے۔ نحاس نے کہا، اس پر دلیل یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرأت ہے وقالت امراۃ فرعون لاتقتلوہ قرۃ عین لی ولک نصب بھی جائز ہے معنی ہوگا جو چیز میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے قتل نہ کرو اس نے کہا، لاتقتلوہ یہ نہیں کہا : لاتقتلہ، یہ فرعون سے خطاب کر رہی ہے جس طرح جابروں سے خطاب کر رہی ہے اور جس طرح وہ اپنے بارے میں خبر دے رہے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس نے کہا لاتقتلوہ اسے قتل نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے کسی اور علاقہ سے لایا ہے یہ بنی اسرائیل سے نہیں ہے۔
عسی ان ینفعنآ او نتخذہ ولداً ممکن ہے یہ ہمیں نفع دے اور اس سے بھلائی حاصل کریں یا ہم اسے بچہ بنا لیں۔ اس کی کوئی اولاد نہ تھی، اس نے فرعون سے وہ بچہ مانگ لیا اور فرعون نے وہ بچہ اسے دے دیا۔
فرعون نے جب خواب دیکھا اور اسے اپنے کاہنوں اور علماء پر پیش کیا جس طرح پہلے گزر چکا ہے انہوں نے اسے کہا : بینی اسرئایل کا ایک بچہ تیری بادشاہت کو برباد کر دیگا۔ اس نے بنی اسرئایل کے بچے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کی رائے تھی کہ ان کی نسل ختم کر دے گا۔ وہ ایک سال تک بچے ذبح کرتا اور ایک سال تک زندہ رکھتا حضرت ہارون (علیہ السلام) کی ولادت اسی سال ہوئی جس سال وہ بچوں کو زندہ رکھتا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اس سال ہوئی جس سال میں اس نے بچوں کو ذبح کرنے کا معمول بنایا ہوا تھا۔
وھم لایشعرون یہ ابتدا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے کلام ہے وہ نہیں سمجھتے تھے کہ ان کی ہلاکت اسے بچے کے سبب سے ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عورت کا کلام ہے یعنی بنی اسرائیل نہیں جانتے کہ ہم نے اسے پکڑ لیا ہے اور وہ نہیں جانتے مگر یہ کہ یہ ہمارا بچہ ہے۔ علماء تاویل نے اس وقت میں اختلاف کیا ہے جس وقت میں فرعون کی بیوی نے کہا تھا : قرت عین لی ولک ایک جماعت کا خیال ہے یہ بات اس نے اس وقت کہی جب تابوت کو پکڑا اور اس نے فرعون کو اس کا احساس دلایا جب اس نے فرعون کو بتایا تو فرعون کے ذہن میں گیا کہ یہ بنی اسرائیل میں سے ہے اس نے یہ ارادہ اس لئے کیا تاکہ وہ ذبح سے چھٹکارا پائے۔ اس نے کہا : مجھ پر ذبح کرنے والے لائو۔ تو اس کی بیوی نے وہ کہا جس کا ذکر ہوا۔ فرعون نے کہا، جہاں تک میرا تعلق ہے تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اگر فرعون نعم کہہ دینا تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آتا اور وہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہوتے “ (1) سدی نے کہا : بلکہ فرعون کی بیوی نے اس کو پالا یہاں تک کہ وہ چلنے پھرنے لگا فرعون نے آپ میں ذہانت دیکھی تو اسے گمان ہوا کہ یہ بنی اسرائیل میں سے ہے اسے اپنے ہاتھ میں اٹھایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور فرعون کی داڑھی کے بال نوچ لئے اس وقت فرعون نے آپ کو ذبح کرنے کا ارادہ کرلیا اور اس وقت فرعون کی بیوی نے یہ بات کہی۔ اور یاقوت اور انگارہ کے ذریعے اس کا تجربہ کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان جل گئی اور لکنت پیدا ہوگئی جس طرح سورة طہ میں گزر چکا ہے۔
فراء نے کہا، میں نے محمد بن مروان سے سنا جنہیں سدی کہا جاتا وہ کلبی سے وہ ابو صالح سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت آسیہ نے کہا، قرت عین لی ولک پھر کہا : تقتلوہ۔ فراء نے کہا، اس میں تقدیم فعل کے آخر میں نون ہوتا کیونکہ فعل مستقبل مرفوع ہوتا ہے یہاں تک کہ اس پر ناصب یا جازم داخل ہو۔ اس میں نون علامت رفع ہوتی ہے۔راء نے کہا : حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرأت اس کی تائید کرتی ہے وقالت امراۃ فرعون لاتقتلوۃ قرۃ عین لی ولک یعنی لاتقتلوہ مقدم ہے۔
Ayahs 28:10–13واصبح قوادام موسیٰ فرغاً حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری، عکرمہ، قتادہ، ضحاک، ابو عمران جونی اور ابو عبیدہ نے فرغاً کا معنی یہ کیا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا دل آپ کے ذکر کے سوا دنیا کی ہر شے کے ذکر سے خالی تھا۔ حضرت حسن بصری نے یہ بھی کہا نیز اب ن اسحاق اور ابن زید نے کہ، وہ وحی سے خالی تھی کیونکہ ان کی طرف وحی کی گئی جب اسے حکم دیا گیا کہ وہ اس بچے کو پانی میں پھینک دے وہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ السلام کی ماں سے کیا وہ یہ وعدہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو واپس اس کی طرف لوٹائے گا اور اسے رسولوں میں سے بنائے گا۔ شیطان نے اسے کہا، اے موسیٰ کی ماں ! تو نے یہ تو ناپسند کیا کہ فرعون حضرت موسیٰ کو قتل کرے مگر تو نے خود اسے غرق کردیا۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو یہ خبر پہنچی کہ اس کا بیٹا فرعون کے پاس ہے تو عظیم مصیبت نے اسے وہ وعدہ بھلا دیا جو اللہ تعالیٰ نے اس سے کیا تھا۔
ابو عبیدہ نے کہا، فرغاً یعنی غم اور حزن سے خالی، کیونکہ اسے علم ہوچکا تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غرق نہیں وئے، یہ اخفش کا قول بھی ہے۔ علاء بن زیاد نے کہا، فرغاً کا معنی ہے نفرت کرنے والا۔ کسائی نے کہا، بھولنے والا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : شدت غم سے متحیر، اسے سعید بن جبیر نے روایت کیا ہے۔ ابن قاسم نے مالک سے روایت کیا ہے : اس سے مراد عقل کا چلا جانا ہے۔ معنی ہے جب اس نے یہ سنا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے ہاتھ پہنچ چکے ہیں تو شدت غم کی وجہ سے اور شدت دہشت کی وجہ سے عقل اڑ گئی۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وافدتھم ھوآء۔ (ابراہیم) یعنی خالی، ان کی کوئی عقل نہ تھی۔ جس طرح سورة ابراہیم میں پہلے گزر چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دل عقول کا مرکز ہوتے ہیں کیا تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں دیکھتا : فتکون لھم قلوب یعقلون بھآ (الحج : 48) جس نے فزعا پڑھا ہے اس کی قرأت بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔ نحاس نے کہ، سب سے صحیح قول پہلا ہے۔ جنہوں نے وہ قول کیا وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ جب آپ کی والدہ کا دل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر کے سوا ہر ذکر سے خالی تھا تو وہ وحی سے بھی فارغ تھا۔ ابوعبیدہ کا قول وہ غم سے خالی تھا، یہ بہت ہی قبیح ہے کیونکہ اس کے بعد ان کا دت لتبدی بہ لولاً ان ربطنا علی قلبھا ہے۔
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے : قرب تھا کہ وہ کہتی وا ابناہ ہائے بیٹے۔ فضالہ بن عبید انصاری محمد بن سمقع، ابو العالیہ اور ابن محیصن نے پڑھا فزعا یہ فاء اور عین کے ساتھ ہے۔ یہ فزع سے مشتق ہے۔ یہ اسے خوف تھا کہ کہیں اسے قتل ہی نہ کردیا جائے۔ حضرت ابن عباس نے پڑھا : قرعا قاف، راء اور عین کے ساتھ آخری دونوں حرف نقطہ کے بغیر ہیں۔ یہ جماعت کی قرأت کی طرف راجع ہے جو فارغا ہے۔ اسی وجہ سے وہ سر جس پر بال نہ ہوں اس کو اقرع کہتے ہیں، کیونکہ وہ بالوں سے فارغ ہوتا ہے۔ قطرب نے حکایت، بیان کی ہے کہ حضور ﷺ کے بعض صحابہ نے پڑھا فرغا یعنی فاء راہ اور غین مجموعہ کے ساتھ یہ الف کے بغیر ہے۔ یہ تیرے اس قول کی طرح ہے ھدرا و باطلا یہ جملہ بولا جاتا ہے : دماء ھم بینھم فرغ یعنی ان کے باہم قصاص باطل ہوگئے۔ معنی ہے اس کا دل باطل ہوگیا اور چلا گیا اور وہ یوں ہوگئی کہ اس کا دل ہی نہیں یہ اس غم کیشدت کی وجہ سے ہوا جو اس پسروارد ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : واصبح اس میں دو وجوہ ہیں (1) اس نے رات کو پانی میں تابوت پھینکا تو دن کے وقت اس کا دل فارغ ہوچکا تھا (2) اس نے دن کے وقت پھینکا تھا۔ اصبح کا معنی صار ہے۔ جس طرح شاعر نے کہا :
مضق الخلفاء بالامر الرشید واصجت المدینۃ للولید
خلفاء صحیح امر کے ساتھ چلے گئے اور مدینۃ ولید کے لئے رہ گیا۔
ان کا دت اصل میں یہ انھا کا دت تھا۔ جب ضمیر کو حذف کیا تو نون ساکن ہوگیا یہ ان مخففہ ہے اسی وجہ سے لتبدی بہ پر لام داخل ہے۔ مراد ہے اس کے امر کو ظاہر کر دے یہ بدایبدو سے مشتق ہے جب وہ ظاہر ہو۔ حضرت ابن عباس نے کہا : وہ پھینکنے کے وقت چیخی۔ ہائے بٹے ! سدی نے کہا، جب وہ دودھ پلانے کے لئے اٹھاتی اور چھاتی سے لگاتی تو قریب تھا کہ وہ کہتی : یہ میرا بیٹا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جوان ہوئے تو لوگ کہتے موسیٰ بن فرعون۔ ان کی ماں پر یہ بات شاق گزرتی اور ان کا سینہ تنگ ہوتا۔ قریب تھا کہ وہ کہہ اٹھتی : یہ میرا بٹا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : بہ میں ھاء ضمیر وحی کی طرف لوٹ رہی ہے اس کی تقدیر کلام یہ ہے ان کا نت لتبدی بالوحی الذی اوحیناہ الیھا ان نزدہ علیھا، قریب تھا کہ وہ اس وحی کو ظاہر کردیتی جو ہم نے اس کی طرف وحی کی تھی کہ ہم موسیٰ کو اس پر لوٹا دیں گے۔ پہلا قول زیادہ نمایاں ہے۔ حضرت ابن مسعود نے کہا : قریب تھا کہ وہ کہتی : میں اس کی ماں ہوں۔ فراء نے کہا : قریب تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کا نام ظاہر کردیتی کیونکہ اس کا سینہ تنگ پڑتا تھا۔
لولا ان ربطنا علی قلبھا قتادہ نے کہا، اگر ہم ایمان کے ساتھ اس کا دل مضبوط نہ کرتے۔ سدی نے کہا، اگر ہم عصمت کے ساتھ اس کا دل مضبوط نہ کرتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر ہم صبر کے ساتھ اس کا دل مضبوط نہ کرتے ربط علی القلب سے مراد صبر کا الہام ہے۔ لتکون من المومنین تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کی تصدیق کرنے والی ہوجائے جب اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا انا رآدہ الیک۔
لتبدی بہ فرمایا : لتبدیہ نہیں فرمایا کیونکہ حروف کی صفات بعض اوقات کلام میں زائد کی جاتی ہیں تو کہتا ہے : اخذت الحبل و بالحبل یعنی کبھی واسطہ ذکر کیا جاتا ہے اور کبھی واسطہ ذکر نہیں کیا جاتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تقدیر کلام لتبدی القول بہ ہے۔
وقالت لاختہ قصیہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن سے فرمایا : اس کے پیچھے جائو تاکہ تمہیں اس کی خبر سے آگاہی ہو۔ اس کا نام مریم بنت عمران تھا اس کا نام حضرت مریم جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ماں تھی کے نام کے موافق تھا، سہیلی اور ثعلبی نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ماوردی نے ضحاک سے ذکر کیا ہے : اس کا نام کثمہ تھا۔ سہیلی نے کہا، اس کا نام کلثوم تھا اس کا ذکر زبیر بن بکار نے کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہ سے فرمایا :” میں نے محسسو کیا ہے کہ جنت میں ﷺ نے میری شادی تیرے ساتھ ساتھ حضرت مریم بنت عمران، حضرت کلثوم جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن ہیں اور حضرت اسٓیہ جو فرعون کی بیوی تھی سے شادی کی۔ “ (1) حضرت خدیجہ نے عرض کی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی خبر دی ہے فرمایا : ہاں۔ عرض کی یعنی حضرت خدیجتہ الکبری نے عرض کی : بالرفاء والبنین یہ لفظ مبارکباد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ عمنی اتفاق اور بیٹوں والا ونا ہے۔
فبصرت بہ عن جنب جنب کا معنی دوری ہے، یہ مجاہد کا قول ہے۔ اس سے اجنبی ہے۔ اشعر نے کہا :
فلا تحرمنی نائلا عن جنابۃ فانی امرئو وسط القباب غریب
دوری کی وج ہ سے مجھے عطیہ سے محروم نہ کھنا بیشک میں بتوں کے درمیان اجنبی آدمی ہوں۔ اصل میں یہ مکان جنب ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، عن جنب سے مراد جانب سے۔ نعمان بن سالم نے قرأت کی عن جانب معنی ہے ایک طرف سے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے شوق سے۔ ابو عمرو بن علاء نے حکایت بیان کی ہے یہ بنو حزام کی لغت ہے۔ وہ کہتے ہیں : جنبت الیک میں تیرا مشتاق ہوگیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : عن جنب ان کی ماں ان سے اجنبی ہے۔ کسی طریقے سے وہ نہیں پہچانتے تھے کہ یہ اس کی ماں ہے۔ قتادہ نے کہا، تو ایک طرف سے اس کو دیکھتی رہ گویا تو اس کا ارادہ نہیں رکھتی۔ وہ اس کو عن جنب جیم کے فتحہ اور نون کے سکون کے ساتھ پڑھتے۔ وھم لایشعرون کہ یہ اس بچے کی بہن ہے کیونکہ وہ ساحل سمندر پر چلتی رہی یہاں تک کہ اس نے دیکھ لیا کہ انہوں نے اسے پکڑ لیا ہے۔
وحرمنا علیہ المراضع من قبل ہم نے اس کو اس کی ماں اور بہن کے آنے سے منع کردیا۔ مراضع یہ مرضع کی جمع ہے۔ جس نے مراضیع پڑھا ہے تو یہ مرضاء کی جمع ہے فعال یہ جمع کثرت کے لئے وزن استعمال ہوتا ہے۔ اس وزن میں مذکر و مونث میں فرق کرنے کے لئے ہاء داخل نہیں کی جاتی کیونکہ یہ وزن فعل پر جاری نہیں ہوتا۔ جس نے مرضاعہ کہا تو وہ اء کے ساتھ مبالغہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جس طرح کہا جاتا ہے : مطرابۃ حضرت ابن عباس نے کہا : جو دودھپلانے والی بھی لائی جاتی حضرت موسیٰ اسے قبول نہ کرتے اس حرمت سے مراد روکنا ہے یہ حرمت شرعی نہیں۔ امراء القیس نے کہا :
جالت لتصرعنی فقلت لھا اقصری انی امرء صرعی علیک حرام
اس نے چکر لگایا تاکہ وہ پچھاڑ دے میں نے اسے کہا، رک جا میں ایسا آدمی ہوں تجھ پر مجھ کو پچھاڑنا حرام ہے۔
حرام ممتنع کے معنی میں ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے یہ دیکھا تو اس نے کہا، ھل ادلکم علی اھل بیت یکفلونہ لکم اس کی بات وھم لہ نصحون سن کر انہوں نے اسے کہا، تجھے کیسے پتہ ہے ؟ ممکن ہے تو اس کے گھر والوں کو پہچانتی ہو ؟ اس نے کہا : نہیں مگر وہ بادشاہ کی خوشی کے حریص رہتے ہیں یا اس کی دایہ بننے میں رغبت رکھتے ہیں۔ سدی اور ابن جریج نے کہا : جب اس نے کہا وھم لہ نصحون تو اسے کہا گیا : تو اس بچے کے اہل کو پہچانتی ہے تو ہماری اس بارے میں رہنمائی کرو۔ اس نے کہا، میں نے اراد کیا ہے کہ وہ بادشاہ کے مخلص ہیں تو اس نے ان کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں پر رہنمائی کردی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن ان کے حکم سے گئی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو لے آئی۔ بچہ فرعون کے ہاتھ میں تھا وہ شفقت کے انداز میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بہلا رہا تھا جب کہ وہ دودھ کی طلب میں رو رہا تھا۔ فرعون نے وہ بچہ اسے دے دیا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی ماں کی خوشبو پائی تو اس کے پستانوں کو قبول کرلیا۔ ابن زید نے کہا : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے کہا، وھم للملک ناصحون تو انہیں شک پڑگیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب اس نے کہا ھل ادلکم علی اھل بیت یکفلونہ لکم وہ اس عورت کی تلاش میں مبالغہ سے کام لے رہے تھے جو اس کے پستان کو قبول کرلے۔ انہوں نے کہا : وہ کون ہے اس نے کہا : میری ماں ہے۔ اسے کہا گیا : اس کا دودھ ہے ؟ اس نے جواب دیا : ہاں۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی ولادت کے وقت کا دودھ۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی ولادت ایسے سال میں ہوئی تھی جس سال بچوں کو قتل نہیں کیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا : تو نے سچ بولا ہے اللہ کی قسم ! وھم لہ نصحون یعنی ان میں شقت اور اخلاص ہے۔ روایت بیان کی گی ہے : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی ماں کا دودھ پی لیا تو اس سے کہا گیا : اس نے تیرا دودھ کیسے پی لیا ہے جب کہ اس نے کسی اور کا دودھ نہیں پای ؟ اس نے کہا، میں ایسی عوتر ہوں جس کی خوشبو اچھی ہے اور دودھ بھی پاکیزہ ہے۔ میرے پاس کوئی بچہ نہیں لایا جاتا مگر وہ میرا دودھ پی لیتا ہے۔ ابو عمران جونی نے کہا، فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو ہر ایک روز ایک دینار دیا کرتا تھا۔ زمحشری نے کہا : اگر تو یہ کہے اس کے لئے کیسے حلال ہے کہ وہ اپنے بچے کو دودھ پلانے پر اجر لیتی ؟ تو میں کہوں گا : وہ اس لئے دینار نہیں لیتی تھی کہ وہ اپنے بچے کو دودھ پلانے کی اجرت لیتی بلکہ یہ حربی کا مال تھا وہ استباحت کے طریقہ پر مال لے لیتی تھیں۔
فرددنہ الی امہ ہم نے اسے اس کی ماں کی طرف لوٹا دیا جب کہ اللہ تعالیٰ نے دشمن کے دل کو اس پر مہربان کردیا اور اس بارے میں ہمارا اس سے وعدہ بھی تھا۔ کی تقرعینھا تاکہ اپنے بچہ کی وجہ سے اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو۔ ولاتحزن اور وہ اپنے بچے کے فراق سے غمگین نہ ہو۔ ولتعلم ان وعدہ اللہ حق تاکہ اس کے وقوع کو جانے کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اس کے بچے کا اس کی طرف لوٹانا عنقریب ہوگا۔ ولکن اکثرھم لایلمون یعنی آل فرعون میں سے اکثر نہیں جانتے تھے یعنی وہ تقدیر اور قضاء کے راز سے غفلت میں تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اکثر لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ جو بھی وعدہ کرے وہ حق ہے۔
Ayah 28:14ولما بلغ اشدہ واستوی اتینہ حکماً و علماً سورة الانعام میں اشد کے بارے میں کلام گزر چکی ہے، ربیعہ اور مالک کا قول ہے : جو اس بارے میں قول کیا گیا ہے بلوغت اس میں اولیٰ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : حتی اذا بلغوا النکاح (النسائ : 6) یہ اشد کا آغاز ہے اور اس کی انتہائی عمر چونتیس سال ہے۔ یہ سفیان ثوری کا قول ہے۔ استری حضرت ابن عباس نے کہا : وہ چالیس سال کی عمر کو پہنچے۔ حکم سے مراد نبوت سے قبل حکمت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے دین میں فقہ ہے۔ اس کی وضاحت سورة بقرہ وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ سدی کے قول کے مطابق علم سے مراد فہم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد نبوت ہے۔ مجاہد نے کہا : مرادففقہ ہے۔ محمد بن اسحاق نے کہا، مراد اپنے اور اپنے آبا کے دین کا علم۔ بنی اسرائیل کے نو آدمی تھے جو ان کی بات سنتے اور اقتدا کیا کرتے تھے اور ان کے پاس جمع ہوا کرتے تھے۔ یہ نبوت سے قبل ہوا۔
وکذلک نجزی المحسنین حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سر جھکا دیا، اپنے بچے کو سمندر میں پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے وعدہ کو سچ کر دکھایا۔ ہم نے اس کا بچہ اس کی طرف تحفون اور شان و شوکت کے ساتھ لوٹا دیا جب کہ وہ آمنہ تھیں پھر ہم نے اسے عقل، حکمت اور نبوت عطا کی اسی طرح ہم ہر محسن کو جزا دیتے ہیں۔
Ayah 28:15ودخل المدینۃ علی حین غفلۃ من اھلھا ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس حق کو پہچان لیا جو ان کے دین میں تھا تو قوم فرعون جس حالت پر تھی اس پر عیب لگایا یہ بات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عام ہوگئی انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ڈرایا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں ڈرایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے شہر میں چوری چھپے اور ڈرتے ہوئے داخل ہوئے تھے۔ سدی نے کہا : اس قصہ کے وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کے ساتھ تعلق تھا حضرت موسیٰ موسیٰ (علیہ السلام) اس کی سواریوں پر سوار ہوتے یہاں تک کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کا بیٹا سمجھا جاتا۔ ایک روز فرعون سواری پر سوار ہوا اور مصر کے شہروں میں سے ایک شہر کی طرف چلا جسے ” منف “ کہا جاتا۔ مقاتل نے کہا : یہ مصر سے دو فرسخ کے مقام پر ہے۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے سوار ہونے کا علم ہوا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بعد میں سوار ہوئے اور قیلولہ کے وقت اس بستی میں جا پہنچے یہ غفلت کا وقت تھا، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ یہ بھی کہا : یہ عشاء اور عتمہ
(خوب تاریکی) کے درمیان کا وقت تھا۔ ابن اسحاق نے کہا : بلکہ مدینہ سے مراد مصر ہی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس موقع پر فرعون کے خلاف اپنے نقطہ نظر کو بیان کیا اور بتوں اور فرعون کی عبادت پر ان پر عیب لگایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک روز شہر کے مکینوں کی غفلت کے موقع پر اس میں داخل ہوئے۔ سعید بن جبیر اور قتادہ نے کہا : دوپہر کے وقت داخل ہوئے جب کہ لوگ سوئے ہوئے تھے۔ ابن زید نے نے کہا کہ : فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دشمنی کا اظہار کیا اور آپ کو شہر سے نکال دیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کئی سال تک اس شہر سے غائب رہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آئے جب کہ لوگ غفلت میں تھے کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کو بھول چکے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) السلام کا ان کے ساتھ کا زمانہ طویلی ہوچکا تھا۔ وہ عید کا دن تھا۔
ضحاک نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے شہر میں داخل ہونے کے لئے غفلت کا وقت تلاش کیا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس وقت کا علم ہوگیا تو آپ اس میں داخل ہوئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے ایک ایسا آدمی مارا گیا تھا جب کہ اس کے قتل کا حکم نہیں ہوا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے بخشش طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بخش دیا۔ گفتگو میں یہ کہا جاتا ہے : دخلت المدینۃ حین غفل اھلھا۔ یہ نہیں کہ ا جاتا : علی حین غفل اھلھا، یہاں علی حرف جار داخل ہوا ہے کیونکہ غفلت ہی مقصود تھی۔ یہ اسی طرحہو گیا جس طرح تو کہتا ہے : جئت علی غفلتہ اگر تو چاہے تو کہہ : جئت علی حین غفلۃ اسی طرح آیت ہے۔ فوجدفیھا رجلین یقتلن ھذا من شیعتہ معنی ہے جب دیکھنے والوں نے دونوں کی طرف دیکھا تو کہا، یہ اس کی جماعت میں سے ہے یعنی یہ بنی اسرائیل سے ہے۔ وھذا من عدوہ اور یہ فرعون کی قوم میں سے ہے فاستغاثہ الذی من شیعتہ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مدد کو طلب کیا۔ مابعد آیت میں اسی طرح ہے۔ فاذا الذین استنصرہ بالامس یستصرخہ، یعنی وہ ایک اور قبطی کے خلاف مدد طلب کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی مدد کی کیونکہ مظلوم کی مدد تمام ادیان میں امتوں پر فرض ہوتی ہے اور تمام شریعتوں میں فرض ہے۔
قتادہ نے کہا : قبطی نے ارادہ کیا تھا کہ اسرائیلی کو مجبور کرے کہ وہ فرعون کے مطبخ کے لئے لکڑیاں اٹھا کرلے جائے تو اسرائیلی نے لکڑیاں اٹھانے سے انکار کردیا۔ تو اس اسرائیلی نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد طلب کی سعید بن جبیر نی کہ : وہ قبطی فرعون کا نانبائی تھا فوگزہ موسیٰ قتادہ نے کہ : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے عصا سے اسے مارا۔ مجاہد نے کہا : اپنے ہاتھ سے اسے دھکا دیا۔ وکذلکز، لھز اور لد سب کا ایک ہی معنی ہے اس سے مراد ہتھیلی کو جمع کرتے ہوئے ضرب لگانا ہے جس طرح تہتر کا عقد ہوتا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے اسے فلکزہ پڑھا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : ہے لکز سے مراد جبڑے پر اور وکز سے مراد دل پر گھونسا مارنا ہے۔ ثعلبی نے یہ حکایت بیان کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی قرأت میں فنکزہ ہے معنی ایک ہی ہے۔ جوہری نے ابوعبیدہ سے روایت نقل کی ہے لکز سے مراد سینہ پر گھونسا مارنا ہے۔ ابوزید نے کہا، پورے جسم میں گھونسا مارنا۔ لھز سے مراد پورے ہاتھ سے سینے میں گھونسا مارنا ہے جس طرح لکز ہوتا ہے، ابوعبیدہ سے یہی مروی ہے۔ ابوزید نے کہا جبڑے اور گردن پر گھونسا مارنا الرجل ملھز میم کے نیچے کسرہ ہے جبڑے اور گردن میں مکہ مارنے والا۔ اسمعی نے کہا، نکزہ اسے مارا اور دھکا دیا۔ کسائی نے کہا : نھزہ یہ نکزہ اور وکزہ کی طرح ہے، یعنی اسے مارا اور دھکا دیا۔ لھدہ لھدا اس کی ذلت کی وجہ سے اسے دھکا دیا تو وہ دھکا کھانے والوں میں سے ہوگی۔ اسی طرح لھدہ ہے۔ طرفہ ایک آدمی کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے :
بطنی عن الداعی سریع الی الخنا ذلول باجماع الرجال ملھد
وہ داعی سے سستی کرنے والا ہے، فحش کلامی کی طرف جلدی کرنے والا ہے، تمام لوگوں کے سامنے مطیع ہے اور دھکے کھانے والا ہے۔
ملھد کا معنی ہے اسے دھکا دیا جاتا ہے اسے مشدد کثرت کو ظاہر کرنے کے لئے پڑھا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ نے کہا : فلھدنی لھدۃ اوجعنی یعنی نبی کریم ﷺ نے مجھے دھکا دیاجس نے مجھے تکلیف دی، امام مسلم نے اسے نقل کیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہی کیا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے قتل کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے دھکا دیا اسی میں اس کی روح تھی فقضی علیہ کا معنی یہی ہے۔ ہر وہ شے جس پر تو متوجہ ہو اور اس سے فارغ ہوگیا تو نے اس کا معاملہ تمام کردیا۔ شاعر نے کہا :
قد عضہ فقضی علیہ الاشجاع
اس نے اسے کاٹا اور اشجع نے اس کا معاملہ تمام کردیا۔
قال ھذا من عمل الشیطن یعنی اس نے ورغلایا تو یہ کام واقع ہوا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس حال میں اس روز کافر کے قتل کو حلال خیال نہیں کرتے تھے، کیونکہ وہ حالت قتال سے روکنے کی حالت تھی۔ انہ عدو مضل مبین جملہ میں خبر کے بعد ضمیر ہے۔
Ayah 28:16قال رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی فغفرلہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس گھونسے پر شرمندہ ہوئے جس میں ایک جان چلی گئی۔ ان کی شرمندگی نے ان کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اور اپنے گناہ سے بخشش طلب کرنے پر برانیگختہ کیا۔ قتادہ نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پہچان گئے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس مصیبت سے نجات دینے والا ہے اس لئے استغفار کی …لگاتار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس عمل کو ذکر کرتے رہے جب کہ ان کو علم ہوچکا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا ہے، یہاں تک کہ قیامت کے روز وہ کہیں گے : میں نے ایک ایسے نفس کو قتل کیا جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے اپنے اوپر گناہ شمار کیا تھا۔ عرض کی : ظلمت نفسی فاغفرلی اسی وجہ سے کسی نبی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ حکم کے بغیر قتل کرے نیز انبیاء ایسی شفقت کرتے ہیں جیسی شفقت کوئی اور نہیں کرتا۔ نقاش نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قتل کے ارادہ سے اسے قتل نہیں کیا تھا۔ آپ نے اسے گھونسا مارا مقصود اس کو ظلم سے روکنا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ واقعہ نبوت سے پہلے ہوا۔ کعب نے کہا : یہ اس وقت واقع ہوا جب آپ کی عمر بارہ سال تھی۔ اس کے باوجود یہ قتل خطا تھا، کیونکہ گھونسا مارنے سے عموماً قتل واقع نہیں ہوتا۔
امام مسلم نے سالم بن عبداللہ سے روایت نقل کی ہے، فرمایا : اے اہل عراق ! تم صغیرہ کے بارے میں کتنے ہی سوال کرتے ہو اور کبیرہ پر کتنے ہی سوار ہوجاتے ہو ؟ میں نی اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :” فتنہ یہاں سے آئے گا اور اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا، جہاں سے شیطان کے دو سینگ طلوع ہوں گے تم ایک دوسرے کی گردنیں اڑائو گے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے آل فرعون میں سے ایک فرد کو خط اقتل کیا تو اللہ تعالیٰ نیارشاد فرمایا : وقتلت نفساً فنجینک من الغم و فتنک فتوناً (طہ : 40 )
Ayah 28:17قال رب بمآ انعمت علی فلن اکون ظھیراً للمجرمین
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : قال رب بمآ انعمت علی جو معرفت، حکمت اور توحید کی صورت میں تو نے مجھ پر انعام کیا ہے فلن اکون ظھیراً للمجرمین میں کافروں کا مددگار نہیں۔ قشیری نے کہا : بما انعمت علی من المغفرۃ نہیں کہا، کیونکہ یہ وحی سے قبل کا واقعہ ہے۔ اس وقت آپ یہ نہ جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے قتل کے عمل کو معاف کردیا ہے۔ ماوردی نے کہا : بمآ انعمت علی اس میں دو وجوہ ہیں (1) مغفرت، مہدوی اور ثعلبی نے اسی طرح ذکر کیا ہے مہدوی نے کہا، بما انعمت علی من المغفرۃ تو نے مغفرت کی صورت میں جو مجھ پر انعام کیا اور مجھے کوئی سزا نہ دی (2) ہدایت کی صورت میں جو تو نے مجھ پر انعام کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : فغفرلہ مغفرت پر دال ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ زمحشری نے کہا : اللہ تعالیٰ کے فرمان : بما انعمت علی کے بارے میں جائز ہے کہ یہ قسم ہو اس کا جواب محذوف ہو تقدیر کلام یہ ہوا قسم بانعامک علی بالمغفرۃ لانوبن۔
فلن اکون ظھیراً للمجرمین یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شفقت و مہربانی کا سوال ہے، گویا عرض کی : اے میرے رب ! تو نے مجھ پر مغفرت کی صورت میں جو انعام کیا ہے اس کے وسیلہ سے مجھے محفوظ رکھ، اگر تو نے مجھے محفوظ رکھا تو میں مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔ مجرمین کی مدد سے مراد یا تو فرعون کی صحبت، اس کی جماعت میں شامل ہونا اور اس کے لشکر میں اضافہ کرنا ہے کیونکہ آپ اس کے ساتھ اسی طرح سوار ہوا کرتے تھے جس طرح بچہ والد کے ساتھ ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ابن فرعون کہا جاتا یا ایسی مدد ہے جو جرم اور گناہ کی طرف لے جائے، جس طرح اسرائیلی کی مدد جو اسے قتل کی طرف لیگئی جس کا قتل آپ کے لئے حلال نہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ارادہ کیا اگرچہ میں نے اس قتل میں غل طی کی ہے جس کے قتل کا مجھے حکم نہیں دیا گیا تھا پھر بھی میں مسلمان کی مجرم کے خلاف مدد کو ترک کرنے والا نہیں۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ اسرائیلی مومن تھا اور مسلمان کی مدد تمام شریعتوں میں واجب ہے۔ بعض روایات میں ہے : وہ اسرائیلی کا فر تھا اس کے بارے میں جو یہ کہا گیا ہے انہ من شیعۃ وہ اسرائیلی تھا دین میں مواففقت کا ارادہ نہیں کیا اسی وجہ سے آپ کو شرمندگی ہوئی کیونکہ آپ نے کافر کے خلاف کافر کی مدد کی تھی۔ تو فرمایا : لا اکون بعدھا ظہیرا للکافرین ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ خبر نہیں بلکہ دعا ہے اس کا معنی ہوگا، اے میرے رب مجھے مجرموں کا مددگار نہ بنا۔
فراء نے کہا : معنی ہے میں کبھی بھی مجرمین کا مددگار نہیں بنوں گا، یہ گمان کیا کہ اس کا یہ قول حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : اس کا خبر کے معنی میں ہو زیادہ مناسب ہے اور سیاق کلام کے زیادہ مشابہ ہے جس طرح یہ جملہ کہا جاتا ہے : لاعصیک لانک انعمت علی میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا کیونکہ تو نے مجھ پر انعام کیا ہے۔ حضرت ابن عباس کا حقیقت میں یہ قول ہے نہ کہ وہ جو فراء نے بیان کیا ہے کیونکہ حضرت ابن عباس نے کہا : انہوں نے استثناء نہ کی تو دوسرے دن ہی آزمائش میں ڈال دیئے گئے استثناء دعا میں نہیں ہوتی یہ نہیں کہا جاتا : اللھم اغفرلی ان شئت اے اللہ ! مجھے بخش دے اگر تو چاہے۔ سب سے تعجب والی چیز ہے کہفرائنیحضرت ابن عباس سے یہ روایت کی پھر ان سے قول کی حکایت کی۔
میں کہتا ہوں : یہ معنی سورة نمل میں ملخص مبین گزر چکا ہے کہ یہ خبر ہے دعا نہیں۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے انہوں نے استثناء نہ کی تو انہیں ایک دفعہ پھر آزمائش میں ڈالا گیا یعنی انہوں نے یہ نہ کہا : فلن اکون انشاء اللہ یہ اسی طرح ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (1) : ولاترکنوا الی الذین ظلموا (ہود : 113)
مسئلہ نمبر 2۔ سلمہ بن نبی ط نے کہا، عبدالرحمن بن مسلم نیضحاک کی طرف اہل بخاری کے عطیات بھیجے اور کہا : انہیں عطا کردیں۔ انہوں نے کہا : مجھے معاف رکھو، وہ لگاتار معذرت کرتے رہے یہاں تک کہ عبدالرحمن نے انہیں اس ذمہ داری سے بری کردیا۔ ان سے کہا گیا : تم پر کیا حرج تھا کہ تم وہ عطیات انہیں دے دیتے اور ان کے حق میں کچھ کمی نہ کرتے ؟ انہوں نے جواب دیا : میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ میں ظالموں کی کسی بھی چیز میں کوئی مدد کروں۔ عبداللہ بن ولید و صافی نے کہا میں نے عطاء بن ابی رباح سے کہا، میرا ایک بھائی ہے وہ اپنے قلم سیرزق کماتا ہے جو مال خزانہ میں آتا ہے اور جو نکلتا ہے اس کا حساب رکھتا ہے اس کے عیال بھی ہیں اگر وہ اس ذمہ داری کو چھوڑے تو محتاج ہوجائے اور مقروض ہوجائے۔ پوچھا : سردار کون ہے ؟ میں نے جواب : دیا خالد بن عبداللہ قسری۔ فرمایا : کیا تو وہ نہیں پڑھتا جو عبدصالح کہتا ہے : بما انعمت علی فلن اکون ظھیراً للمجرمین حضرت ابن عباس نے کہا : انہوں نے انشاء اللہ نے کہی تو انہیں دوبارہ امتحان میں ڈالا گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کی، تیرا بھائی ان کی مدد نہیں کرتا اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرتا ہے۔
عطاء نے کہا : کسی کے لئے بھی حلال نہیں کہ وہ ظالموں کی مدد کرے اس کے لئے نہ حساب کتاب لکھے اور نہ ہی اس کی سنگت اختیار کرے اگر اس نے اس میں سے کوئی بھی عمل کیا تو وہ ظالموں کا مددگار ہوجائے گا۔ حدیث طیبہ میں ہے :” قیامت کے روز ایک منا دی کرنے والا ندا کرے گا۔ ظالم کہاں ہیں ؟ ظالموں کی مشابہت اختیار کرنے والے کہاں ہیں ؟ اور ظالموں کے مددگار کہاں ہیں ؟ یہیں تک کہ جس نے ان کی دوات کی روشنائی کو درست کیا یا ان کے لئے قلم چھیلی تو انہیں لوہے کے ایک تابوت میں جمع کیا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ “
نبی کریم ﷺ سے مروی ہے فرمایا :” جو آدمی کسی مظلوم کے ساتھ چلاتا کہ اس کے ظلم کیخلاف اس کی مدد کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کے قدم صراط پر ثبت فرما دے گا جس روز قدم پھسل جائیں گے اور جو آدمی ظالم کے ساتھ چلاتا کہ اس کے ظلم پر اس کی مدد کرے اللہ تعالیٰ اس کے قدموں کو پھسلا دیگاجس روز قدم پھسل جائیں گے۔ “ حدیث طیبہ میں ہے : ” جو ظالم کے ساتھ چلا تو اس نے جرم کیا۔ “ ظالم کے اتھ چلنا جرم نہیں مگر اس صورت میں جب وہ اس کی مدد کرے کیونکہ اس نے ایسے امر کا ارتکاب کیا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا : ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (المائدہ : 2)
Ayahs 28:18–19فاصبح فی المدینۃ حآئفاً سورة طہ اور دوسری سورتوں میں یہ بحث گزر چکی ہے کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام خوف کیا کرتے تھے۔ یہ ان لوگوں کا رد ہے جو اس کے خلاف قول کرتے ہیں خوف نہ تو معرفت کے خلاف ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے توکل کے خلاف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نفس کے قتل کی وجہ سے خوفزدہ نہ ہوتے کہ اس پر آپ کا مواخذہ کیا جائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اپنی قوم سے خوف تھا کہ کہیں وہ آپ کو فرعون کے سپرد ہی نہ کر دے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ سے خوف تھا۔ یترقب سعید بن جبیر نے کہا : خوف کی وجہ سے مڑ کر پیچھے دیکھتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تلاش کا انتظار کرتے تھے اور اس امر کا انتظار کرتے تھے لوگ جو باتیں کر رہے ہیں۔ قتادہ نے کہا، وہ طلب کی انتظار کرتے تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نکلے تاکہ خبر سے آگاہی حاصل کریں۔ اسرائیی کے علاوہ کسی کو پتہ نہ تھا کہ قبطی کو کس نیقتل کیا ہے۔ اصبح اس کے بارے میں احتمال ہے کہ وہ صادر کے معنی میں ہے یعنی جب قتل کیا تو خوفزدہ ہوگئے۔ یہ بھی جائز ہے کہ وہ اس صبح میں داخل ہوئے یعنی اس دن کی صبح میں جو اس دن کے پیچھے تھا۔ خآئفایہ منصوب ہے کیونکہ یہ اصبح کی خبر ہے اگر تو چاہے تو اسے حال بنا لے تو پھر ظرف خبر کے محل میں ہوگی۔
فاذا الذی استنصرہ بالا مس یستصرخہ تو کیا دیکھتے ہیں وہی اسرائیل جسے گزشتہ روز آپ نے نجات عطا فرمائی تھی وہ ایک قبطی سے جھگڑ رہا ہی جو آپ سے مدد طلب کرنے کا خواہش مند تھا استصراخ کا معنی مدد طلب کرنا ہے۔ یہ صراخ سے مشتق ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مدد طلب کرنے والا مدد لینے کے لئے چیختا ہے اور آواز نکالتا ہے۔ شاعر نے کہا :
کنا اذا ما اتانا صارح فزع کان الصرخ، لہ قرع الظنابیب
جب کوئی گھبرایا ہوا مدد طلب کرنے والا ہمارے پاس آتا ہے تو اس کی چیخ معاملہ کو آسان کردیتی ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مدد طلب کرنے والا اسرائیلی وہ سامری تھا جسے فرعون کے نانبائی نے مطبخ تک لکڑیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا تھا، قشیری نے اس کا ذکر کیا ہے۔ الذی یہ مبتداء ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے۔ یستصرخہ خبر کی جگہ ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے۔ امس اس دن کو کہتے ہیں جو تیرے دن سے پہلے ہو۔ یہ اجتماع ساکنین کی وجہ سے مبنی برکسرہ ہے۔ جب اس پر الف لام داخل ہو یا یہ مضاف ہو تو معرب ہوجاتا ہے تو اس کو رفع اور فتحہ کے ساتھ اعراب دیا جاتا ہے، یہ اکثر نحویوں کا نقطہ نظر ہے۔ اس میں کچھ وہ ہیں جو اس کو مبنی قرار دیتے ہیں جب کہ اس میں الف لام ہو۔ سیبویہ اور دور سے علماء نے کہا کہ عربوں میں سے کچھ وہ ہیں کہ وہ اس کو رفع کے محل میں خصوصاً غیر منصرف قرار دیتے ہیں بعض اوقات شاعر مجبور ہوتا ہے تو وہ محل جر اور محل نصب میں بھی غیر منصرف قرار دیتے ہیں۔ شاعر نے کہا :
لقت رایت عجباً مذامس
یہاں اس کو مذ کی وجہ سے جروی ہے جب کہ عمدہ لغت رفع ہے لغت ثانیہ کی بنا پر اس کو محل جر میں رفع کی جگہ رکھا۔
قال لہ موسیٰ انک لغوی مبین غوی کا معنی نقصان اٹھانے والا ہے کیونکہ تو اس کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے جس کے مقابل ہ کی طاقت نہیں رکھتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تو گمراہ ہے جس کی گمراہی واضح ہے میں نے کل تیری وجہ سے ایک آدمی کو قتل کردیا اور آج تو مجھے ایک اور کے لئے بلاتا ہے۔ غوی یہ اغوی یغوی سے فعیل کا وزن ہے۔ یہ مغو کے معنی میں ہے یہ وجیع اور الیم کی طرح ہے۔ جو موجع اور مولم کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : غوی یہ غاوی کے معنی میں ہے تو ایسے آدمی کے ساتھ جنگ کرنے میں گمراہ ہے جس کی شر کو دور کرنے کی تو طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت حسن بصری نے کہا، آپ نے قبطی سے فرمایا انک لغوی مبین یعنی اس اسرائیلی سے خدمت لینے میں تو گمراہ ہے۔ آپ نے ارادہ کیا کہ اسے پکڑ لیں۔ یوں باب ذکر کیا جاتا ہے بطش یبطش ضمہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ یہ ایسا فعل ہے جو متعدی نہیں ہوتا۔
قال یموسی اترید ان تقتلنی ابن جبیر نے کہا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادہ کیا کہ وہقبطی کو پکڑیں تو اسرائیلی نے گمان کیا کہ آپ اسے پکڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ آپ نے اس سیسخت کلامی کی تھی۔ اس اسرائیلی نے کہا : اترید ان تقتلنی کما قتلت نفسا بالا مس قبطی نے یہ گفتگو سن لی اور راز کو افشا کردیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اسرائیلی نے قبطی کو پکڑنے کا ارادہ کرلیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے منع کیا تو اسرائیلی کو خوف لاحق ہوا تو کہا : اترید ان تقتلنی کا قتلت نفساً بالا مس
ان ترید ان مانا فیہ کے معنی میں ہے۔ الا ان تکون جباراً فی الارض جبار کا معنی قتال ہے۔ عکرمہ اور شعبی نے کہا ایک آدمی اس وقت تک جبار نہیں ہو سکتا جب تک وہ آدمیوں کو ناحق تل کر دے۔ وماترید ان تکون من المصلحین یعنی ان لوگوں میں سے جو لوگوں کے درمیان اصلاح احوال کی کوشش کرتے ہیں۔