Ayahs 28:1–2(28:1) الکتب المبین : موصوف وصفت واضح کتاب جو حرام اور حلال میں اور حدود و احکام کو واضح طور پر بیان کرتی ہے۔ مراد اس سے القرآن ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔
Ayah 28:3(28:3) نتلوا مضارع جمع متکلم تلاوۃ مصدر۔ ہم تلاوت کرتے ہیں۔ ہم پڑھتے ہیں۔ ہم پڑھ کر سناتے ہیں۔
نباء خبر۔ واقعہ۔ قصہ۔
Ayah 28:4(28:4) علا۔ ماضی واحد مذکر غائب علو مصدر (باب نصر) وہ غالب آیا ۔ وہ چڑھ گیا۔ اس نے چڑھائی کی۔
العلو کسی چیز کا بلند ترین حصہ۔ سفل کی ضد ہے۔ علا فی الارض اس نے ملک مصر میں سر اٹھا رکھا تھا۔ بعض نے علا کے معنی تجبر و تکبر کے لئے ہیں یعنی جبر و تکبر میں بڑھا ہوا تھا۔ اور ظلم ۔ عدوان میں حد سے بڑھا ہوا تھا۔
شیعا۔ شیعۃ کی جمع ہے بحالت نصب ۔ فرقے ۔ گروہ۔ وجعل اہلہا سیعا اور اس ملک الارض کے باشندوں کو گروہ در گروہ کر رکھا تھا۔ (مختلف مقاصد کے لئے)
یستضعف۔ مضارع واحد مذکر غائب (بمعنی ماضی استعمال ہوا ہے) استضعاف (استفعال) مصدر۔ ضعف مادہ۔ اس نے کمزور کر رکھا تھا۔
طائقۃ۔ گروہ، جماعت ، یہاں مراد بنی اسرائیل ہیں ۔
یذبح ابناء ہم ویستحی نساء ہم۔ یہ تو جملہ سابقہ کا بدل ہے یا یستضعف کی ضمیر سے حال ہے۔ مضارع حال بمعنی ماضی مستعمل ہے۔ یذبح ابناء ہم : یذبح مضارع واحد مذکر غائب تذبیح (تفعیل) مصدر وہ ذبح کردیتا تھا۔ ضمیر فاعل فرعون کی طرف راجع ہے۔ یستحی مضارع واحد مذکر غائب استحیاء (استفعال) مصدر وہ زندہ رہنے دیتا تھا۔ ضمیر فاعل کا مرجع فرعون ہے۔ اس باب سے بمعنی شرم کرتا ہے۔ وہ جھجکتا ہے۔ بھی آیا ہے مثلاً ان ذلکم کان یؤذی النبی فیستحی منکم (33:53) یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی تھی اور وہ تم سے (چلے جانے کے لئے کہنے سے) شرم کرتے تھے۔
اور فجاء تہ احدھما تمشی علی استحیاء (28:25) (کچھ دیر بعد ان دونوں میں سے) ایک خاتون شرم و حیا سے چلتی ہوئی اس کے پاس آئی۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب طائفۃ کی طرف راجع ہے۔ جمع کا صیغہ طائفۃ میں تعداد افراد کی رعایت سے آیا ہے۔
Ayah 28:5(28:5) نرید۔ مضارع جمع متکلم ارادۃ (افعال) مصدر۔ ہم چاہتے ہیں ۔ یہاں مضارع بمعنی ماضی آیا ہے۔ ہم نے ارادہ کیا۔ ہم نے چاہا۔ رود مادہ۔
ان لمن۔ نمن مضارع جمع متکلم من مصدر۔ باب نصر۔ منصوب بوجہ عمل ان کہ ہم احسان کریں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیہم رسولا من انفسھم (3:164) بیشک اللہ نے بڑا احسان کیا ہے مؤمنوں پر کہ انہی میں سے ایک پیغمبر ان میں بھیجا۔ اور یایھا الذین امنوا لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی (2:624) اے ایمان والو اپنے صدقات کو احسان (جتا کر) اور اذیت (دے کر) ضائع مت کرو۔
استضعفواماضی مجہول جمع مذکر غائب استضعاف (استفعال) مصدر ضعف مادہ وہ کمزور سمجھے گئے۔ وہ ضعیف خیال کئے گئے
ونجعلہم ائمۃ۔ واؤ عطفیہ ہے نجعلہم کا عطف ان نمن پر ہے ای ونرید ان نجعلہم۔ ائمۃ۔ پیشوا ۔ راہنما۔ مقتداء منصوب بوجہ نجعل کے مفعول ہونے کے ہے۔ ونجعلہم ائمۃ اور (یہ کہ) ہم انہیں پیشوا بنائیں ۔
ائمۃ جمع ہے امام کی افعلۃ کے وزن پر جیسے زمان کی جمع ازمنۃ ہے۔ امام بروزن فعال اسم ہے بمعنی من یؤتم بہ جس کا قصد کیا جائے (ام یوم باب نصر اما وامم وتامم وأتم۔ قصد کرنا۔ (امم مادہ) چونکہ مقتدا اور رہنما کا قصد کیا جاتا ہے اس لئے اس کو امام کہتے ہیں غرض جس کی پیروی کی جائے وہ امام ہے خواہ وہ حق میں پیروی ہو یا ناحق میں۔ اور خواہ وہ انسان ہو کہ اس کے قول و فعل کی اقتداء کریں یا کتاب کہ اس کے اوامر اور نواہی پر عمل کیا جائے یا کوئی اور شئی ہو۔
الوارثین۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر منصوب۔ جانشین۔ مالک۔ وارث۔
Ayah 28:6(28:6) ونمکن لہم واؤ عطف کی ہے۔ نمکن کا عطف ان نمن پر ہے۔ نمکن مضارع منصوب جمع متکلم۔ تمکین مصدر (باب تفعیل) ہم ان کو قدرت دیں۔ ہم ان کو تسلط بخشیں۔
تمکینکا لغوی معنی ہے کسی کو ایسی جگہ دیتا کہ وہ اس میں جماؤ کرسکے۔ مجازا حکومت اور قدرت دینے کا معنی ہوگیا۔
نری مضارع جمع متکلم اراء ۃ افعال مصدر ان نری۔ کہ ہم دکھا دیں۔ بےبس و ناتواں گروہ کے ہاتھوں (یعنی بنی اسرائیل) ۔ منہم کا تعلق نری سے ہے یعنی ہم فرعون و ہامان اور ان کی فوجوں کو بنی اسرائیل کے ہاتھوں وہ چیزیں دکھادیں جس کا وہ اندیشہ کرتے تھے ۔ بعض کے نزدیک یہ یحذرون سے متعلق ہے لیکن الصلۃ لاتقدم علی الموصول۔ صلہ موصول سے مقدم نہیں ہوتا۔
ما کانوا یحذرون ۔ میں ما موصولہ ہے یعنی جس کا وہ اندیشہ کرتے تھے۔ یحذرون مضارع صیغہ جمع مذکر غائب کانوا یحذرون۔ ماضی استمراری ہے وہ ڈرتے تھے) وہ اندیشہ کرتے تھے۔ حذر مصدر (باب سمع) ضرر سے بچاؤ کرنا۔ ڈرنا۔
فرعون وھامان وجنودھما تینوں نری کا مفعول اول ہیں اور ماکانوا یحذرون مفعو دوم۔
مطلب یہ ہے کہ فرعون اور اس کے رؤسا ، بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ کی پیدائش اور ان کے ہاتھوں اپنی تباہی سے خائف تھے اور اس سے بچنے کے لئے انہوں نے بنی اسرائیل کے نوزائدہ بچے قتل کرنا شروع کر دئیے تھے لیکن اللہ کو جو منظور تھا وہ ہو کر رہا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور فرعون کے گھر ہی پرورش پائی اور بعد میں ان ہی کی بددعا سے مختلف آفات ارضی و سماوی سے ان کا ناک میں دم رہا اور انجام کار دریائے نیل میں غرقاب ہوئے۔
Ayah 28:7(28:7) واوحینا۔ ماضی جمع متکلم ایحاء افعال مصدر وحی مادہ۔ ہم نے وحی کی ہم نے دل میں ڈال دیا۔ یہاں وحی بصورت الہام مراد ہے واؤ کا عطف محذوف پر ہے تقدیر کلام یوں ہے۔ ووضعت موسیٰ امہ فی زمن الذبح فلم تدر ما تصنع فی امرہ واوحینا ۔۔ لڑکوں کو ذبح کئے جانے کے زمانے میں حضرت موسیٰ کی ماں نے انہیں جنم دیا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اب اس کے متعلق کیا کرے ، پس ہم نے وحی کی۔ ۔۔
ان ارضعیہ : ان بمعنی ای (تفسیر یہ) یا مصدریہ ہے۔ ارضعی فعل امر واحد مؤنث۔ حاضر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ۔ ارضاح افعال مصدر ۔ جس کے معنی بچے کو دودھ پلانے اور پستان چوسانے کے ہیں تو اس کو دودھ پلا۔ تو اس کو دودھ پلاتی رہ۔
القیہ : القی فعل امر واحد مؤنث حاضر القاء افعال مصدر۔ ڈالنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ۔ راجع بطرف موسیٰ ۔ تو اس کو ڈال دے۔
الیم : الیم کے معنی دریا کے ہیں یہاں مراد دریائے نیل ہے۔
عادوہ : رادو۔ رد سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے اصل میں را دون تھا نون جمع اضافت کی وجہ ست گرگیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب راجع بسوئے موسیٰ (علیہ السلام) (ہم) اس کو لوٹا دیں گے تیری طرف (ہم) اس کو لوٹا دینے والے ہیں۔
جاعلوہ : جاعلوا اصل میں جاعلون (اسم فاعل جمع مذکر جعل سے) تھا ۔ نون جمع بوجہ اضافت گرگیا۔ ہم اس کو بنانے والے ہیں۔ یعنی ہم اس کو بنائیں گے۔
Ayah 28:8(28:8) فالتقطہ :جملہ محذوف پر عطف ہے ای ففعلت ما امرت بہ من ارضاعہ والقائد فی الیم لما خافت علیہ۔ یعنی دودھ پلانے اور جان کے خوف کی صورت میں دریا میں ڈال دینے کے متعلق جو اسے کہا گیا تھا اس نے ایسا ہی کیا۔ التقط التقاط (افتعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر گا ئب ہے جس کے معنی بلا قصد و طلب کسی چیز کو پانے اور اس کو اٹھا لینے کے ہیں۔ یہاں صیغہ واحد جمع کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی ال فرعون (فرعون کے لوگوں نے) اسے اٹھالیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب راجع بطرف موسیٰ ۔
لیکون۔ میں لام عاقبت کا ہے ۔ یعنی انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا سے اس لئے نہیں نکالا تھا کہ وہ بڑا ہو کر ان کا دشمن بنے اور رنج و غم کا باعث بنے لیکن ان کے فعل کا انجام عاقبۃ یہی نکلا۔ لام عاقبت یا لام مآل کسی فعل پر مرتب ہونے والے نتیجہ کو ظاہر کرتا ہے۔ خواہ واقع میں اس نتیجہ کے حصول کے لئے وہ کام نہ کیا گیا ہو۔ اس کی مثال ربان انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ واموالا فی الحیوۃ الدنیا ربنا لیضلوا عن سبیلک (10:88)
فرعون اور اس کے سرداروں کو سامان زینت اور مال وزر اس واسطے نہیں دیا گیا تھا کہ وہ لوگوں کو خدا کے راستے سے گمراہ کریں لیکن اس دادودہش پر جو نتیجہ مرتب ہوا وہ یہی تھا کہ وہ لوگوں کو راہ راست سے گمراہ کرتے رہے۔
اسی طرح آیت ہذا میں فرعون کے لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا سے اس واسطہ نہیں نکالا تھا کہ وہ ان کا دشمن بنے اور باعث حزن و الم ہو لیکن اس کا مال و انجام کار یہی ہوا۔
بعض نے اس کو لام علت ہی قرار دیا ہے اور چونکہ واقع میں لام کا مابعد لام کے ماقبل کے لئے علت نہیں ہے اس لئے اس کو لام تعلیل واقعی نہیں بلکہ تعلیل نما کہا جائے گا۔ یعنی فعل کا نتیجہ یہ نکلا خواہ کام اس نتیجہ کے لئے نہیں کیا گیا تھا۔
تو اس جملہ کا ترجمہ یہ ہوگا :۔ فرعون کے آدمیوں نے اس کو ٹھا لیا کہ (بمقضائے مشیت ایزدی) وہ (انجام کار) ان کا دشمن بنے اور ان کے لئے حزن و ملال کا باعث بنے۔ مفصل بحث کے لئے ملاحظہ ہو اضواء البیان تفسیر سورة القصص۔
کانوا خطئین۔ وہ خطا کار تھے۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) یعنی بوجہ ظلم و کفر کے وہ خطا کار تھے۔ اور ایسے ظالموں اور کافروں کو سزا ملنی ہی چاہیے تھی۔ (کہ خواد ان کے ہاتھوں ان کا دشمن پروان چڑھے) جو مال کار ان کی تباہی کا سبب ہو۔
(2) دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ اپنے اس محل میں بڑے خطاکار اور بڑے لغزش کھانے والے ثابت ہوئے۔
(3) تیسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کانوا خطئین : فی کل شیء فلیس خطؤہم فی تربیۃ عدوھم یبدع منھم۔ یعنی وہ تو ہر امر میں خطاکار رہے تھے۔ لہٰذا اپنے ہاتھوں اپنے دشمن کو ترتیب دینا ان کے لئے کوئی انوکھی بات نہ تھی۔
Ayah 28:9(28:9) قرت عین لی ولک : ای ھو قرۃ عین کائنۃ لی ولک ھو مبتدا محذوف قرت عین مضاف مضاف الیہ مل کر خبر کائنۃ لی ولک متعلق خبر۔ یہ بچہ آنکھوں کی ٹھنڈک ہے میرے لئے اور تیرے لئے۔
لا تقتلوہ۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ یہ خطاب فرعون سے ہے جمع کا صیغہ تعظیم کے لئے لایا گیا ہے ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب راجع بسوئے موسیٰ (علیہ السلام) ۔
وہم لا یشعرون ۔ : ولدا پر فرعون کی بیوی کا خطاب ختم ہوا۔ وہم لا یشعرون جملہ حالیہ ہے عبارت ماقبل پر۔ ای فالتقطہ ال فرعون لیکون لہم عدوا وحزنا وقالت امراتہ کیت وکیت ۔۔ وہم لا یشعرون بانھم علی خطاء عظیم فیما صنعوا۔ فرعون کے لوگوں نے اس کو دریا سے نکال لیا۔ اپنا دشمن بننے کے لئے اور باعث حزن ہونے کے لئے اور فرعون کی عورت نے کہا قرت عین ۔۔ ولد۔ اور حال یہ تھا کہ اس دوران انہیں کچھ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ ایک خطاء عظیم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
Ayah 28:10(28:10) اصح ۔۔ فارغا : ای صار خالیا من کل شیء غیر ذکر موسیٰ علیہ السلام۔ حضرت موسیٰ کی یاد اور اس کے خیال کے سوا ہر چیز سے خالی ہوگیا۔
الفراغ۔ یہ شغل کی ضد ہے فرغ یفرغ فروغا۔ خالی ہونا۔ فارغ خالی۔ افرغت الدلو کے معنی ڈول سے پانی بہا کر اسے خالی کردینا کے ہیں اور استعارہ اسی سے ہے افرغ علینا صبرا (2:250) ہم پر صبر کے دہانے کھول دے۔
ان کا دت میں ان ان سے مخفف ہے اور لتبدی بہ میں لام الفارقہ ہے اور بہ میں ہ ضمیر مجرور راجع بسوئے موسیٰ (علیہ السلام) ہے
ان کا دت ای انھا کا دت۔ ھا ضمیر قصہ ان کا اسم ہے۔ قریب تھا کہ وہ موسیٰ (کے راز) کو ظاہر کردیتی۔
لالا۔ امتناعیہ ہے۔ لو حرف شرط۔ اور لا نافیہ سے مرکب ہے۔ اگر نہ ہوتا۔
ان مصدریہ ہے لولا ان ربطنا علی قلبھا۔ یعنی اگر ہماری طرف سے اس کو تقویت قلب نہ ملتی۔
ربطنا علی قلبھا : ربطنا ماضی جمع متکلم ربط مصدر۔ (باب نصر، ضرب) حفاظت کے لئے مضبوط باندھنا ۔ ربط الفرس۔ گھوڑے کو حفاظت کے لئے کسی جگہ پر باندھ دینا۔ اسی سے ہے رباط الجیش۔ فوج کا کسی جگہ پر متعین کرنا۔ وہ مقام جہاں حفاظتی دستے متعین رہتے ہوں اسے رباط کہا جاتا ہے۔
ربط اللہ علی قلبہ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو قوت بخشی اور صبر عطا کیا۔ لہٰذا جملہ کا ترجمہ ہوگا۔ اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کرتے اور اسے صبر عطا نہ کرتے۔
لولا کا جواب محذوف ہے ای لولا ان ربطنا علی قلبھا لابدتہ اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ کرتے تو وہ اسے (یعنی موسیٰ کے راز کو) ضرور ظاہر کردیتی۔
لتکون من المؤمنین۔ یہ علت ہے ربط علی القلب کی۔ لام تعلیل کا ہے تکون مضارع واحد مؤنث غائب ضمیر کا مرجع ام موسیٰ ہے۔ تاکہ وہ بنی رہے یقین کرنے والوں میں سے۔ یہاں ایمان سے مراد یقین و تصدیق ہے۔ یعنی ہم نے اس کے دل کو مضبوط رکھا اور اسے صبر عطا فرمایا تاکہ وہ ہمارے اس وعدہ پر راسخ القلب اور راسخ الیقین رہے۔ کہ ہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کی طرف لوٹا دیں گے۔ اور ہم اس کو رسولوں میں سے بنائیں گے۔
Ayah 28:11(28:11) قصیہ۔ قصی فعل امر واحد مؤنث حاضر۔ قص یقص (مضاعف باب نصر) قص وقصص۔ وعلی اثرہ کسی کے پیچھے جانا۔ کسی کے نشان قدم پر چلنا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب حضرت موسیٰ کی طرف راجع ہے۔ تو اس کے پیچھے پیچھے جا۔ اور جگہ اسی معنی میں آیا ہے فارتدا علی اثارھما قصصا۔ (18:64) تو وہ اپنے پاؤں کے نشانات پر الٹے لوٹے۔
اخبار متتبعہ کو القصص (واحد، القصۃ) کہتے ہیں ۔
فبصرت بہ ای ابصرتہ وہ اس کو دیکھتی رہی یعنی اس کے پیچھے پیچھے چلی اور اسے نظروں میں رکھا۔فصیحت کے لئے ہے۔
عن جنب۔ الجنب اصل میں اس کے معنی پہلو۔ طرف کے ہیں ۔ اور پہلو کے معنی میں اس کی جمع جنوب ہے جیسے کہ قرآن مجید میں اور جگہ ہے قیاما وقعودا او علی جنوبھم (3:191) جو کھڑے اور بیٹھے ہوئے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے ۔۔ پھر بطور استعارہ پہلو کی سمت کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ جیسا کہ یمین ۔ شمال اور دیگر اعضائیں عرب لوگ لوگ استعارات سے کام لیتے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے کہ :۔ من عن یمینی مرۃ وامامی۔ (کبھی دائیں جانب ست اور کبھی سامنے سے) ۔
الجنب سے فعل دو معنی میں استعمال ہوتا ہے :۔
(1) کسی کی سمت مخالف کو جانا یا اس سے دور ہونا۔ یا دور کرنا۔ بچنا۔ بچانا۔ جیسے وسیجنبھا الاتقی (92:17) اور پرہیزگار اس سے دور رکھا جائے گا۔ (باب تفعیل) اسے سے باب افتعال سے اجتناب ہے۔ بمعنی بچنا۔ پہلو تہی کرنا۔ جیسے واجتنبوا اقول لزور (22:30) اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔ اسے سے اجنبی ہے جس میں دوری کا مفہوم پایا جاتا ہے یا جنب بمعنی جنبی۔ جسے جنابت لاحق ہو۔ جس غسل واجب ہو۔ کہ جب تک وہ غسل نہ کرے نماز اور مسجد سے دور رہتا ہے۔
آیر ہذا میں بھی جنب اسی ” دور “ کے معنی میں آیا ہے۔ ای عن بعد دور سے اسی معنی میں ہے والجار الجنب (4:36) اور دور رہنے والے پڑوسی۔ فبصرت بہ عن جنب۔ پس وہ اسے دور سے دیکھتی رہی۔
(2) سمت موافق کو آنا۔ یا اس کے قریب ہونا۔ مائل ہونا۔ مشتاق ہونا جیسے الصاحب بالجنب (4:36) قریبی دوست، پہلو کا رفیق
وہم لا یشعرون۔ اور وہ لوگ (حقیقت کو) نہیں سمجھتے تھے۔ (کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن ہے اور ان کی تاڑ میں ان کے پیچھے آئی ہے)
Ayahs 28:12–13(28:12) المواضع۔ اگر یہ مرضع کی جمع ہے تو اس کے معنی ہوں گے دودھ پلانے والی دائیاں َ اس صورت میں یہ اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث ہے اور اگر یہ مرضع کی جمع ہے تو یہ اسم ظرف ہے یا مصدر میمی۔ اور معنی ہوں گے چھاتیاں ۔ دودھ پینے کی جگہ۔ یا دودھ پلانا۔ رضع ورضاع ورضاعۃ (ابواب سمع ، ضرب) بچے کا مال کا دودھ پینا۔ اور باب افعال سے ارضاع دودھ پلانا۔ اور باب استفعال سے استرضاع کسی سے دودھ پلوانا۔
وحرمنا علیہ المراضع من قبل : حرم روک لینا۔ منع کرنا۔ اور ہم نے اس سے قبل ہی اس پر دائیوں کا دودھ روک دیا تھا (یعنی وہ پیتے ہی نہ تھے) ۔
من قبل : ای من قبل ان نردھا الی امہ۔ اسے اپنی ماں کے پاس واپس کرنے سے پہلے۔
فقالت : ای دخلت بین المراضع ورأتہ لا یقبل ثدیا فقالت وہ دوسری دائیوں کے ساتھ وہاں پہنچی اور اس نے دیکھا کہ (بچہ) کسی کے پستان سے دودھ نہیں پی رہا تو اس نے کہا۔
ادلکم۔ مضارع واحد متکلم دل یدل دلالۃ (نصر) سے مصدر۔ رہنمائی کرنا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ (کیا) میں تم کو بتاؤں یا تمہاری رہنمائی کروں۔
یکفلونہ لکم : یکفلون مضارع جمع مذکر غائب۔ کفالۃ مصدر (باب نصر) وہ کفالت کریں گے ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ جس کا مرجع موسیٰ (علیہ السلام) ہے۔ جو تمہاری خاطر اس (بچہ) کی پرورش کریں گے۔
ناصحون۔ اسم فاعل جمع مذکر خیر خواہی کرنے والے۔ وہم لہ نصحون ای لا یقصدرون فی خدمتہ وتربیتہ وہ اس کی دیکھ بھال اور ترتیب میں کوتاہی نہیں کریں گے۔
کی۔ تاکہ۔ مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اسے نصب دیتا ہے۔
تقر۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ قر یقر (باب سمع) قرۃ وقرور مصدر۔ جس کے معنی خوشی سے آنکھیں روشن ہوجانا اور ٹھنڈی رہنا کے ہیں اگر اس کا مصدر قرارلیا جائے تو معنی ہوں گے سکون پانا۔ قرار پکڑنا۔ کی تقر عینھا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں
لاتحزن۔ مضارع منفی واحد مؤنث غائب منصوب بوجہ عمل کی۔ حزن مصدر باب سمع۔ تاکہ وہ غم نہ کھائے۔ غمگین نہ ہو وے۔
لتعلم میں لام تعلیل کا ہے اور اسی کے عمل سے مضارع منصوب ہے۔ تاکہ وہ جان لے۔
ولکن اکثرھم لا یعلمون (ان وعدہ حق) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (یا یقین نہیں رکھتے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے)
اکثرھم بمعنی اکثر الناس۔
Ayah 28:14(28:14) اشدہ۔ مضاف، مجاف الیہ۔ اس کا زور جوانی۔ اس کا پورا زور۔ اشد یشد (افعال) شد مادہ۔ عقل یا عمر کی پختگی کو پہنچنا۔ الاشدوا الاشد پورا جوبن۔ پورا زور۔ بلغ فلان اشدہ وہ سن بلوغ کو پہنچا۔ وہ جوانی کی عمر تک پہنچا وہ اپنے شباب کو پہنچا۔ شدید جمع اشداء وشداد وشدود۔ بہادر۔ قوی ۔ مضبوط
استوی۔ نشو و نما میں بہمہ وجوہ مکمل ہوگیا۔ اپنی ہر صفت میں تکمیل و اعتدال کی اس حد تک پہنچ جانا۔ تاکہ مکمل اطمینان و قرار و دل جمعی حاصل ہوجائے۔
حکما۔ حکمت (یعنی نبوت) وعلما (دین و شریعت کا) علم۔
Ayah 28:15(28:15) علی حین غفلۃ من اہلہا : علی بمعنی فی۔ جیسا کہ آیت واتبعوا ما تتلوا الشیطن علی ملک سلیمن (2:102) میں علی بمعنی فی آیا ہے۔ حین غفلۃ۔ غفلت کا وقت۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ المدینۃ کی طرف راجع ہے لفظی ترجمہ ہوگا۔ وہ شہر میں اس کے باسیوں کی غفلت کے وقت میں داخل ہوا۔
یعنی جب اہل شہر غفلت میں تھے قیلولہ کر رہے تھے یا رات کو سو رہے تھے ۔ گویا بازاروں میں چنداں آمدرورفت نہ تھی۔ بعض کے نزدیک یہ ان کی عید کا دن تھا۔ اور وہ لہو ولعب میں مشغول تھے۔
(28:15) من سیعتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ شیعۃ فرقہ۔ گروہ۔ الشیاع کے معنی منتشر ہونے اور تقویت دینے کے ہیں۔ شاع الخبر خبر پھیل گئی اور قوت پکڑ گئی اور شاع القوم قوم منتشر ہوگئی اور زیادہ ہوگئی۔ الشیعۃ وہ لوگ جن سے انسان قوت حاصل کرتا ہے اور وہ اس کے اردگرد پھیلے رہتے ہیں۔ شیعۃ کی جمع شیع واشیاع ہے شیعۃ کا اطلاق واحد تثنیہ جمع ۔ مذکر اور مؤنث سب پر ہوتا ہے۔
استغاثہ : ماضی واحد مذکر غائب استغاثۃ (استفعال) مصدر اس نے مدد کے لئے پکارا۔ اس نے فریاد کی ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع حضرت موسیٰ ہیں ۔ غ و ث، غ ی ث مادہ۔
اسی باب سے بمعنی اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرنے کے بھی آتا ہے لیکن اس صورت میں یہ غ ی ث سے مشتق ہوگا کیونکہ الغیث بمعنی بارش ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث (31:34) بیشک اللہ ہی کو قیامت کی خبر ہے اور وہی بارش برساتا ہے۔
استغاث (باب استفعال) ہر دو مادہ سے آتا ہے اور اس کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ مثلا آیت وان یستغیثوا یغاقوا بماء کالمہل (18:29) اور اگر وہ فریاد کریں گے (یا پانی مانگیں گے) تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے ان کی داد رسی کی جائیگی جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح گرم ہوگا۔ یغاثوا (فعل مجہول) کے بھی دونوں معنی ہوسکتے ہیں پہلی صورت میں یہ اغاث یغیث (افعال) سے ہوگا اور دوسری صورت میں غاث یغیث (ضرب) سے۔
فوکزہتعقیب کا ہے یا اس کا عطف محذوف پر ہے۔ ای غاثہ الذی من شیعتہ فوکزہ الذی من عدوہ۔ وکز (باب سمع و ضرب) ماضی واحد مذکر غائب اس نے گھونسہ مارا۔ مکا مارا۔ کچوکا لگایا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع وہ قبطی ہے جو حضرت موسیٰ کے دشمنوں میں سے تھا ۔
قضی علیہ۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ قضاء مصدر۔ قضا قولی ہو یا عملی یا بشری ہو یا الٰہی۔ بہرحال فیصلہ کردینا یا کرلینا۔ کسی بات کے متعلق آخری حکم یا ارادہ یا عمل کو ختم کردینا ضرور مفہوم قضاء کے اندر ماخوذ ہے۔ سیاق کی مناسبت سے اور مختلف صلات (صلہ کی جمع) کے ساتھ مختلف معانی مراد ہوتے ہیں۔
علی کے صلہ کے ساتھ اکثر موت کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مثلاً ونادوا یملک لیقض علینا ربک (43:77) اور پکاریں گے اے مالک ! (راروغہ جہنم کا اصطلاحی نام) تمہارا پروردگار ہمیں موت ہی دیدے۔ اور فلما قضینا علیہ الموت (34:14) پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر کیا۔ فقضی علیہ : پس اس نے اس کا کام تمام کردیا۔ (یعنی اس کے عمل حیوۃ کو ختم کردیا) ۔ فتمتلہ اسے مار دیا۔ ضمیر فاعل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔
انہ عدو مضل مبین۔ مضل بہکانے والا۔ گمراہ کردینے والا۔ عدو کی صفت ہے۔ مبین ، عدو کی صفت ثانی ہے۔ کھلا۔
Ayah 28:16(28:16) ظلمت نفسی۔ میں نے اپنے نفس پر (یعنی اپنے آپ پر) ظلم کیا ہے بمعنی مجھ سے قصور ہوگیا ہے۔
فغفرلہ پس اللہ نے اسے بخش دیا۔ معاف کردیا۔
Ayah 28:17(28:17) رب : ای یاربی۔
بما انعمت علی۔ میں باء قسم کی ہے ما مصدریہ ہے۔ اور جواب قسم محذوف ہے۔ ای اقسم بانعامک علی لا متنعن عن مثل ھذا الفعل۔ مجھے قسم ہے تیرے انعام کی جو تو مجھ پر کیا ہے کہ میں ایسا فعل ہرگز نہ کروں گا۔ یا میں ایسے فعل سے باز رہوں گا۔
(یہاں انعام سے مراد مغفرت الٰہی ہے کہ خدا نے حضرت موسیٰ کا یہ فعل، یعنی قتل قبطی بخش دیا) ۔ باء سببیہ بھی ہوسکتی ہے اس صورت میں معنی ہوں گے تیرے اس انعام کی وجہ سے جو تو نے مجھ پر کیا ہے اب ہرگز مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا۔
فلن اکوت ظھیرا للمجرمین۔ اس کا عطف جواب قسم (مذکورہ بالا پر) ہے ۔ پس میں ہرگز مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا۔ لن اکون مضارع نفی تاکید بہ لن واحد متکلم۔ میں ہرگز نہ بنوں گا۔
ظھیرا بروزن فعیل بمعنی فاعل مظاھرۃ سے صفت کا صیغہ ہے۔ معین ، مددگار۔ یاور۔۔ پشیتبان ۔ واحد اور جمع دونوں کے لئے مستعمل ہے۔
Ayah 28:18(28:18) فاصبح۔ دخل وہ داخل ہوا۔ پھر اس کو صبح ہوگئی۔ اس نے صحیح کردی۔
خائفا : اصبح کا فاعل سے حال ہے۔ خوف کھاتے ہوئے۔ خائف ، ڈرتے ہوئے، خوف و اندیشہ کی حالت میں۔
یترقب۔ مضارع واحد مذکر غائب ترقب (تفعل) مصدر جس کے معنی ہیں انتظار کرتے ہوئے کسی چیز سے بچنا۔ یعنی اس انتظار میں صبح کردی کہ دیکھیں قتل کے نتیجے میں کیا ہوتا ہے یا خفیہ توہ لگاتے صبح کردی۔ یترقب۔ حال اول خائفا کا بدل ہے یا اس کی تاکید ہے۔
خائفا خبر بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں اصبح فعل ناقص اور ضمیر موسیٰ (علیہ السلام) اس کا اسم ہوگا اور جملہ یترقب خبر بعد خبر یا خائفا کی ضمیر فاعل سے حال ہوگا۔ مطلب یہ کہ قتل کے بعد حالات کیا صورت اختیار کرتے ہیں اس انتظار میں ہراساں و اندیشہ کناں شہر میں صبح کردی۔
فاذا میں اذا حرف مفاجاتیہ ہے اصل میں فاذا تھا۔ بمعنی ناگہاں۔ اچانک جیسے اور جگہ قرآن مجید میں ہے فالقھا فاذا ہی حیۃ تسعی (20:20) پس اس (موسی) نے اس (عصا) کو ڈالا اور وہ ناگہاں سانپ بن کر دوڑنے لگا۔
استنصرہ۔ ماضی واحد مذکر غائب استصار استفعال مصدر نصر۔ مادہ ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع موسیٰ (علیہ السلام) ہے۔ اس نے اس سے مدد طلب کی۔ الذی استنصرہ جس نے (کل) اس سے مدد طلب کی تھی۔
یستصرخہ۔ مضارع واحد مذکر غائب استصراخ استفعال مصدر سے صرخ مادہ۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب راجع بسوئے موسی۔ وہ ان سے چیخ کر فریاد کر رہا ہے باب استفعال سے زور زور سے پکار کر مدد طلب کرنا۔ یستصرخہ وہ آج پھر ان سے مدد طلب کردیا ہے۔ مدد کے لئے پکار رہا ہے۔
غوی۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے بروزن نبی فعیل۔ غی مصدر غوی مادہ ۔ بےراہ۔ گمراہ۔ بدراہ۔
Ayah 28:19(28:19) فلما ان اراد ان یبطش بالذی۔ اس میں پہلا ان زائدہ ہے اور لما کی تاکید کے لئے آیا ہے ۔ دوسرا ان مصدریہ ہے اور اسی کی وجہ سے مضارع منصوب ہے بطش مصدر۔ (باب ضرب) سختی اور قوت کے ساتھ پکڑنا۔ ان بثش ربک لشدید (85:12) بیشک تمہارے پروردگار کی گرفت بڑی سخت ہے۔ ترجمہ :۔ پس جب اس (حضرت موسیٰ ) نے پکڑنے کا ارادہ کیا۔
عدو لہما۔ دونوں کا دشمن ۔ یعنی قبطی کیونکہ وہ ان دونوں کے مذہب پر نہ تھا۔ اور قبطی اسرائیلیوں کے سب سے بڑھ کر دشمن تھے
قال یموسی۔ قال میں ضمیر فاعل اس اسرائیلی کی طرف راجع ہے جو کل کی طرح آج بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو امداد کے لئے پکار رہا تھا۔ بعض کے نزدیک اس کا مرجع القبطی ہے۔
ان ترید۔ میں ان نافیہ ہے۔
جبارا۔ زبردست دباؤ والا۔ سرکش۔ انسان کا ناجائز تعلی کے ذریعہ اپنے نقص کو چھپانے کی کوشش کرنا۔ جبر کہلاتا ہے۔ لیکن جب یہ باری تعالیٰ کی صفت ہو تو اس کے اشتقاق میں اہل لغت سے دو قول منقول ہیں :۔
(91 بعض نے کہا ہے کہ یہ جبرت الفقیر کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی فقیر کی حالت کو درست کرنے اور اسے بےنیاز کردینے کے ہیں۔ یعنی باری تعالیٰ بھی چونکہ اپنے فیضان نعمت سے لوگوں کی حالتیں درست کرتا ہے اور ان کے نقصانات پورے کرتا ہے اس لئے اسے الجنار کہا جاتا ہے۔
(2) یہ کہ چونکہ اللہ تعالیٰ اپنے ارادہ کے آگے سب کو مجبور کردیتا ہے اس لئے وہ جبار ہے یہاں ان تکون جبارا فی الارض کا ترجمہ یوں ہے :۔ کہ تو ملک میں زبردستی اور سینہ زوری کرنے والا بنے۔
Ayah 28:20(28:20) اقصا المدینۃ : اقصی افعل التفصیل کا صیغہ ہے قصوی مؤنث قصا یقصوا قصو وقصاء (قصی مادہ) دور ہونا۔
یسعی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ سعی مصدر (باب فتح) دوڑتا ہوا۔ السعی تیز چلنے کو کہتے ہیں فلما بلغ معہ السعی (37:102) جب وہ ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا۔ مناسک حج میں سعی صفا اور مروہ کے درمیان چلنے کے لئے مخصوص ہے۔ یسعی رجل کی صفت ہے یا اس کا حال ہے۔
الملا۔ اسم جمع معرف باللام۔ سرداروں کی جماعت۔
یاتمرون بک۔ یا تمرون مضارع جمع مذکر غائب۔ ایتمار (افتعال) مصدر۔ امر مادہ۔ باہم مشورہ کرنا۔ اگر ایتمار کے صلے میں باء مذکور ہو جیسا کہ اس آیت میں ہے تو کسی کے متعلق باہم مشورہ کرنے اور قصد کرنے کا معنی ہوتا ہے۔
Ayah 28:21(28:21) خائفا یترقب۔ ڈرتے ہوئے اور (اپنی گرفتاری کا) کھٹکا و اندیشہ لئے ہوئے (ملاحظہ ہو آیت 18 مذکورہ بالا)
Ayah 28:22(28:22) توجہ۔ ماضی واحد مذکر غائب توجہ (تفعل) مصدر۔ وہ متوجہ ہوا۔ اس نے رخ کیا۔ اس نے (ادھر کو) منہ کیا۔
تلقائ۔ طرف ۔ لقاء سے۔ جس کے معنی ملاقات کرنے کے ہیں۔ اسم ہے بمعنی ملاقات کرنے اور آمنے سامنے ہونے کی جگہ کو تلقاء کہتے ہیں اور اسی اعتبار سے طرف اور جہت کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔
قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے واذا صرفت ابصارہم تلقاء اصحب النار (7:47) اور جب ان کی نگاہیں اہل دوزخ کی طرف پھیری جائیں گے !
عسی ربی ان یھدینی۔ عسی افعال مقاریہ میں سے ہے بمعنی قریب ہے ممکن ہے۔ توقع ہے۔ اندیشہ ہے۔ کھٹکا ہے۔ (ہر دو مؤخر الذکر میں بھی قرب زمانہ کا مفہوم بھی موجود ہے) ۔ یہاں بمعنی توقع ہے۔ امید ہے (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو الاتقان فی علوم القرآن جلد اول نوح چہلم) ۔ جملہ کے معنی ہوں گے : امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے (سیدھے راستہ کی) راہنمائی کریگا۔
سواء السبیل۔ وسطی راستہ۔ (جو نہ دائیں طرف کو جائے نہ بائیں طرف کو جائے بلکہ درمیانی راستہ جو سیدھا نصب العین کی طرف لیجائے) سیدھا راستہ۔
Ayah 28:23(28:23) ماء مدین مضاف مضاف الیہ مدین بوجہ عجمہ و معرفہ غیر منصرف ہے۔ مدین کا پانی۔ یہاں ماء سے مراد (بئر کانوا یسقون منھا مواشیہم) چاہ (کنواں) ہے جہاں سے وہ اپنے مویشیوں کو پانی پلاتے تھے۔
امۃ۔ جماعت ۔ انبوہ۔ آدمیوں کا اجتماع۔
من دونھم۔ ان سے ورے۔ ان سے ایک طرف۔ ان سے الگ۔ من دون۔ علاوہ ۔ سوا۔
تذودان۔ مضارع تثنیہ مؤنث غائب۔ وہ دونوں عورتیں روکتی ہیں۔ ہٹاتی ہیں ذاد یذود ذود (باب نصر) مطلب کہ اپنے ریوڑ کو ایک طرف روکے ہوئے ہیں ۔
خطبکما۔ مضاف مضاف الیہ ۔ خطب حال۔ معاملہ۔ حقیقت ، بات۔ الخطب والمخاطبۃ والتخاطب باہم گفتگو کرنا۔ ایک دوسرے کی طرف بات لوٹانا۔ اسی سے خطبۃ اور خطبۃ ہے لیکن خطبۃ وعظ و نصیحت کے معنوں میں آتا ہے۔ اور خطبۃ کے معنی نکاح کا پیغام جیسا کہ ولا جناح علیکم فیما عرضتم بہ من خطبۃ النساء (2:235) اگر تم کنایۃ عورتوں کو نکاح کا پیغام بھیجو تو تم کو کچھ گناہ نہیں۔
الخطب اہم معاملہ جس کے بارے میں کثرت سے تخاطب ہو۔ خطبۃ تقریر ۔ گفتگو ۔ مخاطب جس سے گفتگو کی جائے۔ خطیب واعظ۔ تقریر کرنے والا۔
لا نسقی مضارع نفی جمع متکلم۔ شقی مصدر (باب ضرب) ہم نہیں پلاتے ہیں۔
یصدر۔ مضارع واحد مذکر غائب (باب افعال) اصدار۔ مصدر۔ منصوب بوجہ ان مقدرہ بعد حتی۔ مصدر کے اصل معنی پانی سے سیر ہو کر واپس لوٹنے کے ہیں باب افعال سے اس کے معنی پانی پلا کر واپس لوٹا لانے کے ہیں۔
حتی یصدر الرعاء جب تک یہ چرواہے (اپنے جانوروں کو) پانی پلا کر واپس لوٹا کر نہیں لے جاتے۔ اس کا مادہ صدر ہے۔ الصدر سینہ کو کہتے ہیں پھر بطور استعارہ ہر چیز کے اعلیٰ حصہ کو (اگلے حصے کو) صدر کہنے لگے۔ جیسے صدر المجلس۔ رئیس مجلس ۔
نحو کی اصلاح میں مصدر وہ اسم ہے جس سے تمام افعال اور صفت کے صیغے مشتق ہوتے ہیں۔
الرعائ۔ الراعی کی جمع رعی سے اسم فاعل کا صیغہ ہے بمعنی چروایا۔ گلہ بان ۔
Ayah 28:24(28:24) فسقی لہما ای فسقی غنمھما لاجلہما اس نے ان دونوں کی طرف سے ان کے ریوڑ کو پانی پلایا۔
تولی۔ وہ پھر آیا۔ وہ واپس مڑا۔ اس نے منہ موڑا۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ تولی باب تفعل سے۔ ولی مادہ۔
رب یا ربی۔ اے میرے پروردگار۔
فقیر۔ محتاج ۔ رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر : ای رب انی فقیر لما انزلت الی من خیر۔
فقیر۔ ان کی خبر ہے ما موصوف نکرہ اور اس کے بعد کا جملہ انزلت الی من خیر صفت دونوں مل کر متعلق خبر۔
اس آیت کے کئی معنی ہوسکتے ہیں :۔
(1) لما۔ بمعنی لای شیئ۔ یعنی میں تیری ہر اس نعمت کا جو تو مجھے عطا کرے محتاج ہوں (جمہور)
(2) لما میں لام تعلیل کا بھی ہوسکتا ہے اس اعتبار سے معنی ہوں گے۔ تو نے مجھ پر اس قدر انعام کئے ہیں بایں سبب میں تیرے انعامات کا اور محتاج ہوگیا ہوں۔ یعنی ہر انعام جو تو مجھ پر کرتا ہے میری تشنگی کو اور بڑھاتا ہے (شوکانی)
(3) میں واقعی اس خیر و برکت کا محتاج ہوں جو تو نے میری طرف اتاری ہے۔ (ضیاء القرآن)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس دعا کی یہ وجوہات ہوسکتی ہیں :۔
(1) حضرت موسیٰ کا طویل سفر کے بعد بھوکا پیاسا اور تھکا ماندہ ہونا بالکل قدرتی امر تھا۔ آپ سایہ میں آکر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ سے رزق کے لئے دعا کی (ماجدی)
(2) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا بھوک اور پیاس کی بےچینی کی وجہ سے نہ تھی بلکہ فرعون سے نجات پر اظہار تشکر کے طور پر تھی۔
Ayah 28:25(28:25) علی استحیائ۔ استفعال سے مصدر ہے ۔ شرمانا۔ حیا کرنا۔ شرم و حیا سے (چلتی ہوئی) یہ تمشی کی ضمیر فاعل سے حال ہے
لیجزیک لام تعلیل کا ہے یجزی مضارع واحد مذکر غائب (منصوب بوجہ لام تعلیل۔ جزی یجزی (ضرب) جزاء مصدر۔ بدلہ، دینا۔ ھزاء دینا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ تاکہ وہ تجھے بدلہ دے۔ (اس کا مرجع موسیٰ (علیہ السلام) ہیں) ۔
ماسبقت لنا۔ میں ما مصدریہ بھی ہوسکتا ہے۔ ہمارے لئے (ریوڑ کو) پانی پلانے کا ۔
Ayah 28:26(28:26) یابت۔ اے باپ۔ اب پر نداء کے وقت ت زیادہ کردیتے ہیں۔
استاجرہ : استاجر فعل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ استیجار (استفعال) اجر مادہ۔ مزدوری پر نوکر رکھنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب تو اس کو اجرت پر نوکر رکھ لے۔
ان ۔۔ الامین۔ بیشک بہتر آدمی جس کو آپ نوکر رکھیں وہ ہے جو طاقت ور بھی ہو اور دیانت دار بھی۔
Ayah 28:27(28:27) انکحک۔ انکح مضارع واحد متکلم منصوب (بوجہ عمل ان) ۔ انکاح (افعال) مصدر۔ نکاح میں دینا۔ بیاہ دینا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر (کہ) میں تیرے نکاح میں دے دوں۔
احدی : احد کا مؤنث ہے ایک عورت۔
ابنتی۔ میری دو بیٹیاں۔ ی متکلم کی ہے۔ ابنتی اصل میں ابنتین تھا۔ انبۃ کا تثنیہ۔ یاء متکلم کی طرف اضافت کے سبب نون گرگیا۔ یاء کو یاء میں ادغام کیا ابنتی ہوگیا۔
ھا تین : ھا حرف تنبیہ تین اسم اشارہ تثنیہ مؤنث مجروریہ دونوں عورتیں ۔
علی : ای علی شرط (اس شرط) پر۔
تاجرنی۔ تاجر مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر حاضر۔ اجر یاجر (نصر) اجر مصدر۔ مزدوری دینا۔ یا کسی کی مزدوری کرنا۔ ن وقایہ اور ی ضمیر واحد متکلم (کہ) تو میری نوکری کرے گا۔
حجج۔ سال ۔ برس۔ حجۃ کی جمع۔
فمن عندک۔ پس یہ تمہاری مرضی ہے۔ ای فھو من عندک من طریق التفضیل لامن عندی بطریق الالزام۔ یعنی تمہاری طرف سے احسان ہوگا میری طرف سے بطور شرط نہیں ہے۔
اشق۔ شق یشق (نصر) شق سے مضارع واحد متکلم منصوب بوجہ عمل ان (کہ) میں تکلیف دوں۔ میں مشقت میں ڈالوں۔
Ayahs 28:28–29(28:28) قال ذلک۔۔ ای قال موسی۔
ایما۔ جونسی۔ ما زائدہ ہے۔
الاجلین۔ دو مقررہ مدتیں اجل (مقررہ مدت) کا تثنیہ۔
قضیت۔ ماضی واحد متکلم قضہ مصدر (باب ضرب) میں پوری کردوں ۔ قضی یقضی قضاء پورا کرنا۔
لاعدوان علی۔ عدوان ظلم و زیادتی۔ عدا یعدو باب نصر کا مصدر ہے۔
سار۔ ماضی واحد مذکر غائب ساریسیر سیر وہ چلا ۔ وہ روانہ ہوا۔
انس۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ انس یؤنس ایناس (افعال) انس مادہ۔ انس الصوت آواز سننا۔ انس الشیء کسی چیز کو (دور سے) دیکھنا۔ انس الامر۔ کسی بات کو سمجھنا ۔ انس نارا۔ اس نے آگ کو (دور سے) دیکھا۔
امکثوا مکث یمکث (نصر) مکث سے۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم ٹھہرے رہو۔ تم ٹھہرو۔
لعلی۔ لعل حرف مشبہ بالفعل ی ضمیر واحد متکلم ۔ لعل کا اسم ۔ شاید میں توقع ہے کہ میں ۔ امید ہے کہ میں۔ لیکن جب اس کا استعمال اللہ کے ساتھ ہو تو معنی میں قطعیت آجاتی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشہ کے معنی لینا صحیح نہیں ہیں۔
جذوۃ : ای لعلی اتیکم یجذوۃ۔ شاید کوئی چنگاری تمہارے پاس لے آؤں۔ جذوۃ جلنے اور شعلہ ختم ہونے کے بعد جو ایندھن باقی رہ جاتا ہے اسے جذوۃ کہا جاتا ہے۔ ما بقی من الحطب بعد الالتھاب۔ یا وہ لکڑی جس میں شعلہ نہ ہو لیکن آگ ہو۔
لعلکم تصطلون۔ شاید تم باپ سکو۔ تاکہ تم سینک سکو۔
تصطلون مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اصطلاء (افتعال) مصدر آگ تاپنا باب افتعال کے فا کلمہ میں اگر ص، ض، ط، ظ واقع ہوں تو تاء کو طاء سے بدل دیتے ہیں جیسے اصطبر (صبر کرنا) واضطرب (بےچین ہونا ۔ اور اصطلی (آگ تاپنا) ۔ صلی مادہ صلی یصلی (ضرب) صلی۔ آگ میں ڈالنا۔ صلی یصلی (باب سمع) صلی وصلی وصلی آگ میں جلنا۔
Ayah 28:30(28:30) اتھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نارا ہے۔
نودی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ندا مصدر۔ اس کو پکارا گیا۔ نادی ینادی مناداۃ۔ ندائ۔
شاطیء الواد الایمن : الواد الایمن موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ ۔ شابیئ۔ کنارہ (جمع سواطی) دائیں جانب کی وادی کے ایک کنارہ سے (اسے پکارا گیا) یا شاطیء الواد (وادی کا کنارہ) مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف اور الایمن صفت، وادی کے بائیں کنارہ سے (اسے پکارا گیا) ۔
البقعۃ۔ زمین ۔ قطعہ زمین۔ بقاع وبقع جمع ۔ البقعۃ المبرکۃ مبارک اس لئے کہ وہ بقعہ آیات اللہ وانوار الٰہی کے اظہار کے لئے مخصوص ہوا۔ موضع حال میں ہے شاطی۔
من الشجرۃ۔ بدل اشتمال ہے کیونکہ درخت وادی کے اس کنارہ میں واقع تھا ۔ اب من شاطیء الواد الایمن فی البقعۃ المبرکۃ من الشجرۃ کی صورت یوں ہوئی۔ کہ حضرت موسیٰ کو ان کی دائیں جانب کی وادی کے ایک کنارے سے آواز آئی اس وادی کے ایک مبارک قطعہ اراضی سے ایک درخت میں سے جو اس وادی کے قطعہ مبارک میں واقع تھا۔
ان۔ مفسرہ ہے۔ کہ۔ وان الق عصاک اس کا عطف ان یاموسی پر ہے۔ اور یہ کہ۔
Ayah 28:31(28:31) الق : القاء (افعال) سے فعل امر واحد مذکر حاضر ۔ تو ڈال دے۔ تو (نیچے) پھینک دے القاء کے اصل معنی کسی شی کو اس طرح ڈالنے کے ہیں کہ نظر آتی رہے۔ پھر عرف عام میں اس کا استعمال ہر طرح کے ڈالنے کے متعلق ہونے لگا۔ عصا (عصو مادہ) تیری لاٹھی۔ اپنی لاٹھی۔
فلما راھا۔ اس سے قبل جملہ محذوف ہے ای فالقھا فصارت حبۃ تھتز ۔ فلما راھا تھتز۔ یعنی اس نے حکم خداوندی کی تعمیل میں عصا نیچے ڈال دیا تو وہ ایک سانپ کی شکل اختیار کر گیا اور سانپ کی طرح لہرانے لگا (جھومنے لگا) راھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع عصا ہے۔
تھتز۔ مضارع واحد مؤنث غائب اھتزاز افتعال ۔ الھز کے معنی کسی چیز کو ہلانے کے ہیں جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے وھزی الیک بحذع النخلۃ (19:25) اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ اھتزاز (افتعال) کے معنی جھومنے۔ بل کھناے اور شادابی اور تروتازگی کی وجہ سے درخت کے ہلنے اور حرکت کرنے کے ہیں۔ مثلا کہتے ہیں اھتزت النبات سبزہ لہلہانے لگا۔ تھتز وہ ہلتی ہے وہ بل کھاتی ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ نے دیکھا کہ ان کا عصا سانپ کی مانند جھوم رہا ہے اور بل کھا رہا ہے۔
کانھا۔ کان حرف مشبہ بالفعل ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ۔ کان کا اسم گویا وہ۔
جان۔ ایک قسم کا سانپ۔ پتلا۔ باریک سانپ۔
ولی۔ ماضی واحد مذکر غائب تولیۃ (تفعی) مصدر۔ منہ موڑ ۔ پیٹھ دے کر بھاگا۔
مدیرا : ولی کی ضمیر فاعل کا حال ہے۔ پیٹھ موڑ کر بھاگنے والا۔ ادبار (افعال) سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ دبر سے مشتق ہے جس کے معنی پیٹھ کے ہیں ۔ جو قبل کی ضد ہے اور جگہ قرآن مجید میں ہے فلا تولوہم الادبار (8:15) تم ان سے پیٹھ نہ پھیرنا
لم یعقب۔ مضارع نفی جحد بلم صیغہ واحد مذکر غائب تعقیب (تفعیل) مصدر عقب مادہ۔ بمعنی ایڑی۔ اعقاب جمع م قرآن مجید میں ہے ونرد علی اعقابنا (6:71) تو کیا ہم الٹے پاؤں پھرجائیں۔ لم یعقب۔ وہ پیچھے نہ مڑا۔ اس نے پلٹ کر نہ دیکھا۔
یمودی۔ سے قبل تودی یا قیل مصدر ہے۔
اقبل۔ تو آگے آ۔ اقبال افعال سے جس کے معنی آگے آنے متوجہ ہونے یا رخ کرنے کے ہیں ۔ فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔
امنین : امن سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر بحالت نصب و جر۔ من والوں میں سے محفوظ۔ امن و امان میں۔
Ayahs 28:32–33(28:32) اسلک فعل امر واحد مذکر حاضر۔ سلوک (باب نصر) مصدر۔ السلوک کے اصل معنی راستہ پر چلنے کے ہیں۔ یہ فعل متعدی (بمعنی اسلک) بھی استعمال ہوتا ہے۔ پہلے معنی میں فاسلکی سبل ربک ذئلا۔ (16:69) اور اپنے پروردگار کے راستوں پر بےروک ٹوک چلی جا۔
دوسرے معنی میں ما سلککم فی سقر (74:42) تم کو دوزخ میں کونسی بات لے آئی ۔ پھر یہ داخل ہونے یا داخل کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے مثلاً سلک المکان۔ مکان میں داخل ہونا۔ اور فاسلک فیہا (23:27) تو اس میں (یعنی کشتی میں) بٹھالے یا داخل کرلے۔ اس دوسرے معنی میں ہی اسلک یدک ہے تو اپنے ہاتھ کو داخل کر یا ڈال۔
جیبک مضاف مضاف الیہ۔ تیرا گریبان اور جیب الثوب قمیص کی وہ جیب جس میں نقدی وغیرہ رکھتے ہیں۔ مجازا سینہ کو بھی جیب کہا جاتا ہے اور اس کی جمع جیوب آتی ہے مثلا ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن (34:31) ان کو چاہیے کہ اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھ لیں۔
تخرج۔ مضارع واحد مؤنث غائب مجزوم بوجہ جواب امر۔ (تو) وہ نکلے گا (یعنی تیرا ہاتھ)
بیضائ۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مؤنث ابیض واحد مذکر اور بیض جمع (مذکر مؤنث دونوں کی) سفید۔
بغیر سوئ۔ بغیر کسی مرض کے بغیر کسی گزند کے۔ بلا عیب۔ بلا تکلیف۔
اضمم۔ فعل امر واحد مذکر حاضر ضم مصدر (باب نصر) تو ملا۔ تو ملا لے۔ الضم کے معنی دو یا دو چیزوں سے زیادہ کو باہم ملا دینے کے ہیں ۔ الیک۔ تیری طرف۔ اپنی طرف۔
جناحک۔ مضاف مجاف الیہ۔ جناح مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے :۔
(1) پرندے کا پر مثلا ولا طائر یطیر بجناحیہ (6:38) اور نہ پرندہ کہ اڑتا ہے اپنے دو پروں سے۔
(2) کسی شی کی جانب یا پہلو۔ انسان کے دونوں پہلوؤں کو جناحا الانسان کہتے ہیں اور لشکر کے دونوں جانب کو جناحا العسکر کہا جاتا ہے۔
(3) بازو۔ اگرچہ بازو جسم کا وہ حصہ ہے جو کہنی اور کندھے کے درمیان ہے لیکن عموما اس کو کندھے سے لے کر ہاتھ تک کے سارے حصے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے واضمم الیک جناحک (آیت ہذا) اور اپنے بازو کو اپنی طرف ملالے۔
من الرھب ای لدفع الرھب خوف سے بچنے کے لئے ۔ خوف کو دوررکھنیکے لئے۔ الرھب ، رھب، یرھب سمع کا مصدر ہے جس کے معنی ڈرنے کے ہیں۔ رھب۔ رھب۔ ورھبۃ ورھبان مصادر ہیں۔ واضمم الیک جناحک من الرھب کی تعبیر میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) عصا کو اژدہا کی شکل میں دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خوف زدہ ہوگئے تھے اور اپنے ہاتھ کو سفید دیکھ کر بھی۔ ارشاد ہوا کہ تم اپنا بازو اپنے پہلو کے ساتھ بھینچ لو۔ ایک تو تمہارا خوف دل سے دور ہوجائے گا اور دوئم تمہارا ہاتھ اپنی اصل حالت پر آجائے گا۔ اس کی یہ تفسیر چنداں قابل تسلیم نہیں ہے۔
اولا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عصا کو سانپ کی شکل میں پاکر گھبرا گئے تھے تو خداوند تعالیٰ نے فرمایا کہ ڈرو مت تم ہر خطرہ سے محفوظ ہو تو اس کے بعد نبی کا دوبارہ اسی بات سے ڈرنا بعید از قیاس ہے۔ باقی رہا ہاتھ کا منور ہونا تو یہ کسی خوف کا باعث نہ یجا۔ کیونکہ ہاتھ کا منور ہونا کسی مرض کی وجہ سے نہ تھا۔ بلکہ وہ تو آفتاب کی مانن روشن اور تابان ہوجاتا ہے سج سے ہاتھ کا حسن کئی گناہ زیادہ ہوجاتا تھا اور یہ امر ڈرنے کا سبب نہیں ہوسکتا۔
(2) حکم خداوندی ہے کہ جب بھی کبھی تمہیں ایسی صورت پیش آئے کہ کسی وجہ سے دل پر ڈر اور خوف ، دہشت وغیرہ کا اثر محسوس کرو تو اپنے ہاتھ کو اپنے پہلوؤں سے ملا لیا کرو اس سے نہ صرف ڈر اور خوف دور ہوجائے گا اور دل کو تقویت ہوگی۔ بلکہ دشمن محسوس ہی نہ کرسکے گا کہ پیغمبر خدا کسی ڈر اور خوف سے متاثر ہے کیونکہ انسان کا سیدھا کھڑا ہونا اور بازوؤں کو پہلوؤں کے ساتھ ملا لینا عموما یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان نہایت دلجمی کی حالت میں ہے۔
(3) اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب کبھی ظلم کا مقابلہ کرنے کے دوران خوف و دہشت کی حالت ہو تو استقلال اور ثابت قدمی سے کام لیا کرو۔
فذنک۔ یعنی یہ دو ۔ ذان۔ ذا کا تثنیہ ہے اسماء اشارہ میں سے ہے اور ک ضمیر خطاب ہے۔
الی فرعون وملائہ : ای فاذھب الی فرعون (ملائہ پس تم حبا و فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس یہ دنوں روشن دلیلیں لے کر۔
قوما فسقین۔ موصوف و صفت بحالت نصب بوجہ خبر کا نوا۔ فسقین فاسق کی جمع ہے۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ فسق یفسق (ضرب) وفسق یفسق (نصر) سے فسق و فسوق مصدر۔ فاسق بدکردار۔ راستی سے نکل جانے والا ہمیشہ اللہ کی نافرمانی کرنے والا
فسوق لفظی ترجمہ ہے کھجور کا اپنے چھلکے سے باہر نکل آنا۔ اصطلاح شریعت میں فسق کے معنی ہیں حدود شریعت سے نکل جانا۔
Ayah 28:34(28:34) افصح۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے زیادہ فصیح۔ فصح کے معنی ہر قسم کی آمیزش سے پاک ہونا۔ افصح متی لسانا وہ مجھ سے گفتگو میں زیادہ فصیح ہے۔ (لسانا تمیز ہے افصح کی)
ردا۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے ارداء جمع۔ ردء مادہ۔ الردء جو دوسرے کا مددگار بن کر اس کے تابع ہو۔ فارسلہ معنی ردأ یصدقنی اس کو مدد گار بنا کر میرے ساتھ بھیج کہ میری تصدیق کرے۔ یعنی اظہار حق کے لئے۔ وضاحت کلام کے لئے۔ کفار کے ساتھ مناظرہ و مجادلہ کے لئے روانی بیان اور فصاحت کے بیان کی ضرورے پڑے گی اور اس میں وہ میری مدد کرے گا۔ (یعنی ہارون علیہ السلام) اور ھق کی تصدیق کو واضح کرے گا اور کفار کی تکذیب کو رد کرے گا۔
ردء اس چیز کو کہتے ہیں جس کا سہارا لیا جائے۔ ردأ یردء (فتح) ردء ، الرجل کسی کی مدد کرنا۔
یصدقنی : یصدق مضارع واحد مذکر غائب۔ (باب تفعیل) نون وقایہ ی ضمیر واحد متکلم ۔ وہ میری مدد کرے گا۔ بعض نے ارسلہ کا معنی کیا ہے۔ کہ اس کو (بھی) رسول بنا دیجئے معی میرے ساتھ۔
یکذبون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ تکذیب (تفعیل) مصدر۔ نون وقایہ وضمیر متکلم محذوف ای یکذبونی۔ وہ مجھے جھوٹا قرار دیں گے۔ وہ مجھے جھٹلائیں گے۔ وہ میری تکذیب کریں گے۔
Ayah 28:35(28:35) سنشد۔ س مستقبل قریب کے لئے ہے نشد۔ مضارع جمع متکلم شد مصدر (باب نصر) ہم مضبوط کردیں گے۔ شدۃ مضبوطی۔ قوت جو کسی چیز میں ہو مثلاً گرہ کی مضبوطی ۔ بدن کی قوت۔ گرمی کی شدت۔ عذاب کی سختی وغیرہ۔
سلطانا۔ قوت، غلبہ، شوکت، سند، حجت، برہان، حکومت۔
لایصلون۔ مضارع منفی۔ جمع مذکر غائب وصل (باب ضرب) وہ تمہیں پہنچیں گے ای لایصلون الیکما باستیلاء او محاجۃ۔ یعنی نہ وہ تم پر غلبہ پاسکیں گے اور نہ تمہارے خلاف مباحثے میں فوقیت حاصل کرسکیں گے۔
بایتنا۔ متعلق بمحذوف ای اذھبا بایتنا تم دونوں ہمارے نشانوں کے ساتھ (فرعون اور اس کی قوم کے پاس) جاؤ۔ (تم اور تمہارے پیروکار غالب رہیں گے) ۔
Ayah 28:36(28:36) بایتنا بینت۔ ب حرف جر۔ ایتنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ بینت صفت آیات کی۔ جاء ب لے کر آیا۔ ہماری روشن اور واضح نشانیاں لے کر آیا۔ ما ھذا میں ما نافیہ ہے۔
سحر۔ موصوف صفت۔ مفتری۔ اسم مفعول افتراء (افتعال) مصدر خود ساختہ۔ گھڑا ہوا (جھوٹ) سحر تختلقہ لم یفعل قبلہ مثلہ۔ جھوٹ جو گھڑا گیا ہو اور قبل ازیں اس جیسا عمل میں نہ لایا گیا ہو۔
بھذا۔ میں باء زائدہ ہے ھذا سے مراد یا جادو ہے (جو نام انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو دیا) یا اس سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دعوی نبوت ہے یہ سمعنا کا مفعول ہے۔
فی ابائنا الاولین : فی بمعنی واقعا فی ایامہم (ان کے وقتوں میں وقوع پذیر ہونے والا۔ ابائنا۔ مضاف مضاف الیہ الاولین اباء کی صفت۔ عبارت کچھ یوں ہوگی۔ ما سمعنا بھذا جائنا او واقعا فی ایام ابائنا الاولین ہم نے اپنے پہلے آباء و اجداد کے زمانہ میں ایسی کوئی بات وقوع پذیر ہوتے نہیں سنی۔
Ayah 28:37(28:37) عاقبۃ۔ انجام کار۔ اختتام۔ اخیر۔ الداری الدنیا۔ یہاں عاقبۃ سے مراد عاقبت محمود ہے یعنی کسی کی دنیاوی زندگی کا اخیر نہتر ہوتا ہے کہ اسے قیامت میں جنت نصیب ہو۔
انہ لایفلح الظلمون۔ میں انہ کی ضمیر ضمیر شان کی ہے ۔ اور شان یہ ہے کہ ظالم (کبھی) فلاح نہیں پاتے۔ بیشک بات یہ ہے کہ ظالم بامراد نہیں ہوتے۔
Ayahs 28:38–39(28:38) اوقد۔ فعل امر واحد مذکر تو آگ جلا۔ تو آگ سلگا۔ تو آگ روشن کر۔ ایقاد افعال مصدر وقود۔ ایندھن کی لکڑیاں۔ یہاں مراد یہ ہے کہ اے ہامان میرے لئے مٹی پر آگ جلاؤ اور اینٹیں پکاؤ۔
صرحا لعلی : صرحا۔ بلند، منقش و مزین مکان (جو ہر عیب سے پاک ہو) اس لئے لبن صریح خالص دودھ کو کہتے ہیں جس میں پانی کی ملاوٹ نہ ہو۔ لعلی۔ تاکہ میں۔ شاید کہ میں لعل حرف مشبہ بفعل ی ضمیر واحد متکلم اس کا اسم ۔
اطلع الی : اصعد الی۔ میں چڑھ جاؤں (موسی کے خدا کی طرف) یعنی اوپر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو دیکھوں۔ اطلع یطلع اطلاع (افتعال) سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر متکلم۔ میں جھانکوں۔ میں اطلاع پاؤں۔
Ayah 28:40(28:40) فنبذنھم۔تعقیب کی ہے۔ نبذنا ماضی جمع متکلم النبذ سے (باب ضرب) جس کے معنی ہیں کسی چیز کو درخوراعتناء نہ سمجھ کر پھینک دینے کے ہیں ۔ مثلاً نبذہ فریق منھم (2:100) تو ان میں سے ایک فریق نے اس کو (بےقدر چیز کی طرح) پھینک دیا۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جس کا مرجع فرعون اور اس کی فوج ہے پس ہم نے ان کو پھینک دیا۔
الیہم۔ دریا۔ سمندر۔