Al-Qasas 28:11

Al-Qasas · from ayah 11

28:11

وَقَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّیْهِ ؗ— فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّهُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ۟ۙوَقَالَتۡ لِاُخۡتِهٖ قُصِّيۡهِ‌ۖ فَبَصُرَتۡ بِهٖ عَنۡ جُنُبٍ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَۙ

اور اس کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے چلی جا تو وہ اُسے دور سے دیکھتی رہی اور ان (لوگوں) کو کچھ خبر نہ تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And she said to his sister, "Follow him"; so she watched him from a distance while they perceived not.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 1 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:11

اُس نے بچے کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جا چنانچہ وہ الگ سے اس کو اس طرح دیکھتی رہی کہ (دشمنوں کو) اس کا پتہ نہ چلا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے چلی جا تو وہ اُسے دور سے دیکھتی رہی اور ان (لوگوں) کو کچھ خبر نہ تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

موسیٰ ؑ کی والده نے اس کی بہن سے کہا کہ تو اس کے پیچھے پیچھے جا، تو وه اسے دور ہی دور سے دیکھتی رہی اور فرعونیوں کو اس کا علم بھی نہ ہوا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور انہوں نے موسیٰ کی بہن سے کہا کہ : اس بچے کا کچھ سراغ لگاؤ۔ چنانچہ اس نے بچے کو دور سے اس طرح دیکھا کہ ان لوگوں کو پتہ نہیں چلا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس کی ماں نے اس کی بہن سے کہا اس کے پیچھے چلی جا تو وہ اسے دور سے دیکھتی رہی اور ان کو خبر نہ تھی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (موسٰی علیہ السلام کی والدہ نے) ان کی بہن سے کہا کہ (ان کا حال معلوم کرنے کے لئے) ان کے پیچھے جاؤ سو وہ انہیں دور سے دیکھتے رہے اور وہ لوگ (بالکل) بے خبر تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس نے اس کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جا۔ پس وہ اسے ایک طرف سے دیکھتی رہی اور وہ شعور نہیں رکھتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چناچہ اس نے موسیٰ کی بہن سے کہا کہ : اس بچے کے پیچھے پیچھے چلتی جاؤ چناچہ وہ آنکھیں بچا کر دیھتی رہی اور دوسروں کو اس کا پتہ نہ چل سکا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس نے اس کی بہن سے کہا کہ تو اس کے پیچھے پیچھے جا تو وہ اس کو دور سے دیکھتی رہی اور ان لوگوں کو اس کی خبرنہ ہونے پائی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس نے موسیٰ کی بہن سے کہا کہ تم اس کے پیچھے پیچھے چلی جاؤ اس کا حال جاننے کیلئے چناچہ وہ چلی گئی اور اس کو دور سے اس طرح دیکھتی رہی کہ ان لوگوں کو پتہ نہ چلنے پائے

— مولانا اسحاق مدنی

اور انہوں نے موسیٰ ؑ کی بہن سے کہا کہ موسیٰ ؑ کا سراغ تو لگانا سو انہوں نے موسیٰ ؑ کو دور سے دیکھا اور وہ لوگ (یعنی فرعون والے) بیخبر تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اس نے موسیٰ ؑ کی بہن سے کہا کہ تو اس کے پیچھے پیچھے جا تو وہ اس کو دور سے دیکھتی رہی اور انہیں احساس بھی نہ ہوا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس کی بہن سے کہا کہ پیچھے پیچھے چلی جا۔ تو وہ اسے دور سے دیکھتی رہی ‘ اور ان لوگوں کو کچھ خبر نہ تھی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

She told the sister of Moses: "Follow him." So she kept watch over him unperceived (by the enemies).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

She said to his sister, :Keep track of him. So she watched him from a distance, while they were not aware.

— Muhammad Taqi Usmani

She said to his sister, :Keep track of him. So she watched him from a distance, while they were not aware.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And she said to his sister: "Follow him." So she watched him from a far place (secretly), while they perceived not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And she said unto his sister: Trace him. So she observed him from afar, and they perceived not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And she said to his sister, "Follow him"; so she watched him from a distance while they perceived not.

— Saheeh International

She told Moses' sister to follow her brother. His sister watched him from one side and the people of the Pharaoh did not notice her presence.

— Muhammad Sarwar

And she said to his sister: Follow him up. So she watched him from a distance while they did not perceive,

— Muhammad Habib Shakir

And she said unto his sister: follow him. So she watched him from afar; and they perceived not.

— Abdul Majid Daryabadi

And she said to the sister of (Moses), "Follow him" so she (the sister) watched him in the character of a stranger. And they knew not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–13

جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے ؟ موسیٰ ؑ کی و الدہ نے جب ان کو صندوقچہ میں ڈال کر دریا میں بہادیا تو بہت پریشان ہوئیں اور سوائے اللہ کے سچے رسول اور اپنے لخت جگر حضرت موسیٰ کے آپ کو کسی اور چیز کا خیال ہی نہ رہا۔ صبر وسکون جاتارہا دل میں بجز حضرت موسیٰ کی یاد کے اور کوئی خیال ہی نہیں آتا تھا۔ اگر اللہ کی طرف سے ان کی دلجمعی نہ کردی جاتی تو وہ تو بےصبری میں راز فاش کردیتیں لوگوں سے کہہ دیتیں کہ اس طرح میرا بچہ ضائع ہوگیا۔ لیکن اللہ نے اس کا دل ٹھہرا دیا ڈھارس دی اور تسکین دے دی کہ تیرا بچہ تجھے ضرور ملے گا۔ والدہ موسیٰ نے اپنی بڑی بچی سے جو ذرا سمجھ دار تھیں فرمایا کہ بیٹی تم اس صندوق پر نظر جماکر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القصص 13 یعنی لڑکی نے اس طریقے سے ٹوکرے پر نگاہ رکھی کہ بہتے ہوئے ٹوکرے کے ساتھ ساتھ وہ اس کو دیکھتی ہوئی چلتی بھی رہی اور دشمن یہ نہ سمجھ سکے کہ اس کا کوئی تعلق اس ٹوکرے کے ساتھ ہے، اسرائیلی روایات کے مطابق حضرت موسیٰ کی یہ بہن اس وقت 10۔ 12 برس کی تھیں۔ ان کی ذہانت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ انہوں نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ بھائی کا پیچھا کیا اور یہ پتہ چلا لیا کہ وہ فرعون کے محل میں پہنچ چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–13

وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى، وحی کا لفظ اس جگہ لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے، وحی نبوت مراد نہیں اس کی تحقیق سورة طہ میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

دل کی تسلی کے لئے آخری تدبیر جب صندوق پانی میں بہتا ہوا آگے کو چلا تو انہوں نے حضرت موسیٰ کی بہن سے فرمایا کہ اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے تم بھی جائو اور دیکھو کہصندوق کدھر کو جاتا ہے۔ یہ دل کی تسلی کے لئے آخری تدبیر تھی جو وہ کرسکتی تھیں۔ ظاہر ہے کہ صندوق کا تعاقب ایک خاص حد تک ہی ممکن تھا، بالآخر تو اس کو نگاہوں سے اوجھل ہونا ہی تھا لیکن جتنی دیر بھی اور جتنی دور تک بھی اس کو دیکھنا ممکن ہو سکے وہ اس سے محروم رہنا کس طرح گوارا کرسکتی تھیں ! چناچہ حضرت موسیٰ کی بہن دور سے اس طرح اس کو دیکھتی رہیں کہ کسی کو اس واقعہ کی طرف توجہ نہ ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فضل و احسان ہوا کہ ان کی یہ مہم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11-1موسیٰ کی بہن کا نام مریم بنت عمران تھا جس طرح حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ کا مریم بنت عمران تھیں نام اور ولدیت دونوں میں اتحاد تھا۔ 11-2چناچہ وہ دریا کے کنارے کنارے، دیکھتی رہی تھی، حتّٰی کہ اس نے دیکھ لیا کہ اسکا بھائی فرعون کے محل میں چلا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–11

3: خطا کار ہونے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کافر اور گناہگار لوگ تھے، اور یہ بھی کہ انہوں نے اس بچے کو اٹھا کر اپنے حق میں غلطی کی، کیونکہ وہی بچہ آخر ان کے زوال کا سبب بنا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–11

واصبح فؤاد ام موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وھم لا یشعرون (10- 11) اس نے عالم بالا کی طرف سے اشارہ پایا اور اپنے بچے کو دریا کی موجوں کے نذر کردیا۔ لیکن اب وہ کہاں جا رہا ہے اس کا کیا انجام ہونے والا ہے ؟ وہ دل میں سوچتی رہی۔ کس طرح اس کے لئے ممکن ہوا کہ وہ اپنے جگر گوشے کو دریا کی موجوں کے حوالے کر دے۔ کس طرح اس سے یہ ہوسکا جبکہ اس سے قبل کوئی ماں ایسا نہ کرسکی تھی۔ اس حالت خوف میں کیا یہی سلامتی کا راستہ تھا ؟ کیونکہ یہ ممکن ہوا کہ اس نے آواز غیب پر اس طرح لبیک کہہ دیا ؟ قرآن کریم اس بیچاری کی دلی کیفیات کی تصویر کشی عجیب انداز میں کرتا ہے۔ یہ دل خالی اور فارغ ہے ۔ نہ اس میں عقل ہے ، نہ اسے کچھ سمجھ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی جب فرعون کے محل سرا میں صندوق کھلا اور بچہ برآمد ہوا تو شہر میں شہرت ہوگئی۔ موسیٰ کی والدہ نے اپنی بیٹی کو (جو موسیٰ کی بہن تھی) حکم دیا کہ بچہ کا پتہ لگانے کے لیے چلی جا اور علیحدہ رہ کر دیکھ کیا ماجرہ ہوتا ہے۔ لڑکی ہوشیار تھی، جہاں بچہ کے گرد بھیڑ لگی تھی وہاں بےتعلق اجنبی بن کر دور سے دیکھتی رہی۔ کسی کو پتہ نہ لگا کہ اس بچہ کی بہن ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

فَبَصُرَتْ بِہٖ عَنْ جُنُبٍ وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ” حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن اپنی والدہ کے کہنے پر دریا کے کنارے کنارے صندوق پر دھیان رکھے اس انداز سے چلتی رہی جیسے صندوق سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ اس طرح وہ بچے کے پیچھے پیچھے بڑی ہوشیاری سے فرعون کے محل میں پہنچ گئی۔ لیکن اس نے اپنے انداز سے وہاں بھی یہی ظاہر کیا جیسے وہ ایک راہ چلتی بچی ہے جو دریا میں تیرتے ہوئے صندوق کو دیکھنے کے لیے ادھر تک پہنچ گئی ہے اور یوں وہاں کسی کو اس کی اصل منصوبہ بندی کے بارے میں گمان تک نہ ہوا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

17 ام موسیٰ کے تین بچے تھے۔ سب سے بڑی لڑکی تھی۔ اس کے بعد ہارون پیدا ہوئے پھر ان کے ایک سال بعد موسیٰ کی پیدائش ہوئی۔ حضرت ہارون کی پیدائش تک بنی اسرائیل کے بچوں کے قتل کا حکم نافذ نہیں ہوا تھا۔ لہذا وہ بھی زندہ تھے اور بہن تو ان سے آٹھ دس سال بڑی تھی۔ جب ام ّموسیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کرچکی اور دل بےقرار ہونے لگا تو ایک احتیاطی تدبیر اس کے ذہن میں آئی کہ شاید اس تدبیر کا کسی وقت فائدہ پہنچ جائے۔ اس نے موسیٰ کی بہن سے کہا کہ اس دریا کے کنارے کنارے چلی جاؤ۔ اور بچہ کو دیکھتی رہو کہ کہاں جاتا ہے۔ لیکن یہ احتیاط ملحوظ رکھنا کہ اس طریقہ سے چھپتی چھپاتی جانا کہ کسی کو یہ گمان نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ (اس امر سے کہ وہ ان کی بہن ہیں اور اسی سراغ رسی میں آئی ہیں) (آیت) ” وقالت لاختہ قصیہ “۔ سے مرشد تھانوی (رح) نے یہ افادہ کیا ہے کہ درجہ اعتدال میں تدبیر اختیار کرنا مرتبہ توکل کے منافی نہیں۔ توریت میں ان کا نام مریم آیا ہے۔ یہ بھی لکھا ہے کہ وہ (نبیہ “ ) تھی (خروج۔ 10: 20) اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ کوئی عورت نبی نہیں ہوئی ہے۔ اسرائیلی اصطلاحی دوسری تھی۔ وہاں ” نبیہ “ کے معنی صرف پیشین گوئی کرنیوالی یا تقریبا کاہنہ کے ہیں۔ توریت میں یہ بھی ہے :۔” اور اس کی بہن دور سے کھڑی دیکھتی تھی کہ اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے “۔ (خرورج۔ 2: 4)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–13

آیت نمبر 1 تا 13 ترجمہ : طٓسمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے یہ آیات مبین کی آیات ہیں آیات الکتاب میں اضافت بمعنی من اور مبین سے حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی آیات ہیں ہم آپ کے سامنے موسیٰ و فرعون کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں (یعنی) مومنین کے لئے اس لئے کہ وہی اس قصہ سے استفادہ کرتے ہیں یقیناً فرعون نے سرزمین مصر میں سرکشی کر رکھی تھی اور مصر کے باشندوں کو اپنی خدمت کے لئے فرقوں میں تقسیم کر رکھا تھا ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا اور وہ بنی اسرائیل تھے ان کے نومود لڑکوں کو قتل کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقالت لاختہ قصیہ فبصرت بہ عن جنب وھم لا یشعرون . اور موسیٰ کی ماں نے موسیٰ کی بہن (مریم بنت عمران) سے کہا : اس کے پیچھے پیچھے چلی جا (اور اس کی خبر کی تلاش رکھ۔ مریم پیچھے پیچھے چل دی) بہن نے اس کو دور سے دیکھا اور ان لوگوں کو پتہ بھی نہ تھا (کہ موسیٰ کی بہن موسیٰ کی ٹوہ لے رہی ہے) اس قصہ میں یہ بھی آیا ہے کہ مریم الگ الگ جا رہی تھی اور نظر چرا کر دیکھتی جاتی تھی تاکہ لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ وہ موسیٰ کو دیکھ رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(11) آخر کار انہوں نے سنبھال کر یہ تدبیر سوچی کہ حضرت موسیٰ ؑ کی بہن مریم سے کہا ذرا حضرت موسیٰ ؑ کا سراغ تو لگاؤ چناچہ اس نے دور سے حضرت موسیٰ ؑ کو دیکھا اور ان لوگوں کو یہ خبر بھی نہیں تھی کہ یہ حضرت موسیٰ ؑ کی بہن ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَالَتْ لِاُخْتِهٖ قُصِّيْهِ ”قَصَّ یَقُصُّ“ کا معنی بیان کرنا بھی ہے اور پیچھے پیچھے جانا بھی۔ موسیٰ ؑ کی ماں نے ان کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے جاؤ۔ اس سے پہلے موسیٰ ؑ کے ایک بھائی ہارون تھے اور ایک بہن تھی۔ فَبَصُرَتْ بِهٖ عَنْ جُنُبٍ وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ : ”عن جنب“ کا معنی ”دور سے“ یا ”جانب سے“ یعنی وہ کنارے پر رہ کر ساتھ چلتی ہوئی دور سے اسے دیکھتی رہی، اس طرح کہ کسی کو معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ اس کا پیچھا کر رہی ہے۔ اس سے اس لڑکی کی دانائی اور ذہانت کا پتا چلتا ہے۔ ماں نے صرف پیچھے پیچھے جانے کو کہا تھا، یہ اس کی دانش مندی تھی کہ پیچھے کس طرح جانا ہے۔ ایک عرب شاعر نے خوب کہا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 10–13

واصبح قوادام موسیٰ فرغاً حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری، عکرمہ، قتادہ، ضحاک، ابو عمران جونی اور ابو عبیدہ نے فرغاً کا معنی یہ کیا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا دل آپ کے ذکر کے سوا دنیا کی ہر شے کے ذکر سے خالی تھا۔ حضرت حسن بصری نے یہ بھی کہا نیز اب ن اسحاق اور ابن زید نے کہ؁، وہ وحی سے خالی تھی کیونکہ ان کی طرف وحی کی گئی جب اسے حکم دیا گیا کہ وہ اس بچے کو پانی میں پھینک دے وہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ السلام کی ماں سے کیا وہ یہ وعدہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو واپس اس کی طرف لوٹائے گا اور اسے رسولوں میں سے بنائے گا۔ شیطان نے اسے کہا، اے موسیٰ کی ماں !…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ الفریابی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وقالت لاختہ قصیہ یعنی اس کے پیچھے چلی جا آیت فبصرت بہ عن جنب یعنی ایک جانب سے دیکھرہ۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وقالت لاختہ قصیہ آپکی والدہ نے آپ کی بہن سے کہا اس کے نشانات پر چلی جا، آیت فبصرت بہ عن جنب یعنی وہ ان سے اپنے آپ کو دور رکھنے والی تھیں آیت وہم لایشعرون یعنی نہیں جانتے تھے کہ اس بچے کی بہن ہے۔ پھر فرمایا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں دیکھ رہی تھی گویا کہ وہ اس کا ارادہ نہیں رکھتی۔ 4۔ ابن المنذر نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالَتْ [ اور (والدہ نے) کہا ] لِاُخْتِهٖ [ ان (علیہ السلام) کی بہن سے ] قُصِّيْهِ ۡ [ تو پیچھا کر اس (علیہ السلام) کا ] فَبَصُرَتْ [ تو اس نے دیکھا (دیکھتی رہی)] بِهٖ [ اس (علیہ السلام) کو ] عَنْ جُنُبٍ [ دور سے ] وَّ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ وہ لوگ ] لَا يَشْعُرُوْنَ [ شعور نہیں رکھتے تھے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–13

(فَرَدَدْنٰہُ الآی اُمِّہٖ ) (الآیۃ) سو ہم نے موسیٰ کو ان کی والدہ کی طرف لوٹا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور بچہ کی جدائی سے غمگین نہ ہوں اور تاکہ اس بات کا اور زیادہ یقین کرلیں کہ اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کس کس طرح اپنے بندوں کے ساتھ رحم کا معاملہ فرماتا ہے۔ اور کس کس طرح ظالموں کو ان کی تدبیروں میں نا کام بناتا ہے۔ فائدہ : یہاں بعض مفسرین نے یہ سوال اٹھایا کہ اپنی اولاد کی پرورش کرنا تو فرض ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اپنے بچہ کی پرورش کرنے اور دودھ پلانے پر اجرت کیسے قبول فرمائی ؟ لیکن قرآن مجید میں اجرت لینے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–21

تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔ (ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

12:۔ ماں کی مامتا کو کب قرار آتا ہے فورًا اپنی بیٹی موسیٰ (علیہ السلام) کی ہمشیرہ حضرت مریم بنت عمران (یہ مریم بنت عمرا والدہ مسیح (علیہ السلام) کے علاوہ ہیں) کو تفتیش احوال کے لیے فرعون کے گھر اس کے پیچھے پیچھے بھیجا تاکہ معلوم کرے کہ وہ اس کے ساتھ کس طرح پیش آتے ہیں۔ چناچہ وہ گئیں اور دور سے سب کچھ دیکھتی رہیں اس طرح کہ کسی کو پتہ نہ چل سکا کہ وہ تفتیش احول کے لیے وہاں کھڑی ہیں۔ عن جنب ای عن بعد یعنی دور سے (بحر) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–13

ربط آیات موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد جب آپ کی والدہ نے خطرہ محسوس کیا کہ فرعون کے آدمی اس کو پکڑ کر ذبح کر ڈالیں گے تو الہامی ہدایات کے مطابق اس نے بچے کو صندوق میں بند کر کے دریا میں بہا دیا ۔ یہ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے قریب سے گزرا تو فرعون کے گھر والوں نے اسے نکلوا لیا ، محل میں لا کر جب صندوق کھولا گیا تو اس سے خوبصورت بچہ برآمد ہوا ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ نام بھی اسی مناسبت سے کہ آپ پانی سے برآمد ہوئے موکا معنی پانی اور سی لڑکی کو کہتے ہیں ، گویا لکڑی کے صندوق سے برآمد شدہ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اگرچہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَتْ لِاُخْتِہٖ قُصِّيْہِ۝ 0ۡفَبَصُرَتْ بِہٖ عَنْ جُنُبٍ وَّہُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۝ 11ۙ قصص الْقَصُّ : تتبّع الأثر، يقال : قَصَصْتُ أثره، والْقَصَصُ : الأثر . قال تعالی: فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] ، وَقالَتْ لِأُخْتِهِقُصِّيهِ [ القصص/ 11] ( ق ص ص ) القص کے معنی نشان قد م پر چلنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ۔ قصصت اثرہ یعنی میں اس کے نقش قدم پر چلا اور قصص کے معنی نشان کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] تو وہ اپنے اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے ۔ وَقالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ [ القصص/ 11] اور اسکی بہن کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے چلی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–13

ترکیب : ان ارضعیہ اگر ان مصدر یہ ہے تو یہ اوحینا کا مفعول اور اگر بمعنی ای تفسیر کے لیے تو یہ اوحینا کی تفسیر ہوگی، لیکون والعلام للصیروۃ لا للغرض فارغًا ای خالیا من الصبر و الخوف او مما سواہ یہ اصبح کی خبر فواد ام موسیٰ اسم، ان کا دت ان مخففہ ہے، ثقیلہ سے واسمہا محذوف ای انہا وقیل بمعنی ماجواب لولا محذوف دلَّ علیہ ان کا دت لتکون لام متعلقہ ربطنا عن جنب من مکان بعید اختلاساً ہو فی موضع الحال من الفاعل فی بصرت والمراضع جمع مرضعۃ و یمکن ان یکون جمع مرضع بمعنی مصدر۔ تفسیر : واوحینا یہاں سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ موسیٰ کی ماں کو ہم نے وحی کی یعنی اس کے دل میں القاء کیا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَالَتْ لِاُخْتِہٖ قُصِّیْہِ ز فَبَصُرَتْ بِہٖ عَنْ جُنُبٍ وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ (القصص : 11) (اور اس نے اس کی بہن سے کہا کہ اس کے پیچھے پیچھے جا، چناچہ وہ الگ سے اس کو اس طرح دیکھتی رہی کہ لوگوں کو اس کی خبر نہ ہونے پائی۔ ) تسلی کی ایک تدبیر ایک خطرناک اقدام کے نتائج سے بچنے کے لیے ہر انسان آخر حد تک تدبیر کرتا ہے اور بعض دفعہ وہ خود بھی جانتا ہے کہ اس کا نتیجہ میرے بس میں نہیں۔ اور جو کچھ ہونے والا ہے میں اس پر بھی اختیار نہیں رکھتا۔ لیکن یہ وقتی دلا سے انسان کی فطرت ہیں جس سے وہ رک نہیں سکتا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے آپ ( علیہ السلام) کو دریا میں ڈال دیا۔ آپ جانتی ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–11

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کرنا اور صندوق کا فرعون کے ہاتھ لگنا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو الہام کے ذریعے موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کرنے کا حکم دیتے ہوئے یقین دلایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کے بارے میں ڈرنے اور خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اے اُمِّ موسیٰ ! تیرے ساتھ تیرے رب کا وعدہ ہے کہ نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کو تیرے پاس لوٹائے گا بلکہ اسے رسول منتخب کرے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اپنے رب کے حکم پر موسیٰ (علیہ السلام) کو صندوق میں ڈال کر دریا کی لہروں کے حوالے کیا اور اپنی بیٹی یعنی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

11: وَقَالَتْ لِاُخْتِہٖ (اور اس نے موسیٰ کی بہن سے کہا) ۔ اخت کا نام مریم تھا۔ قُصِّیْہِ (اس کے پیچھے پیچھے چلی جائو) ۔ تو اس کے پیچھے چلی جا تاکہ تو اس کے حالات معلوم کرسکے۔ فَبَصُرَتْ بِہٖ (پس اس نے دور سے دیکھا) ۔ عَنْ جُنُبٍ جنب یہاں دور کے معنی میں ہے۔ : یہ بہٖ کی ضمیر سے حال ہے۔ یا بصرت کی ضمیر سے۔ وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ (اور ان کو خبر تک نہ تھی) ۔ کہ یہ اس کی بہن ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11۔ وقالت لاختہ، حضرت مریم جو حضرت موسیٰ کی بہن تھی، قصیہ، ، اس کے پیچھے پیچھے چلی جا تاکہ تجھے اس کا علم ہوجائے۔ فبصرت بہ عن جنب ، اس کو دور سے دیکھتی رہے قصہ میں آتا ہے کہ مریم الگ الگ جارہی تھی اور نظر چرا کردیکھتی جاتی تھی تاکہ لوگوں کو پتہ نہ چلے کہ وہ موسیٰ کو دیکھ رہی ہے ۔ وھم لایشعرون، کہ یہ اس کی بہن ہے اور اس کے تعاقب میں جارہی ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ فرعون کی بیوی چاہتی تھی کہ کس طرح کس دودھ پلانے والی کادودھ موسیٰ پی لیں۔ چناچہ ایک کے بعد ایک دودھ پلانے والیاں آئیں مگر موسیٰ نے کسی کا دودھ نہیں پیا، موسیٰ کی بہن دور کھڑی یہ کیفیت دیکھ رہی تھی آٹھ راتیں یوں ہی گزرگئیں کہ موسیٰ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–13

10 تا 13۔ اگرچہ بعضے مفسروں نے اس آیت کے معنے یہ کئے ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی ماں کا دل ہر طرح کے غم سے خالی تھا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں پہلے ہی یہ اطمینان الہام کے ذریعہ سے پیدا کردیا تھا کہ ان کا لڑکا دریا میں ڈال دینے سے ضائع نہ ہوگا اور صحیح سلامت پھر ان کے پاس آجائے گا لیکن یہ معنے قرآن شریف کے مطلب کے مخالف ہیں اسی واسطے حافظ ابو جعفرابن جریر نے اس معنے کو ضعیف ٹھہرایا ہے کیوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے خود یہ فرمایا ہے کہ حضرت موسیٰ کی ماں نے بےقراری کے سبب سے حضرت موسیٰ کی بہن کو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا حال دریافت کرنے کو بھیجا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–12

14 اللہ تعالیٰ کی کارسازی کا ایک اور مظہر اور نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے موسیٰ پر دودھ پلانے والیوں ۔ کی چھاتیوں ۔ کو پہلے ہی حرام کر رکھا تھا "۔ اس لیے آپ نے کسی دودھ پلانے والی کی چھاتی کو منہ نہیں لگایا۔ سو یہ ہے قدرت کی خفیہ کارستانیوں کا ایک نمونہ و مظہر۔ موسیٰ کسی دایہ کا دودھ نہیں پیتے۔ پورا شاہی خاندان اس بنا پر پریشان ہے کہ بچے کی پرورش کا کیا انتظام کیا جائے اور کس طرح کیا جائے کہ اتنے میں حضرت موسیٰ کی ہمشیرہ نے آگے بڑھ کر ان سے کہا کہ اگر تم چاہو تو اس مشکل کا حل میں تم کو بتادوں۔ چناچہ ان کی رضا مندی کے بعد حضرت موسیٰ کی بہن جن کا نام روایات میں کلثوم بتایا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–13

موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اور پرورش تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ قرآن پاک میں بار بار آیا ہے۔ سورة کہف میں خضر (علیہ السلام) کے ساتھ آیا ہے پھر سورة طہٰ میں سورة نمل میں اور اب سورة قصص میں کچھ کچھ حصہ ضرورت کے مطابق آیا ہے۔ یہاں تدبیر الٰہی کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ فرعون نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام اسرائیلی نوزائیدہ بچوں کو قتل کردینے کا حکم دے رکھا تھا۔ مگر اللہ کی تدبیر کے سامنے وہ اندھا ہوگیا اور اسی خاص اسرائیلی بچے کو خود پرورش کیا جو اس کا اصل دشمن تھا۔ اور اللہ نے اپنی حکمت اور تدبیر سے اس بچے کو اس کی ماں کے سپرد بھی کروا دیا بلکہ ماں کو دودھ پلانے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–13

سورة القصص آیات 1 تا 13 اسرار و معارف طسم۔ وہ آیات ایسی کتاب کی ہیں جو حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے۔ اور یہاں آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعی اور اس کی حقیقت کا بیان سنایا جائے ا کہ مومنین کو اس سے مزید عبرت حاصل ہو۔ قرآن اگرچہ مخاطب تو ساری انسانیت کو کرتا ہے مگر اس سے فائدہ وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جنہیں ایمان نصیب ہوتا ہے۔ بے شک فرعون اپنی سرزمین میں بہت طاقتور شاہنشاہ تھا اور اس نے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔ لفظ شیعہ : یہ پہلے بھی گزر چکا کہ شیعہ کا لفظی تر جمہ گروہ ، پارٹی یا جماعت ہے مگر قرآن کریم نے ہمیشہ گمراہ لوگوں کے ٹولہ پر اس کا اطلاق کیا ہے۔ جیسے اس جگہ کہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

4 ۔ کہ وہ بچے کی بہن ہے اور یہ معلوم کرنے کے لئے ساتھ ساتھ چلی آرہی ہے کہ اسے کون اٹھاتا ہے اور کدھر لے جاتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:11) قصیہ۔ قصی فعل امر واحد مؤنث حاضر۔ قص یقص (مضاعف باب نصر) قص وقصص۔ وعلی اثرہ کسی کے پیچھے جانا۔ کسی کے نشان قدم پر چلنا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب حضرت موسیٰ کی طرف راجع ہے۔ تو اس کے پیچھے پیچھے جا۔ اور جگہ اسی معنی میں آیا ہے فارتدا علی اثارھما قصصا۔ (18:64) تو وہ اپنے پاؤں کے نشانات پر الٹے لوٹے۔ اخبار متتبعہ کو القصص (واحد، القصۃ) کہتے ہیں ۔ فبصرت بہ ای ابصرتہ وہ اس کو دیکھتی رہی یعنی اس کے پیچھے پیچھے چلی اور اسے نظروں میں رکھا۔فصیحت کے لئے ہے۔ عن جنب۔ الجنب اصل میں اس کے معنی پہلو۔ طرف کے ہیں ۔ اور پہلو کے معنی میں اس کی جمع جنوب ہے جیسے کہ قرآن مجید میں اور جگہ ہے قیاما وقعودا او…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–13

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 13 : اوحینا (ہم نے وحی کی) ارضعیہ ( دودھ پلا) ‘ الیم (دریا۔ سمندر) انا رادوہ (بےشک ہم اس کو لوٹا دیں گے) ‘ التقط ( اس نے اٹھالیا) ‘ خطئین ( خطا کرنے والے) ‘ امرأ ۃ (عورت) قرۃ عین (آنکھوں کی ٹھنڈک) اصبح (ہوگیا) فئواد ( دل) فرغ (بےقرار۔ بےچین) ‘ کا دت (قریب ہے) ‘ ربطنا ( ہم نے باندھ دیا) قصی (پیچھے جا) ‘ جنب (دور۔ اجنبیت) ‘ حرمنا ( ہم نے روک دیا) ‘ المراضع (دودھ پلانے والیاں) ھل ادل (کیا میں بتاؤں ) یکفلون (وہ ذمہ داری لیتے ہیں) ‘ کی تقر ( تاکہ ٹھنڈی رہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 13 : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد ان کی والدہ نے ان کو فرعون کی ان جاسوس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–13

(ف 2) ان کی بہن نے حضرت موسیٰ کو فرعون کے آدمیوں کے پاس دیکھا اور وہ لوگ بیخبر تھے اور ہم نے سب دودھ پلانے والیوں کا دودھ ان پر حرام پہلے سے کردیا اور اس کی طبیعت میں سب کی طرف سے کر اہٹ ڈال دی کہ کسی کا دودھ نہیں پیتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو اپنا وعدہ پورا کرنا تھا، پس حضرت موسیٰ کی بہن نے جس کا نام مریم تھا کہا، کیا میں تم کو ایسی آیا بتاؤں جو اس کو اپنی سپردگی میں رکھیں، اور اس کو دودھ پلانے کے لیے ضامن ہوجائیں اور وہ اس بچہ کی خیرخواہ ہوئے کہ اس کو آرام سے رکھیں، اور دودھ پلانے کی کوتاہی نہ کریں، انہوں نے کہا وہ کون ہے کہاوہ میری ماں ہے وہ اس بچہ کو دودھ پلانے کی ضامن ہوسکتی ہیں پس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

11۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن سے کہا تو ذرا موسیٰ (علیہ السلام) کے پیچھے چلی جا اور ذرا موسیٰ (علیہ السلام) کا پتہ لگا چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ دور سے اجنبی بنی ہوئی دیکھتی رہی اور فرعون والوں کو اس کا احساس بھی نہ ہوا ۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں نے بچہ کا حال معلوم کرنے کی غرض سے ان کی بہن مریم یا کلثوم کو ان کے پیچھے بھیجا ۔ تا کہ وہ دور سے یا اجنبی بنی ہوئی موسیٰ (علیہ السلام) کا حال دیکھتی رہے چناچہ وہ لڑکی فرعون کے محل میں پہنچ گئی اور سب کچھ اجنبی بنی ہوئی دیکھتی رہی اور محل والوں کو اس کی خبر بھی نہ ہوئی کہ یہ لڑکی کون ہے۔ جب موسیٰ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–14

ف 4۔ یعنی نبوت سے پہلے ہی فہم سلیم و عقل مستقیم جس سے حسن و قبح میں امتیاز کرسکیں عنایت فرمائی۔ 5۔ اس میں اشارہ ہے کہ فرعون کے مشرب کو موسیٰ (علیہ السلام) نے کبھی اختیار نہ کیا تھا بلکہ اس سے نفور رہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ نظر رکھے کہ صندوقطچہ کس رخ کو جاتا ہے : 11۔ ہم نے اس کے دل پر ایک ایسی گرہ لگا دی جس سے اس کو ایک وقت تک یقینا بہت سہارا ملا وہ اس طرح کہ اس نے اپنی بیٹی یعنی موسیٰ کی بہن کو کہا کہ وہ دریا کے کنارے کنارے تھوڑی دیر تک چلتی رہے اور آنکھ بچا کر دیکھتی رہی یعنی اس صندوقچہ پر نظر رکھے کہ اس کا کیا ہوتا ہے اور وہ کس رخ کو بہتا ہوا جاتا ہے لیکن یہ احتیاط بھی بتا دی کہ وہ اس واقعہ کو کسی کے سامنے بیان نہ کرے اور نہ ہی یہ راز کھولے کہ یہ بچہ کہاں سے آیا اور کس نے اس کو پانی میں ڈالا اور وہ کیوں اس پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن نے یقینا ماں کی ہدایت پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–14

Commentary وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَىٰ (And when he reached his maturity and became perfect - 28:14). The literal meaning of 'ashudd (أَشُدَّ ) is to attain the peak of strength or intensity. For instance a person gradually develops from the position of juvenile weakness to the strength of adulthood. A time comes when he has attained full strength and vigour that he could achieve. That point in life is called أَشُدَّ 'ashudd. In different parts of the world and for different people this point in life varies according to climate, character of the land, race etc. Some people attain it…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–11

13 That is, the girl walked along and watched the floating basket in such a manner that the enemies could not know that she had anything to do with the child in it. According to the Israelite traditions, this sister of the Prophet Moses was 10 to 12 years old. She followed up her brother intelligently and cleverly and ascertained that he had been picked up by the Pharaoh's household.

Read the full tafseer →