Explained with ayahs 7–9
بچوں کا قتل اور بنی اسرائیل
مروی ہے کہ جب بنی اسرائیل کے ہزارہا بچے قتل ہوچکے تو قبطیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر بنو اسرائیل ختم ہوگئے توجتنے ذلیل کام اور بےہودہ خدمتیں حکومت ان سے لے رہیں ہیں کہیں ہم سے نہ لینے لگیں۔ تو دربار میں میٹنگ ہوئی اور یہ رائے قرار پائی کہ ایک سال مار ڈالے جائیں اور دوسرے سال قتل نہ کئے جائیں۔ حضرت ہارون اس سال تولد ہوئے جس سال بچوں کو قتل نہ کیا جاتا تھا لیکن حضرت موسیٰ اس سال پیدا ہوئے جس سال بنی اسرائیل کے لڑکے عام طور پر تہ تیغ ہو رہے تھے۔ عورتیں گشت کرتی رہتی تھی اور حاملہ عورتوں کا خیال رکھتی تھی۔ ان کے نام لکھ لیے جاتے تھے۔ وضع حمل کے وقت یہ عورتیں پہنچ جاتی تھی…
Read the full tafseer →سورة القصص 11
یہ ان کا مقصد نہ تھا بلکہ یہ ان کے اس فعل کا انجام مقدر تھا، وہ اس بچے کو اٹھا رہے تھے جس کے ہاتھوں آخر کار انہیں تباہ ہونا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى، وحی کا لفظ اس جگہ لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے، وحی نبوت مراد نہیں اس کی تحقیق سورة طہ میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ شاہل محل میں
اتنی بات پر بنائے قرینہ یہاں پر حذف ہے کہ حضرت موسیٰ کی والدہ نے جب خطرہ محسوس کیا تو ہدایت خداوندی کے مطابق بچے کو سرکنڈے کے ایک صندوق میں رکھ کر صندوق کو دریائے نیل کے حوالہ کردیا۔ تو رات کی مذکورہ بالا روایت پر اعتماد کیجیے تو واقعہ کی تفصیل یہ معلوم ہوتی ہے کہ تین ماہ تک تو انہوں نے بچے کو کسی نہ کسی طرح چھپانے رکھنے کی کوشش کی لیکن بالآخر انہیں یہ اندازہ ہوگیا کہ یہ تدبیر کا رگر ہونے والی نہیں ہے۔ چناچہ ناچار انہیں وہ اقدام کرنا ہی پڑا جس کا ذکر اوپر ہوا۔ دریائے نیل اسرائیلیوں کی بستی کے پاس سے گزرتا ہوا فرعون کے محل کی طرف جاتا تھا۔ وہاں دریا کی موجوں نے صندوق کو…
Read the full tafseer →8-1یہ تابوت بہتا بہتا فرعون کے محل کے پاس پہنچ گیا، جو لب دریا تھا اور وہاں فرعون کے نوکروں چاکروں نے پکڑ کر باہر نکال لیا۔
8-2یہ عاقبت کے لئے ہے۔ یعنی انہوں نے تو اسے اپنا بچہ اور آنکھوں کی ٹھنڈک بنا کرلیا تھا نہ کہ دشمن سمجھ کر۔ لیکن انجام ان کے اس فعل کا یہ ہوا کہ وہ ان کا دشمن اور رنج و غم کا باعث، ثابت ہوا۔
8-3یہ اس سے پہلے کی تعلیل ہے کہ موسیٰ ؑ ان کے لئے دشمن کیوں ثابت ہوئے ؟ اس لئے کہ وہ سب اللہ کے نافرمان اور خطا کار تھے، اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر ان کے پروردہ کو ہی ان کی ہلاکت کا ذریعہ بنادیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
3: خطا کار ہونے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کافر اور گناہگار لوگ تھے، اور یہ بھی کہ انہوں نے اس بچے کو اٹھا کر اپنے حق میں غلطی کی، کیونکہ وہی بچہ آخر ان کے زوال کا سبب بنا
Read the full tafseer →فالتقطہ ال فرعون ” آخر کار فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے) نکال لیا “۔ کیا یہی امن تھا ؟ اور کیا یہی فرعون تک بشارت تھی ؟ کیا ہل فرعون کے علاوہ کسی اور سے اس بیچاری کو کوئی ڈر تھا ؟ ڈر تو یہی تھا کہ اس کے حالات سے ظالم فرعونی خبردار نہ ہوجائیں۔ ڈر تو صرف یہ تھا کہ یہ بچہ فرعون کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ دیکھئے قدرت خداوندی کا کرشمہ کہ یہ بچہ ان کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔
ہاں ، یہی کچھ تھا ، یہ دست قدرت کا کھلا چیلنج ہے اور نہایت ہی کھلا چیلنج ہے۔ فرعون اور ہامان کی عظیم سیاسی اور مالی قوت کا چیلنج ہے۔ یہ عظیم قوت رات دن بنی اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے لڑکوں کا پیچھا کر رہی ہے۔ ان کو ڈر ہے کہ ان کا…
Read the full tafseer →3 آخر ماں نے بچہ کو لکڑی کے صندوق میں ڈال کر چھوڑ دیا۔ صندوق بہتا ہوا ایسی جگہ جا لگا جہاں سے فرعون کی بیوی حضرت آسیہ کے ہاتھ لگ گیا۔ ان کو اس پیارے بچہ کی پیاری صورت بھلی معلوم ہوئی۔ آثار نجابت و شرافت سے نظر آئے۔ پالنے کی غرض سے اٹھا لیا۔ مگر اس اٹھانے کے آخری نتیجہ یہ ہونا تھا کہ وہ بچہ بڑا ہو کر فرعون اور فرعونیوں کا دشمن ثابت ہو، اور ان کے حق میں سوہان روح بنے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھانے کا موقع دیا۔ فرعون لعین کو کیا خبر تھی کہ جس دشمن کے ڈر سے ہزارہا معصوم بچے تہہ تیغ کرا چکا ہوں وہ یہ ہی ہے جسے بڑے چاؤ پیار سے آج ہمارے ہاتھوں میں پرورش کرایا جا رہا ہے۔ فی الحقیقت فرعون اور اس…
Read the full tafseer →آیت 8 فَالْتَقَطَہٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ ”
”لُقطہ“ کے معنی ایسی چیز کے ہیں جو کہیں گری پڑی ہو اور کوئی اسے اٹھا لے۔ فقہ کی کتابوں میں ”لُقطہ“ کے بارے میں تفصیلی احکام و مسائل ملتے ہیں۔
لِیَکُوْنَ لَہُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا ط ”
اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچے کو دریا سے نکالتے ہوئے ان کا یہ مقصد تھا یا انہیں معلوم تھا کہ ایسے ہوگا ‘ بلکہ مراد یہ ہے کہ بالآخر اس کا جو نتیجہ نکلا وہ یہی تھا کہ وہ بچہ ان کے لیے تکلیف اور پریشانی کا باعث بن گیا۔
Read the full tafseer →12 چناچہ ام موسیٰ نے وحی کے مطابق اس بچہ کو کسی تابوت یا ٹوکرے میں رکھ کر دریائے نیل کی موجوں کے سپرد کردیا۔ یہ تابوت موجوں پر سفر کرتے کرتے جب اس مقام پر پہنچا جہاں فرعون کے محلات تھے تو فرعون کے اہل کاروں نے اسے دیکھ لیا اور اسے پکڑ کر فرعون اور اس کی بیوی کے پیش کردیا۔ یا ممکن ہے کہ فرعون اور اس کی بیوی سیر و تفریح کی غرض سے محل سے نکل کردیا کے کنارے آئے ہوئے ہوں اور انہوں نے خود یہ تابوت دیکھ کر اسے نکال لانے کا حکم دیا ہو۔ چناچہ فرعون اور اس کی بیوی اس بچہ کو اپنے ہاں لے آئے۔ جو ان کا دشمن اور ان کی تباہی کا باعث بننے والا تھا۔
13 اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں : ایک یہ کہ ایک بچہ کے خطرہ…
Read the full tafseer →7۔ حضرت موصوفہ نے ان ہدایتوں پر عمل کیا۔ دریائے نیل فرعون کے شاہی محل کے نیچے ہو کر بہا تھا۔ صندوق بہتے بہتے وہاں پہنچا۔ فرعونیوں کے نظر پڑی جھپٹ کر نکالا۔ اس کے اندر سے ایک پیارا بچہ نکلا، اس کی پرورش کی گئی۔ اور اس طرح اپنے ہاتھوں اپنی ہلاکت اور مصیبت کا سبب بن گئے۔ (آیت) ” ال فرعون “۔ یعنی فرعون کے لوگ (آیت) ” لیکون “۔ میں ل عاقبت کا ہے یعنی ان کے اس بچہ کو اٹھا لینے کا نتیجہ یہی ہونا تھا۔ تعلیل لا لتقاطھم ایاہ بما ھو عاقبتہ (بیضاوی) وھذہ اللام تسمی لام العاقبۃ ولام الصیرورۃ لانھم لم یلتقطوہ لیکون لھم عدوا وحزنا ولکن صارعاقبۃ امرھم الی ذلک (معالم) اے لیصیر الامر الی ذلک لانھم اخذوہ لھذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
آیت نمبر 1 تا 13
ترجمہ : طٓسمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے یہ آیات مبین کی آیات ہیں آیات الکتاب میں اضافت بمعنی من اور مبین سے حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی آیات ہیں ہم آپ کے سامنے موسیٰ و فرعون کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں (یعنی) مومنین کے لئے اس لئے کہ وہی اس قصہ سے استفادہ کرتے ہیں یقیناً فرعون نے سرزمین مصر میں سرکشی کر رکھی تھی اور مصر کے باشندوں کو اپنی خدمت کے لئے فرقوں میں تقسیم کر رکھا تھا ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا اور وہ بنی اسرائیل تھے ان کے نومود لڑکوں کو قتل کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا…
Read the full tafseer →فالتقطہ ال فرعون لیکون لہم عدوا وحزنا . تو فرعون کے لوگوں نے موسیٰ کو (یعنی موسیٰ کو مع صندوق
کے) اٹھا لیا تاکہ وہ ان لوگوں کے لئے دشمن اور غم (کا باعث) ہوجائے۔
عَدُوًّا یعنی ایسا دشمن ہوگا جو ان کے مردوں کو قتل کرے گا اور ایسا سبب غم ہوگا جو ان کی عورتوں کو باندیاں بنا دے گا۔
ان فرعون وھامن وجنودھما کانوا خطین . بیشک فرعون اور ہامان اور ان کے تابعین (اس بارے
میں) بہت چوکے۔ (یہ ترجمہ مولانا اشرف علی صاحب نے کیا ہے۔ سادہ ترجمہ اس طرح ہے کہ)
فرعون اور ہامان اور اس کے گروہ والے خطاکار تھے۔ اس ترجمہ کا ایک مطلب تو وہی ہے جو مولانا تھانوی کے ترجمہ سے ظاہر ہے کہ وہ لوگ ہر بات میں خطاکار تھے۔ موسیٰ…
Read the full tafseer →(8) غرض کہ ایسا ہی ہوا فرعون کی باندیوں نے پانی اور پتوں میں سے اس صندوق کو نکال لیا اور فرعون کی بیوی حضرت آسیہ ؑ کے پاس لے گئیں تاکہ رسالت مل جانے کے بعد وہ فرعونیوں کے دشمن اور فرعون کی سلطنت ختم ہوجانے کے بعد اس کے لیے باعث غم بنیں۔
Read the full tafseer →فَالْتَقَطَهٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ : ”اِلْتَقَطَ“ کا معنی ہے کسی کی گری ہوئی چیز اٹھا لینا۔ اُمّ موسیٰ کا گھر دریائے نیل کے کنارے پر فرعون کے محل کے بالائی جانب تھا۔ انھوں نے موسیٰ ؑ کو ایک صندوق میں بند کر کے اسے پانی سے محفوظ بنا کر دریا میں ڈال دیا، جو بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس سے گزرا، اس کے لوگوں نے اسے دیکھا تو دریا سے نکال کر فرعون کے پاس لے آئے۔
لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا : اس ”لام“ کو اکثر مفسرین ”لام عاقبت“ کہتے ہیں، یعنی آل فرعون کے اسے اٹھانے کا نتیجہ یہ ہونا تھا کہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے غم کا باعث بنے۔ مگر اسے لام تعلیل بھی بنا سکتے ہیں، یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
واوحینآ الی ام موسیٰ ان ارضعیہ وحی کی اعمنی اور اس کے مصداق کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کی طرف جو وحی کی گئی ہے اس میں اختلاف ہے۔ ایک جماعت کا کہنا ہے : یہ قول اس کی نیند میں کیا۔ قتادہ نے کہا : وہ الہام تھا۔ ایک جماعت نے کہا : وہ فرشتہ تھا جو مثالی شکل میں اس کے پاس آیا تھا۔ مقتال نے کہ، حضرت جبریل امین یہ پیغام لائے تھے۔ اس تعبیر کی بناء پر وہ وحی اعلام تھی الہام نہیں تھا۔ تمام علماء کا اسپر اتفاق ہے وہ نبی نہ تھیں۔ اس کی طرف فرشتے کے بھیجنے کی صورت وہی تھی جس طرح فرشتے نے اقرع، ابرص اور اور اعمی سے گفتگو کی تھی جس کا ذکر حدیث مشہور میں ہے امام بخاری اور امام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
اللہ تعالیٰ پر اعتماد و توکل کی برکت
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اوحینا الی ام موسیٰ یعنی ہم نے اس کو الہام کیا جو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کیا۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واوحینا الی ام موسیٰ کہ ہم نے اس کے دل میں ڈال دیا۔
3۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واوحینا الی ام موسیٰ کہ اللہ کی طرف سے ان کی طرف وحی آنے کا مطلب یہ ہے کہ اور اس کے دل میں ڈالا اور یہ نبوت والی وحی نہیں تھی، آیت خفت علیہ فالقیہ فی الیم، آپ کی والدہ نے اس کو ایک صندوق میں رکھا اور اس کو دریا میں ڈال دیا۔
4۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →فَالْتَقَطَهٗٓ [ پھر اٹھا لیا ] اٰلُ فِرْعَوْنَ [ فرعون والوں نے ] لِيَكُوْنَ [ تاکہ وہ ہوجائیں ] لَهُمْ [ ان کیلئے ] عَدُوًّا [ دشمن ] وَّحَزَنًا ۭ[ اور غم ] اِنَّ [ بیشک ] فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ [ فرعون اور ہامان ] وَجُنُوْدَهُمَا [ اور ان دونوں کے لشکر ] كَانُوْا [ وہ سب تھے ] خٰطِـــــِٕيْنَ [ چوک جانے والے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
(فَرَدَدْنٰہُ الآی اُمِّہٖ ) (الآیۃ) سو ہم نے موسیٰ کو ان کی والدہ کی طرف لوٹا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور بچہ کی جدائی سے غمگین نہ ہوں اور تاکہ اس بات کا اور زیادہ یقین کرلیں کہ اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کس کس طرح اپنے بندوں کے ساتھ رحم کا معاملہ فرماتا ہے۔ اور کس کس طرح ظالموں کو ان کی تدبیروں میں نا کام بناتا ہے۔
فائدہ : یہاں بعض مفسرین نے یہ سوال اٹھایا کہ اپنی اولاد کی پرورش کرنا تو فرض ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اپنے بچہ کی پرورش کرنے اور دودھ پلانے پر اجرت کیسے قبول فرمائی ؟ لیکن قرآن مجید میں اجرت لینے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–21
تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون
قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں…
Read the full tafseer →8:۔ فاء فصیحہ ہے یعنی جب والدہ موسیٰ (علیہ السلام) کو خطرہ لاحق ہوا تو بچے کو الہام ربانی کے مطابق صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دیا۔ اتفاق سے اس روز فرعون نے دریا کے کنارے اپنا دربار لگا رکھا تھا اسی اثنا میں وہ صندوق تیرتا ہوا اس کی نشست گاہ کے قریب ہی ایک درخت کے ساتھ جا لگا۔ فرعون کے لوگوں نے اسے نکال لیا۔ جب صندوق کھولا گیا تو اس میں نہایت ہی حسین و جمیل بچہ دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔ لیکون لھم میں لام عاقبت کا ہے۔ یعنی انہوں نے اس کو اٹھا لیا جو انجام کار ان کا دشمن اور ان کے لیے غم واندوہ کا باعث بننے والا تھا حالانکہ ان کی غرض یہ نہ تھی۔ خطئین کفر و شرک اور انکار حق کی وجہ سے مجرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
ربط آیات
اس سورة مبارکہ کی ابتدائی آیات میں قرآن پاک کی حقانیت و صداقت کے ذکر کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے واقعہ کی طرف اجمالی طور پر اشارہ کیا گیا ۔ امام احمد (رح) نے روایت بیان کی ہے کہ حضرت معدی کرب ؓ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے عرض کیا کہ مجھے سورة طسم سنائو تو انہوں نے فرمایا کہ تم یہ سورة اس شخص سے سنو جس نے اے براہ راست حضور ﷺ کی زبان مبارک سے سن کر یاد کیا ہو ۔ اس سلسلے میں انہوں نے حضرت خباب بن ارت ؓ کا پتہ بتایا ۔ جب وہاں پہنچے تو انہوں نے یہ ساری سورة سنا دی ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے کل ستتر 77 سورتیں حضور حضور ﷺ کے دہن مبارک سے سن کر سیکھی تھیں مگر اس سورة سے…
Read the full tafseer →فَالْتَقَطَہٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَہُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا 0ۭ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ وَجُنُوْدَہُمَا كَانُوْا خٰطِـــــِٕيْنَ 8
التقط التقاط ( افتعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے جس کے معنی بلا قصد و طلب کسی چیز کو پانے اور اس کو اٹھا لینے کے ہیں۔
فِرْعَوْنُ
: اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة .
فرعون
یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
ترکیب : ان ارضعیہ اگر ان مصدر یہ ہے تو یہ اوحینا کا مفعول اور اگر بمعنی ای تفسیر کے لیے تو یہ اوحینا کی تفسیر ہوگی، لیکون والعلام للصیروۃ لا للغرض فارغًا ای خالیا من الصبر و الخوف او مما سواہ یہ اصبح کی خبر فواد ام موسیٰ اسم، ان کا دت ان مخففہ ہے، ثقیلہ سے واسمہا محذوف ای انہا وقیل بمعنی ماجواب لولا محذوف دلَّ علیہ ان کا دت لتکون لام متعلقہ ربطنا عن جنب من مکان بعید اختلاساً ہو فی موضع الحال من الفاعل فی بصرت والمراضع جمع مرضعۃ و یمکن ان یکون جمع مرضع بمعنی مصدر۔
تفسیر : واوحینا یہاں سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے کہ موسیٰ کی ماں کو ہم نے وحی کی یعنی اس کے دل میں القاء کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فَالْتَقَطَہٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُوْنَ لَہُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا ط اِنَّ فِرْعَوْنَ وَھَامٰـنَ وَجُنُوْدَھُمَا کَانُوْا خٰطِئِیْنَ ۔ وَقَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَلَکَ ط لاَ تَقْتُلُوْہُ صلے ق عَسٰٓی اَنْ یَّنْفَعَنَـآ اَوْنَتَّخِذَہٗ وَلَدًا وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ (القصص : 8، 9)
(تو فرعون کے گھر والوں نے اس کو اٹھا لیاتا کہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سبب رنج بنے، بیشک فرعون و ہامان اور ان کے لشکر بڑے غلط کار تھے۔ اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، کیا عجب کہ یہ ہم کو نفع پہنچائے یا ہم اسے بیٹا ہی بنالیں اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
فہم القرآن
ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کرنا اور صندوق کا فرعون کے ہاتھ لگنا۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو الہام کے ذریعے موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کرنے کا حکم دیتے ہوئے یقین دلایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کے بارے میں ڈرنے اور خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اے اُمِّ موسیٰ ! تیرے ساتھ تیرے رب کا وعدہ ہے کہ نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کو تیرے پاس لوٹائے گا بلکہ اسے رسول منتخب کرے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اپنے رب کے حکم پر موسیٰ (علیہ السلام) کو صندوق میں ڈال کر دریا کی لہروں کے حوالے کیا اور اپنی بیٹی یعنی…
Read the full tafseer →8: فَالْتَقَطَہٗٗ آلُ فِرْعَوْنَ (فرعون کے لوگوں نے موسیٰ کو اٹھا لیا) لے لیا۔
قولِ زجاج۔ :
فرعون اصطخر کا رہنے والا فارسی تھا۔
لِیَکُوْنَ لَہُمْ عَدُوًّا (تاکہ وہ ان کا دشمن بن جائے) ۔ یعنی تاکہ معاملہ یہاں تک پہنچے۔ یہ مراد نہیں کہ انہوں نے اس مقصد کی خاطر اٹھایا۔ جیسا کہتے ہیں۔ للموت ماتلد الوالدۃ۔ ماں موت کے لئے جنتی ہے۔ حالانکہ ماں نے تو موت کے لئے نہیں جنا لیکن انجام تو موت ہی ہے۔
زجاج : نے اسی طرح کہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مفسرین نے اس لام کو لام عاقبت وصیرورت کے نام سے موسوم کیا ہے۔
صاحب ِکشاف (رح) کا قول :
یہ لام کَیْ ہے جو تعلیل کا معنی دیتی ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ جئتک لتکرمنی۔ میں تیرے پاس…
Read the full tafseer →تفسیر۔
8۔ فالتقطہ آل فرعون، ، التقاط کہتے ہیں کہ چیز کو بغیر طلب کے حاصل ہوجانا۔ لیکون لھم عدوا وحزنا، لام عاقبت کا ہے یالام صیرورۃ، کا ہے کیو کہ انہوں نے حضرت موسیٰ کو اس لی سمندر سے نہیں اٹھایا تھا کہ وہ ان کے دشمن بنیں یا ان کو غمزدہ کریں لیکن انجام ان کا یہی ہونا تھا، حمزہ اور کسائی نے حزنا حاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور زاء کے سکون کے ساتھ۔ دوسرے قراء نے حاء کے فتحۃ کے ساتھ اور زاء کے فتحہ کے ساتھ اس میں دونوں لغات صحیح ہیں۔ ان فرعون وھامان وجنودھما کانوا خاطئین، نافرمان گنہاگارہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8 تا 9۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کا مکان دریائے نیل کے کنارہ پر تھا ان کی ماں نے ایک صندوق بنایا اور اس میں بچھونا بچھایا اب فرعونیوں کے خوف سے دودھ پلانے کے بعد بچہ کو اس صندوق میں ڈال کر صندوق کو دریا میں چھوڑ دیاوہ بہ گیا یہاں تک کہ فرعون کے محل کے نیچے سے وہ صندوق گزرا لونڈیوں نے اس کو اٹھا کر حضرت آسیہ ؓ کے پاس پہنچا یا ان کو خبر نہ تھی کہ اس میں کیا ہے کھولا تو ایک لڑکا تھا اس کی محبت خدا نے حضرت آسیہ ؓ کے دل میں ڈالی یہ اس واسطے کہ خدا نے آسیہ ؓ کو نیک بخت اور فرعون کو بدبخت بنانے کا ارادہ کیا تھا جب فرعون نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو دیکھا تو ان کے مار ڈالنے کا ارادہ کیا مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →10 موسیٰ کی پرورش کا محیر العقول انتظام : سو حضرت موسیٰ کی پرورش فرعون کے ذریعے قدرت کی کرشمہ سازی کا ایک عظیم الشان مظہر و نمونہ تھا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس بچے کو اٹھا لیا فرعون والوں نے تاکہ انجام کار وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے دائمی غم کا باعث بنے "۔ سو فرعون کے ہاتھوں اس کے دشمن کی پرورش کا انتظام قدرت کی کرشمہ سازی کا ایک عظیم الشان مظہر اور نمونہ تھا۔ { لیکون } کا یہ لام لام عاقبت ہے۔ یعنی انہوں نے اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس غرض کیلئے نہیں اٹھایا تھا لیکن ان کے اس فعل کا انجام بہرحال یہی ہونا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بالآخر ان کے دشمن ہوں گے اور ان کیلئے باعث غم اور سبب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اور پرورش
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ قرآن پاک میں بار بار آیا ہے۔ سورة کہف میں خضر (علیہ السلام) کے ساتھ آیا ہے پھر سورة طہٰ میں سورة نمل میں اور اب سورة قصص میں کچھ کچھ حصہ ضرورت کے مطابق آیا ہے۔ یہاں تدبیر الٰہی کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ فرعون نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام اسرائیلی نوزائیدہ بچوں کو قتل کردینے کا حکم دے رکھا تھا۔ مگر اللہ کی تدبیر کے سامنے وہ اندھا ہوگیا اور اسی خاص اسرائیلی بچے کو خود پرورش کیا جو اس کا اصل دشمن تھا۔ اور اللہ نے اپنی حکمت اور تدبیر سے اس بچے کو اس کی ماں کے سپرد بھی کروا دیا بلکہ ماں کو دودھ پلانے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
سورة القصص
آیات 1 تا 13
اسرار و معارف
طسم۔ وہ آیات ایسی کتاب کی ہیں جو حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے۔ اور یہاں آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعی اور اس کی حقیقت کا بیان سنایا جائے ا کہ مومنین کو اس سے مزید عبرت حاصل ہو۔ قرآن اگرچہ مخاطب تو ساری انسانیت کو کرتا ہے مگر اس سے فائدہ وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جنہیں ایمان نصیب ہوتا ہے۔
بے شک فرعون اپنی سرزمین میں بہت طاقتور شاہنشاہ تھا اور اس نے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔
لفظ شیعہ :
یہ پہلے بھی گزر چکا کہ شیعہ کا لفظی تر جمہ گروہ ، پارٹی یا جماعت ہے مگر قرآن کریم نے ہمیشہ گمراہ لوگوں کے ٹولہ پر اس کا اطلاق کیا ہے۔ جیسے اس جگہ کہ…
Read the full tafseer →8 ۔ لفظی ترجمہ یوں ہے :” تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لئے باعث رنج بنے۔ “ لیکن مطلب وہ ہے جو متن میں بیان کیا گیا ہے۔ یا یہ کہ ان کے اٹھانے کا نتیجہ یہ ہونا تھا کہ وہ (حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ان کے لئے دشمن اور باعث رنج ہوں۔ اس لام کو عربی زبان میں لام عاقبت کہا جاتا ہے۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(28:8) فالتقطہ :جملہ محذوف پر عطف ہے ای ففعلت ما امرت بہ من ارضاعہ والقائد فی الیم لما خافت علیہ۔ یعنی دودھ پلانے اور جان کے خوف کی صورت میں دریا میں ڈال دینے کے متعلق جو اسے کہا گیا تھا اس نے ایسا ہی کیا۔ التقط التقاط (افتعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر گا ئب ہے جس کے معنی بلا قصد و طلب کسی چیز کو پانے اور اس کو اٹھا لینے کے ہیں۔ یہاں صیغہ واحد جمع کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی ال فرعون (فرعون کے لوگوں نے) اسے اٹھالیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب راجع بطرف موسیٰ ۔
لیکون۔ میں لام عاقبت کا ہے ۔ یعنی انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا سے اس لئے نہیں نکالا تھا کہ وہ بڑا ہو کر ان کا دشمن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 13 :
اوحینا (ہم نے وحی کی) ارضعیہ ( دودھ پلا) ‘ الیم (دریا۔ سمندر) انا رادوہ (بےشک ہم اس کو لوٹا دیں گے) ‘ التقط ( اس نے اٹھالیا) ‘ خطئین ( خطا کرنے والے) ‘ امرأ ۃ (عورت) قرۃ عین (آنکھوں کی ٹھنڈک) اصبح (ہوگیا) فئواد ( دل) فرغ (بےقرار۔ بےچین) ‘ کا دت (قریب ہے) ‘ ربطنا ( ہم نے باندھ دیا) قصی (پیچھے جا) ‘ جنب (دور۔ اجنبیت) ‘ حرمنا ( ہم نے روک دیا) ‘ المراضع (دودھ پلانے والیاں) ھل ادل (کیا میں بتاؤں ) یکفلون (وہ ذمہ داری لیتے ہیں) ‘ کی تقر ( تاکہ ٹھنڈی رہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 7 تا 13 :
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے بعد ان کی والدہ نے ان کو فرعون کی ان جاسوس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(ف 1) پس فرعون کے آدمیوں نے اس کو اپنا دشمن اور آزار کا باعث بنانے کے لیے حضرت موسیٰ کو مع صندوق کے دریا سے نکال لیا، جب منظورالٰہی ہوتا ہیی تو اپنے ہاتھوں سے آدمی ہلاکت کا سامان کرتا ہے ان کو کیا معلوم تھا کہ اپنی موت اپنے ہاتھوں لیتے ہیں بیشک فرعون اور ہامان اور ان کا لشکر اس بارے میں بہت خطاوار تھے فرعون کی بی بی حضرت آسیہ نے فرعون سے یہ کہا کہ یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو نہ ماروشائد کہ بڑا ہو کر ہم کو کچھ فائدہ دے کیونکہ اس کی پیشانی سے خوش نصیبی معلوم ہوتی ہے یاس کو اپنا بیٹابنالیں کیونکہ یہ بیٹا بنانے کے لائق ہے اور انہیں انجام کی خبر نہ تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
[5] یہ ان کا مقصد نہ تھا بلکہ یہ ان کا انجام ہونے والا تھا۔ انھیں یہ معلوم نہ تھا کہ جس بچے کو انہوں نے دریا سے نکالا ہے اسی کے ہاتھوں وہ تباہ ہونے والے ہیں۔
[6] فرعون اور اس کے وزیر ومشیر اپنے ناپاک مقصد کے اعتبار سے بہت چوکے کہ بیشمار اسرائیلی بچوں کو قتل کرنے کے باوجود موسیٰ کو زندہ رہنے دیا جو ان کی بربادی کا موجب ہوئے۔ سورة قصص کی آیت 8 میں لفظ خٰطیْن آیا ہے جس کا ترجمہ بعض مترجمین نے '' خطاکار '' کیا ہے۔ اس لحاظ سے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ فرعون اور ہامان اور ان کے اعوان و انصار نافرمان اور گنہگار لوگ تھے، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ سزا دی کہ ان کے ہلاک کرنے والے دشمن کو انھیں سے پرورش…
Read the full tafseer →حل لغات : فالتقط ۔ اٹھا لیا ۔ التقاط سے ہے ۔ گری بڑی چیز کو لقیط کہتے ہیں ۔
Read the full tafseer →8۔ غرض ! موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون والوں نے اٹھا لیا تا کہ آخر کار یہ موسیٰ (علیہ السلام) ان فرعونیوں کا دشمن اور ان کا غم واندوہ اور حزن و ملال کا سبب ہو بلا شبہ فرعون اور ہامان اور ان کی پیروی کرنے والوں نے اس معاملے میں بڑی چوک کی اور بڑی غلطی کھائی ۔ یعنی فرعون والوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے صندوق کو اٹھا لیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کی جس کا انجام جو کچھ ہوا وہ آگے آتا ہے ، یعنی یہی موسیٰ (علیہ السلام) فرعون والوں کے لئے دشمن اور فرعون والوں کے لئے پریشانی اور غم اندوہ کا سبب بنے۔
اور واقعہ یہ ہے کہ فرعون و ہامان اور ان کی اتباع کرنے والوں نے بڑی چوک کھائی کہ جس بچہ کی خاطر…
Read the full tafseer →ف 1۔ کہ اپنے دشمن کو اپنی بغل میں پالا۔
Read the full tafseer →فرعون کے لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھا لیا اور گناہگاروں کی مت اسی طرح ماری جاتی ہے :
8۔ تدبیر الہی کے مطابق جو بات موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ سیدہ یوکا بد اور سیدہ آسیہ کے درمیان طے ہوئی تھی اللہ نے اس کو من وعن پورا کر دکھایا یہ بھی کہا گیا کہ سیدہ آسیہ موسیٰ کی چچا زاد تھی بہرحال موسیٰ کا تابوت دریا میں بہتا ہوا اس نہر کی طرف بہہ نکلا اور عین محل کے قریب فرعون کے لوگوں نے آسیہ کے حکم سے اس کو نکال لیا ان کے نکالنے کا کیا مقصد تھا اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو کیا منظور تھا اور سکیم میں کیا کچھ پاس ہوا تھا اور اس کا انجام کیا نکلنے والا تھا ان ساری باتوں کو پیش نظر رکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–14
Commentary
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَىٰ (And when he reached his maturity and became perfect - 28:14). The literal meaning of 'ashudd (أَشُدَّ ) is to attain the peak of strength or intensity. For instance a person gradually develops from the position of juvenile weakness to the strength of adulthood. A time comes when he has attained full strength and vigour that he could achieve. That point in life is called أَشُدَّ 'ashudd. In different parts of the world and for different people this point in life varies according to climate, character of the land, race etc. Some people attain it…
Read the full tafseer →11 This was not their aim, but the ultimate destiny of their act. They picked up the child through whom they were to be destoyed in the end.
Read the full tafseer →