Explained with ayahs 85–88
جو کروگے سو بھروگے
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم فرماتا ہے کہ رسالت کی تبلیغ کرتے رہیں لوگوں کو کلام اللہ سناتے رہیں اللہ تعالیٰ آپ کو قیامت کی طرف واپس لے جانے والا ہے اور وہاں نبوت کی بابت پرستش ہوگی۔ جیسے فرمان ہے۔ آیت (فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ ۙ) 7۔ الاعراف :6) یعنی امتوں سے اور رسولوں سے سب سے ہم دریافت فرمائیں گے۔ اور آیت میں ہے رسولوں کو جمع کرکے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا ؟ اور آیت میں ہے نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا۔ معاد سے مراد جنت بھی ہوسکتی ہے موت بھی ہوسکتی ہے۔ دوبارہ کی زندگی بھی ہوسکتی ہے…
Read the full tafseer →سورة القصص 111
یعنی ان کی تبلیغ و اشاعت سے اور ان کے مطابق عمل کرنے سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
خلاصہ تفسیر
(اور آپ کے ان مخالفین نے جو آپ کو پریشان کر کے ترک وطن پر مجبور کیا ہے جس کی اضطراری مفارقت کا آپ کو صدمہ ہے تو آپ تسلی رکھیں) جس خدا نے آپ پر قرآن (کے احکام پر عمل اور اس کی تبلیغ) کو فرض کیا ہے (جو مجموعاً دلیل ہے آپ کی نبوت کی) وہ آپ کو (آپ کے) اصلی وطن (یعنی مکہ) میں پھر پہنچا دے گا (اور اس وقت آپ آزاد اور غالب اور صاحب سلطنت ہوں گے اور ایسی حالت میں اگر دوسری جگہ قیام کے لئے تجویز کی جاتی ہے بمصلحت و با اختیار ہوتی ہے جس سے رنج نہیں ہوتا اور باوجود آپ کے تحقق نبوت کے جو یہ لوگ آپ کو غلطی پر اور اپنے کو حق پر سمجھتے ہیں تو) آپ (ان سے) فرما دیجئے کہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون…
Read the full tafseer →ورایصدنک عن ایت اللہ بعد اذ انزلت الیک وادع الی ربک ولا تکونن من المشرکین 87
مشرکین کو جس چیز سے سب سے زیادہ چڑ تھی اس پر سب سے زیادہ زور
یہ اسی اوپر والے مضمون کی وضاحت مزید تاکید کے ساتھ ہے کہ خواہ یہ مخالفین کتنا ہی زور لگائیں لیکن یہ اللہ کی آیات سے تمہیں روکنے نہ پائیں۔ یہ جن باتوں سے چڑتے ہیں ان کو برملا کہو اور ڈنکے کی چوٹ کہو۔ خدا کی جو بات تم پر نازل ہوچکی ہے اب نہ وہ واپس ہو سکتی اور نہ دبائی جاسکتی ہے۔ اب اس کے بلاغ کی ذمہ داری تم پر عائد ہوچکی۔ خدا کی بات کے ہوتے اس سے انحراف ہلاکت کی راہ پر چلنا ہے۔
وادع الی ربک ولا تکونن من المشرکین اپنے رب کی طرف لوگوں کو بلائو اور مشرکین میں…
Read the full tafseer →87-1یعنی ان کافروں کی باتیں، انکی ایذاء رسانی اور انکی طرف سے تبلیغ و دعوت کی راہ میں رکاوٹیں، آپ کو قرآن کی تلاوت اور اس کی تبلیغ سے نہ روک دیں۔ بلکہ آپ پوری تن دہی اور یکسوئی سے رب کی طرف بلانے کا کام کرتے رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
49: قرآن کریم میں اصل لفظ“ معاد ”استعمال ہوا ہے، بعض مفسرین کے نزدیک یہ“ عادت ”سے نکلا ہے، یعنی وہ جگہ جس میں رہنے اور آنے جانے کا انسان عادی اور اس سے مانوس ہو، اور بعض مفسرین نے اس کے معنی“ لوٹنے کی جگہ ”بیان کئے ہیں، دونوں صورتوں میں اس سے مکہ مکرمہ مراد ہے، اور یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب حضور نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے جارہے تھے، جب جحفہ کے قریب اس جگہ پہنچے جہاں سے مکہ مکرمہ کا راستہ الگ ہوجاتا تھا، تو آپ کو اپنے وطن سے جدائی کا احساس ہوا، اس موقع پر اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تسلی دی، اور وعدہ فرمایا کہ آپ کو دوبارہ اس سرزمین میں فاتح کی حیثیت سے لایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
وما کنت ترجوا ۔۔۔۔۔ من ربک
یہ اس مسئلہ پر ایک فیصلہ کن بات ہے کہ رسالت سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو کوئی امید نہ تھی کہ آپ رسول ﷺ بھی ہوسکتے ہیں۔ پس یہ اللہ کا اچانک انتخاب تھا۔ اور اللہ جو چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، منتخب کرتا ہے۔ یہ اس قدر بلند منصب ہے کہ اس کے لیے کوئی انسان قبل از وقت توقع بھی نہیں کرسکتا ، سوچ بھی نہیں سکتا کہ اللہ اسے اس منصب کے لیے چن لے گا یا اللہ اسے اس کے اہل بنا دے گا۔ یہ اللہ کا محض رحم و کرم ہوتا ہے۔ کسی شخص پر یا کسی قوم پر کہ ان میں سے کسی کو اللہ چن لیتا ہے اور یہ انتخاب ان کا ہوتا ہے جو اللہ کے اونچے بندے ہوں ، ان کا انتخاب نہیں ہوتا جو اس منصب کے…
Read the full tafseer →3 یعنی دین کے کام میں اپنی قوم کی خاطر اور رعایت نہ کیجئے اور نہ آپ کو ان میں گنیے گو کہ اپنے قرابت دار ہوں۔ ہاں ان کو اپنے رب کی طرف بلاتے رہیے اور خدا کے احکام پر جمے رہیے۔
Read the full tafseer →آیت 87 وَلَا یَصُدُّنَّکَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْکَ ”
یعنی اگر آپ ﷺ ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی تعلق رکھیں گے ‘ چاہے وہ کسی ادنیٰ درجے کی قبائلی عصبیت ہی کی بنیاد پر ہو تو وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ ﷺ کی دعوت کے عمل میں رکاوٹ بنیں گے اور آپ ﷺ کو اللہ کے احکام کی تعمیل سے برگشتہ کرنے کی کوشش کریں گے۔
Read the full tafseer →120 یہ خطاب آپ کی طرف محض تاکید مزید کے لئے ہے۔ ورنہ آپ سب سے زیادہ شرک کے خلاف ہی جہاد فرما رہے تھے اور آپ سے شرک کا صدور ناممکن تھا۔ گویا آپ کو خطاب اس لئے کیا گیا کہ دوسروں کو ٹھیک طرح تنبیہ ہوجائے۔
Read the full tafseer →115۔ (بلکہ جیسا اب تک شرک سے معصوم رہے ہیں، آئندہ بھی رہیے) ” ان آیتوں میں کفار ومشرکین کو ان کی درخواستوں سے ناامید کرنا ہے اور روئے سخن انہیں کی طرف ہے کہ تم جو حضور ﷺ سے دین میں موافق ہونے کی درخواست کرتے ہو اس میں کامیابی کا کبھی احتمال نہیں۔ مگر عادت ہے کہ جس شخص پر زیادہ غصہ ہوتا ہے اس سے بات نہیں کیا کرتے۔ اپنے محبوب سے باتیں کرکے اسی شخص کو سنایا کرتے ہیں “۔ (تھانوی (رح) مفسرین نے کہا کہ لفظ یہاں خطاب آپ ﷺ سے ہے لیکن مراد آپ کی امت والے ہیں۔ الخطاب فی الظاھر للنبی ﷺ المراد بہ اھل دینہ (معالم۔ عن ابن عیاض) لعل الخطاب معہ ولکن المراد غیرہ (کبیر) وھذہ المناھی کلھا ظاھرھا انھا للرسول وھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
آیت نمبر 83 تا 88
ترجمہ : یہ دار آخرت یعنی جنت ہم انہیں لوگوں کے لئے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں نہ ظلم کے ذریعہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ نافرمانی کرکے فساد کرتے ہیں اور بہتر انجام فرما نبرداری کرکے اللہ کے عذاب سے ڈرنے والوں کے لئے ہے جو شخص نیکی لیکر آئے گا اس کو اس سے بہتر ملے گا ان کو نیکیوں کا اجر ملے گا اور وہ ان نیکیوں کا دس گنا ہوگا اور جو شخص بدی لیکر آئے گا سو ایسے لوگوں کو جو بدی کا کام کرتے ہیں اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا وہ کرتے تھے جس خدا نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے وہ آپ کو دوبارہ پہلی جگہ لوٹانے والا ہے یعنی مکہ (کی طرف) اور آپ نے مکہ کے لئے اشتیاق ظاہر فرمایا تھا، آپ کہہ دیجئے کہ…
Read the full tafseer →ولا یصدنک عن اٰیٰت اللہ بعد اذا نزلت الیک . اور (یہ کافر) آپ کو نہ روکیں اللہ کی آیات (کو
پڑھنے اور ان پر عمل کرنے) سے بعد اس کے کہ وہ اتار کر آپ کی طرف بھیج دی گئی ہیں۔
وادع الی ربک . اور آپ اپنے رب کی (توحید اور معرفت و عبادت کی) طرف (لوگوں کو) بلائیں۔
ولا تکونن من المشرکین . اور (کافروں کی مدد و پشت پناہی کر کے) مشرکوں میں سے آپ ہرگز نہ ہوجائیں۔
Read the full tafseer →(87) اور جب اللہ کے احکام آپ پر نازل ہوچکے تو ایسا نہ ہو کہ یہ مشرکین آپ کو احکام قرآنیہ سے روک دیں اور آپ بدستور اپنے رب کی توحید اور اس کی کتاب کی طرف لوگوں کو بلاتے رہیے اور ان مشرکین کا ساتھ نہ دیجیے۔
Read the full tafseer →وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ : ”لَا يَصُدُّنَّكَ“ صاد اور دال کے ضمہ کے ساتھ یہ لفظ پورے قرآن میں اسی مقام پر ہے، دوسری تمام جگہوں میں دال کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ یہ نہی غائب جمع مذکر بانون تاکید ثقیلہ کا صیغہ ہے کہ تجھے ہرگز نہ روکیں۔ یہ دوسرا حکم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات نازل ہونے کے بعد کفار خواہ کتنی کوشش کریں، کتنی ایذا پہنچائیں، یا کتنا لالچ دیں، ان آیات پر عمل سے اور ان کی تبلیغ سے کسی صورت آپ کو روکنے نہ پائیں۔ یہی بات دوسری جگہ فرمائی : (يٰٓاَيُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ ۭوَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
ان الذی فرض۔۔۔۔۔
سورت کا اختتام اپنے نبی کو بشارت دیتے ہوئے کیا کہ وہ حضرت محمد ﷺ کو مکہ مکرمہ کی طرف اپنے دشمنوں پر غلبہ دیتے ہوئے لوٹائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آپ کو جنت کی بشارت ہے : پہلا قول اکثر علماء کا ہے، یہ حضرت جابر بن عبداللہ حضرت ابن عباس، مجاہد وغیرہم کا قول ہے (1) ۔ قتیی نے کہا : معاد الرجل سے مراد اس کا ملک و شہر ہے کیونکہ وہ وہاں سے جاتا ہے پھر واپس لوٹ آتا ہے۔ مقاتل نے کہا : نبی کریم ﷺ تلاٹ کے خوف سے غیر معروف راستہ سے غار ثور سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلے۔ جب راستے تک پہنچے اور حجفہ میں فروکش ہوئے تو مکہ مکرمہ کی طرف جانے والے راستہ سے آگاہ ہوئے تو مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
1۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ مکہ سے نکلے اور جحفہ پہنچ گئے تو مکہ کی طرف شوق ہوا تو اللہ تعالیٰ یہ آیت اتاری آیت ان الذی فرض علیک القراٰن لرادک الی معاد یعنی جس خدا نے آپ پر قرآن کو فرض کیا وہ آپ کو آپ کے اصل وطن لوٹا کر لائے گا یعنی مکہ کی طرف۔
مکی اور مدنی سورتیں
2۔ ابن مردویہ نے علی بن حسین بن واقد ؓ سے روایت کیا کہ سارا قرآن مکی ہے یا مدنی سوائے اس قول کے کہ آیت یعنی ان الذی فرض علیک القراٰن لرادک الی معاد کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ پر جحفہ میں نازل ہوئی۔ جب آپ ہجرت کرتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف نکلے سو یہ آیت مکی ہے نہ مدنی اور یہ آیت جو رسول اللہ ﷺ پر ہجرت سے پہلے…
Read the full tafseer →وَلَا يَصُدُّنَّكَ [وہ لوگ ہرگز نہ روکیں آپ ﷺ کو ] عَنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ [اللہ کی آیات سے ] بَعْدَ اِذْ [اس کے بعد کہ جب ] اُنْزِلَتْ [وہ اتاری گئیں ] اِلَيْكَ [آپ ﷺ کی طرف ] وَادْعُ [اور آپ ﷺ دعوت دیں ] اِلٰى رَبِّكَ [اپنے رب کی طرف ] وَلَا تَكُوْنَنَّ [اور آپ ﷺ ہرگز مت ہوں ] مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ [شرک کرنے والوں میں سے ] ۔
Read the full tafseer →(وَ لَا یَصُدُّنَّکَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْکَ ) (اور اس کے بعد کہ اللہ کی آیات آپ کی طرف نازل کی گئی ہیں کافر لوگ آپ کو ان کے پڑھنے سے اور ان پر عمل کرنے سے نہ روک دیں) یہ حکم امت کو بھی ہے کہ کافروں کے کہنے اور روکنے سے اللہ تعالیٰ کی آیات کے پڑھنے پڑھانے سے نہ رکیں۔ (وَادْعُ اِلٰی رَبِّکَ ) (اور آپ اپنے رب کی طرف بلاتے رہیں) یعنی توحید کی دعوت دیتے رہیں۔ (وَ لَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) (اور آپ مشرکین میں سے نہ ہوجایئے) علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب قریش مکہ نے آپ کو اپنے بتوں کی تعظیم کرنے کی دعوت دی، صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
خاتمہء سورت بربشارت وہدایت ونصیحت دربارہ تبلیغ ودعوت
ذکر فناء عالم وتذکیر آخرت
قال اللہ تعالیٰ ان الذی فرض علیک القران لوادک الی معاد۔۔۔ الی۔۔۔ لہ الحکم والیہ ترجعون۔
(ربط) یہ سورت کا خاتمہ ہے جس کو ایک بشارت پر اور چند نصائح اور ہدایات پر ختم کیا جا رہا ہے آنحضرت ﷺ نے جب مکہ سے ہجرت فرمائی تو آپ ﷺ رنجیدہ اور غمگین تھے تو آپ ﷺ کی تسلی اور بشارت کے لئے یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ ﷺ عنقریب پھر مکہ واپس آئیں گے اور آپ کا یہ دوبارہ آنا فاتحانہ اور حاکمانہ ہوگا۔ بعد ازاں آپ کو ایک دوسری تسلی دیتے ہیں کہ یہ نبوت اور رسالت اور نزول قرآن سب اللہ کی رحمت ہے جو آپ کو بلا کسی امیدوار بلا کسی توقع کے عطا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
84:۔ یہ امر ششم ہے جو وھو اللہ لا الہ الا ھو الخ، پر متفرع ہے یہی وہ دعوت ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم کے سامنے پیش کی اور جس کی خاطر عمر بھر مصائب اٹھائے۔ یہ تمام سورت کے بیان کا ثمرہ و نتیجہ ہے۔ یہ خطاب بدستور امت سے ہے۔ سورت میں بیان کردہ دلائل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ خالق ومالک، متصرف و مختار اور عالم الغیب صرف اللہ ہی ہے۔ نفع نقصان اور منع وعطاء اسی کے اختیار میں ہے لہذا اللہ کے سوا کسی کو کارساز نہ سمجھو، مصائب و مشکلات اور حاجات و بلیات میں غائبانہ صرف اسی کو پکارو۔ لا تتخذ غیرہ وکیلا علی امورک کلہا ولا تعتمد علی غیرہ (خازن ج 5 ص 155) ۔ ویجوز ان یکون المعنی لا تعمتد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
ربط آیات
سورۃ القصص میں بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت و صداقت کے علاوہ بہت سی نصیحت کی باتیں بھی بیان کی گئی ہیں ۔ اس میں کفر کی مذمت اور غرور وتکبر کی قباحت ذکر ہوتی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ بلا شبہ مشرکین آپ کی طرح طرح کی اذیتیں پہنچاتے ہیں مگر آپ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ انہیں زندگی بھر کن کن مشکل حالات سے گزرنا پڑا ۔ ان کا واسطہ بھی بڑے سرکش اور متکبر لوگوں کے ساتھ تھا ، آپ کے مخالفین بھی بڑے نا ہنجار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مغروروں میں فرعون اور ہامان تھا۔ جب کہ حاسدوں میں قارون تھا اسی طرح آپ کے بھی بڑی بڑے…
Read the full tafseer →وَلَا يَصُدُّنَّكَ عَنْ اٰيٰتِ اللہِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَيْكَ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ 87ۚ
صدد
الصُّدُودُ والصَّدُّ قد يكون انصرافا عن الشّيء وامتناعا، نحو : يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً
، [ النساء/ 61] ، وقد يكون صرفا ومنعا نحو : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24]
( ص د د ) الصدود والصد
۔ کبھی لازم ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے رو گردانی اور اعراض برتنے کے ہیں جیسے فرمایا ؛يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] کہ تم سے اعراض کرتے اور کے جاتے ہیں ۔ اور کبھی متعدی ہوتا ہے یعنی روکنے اور منع کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
ترکیب : تلک مبتداء والدار لغت و نجعلہا خبر من موضع نصب میں ہے۔ اعلم سے ومن یہ معطوف ہے، من اول پر۔ الا رحمۃ ای ولکن القی رحمۃ الاوجہہ استثناء من الجنس ای الا ایاہ۔
تفسیر : قارون کی بربادی کا حال بیان فرما کر اور یہ بات ثابت کرکے کہ دار آخرت کی نعماء باقی اور بہتر ہیں۔ یہ بات بتلاتا ہے کہ اس دار آخرت کا کون مستحق ہے اور کن کن باتوں سے حاصل ہوتا ہے۔ فقال تلک الدار الآخرۃ نجعلہا للذین لا یریدون علوًا فی الارض ولا فسادًا کہ یہ دار آخرت ہم اس کو دیں گے کہ جو دنیا میں سرکشی اور فساد کرنے کا قصد بھی نہ کرے گا۔ علو گردن کشی ‘ تکبر ‘ اس کی ضد اسلام گردن نہادن یعنی جو اللہ اور اس کے رسول کے آگے گردن…
Read the full tafseer →وَلاَ یَصُدُّنَّـکَ عَنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْکَ وَادْعُ اِلٰی رَبِّکَ وَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ (القصص : 87)
(اور وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی آیات سے روکنے نہ پائیں اس کے بعد کہ وہ آپ کی طرف اتاری جا چکی ہیں، اور آپ اپنے رب کی طرف (لوگوں کو) بلائیں اور ہرگز نہ ہوجانا شرک کرنے والوں میں سے۔ )
ردِشرک میں آخری درجہ تک زور اور تاکید
اللہ تعالیٰ کے دین کی اہمیت اور اس کی تبلیغ و دعوت کی حیثیت کو واضح کرنے کے بعد ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ مشرکین توحید کی دعوت کے ہرگز روادار نہیں اور توحید کی ایک ایک بات انھیں بری طرح کھلتی ہے اور وہ شرک کی مذمت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو مزید ہدایات :
اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور نبی آخر الزمان ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔ اے نبی ﷺ ! آپ سے پہلے جتنے پیغمبر مبعوث کیے گئے ہم نے ان کی طرف یہی پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ اس لیے اس کا حکم ہے کہ اسی کی عبادت کی جائے۔ (الانبیاء : 25) نبی آخر الزماں ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے بھی یہی ارشاد فرمایا کہ آپ لوگوں میں اس بات کا اعلان فرمائیں کہ میں بنی نوع انسان کے لیے اللہ کا رسول ہوں۔ مجھے اس ذات نے اپنا رسول منتخب فرمایا ہے جو…
Read the full tafseer →87 : وَلَا یَصُدُّنَّکَ عَنْ ٰایٰتِ اللّٰہِ ( اور وہ ہرگز نہ روکیں آپ کو اللہ کی آیات (پڑھنے یا عمل کرنے) سے) مراد اس سے جمع ہے یعنی یہ لوگ ہرگز آپ کو اللہ تعالیٰ کی آیات پر عمل سے نہ روکیں۔ آیات سے قرآن مجید مراد ہے۔
بَعْدَ اِذْ اُنْزِلَتْ اِلَیْکَ (بعد اس کے کہ وہ آپ کی طرف اتاری جا چکی ہیں) یعنی قرآن کے نزول کے بعد اور اذ کی طرف اسمائے زمان کی اضافت کی جاتی ہے مثلاً حینئذ ‘ یومئذ۔
وَادْعُ اِلٰی رَبِّکَ (اور اپنے رب کی طرف بلاتے رہئے) یعنی اس کی توحید اور عبادت کی دعوت دیتے رہئے۔
وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (اور مشرکین میں سے نہ ہوجائیے)
Read the full tafseer →87۔ ولایصدنک عن آیات اللہ، آیات سے مراد قرآن ہے۔ بعد اذا انزلت الیک وادع الی ربک، ، یعنی اس کی معرفت ار اس کی توحید، دعوت دو ۔ ولاتکونن من المشرکین، ابن عباس کا قولے کہ بظاہر خطاب نبی کریم کو ہے مگر مراد اس سے دین والے ہیں نہ کفار کیس اتھ رہو اور نہ ہی انکی موافقت اختیار کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
85 تا 88۔ صحیح بخاری اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے جس میں انہوں نے فرمایا معاد سے مقصود مکہ معظمہ ہے جس کا حاصل فتح مکہ کی خوشخبری ہے۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس کا دوسرا قول ہے۔ جس میں انہوں نے معاد کی تفسیر قیامت کی فرمائی ہے حقیقت میں دونوں تفسیریں صحیح ہیں کیوں کہ پہلی تفسیر کا ظہور تو فتح مکہ کے وقت ہوچکا دوسری تفسیر کا حاصل یہ ہے۔ کہ قرآن کی نصیحت سن کر راہ راست پر آنے والوں کا اور گمراہی پر جمنے والوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے۔ اے رسول اللہ کے تم اپنا کام کیے جاؤ۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان گمراہی پر جمے رہنے والوں سے ماذا اجبتم المرسلین کا سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
آیت 85
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ان الذی فرض علیک القراٰن) ” جس (اللہ) نے تم پر قرآن (کے احکام) کو فرض کیا ہے۔ “ یعنی جس ہستی نے آپ پر قرآن نازل کیا ‘ اس میں احکام فرض کئے ‘ اس میں حلال اور حرام کو واضح کیا ہے۔ “ آپ کو اسے تمام لوگوں لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا ‘ نیز آپ کو حکم دیا کہ آپ تمام مکلفین کو ان احکام پر عمل کرنے کی دعوت دیں اس اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں کہ صرف اسی دنیا کی زندگی ہوتی اور بندوں کو جزا و سزا نہ دی جاتی ‘ بلکہ ضروری ہے کہ وہ آپ کو (معاد) ” انجام کار “ کی طرف لوٹائے جہاں نیکو کاروں کو ان کی نیکی کی جزا دی جائے اور بدکاروں کو ان کے گناہوں کی سزا۔ آپ نے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →126 مشرکوں سے احتراز و اجتناب کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ کبھی مشرکوں سے نہ ہوجانا "۔ خطاب اگرچہ آپ ﷺ کو ہے لیکن سنانا دراصل دوسروں کو ہے کہ آپ سے تو اس طرح کا کوئی احتمال ہی نہ تھا۔ بہرکیف وحی خداوندی کے اولین اور اصل مخاطب چونکہ آپ ہی ہیں اس لیے آپ سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ " اپنے رب کی طرف بلاتے رہو اور مشرکوں سے نہیں ہوجانا " اور کفار قریش کو چونکہ زیادہ چڑ دعوت توحید ہی سے تھی اس لیے زیادہ زور اسی پر دیا گیا کہ اس میں مداہنت شرک ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف مشرکین کو اصل چڑ چونکہ عقیدئہ توحید ہی سے ہوتی ہے۔ کل کے مشرکوں کا حال بھی یہی تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
نبوت اللہ کی عطا ہے کسی کی کمائی نہیں
تشریح : اصل میں یہ آیات پوری سورت کا خلاصہ بیان کر رہی ہیں۔ اور اس بات کی وضاحت بھی کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے قانون بہت پہلے سے بنائے ہوئے ہوتا ہے۔ انسان کو تو خبر بھی نہیں ہوتی کہ اس کے ساتھ اگلے لمحہ میں کیا ہونے والا ہے۔ مثلاً نبوت ملنے کا نہ تو دعا سے تعلق ہے اور نہ ہی کسی خاص اعلان کا تعلق ہے۔ جیسا کہ سیدنا محمد ﷺ اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا نبوت کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ البتہ نبوت کے لیے اللہ کا چنائو ایک خاص معیار سے ضرور ہوتا ہے وہ یہ کہ جس طرح سیدنا محمد ﷺ کی زندگی شروع سے ہی صداقت ‘ امانت ‘ دیانت ‘ راست بازی ‘ پاکبازی ‘ شرافت ‘ امن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
آیات 83 تا 88
اسرارومعارف
اور آخرت کا گھر تو ان لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے جو دنیا میں اپنی بڑائی اور تکبر میں گرفتار نہیں ہوتے اور اللہ کی زمین پر فساد نہیں کرتے ۔
تکبر اور فساد :
یعنی تکبر یہ ہے کہ اپنی رائے کو سب سے حتی کہ احکام شریعہ سے بھی بالا سمجھے تو اس کا یقینی نتیجہ فساد ہے محض اچھے کپڑے پہننا یا اچھا گھر اور اچھی گاڑی اگر حلال ذرائع سے نصیب ہو اور دکھاوے کے لیے نہ ہو ضرورت کے لیے ہو تو یہ بھی شکر ادا کرنے کا ایک انداز ہے لیکن اگر ذاتی نمائش کے لیے ہو تو تکبر شمار ہوگا اور دونوں صورتوں میں نتائج الگ الگ برآمد ہوں گے اور حق یہ ہے کہ عاقبت و آخرت کی سرفرازی انہی لوگوں کے لیے ہے جو دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
3 ۔ یا ” حکومت اسی کے لئے ہے یعنی وہ اس کا حق رکھتا ہے۔ 4 ۔ پھر وہی ہر ایک کو اس کے نیک یا بدعمل کا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →(28:87) لا یصدنک : لا یصدن مضارع منفی تاکید بانون ثقیلہ صیغہ جمع مذکر غائب (اصل میں یصدون تھا۔ نون ثقیلہ کے آنے سے واؤ اور نون اعرابی ساقط ہوگئے۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ وہ ہرگز تجھے روک نہ دیں۔ وہ ہرگز تجھے نہ روکیں۔ صد مصدر باب نصر۔ ضمیر فاعل کا مرجع کفرین ہے۔
ادع۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ دعا یدعوا داع : دعاء ودعوۃ مصدر باب نصر تو دعوت دے۔ تو بلا۔ تو دعا کر۔ تو مانگ۔
ادع۔ کے بعد مفعول محذوف ہے ای ادع الناس۔ تو لوگوں کو دعوت دے۔ تو لوگوں کو بلا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
لغات القرآن آیت نمبر (83 تا 88 ) ۔
علو (بڑائی ۔ برتری) ۔ العاقبتہ (انجام۔ نتیجہ) ۔ فرض (فرض کردیا۔ لازم کردیا) ۔ راد (وہ لوٹ گیا) ۔ معاد (لوٹنے کی جگہ ) ۔ لا یصدن (وہ ہرگز نہ روکیں گے) ۔ ھالک (ہلاک ہونے والا) ۔ وجہ (چہرہ۔ ذات) ۔
تشریح : آیت نمبر (83 تا 88 ) ۔ ” سورة القصص میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو عبرت و نصیحت کے لئے تفصیل سے بیان کرنے کے بعد بنی اسرائیل ہیہ کے ایک فرد قارون کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو اپنی دولت کی کثرت، خوشامدیوں کی بھیڑ اور فخر و غرور کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر الزام لگانے سے باز نہیں آیا تو اللہ نے اس کو اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
توحیدکابیان۔
(ف 1) ان آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کی نصیحت سن کر راہ راست پر آنے والوں کا اور گمراہی پر جمنے والوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے اے محبوب تم اپنا کام تبلیغ کا کیے جاؤ، قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان گمراہی پر جمے رہنے والوں سے سوال کرے گا تو یہ پچھتائیں گے پھر فرمایا اے محبوب تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میرا پروردگار خوب جانتا ہے اس کو جو ہدایت پر ہے اور جو کھلاگمراہ ہے اور تم امید بھی نہیں رکھتے کہ تم پر خدا کی کتاب بھیجی جائے گی مگر محض تمہارے پروردگار کی مہربانی سے نازل کی گئی ہے پھر تم کافروں کے مددگار نہ ہونا کہ یہ کافر تم کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی نصیحت سے نہ روک دیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
[56] ان آیتوں میں اگرچہ خطاب نبی اکرم ﷺ سے ہے لیکن سنانا دوسروں کو مقصود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
حل لغات :۔ ھالک : فانی یا بےسود ۔ دونوں معنوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ھلک الثوب یا حللک الناع
Read the full tafseer →87۔ اور جب اللہ تعالیٰ کے احکام آپ پر نازل ہوچکے تو اس کے بعد ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ آپ کو ان احکام کی تعمیل سے روک دیں اور آپ ان کو اپنے پروردگار کی طرف بلاتے رہئے اور ان کو دین حق کی دعوت دیئے رہئے اور آپ ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ۔ یعنی عطائے رسالت اور نزول قرآن کریم کے بعد آپ کو دعوت الی الحق اور تبلیغ احکام میں یہ کوئی رکاوٹ پیدا نہ کریں اور آپ کو روک نہ دیں آپ حسب دستور ان کو بلاتے رہئے اور آپ اپنے کو ان میں شمار نہ کیجئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اپنی قوم کی خاطر نہ کر دین کے کام میں اور آپکو ان میں نہ گن گو کہ اپنے قرابتی ہوں ۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
ف 3۔ ان آیتوں میں کفار و مشرکین کو ان کی درخواستوں سے مایوس کرنا ہے اور روئے سخن ان ہی کی طرف ہے کہ تم جو رسول اللہ ﷺ سے دین میں موافق ہونے کی درخواست کرتے ہو اس میں کامیابی کا کبھی احتمال نہیں مگر عادت ہے، کہ جس شخص پر زیادہ غصہ ہوتا ہے، اس سے بات نہیں کیا کرتے اپنے محبوب سے باتیں کر کے اس شخص کو سنایا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ کی آیات سے آپ ﷺ کو کوئی روک نہ دے آپ ﷺ دعوت کو جاری رکھیں :
87۔ زیر نظر آیت بھی گزشتہ آیت کی طرح پہلی آیت کی مزید وضاحت کے لئے ارشاد فرمائی گئی ہے کہ آپ کے مخالفین اے پیغمبر اسلام ! ﷺ خواہ کتنا ہی زور لگا دیکھیں لیکن یہ لوگ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی آیات سے روکنے نہ پائیں جن باتوں سے یہ لوگ چڑتے ہیں وہ آپ ﷺ احسن طریقہ کے ساتھ ان کے کانوں تک پہنچاتے رہیں آپ ﷺ سے یہ خوش نہیں ہوں گے اور ظاہر ہے کہ وہ خوش نہیں ہوں گے تو آپ ﷺ سے دست تعاون نہیں بڑھائیں گے تو آپ ﷺ کو ان کے دست تعاون کی آخر ضرورت بھی کیا ہے کیونکہ آپ ﷺ کا یہ نجی اور تجارتی کام تو ہے نہیں کہ آپ ﷺ کا نقصان ہوگا ۔ آپ ﷺ کی ذمہ داری فقط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ (Everything is going to perish except His Face - 28:88). The word 'His Face' in this verse means the very Being of Allah Ta’ ala. Hence, the meaning of the verse is that except for Allah Ta’ ala everything is mortal and will get destroyed and will vanish. Some commentators have taken the phrase' His Face' to mean the good deeds performed by human beings exclusively for Allah Ta’ ala. In that case the meaning of the verse would be that those actions which are performed exclusively for Allah Ta’ ala will not be destroyed, while all other things will…
Read the full tafseer →111 ...divert you": divert you from conveying them to others and acting in accordance with them in practical life.
Read the full tafseer →