Al-Qasas 28:86

Al-Qasas · from ayah 86

28:86

وَمَا كُنْتَ تَرْجُوْۤا اَنْ یُّلْقٰۤی اِلَیْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَهِیْرًا لِّلْكٰفِرِیْنَ ۟ؗوَمَا كُنۡتَ تَرۡجُوۡۤا اَنۡ يُّلۡقٰٓى اِلَيۡكَ الۡكِتٰبُ اِلَّا رَحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ‌ فَلَا تَكُوۡنَنَّ ظَهِيۡرًا لِّـلۡكٰفِرِيۡنَ

اور تمہیں اُمید نہ تھی کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی۔ مگر تمہارے پروردگار کی مہربانی سے (نازل ہوئی) تو تم ہرگز کافروں کے مددگار نہ ہونا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And you were not expecting that the Book would be conveyed to you, but [it is] a mercy from your Lord. So do not be an assistant to the disbelievers.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 9 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:86

تم اس بات کے ہرگز امیدوار نہ تھے کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی، یہ تو محض تمہارے رب کی مہربانی سے (تم پر نازل ہوئی ہے)، پس تم کافروں کے مدد گار نہ بنو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہیں اُمید نہ تھی کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی۔ مگر تمہارے پروردگار کی مہربانی سے (نازل ہوئی) تو تم ہرگز کافروں کے مددگار نہ ہونا

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کو تو کبھی اس کا خیال بھی نہ گزرا تھا کہ آپ کی طرف کتاب نازل فرمائی جائے گی لیکن یہ آپ کے رب کی مہربانی سے اترا۔ اب آپ کو ہرگز کافروں کا مددگار نہ ہونا چاہیئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) تمہیں پہلے سے یہ امید نہیں تھی کہ تم پر یہ کتاب نازل کی جائے گی، لیکن یہ تمہارے رب کی طرف سے رحمت ہے، لہذا کافروں کے ہرگز مددگار نہ بننا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم امید نہ رکھتے تھے کہ کتاب تم پر بھیجی جائے گی ہاں تمہارے رب نے رحمت فرمائی تو تم ہرگز کافروں کی پشتی (مدد) نہ کرنا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت سے اُمتِ محمدی کو خطاب ہے) اس بات کی امید نہ رکھتے تھے کہ تم پر (یہ) کتاب اتاری جائے گی مگر (یہ) تمہارے رب کی رحمت (سے اتری) ہے، پس تم ہرگز کافروں کے مددگار نہ بننا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تو امید نہ رکھتا تھا کہ تیری طرف کتاب نازل کی جائے گی مگر تیرے رب کی طرف سے رحمت کی وجہ سے (یہ نازل ہوئی) سو تو ہرگز کافروں کا مددگار نہ بن۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ کو ہرگز یہ توقع نہ تھی کہ یہ کتاب (قرآن) آپ پر نازل کی جائے گی۔ یہ تو صرف اللہ کی مہربانی ہے۔ لہذا آپ ہرگز کافروں کے مددگار نہ بنئے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم تومتوقع نہ تھے کہ تم پر کتاب اتاری جائے، یہ تو بس تمہارے رب کا فضل ہوا ہے اور تم ان کافروں کے پشت پناہ نہ بنو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور آپ تو کوئی امید بھی نہ رکھتے تھے کہ آپ کی طرف اتارا جائے گا اس کتاب عزیز کو مگر اس کا نزول تو محض آپ کے رب کی مہربانی سے ہوا پس آپ اس نعمت لازوال کے بعد کافروں کے لئے پشت پناہ نہیں بن جانا

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کچھ (اس کا) آسرا لگائے ہوئے نہ تھے کہ آپ پر (یہ) کتاب نازل کی جائے گی مگر آپ کے پروردگار کی رحمت سے (نازل ہوئی) سو آپ (ان) کافروں کی ذرا بھی تائید نہ کیجیے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی ﷺ !) آپ کو تو کوئی توقع نہیں تھی کہ آپ پر کتاب القا کی جائے گی یہ تو محض آپ ﷺ کے رب کی رحمت سے ہے پس آپ ﷺ کافروں کے پشت پناہ نہ بنیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آپ کو امید نہ تھی کہ آپ پر کتاب نازل کی جائے گی مگر آپ کے رب کی مہربانی سے نازل ہوئی تو آپ ہرگز کفار کے مددگار نہ ہونا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), you never looked forward for the Book to be revealed to you. It is out of sheer Mercy of your Lord that it was (revealed to you). So do not lend any support to the unbelievers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

You were not expecting that the Book would be sent down to you, but it was a mercy from your Lord. So, never be a supporter for the infidels.

— Muhammad Taqi Usmani

You were not expecting that the Book would be sent down to you, but it was a mercy from your Lord. So, never be a supporter for the infidels.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And you were not expecting that the Book would be sent down to you, but it is a mercy from your Lord. So never be a supporter of the disbelievers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thou hadst no hope that the Scripture would be inspired in thee; but it is a mercy from thy Lord, so never be a helper to the disbelievers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And you were not expecting that the Book would be conveyed to you, but [it is] a mercy from your Lord. So do not be an assistant to the disbelievers.

— Saheeh International

You had no hope of receiving the Book except by the mercy of your Lord. Do not be a supporter of the unbelievers.

— Muhammad Sarwar

And you did not expect that the Book would be inspired to you, but it is a mercy from your Lord, therefore be not a backer-up of the unbelievers.

— Muhammad Habib Shakir

And thou wast not hoping that the Book would be Inspired in thee; but it is a mercy from thy Lord, so be thou not a supporter of the infidels.

— Abdul Majid Daryabadi

And thou hadst not expected that the Book would be sent to thee except as a Mercy from thy Lord: Therefore lend not thou support in any way to those who reject (Allah's Message).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:86

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 85–88

جو کروگے سو بھروگے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم فرماتا ہے کہ رسالت کی تبلیغ کرتے رہیں لوگوں کو کلام اللہ سناتے رہیں اللہ تعالیٰ آپ کو قیامت کی طرف واپس لے جانے والا ہے اور وہاں نبوت کی بابت پرستش ہوگی۔ جیسے فرمان ہے۔ آیت (فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ ۙ) 7۔ الاعراف :6) یعنی امتوں سے اور رسولوں سے سب سے ہم دریافت فرمائیں گے۔ اور آیت میں ہے رسولوں کو جمع کرکے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا ؟ اور آیت میں ہے نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا۔ معاد سے مراد جنت بھی ہوسکتی ہے موت بھی ہوسکتی ہے۔ دوبارہ کی زندگی بھی ہوسکتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القصص 109 یہ بات محمد ﷺ کی نبوت کے ثبوت میں پیش کی جارہی ہے جس طرح موسیٰ ؑ بالکل بیخبر تھے کہ انہیں نبی بنایا جانے والا ہے اور ایک عظیم الشان مشن پر وہ مامور کیے جانے والے ہیں، ان کے حاشیہ خیال میں بھی اس کا ارادہ یا خواہش تو درکنار اس کی توقع تک کبھی نہ گزری تھی، بس یکایک راہ چلتے انہیں کھینچ بلایا گیا اور نبی بنا کر وہ حیرت انگیز کام ان سے لیا گیا جو ان کی سابق زندگی سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا تھا، ٹھیک ایسا ہی معاملہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ بھی پیش آیا، مکہ کے لوگ خود جانتے تھے کہ غار حرا سے جس روز آپ نبوت کا پیغام لے کر اترے اس سے ایک دن پہلے تک آپ کی زندگی کیا تھی، آپ کے مشاغل کیا تھے، آپ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 85–87

خلاصہ تفسیر (اور آپ کے ان مخالفین نے جو آپ کو پریشان کر کے ترک وطن پر مجبور کیا ہے جس کی اضطراری مفارقت کا آپ کو صدمہ ہے تو آپ تسلی رکھیں) جس خدا نے آپ پر قرآن (کے احکام پر عمل اور اس کی تبلیغ) کو فرض کیا ہے (جو مجموعاً دلیل ہے آپ کی نبوت کی) وہ آپ کو (آپ کے) اصلی وطن (یعنی مکہ) میں پھر پہنچا دے گا (اور اس وقت آپ آزاد اور غالب اور صاحب سلطنت ہوں گے اور ایسی حالت میں اگر دوسری جگہ قیام کے لئے تجویز کی جاتی ہے بمصلحت و با اختیار ہوتی ہے جس سے رنج نہیں ہوتا اور باوجود آپ کے تحقق نبوت کے جو یہ لوگ آپ کو غلطی پر اور اپنے کو حق پر سمجھتے ہیں تو) آپ (ان سے) فرما دیجئے کہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

جو ذمہ داری بندے پر خدا ڈالتا ہے وہ اس میں اس کی مدد فرماتا ہے۔ یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید وضاحت ہے کہ تم نے یہ کتاب اپنے اوپر خدا سے ماگن کر تو اتروائی نہیں ہے کہ اس کی ساری ذمہ داری خدا تم پر ڈال کر اس سے بےتعلق ہوجائے۔ یہ تو تمہارے رب کی رحمت ہے جو اس نے تم پر تمہاری طلب و تمنا کے بغیر، نازل فرمائی ہے تو جس کام کے لئے اس نے تمہیں خود منتخب فرمایا ہے وہی اس کے حقوق وفرائض سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ہر گام پر تمہاری رہنمائی بھی فرمائے گا اور چونکہ یہ رحمت ہے، کوئی زحمت نہیں ہے اس وجہ سے بہرحال اس کا انجام تمہارے حق میں بھی اور ان لوگوں کے حق میں بھی جو اس کو قبول کریں گے، رحمت ہی کا باعث…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

86-1یعنی نبوت سے قبل آپ کے وہم گمان میں بھی نہیں تھا کہ آپ کو رسالت کے لئے چنا جائے گا اور آپ پر کتاب الٰہی کا نزول ہوگا۔ 86-2یعنی نبوت و کتاب سے سرفرازی، اللہ کی خاص رحمت کا نتیجہ ہے جو آپ پر ہوئی اس سے معلوم ہوا کہ نبوت کوئی ایسی چیز نہیں ہے، جسے محنت اور سعی و کاوش سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا رہا، نبوت و رسالت سے مشرف فرماتا رہا، جیسا کہ حضرت محمد ﷺ کو اس سلسلہ الزہب کی آخری کڑی قرار دے کر اسے موقوف فرما دیا 86-3اب اس نعمت اور فضل الٰہی کا شکر آپ اس طرح ادا کریں کہ کافروں کی مدد اور ہمنوائی نہ کریں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 85–88

49: قرآن کریم میں اصل لفظ“ معاد ”استعمال ہوا ہے، بعض مفسرین کے نزدیک یہ“ عادت ”سے نکلا ہے، یعنی وہ جگہ جس میں رہنے اور آنے جانے کا انسان عادی اور اس سے مانوس ہو، اور بعض مفسرین نے اس کے معنی“ لوٹنے کی جگہ ”بیان کئے ہیں، دونوں صورتوں میں اس سے مکہ مکرمہ مراد ہے، اور یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب حضور نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے جارہے تھے، جب جحفہ کے قریب اس جگہ پہنچے جہاں سے مکہ مکرمہ کا راستہ الگ ہوجاتا تھا، تو آپ کو اپنے وطن سے جدائی کا احساس ہوا، اس موقع پر اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تسلی دی، اور وعدہ فرمایا کہ آپ کو دوبارہ اس سرزمین میں فاتح کی حیثیت سے لایا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 86–88

وما کنت ترجوا ۔۔۔۔۔ من ربک یہ اس مسئلہ پر ایک فیصلہ کن بات ہے کہ رسالت سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو کوئی امید نہ تھی کہ آپ رسول ﷺ بھی ہوسکتے ہیں۔ پس یہ اللہ کا اچانک انتخاب تھا۔ اور اللہ جو چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، منتخب کرتا ہے۔ یہ اس قدر بلند منصب ہے کہ اس کے لیے کوئی انسان قبل از وقت توقع بھی نہیں کرسکتا ، سوچ بھی نہیں سکتا کہ اللہ اسے اس منصب کے لیے چن لے گا یا اللہ اسے اس کے اہل بنا دے گا۔ یہ اللہ کا محض رحم و کرم ہوتا ہے۔ کسی شخص پر یا کسی قوم پر کہ ان میں سے کسی کو اللہ چن لیتا ہے اور یہ انتخاب ان کا ہوتا ہے جو اللہ کے اونچے بندے ہوں ، ان کا انتخاب نہیں ہوتا جو اس منصب کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی آپ پہلے سے کچھ پیغمبری کے انتظار میں نہ تھے، محض رحمت و موہبت الٰہیہ ہے جو حق تعالیٰ نے پیغمبری اور وحی سے سرفراز فرمایا۔ وہ ہی اپنی مہربانی اور رحمت سے دنیا و آخرت میں کامیاب فرمائے گا لہذا اسی کی امداد پر ہمیشہ بھروسہ رکھیے۔ 2 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں یعنی اپنی قوم کو اپنا نہ سمجھ جنہوں نے تجھ سے یہ بدی کی (کہ وطن چھوڑنے پر مجبور کیا) اب جو تیرا ساتھ دے وہ ہی اپنا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 86 وَمَا کُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ یُّلْقٰٓی اِلَیْکَ الْکِتٰبُ ” اس سے ملتا جلتا مضمون سورة النمل میں بھی آیا ہے : وَاِنَّکَ لَتُلَقَّی الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ عَلِیْمٍ ”اے نبی ﷺ ! قرآن تو یقیناً ایک حکیم اور علیم ہستی کی طرف سے آپ پر القا کیا گیا ہے“۔ ظاہر ہے کہ بعثت سے پہلے نہ تو آپ ﷺ اس بات کے امیدوار تھے کہ آپ ﷺ پر قرآن نازل کیا جائے اور نہ ہی آپ ﷺ اس کے لیے کوشاں تھے۔ اس سے پہلے آپ ﷺ کی زندگی ایک صادق و امین ‘ شریف النفس انسان اور ایک ایماندار تاجر کی زندگی تھی۔ اور جو تاجر آپ ﷺ کی اس تاجرانہ زندگی کا اتباع کرتا ہے اس کے لیے آپ ﷺ نے بایں الفاظ بشارت فرمائی ہے : اَلتَّاجِرُ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

118 اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کسی نبی کو بھی نبوت ملنے سے پہلے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اسے نبوت عطا ہوگی۔ حضرت موسیٰ کو نبوت عطا ہونے کا واقعہ قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ کہ کس طرح وہ ایک اندھیری اور ٹھنڈی رات کو راہ بھولے ہوئے آگ کی تلاش میں نکلے گئے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بلا کر نبوت سے سرفراز کردیا۔ بالکل یہ صورت حال آپ سے بھی غار حرا میں پیش آئی تھی۔ پہلی وحی کے بعد آپ گھبرائے ہوئے گھر پہنچے اور کہا : مجھے کپڑا اوڑھا دو ، کپڑا اوڑھا دو پھر جب ذرا گھبراہٹ دور ہوئی تو آپ نے حضرت خدیجہ سے غار حرا کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ (إنِّیْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِی) یعنی مجھے تو اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

114۔ (جیسا کہ اب تک بھی ان سے الگ تھلگ ہی رہے ہیں۔ ) آیت میں تردید ان لوگوں کی ہے جو کہتے تھے کہ اپنی محنت و کوشش کے بعد آپ نے دعوی مرتبہ نبوت کا کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–88

آیت نمبر 83 تا 88 ترجمہ : یہ دار آخرت یعنی جنت ہم انہیں لوگوں کے لئے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں نہ ظلم کے ذریعہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ نافرمانی کرکے فساد کرتے ہیں اور بہتر انجام فرما نبرداری کرکے اللہ کے عذاب سے ڈرنے والوں کے لئے ہے جو شخص نیکی لیکر آئے گا اس کو اس سے بہتر ملے گا ان کو نیکیوں کا اجر ملے گا اور وہ ان نیکیوں کا دس گنا ہوگا اور جو شخص بدی لیکر آئے گا سو ایسے لوگوں کو جو بدی کا کام کرتے ہیں اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا وہ کرتے تھے جس خدا نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے وہ آپ کو دوبارہ پہلی جگہ لوٹانے والا ہے یعنی مکہ (کی طرف) اور آپ نے مکہ کے لئے اشتیاق ظاہر فرمایا تھا، آپ کہہ دیجئے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما کنت ترجوآ یلقی الیک الکتب الا رحمۃ من ربک . اور آپ کو تو کوئی امید نہیں تھی کہ آپ کو قرآن دیا جائے گا (اور آپ کے پاس وحی آئے گی) مگر ایسا تو محض آپ کے رب کی رحمت کی وجہ سے ہوا۔ فراء نے کہا : اس جگہ استثناء منقطع ہے اور اِلَّا کا معنی ہے لیکن۔ لیکن آپ کے رب نے اپنی رحمت سے آپ کو قرآن عطا کردیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ استثناء منفصل مفرغ ہو ‘ گویا مطلب اس طرح ہوگا کہ آپ کے رب نے یہ قرآن کسی اور وجہ سے (یعنی استحقاق وغیرہ کی وجہ سے) نہیں دیا ‘ مگر اپنی رحمت کی وجہ سے دیا۔ فلا تکونن ظھیرًا للکفرین . سو آپ کافروں کے مددگار نہ بنیں کہ آپ ان سے نرمی کریں ‘ ان کی بیہودگیوں کو برداشت کریں اور جس بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(86) اور آپ کو تو یہ توقع بھی نہ تھی کہ آپ پر قرآن حکیم نازل ہوگا اور آپ نبی ہوں گے مگر محض آپ کے رب کی مہربانی سے آپ پر قرآن کریم نازل ہوا اور آپ کو نبی بنایا گیا تو آپ ان کفار کے کفر کی ذرا تائید نہ کیجیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا كُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ يُّلْقٰٓى اِلَيْكَ الْكِتٰبُ۔۔ : رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں جن حالات سے گزر رہے تھے اور جس طرح کفار نے آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا جینا دو بھر کر رکھا تھا، ان حالات میں یہ پیش گوئی کہ آپ کا رب آپ کو یہاں سے ہجرت کے بعد اسی عظیم الشان مقام میں لانے والا ہے، بظاہر ایک ناممکن کام کی پیش گوئی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطمینان دلانے کے لیے اس احسان کا ذکر فرمایا جو اس سے کہیں بڑا احسان تھا۔ فرمایا، آپ کو تعجب ہوتا ہے اور یہ بات بہت بعید نظر آتی ہے کہ آپ نہایت باعزت طریقے سے اپنے شہر میں واپس آئیں گے تو ذرا اپنی رسالت پر تو غور کریں، کبھی آپ نے سوچا بھی تھا یا دل…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 85–88

ان الذی فرض۔۔۔۔۔ سورت کا اختتام اپنے نبی کو بشارت دیتے ہوئے کیا کہ وہ حضرت محمد ﷺ کو مکہ مکرمہ کی طرف اپنے دشمنوں پر غلبہ دیتے ہوئے لوٹائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آپ کو جنت کی بشارت ہے : پہلا قول اکثر علماء کا ہے، یہ حضرت جابر بن عبداللہ حضرت ابن عباس، مجاہد وغیرہم کا قول ہے (1) ۔ قتیی نے کہا : معاد الرجل سے مراد اس کا ملک و شہر ہے کیونکہ وہ وہاں سے جاتا ہے پھر واپس لوٹ آتا ہے۔ مقاتل نے کہا : نبی کریم ﷺ تلاٹ کے خوف سے غیر معروف راستہ سے غار ثور سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلے۔ جب راستے تک پہنچے اور حجفہ میں فروکش ہوئے تو مکہ مکرمہ کی طرف جانے والے راستہ سے آگاہ ہوئے تو مکہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 85–87

1۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ مکہ سے نکلے اور جحفہ پہنچ گئے تو مکہ کی طرف شوق ہوا تو اللہ تعالیٰ یہ آیت اتاری آیت ان الذی فرض علیک القراٰن لرادک الی معاد یعنی جس خدا نے آپ پر قرآن کو فرض کیا وہ آپ کو آپ کے اصل وطن لوٹا کر لائے گا یعنی مکہ کی طرف۔ مکی اور مدنی سورتیں 2۔ ابن مردویہ نے علی بن حسین بن واقد ؓ سے روایت کیا کہ سارا قرآن مکی ہے یا مدنی سوائے اس قول کے کہ آیت یعنی ان الذی فرض علیک القراٰن لرادک الی معاد کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ پر جحفہ میں نازل ہوئی۔ جب آپ ہجرت کرتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف نکلے سو یہ آیت مکی ہے نہ مدنی اور یہ آیت جو رسول اللہ ﷺ پر ہجرت سے پہلے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا كُنْتَ تَرْجُوْٓا [اور آپ ﷺ امید نہیں کرتے تھے ] اَنْ يُّلْقٰٓى [کہ ڈالی جائے گی ] اِلَيْكَ [آپ ﷺ کی طرف ] الْكِتٰبُ [وہ کتاب ] اِلَّا رَحْمَةً [مگر رحمت ہوتے ہوئے ] مِّنْ رَّبِّكَ [آپ ﷺ کے رب (کی طرف) سے ] فَلَا تَكُوْنَنَّ [تو آپ ﷺ ہرگز مت ہوں ] ظَهِيْرًا [مدگار ] لِّـلْكٰفِرِيْنَ [کفر کرنے والوں کے لئے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ مَا کُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ یُّلْقٰٓی اِلَیْکَ الْکِتٰبُ اِلَّا رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ ) (اور آپ کو یہ امید نہیں تھی کہ آپ پر کتاب نازل کی جائے گی لیکن اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا اور اپنی رحمت سے آپ کو نبوت سے سر فراز کیا اور آپ پر قرآن نازل کیا) پس جس طرح آپ کو امید کے بغیر اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتاب عطا فرما دی اسی طرح سمجھ لیں کہ گو اسباب ظاہرہ کے اعتبار سے آپ مکہ معظمہ چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت سے پھر مکہ معظمہ میں واپس ہوں گے، اور یہ بھی صرف اللہ کی رحمت سے ہوگا۔ قال صاحب الروح ای سیردک الی معاد کما انزل الیک القرآن العظیم الشان و ما کنت ترجو۔ (فَلَا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 85–88

خاتمہء سورت بربشارت وہدایت ونصیحت دربارہ تبلیغ ودعوت ذکر فناء عالم وتذکیر آخرت قال اللہ تعالیٰ ان الذی فرض علیک القران لوادک الی معاد۔۔۔ الی۔۔۔ لہ الحکم والیہ ترجعون۔ (ربط) یہ سورت کا خاتمہ ہے جس کو ایک بشارت پر اور چند نصائح اور ہدایات پر ختم کیا جا رہا ہے آنحضرت ﷺ نے جب مکہ سے ہجرت فرمائی تو آپ ﷺ رنجیدہ اور غمگین تھے تو آپ ﷺ کی تسلی اور بشارت کے لئے یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ ﷺ عنقریب پھر مکہ واپس آئیں گے اور آپ کا یہ دوبارہ آنا فاتحانہ اور حاکمانہ ہوگا۔ بعد ازاں آپ کو ایک دوسری تسلی دیتے ہیں کہ یہ نبوت اور رسالت اور نزول قرآن سب اللہ کی رحمت ہے جو آپ کو بلا کسی امیدوار بلا کسی توقع کے عطا کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

82:۔ یہ امر چہارم ہے جو، وجاعلوہ من المرسلین، پر متفرع ہے۔ یہ امر ثانی کے لیے بمنزلہ دلیل ہے یعنی جس طرح آپ کو وہم و گمان بھی نہ تھا کہ آپ پر اللہ کی وحی نازل ہوگی اور آپ منصب نبوت پر فائز ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنی رحمت سے آپ کو یہ منصب عطا فرمایا اسی طرح وہ محض اپنے فضل و احسان سے عزت و شان کے ساتھ مکہ میں داخل فرمائے گا۔ اس میں بھی موسیٰ (علیہ السلام) سے مماثلت ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے جب انہیں بچپن میں صندوق میں بند کر کے دریا کی لہروں کے حوالے کردیا تھا اس وقت کسی کے زاویہ خیال میں بھی یہ بات نہ تھی کہ وہ پیغمبر ہوگا۔ علی ہذا جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے روانہ ہوئے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 86–88

ربط آیات سورۃ القصص میں بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت و صداقت کے علاوہ بہت سی نصیحت کی باتیں بھی بیان کی گئی ہیں ۔ اس میں کفر کی مذمت اور غرور وتکبر کی قباحت ذکر ہوتی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ بلا شبہ مشرکین آپ کی طرح طرح کی اذیتیں پہنچاتے ہیں مگر آپ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ انہیں زندگی بھر کن کن مشکل حالات سے گزرنا پڑا ۔ ان کا واسطہ بھی بڑے سرکش اور متکبر لوگوں کے ساتھ تھا ، آپ کے مخالفین بھی بڑے نا ہنجار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مغروروں میں فرعون اور ہامان تھا۔ جب کہ حاسدوں میں قارون تھا اسی طرح آپ کے بھی بڑی بڑے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا كُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ يُّلْقٰٓى اِلَيْكَ الْكِتٰبُ اِلَّا رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ ظَہِيْرًا لِّـلْكٰفِرِيْنَ۝ 86ۡ رَّجَاءُ ظنّ يقتضي حصول ما فيه مسرّة، وقوله تعالی: ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] ، قيل : ما لکم لا تخافون وأنشد : إذا لسعته النّحل لم يَرْجُ لسعها ... وحالفها في بيت نوب عوامل ووجه ذلك أنّ الرَّجَاءَ والخوف يتلازمان، قال تعالی: وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] ، وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّهِ [ التوبة/ 106] ، وأَرْجَتِ النّاقة : دنا نتاجها، وحقیقته : جعلت لصاحبها رجاء في نفسها بقرب نتاجها . والْأُرْجُوَانَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 83–88

ترکیب : تلک مبتداء والدار لغت و نجعلہا خبر من موضع نصب میں ہے۔ اعلم سے ومن یہ معطوف ہے، من اول پر۔ الا رحمۃ ای ولکن القی رحمۃ الاوجہہ استثناء من الجنس ای الا ایاہ۔ تفسیر : قارون کی بربادی کا حال بیان فرما کر اور یہ بات ثابت کرکے کہ دار آخرت کی نعماء باقی اور بہتر ہیں۔ یہ بات بتلاتا ہے کہ اس دار آخرت کا کون مستحق ہے اور کن کن باتوں سے حاصل ہوتا ہے۔ فقال تلک الدار الآخرۃ نجعلہا للذین لا یریدون علوًا فی الارض ولا فسادًا کہ یہ دار آخرت ہم اس کو دیں گے کہ جو دنیا میں سرکشی اور فساد کرنے کا قصد بھی نہ کرے گا۔ علو گردن کشی ‘ تکبر ‘ اس کی ضد اسلام گردن نہادن یعنی جو اللہ اور اس کے رسول کے آگے گردن…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا کُنْتَ تَرْجُوْٓا اَنْ یُّلْقٰٓی اِلَیْکَ الْکِتٰبُ اِلاَّ رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ فَلاَ تَـکُوْنَنَّ ظَھِیْرًالِّـلْـکٰفِرِیْنَ ۔ (القصص : 86) (آپ اس بات کے ہرگز امیدوار نہ تھے کہ آپ پر کتاب نازل کی جائے گی، یہ تو بس آپ کے رب کا فضل ہوا ہے، پس آپ کافروں کے مددگار نہ بنیں۔ ) آنحضرت ﷺ کی نبوت کی واضح دلیل اس آیت کریمہ میں سابق مضمون کی مزید وضاحت بھی ہے اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کی دلیل بھی۔ جہاں تک نبوت کی دلیل کا تعلق ہے اس کے بعض پہلو واضح ہیں۔ مثلاً نبی کریم ﷺ نے جس ماحول میں آنکھ کھولی اور پروان چڑھے، جس طرح آپ ﷺ کی تربیت ہوئی، جس طرح کے لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا رہا، پھر جن لوگوں کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 85–86

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کا اختلاف قرآن مجید کی تلاوت اور اس کی مرکزی دعوت توحید سے ہوا۔ اس لیے آخر میں آپ کی نبوت کے بارے میں وضاحت اور توحید کی مخالفت کرنے والوں کا انجام ذکر کیا گیا ہے۔ نبی محترم ﷺ کو تسلی دینے اور کفار کے الزام کے جواب میں ارشاد فرمایا ہے۔ اے رسول ﷺ ! حالات جیسے بھی ہوں قرآن مجید کو لوگوں تک من و عن پہنچانا ہم نے آپ پر فرض قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے آپ کے ذہن میں وہم و گمان بھی نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر قرآن نازل کرے گا اور اپنے کام کے لیے آپ کو منتخب فرمائے گا۔ آپ حوصلے اور جوانمردی کے ساتھ اپنے رب کا پیغام لوگوں کے سامنے پڑھیں اور کھول کھول کر اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

86: وَمَا کُنْتَ تَرْجُوْا اَنْ یُّلْقٰی (اور آپ کو تو کوئی امید بھی نہ تھی کہ آپ کو دی جائے گی) ۔ یلقی کا معنی وحی کرنا۔ اِلَیْکَ الْکِتٰبُ (کتاب یعنی قرآن مجید) اِلاَّ رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ (مگر یہ تو محض آپ کے رب کی رحمت کی وجہ سے ہوا) ۔ یہ اس معنی پر محمول ہے کہ آپ کی طرف قرآن کی وحی آپ کے رب کی رحمت کی وجہ سے ہوئی ہے۔ نمبر 2۔ الا کو لکن کے معنی میں لیا جائے۔ جو کہ استدراک کے لئے آتا ہے۔ یعنی لیکن تیرے رب کی رحمت کی وجہ سے آپ پر وحی کی گئی۔ لیکن تیرے رب کی رحمت کے لئے آپ پر وحی قرآن کی گئی ہے۔ فَلَا تَکُوْنَنَّ ظَہِیْرًا لِّلْکٰفِرِیْنَ (پس تم ہرگز کافروں کے مددگار و پشت پناہ مت بننا)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

86۔ وماکنت ترجوان یلقی الیک الکتاب، ان کی طرف قرآن وحی کیا گیا۔ الارحمہ من ربک، فراء کا قول ہے کہ اس جگہ استثناء منقطع ہے۔ اور الا کا معنی ہے لیکن، معنی یہ ہوگا لیکن آپ کے رب نے اپنی رحمت سے آپ کو قرآن عطا کیا۔ فلاتکونن ظھیراللکافین، ، ان کے دین کے مددگار نہ بنیں۔ مقاتل کا بیان ہے کہ کافروں نے رسول اللہ کو دین آباء و اجداد اختیار کرنے کی دعوت دی تھی اس کے جواب میں اللہ نے آپ کو اپنی نعمتیں یادد لائیں اور کافروں کی پشت پناہی اور امداد سے روک دیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 85–88

85 تا 88۔ صحیح بخاری اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے جس میں انہوں نے فرمایا معاد سے مقصود مکہ معظمہ ہے جس کا حاصل فتح مکہ کی خوشخبری ہے۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس کا دوسرا قول ہے۔ جس میں انہوں نے معاد کی تفسیر قیامت کی فرمائی ہے حقیقت میں دونوں تفسیریں صحیح ہیں کیوں کہ پہلی تفسیر کا ظہور تو فتح مکہ کے وقت ہوچکا دوسری تفسیر کا حاصل یہ ہے۔ کہ قرآن کی نصیحت سن کر راہ راست پر آنے والوں کا اور گمراہی پر جمنے والوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے۔ اے رسول اللہ کے تم اپنا کام کیے جاؤ۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان گمراہی پر جمے رہنے والوں سے ماذا اجبتم المرسلین کا سوال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 85–88

آیت 85 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ان الذی فرض علیک القراٰن) ” جس (اللہ) نے تم پر قرآن (کے احکام) کو فرض کیا ہے۔ “ یعنی جس ہستی نے آپ پر قرآن نازل کیا ‘ اس میں احکام فرض کئے ‘ اس میں حلال اور حرام کو واضح کیا ہے۔ “ آپ کو اسے تمام لوگوں لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا ‘ نیز آپ کو حکم دیا کہ آپ تمام مکلفین کو ان احکام پر عمل کرنے کی دعوت دیں اس اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں کہ صرف اسی دنیا کی زندگی ہوتی اور بندوں کو جزا و سزا نہ دی جاتی ‘ بلکہ ضروری ہے کہ وہ آپ کو (معاد) ” انجام کار “ کی طرف لوٹائے جہاں نیکو کاروں کو ان کی نیکی کی جزا دی جائے اور بدکاروں کو ان کے گناہوں کی سزا۔ آپ نے ان کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–88

سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

124 نبوت خالص عطیہ الہی اور موہبت ربانی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ اس بات کی کوئی امید نہیں رکھتے تھے کہ آپ پر اس کتاب کو اتارا جائے گا "۔ سو آپ ﷺ کو جو شرف نبوت اور اس کتاب عزیز کی نعمت عظمیٰ سے سرفراز فرمایا گیا تو یہ محض اللہ پاک کی رحمت اور اس کی عنایت کی بنا پر ہوا۔ ورنہ آپ کو تو اس سے پہلے اس کی کوئی امید تک نہ تھی۔ پس اس کے شکریے میں آپ کبھی کافروں کی پشت پناہی نہ کیجئے گا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ سے اس کا کوئی احتمال تھا۔ نہیں بلکہ یہ دراصل آپ کو خطاب کر کے دوسروں کو سنانا مقصود ہے جس سے ان کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب پیغمبر کو بھی کافروں کی پشت پناہی اور ان کا ساتھ دینے کی اجازت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 86–88

نبوت اللہ کی عطا ہے کسی کی کمائی نہیں تشریح : اصل میں یہ آیات پوری سورت کا خلاصہ بیان کر رہی ہیں۔ اور اس بات کی وضاحت بھی کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے قانون بہت پہلے سے بنائے ہوئے ہوتا ہے۔ انسان کو تو خبر بھی نہیں ہوتی کہ اس کے ساتھ اگلے لمحہ میں کیا ہونے والا ہے۔ مثلاً نبوت ملنے کا نہ تو دعا سے تعلق ہے اور نہ ہی کسی خاص اعلان کا تعلق ہے۔ جیسا کہ سیدنا محمد ﷺ اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا نبوت کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ البتہ نبوت کے لیے اللہ کا چنائو ایک خاص معیار سے ضرور ہوتا ہے وہ یہ کہ جس طرح سیدنا محمد ﷺ کی زندگی شروع سے ہی صداقت ‘ امانت ‘ دیانت ‘ راست بازی ‘ پاکبازی ‘ شرافت ‘ امن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 83–88

آیات 83 تا 88 اسرارومعارف اور آخرت کا گھر تو ان لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے جو دنیا میں اپنی بڑائی اور تکبر میں گرفتار نہیں ہوتے اور اللہ کی زمین پر فساد نہیں کرتے ۔ تکبر اور فساد : یعنی تکبر یہ ہے کہ اپنی رائے کو سب سے حتی کہ احکام شریعہ سے بھی بالا سمجھے تو اس کا یقینی نتیجہ فساد ہے محض اچھے کپڑے پہننا یا اچھا گھر اور اچھی گاڑی اگر حلال ذرائع سے نصیب ہو اور دکھاوے کے لیے نہ ہو ضرورت کے لیے ہو تو یہ بھی شکر ادا کرنے کا ایک انداز ہے لیکن اگر ذاتی نمائش کے لیے ہو تو تکبر شمار ہوگا اور دونوں صورتوں میں نتائج الگ الگ برآمد ہوں گے اور حق یہ ہے کہ عاقبت و آخرت کی سرفرازی انہی لوگوں کے لیے ہے جو دنیا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

1 ۔ اس میں آپ ﷺ کے دعوائے نبوت میں سچا ہونے کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کو نزول وحی سے قبل یہ خیال تک بھی نہ تھا کہ مجھے منصب نبوت سے سرفراز کیا جائے گا اور نہ اس سے قبل آپ ﷺ کی زبان سے اس قسم کی باتیں سنی گئیں جن کو دعوائے نبوت کے لئے تمہید قرار دیا جائے جیسا کہ فی ماننا متنبین کی عادت ہے۔ اسی طرح دوسرے انبیا ( علیہ السلام) کو بھی منصب نبوت سے یکایک سرفراز کیا گیا۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مدین سے مصر واپس جا رہے تھے کہ راستے میں کوہ طور پر بلا کر نبوت سے مشرف کردیئے گئے۔ نیز نبوت وہی چیز ہے جس میں انسان کے کسب کو دخل نہیں ہے : ” الا رحمۃ من ربک “ سے اسی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ 2 ۔ کیونکہ یہ آپ ﷺ پر اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:86) ماکنت ترجوا ماضی استمراری نفی۔ تم (ہرگز) ایہ امیر نہ کرتے تھے۔ رجا یرجوا رجاء امید رکھان۔ اصل میں رجاء ایسے ظن کو کہتے ہیں جس میں مسرت حاصل ہونے کا امکان ہو۔ ان یلقی میں ان مصدریہ ہے یلقی مضارع مجہول واحد مذکر غائب القاء کی جائیگی ڈالی جائے گی۔ نازل کی جائے گی۔ یعنی آپ امید نہ رکھتے تھے کہ الکتب (القرآن) آپ پر نازل کی جائے گی۔ الا رحمۃ من ربک۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) الا حرف استثاء ہے اور رحمۃ مستثنیٰ منقطع ہے اور بدین وجہ منصوف ہے کان قیل وما القی الیک الکتب الاحمۃ من ربک۔ یہ کتاب تجھ پر نازل کی گئی۔ مگر تیرے پروردگار کی طرف سے نبور (خصوصی ) رحمت کے۔ (2) الا بمعنی لکن ہے اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 83–88

لغات القرآن آیت نمبر (83 تا 88 ) ۔ علو (بڑائی ۔ برتری) ۔ العاقبتہ (انجام۔ نتیجہ) ۔ فرض (فرض کردیا۔ لازم کردیا) ۔ راد (وہ لوٹ گیا) ۔ معاد (لوٹنے کی جگہ ) ۔ لا یصدن (وہ ہرگز نہ روکیں گے) ۔ ھالک (ہلاک ہونے والا) ۔ وجہ (چہرہ۔ ذات) ۔ تشریح : آیت نمبر (83 تا 88 ) ۔ ” سورة القصص میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو عبرت و نصیحت کے لئے تفصیل سے بیان کرنے کے بعد بنی اسرائیل ہیہ کے ایک فرد قارون کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو اپنی دولت کی کثرت، خوشامدیوں کی بھیڑ اور فخر و غرور کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر الزام لگانے سے باز نہیں آیا تو اللہ نے اس کو اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 85–88

توحیدکابیان۔ (ف 1) ان آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کی نصیحت سن کر راہ راست پر آنے والوں کا اور گمراہی پر جمنے والوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے اے محبوب تم اپنا کام تبلیغ کا کیے جاؤ، قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان گمراہی پر جمے رہنے والوں سے سوال کرے گا تو یہ پچھتائیں گے پھر فرمایا اے محبوب تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میرا پروردگار خوب جانتا ہے اس کو جو ہدایت پر ہے اور جو کھلاگمراہ ہے اور تم امید بھی نہیں رکھتے کہ تم پر خدا کی کتاب بھیجی جائے گی مگر محض تمہارے پروردگار کی مہربانی سے نازل کی گئی ہے پھر تم کافروں کے مددگار نہ ہونا کہ یہ کافر تم کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی نصیحت سے نہ روک دیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 86–88

[56] ان آیتوں میں اگرچہ خطاب نبی اکرم ﷺ سے ہے لیکن سنانا دوسروں کو مقصود ہے۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

86۔ اور اے پیغمبر آپ کو تو یہ امید نہ تھی کہ آپ پر یہ کتاب نازل کی جائیگی مگر محض آپ کے پروردگار کی رحمت اور مہربانی سے نازل کی گئی لہٰذا آپ ہرگز ان دین حق کے منکروں کے مدد گار نہ ہوں اور انکے پشت پناہ نہ بنیں اور ان کی تائید نہ کریں یعنی نبی بننے سے پہلے آپکو یہ امید نہ تھی کہ آپ نبی ہوں گے اور آپ پر قرآن کریم جیسی جامع کتاب نازل ہوگئی لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور آپ کے پروردگار کی مہربانی سے ہوا کہ آپ نبی مقرر ہوئے اور آپ پر قرآن کریم وحی کے ذریعہ سے القا کیا گیا اب آپ کافروں سے بالکل الگ تھلگ رہیں جس طرح آپ رہتے ہیں ان کی تائید نہ فرمایئے اور دینی معاملات میں ان سے کوئی واسطہ نہ رکھئے ۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 86–88

ف 3۔ ان آیتوں میں کفار و مشرکین کو ان کی درخواستوں سے مایوس کرنا ہے اور روئے سخن ان ہی کی طرف ہے کہ تم جو رسول اللہ ﷺ سے دین میں موافق ہونے کی درخواست کرتے ہو اس میں کامیابی کا کبھی احتمال نہیں مگر عادت ہے، کہ جس شخص پر زیادہ غصہ ہوتا ہے، اس سے بات نہیں کیا کرتے اپنے محبوب سے باتیں کر کے اس شخص کو سنایا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس بات کی امید نہ ہو وہ عطا کردی جائے تو یہ رحمت الہی نہیں تو اور کیا ہے ؟ : 86۔ یہ گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت بیان کی جا رہی ہے کہ بلاشبہ ہر انسان میں اس کی جبلی چیزوں کو ودیعت کردیا جاتا ہے لیکن کیا ان کا اظہار روز اول ہی سے شروع ہوجاتا ہے ؟ ہرگز نہیں ہر بیج میں اس کا پورا درخت پنہاں ہوتا ہے لیکن وہ بیج ایسا لطیف و باریک بھی ہوتا ہے کہ ہر آنکھ اس کو دیکھ بھی نہیں سکتی ہو پھر جب وہ بیج ہی نظر نہیں آتا تو وہ پورا درخت وپودا کیا نظر آئے گا لیکن کیا حقیقت میں اس کے اندر وہ موجود بھی نہیں ہوتا اگر ہوتا ہے اور یقینا ہوتا ہے تو اس کا اظہار کب ہوتا ہے جب اس کو وہ ماحول ملتا ہے اور اس ماحول میں وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 86–88

كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ (Everything is going to perish except His Face - 28:88). The word 'His Face' in this verse means the very Being of Allah Ta’ ala. Hence, the meaning of the verse is that except for Allah Ta’ ala everything is mortal and will get destroyed and will vanish. Some commentators have taken the phrase' His Face' to mean the good deeds performed by human beings exclusively for Allah Ta’ ala. In that case the meaning of the verse would be that those actions which are performed exclusively for Allah Ta’ ala will not be destroyed, while all other things will…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

109 This thing is being presented as a proof of the Holy Prophet Muhammad's Prophethood. Just as the Prophet Moses was wholly unaware that he was going to be appointed a Prophet, and sent on a grand mission-when he had never even expected or wished for such a thing, but had been suddenly called upon while on a journey and made a Prophet and assigned a mission which had no relevance with his previous life-so was precisely the case with the Holy Prophet Muhammad (may Allah's peace be upon him). The people of Makkah knew full well what kind of life he was leading till a day before the day when…

Read the full tafseer →