Explained with ayahs 85–88
جو کروگے سو بھروگے
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم فرماتا ہے کہ رسالت کی تبلیغ کرتے رہیں لوگوں کو کلام اللہ سناتے رہیں اللہ تعالیٰ آپ کو قیامت کی طرف واپس لے جانے والا ہے اور وہاں نبوت کی بابت پرستش ہوگی۔ جیسے فرمان ہے۔ آیت (فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ ۙ) 7۔ الاعراف :6) یعنی امتوں سے اور رسولوں سے سب سے ہم دریافت فرمائیں گے۔ اور آیت میں ہے رسولوں کو جمع کرکے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا ؟ اور آیت میں ہے نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا۔ معاد سے مراد جنت بھی ہوسکتی ہے موت بھی ہوسکتی ہے۔ دوبارہ کی زندگی بھی ہوسکتی ہے…
Read the full tafseer →سورة القصص 107
یعنی اس قرآن کو خلق خدا تک پہنچانے اور اس کی تعلیم دینے اور اس کی ہدایت کے مطابق دنیا کی اصلاح کرنے کی ذمہ داری تم پر ڈالی ہے۔
سورة القصص 108
اصل الفاظ ہیں لَرَاۗدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ۔ " تمہیں ایک معاد کی طرف پھیرنے والا ہے "۔ معاد کے لغوی معنی ہیں وہ مقام جس کی طرف آخر کار آدمی کو پلٹنا ہو، اور اسے نکرہ استعمال کرنے سے اس میں خودبخود یہ مفہوم پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ مقام بڑی شان اور عظمت کا مقام ہے، بعض مفسرین نے اس سے مراد جنت لی ہے، لیکن اسے صرف جنت کے ساتھ مخصوص کردینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، کیوں نہ اسے ویسا ہی عام رکھا جائے جیسا خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے، تاکہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
خلاصہ تفسیر
(اور آپ کے ان مخالفین نے جو آپ کو پریشان کر کے ترک وطن پر مجبور کیا ہے جس کی اضطراری مفارقت کا آپ کو صدمہ ہے تو آپ تسلی رکھیں) جس خدا نے آپ پر قرآن (کے احکام پر عمل اور اس کی تبلیغ) کو فرض کیا ہے (جو مجموعاً دلیل ہے آپ کی نبوت کی) وہ آپ کو (آپ کے) اصلی وطن (یعنی مکہ) میں پھر پہنچا دے گا (اور اس وقت آپ آزاد اور غالب اور صاحب سلطنت ہوں گے اور ایسی حالت میں اگر دوسری جگہ قیام کے لئے تجویز کی جاتی ہے بمصلحت و با اختیار ہوتی ہے جس سے رنج نہیں ہوتا اور باوجود آپ کے تحقق نبوت کے جو یہ لوگ آپ کو غلطی پر اور اپنے کو حق پر سمجھتے ہیں تو) آپ (ان سے) فرما دیجئے کہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون ……آیات 88-85
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اس قرآن کو تم نے خدا سے مانگ کر تو اپنے اوپر اتروایا نہیں ہے کہ اس کی فکر میں گھلے جا رہے ہو۔ جس خدا نے تم پر اس کو اتارا ہے وہی اس کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ کرنے میں تمہارا مددگار ہے۔ وہ تم کو بہر حال کامیابی کی منزل تک پہنچائے گا تو تم ان مخالفین کی ذرا پروا نہ کرو۔ اپنی دعوت پر جمے رہو۔ یہ کتنا ہی زور لگائیں لیکن تم اپنے موقف میں ذرا بھی تبدیلی یا نرمی نہ آنے دو … اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔
آنحضرت کو شاندار کامیابی کی بشارت
”معاد، کے معنی مرجع، غایت اور انجام کار کے ہیں۔ اس کی تنکیر یہاں…
Read the full tafseer →85-1یا اس کی تلاوت اور اس کی تبلیغ و دعوت آپ پر فرض کی ہے۔
85-2یعنی آپ کے مولد مکہ، جہاں سے آپ نکلنے پر مجبور کردیئے گئے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے صحیح بخاری میں اس کی یہی تفسیر نقل ہوئی ہے۔ چناچہ ہجرت کے آٹھ سال بعد اللہ کا یہ وعدہ پورا ہوگیا اور آپ-8ہجری میں فاتحانہ طور پر مکہ میں دوبارہ تشریف لے گئے۔ بعض نے معاد سے مراد قیامت لی ہے۔ یعنی قیامت والے دن آپ کو اپنی طرف لوٹائے گا اور تبلیغ رسالت کے بارے میں پوچھے گا۔
85-3یہ مشرکین کے اس جواب میں ہے جو وہ نبی ﷺ کو ان کے آبائی اور روایتی مذہب سی انحراف کی بنا پر گمراہ سمجھتے تھے۔ فرمایا، میرا رب خوب جانتا ہے کہ گمراہ میں ہوں، جو اللہ کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
49: قرآن کریم میں اصل لفظ“ معاد ”استعمال ہوا ہے، بعض مفسرین کے نزدیک یہ“ عادت ”سے نکلا ہے، یعنی وہ جگہ جس میں رہنے اور آنے جانے کا انسان عادی اور اس سے مانوس ہو، اور بعض مفسرین نے اس کے معنی“ لوٹنے کی جگہ ”بیان کئے ہیں، دونوں صورتوں میں اس سے مکہ مکرمہ مراد ہے، اور یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب حضور نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے جارہے تھے، جب جحفہ کے قریب اس جگہ پہنچے جہاں سے مکہ مکرمہ کا راستہ الگ ہوجاتا تھا، تو آپ کو اپنے وطن سے جدائی کا احساس ہوا، اس موقع پر اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تسلی دی، اور وعدہ فرمایا کہ آپ کو دوبارہ اس سرزمین میں فاتح کی حیثیت سے لایا…
Read the full tafseer →درس نمبر 179 تشریح آیات
85 ۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 88
اب قصص ختم ہیں۔ ان قصص پر جو تبصرے تھے وہ بھی ختم ہوگئے۔ اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں اس وقت مٹھی بھر اہل ایمان آپ کے ساتھ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ خطاب ایسے حالات میں ہے کہ مکہ سے لوگ آپ کو نکالنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ آپ مدینہ کی طرف جانے والے ہیں اور اس میں بھی قوم آپ کا پیچھا کر رہی ہے۔ ابھی آپ مدینہ نہیں پہنچے۔ راستہ ہی میں ہیں۔ یہ آیات جحفہ میں اتریں جو مکہ کے قریب ہے۔ اس وقت ہجرت کرتے ہوئے آپ کی نظریں اور آپ کا دل اپنے محبوب شہر مکہ کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ آپ ﷺ پر مکہ چھوڑنا نہایت ہی دشوار گزر رہا ہے۔ اگر دعوت اسلامی کا…
Read the full tafseer →7 پہلے فرمایا تھا " وَالْعَاقِبَۃُ لِّلْمُتَّقِیْنَ " کہ انجام بھلا پرہیزگاروں کا ہے۔ یعنی آخرت میں جیسا کہ اوپر معلوم ہوا۔ اب بتلاتے ہیں کہ دنیا میں بھی آخر فتح ان ہی کی ہوتی ہے۔ دیکھو آج کفار کے ظلم و ستم سے تنگ آکر تم کو مکہ چھوڑنا پڑا ہے مگر جس خدا نے آپ کو پیغمبر بنایا اور قرآن جیسی کتاب عطا فرمائی وہ یقینا آپ کو نہایت کامیابی کے ساتھ اسی جگہ واپس لائے گا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ آیت اتری ہجرت کے وقت، یہ تسلی فرما دی کہ پھر مکہ میں آؤ گے۔ سو خوب طرح آئے پورے غالب ہو کر۔ " بعض مفسرین نے " معاد " سے مراد موت لی ہے، بعض نے آخرت بعض نے جنت، بعض نے سرزمین شام جہاں پہلے ایک مرتبہ آپ ﷺ شب…
Read the full tafseer →آیت 85 اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ط ”
یہاں پر فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ کے حوالے سے سورة النمل کی آیت 92 کے یہ الفاظ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیں : وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ ج یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تم لوگوں کو قرآن سناتا رہوں۔ قرآن ہی کے ذریعے سے انذار ‘ تبشیر اور تبلیغ کا فرض ادا کرتا رہوں اور اسی کی مدد سے تمہارے نفسانی اور روحانی امراض کی شفا کے لیے کوشاں رہوں۔ گویا سورة النمل کی مذکورہ آیت میں قرآن پڑھ کر سنانے کے جس حکم کا ذکر ہے اسی کی تعبیر یہاں آیت زیر مطالعہ میں فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ کے الفاظ میں کی گئی ہے۔ یعنی قرآن کی تبلیغ…
Read the full tafseer →115 یعنی قرآن لوگوں پر پڑھ کر سنانے، قرآن کی تعلیم دینے، اس پر عمل پیرا ہو کر دوسروں کو دکھانے اور اس کی اشاعت و تبلیغ کی ذمہ داری آپ پر ڈالی ہے۔
116 معاد کے معنی ہیں عود کرنے یا لوٹنے کی جگہ بھی اور وقت بھی۔ چونکہ اس لفظ کے معنی میں کافی وسعت ہے۔ لہذا اس کی تعبیر میں اختلاف ہے۔ اکثر مفسرین سے معاد سے مراد فتح مکہ ہی لیا ہے ان کے قول کے مطابق یہ آیت مکہ سے مدینہ کو ہجرت کے دوران نازل ہوئی تھی۔ اس وقت ہی آپ کو یہ خوشخبری سنادی گئی تھی کہ آپ پھر اس شہر مکہ کو آنے والے ہیں اور یہی مفہوم ( وَاَنْتَ حِـۢلٌّ بِهٰذَا الْبَلَدِ ۙ ) 90 ۔ البلد :2) سے بھی متبادر ہوتا ہے اور بعض لوگوں نے معاد سے جنت…
Read the full tafseer →112۔ (اور اس وقت ارشاد ہوا جب ہجرت کے بعد مفارقت وطن سے آپ کو طبعی صدمہ ہورہا تھا۔ (آیت) ” فرض علیک القران “۔ یعنی قرآن کو بہ طور حکم کے آپ پر اتارا ہے۔ اس پر عمل آپ پر واجب کیا ہے۔ اے اوجب علیک العمل بہ (راغب)
113۔ مطلب یہ ہے کہ میرے حق ہونے اور تمہارے باطل ہونے پر تو دلائل قطعی موجود ہیں۔ ادنی سے غور میں سمجھ میں آسکتے ہیں۔ جب ان سے کام ہی نہیں لیتے ہو تو خیر۔ اخیر جواب یہ ہے کہ اللہ ہی بتلا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
آیت نمبر 83 تا 88
ترجمہ : یہ دار آخرت یعنی جنت ہم انہیں لوگوں کے لئے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں نہ ظلم کے ذریعہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ نافرمانی کرکے فساد کرتے ہیں اور بہتر انجام فرما نبرداری کرکے اللہ کے عذاب سے ڈرنے والوں کے لئے ہے جو شخص نیکی لیکر آئے گا اس کو اس سے بہتر ملے گا ان کو نیکیوں کا اجر ملے گا اور وہ ان نیکیوں کا دس گنا ہوگا اور جو شخص بدی لیکر آئے گا سو ایسے لوگوں کو جو بدی کا کام کرتے ہیں اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا وہ کرتے تھے جس خدا نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے وہ آپ کو دوبارہ پہلی جگہ لوٹانے والا ہے یعنی مکہ (کی طرف) اور آپ نے مکہ کے لئے اشتیاق ظاہر فرمایا تھا، آپ کہہ دیجئے کہ…
Read the full tafseer →ان الذی فرض علیک القراٰن لرآدک الی معاد . جس خدا نے آپ پر قرآن کو فرض کیا وہ آپ
کو آپ کے اصل وطن میں لوٹا کرلے آئے گا۔
فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ یعنی جس نے آپ پر قرآن نازل کیا۔ اکثر مفسرین نے یہی تفسیر کی ہے۔ کذا قال البغوی۔ عطاء نے کہا : جس نے آپ پر قرآن کی تلاوت ‘ تبلیغ اور اس کے مطابق عمل فرض کیا ہے۔
اِلٰی مَعَادٍ معاد سے مراد ہے مکہ ‘ چناچہ اس وعدہ کے مطابق اللہ نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ کو مکہ میں لوٹا بھی دیا۔ عوفی نے حضرت ابن عباس کا یہی قول بیان کیا ہے۔ مجاہد کا بھی یہی قول ہے۔ قتیبی نے کہا : کسی شخص کا معاد اس کا شہر ہوتا ہے جہاں وہ لوٹ کر آتا ہے۔ معادٍ میں تنوین تنکیر اظہار عظمت…
Read the full tafseer →(85) جس ذات نے آپ پر بذریعہ جبریل امین ؑ قرآن کریم نازل کیا ہے وہ آپ کو آپ کے اصلی وطن مکہ مکرمہ میں پہنچا دے گا یا یہ کہ جنت میں تو آپ ان سے فرما دیجیے کہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون توحید و قرآن کریم لے کر آیا اور کون صریح کفر اور گمراہی میں مبتلا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ ان الذی فرض علیک القران“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے ضحاک ؒ سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم ﷺ مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے اور مقام حجفہ میں پہنچے تو آپ کو مکہ مکرمہ کا اشتیاق ہوا اس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی یعنی جس ذات نے آپ پر قرآن حکیم فرض کیا ہے وہ آپ کو آپ کے اصلی وطن کی طرف پھر لوٹا دے گا۔
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ۔۔ : ”مَعَادٍ“ میں تنوین تعظیم کی ہے، اس لیے ترجمہ عظیم الشان لوٹنے کی جگہ کیا گیا ہے۔ قرآن فرض کرنے سے مراد اس پر عمل اور اسے تمام دنیا کے لوگوں تک پہنچانے اور اس کے لیے جہاد کرنے کا فریضہ عائد کرنا ہے۔
لَرَاۗدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ : پہلے فرمایا تھا : ”وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ“ اب رسول اللہ ﷺ کے لیے اس اچھے انجام کا ذکر فرمایا اور سورت کا اختتام عظیم الشان خوش خبری کے ساتھ فرمایا، یعنی جس اللہ نے آپ پر قرآن پر عمل کا اور اس کی دعوت کا فریضہ عائد کیا ہے وہ آپ کی محنت و مشقت اور ادائیگی فرض کے نتیجہ میں آپ کو ایک عظیم الشان انجام تک پہنچانے والا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
ان الذی فرض۔۔۔۔۔
سورت کا اختتام اپنے نبی کو بشارت دیتے ہوئے کیا کہ وہ حضرت محمد ﷺ کو مکہ مکرمہ کی طرف اپنے دشمنوں پر غلبہ دیتے ہوئے لوٹائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آپ کو جنت کی بشارت ہے : پہلا قول اکثر علماء کا ہے، یہ حضرت جابر بن عبداللہ حضرت ابن عباس، مجاہد وغیرہم کا قول ہے (1) ۔ قتیی نے کہا : معاد الرجل سے مراد اس کا ملک و شہر ہے کیونکہ وہ وہاں سے جاتا ہے پھر واپس لوٹ آتا ہے۔ مقاتل نے کہا : نبی کریم ﷺ تلاٹ کے خوف سے غیر معروف راستہ سے غار ثور سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلے۔ جب راستے تک پہنچے اور حجفہ میں فروکش ہوئے تو مکہ مکرمہ کی طرف جانے والے راستہ سے آگاہ ہوئے تو مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–87
1۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ مکہ سے نکلے اور جحفہ پہنچ گئے تو مکہ کی طرف شوق ہوا تو اللہ تعالیٰ یہ آیت اتاری آیت ان الذی فرض علیک القراٰن لرادک الی معاد یعنی جس خدا نے آپ پر قرآن کو فرض کیا وہ آپ کو آپ کے اصل وطن لوٹا کر لائے گا یعنی مکہ کی طرف۔
مکی اور مدنی سورتیں
2۔ ابن مردویہ نے علی بن حسین بن واقد ؓ سے روایت کیا کہ سارا قرآن مکی ہے یا مدنی سوائے اس قول کے کہ آیت یعنی ان الذی فرض علیک القراٰن لرادک الی معاد کیونکہ یہ رسول اللہ ﷺ پر جحفہ میں نازل ہوئی۔ جب آپ ہجرت کرتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف نکلے سو یہ آیت مکی ہے نہ مدنی اور یہ آیت جو رسول اللہ ﷺ پر ہجرت سے پہلے…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْ [بیشک وہ جس نے ] فَرَضَ عَلَيْكَ [فرض کیا آپ ﷺ پر ] الْقُرْاٰنَ [اس قرآن کو ] لَرَاۗدُّكَ [ضرور لوٹانے والا ہے آپ ﷺ کو ] اِلٰى مَعَادٍ ۭ [واپس ہونے کی جگہ کی طرف ] قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] رَّبِّيْٓ [میرا رب ] اَعْلَمُ [خوب جاننے والا ہے ] مَنْ [اس کو جو ] جَاۗءَ [آیا ] بِالْهُدٰى [ہدایت کے ساتھ ] وَمَنْ [اور اس کو جو ] هُوَ [(کہ) وہی ] فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [کھلی گمراہی میں ہے ] ۔
نوٹ۔ 1: آیت۔ 85 ۔ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو ایک معاد کی طرف پھیرنے والا ہے معاد کے لغوی معنی ہیں وہ مقام جس کی طرف آخر کار آدمی کو پلٹنا ہو۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد جنت لی ہے۔ لیکن اسے جنت کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ کو کتاب دی گئی
حضرات مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ مَعَاد سے آنحضرت ﷺ کا سابق وطن یعنی مکہ معظمہ مراد ہے اور اس میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت دی گئی ہے کہ آپ واپس اپنے وطن تشریف لائیں گے۔ چناچہ آپ 8 ہجری میں فاتح ہو کر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے تھے انہوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ ہجرت کے سفر میں جب رسول اللہ ﷺ حجفہ میں نازل ہوئے اس وقت مکہ معظمہ یاد آگیا اور آپ کو اپنے وطن کا اشتیاق ہوا۔ اس موقع پر جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر حاضر ہوئے جس میں آپ کے واپس مکہ معظمہ تشریف لانے کا وعدہ ہے اسی لیے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت حجفہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
خاتمہء سورت بربشارت وہدایت ونصیحت دربارہ تبلیغ ودعوت
ذکر فناء عالم وتذکیر آخرت
قال اللہ تعالیٰ ان الذی فرض علیک القران لوادک الی معاد۔۔۔ الی۔۔۔ لہ الحکم والیہ ترجعون۔
(ربط) یہ سورت کا خاتمہ ہے جس کو ایک بشارت پر اور چند نصائح اور ہدایات پر ختم کیا جا رہا ہے آنحضرت ﷺ نے جب مکہ سے ہجرت فرمائی تو آپ ﷺ رنجیدہ اور غمگین تھے تو آپ ﷺ کی تسلی اور بشارت کے لئے یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ ﷺ عنقریب پھر مکہ واپس آئیں گے اور آپ کا یہ دوبارہ آنا فاتحانہ اور حاکمانہ ہوگا۔ بعد ازاں آپ کو ایک دوسری تسلی دیتے ہیں کہ یہ نبوت اور رسالت اور نزول قرآن سب اللہ کی رحمت ہے جو آپ کو بلا کسی امیدوار بلا کسی توقع کے عطا کی…
Read the full tafseer →80:۔ یہ امر دوم ہے جو انا رادوہ الیک، پر متفرع ہے یا موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے مدین جانے اور وہاں سے واپس مصر آنے سے متعلق ہے۔ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خوف سے مدین کو ہجرت کر گئے لیکن ہم انہیں واپس مصر لائے اسی طرح آپ کو بھی اعزاز واکرم کے ساتھ مکہ واپس لاؤں گا۔ ابن عباس فرماتے ہیں مراد فتح مکہ ہے۔ فرض، کے معنی انزل کے ہیں۔ قال مقاتل انزلہ علیک وکذا قال افراء و ابو عبدیۃ وقال ابن عباس ایضا و مجاھد المعاد مکۃ واراد ردہ الیہا یوم الفتح (بحر ج 7 ص 136) گویا یہحضور ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ آپ مطمئن رہیں آخر آپ کے دشمن مغلوب ہوں گے اور آپ غالب ہوں گے۔
81:۔ یہ امر سوم ہے جو وقال موسیٰ ربی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ نے قارون کے تکبر ، غرور ، دولت مندی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا رسائی کا ذکر کیا اور پھر اس کا انجام بھی بیان فرمایا ، اللہ نے اسے اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا اور ایسے وقت میں اس کی دولت ، دوست احباب کچھ بھی کام نہ آئے۔ جو لوگ قارون کی شان و شوکت پر رشک کرتے تھے ان کو بھی ندامت اٹھانا پڑی ۔ اس کی تباہی کو دیکھ کر ان لوگوں کو کہنا پڑا کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے رزق کے دروازے کشادہ کر دے اور جس کے لیے چاہے تنگ کردے۔ دولت کی فراوانی نیکی کی علامت نہیں بلکہ یہ تو اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے ، ان لوگوں نے تسلیم کیا کہ اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا جو…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَاۗدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ 0ۭ قُلْ رَّبِّيْٓ اَعْلَمُ مَنْ جَاۗءَ بِالْہُدٰى وَمَنْ ہُوَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 85
فرض
الفَرْضُ : قطع الشیء الصّلب والتأثير فيه، کفرض الحدید، وفرض الزّند والقوس، والمِفْرَاضُ والمِفْرَضُ : ما يقطع به الحدید، وفُرْضَةُ الماء : مقسمه . قال تعالی: لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبادِكَ نَصِيباً مَفْرُوضاً [ النساء/ 118] ، أي : معلوما، وقیل : مقطوعا عنهم، والفَرْضُ كالإيجاب لکن الإيجاب يقال اعتبارا بوقوعه وثباته، والفرض بقطع الحکم فيه «3» . قال تعالی: سُورَةٌ أَنْزَلْناها وَفَرَضْناها[ النور/ 1] ، أي : أوجبنا العمل بها عليك، وقال :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
ترکیب : تلک مبتداء والدار لغت و نجعلہا خبر من موضع نصب میں ہے۔ اعلم سے ومن یہ معطوف ہے، من اول پر۔ الا رحمۃ ای ولکن القی رحمۃ الاوجہہ استثناء من الجنس ای الا ایاہ۔
تفسیر : قارون کی بربادی کا حال بیان فرما کر اور یہ بات ثابت کرکے کہ دار آخرت کی نعماء باقی اور بہتر ہیں۔ یہ بات بتلاتا ہے کہ اس دار آخرت کا کون مستحق ہے اور کن کن باتوں سے حاصل ہوتا ہے۔ فقال تلک الدار الآخرۃ نجعلہا للذین لا یریدون علوًا فی الارض ولا فسادًا کہ یہ دار آخرت ہم اس کو دیں گے کہ جو دنیا میں سرکشی اور فساد کرنے کا قصد بھی نہ کرے گا۔ علو گردن کشی ‘ تکبر ‘ اس کی ضد اسلام گردن نہادن یعنی جو اللہ اور اس کے رسول کے آگے گردن…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ ط قُلْ رَّبِّیْٓ اَعْلَمُ مَنْ جَآئَ بِالْھُدٰی وَمَنْ ھُوَفِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (القصص : 85)
(بیشک جس نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے وہ آپ کو ایک بہترین انجام تک پہنچانے والا ہے، اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت لے کر کون آیا ہے اور کون ہے جو کھلی ہوئی گمراہی میں ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور بشارت
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کے سلسلے میں جس بات کو نمایاں فرمایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اچانک نبوت و رسالت جیسی عظیم ذمہ داری سے گراں بار کیے گئے۔ وہ حالت سفر میں تھے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کا اختلاف قرآن مجید کی تلاوت اور اس کی مرکزی دعوت توحید سے ہوا۔ اس لیے آخر میں آپ کی نبوت کے بارے میں وضاحت اور توحید کی مخالفت کرنے والوں کا انجام ذکر کیا گیا ہے۔
نبی محترم ﷺ کو تسلی دینے اور کفار کے الزام کے جواب میں ارشاد فرمایا ہے۔ اے رسول ﷺ ! حالات جیسے بھی ہوں قرآن مجید کو لوگوں تک من و عن پہنچانا ہم نے آپ پر فرض قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے آپ کے ذہن میں وہم و گمان بھی نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر قرآن نازل کرے گا اور اپنے کام کے لیے آپ کو منتخب فرمائے گا۔ آپ حوصلے اور جوانمردی کے ساتھ اپنے رب کا پیغام لوگوں کے سامنے پڑھیں اور کھول کھول کر اس…
Read the full tafseer →85: اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْٰانَ (بیشک وہ ذات جس نے تم پر قرآن کو فرض کیا ہے) ۔ اس کی تلاوت کو تم پر لازم کردیا۔ اور اس کی تبلیغ اور عمل کو ضروری کردیا۔ لَرَآدُّکَ (وہ ضرور آپ کو لوٹانے والا ہے) ۔ موت کے بعدالٰی مَعَادٍ (لوٹنے کی جگہ کی طرف) ۔ کیا خوب وہ لوٹنے کی جگہ ہے جو اور کسی فرد بشر کو آپ کے علاوہ حاصل نہیں۔ اسی تفخیم کو ظاہر کرنے کے لئے نکرہ لائے۔ نمبر 2۔ مکہ مراد ہے۔ آپ کا فتح کے دن لوٹنا کیونکہ اس دن لوٹنا ایک خاص شان و عظمت کے ساتھ ہوگا مکہ والے مغلوب و مقہور ہوجائیں گے اور اسلام اور اہل اسلام کی عزت ظاہر ہوگی۔ شرک اور اہل شرک ذلیل ہوجائیں گے۔
یہ سورت اگرچہ مکیہ ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
85۔ ان الذی فرض علیک القرآن، ،، یعنی جس نے آپ پر قرآن نازل کیا، یہی اکثر مفسرین کا قول ہے کہ عطاء کا قول ہے کہ جس نے آپ پر قران کی تلاوت تبلیغ اور اس کے مطابق عمل فرض کیا ہے ، لرادک الی معاد، اس سے مراد مکہ ہے۔
معاد کی تفسیر میں مختلف اقوال۔
عوفی نیابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے کہ اس وعدہ کے مطابق اللہ نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ کو مکہ میں لوٹا بھی دیا، مجاہد کا قول بھی یہی ہے ، قتیبی کا قول ہے کہ کسی شخص کا معاد اس شہر کا ہوتا ہے جہاں وہ لوٹ کر آتا ہے۔ جب رسول اللہ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ کی طرف جانے کے لیے غار ثور سے نکلے توتعاقب کے اندیشہ سے عام راستہ چھوڑ کر دوسرے راستہ سے نکل پڑے پھر جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
85 تا 88۔ صحیح بخاری اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے جس میں انہوں نے فرمایا معاد سے مقصود مکہ معظمہ ہے جس کا حاصل فتح مکہ کی خوشخبری ہے۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس کا دوسرا قول ہے۔ جس میں انہوں نے معاد کی تفسیر قیامت کی فرمائی ہے حقیقت میں دونوں تفسیریں صحیح ہیں کیوں کہ پہلی تفسیر کا ظہور تو فتح مکہ کے وقت ہوچکا دوسری تفسیر کا حاصل یہ ہے۔ کہ قرآن کی نصیحت سن کر راہ راست پر آنے والوں کا اور گمراہی پر جمنے والوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے۔ اے رسول اللہ کے تم اپنا کام کیے جاؤ۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان گمراہی پر جمے رہنے والوں سے ماذا اجبتم المرسلین کا سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
آیت 85
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ان الذی فرض علیک القراٰن) ” جس (اللہ) نے تم پر قرآن (کے احکام) کو فرض کیا ہے۔ “ یعنی جس ہستی نے آپ پر قرآن نازل کیا ‘ اس میں احکام فرض کئے ‘ اس میں حلال اور حرام کو واضح کیا ہے۔ “ آپ کو اسے تمام لوگوں لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا ‘ نیز آپ کو حکم دیا کہ آپ تمام مکلفین کو ان احکام پر عمل کرنے کی دعوت دیں اس اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں کہ صرف اسی دنیا کی زندگی ہوتی اور بندوں کو جزا و سزا نہ دی جاتی ‘ بلکہ ضروری ہے کہ وہ آپ کو (معاد) ” انجام کار “ کی طرف لوٹائے جہاں نیکو کاروں کو ان کی نیکی کی جزا دی جائے اور بدکاروں کو ان کے گناہوں کی سزا۔ آپ نے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →123 لفظِ " معاد " سے مقصود و مراد ؟ : اس " معاد " سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے حضرت علمائے کرام کے مختلف اقوال ہیں۔ مثلاً یہ کہ اس سے مراد ہے فتح مکہ یا موت یا آخرت اور قیامت۔ (ابن کثیر، قرطبی، معارف للکاندھلوی (رح) ، معارف للدیوبندی (رح) وغیرہ) اور " معاد " کے لفظ کا عموم ان سب ہی صورتوں کو عام اور شامل ہے۔ چناچہ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ ﷺ ایک خاص اعزاز اور شان کے ساتھ مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخل ہوئے اور اس کے بعد ہر موقعہ پر آپ (علیہ السلام) کو خاص عنایات سے نوازا گیا اور نوازا جائے گا کہ آپ کے لئے ہر بعد والی حالت پہلی حالت سے اچھی ہی ہوگی۔ جیسا کہ آپ سے آپ کے رب کا صاف وصریح وعدہ ہے ۔ {…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–85
قارون کی سرکشی اور اس کا انجام بد
تشریح : قارون کا واقعہ ‘ غرور ‘ زرپرستی ‘ اور اللہ سے دوری اور کفار کے اس اعتراض کا بہترین جواب ہے سیدنا محمد ﷺ کے علاوہ نبوت عرب کے کسی امیر کبیر سردار کو کیوں نہیں سونپی گئی۔ قارون سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ یہ بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون وہامان کے ساتھ جا ملا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیشمار مال و دولت دے رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ بجائے شکر گزار الٰہی ہونے کے کفر و شرک اور دولت کے نشے میں اپنی قوم سے بھی باغی ہوگیا تھا۔ اور یوں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین میں فرعون، ہامان اور یہ تیسرا قارون بھی شامل ہوگیا تھا۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
آیات 83 تا 88
اسرارومعارف
اور آخرت کا گھر تو ان لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے جو دنیا میں اپنی بڑائی اور تکبر میں گرفتار نہیں ہوتے اور اللہ کی زمین پر فساد نہیں کرتے ۔
تکبر اور فساد :
یعنی تکبر یہ ہے کہ اپنی رائے کو سب سے حتی کہ احکام شریعہ سے بھی بالا سمجھے تو اس کا یقینی نتیجہ فساد ہے محض اچھے کپڑے پہننا یا اچھا گھر اور اچھی گاڑی اگر حلال ذرائع سے نصیب ہو اور دکھاوے کے لیے نہ ہو ضرورت کے لیے ہو تو یہ بھی شکر ادا کرنے کا ایک انداز ہے لیکن اگر ذاتی نمائش کے لیے ہو تو تکبر شمار ہوگا اور دونوں صورتوں میں نتائج الگ الگ برآمد ہوں گے اور حق یہ ہے کہ عاقبت و آخرت کی سرفرازی انہی لوگوں کے لیے ہے جو دنیا…
Read the full tafseer →11 ۔ یا ” جس نے آپ ﷺ پر قرآن کے احکام و فرامین پر عمل کرنا فرض کیا۔ اس کے یہ دونوں مطلب مفسرین (رح) نے بیان کئے ہیں۔ (شوکانی) 12 ۔ مراد ہے مکہ کی طرف۔ اکثر مفسرین (رح) نے یہی مفہوم بیان کیا ہے۔ ضحاک (رح) کہتے ہیں کہ ہجرت کے وقت جب نبی ﷺ مکہ سے نکل کر حجفہ پہنچے تو آپ ﷺ کے دل میں مکہ کا اشتیاق پیدا ہوا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (شوکانی) اس میں فتح مکہ کی خوشخبری دی ہے۔ (قرطبی) یہ آیت اتری ہجرت کے وقت۔ یہ تسلی فرمائی کہ پھر مکہ آئو گے سو خوب طرح آئے پورے غالب ہو کر۔ (موضح) بعض نے ” معاد “ سے مراد موت اور بعض نے جنت لی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی تفسیر ” آخرت “ سے بھی کی ہے۔…
Read the full tafseer →(28:85) لرادک میں لام تاکید کے لئے ہے۔ راد اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ رد یرد رد (باب نصر) سے۔ جس کے معنی پھیر دینے کے ہیں۔ راد پھیرنے والا لوٹانے والا۔ دور کرنے والا۔ رد کرنے والا۔ دفع کرنے والا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر وہ تجھے ضرور (اپنے وطن کی طرف ) لوٹا دینے والا ہے۔
معاد۔ اسم ظرف مکان۔ لوٹ کر آنے کی جگہ۔ جائے بازگشت۔ عود کی جگہ (یعنی مکہ مکرمہ عاد یعود عود (باب نصر) بمعنی لوٹنا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
لغات القرآن آیت نمبر (83 تا 88 ) ۔
علو (بڑائی ۔ برتری) ۔ العاقبتہ (انجام۔ نتیجہ) ۔ فرض (فرض کردیا۔ لازم کردیا) ۔ راد (وہ لوٹ گیا) ۔ معاد (لوٹنے کی جگہ ) ۔ لا یصدن (وہ ہرگز نہ روکیں گے) ۔ ھالک (ہلاک ہونے والا) ۔ وجہ (چہرہ۔ ذات) ۔
تشریح : آیت نمبر (83 تا 88 ) ۔ ” سورة القصص میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو عبرت و نصیحت کے لئے تفصیل سے بیان کرنے کے بعد بنی اسرائیل ہیہ کے ایک فرد قارون کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو اپنی دولت کی کثرت، خوشامدیوں کی بھیڑ اور فخر و غرور کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر الزام لگانے سے باز نہیں آیا تو اللہ نے اس کو اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
توحیدکابیان۔
(ف 1) ان آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کی نصیحت سن کر راہ راست پر آنے والوں کا اور گمراہی پر جمنے والوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے اے محبوب تم اپنا کام تبلیغ کا کیے جاؤ، قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان گمراہی پر جمے رہنے والوں سے سوال کرے گا تو یہ پچھتائیں گے پھر فرمایا اے محبوب تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میرا پروردگار خوب جانتا ہے اس کو جو ہدایت پر ہے اور جو کھلاگمراہ ہے اور تم امید بھی نہیں رکھتے کہ تم پر خدا کی کتاب بھیجی جائے گی مگر محض تمہارے پروردگار کی مہربانی سے نازل کی گئی ہے پھر تم کافروں کے مددگار نہ ہونا کہ یہ کافر تم کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی نصیحت سے نہ روک دیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
[54] یعنی اس کی تلاوت، تبلیغ اور اس کے احکام پر عمل تم پر لازم کیا۔
[55] یہ آپ ﷺ کی تسلی کے لئے اس وقت ارشاد ہوا جب ہجرت کے بعد مفارقت وطن کی وجہ سے آپ کو طبعی صدمہ ہو رہا تھا۔
Read the full tafseer →مراجعت وطن کی پیشیگوئی
3: حضور ﷺ نے جب مکہ والوں کو رشدوہدایت کا پیغام پہنچایا ۔ تو ان لوگوں کو سخت ناگوار گزرا ۔ اور انہوں نے انتہائی درجہ کی مخالفت کی ۔ اور اس حد تک عناد اور دشمنی کا مظاہرہ کیا ۔ کہ حضور ہجرت پر مجبور ہوگئے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ کہ آپ فکر نہ کریں ۔ آپ کو پھر مکہ میں لوٹا دیا جائے گا ۔ اور موقع دیا جائے گا ۔ کہ آپ اپنے وطن مالوف میں رہیں اور خیر و برکت کا سیغام ان کے کانوں تک پہنچائیں ۔ غور فرمائیے ۔ ایک شخص بےکسی اور بےچارگی کے عالم میں ہجرت کرتا ہے ۔ وطن سے تین سو کوس دور جارہتا ہے ۔ مگر اس کو یہ مژدہ سنایا جارہا ہے ۔ کہ تم ضرور وطن پہنچو گے چناچہ قرآن کی یہ پیشگوئی…
Read the full tafseer →85۔ بلا شبہ جس نے آپ پر قربانی احکام کی تعمیل اور تبلیغ کو فرض کیا ہے اور جس نے آپ پر قرآن کریم کا حکم بھیجا ہے وہی آپ کو آپ کے اصل وطن میں پھیرنے والا اور واپس لانے والا ہے آپ فرما دیجئے میرا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت اور دین حق لے کر آیا ہے اور کون صریح اور کھلی گمراہی میں مبتلا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں پھر لادیگا پہلی جگہ یہ ایٓت اتری ہجرت کے وقت یہ تسلی فرمائی کہ پھر سکے میں آئو گے سو خوب طرح آئے پورے غالب ہوکر۔ 12
معاد سے مراد عام طور پر مکہ معظمہ کی جانب فاتحانہ طور پر واپسی بیان کی گئی ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ اس سے نبی کریم ﷺ کی موت اور اجل کی طرف اشارہ ہو جیسا کہ بعض نے…
Read the full tafseer →ف 2 حاصل کلام یہ ہے کہ جس نے آپ کو نبی وصاحب وحی بنایا ہے اور نبی سے جو وعدہ کیا جاتا ہے وہ بوجہ قطعی ہونے وحی کے یقینا صادق ہوتا ہے، وہ آپ سے یہ وعدہ کرتا ہے کہ پس بالیقین واقع ہوگا۔
Read the full tafseer →نبی اعظم وآخر ﷺ کو شاندار کامیابی کی بشارت الہی :
85۔ (معاد) کی اصل ع و د ہے اور عود کے اصل معنی ہیں ایک چیز سے پھرجانا یا اس کی طرف رجوع کرنا خواہ اپنی ذات سے ہو یا قول سے محض عزیمت سے (غ) اور معاد کے معنی لوٹنا بھی ہیں اور لوٹنے کا زمانہ ہے کہ آپ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ان مخالفوں کی مخالفت کی پروانہ کریں جس اللہ نے آپ ﷺ پر اس قرآن کریم کی ذمہ داری ڈالی ہے وہ اس کے فرائض کی ادائیگی کی راہ میں ہر قدم پر آپ ﷺ کی مدد فرمائے گا گویا (الرآدک) کے اندر ایک فیصلہ حتمی وقطعی کا مفہوم پایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کا اعلان کیا جا رہا ہے اور پھر قبل از وقت کیا جا رہا ہے اور اس لئے کیا جا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
Commentary
إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ (Surely the One who has enjoined the Qur’ an upon you will surely bring you back to a place of return. - 28:85). At the end of Surah these verses were revealed to console the Holy Prophet ﷺ ، and to make him firm in his mission as a messenger. These verses are relevant to the previous verses in that in this Surah, Allah Ta’ ala has narrated in detail the story of Sayyidna Musa (علیہ السلام) with the Pharaoh, his enmity with Bani Isra'il, their fear of him and how he overpowered the people of the Pharaoh. Since…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
107 That is, "He has placed on you the responsibility of conveying the Qur'an and teaching it to the people, and reforming the world according to the guidance contained in it."
108 The word ma ad in the original means the place to which one has to return ultimately. Its use as a common noun implies that it is a place of eminence and glory. Some commentators think it refers to Paradise. But there is no reason why it should be restricted only to Paradise. Let it remain indefinite as Allah Himself has put it so that the promise become applicable both his world and to the Next World. The context…
Read the full tafseer →