Explained with ayahs 83–84
جنت اور آخرت
فرماتا ہے کہ جنت اور آخرت کی نعمت صرف انہی کو ملے گی جن کے دل خوف الٰہی سے بھرے ہوئے ہوں اور دنیا کی زندگی تواضع فروتنی عاجزی اور اخلاق کے ساتھ گزاردیں۔ کسی پر اپنے آپ کو اونچا اور بڑا نہ سمجھیں ادھر ادھر فساد نہ پھیلائیں سرکشی اور برائی نہ کریں۔ کسی کا مال ناحق نہ ماریں اللہ کی زمین پر اللہ کی نافرمانیاں نہ کریں۔ حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ جسے یہ بات اچھی لگے کہ اس کی جوتی کا تسمہ اپنے ساتھی کی جوتی کے تسمے سے اچھا ہو تو وہ بھی اسی آیت میں داخل ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ فخر غرور کرے۔ اگر صرف بطور زیبائش کے چاہتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ جیسے صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ ایک شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
سورة القصص 103
مراد ہے جنت جو حقیقی فلاح کا مقام ہے۔
سورة القصص 104
یعنی جو خدا کی زمین میں اپنی بڑائی قائم کرنے کے خواہاں نہیں ہیں، جو سرکش و جبار اور متکبر بن کر نہیں رہتے بلکہ بندے بن کر رہتے ہیں اور خدا کے بندوں کو اپنا بندہ بنا کر رکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔
سورة القصص 105
فساد سے مراد انسانی زندگی کے نظام کا وہ بگاڑ ہے جو حق سے تجاوز کرنے کے نتیجے میں لازما رونما ہوتا ہے، خدا کی بندگی اور اس کے قوانین کی اطاعت سے نکل کر آدمی جو کچھ بھی کرتا ہے وہ سراسر فساد ہی فساد ہے، اسی کا ایک جز وہ فساد بھی ہے جو حرام طریقوں سے دولت سمیٹنے اور حرام راستوں میں خرچ کرنے سے برپا ہوتا ہے۔
سورة القصص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
خلاصہ تفسیر
یہ عالم آخرت (جس کے ثواب کا مقصود ہونا اوپر (ثَوَاب اللّٰهِ خَيْرٌ میں بیان ہوا ہے) ہم انہی لوگوں کے لئے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ فساد کرنا (یعنی نہ تکبر کرتے ہیں جو باطنی گناہ ہے اور نہ کوئی ظاہری گناہ ایسے کرتے ہیں جس سے زمین میں فساد برپا ہو) اور صرف ان باطنی اور ظاہری برائیوں سے بچنا کافی نہیں بلکہ) نیک نتیجہ متقی لوگوں کو ملتا ہے، (جو برائیوں سے اجتناب کے ساتھ اعمال صالحہ کے بھی پابند ہوں اور کیفیت اعمال پر جزا و سزا کی یہ ہوگی کہ) جو شخص (قیامت کے دن) نیکی لے کر آوے گا اس کو اس (کے متقضا) سے بہتر (بدلہ) ملے گا (کیونکہ نیک عمل کا اصل مقتضی تو یہ…
Read the full tafseer →نیکوں کے ساتھ فضل اور بدوں کے ساتھ عدل کا معاملہ
یہ وہ اصول بیان فرما دیا جس کے مطابق آخرت میں نیکوں اور بدوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ معاملہ کرے گا۔ فرمایا کہ جو نیکی کی کمائی کر کے آئیں گے ان کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے مطابق معاملہ کرے گا، ان کو ان کی نیکیوں سے کہیں بہتر صلہ دے گا اور جو بدی کی کمائی کر کے آئیں گے ان کے ساتھ اپنے عدل کے مطابق معاملہ کرے گا۔ جو کچھ انہوں نے کیا ہوگا اس کا ثمرہ ان کے آگے رکھ دیا جائے گا کہ یہ تمہاری اپنی ہی بوئی ہوئی فصل کا حاصل ہے، اب اس کا مزاچکھو !
Read the full tafseer →84-1یعنی کم از کم ہر نیکی کا بدلہ دس گنا تو ضرور ہی ملے گا، اور جس کے لئے اللہ چاہے گا، اس سے بھی زیادہ، کہیں زیادہ، عطا فرمائے گا۔
84-2یعنی نیکی کا بدلہ تو بڑھا چڑھا کردیا جائے گا لیکن برائی کا بدلہ برائی کے برابر ہی ملے گا۔ یعنی نیکی کی جزا میں اللہ کے فضل و کرم کا اور بدی کی جزا میں اس کے عدل کا مظاہرہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
48:”صبر“ قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ناجائز خواہشات پر قابو پاکر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری پر ثابت قدم رکھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
اب اس منظر پر بھی پر ودہ گر جاتا ہے۔ دست قدرت کی مداخلت سے اہل ایمان کے دلوں کو قوت ملی۔ اور اللہ کے پیمانوں
میں ایمان کی قوت کو ترجیح ملی۔ اور اب ان مناظر پر بہترین تبصرہ :
تلک الدار الاخرۃ ۔۔۔۔۔۔ والعاقبۃ للمتقین (83)
یہ دار آخرت جس کی بات اہل علم کرتے ہیں یعنی وہ لوگ جن کے پاس سچا علم ہے جو اشیاء کی صحیح قدروقیمت متعین کرتا ہے یہ جہاں نہایت ہی بلند مرتبت ہے۔ بہت ہی وسیع ہے یہ جہاں کس کے لیے ہے ؟
نجعلھا للذین ۔۔۔۔۔ ولا فسادا (28: 83) ” یہ ہم نے ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیا ہے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں “۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال ہی نہیں آتا کہ وہ…
Read the full tafseer →5 یعنی جو بھلائی یہاں کرے گا اس سے کہیں بہتر بھلائی وہاں کی جائے گی۔ ایک نیکی کا جو مقتضی ہوگا کم ازکم اس سے دس گناہ ثواب پائے گا۔
6 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں نیکی پر وعدہ دیا نیکی کا، وہ یقینا ملنا ہے، اور برائی پر برائی کا وعدہ نہیں فرمایا کہ ضرور مل کر رہے گی کیونکہ ممکن ہے معاف ہوجائے۔ ہاں یہ فرما دیا کہ اپنے کیے سے زیادہ سزا نہیں ملتی۔
Read the full tafseer →آیت 84 مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیْرٌ مِّنْہَا ج ”
سورۃ النمل کی آیت 89 میں بھی یہ مضمون بالکل ان ہی الفاظ میں بیان ہوا ہے۔
وَمَنْ جَآء بالسَّیِّءَۃِ فَلَا یُجْزَی الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلَّا مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ”
مطلب یہ کہ برائی کی سزا برائی کے عین مطابق دی جائے گی ‘ اس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ لیکن نیکوکاروں کے لیے ان کی نیکیوں میں اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے دس گنا سے سات سو گنا تک اضافہ کردیا جائے گا ‘ بلکہ غور کیا جائے تو ”خَیْرٌ مِّنْہَا“ کی کوئی حد اور انتہا مقرر نہیں۔ جیسا کہ سورة البقرۃ میں ارشاد ہوا ہے : وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُط…
Read the full tafseer →114 اس آیت میں جزا و سزا سے متعلق ضابطہ الٰہی بتلایا گیا ہے جو یہ ہے کہ نیکی کا بدلہ اللہ تعالیٰ اس کے اصل اجر سے بہت زیادہ دے گا جو دس گناہ سے سات سو گناہ تک بھی ہوسکتا ہے بلکہ اس سے زیادہ بھی اور یہ اس کے فضل و رحمت اور احسان کی بنا پر ہوگا۔ اور برائی کا بدلہ اتنا ہی ملے گا جتنی برائی تھی۔ یعنی اس بدلہ میں زیادتی نہ ہوگی اور یہ اس کی صفات عدل کا تقاضا ہے۔
دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ نیکی پر اللہ نے وعدہ فرمایا کہ اس کا بدلہ ضرور ملے گا اور برائی پر یہ وعدہ نہیں فرمایا کہ اس کا بدلہ ضرور مل کر رہے گا۔ کیونکہ یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ معاف فرما دے۔ البتہ یہ بیان فرمادیا کہ اپنے کئے سے زیادہ سزا…
Read the full tafseer →111۔ یعنی عالم آخرت کا قانون یہ ہے بدی کا معاوضہ تو صرف اسی قدر ملے گا جتنا اس عمل بد کا مقتضا ہے اور نیکی کا معاوضہ اس کے اصل مقتضا سے کہیں زیادہ ملا کرے گا جس کا اقل درجہ حدیث نبوی کے مطابق دس گناہ ہے۔ قرآن کا خدا بندوں کے ساتھ سلوک کرنے والا کریم ورحیم، تواب و غفار ہے مشین کی طرح بیجان، بےارادہ خدا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
آیت نمبر 83 تا 88
ترجمہ : یہ دار آخرت یعنی جنت ہم انہیں لوگوں کے لئے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں نہ ظلم کے ذریعہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ نافرمانی کرکے فساد کرتے ہیں اور بہتر انجام فرما نبرداری کرکے اللہ کے عذاب سے ڈرنے والوں کے لئے ہے جو شخص نیکی لیکر آئے گا اس کو اس سے بہتر ملے گا ان کو نیکیوں کا اجر ملے گا اور وہ ان نیکیوں کا دس گنا ہوگا اور جو شخص بدی لیکر آئے گا سو ایسے لوگوں کو جو بدی کا کام کرتے ہیں اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا وہ کرتے تھے جس خدا نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے وہ آپ کو دوبارہ پہلی جگہ لوٹانے والا ہے یعنی مکہ (کی طرف) اور آپ نے مکہ کے لئے اشتیاق ظاہر فرمایا تھا، آپ کہہ دیجئے کہ…
Read the full tafseer →من جآء بالحسنۃ فلہ خیر منھا ومن جآء بالسیءۃ فلا یجزی الذین علموا السیات الا ما کانوا
یعلمون . جو شخص (قیامت کے دن) نیکی لے کر آئے گا اس کو نیکی کی مقدار سے اچھا ملے گا اور جو شخص بدی لے کر آئے گا سو ایسے لوگوں کو جو برے کام کرتے ہیں اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا وہ کرتے تھے۔ فلہ خیر منھا یعنی دس گنا سے سات سو گنا تک اور اس سے آگے جتنا اللہ کو منظور ہو۔ فَلاَ یُجْزَی الَّذِیْنَ عَمِلُوْا السَّیِّاٰتِ فَلاَ یُجْزَوْنَ کی جگہ فلاَ یُجْزٍ الَّذِیْنَ عَمِلُوْا السَّیِّاٰتِ فرمایا تاکہ بدی کی نسبت کی تکرار ہوجائے اور ان کی بری حالت کا بیان ہوجائے۔
اِلاَّ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ یعنی جتنا عمل ہوا سی کے…
Read the full tafseer →(84) جو شخص قیامت کے دن خلوص نیت کے ساتھ کلمہ طیبہ لے کر آئے گا اس کو اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور جو شرک لے کر آئے گا تو شرک کرنے والوں کو اسی کے مطابق دوزخ ملے گی۔
Read the full tafseer →مَنْ جَاۗءَ بالْحَـسَـنَةِ فَلَهٗ خَيْرٌ مِّنْهَا۔۔ : اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انعام (160) اور سورة نمل (89) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
مراد جنت ہے اسم اشارہ بعید کا ذکر اس کی تعظیم او تفخیم شان کے لئے یعنی وہ جس کا ذکر تو نے سنا او تجھ تک اس کا وصف پہنچا یعنی ایمان اور مومنین پر بلندی اور تکبر کا ارادہ نہیں کرتے۔ و لا فسادا معاصی پر عمل کرنا، یہ ابن جریج اور مقاتل کا نقطہ نظر ہے۔ عکرمہ اور مسلم بطین نے کہا : فساد سے مراد ناحق مال لینا ہے (1) کلبی نے کہا : غیر اللہ کی عبادت کی طرف دعت دینا ہے (2) یحییٰ بن سلام نے کہا : اس سے مراد انبیاء اور مومنین کو قتل کرنا ہے۔
ضحاک نے کہا : عاقبتہ سے مراد جنت ہے۔ ابو معاویہ نے کہا : الذی لا یرید علوا سے مراد وہ ہے جو دنیا کی ذلت پر جزع فزع نہیں کرتا اور اس میں عزت حاصل کرنے لئے مقابلہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
سرکش متکبر جنت سے محروم ہوگا
1۔ المحاملی والدیلمی فی سنۃ الفردوس ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت تلک الدار الاٰخرۃ نجعلہا للذین لایریدون علوا فی الارض ولا فسادا۔ کے بارے میں فرمایا کہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے خاص کردیں گے جو بلندی اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے۔ یعنی وہ لوگ زمین میں سرکش اور متکبر نہیں ہوتے اور ناحق کوئی چیز نہیں لیتے۔
2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذ روابن ابی حاتم نے مسلم البطین (رح) سے للذین لا یردون علوا فی الارض ولا فسادا کے بارے میں روایت کیا کہ علوا سے مراد ہے زمین میں ناحق ظلم کرنا اور فساد یہ ہے کہ ناحق کسی کی کوئی چیز لے لینا۔
3۔ ابن ابی شیبہ…
Read the full tafseer →مَنْ جَاۗءَ [جو آیا ] بِالْحَـسَـنَةِ [نیکی کے ساتھ ] فَلَهٗ [تو اس کے لئے ] خَيْرٌ مِّنْهَا ۚ [اس سے زیادہ بھلائی ہے ] وَمَنْ جَاۗءَ [اور جو آیا ] بِالسَّيِّئَةِ [برائی کے ساتھ ] فَلَا يُجْزَى [تو بدلہ نہیں دیا جاتا ] الَّذِيْنَ [ان کے جنہوں نے ] عَمِلُوا [عمل کئے ] السَّيِّاٰتِ [برائیوں کے ] اِلَّا مَا [سوائے اس کے جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [وہ لوگ عمل کیا کرتے تھے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے آپ کو کتاب دی گئی
حضرات مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ مَعَاد سے آنحضرت ﷺ کا سابق وطن یعنی مکہ معظمہ مراد ہے اور اس میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت دی گئی ہے کہ آپ واپس اپنے وطن تشریف لائیں گے۔ چناچہ آپ 8 ہجری میں فاتح ہو کر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے تھے انہوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ ہجرت کے سفر میں جب رسول اللہ ﷺ حجفہ میں نازل ہوئے اس وقت مکہ معظمہ یاد آگیا اور آپ کو اپنے وطن کا اشتیاق ہوا۔ اس موقع پر جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر حاضر ہوئے جس میں آپ کے واپس مکہ معظمہ تشریف لانے کا وعدہ ہے اسی لیے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت حجفہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
بیان مستحقین نعمائے دار آخرت
قال اللہ تعالیٰ تلک الدار الاخرۃ۔۔۔ الی۔۔۔ الا ما کانوا یعلمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قارون کا قصہ ذکر کیا جس کے ضمن میں اہل علم کی یہ نصیحت ذکر کی۔ وقال الذین اوتوا العلم ویلکم ثواب اللہ خیر لمن امن وعمل صالحا۔ یعنی آخرت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے کہیں بہتر ہیں اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ دار آخرت کی لازوال نعمتوں کے مستحق کون لوگ ہیں اور دار آخرت کی نعمتوں کے حصول کا ذریعہ کیا ہے سو بتلایا کہ دار آخرت کی نعمتوں کے مستحق کون لوگ ہیں اور دار آخرت کی نعمتوں کے حصول کا ذریعہ کیا ہے سو بتلایا کہ دار آخرت کی نعمتوں کے وہ لوگ مستحق ہیں کہ جو دنیا میں علو اور رفعت…
Read the full tafseer →79:۔ یہ نیک لوگوں کے لیے بشارت اور بروں کے لیے تخویف ہے یعنی نیکی کا بدلہ تو اصل نیکی سے زیادہ دیا جائے گا لیکن برے کاموں کسی سزا ان کے مطابق ہوگی اس میں زیادتی نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ نے قارون کے تکبر ، غرور ، دولت مندی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا رسائی کا ذکر کیا اور پھر اس کا انجام بھی بیان فرمایا ، اللہ نے اسے اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا اور ایسے وقت میں اس کی دولت ، دوست احباب کچھ بھی کام نہ آئے۔ جو لوگ قارون کی شان و شوکت پر رشک کرتے تھے ان کو بھی ندامت اٹھانا پڑی ۔ اس کی تباہی کو دیکھ کر ان لوگوں کو کہنا پڑا کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے رزق کے دروازے کشادہ کر دے اور جس کے لیے چاہے تنگ کردے۔ دولت کی فراوانی نیکی کی علامت نہیں بلکہ یہ تو اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے ، ان لوگوں نے تسلیم کیا کہ اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا جو…
Read the full tafseer →مَنْ جَاۗءَ بِالْحَـسَـنَۃِ فَلَہٗ خَيْرٌ مِّنْہَا 0ۚ وَمَنْ جَاۗءَ بِالسَّيِّئَۃِ فَلَا يُجْزَى الَّذِيْنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ اِلَّا مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 84
حسنة
والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، والسيئة تضادّها . وهما من الألفاظ المشترکة، کالحیوان، الواقع علی أنواع مختلفة کالفرس والإنسان وغیرهما، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ، أي : خصب وسعة وظفر، وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ أي : جدب وضیق وخیبة «1» ، يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ : كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
ترکیب : تلک مبتداء والدار لغت و نجعلہا خبر من موضع نصب میں ہے۔ اعلم سے ومن یہ معطوف ہے، من اول پر۔ الا رحمۃ ای ولکن القی رحمۃ الاوجہہ استثناء من الجنس ای الا ایاہ۔
تفسیر : قارون کی بربادی کا حال بیان فرما کر اور یہ بات ثابت کرکے کہ دار آخرت کی نعماء باقی اور بہتر ہیں۔ یہ بات بتلاتا ہے کہ اس دار آخرت کا کون مستحق ہے اور کن کن باتوں سے حاصل ہوتا ہے۔ فقال تلک الدار الآخرۃ نجعلہا للذین لا یریدون علوًا فی الارض ولا فسادًا کہ یہ دار آخرت ہم اس کو دیں گے کہ جو دنیا میں سرکشی اور فساد کرنے کا قصد بھی نہ کرے گا۔ علو گردن کشی ‘ تکبر ‘ اس کی ضد اسلام گردن نہادن یعنی جو اللہ اور اس کے رسول کے آگے گردن…
Read the full tafseer →مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیْرٌمِّنْھَا ج وَمَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلاَ یُجْزَی الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ اِلاَّ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (القصص : 84)
(جو کوئی نیکی کما کر لائے گا تو اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور جو برائی لے کر آئے گا تو برائیاں کمانے والوں کو وہی بدلہ ملے گا جو وہ کرکے آئیں گے۔ )
آخرت میں جزاء و سزا کا طریقہ
اس آیت کریمہ میں جزاء اور سزا کا وہ قانون بیان فرمایا گیا ہے جس پر آخرت میں عمل ہوگا۔ پہلی بات یہ ارشاد فرمائی ہے کہ نیکوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ جو معاملہ فرمائیں گے اس کی بنیاد اس کے فضل پر ہوگی۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ نیکی کا صلہ نیکی کے تول کے برابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
فہم القرآن
ربط کلام : قارون کی بربادی فخر و غرور کی وجہ سے ہوئی، اس لیے غرور اور تکبر سے اجتناب کرنے والوں کے اجر کا ذکر کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قارون کو دنیا کے مال و اسباب سے نوازا تھا۔ لیکن اس نے شکر اور عاجزی اختیار کرنے کی بجائے کفر اور تکبر کا رویہ اختیار کیا۔ جس کے نتیجہ میں اسے اس کی دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ قارون کے انجام سے لوگوں کو بتلا دیا گیا ہے کہ تکبر کرنے والوں کا بالآخر یہ انجام ہوگا۔ جو لوگ اللہ کی نافرمانی اور فخر و غرور سے بچیں اور زمین میں دنگا و فساد کرنے سے اجتناب کریں گے۔ ان کے لیے آخرت کا بہتر گھر ہوگا اس کے ساتھ ہی یہ اصول بھی بتلا دیا گیا کہ امیر ہو یا…
Read the full tafseer →84: مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیْرٌ مِّنْہَا (جو شخص قیامت کے دن نیکی لائے گا۔ اس کو نیکی کی مقدار سے بہت زیادہ اچھا ملے گا) ۔ یہ آیت سورة النمل 89 میں گزر چکی۔
وَمَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلاَ یُجْزَی الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ (اور جو شخص برائی لایا ایسے لوگوں کو جو برے کام کرتے ہیں اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا) ۔ ولا یجزی کا معنی فلا یجزون ہے۔ پس الذین عملوا السیئات ظاہر نائب فاعل کو ضمیر کی جگہ لائے۔ تاکہ برے اعمال کی اسناد ان کی طرف دوبارہ کر کے ان کی بدحالی اور تذلیل خوب ظاہر ہو اور سننے والوں کے دلوں میں برائی کی نفرت بڑھا دی جائے۔ اِلاَّ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (جتنا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
85۔ ان الذی فرض علیک القرآن، ،، یعنی جس نے آپ پر قرآن نازل کیا، یہی اکثر مفسرین کا قول ہے کہ عطاء کا قول ہے کہ جس نے آپ پر قران کی تلاوت تبلیغ اور اس کے مطابق عمل فرض کیا ہے ، لرادک الی معاد، اس سے مراد مکہ ہے۔
معاد کی تفسیر میں مختلف اقوال۔
عوفی نیابن عباس ؓ عنہماکاقول نقل کیا ہے کہ اس وعدہ کے مطابق اللہ نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ کو مکہ میں لوٹا بھی دیا، مجاہد کا قول بھی یہی ہے ، قتیبی کا قول ہے کہ کسی شخص کا معاد اس شہر کا ہوتا ہے جہاں وہ لوٹ کر آتا ہے۔ جب رسول اللہ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ کی طرف جانے کے لیے غار ثور سے نکلے توتعاقب کے اندیشہ سے عام راستہ چھوڑ کر دوسرے راستہ سے نکل پڑے پھر جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–84
76 تا 84۔ معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا اور اللہ تعالیٰ کا دشمن منافق تھا۔ جیسے سامری منافق تھا کثرت مال کے سبب سے وہ اترا گیا تھا اس کے اترانے پر اللہ تعالیٰ نے اس کو برباد کردیا قارون کے خزانوں کی کنجیاں چمڑے کی تھیں تاکہ وہ کنجیاں ہلکی رہیں کیوں کہ جب دہ کہیں جاتا تھا تو کنجیاں اپنے ساتھ رکھتا تھا مجاہد کے قول کے موافق عصبہ دس سے لے کر پندرہ آدمیوں کی جماعت تک کو کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فَرِحِیْن کی تفسیر اترانے والوں کی فرمائی ہے حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس قدر خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت والی…
Read the full tafseer →آیت 84
اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے کئی گنا زیادہ ہونے اور اپنے عدل کامل کے بارے میں آگے فرماتا ہے : (من جاء بالحسنۃ) ” جو شخص نیکی لے کر آئے گا۔ “ اس میں شرط عائد کی گئی ہے عامل نیکی کے ساتھ آئے کیونکہ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان کوئی نیکی کرتا ہے اور اس نیکی کے ساتھ کچھ ایسے اعمال بھی ہوتے ہیں جو قابل قبول نہیں ہوتے یا وہ اس نیکی کو باطل کردیتے ہیں .... تو یہ شخص در حقیقتتی کی لے کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر نہیں ہوتا۔ (الحسنۃ) ” نیکی “ یہاں اسم جنس ہے جو ان تمام امور کو شامل ہے جن کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے حکم دیا ہے مثلاً حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق تمام اقوال اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →121 نیکی کرنے والے کیلئے بہتر بدلے کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بدلہ ہے " اور وہ کتنا اچھا ہوگا ؟ اس کی کوئی حد بیان نہیں فرمائی گئی۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ بدلہ اس سے کتنا اچھا ہوگا۔ دوسری نصوص میں اس کی تصریح اس طرح ہے کہ وہ کم سے کم دس گنا، سو گنا، سات سو گنا اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہوگا ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ سو نیکوکاروں کے ساتھ وہاں پر معاملہ صرف عدل و انصاف پر نہیں بلکہ فضل و کرم اور انعام و احسان کی بنیاد پر ہوگا کہ یہ بدلہ اکرم الاکرمین کی طرف سے ہوگا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–85
قارون کی سرکشی اور اس کا انجام بد
تشریح : قارون کا واقعہ ‘ غرور ‘ زرپرستی ‘ اور اللہ سے دوری اور کفار کے اس اعتراض کا بہترین جواب ہے سیدنا محمد ﷺ کے علاوہ نبوت عرب کے کسی امیر کبیر سردار کو کیوں نہیں سونپی گئی۔ قارون سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ یہ بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون وہامان کے ساتھ جا ملا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیشمار مال و دولت دے رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ بجائے شکر گزار الٰہی ہونے کے کفر و شرک اور دولت کے نشے میں اپنی قوم سے بھی باغی ہوگیا تھا۔ اور یوں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین میں فرعون، ہامان اور یہ تیسرا قارون بھی شامل ہوگیا تھا۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
آیات 83 تا 88
اسرارومعارف
اور آخرت کا گھر تو ان لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے جو دنیا میں اپنی بڑائی اور تکبر میں گرفتار نہیں ہوتے اور اللہ کی زمین پر فساد نہیں کرتے ۔
تکبر اور فساد :
یعنی تکبر یہ ہے کہ اپنی رائے کو سب سے حتی کہ احکام شریعہ سے بھی بالا سمجھے تو اس کا یقینی نتیجہ فساد ہے محض اچھے کپڑے پہننا یا اچھا گھر اور اچھی گاڑی اگر حلال ذرائع سے نصیب ہو اور دکھاوے کے لیے نہ ہو ضرورت کے لیے ہو تو یہ بھی شکر ادا کرنے کا ایک انداز ہے لیکن اگر ذاتی نمائش کے لیے ہو تو تکبر شمار ہوگا اور دونوں صورتوں میں نتائج الگ الگ برآمد ہوں گے اور حق یہ ہے کہ عاقبت و آخرت کی سرفرازی انہی لوگوں کے لیے ہے جو دنیا…
Read the full tafseer →10 ۔ یعنی ایک برائی کی سزاصرف اتنی ہی ملے گی جتنی خود وہ برائی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر فضل و کرم ہے کہ نیکی کا ثواب بہت بڑھا کردیتا ہے اور برائی کا بدلہ صرف اس برائی کے مطابق۔
Read the full tafseer →(28:84) خیر منھا افعل التفضیل کا صیغہ ہے بہتر۔ اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب راجع الی الحسنۃ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
لغات القرآن آیت نمبر (83 تا 88 ) ۔
علو (بڑائی ۔ برتری) ۔ العاقبتہ (انجام۔ نتیجہ) ۔ فرض (فرض کردیا۔ لازم کردیا) ۔ راد (وہ لوٹ گیا) ۔ معاد (لوٹنے کی جگہ ) ۔ لا یصدن (وہ ہرگز نہ روکیں گے) ۔ ھالک (ہلاک ہونے والا) ۔ وجہ (چہرہ۔ ذات) ۔
تشریح : آیت نمبر (83 تا 88 ) ۔ ” سورة القصص میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو عبرت و نصیحت کے لئے تفصیل سے بیان کرنے کے بعد بنی اسرائیل ہیہ کے ایک فرد قارون کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو اپنی دولت کی کثرت، خوشامدیوں کی بھیڑ اور فخر و غرور کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر الزام لگانے سے باز نہیں آیا تو اللہ نے اس کو اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–84
قارون کا دھنسنا۔
(ف 1) ایک روز اپنی قوم کے روبروبڑی تیاری و سامان زیوروں سے آراستہ ریشمی لباس پہنے گھوڑوں پر سوار نکلاجب دنیا کے طلب گاروں نے یہ دیکھا تو تمنا کی کہ کس طرح ہم کو بھی ایسا ہی سامان ملتا۔ اور یہ بھی ان دنیا کے طلب گاروں نے کہا کہ قارون بڑانصیبے والا ہے۔ جب ان کی یہ بات قوم کے علم والوں نے سنی تو کہنے لگے کہ کیوں خرابی میں پڑتے ہو اللہ کا دیا ہواثواب دنیا کے مال ومتاع سے ہزار درجہ بہتر ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے گھروالوں کو زمین کے اندر دھنسادیا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ، حضرت موسیٰ پر جب خدا کی طرف سے زکوۃ کا حکم آیا کہ دسواں حصہ مال کا ادا کریں حکم الٰہی سے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
[54] یعنی اس کی تلاوت، تبلیغ اور اس کے احکام پر عمل تم پر لازم کیا۔
[55] یہ آپ ﷺ کی تسلی کے لئے اس وقت ارشاد ہوا جب ہجرت کے بعد مفارقت وطن کی وجہ سے آپ کو طبعی صدمہ ہو رہا تھا۔
Read the full tafseer →ف 2: اللہ کے قانون مکافات کی تشریح ہے ۔ کہ وہ کسی شخص پر ظلم نہیں کرے گا ۔ وہ لوگ جو نیک ہیں ۔ ان کا جو اپنے پاس سے بڑھا دے گا ۔ اور برے لوگوں کو بس اسی تناسب سے سزا دیگا جس تناسب سے کہ انہوں نے گناہوں کا ارتکاب کیا ہے یعنی وہ اجر ثواب میں تو اپنے فضل وکرم کا مظاہرہ کریگا مگر سزا اور عذاب میں سخط وغضبت نہیں کھائے گا ۔
Read the full tafseer →84۔ جو شخص نیکی لیکرحاضر ہوگا تو اس کو اس نیکی سے بہتر بدلا ملے گا اور جو شخص بدی اور برائی لیکر حاضر ہوگا تو ایسے بد اعمالوں کو صرف انہی اعمال کی سزا دی جائے گی جو وہ کیا کرتے تھے۔ یعنی نیکی لیکر قیامت میں حاضر ہونیوالا اس نیکی سے زیادہ بدلا پائے گا جس کا کم سے کم درجہ اس گنا ہوگا یعنی ایک نیکی کا مقتضایہ ہے کہ اس نیکی کی مثل بدلا مل جاتا لیکن نیکی والے کو دس گناہ بدلہ ملے گا اور یہ کم سے کم بدلا ہوگا یہاں تک کہ کسی کو سات سو تک بھی دیا جائیگا لیکن بدی کا بدلا اس بدی اور برائی کے مقتضا سے زیادہ نہیں ہوگا بلکہ صرف مقتضا کے مطابق دیا جائیگا۔
حدیث میں آتا ہے کہ اس شخص پر افسوس ہے جس کی اکائیاں…
Read the full tafseer →ف 7۔ کیونکہ مقتضا تو صرف اس قدر ہے کہ عمل کی حیثیت کے موافق ملے، مگر وہاں زیادہ ملے گا جس کا اقل درجہ دس حصہ ہے۔
1۔ یعنی اس کے مقتضاء سے زیادہ نہ ملے گا۔
Read the full tafseer →قانون الہی میں نیکی کا بدلہ دس گنا ہے اور برائی کا بدلہ اتنا ہی جتنی اس نے برائی کی :
84۔ نیکی اور بدی کے بدلہ کا اصول جو عند اللہ مقرر کیا جا چکا ہے جس کے مطابق انسان کو آخرت میں بدلہ ملے گا اور اس دنیا میں بھی بلاشبہ نیکی وبدی کا بدلہ اس اصول کے تحت ملتا ہے لیکن یہ اصول اللہ تعالیٰ کے ہے اس آیت میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ نیکوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ فضل کا ہوگا اور بدوں کے ساتھ بلاشبہ عدل ہوگا اور ظاہر ہے کہ عدل برابر بربر ہی کو کہا جاسکتا ہے برابر سے زیادہ ہوگا تو وہ احسان کہلائے گا ، برابر سے زیادہ دینا بھی جب عدل نہیں تو کم دینا تو بہرحال عدل نہیں ہوسکتا ۔ زیر نظر آیت میں اس اصول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
Commentary
إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ (Surely the One who has enjoined the Qur’ an upon you will surely bring you back to a place of return. - 28:85). At the end of Surah these verses were revealed to console the Holy Prophet ﷺ ، and to make him firm in his mission as a messenger. These verses are relevant to the previous verses in that in this Surah, Allah Ta’ ala has narrated in detail the story of Sayyidna Musa (علیہ السلام) with the Pharaoh, his enmity with Bani Isra'il, their fear of him and how he overpowered the people of the Pharaoh. Since…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
107 That is, "He has placed on you the responsibility of conveying the Qur'an and teaching it to the people, and reforming the world according to the guidance contained in it."
108 The word ma ad in the original means the place to which one has to return ultimately. Its use as a common noun implies that it is a place of eminence and glory. Some commentators think it refers to Paradise. But there is no reason why it should be restricted only to Paradise. Let it remain indefinite as Allah Himself has put it so that the promise become applicable both his world and to the Next World. The context…
Read the full tafseer →