Explained with ayahs 83–84
جنت اور آخرت
فرماتا ہے کہ جنت اور آخرت کی نعمت صرف انہی کو ملے گی جن کے دل خوف الٰہی سے بھرے ہوئے ہوں اور دنیا کی زندگی تواضع فروتنی عاجزی اور اخلاق کے ساتھ گزاردیں۔ کسی پر اپنے آپ کو اونچا اور بڑا نہ سمجھیں ادھر ادھر فساد نہ پھیلائیں سرکشی اور برائی نہ کریں۔ کسی کا مال ناحق نہ ماریں اللہ کی زمین پر اللہ کی نافرمانیاں نہ کریں۔ حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ جسے یہ بات اچھی لگے کہ اس کی جوتی کا تسمہ اپنے ساتھی کی جوتی کے تسمے سے اچھا ہو تو وہ بھی اسی آیت میں داخل ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ فخر غرور کرے۔ اگر صرف بطور زیبائش کے چاہتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ جیسے صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ ایک شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
سورة القصص 103
مراد ہے جنت جو حقیقی فلاح کا مقام ہے۔
سورة القصص 104
یعنی جو خدا کی زمین میں اپنی بڑائی قائم کرنے کے خواہاں نہیں ہیں، جو سرکش و جبار اور متکبر بن کر نہیں رہتے بلکہ بندے بن کر رہتے ہیں اور خدا کے بندوں کو اپنا بندہ بنا کر رکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔
سورة القصص 105
فساد سے مراد انسانی زندگی کے نظام کا وہ بگاڑ ہے جو حق سے تجاوز کرنے کے نتیجے میں لازما رونما ہوتا ہے، خدا کی بندگی اور اس کے قوانین کی اطاعت سے نکل کر آدمی جو کچھ بھی کرتا ہے وہ سراسر فساد ہی فساد ہے، اسی کا ایک جز وہ فساد بھی ہے جو حرام طریقوں سے دولت سمیٹنے اور حرام راستوں میں خرچ کرنے سے برپا ہوتا ہے۔
سورة القصص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
خلاصہ تفسیر
یہ عالم آخرت (جس کے ثواب کا مقصود ہونا اوپر (ثَوَاب اللّٰهِ خَيْرٌ میں بیان ہوا ہے) ہم انہی لوگوں کے لئے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ فساد کرنا (یعنی نہ تکبر کرتے ہیں جو باطنی گناہ ہے اور نہ کوئی ظاہری گناہ ایسے کرتے ہیں جس سے زمین میں فساد برپا ہو) اور صرف ان باطنی اور ظاہری برائیوں سے بچنا کافی نہیں بلکہ) نیک نتیجہ متقی لوگوں کو ملتا ہے، (جو برائیوں سے اجتناب کے ساتھ اعمال صالحہ کے بھی پابند ہوں اور کیفیت اعمال پر جزا و سزا کی یہ ہوگی کہ) جو شخص (قیامت کے دن) نیکی لے کر آوے گا اس کو اس (کے متقضا) سے بہتر (بدلہ) ملے گا (کیونکہ نیک عمل کا اصل مقتضی تو یہ…
Read the full tafseer →اوپر کی موعظت کا خلاصہ
یہ اوپر کی بیان کردہ موعظت کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے کہ یہ دار آخرت جس کا ذکر ہوا، ہم نے ان لوگوں کے لئے خاص کر رکھا ہے جو خدا کی زمین میں استکبار اور فساد کے طالب نہیں بنیں گے بلکہ اس کے بندے بن کر زندگی بسر کریں گے اور اس کے اندر اس نظام حق و عدل کے حامی و علم بردار ہوں گے جس کو خدا نے پسند فرمایا ہے یہی لوگ متقی ہیں اور انجام کار فوز و فلاح ان متقیوں ہی کے لئے ہے۔ نجعلھا یہاں خاص کرنے کے مفہوم میں ہے اور یہ بات فحوائے کلام سے واضح ہے کہ اصل متقی وہی لوگ ہیں جن کے سینے استکبار سے اور جن کے اعمال فساد سے پاک ہوں۔
Read the full tafseer →83-1علو کا مطلب ہے ظلم و زیادتی، لوگوں سے اپنے کو بڑا اور برتر سمجھنا اور باور کرانا، تکبر اور فخر غرور کرنا اور فساد کے معنی ہیں ناحق لوگوں کا مال ہتھیانا یا نافرمانیوں کا ارتکاب کرنا کہ ان دونوں باتوں سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔ فرمایا کہ متقین کا عمل و اخلاق ان برائیوں اور کوتاہیوں سے پاک ہوتا ہے اور تکبر کے بجائے ان کے اندر تواضع، فروتنی اور معصیت کیثی کی بجائے اطاعت کیسی ہوتی ہے اور آخرت کا گھر یعنی جنت اور حسن انجام انہی کے حصے میں آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
48:”صبر“ قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ناجائز خواہشات پر قابو پاکر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری پر ثابت قدم رکھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
اب اس منظر پر بھی پر ودہ گر جاتا ہے۔ دست قدرت کی مداخلت سے اہل ایمان کے دلوں کو قوت ملی۔ اور اللہ کے پیمانوں
میں ایمان کی قوت کو ترجیح ملی۔ اور اب ان مناظر پر بہترین تبصرہ :
تلک الدار الاخرۃ ۔۔۔۔۔۔ والعاقبۃ للمتقین (83)
یہ دار آخرت جس کی بات اہل علم کرتے ہیں یعنی وہ لوگ جن کے پاس سچا علم ہے جو اشیاء کی صحیح قدروقیمت متعین کرتا ہے یہ جہاں نہایت ہی بلند مرتبت ہے۔ بہت ہی وسیع ہے یہ جہاں کس کے لیے ہے ؟
نجعلھا للذین ۔۔۔۔۔ ولا فسادا (28: 83) ” یہ ہم نے ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیا ہے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں “۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال ہی نہیں آتا کہ وہ…
Read the full tafseer →4 یعنی قارون کی دولت کو نادانوں نے کہا کہ اس کی بڑی قسمت ہے، بڑی قسمت یہ نہیں، آخرت کا ملنا بڑی قسمت ہے۔ سو وہ ان کے لیے ہے جو اللہ کے ملک میں شرارت کرنا اور بگاڑ ڈالنا نہیں چاہتے اور اس فکر میں نہیں رہتے کہ اپنی ذات کو سب سے اونچا رکھیں۔ بلکہ تواضع و انکسار اور پرہیزگاری کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کی کوشش بجائے اپنی ذات کو اونچا رکھنے کی یہ ہوتی ہے کہ اپنے دین کو اونچا رکھیں، حق کا بول بالا کریں اور اپنی قوم مسلم کو ابھارنے اور سر بلند کرنے میں پوری ہمت صرف کر ڈالیں۔ وہ دنیا کے حریص نہیں ہوتے۔ آخرت کے عاشق ہوتے ہیں۔ دنیا خود ان کے قدم لیتی ہے۔ اب سوچ لو کہ دنیا کا مطلوب کیا دنیا کے طالب سے…
Read the full tafseer →آیت 83 تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا ط ”
دراصل یہاں پر اقتدار کی طلب اور ہوس کی مذمت ہے نہ کہ بوقت ضرورت اقتدار کی ذمہ داری سنبھالنے کی۔ جیسے حضور ﷺ کی انقلابی جدوجہدّ کے نتیجے میں مدینہ کی چھوٹی سی ریاست وجود میں آگئی تو آپ ﷺ کو اس کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنا پڑی۔ لیکن نہ تو آپ ﷺ کی جدوجہد کا مقصد حصول اقتدار تھا اور نہ ہی آپ ﷺ اس کے خواہش مند تھے۔ چناچہ اقتدار کا خواہش مند ہونے اور اقتدار کی ذمہ داری نبھانے کے لیے آمادہ ہوجانے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اس حوالے سے یہاں پر واضح کیا جا رہا ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →112 عَلَوْا بمعنی سربلند، متکبر، مغرور یعنی وہ بڑا بن کر نہیں رہتے نہ دوسروں کو دبا کر رکھتے ہیں بلکہ متواضع اور منکسر المزاج بن کر اور اللہ کے فرمانبردار بن کر رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے آخرت کا گھر مختص ہے۔ سربلندی اور ناموری چاہنے والوں اور متکبر بن کر رہنے والوں کے لئے ہرگز نہیں ہے۔
113 فساد کے لفظ کا اطلاق عموماً چوری، ڈاکہ، غصب، غبن لوٹ مار اور قتل و غارت کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے جبکہ شرعی اصطلاح فساد فی الارض کے معنوں میں اس سے بہت زیادہ وسعت ہے یعنی وہ کام جس میں انسان اپنے حق سے تجاوز کر رہا ہو یا دوسرے کے حق پامال کررہا ہو وہ فساد فی الارض کے ضمن میں آئے گا۔ قارون کے قصہ…
Read the full tafseer →110۔ (آیت) ” علوا “۔ علو سے مراد معصیت نفسانی لی گئی ہے۔ اور فساد سے گناہ متعدی اور دوسرے معانی بھی منقول ہیں۔ علو اے بغیا (ابن جریر) وظلما (الضحاک) وکبیر (مدارک) فسادا اے عملا بالمعاصی (مدارک) ” یہ علو اور فساد اگر حد کفر تک ہے تو مطلقا مانع حصول ثواب آخرت ہے اور اگر حد کفر تک نہیں تو مانع حصول بھی معصیت ہے گو معصیت پر دسترس نہ ہو “۔ (تھانوی (رح) آیت قرآن کی ان آیات میں سے ہے جن میں چند مختصر الفاظ کے اندر گہرے اصول اور پورے پورے قانون بیان کردیئے گئے ہیں اور اس قابل ہے کہ ہر پڑھا لکھا شٰخص اپنے اپنے کمرہ میں اس کا کتبہ لگا کر ٹانگ دے کہ ہر وقت پیش نظر رہے۔ خلیفہ عمر بن عبد العزیز اموی جنہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
آیت نمبر 83 تا 88
ترجمہ : یہ دار آخرت یعنی جنت ہم انہیں لوگوں کے لئے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں نہ ظلم کے ذریعہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ نافرمانی کرکے فساد کرتے ہیں اور بہتر انجام فرما نبرداری کرکے اللہ کے عذاب سے ڈرنے والوں کے لئے ہے جو شخص نیکی لیکر آئے گا اس کو اس سے بہتر ملے گا ان کو نیکیوں کا اجر ملے گا اور وہ ان نیکیوں کا دس گنا ہوگا اور جو شخص بدی لیکر آئے گا سو ایسے لوگوں کو جو بدی کا کام کرتے ہیں اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا وہ کرتے تھے جس خدا نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے وہ آپ کو دوبارہ پہلی جگہ لوٹانے والا ہے یعنی مکہ (کی طرف) اور آپ نے مکہ کے لئے اشتیاق ظاہر فرمایا تھا، آپ کہہ دیجئے کہ…
Read the full tafseer →تلک الدار الاٰخرۃ نجعلھا للذین لا یریدون علوا فی الارض ولا فسادًا والعاقبۃ للمتقین
یہ عالم آخرت ہم ان ہی لوگوں کے لئے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں نہ بڑے بننے کے خواستگار ہیں نہ فساد کرنے کے۔
تِلْکَ الدَّارُ الْاخِرَۃُ یعنی یہ دار آخرت کی خبر تم نے سنی اور جس کے حالات کی اطلاع تم کو دی گئی۔
عُلُوَّا فِی الْاَرْضِ مقاتل اور کلبی نے کہا : یعنی جو لوگ ایمان سے غرور کی وجہ سے سرکشی نہیں کرتے۔ عطاء نے کہا : لوگوں پر جبر اور چیرہ دستی نہیں کرتے اور ان کو حقیر نہیں جانتے۔ حسن نے کہا : حاکموں اور سرداروں کے پاس عزت و مرتبہ کے طلب گار نہیں ہوتے۔ حضرت علی نے فرمایا : اس آیت کا نزول ان حاکموں کے متعلق ہوا…
Read the full tafseer →(83) یہ جنت ہم ان ہی لوگوں کیلیے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں مال و دولت کی وجہ سے نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ گناہ اور برائیاں کرتے ہیں اور جنت کفر وشرک تکبر و فساد سے بچنے والوں کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ۔۔ : ”عُلُوًّا“ کا لفظی معنی اونچا ہونا ہے، مراد اپنے آپ کو دوسروں سے اونچا سمجھنا اور دوسروں کو حقیر جاننا ہے۔ ”َا فَسَادًا“ کا لفظی معنی خرابی ہے، عام طور پر یہ لفظ چوری، ڈاکے، غصب، لوٹ مار، قتل و غارت اور لوگوں کا حق مارنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مراد اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی ہے، خواہ کوئی بھی ہو، کیونکہ اسی سے زمین میں خرابی پیدا ہوتی ہے اور سب سے بڑا فساد اللہ کے ساتھ شرک ہے۔
3 آخرت کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ آخری گھر جس کا ذکر تم سنتے رہتے ہو، ہم ان لوگوں کے لیے بناتے ہیں جو صرف یہ نہیں کہ تکبر اور سرکشی اختیار نہیں کرتے اور فساد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
مراد جنت ہے اسم اشارہ بعید کا ذکر اس کی تعظیم او تفخیم شان کے لئے یعنی وہ جس کا ذکر تو نے سنا او تجھ تک اس کا وصف پہنچا یعنی ایمان اور مومنین پر بلندی اور تکبر کا ارادہ نہیں کرتے۔ و لا فسادا معاصی پر عمل کرنا، یہ ابن جریج اور مقاتل کا نقطہ نظر ہے۔ عکرمہ اور مسلم بطین نے کہا : فساد سے مراد ناحق مال لینا ہے (1) کلبی نے کہا : غیر اللہ کی عبادت کی طرف دعت دینا ہے (2) یحییٰ بن سلام نے کہا : اس سے مراد انبیاء اور مومنین کو قتل کرنا ہے۔
ضحاک نے کہا : عاقبتہ سے مراد جنت ہے۔ ابو معاویہ نے کہا : الذی لا یرید علوا سے مراد وہ ہے جو دنیا کی ذلت پر جزع فزع نہیں کرتا اور اس میں عزت حاصل کرنے لئے مقابلہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
سرکش متکبر جنت سے محروم ہوگا
1۔ المحاملی والدیلمی فی سنۃ الفردوس ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت تلک الدار الاٰخرۃ نجعلہا للذین لایریدون علوا فی الارض ولا فسادا۔ کے بارے میں فرمایا کہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیے خاص کردیں گے جو بلندی اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے۔ یعنی وہ لوگ زمین میں سرکش اور متکبر نہیں ہوتے اور ناحق کوئی چیز نہیں لیتے۔
2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذ روابن ابی حاتم نے مسلم البطین (رح) سے للذین لا یردون علوا فی الارض ولا فسادا کے بارے میں روایت کیا کہ علوا سے مراد ہے زمین میں ناحق ظلم کرنا اور فساد یہ ہے کہ ناحق کسی کی کوئی چیز لے لینا۔
3۔ ابن ابی شیبہ…
Read the full tafseer →تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ [یہ آخری گھر !] نَجْعَلُهَا [ہم بناتے ہیں اس کو ] لِلَّذِيْنَ [ان لوگوں کے لئے جو ] لَا يُرِيْدُوْنَ [نہیں چاہتے ] عُلُوًّا [برائی ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] وَلَا فَسَادًا ۭ [اور نہ نظم بگاڑنا ] وَالْعَاقِبَةُ [اور (اچھا) انجام ] لِلْمُتَّقِيْنَ [تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لئے ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے ہے جو زمین میں بلندی اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے
یہ دو آیتیں ہیں پہلی آیت میں یہ بتایا کہ دار آخرت یعنی موت کے بعد جو مؤمنین صالحین کو ٹھکانہ ملے گا اسے ہم انہیں لوگوں کے لیے خاص کردیں گے جو زمین میں بڑائی، برتری اور بلندی کا ارادہ نہیں کرتے اور فساد کو نہیں چاہتے۔ اور اچھا انجام متقیوں ہی کا ہے، بندوں کو تواضع کے ساتھ رہنا لازم ہے۔ ساری بڑائی خالق اور مالک ہی کے لیے ہے جس نے سب کو پیدا فرمایا ہے۔ اس کی بڑائی اور کبریائی کے سامنے ہر بندہ کو جھک جانا لازم ہے۔ جن لوگوں کو جتنی زیادہ معرفت حاصل ہوتی ہے ان میں اسی قدر تواضع ہوتی ہے۔ جو لوگ دنیا میں بڑا بننا چاہتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
بیان مستحقین نعمائے دار آخرت
قال اللہ تعالیٰ تلک الدار الاخرۃ۔۔۔ الی۔۔۔ الا ما کانوا یعلمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں قارون کا قصہ ذکر کیا جس کے ضمن میں اہل علم کی یہ نصیحت ذکر کی۔ وقال الذین اوتوا العلم ویلکم ثواب اللہ خیر لمن امن وعمل صالحا۔ یعنی آخرت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے کہیں بہتر ہیں اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ دار آخرت کی لازوال نعمتوں کے مستحق کون لوگ ہیں اور دار آخرت کی نعمتوں کے حصول کا ذریعہ کیا ہے سو بتلایا کہ دار آخرت کی نعمتوں کے مستحق کون لوگ ہیں اور دار آخرت کی نعمتوں کے حصول کا ذریعہ کیا ہے سو بتلایا کہ دار آخرت کی نعمتوں کے وہ لوگ مستحق ہیں کہ جو دنیا میں علو اور رفعت…
Read the full tafseer →78:۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ شروع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا گیا اور بتایا گیا کہ انہوں نے دعوت توحید کی خاطر بہت مصائب اٹھائے اسی طرح اے پیغمبر آپ پر بھی اس دعوت کی وجہ سے مصائب آئیں گے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح آخر کامیابی آپ ہی کو ہوگی۔ اب سورت کے آخر میں چھ امور ایسے مذکور ہوں گے جن سے موسیٰ (علیہ السلام) اورحضور ﷺ کے درمیان مماثلت و مشابہت ظاہر ہوگی۔ یہ امر اول ہے موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر میں فرمایا، ان فرعون علا فی الارض الخ، جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون ایسے سرکش اور متمرد سے واسطہ پڑاحضور ﷺ کو بھی ایسے متمردین سے واسطہ پڑا۔ اس آیت میں بطور بشارت ان لوگوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ نے قارون کے تکبر ، غرور ، دولت مندی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ایذا رسائی کا ذکر کیا اور پھر اس کا انجام بھی بیان فرمایا ، اللہ نے اسے اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا اور ایسے وقت میں اس کی دولت ، دوست احباب کچھ بھی کام نہ آئے۔ جو لوگ قارون کی شان و شوکت پر رشک کرتے تھے ان کو بھی ندامت اٹھانا پڑی ۔ اس کی تباہی کو دیکھ کر ان لوگوں کو کہنا پڑا کہ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے رزق کے دروازے کشادہ کر دے اور جس کے لیے چاہے تنگ کردے۔ دولت کی فراوانی نیکی کی علامت نہیں بلکہ یہ تو اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے ، ان لوگوں نے تسلیم کیا کہ اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا جو…
Read the full tafseer →تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِيْنَ لَا يُرِيْدُوْنَ عُلُوًّا فِي الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا 0ۭ وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِيْنَ 83
دار
الدَّار : المنزل اعتبارا بدورانها الذي لها بالحائط، وقیل : دارة، وجمعها ديار، ثم تسمّى البلدة دارا، والصّقع دارا، والدّنيا كما هي دارا، والدّار الدّنيا، والدّار الآخرة، إشارة إلى المقرّين في النّشأة الأولی، والنّشأة الأخری. وقیل : دار الدّنيا، ودار الآخرة، قال تعالی: لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ، أي : الجنة،
( د و ر ) الدار ۔
منزل مکان کو کہتے ہیں کیونکہ وہ چار دیواری سے گھرا ہوتا ہے بعض نے دراۃ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
ترکیب : تلک مبتداء والدار لغت و نجعلہا خبر من موضع نصب میں ہے۔ اعلم سے ومن یہ معطوف ہے، من اول پر۔ الا رحمۃ ای ولکن القی رحمۃ الاوجہہ استثناء من الجنس ای الا ایاہ۔
تفسیر : قارون کی بربادی کا حال بیان فرما کر اور یہ بات ثابت کرکے کہ دار آخرت کی نعماء باقی اور بہتر ہیں۔ یہ بات بتلاتا ہے کہ اس دار آخرت کا کون مستحق ہے اور کن کن باتوں سے حاصل ہوتا ہے۔ فقال تلک الدار الآخرۃ نجعلہا للذین لا یریدون علوًا فی الارض ولا فسادًا کہ یہ دار آخرت ہم اس کو دیں گے کہ جو دنیا میں سرکشی اور فساد کرنے کا قصد بھی نہ کرے گا۔ علو گردن کشی ‘ تکبر ‘ اس کی ضد اسلام گردن نہادن یعنی جو اللہ اور اس کے رسول کے آگے گردن…
Read the full tafseer →تِلْکَ الدَّارُالْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُھَا لِلَّذِیْنَ لاَ یُرِیْدُوَنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلاَ فَسَادًا ط وَالْعَاقِـبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ (القصص : 83)
(یہ آخرت کا گھر تو ہم ان لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے جو زمین میں غروروفساد چاہنے والے نہیں ہیں اور انجام کی بھلائی خدا سے ڈرنے والوں ہی کے لیے ہے۔ )
دارِآخرت کیسے لوگوں کے لیے ہے
اوپر جو کچھ کہا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ دارآخرت ان لوگوں کے لیے خاص کردیا گیا ہے جو خدا کی زمین پر اپنی بڑائی قائم کرنے کے خواہاں نہیں۔ جو سرکشی اور تکبر کو زندگی کا عنوان نہیں بناتے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے بن کر زندگی بسر کرتے ہیں۔ وہ خدا کے بندوں کو اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
فہم القرآن
ربط کلام : قارون کی بربادی فخر و غرور کی وجہ سے ہوئی، اس لیے غرور اور تکبر سے اجتناب کرنے والوں کے اجر کا ذکر کیا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قارون کو دنیا کے مال و اسباب سے نوازا تھا۔ لیکن اس نے شکر اور عاجزی اختیار کرنے کی بجائے کفر اور تکبر کا رویہ اختیار کیا۔ جس کے نتیجہ میں اسے اس کی دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ قارون کے انجام سے لوگوں کو بتلا دیا گیا ہے کہ تکبر کرنے والوں کا بالآخر یہ انجام ہوگا۔ جو لوگ اللہ کی نافرمانی اور فخر و غرور سے بچیں اور زمین میں دنگا و فساد کرنے سے اجتناب کریں گے۔ ان کے لیے آخرت کا بہتر گھر ہوگا اس کے ساتھ ہی یہ اصول بھی بتلا دیا گیا کہ امیر ہو یا…
Read the full tafseer →83: تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ (یہ آخرت والا گھر ہم ان لوگوں کے لئے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں بڑے بننے کے خواہاں نہیں ہوتے) ۔
نحو : تلک یہ دار آخرت کی تعظیم کے لئے اشارہ بعید استعمال فرمایا گیا۔ مطلب یہ ہے۔ تلک التی سمعت بذکرہا و بلغک وصفہا۔ وہ وہی تو ہے جس کا تذکرہ تم نے سنا اور اس کی تعریف معلوم ہوئی۔ یہ مبتدأ ہے اور اس کی خبر نجعلہا ہے۔ اور الدار یہ مشارالیہ صفت ہے۔
عُلوًا سے مراد بغاوت و سرکشی یہ ابن جبیر کا قول ہے۔ نمبر 2۔ یا ضحاک (رح) نے ظلم سے تفسیر کی۔
وَلَا فَسَادًا (اور نہ فساد) ۔ فساد سے معاصی پر عمل نمبر 2۔ قتل انفس…
Read the full tafseer →تفسیر۔
83۔ تلک الدار الاخرۃ ، نجعلھا لایریدون علوا فی الارض، ، مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ یعنی جو لوگ ایمان سے غرور کی وجہ سے تکبر نہیں کرتے۔ عطاء کا قول ہے کہ لوگوں پر جبرا اور چیرہ دستی نہیں کرتے، اور ان کو حقیر نہیں جانتے ۔ احسن کا قول ہے کہ حاکموں اور سرداروں کے پاس عزت مرتبہ کے طلب گار نہیں ہوتے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا اس آیت کا نزول ان حاکموں کے متعلق ہوا جو باوجود قدرت کے تواضع کرتے ہیں۔ آپ کا مقصد یہ ہے کہ جو حاکم اور صاھب قدرت متواضع ہوتا ہے وہ ملک میں خود اونجا اٹھنے کا خواستگار نہیں ہوتا۔ ولافسادا، کلبی نے کہا کہ فساد سے مراد اللہ کے سو ادوسروں کی عبادت کی طرف بلانا ہے۔ عکرمہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–84
76 تا 84۔ معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا اور اللہ تعالیٰ کا دشمن منافق تھا۔ جیسے سامری منافق تھا کثرت مال کے سبب سے وہ اترا گیا تھا اس کے اترانے پر اللہ تعالیٰ نے اس کو برباد کردیا قارون کے خزانوں کی کنجیاں چمڑے کی تھیں تاکہ وہ کنجیاں ہلکی رہیں کیوں کہ جب دہ کہیں جاتا تھا تو کنجیاں اپنے ساتھ رکھتا تھا مجاہد کے قول کے موافق عصبہ دس سے لے کر پندرہ آدمیوں کی جماعت تک کو کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فَرِحِیْن کی تفسیر اترانے والوں کی فرمائی ہے حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس قدر خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت والی…
Read the full tafseer →آیت 83
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قارون اور جو کچھ اس کو عطا کیا گیا اور اس کے انجام کا ذکر کیا نیز اہل علم کے اس قول سے آگاہ فرمایا : ( ثواب اللہ خیرلمن امن وعمل صالحا) ” اس شخص کے لئے اللہ کا ثواب بہتر ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے آخرت کی ترغیب اور وہ سبب بیان فرمایا جو آخرت کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ فرمایا : (تلک الدار الاخرۃ) ” آخرت کا یہ گھر “ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابوں میں خبر دی ‘ اس کے رسولوں نے آگاہ کیا ‘ جس میں ہر نعمت جمع کردی گئی اور جہاں سے ہر تکدر کو دور کردیا گیا ہے ( نجعلھا) ہم اس کو گھر اور ٹھکانا بنادیں گے (للذین لا یریدون علوا فی الرض والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →119 دار آخرت کے حق داروں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرت کا یہ گھر انہی لوگوں کیلئے ہے جو نہ زمین میں فساد چاہتے ہیں اور نہ ہی وہ استکبار سے کام لیتے ہیں۔ یعنی وہ تکبر اور اپنی بڑائی نہیں چاہتے بلکہ اللہ کی زمین میں اللہ ہی کی عظمت کے ذکر و احساس سے اس کے حضور دل کی گہرائیوں سے جھکے جھکے رہتے ہیں۔ اور تکبر و سرکشی کی بجائے وہ عبدیت و بندگی کے طور طریقوں کو اپنا شعار بنائے رکھتے ہیں۔ سو اس علو اور سرکشی سے مراد یہ ہے کہ کوئی حق سے سرکشی کرے اور دوسروں کو اپنے سے حقیر سمجھے ورنہ محض اچھا لباس پہننا وغیرہ اس میں داخل نہیں۔ (ابن کثیر، معارف وغیرہ) کہ اچھا کھانا اور اچھا پہننا سرے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–85
قارون کی سرکشی اور اس کا انجام بد
تشریح : قارون کا واقعہ ‘ غرور ‘ زرپرستی ‘ اور اللہ سے دوری اور کفار کے اس اعتراض کا بہترین جواب ہے سیدنا محمد ﷺ کے علاوہ نبوت عرب کے کسی امیر کبیر سردار کو کیوں نہیں سونپی گئی۔ قارون سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ یہ بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون وہامان کے ساتھ جا ملا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیشمار مال و دولت دے رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ بجائے شکر گزار الٰہی ہونے کے کفر و شرک اور دولت کے نشے میں اپنی قوم سے بھی باغی ہوگیا تھا۔ اور یوں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین میں فرعون، ہامان اور یہ تیسرا قارون بھی شامل ہوگیا تھا۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
آیات 83 تا 88
اسرارومعارف
اور آخرت کا گھر تو ان لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے جو دنیا میں اپنی بڑائی اور تکبر میں گرفتار نہیں ہوتے اور اللہ کی زمین پر فساد نہیں کرتے ۔
تکبر اور فساد :
یعنی تکبر یہ ہے کہ اپنی رائے کو سب سے حتی کہ احکام شریعہ سے بھی بالا سمجھے تو اس کا یقینی نتیجہ فساد ہے محض اچھے کپڑے پہننا یا اچھا گھر اور اچھی گاڑی اگر حلال ذرائع سے نصیب ہو اور دکھاوے کے لیے نہ ہو ضرورت کے لیے ہو تو یہ بھی شکر ادا کرنے کا ایک انداز ہے لیکن اگر ذاتی نمائش کے لیے ہو تو تکبر شمار ہوگا اور دونوں صورتوں میں نتائج الگ الگ برآمد ہوں گے اور حق یہ ہے کہ عاقبت و آخرت کی سرفرازی انہی لوگوں کے لیے ہے جو دنیا…
Read the full tafseer →5 ۔ یعنی جنت۔ 6 ۔ یعنی تکبر و غرور نہیں کرتے بلکہ خدا کے عاجز بندے بن کر رہتے ہیں۔ 7 ۔ یعنی نہ اللہ کی معصیت کا ارتکاب کر کے انسانی زندگی کے نظام میں بگاڑ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ (قرطبی) 8 ۔ یعنی جو خدا سے ڈرتے ہیں اور اس کی نافرمانی سے پرہیز کرتے ہیں۔ 9 ۔ یعنی دس سے لے کر سات سو نیکیوں کا ثواب ملے گا۔ (دیکھئے سورة نمل آیت 89)
Read the full tafseer →(28:83) تلک الدار الخرۃ : تلک اسم اشارہ ۔ مبتداء الدار اس کی نعمت ۔ الاخرۃ صفت ہے الدار کی۔ نجعلہا ۔۔ فسادا خبر۔ تلک الدار الاخرۃ کا اشارہ الجنۃ کی طرف ہے۔
لجعلہا : نجعل مضارع جمع متکلم۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ اس کا مرجع الدار الاخرۃ ہے۔ ہم اس کو (مخصوص) کردیں گے۔
علوا : علی یعلوا کا مصدر ہے۔ بلند ہونا۔ سرکشی کرنا۔ کسی شخص پر غلبہ کرنا۔ تسلط جمانا۔ مطلب یہ کہ تکبر و رعونت سے دوسروں پر غلبہ پاکر حقوق کو پامال کرنا۔ العاقبۃ۔ نیک انجام کار۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
لغات القرآن آیت نمبر (83 تا 88 ) ۔
علو (بڑائی ۔ برتری) ۔ العاقبتہ (انجام۔ نتیجہ) ۔ فرض (فرض کردیا۔ لازم کردیا) ۔ راد (وہ لوٹ گیا) ۔ معاد (لوٹنے کی جگہ ) ۔ لا یصدن (وہ ہرگز نہ روکیں گے) ۔ ھالک (ہلاک ہونے والا) ۔ وجہ (چہرہ۔ ذات) ۔
تشریح : آیت نمبر (83 تا 88 ) ۔ ” سورة القصص میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو عبرت و نصیحت کے لئے تفصیل سے بیان کرنے کے بعد بنی اسرائیل ہیہ کے ایک فرد قارون کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو اپنی دولت کی کثرت، خوشامدیوں کی بھیڑ اور فخر و غرور کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر الزام لگانے سے باز نہیں آیا تو اللہ نے اس کو اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–84
قارون کا دھنسنا۔
(ف 1) ایک روز اپنی قوم کے روبروبڑی تیاری و سامان زیوروں سے آراستہ ریشمی لباس پہنے گھوڑوں پر سوار نکلاجب دنیا کے طلب گاروں نے یہ دیکھا تو تمنا کی کہ کس طرح ہم کو بھی ایسا ہی سامان ملتا۔ اور یہ بھی ان دنیا کے طلب گاروں نے کہا کہ قارون بڑانصیبے والا ہے۔ جب ان کی یہ بات قوم کے علم والوں نے سنی تو کہنے لگے کہ کیوں خرابی میں پڑتے ہو اللہ کا دیا ہواثواب دنیا کے مال ومتاع سے ہزار درجہ بہتر ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے گھروالوں کو زمین کے اندر دھنسادیا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ، حضرت موسیٰ پر جب خدا کی طرف سے زکوۃ کا حکم آیا کہ دسواں حصہ مال کا ادا کریں حکم الٰہی سے حضرت…
Read the full tafseer →[53] یعنی جنت جو حقیقی فلاح کا مقام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
ف 1: ارشاد ہے ۔ کہ آخرت کی مسرتیں اور آسائشیں ان لوگوں کے لئے مقدر ہیں ۔ جن کو اللہ تعالیٰ دنیا میں مال و دولت اور اختیار وقوت دیتا ہے ۔ اور وہ اس غلط استعمال نہیں کرتے ۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ خواہ مخواہ دوسرے لوگوں سے اونچا رہنے کی کوشش کی جائے ۔ اور نہ وہ یہ چاہتے ہیں ۔ کہ دنیا میں ظلم وستم سے فساد برپا کریں ۔ اور وہ تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کرتے ہیں ۔ اور جانتے ہیں ۔ کہ انجام انہیں لوگوں کا بہتر ہے ۔ جو پاک باز اور متقی ہیں
Read the full tafseer →83۔ یہ آخرت کا گھر اور عالم ہم ان ہی لوگوں کے لئے خاص کیا کرتے ہیں جو دنیا میں نہ بڑا بننے کی خواہش کرتے ہیں اور نہ فساد کرنا اور فساد پھیلانا اور انجام کار انہی لوگوں کا بھلا ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں ۔ اوپر کی آیتوں میں ایک متکبر اور نجیل دولت مند کا ذکر فرمایا تھا اس کی مناسبت سے اب اچھے لوگوں کا ذکر فرمایا کہ پچھلا گھر اور عالم آخرت کی آسودگی اور دائمی بہشت ان لوگوں کے لئے ہم نے خاص طور پر مقرر کی ہے جو زمین میں اور دنیا میں نہ تو اونچا ہونے کا قصد اور عزم کرتے ہیں اور نہ فساد پھیلانا یعنی گناہوں کا ارتکاب کرنا اور تکبر چونکہ دیگر منہیات اور مفاسد کے لئے بطور بنیاد ہے اس لئے…
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ کوئی ظاہری گناہ کرتے ہیں خصوصا گناہ متعدی جیسا فرعون و قارون علووفساد کے مرتکب ہوئے، اور صرف ترک نواہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ جو ترک نواہی کے ساتھ امتثال اوامر بھی کرتے ہوں۔
Read the full tafseer →حقیقی فلاح صرف انہی لوگوں کا حصہ ہے جو زمین پر بڑا نہیں بننا چاہتے :
83۔ بلاشبہ آخرت کا گھر اور سرفرازی ان کے حصے میں ہی آئے گی جو اس دنیا میں (علو) کے خواہش مند نہیں کیونکہ ان کی آنکھوں میں انسانیت کی قدروقیمت ہے اور انسانیت علو کو بھی پسند نہیں کرتی اور بلاشبہ یہ حقیقت ہے کہ انانیت انسانیت کے لئے کبھی خوبی نہیں ہوتی کیونکہ اس کو شیطان خوبی سمجھتا ہے اور خیال رہے کہ اس دنیا میں جو بھی بڑا بننے کی کوشش کرتا ہے وہ لوگوں کے حقوق پامال کرکے انکے اموال کو غصب کرکے ہی سردار بن سکتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ سرداری اللہ کے ہاں کب پسندیدہ چیز ہو سکتی ہے اور اس وقت آپ کی قوم میں جتنے سردار بنے ہیں وہ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
Commentary
لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا (We assigned it to those who intend neither haughtiness on earth nor mischief. - 28:83). This verse tells us that only those will achieve salvation and success in the Hereafter who do not intend any mischief, nor are indulged in عُلُوًّا ` Uluww in this world. عُلُوًّا ` Uluww means pride or conceit, that is, to present oneself as superior before others, and to look down upon others and treat them in an insulting manner. Mischief is used here for oppression. (Sufyan Ath-Thauri). Some commentators have observed that…
Read the full tafseer →103 That is, Paradise which is the abode of real success.
104 "Who do not seek glory": who are not desirous of establishing their own glory in God's earth: who do not live like rebels and tyrants and arrogant people but like humble servants: who do not seek to make God's servants their personal servants
105 "Mischief" implies the chaos that inevitably appears in human life in consequence of violating the truth. Whatever man does when he disobeys Allah and turns away from His service is nothing but mischief. Partly this mischief occurs when wealth is amassed through unlawful means and expended…
Read the full tafseer →