Explained with ayahs 81–82
ایک بالشت کا آدمی ؟
اوپر قارون کی سرکشی بےایمانی کا ذکر ہوچکا یہاں اس کے انجام کا بیان ہو رہا ہے۔ ایک حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا ایک شخص اپنا تہبند لٹکائے فخر سے جارہا تھا کہ اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ اسے نگل جا۔ کتاب العجائب میں نوفل بن ماحق کہتے ہیں کہ نجران کی مسجد میں میں نے ایک نوجوان کو دیکھا بڑا لمبا چوڑا بھرپور جوانی کے نشہ میں چور گٹھے ہوئے بدن والا بانکا ترچھا اچھے رنگ ورغن، والا خوبصورت، شکیل۔ میں نگاہیں جماکر اس کے جمال و کمال کو دیکھنے لگا تو اس نے کہا کیا دیکھ رہے ہو ؟ میں نے کہا آپ کے حسن وجمال کا مشاہدہ کر رہا ہوں اور تعجب معلوم ہو رہا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ تو ہی کیا خود…
Read the full tafseer →سورة القصص 101
یعنی اللہ کی طرف سے رزق کی کشادگی و تنگی جو کچھ بھی ہوتی ہے اس کی مشیت کی بنا پر ہوتی ہے اور اس مشیت میں اس کی کچھ دوسری ہی مصلحتیں کارفرما ہوتی ہیں، کسی کو زیادہ رزق دینے کے معنی لازما یہی نہیں ہیں کہ اللہ اس سے بہت خوش ہے اور اسے انعام دے رہا ہے۔ بسا اوقات ایک شخص اللہ کا نہایت مغضوب ہوتا ہے مگر وہ اسے بڑی دولت عطا کرتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ آخر کار یہی دولت اس کے اوپر اللہ کا سخت عذاب لے آتی ہے، اس کے برعکس کسی کا رزق تنگ ہے تو اس کے معنی لازما یہی نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہے اور اسے سزا دے رہا ہے۔ اکثر نیک لوگوں پر تنگی اس کے باوجود رہتی ہے کہ وہ اللہ کے محبوب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
وَقَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ الآیتہ اس آیت میں الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ یعنی علماء کا مقابلہ الَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا سے کیا گیا ہے جس میں واضح اشارہ اس طرف ہے کہ متاع دنیا کا ارادہ اور اس کو مقصود بنانا اہل علم کا کام نہیں اہل علم کی نظر ہمیشہ آخرت کے دائمی فائدہ پر رہتی ہے۔ متاع دنیا کو بقدر ضرورت حاصل کرتے ہیں اور اسی پر قناعت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →عوام کی زد و پیشمانی
خام ذہن کے لوگ کسی لو اقتدار یا دولت مند دیکھتے ہیں تو اس پر رشک سے مرنے لگتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ اس کا یہ اقتدار اور اس کی یہ دلوت لازوال ہے۔ ان کو لاکھ سمجھایئے کہ یہ چیزیں عارضی وفانی ہیں لیکن یہ بات کسی طرح ان کے دل میں نہیں اترتی البتہ جب وہ چاروں شانے چت گرتا ہے تب ان کو ناصحوں کی باتیں یاد آتی ہیں اور وہ بھی پکار اٹھتے ہیں کہ ہاں بھائیچ ٹھیک کہا تھا جس نے کہا تھا کہ اللہ ہی کے اختیار میں سب کا رزق و فضل ہے، وہی جس کو چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے، جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے یہی حال قارون کے طمطراق پر فریضتہ ہونے والوں کا بھی ہوا۔ انہوں نے بھی جب اس کا انجام دیکھا تو بول…
Read the full tafseer →82-1مکان سے مراد دنیاوی مرتبہ و منزلت ہے جو دنیا میں عارضی طور پر ملتا ہے۔ جیسے قارون کو ملا تھا، مطلب یہ ہے کہ قارون کی سی دولت و حشمت کی آرزو کرنے والوں نے جب قارون کا عبرت ناک حشر دیکھا تو کہا کہ مال و دولت، اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس صاحب مال سے راضی بھی ہے۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کسی کو مال زیادہ دیتا ہے اور کسی کو کم اس کا تعلق اس کی مشیت اور حکمت بالغہ سے ہے جسے اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، مال کی فروانی اس کی رضا کی اور مال کی کمی اس کی نارضگی کی دلیل نہیں ہے نہ یہ معیار فضیلت ہے۔
82-2یعنی ہم بھی اسی حشر سے دوچار ہوتے جس سے قارون دو چار ہوا۔
82-3یعنی قارون نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
48:”صبر“ قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ناجائز خواہشات پر قابو پاکر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری پر ثابت قدم رکھے۔
Read the full tafseer →واصبح الذین تمترا مکانہ ۔۔۔۔۔۔ لا یفلح الکفرون (82)
اب یہ لوگ اس بات پر اللہ کی حمد و ثنا کر رہے ہیں کہ اللہ نے ان کی دعا قبول نہ کی۔ اور ان کو وہ دولت نہ دی جس کی وہ تمنا کرتے تھے اور جو دولت قارون کو دی گئی وہ ان کو نہ دی گئی۔ ورنہ ان کی حالت بھی وہ ہوجاتی جو چوبیس گھنٹوں میں قارون کی ہوگئی۔ ان کو اب ہوش آیا کہ دولت اس بات کی علامت اور دلیل نہیں ہے کہ دولت مند پر اللہ کا فضل ہے اور اللہ اس سے راضی ہے بلکہ اللہ اپنے بندوں میں سے کسی کو کم رزق دیتا ہے اور کسی کو زیادہ دیتا ہے یہ اس لیے نہیں ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے یا ناراض ہے۔ رزق کی فراہمی کے اسباب اور ہیں۔ اگر وافر رزق اللہ کی رضا مندی کی…
Read the full tafseer →2 یعنی جو لوگ قارون کی ترقی و ترفع کو دیکھ کر کل یہ آرزو کر رہے تھے کہ کاش ہم کو بھی ایسا عروج حاصل ہوتا، آج اس کا یہ برا انجام دیکھ کر کانوں پر ہاتھ دھرنے لگے۔ اب ان کو ہوش آیا کہ ایسی دولت حقیقت میں ایک خوبصورت سانپ ہے جس کے اندر مہلک زہر بھرا ہوا ہے۔ کسی شخص کی دنیاوی ترقی و عروج کو دیکھ کر ہم کو ہرگز یہ فیصلہ نہیں کرلینا چاہیے کہ اللہ کے ہاں وہ کچھ عزت و وجاہت رکھتا ہے۔ یہ چیز کسی بندے کے مقبول و مردود ہونے کا معیار نہیں بن سکتی۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ جس پر مناسب جانے روزی کے دروازے کھول دے جس پر چاہے تنگ کر دے۔ مال و دولت کی فراخی مقبولیت اور خوش انجامی کی دلیل نہیں۔ بلکہ بسا اوقات اس…
Read the full tafseer →وَیْکَاَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُ ج ”
تصور کریں کہ اگر رات کو یہ واقعہ ہوا ہوگا تو صبح ہوتے ہی ہر طرف دھوم مچ گئی ہوگی۔ چناچہ وہی لوگ جو کل قارون کی آن بان کو حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے اب وہ اس خوفناک انجام سے بچ جانے پر اللہ تعالیٰ کا شکرادا کر رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ہائے افسوس ‘ ہم بھول گئے تھے کہ رزق کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے قبضۂ قدرت میں رکھا ہوا ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے۔
لَوْلَآ اَنْ مَّنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا ط ”
یعنی ہم نے بھی اس جیسی دولت…
Read the full tafseer →111 قارون کا یہ انجام دیکھ کر ان دنیا پر فریفتہ ہونے والوں کی آنکھیں کھل گئیں جو کل یہ سمجھ رہے تھے کہ قارون کس قدر خوش نصیب آدمی ہے۔ اور ان پر حقیقت واضح ہوگئی کہ جس شخص کے پاس مال ودولت کی فراوانی ہو۔ ضروری نہیں کہ اللہ بھی اس پر خود ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو قارون کبھی اس عذاب الٰہی کا شکار نہ ہوتا۔ اور دوسری بات انھیں معلوم ہوئی کہ جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو مال و دولت کس قدر بھی زیادہ ہو کسی کام نہیں آسکتا ہے۔ بلکہ بسا اوقات یہی مال و دولت عذاب الٰہی کو کھینچ لانے کا سبب بن جاتا ہے۔ لہذا انسان کی خوش نصیبی کا معیار مال و دولت ہرگز نہیں ہوسکتا۔ رزق کی کمی بیشی اور چیز ہے اور انسان کی فلاح اور…
Read the full tafseer →109۔ اب سب کے سب گھبرائے اور جو ابھی کل تک رشک کررہے تھے یہ منظر دیکھ کر بولے کہ بیشک یہ ہماری حماقت تھی جو ہم دولت کی کمی بیشی کو بدنصیبی وخوش نصیبی سے تعبیر کررہے تھے۔ یہ تقسیم تو سر تاسر حکمت تکوینی کے ماتحت ہے۔ حرص دنیا تو ہم پر بھی مسلط ہوچکی تھی۔ یہ کہو اللہ نے ہمیں بچا دیا ورنہ آج یہی حشر ہمارا بھی ہونا تھا۔ توریت میں ہے :۔” اور سارے بنی اسرائیل جو ان کے آس پاس تھے ان کا چلانا سن کر بھاگے کہ انہوں نے کہا، نہ ہو کہ زمین ہم کو بھی نگل جائے پھر خداوند کے حضور سے ایک آگ نکلی اور ان اڑھائی سو کو جنہوں نے بخور گزرانا تھا، کھاگئی “۔ (گنتی 16: 34، 35) (آیت) ” ویکانہ لایفلح الکفرون “۔ آخری اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیت نمبر 76 تا 82
ترجمہ : قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تھا (یعنی) چچا زاد اور خالی زاد بھائی تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا تھا، کبر و تعلّی اور
کثرت مال کے ذریعہ لوگوں کے مقابلہ میں تکبر کرنے لگا تھا، اور ہم نے اس کو اس قدر خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں کئی کئی زور آور لوگوں کو گراں بار کردیتے تھیں یعنی ان کو بوجھل کردیتی تھیں باتعدیہ کے لئے ہے (اور اٹھانے والی جماعت کے افراد کی تعداد) کہا گیا ہے ستر تھی اور کہا گیا چالیس تھی اور کہا گیا کہ دس تھی، اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں، اس وقت کو یاد کرو جب اس کو قوم بنی اسرائیل کے مومن لوگوں نے اس سے کہا کثرت مال پر مت اتراو اقعی…
Read the full tafseer →واصبح الذین تمنوا مکانہ بالامس یقولون ویکان اللہ یبسط الرزق لمن یشآء من عبادہ
ویقدر اور جو لوگ قارون جیسے (مالدار) ہونے کی کل تمنا کر رہے تھے (اب) کہنے لگے : ارے ! ایسا لگتا ہے کہ اللہ جس شخص کی روزی فراخ کرنا چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور جس کی روزی نپی تلی کرنا چاہتا ہے نپی تلی کردیتا ہے۔
مَکَانَہٗ یعنی قارون کے مقام پر پہنچنے کی تمنا جو لوگ کل یعنی کچھ وقت پہلے کرتے تھے۔ وَیْکَاَنَّ بصرہ کے علماء نحو کے نزدیک یہ لفظ وَےْ اور کَاَنَّسے مرکب ہے ‘ وَےْ کلمۂ تعجب ہے اور کَاَنَّ تشبیہ۔ اَﷲُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ یعنی رزق کی فراخی اور تنگی دونوں اللہ کی مشیت سے وابستہ ہیں۔ نہ رزق کی فراخی عند اللہ…
Read the full tafseer →(82) اور گزشتہ زمانہ میں جو لوگ قارون جیسے ہونے کی تمنا کررہے تھے وہ آج ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ قارون جو کہا کرتا تھا کہ میری ہنر مندی سے مجھے یہ مال ملا ہے ایسا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے آزمائش کیلیے جس کو چاہے زیادہ مال دیتا ہے اور جس کو چاہے تنگی سے دینے لگتا ہے اور اس میں اس آدمی کے لیے فائدہ ہے اگر ہم پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی نہ ہوتی کہ ہمیں اتنا مال اس نے نہیں دیا تو ہمیں بھی قارون کی طرح زمین میں دھنسا دیتا بس اچھی طرح معلوم ہوگیا کہ کافروں کو عذاب خداوندی سے نجات نہیں ملتی۔
Read the full tafseer →وَاَصْبَحَ الَّذِيْنَ تَمَـــنَّوْا مَكَانَهٗ بالْاَمْسِ۔۔ : ”وَيْكَاَنَّ“ کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں، بعض نے فرمایا، اس کا معنی ”أَلَمْ تَرَ أَنَّ“ (کیا تو نے نہیں دیکھا کہ) ہے۔ بعض نے فرمایا، یہ ”وَيْ“ ، ”کَ“ اور ”أَنَّ“ کا مجموعہ ہے۔ ”وَيْ“ تعجب کا کلمہ ہے، کاف تعلیل کے لیے ہے (اس لیے) اور ”أَنَّ“ حرف تحقیق ہے۔ یعنی تعجب ہے، اس لیے کہ بیشک اللہ تعالیٰ۔۔ اور بعض نے فرمایا ”وَيْ“ کلمہ تَنَدُّم ہے، یعنی ندامت اور افسوس کے اظہار کے لیے آتا ہے اور کاف حرف تشبیہ ہے (بمعنی گویا کہ)۔ میں نے اسی کے مطابق ترجمہ کیا ہے : ”افسوس ! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ۔“
3 یعنی کل جو لوگ مال و دولت اور جاہ و حشمت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
مقاتل نے کہا : جب حضرت موسیٰ علیہ الشلام نے زمین کو حکم دیا تو زمین نے اسے نگل لیا بنی اسرائیل نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے اس لئے ہلاک کیا ہے تاکہ اس کے مال کا وارث بن جائے، کیونکہ قارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے، اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا اور تین دن کے بعد اس کے تمام اموال کو بھی زمین میں دھنسا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ تیرے بعد زمین کو کسی کی اطاعت کرنے کا حکم نہیں دوں گا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : مکان زمین میں چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں غائب کردیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا
1۔ ابن شیبہ نے المصنف میں وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ان قارون کان من قوم موسیٰ کے بارے میں روایت کیا کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا اور وہ علم کو تلاش کرنا چاہتا تھا یہاں تک کہ اس نے علم کو جمع کرلیا وہ اسی طرح رہا یہاں تک کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر بغاوت کی اور حسد کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے زکوٰۃ لینے کا حکم فرمایا ہے تو اس نے انکار کردیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے مالوں کو کھانے کا ارادہ رکھتا ہے تمہارے پاس نماز کو لائے اور…
Read the full tafseer →وَاَصْبَحَ [اور ہوگئے ] الَّذِيْنَ [وہ لوگ جنہوں نے ] تَمَـــنَّوْا [تمنا کی تھی ] مَكَانَهٗ [اس کی جگہ کی ] بِالْاَمْسِ [کل تک ] يَقُوْلُوْنَ [(یہ) کہتے ہوئے ] وَيْكَاَنَّ [ارے ! گویا کہ ] اللّٰهَ [اللہ ہی ] يَبْسُطُ [کشادہ کرتا ہے ] الرِّزْقَ [رزق کو ] لِمَنْ [جس کے لئے ] يَّشَاۗءُ [اور چاہتا ہے ] مِنْ عِبَادِهٖ [اپنے بندوں میں سے ] وَيَقْدِرُ ۚ [اور وہ اندازے سے دیتا ہے (جیسے چاہتا ہے)] لَوْلَآ اَنْ [اگر نہ ہوتا کہ ] مَّنَّ [احسان کیا ] اللّٰهُ [اللہ نے ] عَلَيْنَا [ہم پر ] لَخَسَفَ [تو وہ ضرور دھنسا دیتا ] بِنَا ۭ[ہم کو (بھی)] وَيْكَاَنَّهٗ [ارے ! حقیقت یہ ہے کہ ] لَا يُفْلِحُ [فلاح نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے ہے جو زمین میں بلندی اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے
یہ دو آیتیں ہیں پہلی آیت میں یہ بتایا کہ دار آخرت یعنی موت کے بعد جو مؤمنین صالحین کو ٹھکانہ ملے گا اسے ہم انہیں لوگوں کے لیے خاص کردیں گے جو زمین میں بڑائی، برتری اور بلندی کا ارادہ نہیں کرتے اور فساد کو نہیں چاہتے۔ اور اچھا انجام متقیوں ہی کا ہے، بندوں کو تواضع کے ساتھ رہنا لازم ہے۔ ساری بڑائی خالق اور مالک ہی کے لیے ہے جس نے سب کو پیدا فرمایا ہے۔ اس کی بڑائی اور کبریائی کے سامنے ہر بندہ کو جھک جانا لازم ہے۔ جن لوگوں کو جتنی زیادہ معرفت حاصل ہوتی ہے ان میں اسی قدر تواضع ہوتی ہے۔ جو لوگ دنیا میں بڑا بننا چاہتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ذکر قصہء قارون برائے عبرت مغرور ان مال ودولت
قال اللہ تعالیٰ ان قارون کان من قوم موسیٰ ۔۔۔ الی۔۔۔ ویکانہ لا یفلح الکفرون۔
(ربط) شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے تکبر اور فساد کا ذکر کیا۔ ان فرعون علا فی الارض اور انہ کان من المفسدین اب اخیر سورت میں ایک دوسرے متکبر اور مفسد یعنی قارون کا ذکر کرتے ہیں کہ فرعون کی طرح قارون بھی تکبر اور فساد فی الارض کی وجہ سے تباہ اور برباد ہوا۔
یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ متاع دنیا ہیچ ہے اور چند روزہ ہے اور فانی ہے اور گزرگاہ ہے اور آرائش ہے اور اس کے شیدائی گمراہ ہیں اور بقول حافظ شیرازی۔
مرا در منزل جاناں چہ امن وعیش چوں ہر دم جرس…
Read the full tafseer →77:۔ کل جن لوگوں نے قارون کی شان و شوکت دیکھ کر اس جیسی دولت اور شان کی تمنا کی تھی اب وہ اپنی باتوں پر ندامت کا اظہار کرنے لگے اور کہا دولت کی فراخی اور تنگی اللہ کے اختیار میں ہے وہ جسے چاہے دولتمند بنائے اور جسے چاہے تنگدست کرے اور اس کی حکمتیں بھی وہی جانتا ہے۔ اللہ کا شکر اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس قدر دولت نہیں دی ورنہ ہم بھی قارون کی طرح سرکش اور خدا کے نافرمان اور باغی ہوجاتے اور ہمارا بھی وہی حشر ہوتا جو قارون کا ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
ربط آیات :
اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہم قوم قارون کا ذکر کیا جو سرکش اور مغرور ہوچکا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال و دولت پر اتراتا تھا ، اس کی قوم کے لوگوں اور خود موسیٰ نے بھی سمجھایا کہ وہ اس مال پر غرور وتکبر کرنے کی بجائے اس کے ذریعے آخرت کا بہتر گھر تلاش کرے۔ نیز یہ کہ مخلوق اسی طرح احسان کرے جس طرح اللہ نے اسے مال و دولت دے کر اس پر احسان کیا ہے ، مگر وہ سخت مغرور تھا ، کہنے لگا مجھ پر کسی کا کیا احسان ہے۔ یہ دولت تو میں نے اپنے علم و ہنر کی بنا پر کمائی ہے ، مگر اللہ نے تنبیہ فرمائی کہ اس شخص کو اتنا بھی پتہ نہیں چلا کہ اس جیسی متکبر قوموں کو ہم نے پہلے ہی ہلاک کیا ہے۔ وہ تو…
Read the full tafseer →وَاَصْبَحَ الَّذِيْنَ تَمَـــنَّوْا مَكَانَہٗ بِالْاَمْسِ يَقُوْلُوْنَ وَيْكَاَنَّ اللہَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَيَقْدِرُ 0ۚ لَوْلَآ اَنْ مَّنَّ اللہُ عَلَيْنَا لَخَسَفَ بِنَا 0ۭ وَيْكَاَنَّہٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ 82ۧ
صبح
الصُّبْحُ والصَّبَاحُ ، أوّل النهار، وهو وقت ما احمرّ الأفق بحاجب الشمس . قال تعالی: أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ [هود/ 81] ، وقال : فَساءَ صَباحُ الْمُنْذَرِينَ [ الصافات/ 177] ، والتَّصَبُّحُ : النّوم بالغداة، والصَّبُوحُ : شرب الصّباح، يقال : صَبَحْتُهُ : سقیته صبوحا، والصَّبْحَانُ : الْمُصْطَبَحُ ، والْمِصْبَاحُ : ما يسقی منه، ومن…
Read the full tafseer →1 ؎ ویکانہ ویک عند الکونین بمعنی ویلک وجوز جار اللہ ان یکون الکاف کاف الخطاب مضموتہ اے وای 12 منہ
Read the full tafseer →وَاَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَکَانَـہٗ بِالْاَمْسِ یَقُوْلُوْنَ وَیْکَاَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُ ج لَوْلَآ اَنْ مَّنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا لَخَسَفَ بِنَا ط وَیْکَاَنَّـہٗ لاَ یُفْلِحُ الْـکٰفِرُوْنَ ۔ (القصص : 82)
(اور پکار اٹھے وہ لوگ جو کل تک اس کے مرتبہ کی آرزو کررہے تھے، اوہو (اب پتہ چلا) کہ اللہ ہی کشادہ کرتا ہے رزق کو اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے، اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کرتا ہے، اگر اللہ کا ہم پر احسان نہ ہوا ہوتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا، لاریب، کافر فلاح نہیں پاتے۔ )
اَمسِ … گزرے ہوئے کل کے معنی میں اس کا استعمال عام ہے۔…
Read the full tafseer →” صبر کرنیوالوں کی جزاء حساب و کتاب کے بغیر جنت کا داخلہ ہے۔ “
حضرت عمر ؓ فرمایا کرتے تھے وہ شخض زندگی کے حقائق سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ جس میں صبر و استقامت کا فقدان ہو۔ (سیرت عمر فاروق ؓ
(قُلْ آمَنْتُ باللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان ]
” اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرو اور پھر اس پہ ڈٹ جاؤ۔ “
تفسیر بالقرآن
صبر کا مفہوم اور اس کا صلہ :
1۔ جو لوگ صبر اور نیک عمل کرتے ہیں ان کے لیے مغفرت اور اجرعظیم ہے۔ (ہود : 11)
2۔ صبربڑے کاموں میں سے ایک کام ہے۔ (الاحقاف : 35)
3۔ صبر کرنے والوں کا انجام بہترین ہوتا ہے۔ (الحجرات : 5)
4۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ : 153) 5۔…
Read the full tafseer →82: وَاَصْبَحَ الَّذِیْنَ تَمَنَّوْا مَکَانَہٗٗ (اور ہوگئے وہ لوگ جو تمنا کرتے تھے اس کے مرتبہ کی) ۔ اصبح یہاں صار کے معنی میں ہے اور مکانہ سے مراد دنیا میں اس کا مقام و مرتبہبِالْاَمْسِ (کل گزشتہ) ۔ یہ تمنوا کا ظرف ہے۔ اس سے مراد کل گزشتہ نہیں بلکہ قریب وقت سے کنایہ ہے۔ یَقُوْلُوْنَ وَیْکَاَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ (اور کہنے لگے ارے ایسا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کی روزی فراخ کرنا چاہتا ہے اپنے) وَیَقْدِرُ (بندوں میں سے وہ فراخ کردیتا ہے اور جس کی روزی نپی تلی کرنا چاہتا ہے نپی تلی کردیتا ہے) ۔
نحو : وَیْ علمائے بصرہ کے ہاں کَاَنَّ سے جدا ہے۔
سیبویہ کا…
Read the full tafseer →82۔ واصبح الذین تمنوا مکانہ بالامس، ، اور جو لوگ قارون کی طرح اللہ سے مال رزق اور زینت کی تمنا کر ہے تھے وہ اس بات پر ندامت کرنے لگے۔
عرب لوگ اس کی تعبیر اضحی، امسی اور اصبح سے کرتے ہیں، جیسے کہاجاتا ہے ، اصبح فلان عالما، ، کہ فلاں شخص نے صبح کی عالم ہونے کے ساتھ، واضحی معدما، اور چاشت کے وقت وہ محروم رہا۔ وامسی حزینا، ، اور شام کی غمگینی کی حالت میں۔ یقولون ویکان اللہ، اس لفظ کے معنی میں آئمہ مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ مجاہد نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ تو نہیں جانتا، قتادہ کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے کیا تونے نہیں دیکھا فراء نے کہایہ کلمہ تقریر ہے جیسے کوئی کہے، اماتری الی صنع اللہ واحسانہ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–84
76 تا 84۔ معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا اور اللہ تعالیٰ کا دشمن منافق تھا۔ جیسے سامری منافق تھا کثرت مال کے سبب سے وہ اترا گیا تھا اس کے اترانے پر اللہ تعالیٰ نے اس کو برباد کردیا قارون کے خزانوں کی کنجیاں چمڑے کی تھیں تاکہ وہ کنجیاں ہلکی رہیں کیوں کہ جب دہ کہیں جاتا تھا تو کنجیاں اپنے ساتھ رکھتا تھا مجاہد کے قول کے موافق عصبہ دس سے لے کر پندرہ آدمیوں کی جماعت تک کو کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فَرِحِیْن کی تفسیر اترانے والوں کی فرمائی ہے حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس قدر خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
اللہ تبارک و تعالیٰ قارون کے احوال اور اس کے کرتوتوں اور ان کرتوتوں کی پاداش میں اس کے ساتھ جو کیا گیا ‘ اس کے ساتھ خیر خواہی اور جو اسے نصیحت کی گئی تھی ان سب کے بارے میں خبر دیتا ہے ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان قارون کان من قوم موسٰی) یعنی قارون ‘ بنی اسراتیل میں سے تھا جن کو تمام جہانوں پر فضیلت اور اپنے دور میں ان کو سب پر فوقیت دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ ‘ نے ان کو اپنے احسانات سے نوازا پس ان کا حال استقامت سے مناسبت رکھتا تھا ‘ مگر قارون اپنی قوم کے راستے سے منحرف ہوگیا ‘ اس نے ان پر ظلم کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی کیونکہ بڑے بڑے امور م اس کے سپرد کئے تھے۔ (واٰتینٰہ من الکنوز) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
117 روزی کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : سو روزی کے بسط و قبض کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالی ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ روزی کی تنگی اور کشادگی کا معاملہ اللہ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے کہ وہ وحدہ لاشریک ہی بہتر جانتا ہے کہ کون کس لائق ہے اور کس کو کیا اور کتنا دیا جائے ؟ اور کب اور کس طرح دیا جائے ؟ پس نہ تو رزق کی کشائش و فراوانی اللہ تعالیٰ کے یہاں محبوب و مقبول ہونے کی دلیل و علامت ہوسکتی ہے اور نہ اس کی تنگی اس کے یہاں غیر مقبول ہونے نشانی۔ بلکہ اس ضمن میں اللہ پاک کی کچھ دوسری ہی حکمتیں اور مصلحتیں کارفرما ہوتی ہیں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–85
قارون کی سرکشی اور اس کا انجام بد
تشریح : قارون کا واقعہ ‘ غرور ‘ زرپرستی ‘ اور اللہ سے دوری اور کفار کے اس اعتراض کا بہترین جواب ہے سیدنا محمد ﷺ کے علاوہ نبوت عرب کے کسی امیر کبیر سردار کو کیوں نہیں سونپی گئی۔ قارون سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ یہ بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون وہامان کے ساتھ جا ملا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیشمار مال و دولت دے رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ بجائے شکر گزار الٰہی ہونے کے کفر و شرک اور دولت کے نشے میں اپنی قوم سے بھی باغی ہوگیا تھا۔ اور یوں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین میں فرعون، ہامان اور یہ تیسرا قارون بھی شامل ہوگیا تھا۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیات 76 تا 82
اسرارو معارف
دولت دنیا کا انجام تو قارون کے واقعہ میں ظاہر ہے کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا وہی خوش نصیب قوم جسے موسیٰ (علیہ السلام) کے طفیل فرعون سے نجات ملی اور سمندر نے جس کی خاطر راستے چھوڑ دیئے جس قوم پر اللہ کے بہت احسانات تھے ان میں سے وہ بھی تھا۔ مفسرین کرام کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد تھا مگر بگڑ گیا اور پوری قوم کے ساتھ زیادتی کرتا تھا اور انہیں حقیر جانتا تھا حالانکہ اللہ نے اسے اس قدر مال و دولت بخشا کہ کہ بہت بڑی اور طاقتور جماعت بھی اس کے خزانوں کی کنجیاں اٹھانے سے قاصر تھی۔ اس قدر وسیع و عریض خزانے بھرے تھے اس پر قوم نے اس سے کہا کہ اس…
Read the full tafseer →3 ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے کسی کو رزق زیادہ دینے کا مطلب لازماً یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہے۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ کسی کا رزق تنگ کرتا ہے تو اس کا مطلب لازماً یہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہے۔ بسا اوقات بےپناہ دولت انسان کی تباہی کا موجب بن جاتی ہے اور بسا اوقات تنگی انسان کے صبر و شکر کا امتحان لینے کے لئے آتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ مال تو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب اور مبغوض دونوں کو دے دیتا ہے مگر ایمان کی دولت اسی کو نصیب ہوتی ہے جو اللہ کا محبوب ہوتا ہے۔ (ابن کثیر) 4 ۔ یعنی ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ دنیا کی خوشحالی اور دولت مندی ہی بڑی کامیابی ہے اور اس بنا پر ہم قارون کو بڑا…
Read the full tafseer →(28:81) اصبح افعال ناقصہ سے ہے اصباح (افعال) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ وہ ہوگیا۔ اس نے صبح کی۔ اس کو صبح ہوئی۔ وہ (کرتے، کہنے) لگا۔
تمنوا۔ ماضی جمع مذکر غائب انہوں نے آرزو کی۔ انہوں نے تمنا کی تمنی تفعل سے جس کے معنی دل میں کسی خیال کے دل میں باندھنے اور اس کی تصویر کھینچ لینے کے ہیں۔ تمنی کا لفظ اکثر دل میں غلط آرزوئیں قائم کرلینے پر بولا جاتا ہے۔ منی مادہ۔
مکانہ۔ مضاف مضاف الیہ اس کی جگہ (یعنی اس جیسا ہونا) ۔
امس کل گزشتہ۔ ظرف زمان ہے۔ ابھی کل تک ، ای منذ زمان قریب۔ تھوڑا عرصہ قبل۔ مطلب یہ کہ وہ لوگ جو کل تک اس جیسا ہونے کی آرزو کرتے تھے وہ اب کہنے لگے۔
ویکان۔ یہ کلمہ تعجب و زجر ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
لغات القرآن آیت نمبر (79 تا 82 ) ۔
خرج (وہ نکلا) ۔ زینتہ (زیب وزینت۔ خوبصورتی) ۔ یلیت (اے کاس ایسا ہوتا) ۔ ذوحظ (نصیب والا۔ جوش نصیب) ۔ ویلکم (تمہاری خرابی۔ تم پر افسوس ہے) ۔ لا یلقی (وہ نہیں ملتا۔ نصیب نہیں ہوتا) ۔ خسفنا (ہم نے دھنسادیا) ۔ فئتہ (جماعت۔ گروہ ) ۔ تمنوا (تمنا کی تھی) ۔ ویکان (ہائے شامت۔ ہائے افسوس) ۔ من (اس نے احسان کیا) ۔
تشریح : آیت نمبر (79 تا 82 ) ۔ ” اگر ایمان اور عمل صالح نہ ہو تو مال و دولت کا نشہ آدمی لو دیوانوں جیسی حرکتیں کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ قارون جو نہایت چالاک، عیار اور دولت پرست آدمی تھا وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف ہر ممکن سازشیں کرتا رہتا تھا تاکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–84
قارون کا دھنسنا۔
(ف 1) ایک روز اپنی قوم کے روبروبڑی تیاری و سامان زیوروں سے آراستہ ریشمی لباس پہنے گھوڑوں پر سوار نکلاجب دنیا کے طلب گاروں نے یہ دیکھا تو تمنا کی کہ کس طرح ہم کو بھی ایسا ہی سامان ملتا۔ اور یہ بھی ان دنیا کے طلب گاروں نے کہا کہ قارون بڑانصیبے والا ہے۔ جب ان کی یہ بات قوم کے علم والوں نے سنی تو کہنے لگے کہ کیوں خرابی میں پڑتے ہو اللہ کا دیا ہواثواب دنیا کے مال ومتاع سے ہزار درجہ بہتر ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے گھروالوں کو زمین کے اندر دھنسادیا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ، حضرت موسیٰ پر جب خدا کی طرف سے زکوۃ کا حکم آیا کہ دسواں حصہ مال کا ادا کریں حکم الٰہی سے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
[51] یعنی کسی شخص کی دنیوی ترقی و عروج دیکھ کر یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اللہ کا مقبول بندہ ہے اور اللہ اسے انعام دے رہا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کا رزق تنگ ہے تو ضروری نہیں کہ اللہ اس سے ناراض ہے اور اسے سزا دے رہا ہے۔ رزق کی کشادگی و تنگی جو کچھ بھی ہوتی ہے وہ اللہ کی مشیت کی بناء پر ہوتی ہے اور اس مشیت میں اللہ کی کچھ دوسری مصلحتیں بھی کارفرما ہوتی ہیں۔
[52] یہاں قارون کا قصہ بھی مشرکین کے اسی عذر کے جواب میں بیان کیا گیا ہے جو آیت 57 میں مذکور ہے اور جس پر اب تک مسلسل گفتگو ہو رہی تھی۔ اس قصے سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ قارون کی ہلاکت اس کی سرکشی اور اللہ سے بغاوت کی وجہ سے ہوئی۔ اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
ف 1: ارشاد ہے ۔ کہ آخرت کی مسرتیں اور آسائشیں ان لوگوں کے لئے مقدر ہیں ۔ جن کو اللہ تعالیٰ دنیا میں مال و دولت اور اختیار وقوت دیتا ہے ۔ اور وہ اس غلط استعمال نہیں کرتے ۔ وہ یہ نہیں چاہتے کہ خواہ مخواہ دوسرے لوگوں سے اونچا رہنے کی کوشش کی جائے ۔ اور نہ وہ یہ چاہتے ہیں ۔ کہ دنیا میں ظلم وستم سے فساد برپا کریں ۔ اور وہ تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کرتے ہیں ۔ اور جانتے ہیں ۔ کہ انجام انہیں لوگوں کا بہتر ہے ۔ جو پاک باز اور متقی ہیں
Read the full tafseer →82۔ اور کل گزشتہ جو لوگ اس جیسا ہونے کی تمنا کررہے تھے اور اس کا درجہ حاصل کرنے کی خواہش کر رہے تھے وہ کہنے لگے ارے خرابی کی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہتا روزی کو فراخ کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے اس کو نپی تلی روزی دیتا اور روزی کی تنگی اور کمی کردیتا ہے اگر اللہ تعالیٰ ہم پر احسان اور مہربانی نہ فرماتا تو ہم کو بھی دھنسا دیتا افسوس واقعی بات تو یہ ہے کہ نا سپاسوں اور منکروں کو فلاح نصیب نہیں ہوا کرتی ۔ یعنی جو لوگ اپنی نادانی سے کل تک یلیت لنا مثل ما اوتی قارون کہہ رہے تھے آج قارون کا حشردیکھ کر صبح صبح تعجب سے کہنے لگے بس جی معلوم ہوگیا روزی کی فراخی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
ف 5۔ گو چند روزہ مزے لوٹ لیں مگر انجام پھر خسران ہے، پس فلاح معتد بہ اہل ایمان ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔
Read the full tafseer →کل قارون کے کروفر کو دیکھ کر کچھ کہنے والے آج کیا کہہ رہے ہیں ؟ :
82۔ اس کے انجام کے بعد کیا ہوا ؟ اب وہ لوگ جو کل اس کی منزلت کی تمنا کر رہے تھے آج کہنے لگے افسوس ہم تو بھول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کردیتا ہے ، گویا قارون کتنا ہی برا کیوں نہ سہی لیکن بندہ تو وہ بہرحال اللہ ہی کا تھا کیونکہ اس نے اس کو پیدا کیا تھا اور وہی اس کو رزق دینے والا تھا اور ظاہر ہوگیا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی اللہ تعالیٰ کی مشیت کی بنا پر ہوتی ہے اور اس قانون مشیت میں اس کی کچھ دوسری ہی مصلحتیں کار فرما ہوتی ہیں کسی کو زیادہ رزق دینے کے معنی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے بہت خوش ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
Commentary
لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا (We assigned it to those who intend neither haughtiness on earth nor mischief. - 28:83). This verse tells us that only those will achieve salvation and success in the Hereafter who do not intend any mischief, nor are indulged in عُلُوًّا ` Uluww in this world. عُلُوًّا ` Uluww means pride or conceit, that is, to present oneself as superior before others, and to look down upon others and treat them in an insulting manner. Mischief is used here for oppression. (Sufyan Ath-Thauri). Some commentators have observed that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
101 That is "The extension or the restriction of provisions is always according to the will of Allah, and Allah's will is determined by His own reasons and considerations. His favouring somebody with generous provisions does not necessarily mean that AIIah is well pleased with him and is honouring him with gifts. Mostly it so happens that a person is under Allah's wrath, but He goes on favouring him with wore and more wealth till, at last, the same wealth causes A Ilah's torment to descend on him. Contrary to this, if somebody is being given restricted provisons it dces not necessarily mean…
Read the full tafseer →