Explained with ayahs 81–82
ایک بالشت کا آدمی ؟
اوپر قارون کی سرکشی بےایمانی کا ذکر ہوچکا یہاں اس کے انجام کا بیان ہو رہا ہے۔ ایک حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا ایک شخص اپنا تہبند لٹکائے فخر سے جارہا تھا کہ اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ اسے نگل جا۔ کتاب العجائب میں نوفل بن ماحق کہتے ہیں کہ نجران کی مسجد میں میں نے ایک نوجوان کو دیکھا بڑا لمبا چوڑا بھرپور جوانی کے نشہ میں چور گٹھے ہوئے بدن والا بانکا ترچھا اچھے رنگ ورغن، والا خوبصورت، شکیل۔ میں نگاہیں جماکر اس کے جمال و کمال کو دیکھنے لگا تو اس نے کہا کیا دیکھ رہے ہو ؟ میں نے کہا آپ کے حسن وجمال کا مشاہدہ کر رہا ہوں اور تعجب معلوم ہو رہا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ تو ہی کیا خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
سورة القصص 100
یعنی یہ سیرت، یہ انداز فکر اور یہ ثواب الہی کی بخشش صرف انہی لوگوں کے حصہ میں آتی ہے جن میں اتنا تحمل اور اتنی ثابت قدمی موجود ہو کہ حلال طریقے ہی اختیار کرنے پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہیں، خواہ ان سے صرف چٹنی روٹی میسر ہو یا کروڑ پتی بن جانا نصیب ہوجائے، اور حرام طریقوں کی طرف قطعا مائل نہ ہوں خواہ ان سے دنیا بھر کے فائدے سمیٹ لینے کا موقع مل رہا ہو۔ اس آیت میں اللہ کے ثواب سے مراد ہے وہ رزق کریم جو حدود اللہ کے اندر رہتے ہوئے محنت و کوشش کرنے کے نتیجے میں انسان کو دنیا اور آخرت میں نصیب ہو۔ اور صبر سے مراد ہے اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو رکھنا، لالچ اور حرص و آز کے مقابلے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
وَقَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ الآیتہ اس آیت میں الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ یعنی علماء کا مقابلہ الَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا سے کیا گیا ہے جس میں واضح اشارہ اس طرف ہے کہ متاع دنیا کا ارادہ اور اس کو مقصود بنانا اہل علم کا کام نہیں اہل علم کی نظر ہمیشہ آخرت کے دائمی فائدہ پر رہتی ہے۔ متاع دنیا کو بقدر ضرورت حاصل کرتے ہیں اور اسی پر قناعت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →قارون پر حضرت موسیٰ ؑ کی لعنت اور اس کا عبرتناک انجام
یہاں قارون کے اس قصہ کا ایک حصہ محذوف ہے۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ نے دیکھا کہ سامری کے فتنہ کے بعد ان کی قوم میں ایک اور فتنہ اٹھ کھڑا ہوا ہے تو انہوں نے قارون اور اس کے ساتھیوں کو خیمہ اجتماع کے سامنے مباہلہ کی دعوت دی تاکہ واضح ہوجائے کہ خدا کی نظروں میں مقبول اور پسندیدہ کون ہے تورات میں اس کی تفصیل طویل ہے۔ ہم صرف اس کا ضروری یہاں نقل کرتے ہیں۔
اور داتن اور ابیرام اپنی بیویوں، بیٹیوں اور بال بچوں سمیت نکل کر اپنے خیموں کے دروازوں پر کھڑے ہوئے۔ تب موسیٰ نے کہا، اس سے تم جان لو گے کہ خداوند نے مجھے بھیجا ہے کہ میں یہ سب…
Read the full tafseer →81-1یعنی قارون کو اس کے تکبر کی وجہ سے اس کے محل اور خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، ایک آدمی اپنی ازار زمین پر لٹکائے جا رہا تھا (اللہ کو اس کا یہ تکبر پسند نہیں آیا) اور اسے زمین میں دھنسا دیا گیا، پس وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
48:”صبر“ قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ناجائز خواہشات پر قابو پاکر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری پر ثابت قدم رکھے۔
Read the full tafseer →فخسفنا بہ وبدارہ ۔۔۔۔۔۔۔ وما کان من المنتصرین (81) ” “۔ نہایت ہی مختصر جملے میں ایک مختصر جھلکی کی صورت میں یہ انجام دکھایا گیا۔
فخسفنا بہ وبدارہ الارض (28: 81) ” آخر ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا “۔ زمین اسے بھی نگل گئی اور اس کے محل کو بھی نگل گئی۔ جس زمین پر وہ اپنے آپ کو سربلند سمجھتا تھا۔ جس کے اوپر وہ لوگوں پر ظلم کرتا تھا ۔ اللہ نے اسے اسی کے اندر داخل کردیا۔ اور وہ ضعیف و ناتواں ہوگیا۔ نہ اس کی مدد کوئی دوسرا کرسکا اور نہ وہ اپنی جاہ و مال کے ساتھ اپنی کوئی مدد کرسکا۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ فتنہ بھی دفن ہوا جس کے اوپر بعض لوگ فریفتہ ہو رہے تھے۔ غرض فیصلہ کن ذدنے ان کو اللہ…
Read the full tafseer →1 یعنی نہ کوئی دوسرا اپنی طرف سے مدد کو پہنچا، نہ یہ کسی کو بلا سکا۔ نہ اپنی ہی قوت کام آئی نہ دوسروں کی۔
Read the full tafseer →آیت 81 فَخَسَفْنَا بِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَقف ”
چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قارون ”خسف فی الارض“ کے عذاب کا شکار ہوگیا۔
وَمَا کَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ ”
وہ اپنے لاؤ لشکر اور تمام تر جاہ و جلال کے باوجود اس قابل نہ تھا کہ معاذ اللہ ! اللہ سے اپنی بربادی کا انتقام لے سکتا۔
Read the full tafseer →110 کہتے ہیں کہ قارون جب موسیٰ کا مخالف بن کر فرعون سے جاملا تو اس نے حضرت موسیٰ کو بدنام کرنے کے لئے ایک سازش تیار کی اور ایک فاحشہ عورت کو کچھ دے دلا کر اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ پر زنا کی تہمت لگا دے۔ چناچہ جب حضرت موسیٰ نے اسے قسم دے کر سچ سچ بات بتلانے کو کہا تو اس نے بتلا دیا کہ اس نے قارون کے بہکانے سے یہ حرکت کی تھی اور اصل مجرم قارون تھا۔ حضرت موسیٰ کو اس کی اس حرکت پر سخت غصہ آیا۔ آپ نے اس کے لئے بددعا کی۔ یہ اسی بددعا کا اثر تھا کہ قارون اپنے محل، اپنے خزانوں اور خادموں سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ زمین کا اتنا ٹکڑا ہی سارے کا سارا عام سطح زمین سے بہت نیچے چلا گیا اور حب اس پر یہ…
Read the full tafseer →108۔ یعنی نہ اس کی اپنی ہی ہنر مندی اور کا ردانی کام آئی، جس پر اسے ناز رہتا تھا۔ اور نہ ہمدردوں کا وہ جتھا ہی کام آسکا جو اس نے پیدا کرلیا تھا اور جس پر اسے گھمنڈ تھا۔ زمین میں دھنسنے کا ماجرا توریت میں ان الفاظ میں ہے :” تب خداوند کا جلال اس سارے گروہ کے سامنے ظاہر ہوا اور خداوند نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو خطاب کرکے فرمایا تم آپ کو اس گروہ سے جدا کرو تاکہ میں انہیں ایک پل میں ہلاک کروں ...... تب خداوند نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خطاب کرکے فرمایا کہ تو جماعت کو کہہ تم فرح اور دائن اور ابرام کے خیمہ کے گردا کرد سے دور ہو ...... تب موسیٰ نے کہا تم اس سے جانیو کہ خداوند نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیت نمبر 76 تا 82
ترجمہ : قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تھا (یعنی) چچا زاد اور خالی زاد بھائی تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا تھا، کبر و تعلّی اور
کثرت مال کے ذریعہ لوگوں کے مقابلہ میں تکبر کرنے لگا تھا، اور ہم نے اس کو اس قدر خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں کئی کئی زور آور لوگوں کو گراں بار کردیتے تھیں یعنی ان کو بوجھل کردیتی تھیں باتعدیہ کے لئے ہے (اور اٹھانے والی جماعت کے افراد کی تعداد) کہا گیا ہے ستر تھی اور کہا گیا چالیس تھی اور کہا گیا کہ دس تھی، اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں، اس وقت کو یاد کرو جب اس کو قوم بنی اسرائیل کے مومن لوگوں نے اس سے کہا کثرت مال پر مت اتراو اقعی…
Read the full tafseer →فخسفنا بہ وبدارہ الارض فما کان لہ من فءۃ ینصرونہ من دون اللہ وما کان من المنتصرین
پھر ہم نے اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا ‘ سو اس کی کوئی جماعت ایسی نہ ہوئی کہ اللہ کے عذاب سے اس کو بچا سکتی اور نہ وہ خود اپنے آپ کو بچا سکا۔
مِنْ فِءَۃٍ (فیئی لوٹنا ‘ رجوع کرنا) فِءَۃ وہ مددگار جن کی طرف مصیبت کے وقت آدمی رجوع کرتا ہے۔ یَنْصُرُوْنَہٗ یعنی اللہ کے عذاب کو دفع کرسکتے۔ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ یعنی خود بھی وہ اپنے کو عذاب خسف سے محفوظ نہ رکھ سکا۔ نَصَرَہ اس کی مدد کی ‘ اِنْتَصَر (وہ مدد پا گیا) محفوظ ہوگیا۔
اہل روایت نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کے بعد قارون سب…
Read the full tafseer →(81) پھر ہم نے اس قارون کو اور اس کے محل سرائے کو زمین میں دھنسا دیا سو کوئی اس کے پاس ایسی جماعت نہ ہوئی جو اس کو عذاب خداوندی سے جس وقت وہ اس پر نازل ہو رہا تھا، بچا لیتی اور نہ وہ خود ہی اپنے آپ کو عذاب الہی سے بچا سکا۔
Read the full tafseer →فَخَسَفْنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الْاَرْضَ : اللہ تعالیٰ کو اس کے تکبر کے اس مظاہرے پر ایسی غیرت آئی کہ اس نے اسے اور اس کے گھر کو جس میں اس کے اہل و عیال، نوکر چاکر اور خزانے تھے، سب کو زمین میں دھنسا دیا۔ قارون کی اس حالت پر وہ حدیث منطبق ہوتی ہے جو ابن عمر ؓ نے بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (بَیْنَمَا رَجُلٌ یَجُرُّ إِزَارَہُ مِنَ الْخُیَلاَءِ خُسِفَ بِہِ ، فَہُوَ یَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ) [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب : 3485 ] ”ایک آدمی اپنی چادر تکبر سے گھسیٹتا جا رہا تھا، تو اسی حالت میں اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت کے دن تک زمین میں دھنستا چلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
مقاتل نے کہا : جب حضرت موسیٰ علیہ الشلام نے زمین کو حکم دیا تو زمین نے اسے نگل لیا بنی اسرائیل نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے اس لئے ہلاک کیا ہے تاکہ اس کے مال کا وارث بن جائے، کیونکہ قارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا یا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے، اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا اور تین دن کے بعد اس کے تمام اموال کو بھی زمین میں دھنسا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ تیرے بعد زمین کو کسی کی اطاعت کرنے کا حکم نہیں دوں گا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : مکان زمین میں چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں غائب کردیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا
1۔ ابن شیبہ نے المصنف میں وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ان قارون کان من قوم موسیٰ کے بارے میں روایت کیا کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا اور وہ علم کو تلاش کرنا چاہتا تھا یہاں تک کہ اس نے علم کو جمع کرلیا وہ اسی طرح رہا یہاں تک کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر بغاوت کی اور حسد کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے زکوٰۃ لینے کا حکم فرمایا ہے تو اس نے انکار کردیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے مالوں کو کھانے کا ارادہ رکھتا ہے تمہارے پاس نماز کو لائے اور…
Read the full tafseer →فَخَسَفْنَا [تو دھنسا دیا ہم نے ] بِهٖ [اس کو ] وَبِدَارِهِ [اور اس کے گھر کو ] الْاَرْضَ ۣ [زمین میں ] فَمَا كَانَ لَهٗ [تو نہیں تھی اس کے لئے ] مِنْ فِئَةٍ [کوئی بھی ایسی جماعت جو ] يَّنْصُرُوْنَهٗ [مدد کرتی اس کی ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۤ [اللہ کے سوا ] وَمَا كَانَ [اور وہ نہیں تھا ] مِنَ الْمُنْتَصِرِيْنَ [بدلہ لینے والوں میں سے ] ۔
نوٹ۔ 1: قارون کی یہ حکایت محض ماضی کی ایک حکایت کی حیثیت سے نہیں بیان ہوئی ہے بلکہ اس کے پردے میں ابولہب اور اس کے ساتھیوں کا کردار اور انجام پیش کیا گیا ہے۔ جس قسم کا فتنہ رسول اللہ ﷺ کی قوم میں ابولہب تھا۔ متعدد پہلوؤں سے دونوں میں مماثلت تھی۔ جس طرح قارون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے ہے جو زمین میں بلندی اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے
یہ دو آیتیں ہیں پہلی آیت میں یہ بتایا کہ دار آخرت یعنی موت کے بعد جو مؤمنین صالحین کو ٹھکانہ ملے گا اسے ہم انہیں لوگوں کے لیے خاص کردیں گے جو زمین میں بڑائی، برتری اور بلندی کا ارادہ نہیں کرتے اور فساد کو نہیں چاہتے۔ اور اچھا انجام متقیوں ہی کا ہے، بندوں کو تواضع کے ساتھ رہنا لازم ہے۔ ساری بڑائی خالق اور مالک ہی کے لیے ہے جس نے سب کو پیدا فرمایا ہے۔ اس کی بڑائی اور کبریائی کے سامنے ہر بندہ کو جھک جانا لازم ہے۔ جن لوگوں کو جتنی زیادہ معرفت حاصل ہوتی ہے ان میں اسی قدر تواضع ہوتی ہے۔ جو لوگ دنیا میں بڑا بننا چاہتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ذکر قصہء قارون برائے عبرت مغرور ان مال ودولت
قال اللہ تعالیٰ ان قارون کان من قوم موسیٰ ۔۔۔ الی۔۔۔ ویکانہ لا یفلح الکفرون۔
(ربط) شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے تکبر اور فساد کا ذکر کیا۔ ان فرعون علا فی الارض اور انہ کان من المفسدین اب اخیر سورت میں ایک دوسرے متکبر اور مفسد یعنی قارون کا ذکر کرتے ہیں کہ فرعون کی طرح قارون بھی تکبر اور فساد فی الارض کی وجہ سے تباہ اور برباد ہوا۔
یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ متاع دنیا ہیچ ہے اور چند روزہ ہے اور فانی ہے اور گزرگاہ ہے اور آرائش ہے اور اس کے شیدائی گمراہ ہیں اور بقول حافظ شیرازی۔
مرا در منزل جاناں چہ امن وعیش چوں ہر دم جرس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
76:۔ قارون کی سرکشی اور اس کے عناد و استکبار اور انکار و جحود کی وجہ سے ہم نے اس کو اور اس کے عالیشان محلات کو خزائن دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ فما کان لہ من فئۃ الخ، دنیا میں ہزاروں افراد اس کی خدمت اور امداد و اعانت کرنے والے موجود تھے مگر عذاب خداوندی سے اسے کوئی بھی نہ بچا سکا۔ قارون کے بارے میں کئی بےسرو پا قصے مشہور ہیں جن میں سے کوئی بھی صحیح نہیں۔ مثلاً خزانے اس قدر زیادہ تھے کہ ان کی چابیاں ساٹھ یا چالیس خچریں اٹھا سکتی تھیں جب کہ ایک چابی صرف انگلی کی مقدار لمبی تھی اور اتنی ہلکی کہ چمڑے سے بنائی گئی تھی۔ اسی طرح جب وہ شان و شوکت سے نکلا تو اس کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں ستر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
ربط آیات :
اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہم قوم قارون کا ذکر کیا جو سرکش اور مغرور ہوچکا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال و دولت پر اتراتا تھا ، اس کی قوم کے لوگوں اور خود موسیٰ نے بھی سمجھایا کہ وہ اس مال پر غرور وتکبر کرنے کی بجائے اس کے ذریعے آخرت کا بہتر گھر تلاش کرے۔ نیز یہ کہ مخلوق اسی طرح احسان کرے جس طرح اللہ نے اسے مال و دولت دے کر اس پر احسان کیا ہے ، مگر وہ سخت مغرور تھا ، کہنے لگا مجھ پر کسی کا کیا احسان ہے۔ یہ دولت تو میں نے اپنے علم و ہنر کی بنا پر کمائی ہے ، مگر اللہ نے تنبیہ فرمائی کہ اس شخص کو اتنا بھی پتہ نہیں چلا کہ اس جیسی متکبر قوموں کو ہم نے پہلے ہی ہلاک کیا ہے۔ وہ تو…
Read the full tafseer →فَخَسَفْنَا بِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَ 0ۣ فَمَا كَانَ لَہٗ مِنْ فِئَۃٍ يَّنْصُرُوْنَہٗ مِنْ دُوْنِ اللہِ 0ۤ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِيْنَ 81
خسف
الخُسُوف للقمر، والکسوف للشمس «1» ، وقال بعضهم : الکسوف فيهما إذا زال بعض ضوئهما، والخسوف : إذا ذهب كلّه . ويقال خَسَفَهُ اللہ وخسف هو، قال تعالی: فَخَسَفْنا بِهِ وَبِدارِهِ الْأَرْضَ [ القصص/ 81] ، وقال : لَوْلا أَنْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا لَخَسَفَ بِنا [ القصص/ 82] ، وفي الحدیث : «إنّ الشّمس والقمر آيتان من آيات اللہ لا يُخْسَفَانِ لموت أحد ولا لحیاته» «2» ، وعین خَاسِفَة : إذا غابت حدقتها، فمنقول من خسف القمر، وبئر مَخْسُوفَة : إذا غاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
ترکیب : ماان مفاتحہ، بمعنی الذی فی موضع نصب باتینا وان و اسمھا و خبرھا صلۃ الذی ولھذا کسرت ان، تنوءا الخ ای ثقلھم فالباء، للتعدیۃ وقد یقال اناء تہ ونوء ت، بہ وقیل ھو علی القلب ای لتنوء بہ العصبۃ و من الکنوز متعلق باتیناہ واذقال لہ ظرف لاتیناہ والا وجہ ان یقال اذکر اذ قال لہ قومہ۔ فیما اتاک، مصدریۃ او بمعنی الذی وھی فی موضع الحال اے واطلب منقلبا فیما اتاک اللہ اجر الآخرۃ ویجوزان یکون ظرفا لاتبغ علی علم فی موضع الحال وعندی صفۃ لعلم من قبلہ ظرف لا ھلکنا من ھو مفعول۔
تفسیر : کلام اس میں آگیا تھا کہ ما اوتیتم من شیئٍ فمتاع الحیوۃ الدنیا و زینتہا و ما عند اللہ خیر و ابقی کہ دنیا کے ناز و نعم بےثبات…
Read the full tafseer →فَخَسَفْنَا بِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَ قف فَمَا کَانَ لَـہٗ مِنْ فِئَۃٍ یَّنْصُرُوْنَـہٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِق وَمَا کَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ ۔ (القصص : 81)
(آخرکار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا، تو نہ اس کے لیے کوئی جماعت ہی ایسی اٹھی جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کرتی اور نہ وہ خود ہی اپنی مدافعت کرنے والا بن سکا۔ )
قارون کا عبرتناک انجام
ہم اس سے پہلے یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ قارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نہ صرف خاندان سے تعلق رکھتا تھا بلکہ آپ ( علیہ السلام) کے چچا کا بیٹا تھا۔ بنی اسرائیل میں آپ ( علیہ السلام) کی عزت اور آپ ( علیہ السلام) کے کمالات کی وجہ سے حسد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
فہم القرآن
ربط کلام : قارون کا عملاً فخر و غرور کا اظہار کرنا اور اس کا بدترین انجام ہونا۔
مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک دن قارون لباس فاخرہ پہنے ہوئے نوکروں، چاکروں اور اپنے دوست و احباب کے ساتھ پورے جاہ و جلال کے ساتھ بڑے جلوس کی شکل میں نکلا۔ تاکہ جاہ و حشمت اور اپنی دولت و ثروت کی لوگوں پر دھاک بٹھا سکے۔ وہ اس جاہ و جلال اور شوکت و حشمت کے ساتھ نکلا کہ کمزور ایمان والے لوگ اس قدر مرعوب ہوئے کہ بےساختہ پکار اٹھے کہ کاش ! ہمیں بھی اس طرح کا مال اور اسباب دئیے جاتے جس طرح قارون کو دئیے گئے ہیں۔ یہ تو بڑا ہی خوش بخت اور اچھے نصیب والا ہے۔ لوگوں کی مرعوبیت دور کرنے اور ان کی حقیقی نعمتوں کی طرف…
Read the full tafseer →81: فَخَسَفْنَا بِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَ (پس ہم نے اس کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسایا) ۔ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کو ہر وقت ایذاء پہنچاتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس قرابت نسبی کی وجہ سے مدارات فرماتے۔ یہاں تک کہ زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا۔ پس اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک ہزار دینار پر ایک دینار اور ہر ہزار درہم پر ایک درہم کی ادائیگی کا اقرار کر کے صلح کرلی۔ جب اس سے حساب نکالا تو اس کی مقدار بہت بڑھ گئی۔ اس کا نفس بخل پر آمادہ ہوا۔ اس نے بنی اسرائیل کو جمع کر کے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تو تمہارا مال لینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا تم ہمارے بڑے ہو جو حکم دو ۔ ہم وہ تسلیم کریں گے۔
اس نے…
Read the full tafseer →قارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد سب سے بڑاقاری تھا اس کی سرکشی نے اس کو تباہ کردیا۔
81۔ فخسفنا بہ وبدارہ الارض، ،، اہل علم نے یہ واقعہ بیان کیا کہ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے بعد قارون سب سے بڑاعالم اور توریت کا سب سے بڑا قاری تھا، سب سے زیادہ حسین آواز اور مالدار تھا، لیکن اس نے سرکشی کی اور حد خداوندی سے آگے بڑھ گیا، سرکشی اور نافرمانی کی ابتداء اس واقعہ سے ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ اپنی قوم کو حکم دے دو کہ ہر شخص اپنی چادر کے چاروں کونوں پر ایک ایک نیلا آسمانی رنگ کا دھاگہ باندھ لیں تاکہ دھاگہ کو دیکھ کر آسمانی رنگ ان کی نظروں کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–84
76 تا 84۔ معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا اور اللہ تعالیٰ کا دشمن منافق تھا۔ جیسے سامری منافق تھا کثرت مال کے سبب سے وہ اترا گیا تھا اس کے اترانے پر اللہ تعالیٰ نے اس کو برباد کردیا قارون کے خزانوں کی کنجیاں چمڑے کی تھیں تاکہ وہ کنجیاں ہلکی رہیں کیوں کہ جب دہ کہیں جاتا تھا تو کنجیاں اپنے ساتھ رکھتا تھا مجاہد کے قول کے موافق عصبہ دس سے لے کر پندرہ آدمیوں کی جماعت تک کو کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فَرِحِیْن کی تفسیر اترانے والوں کی فرمائی ہے حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس قدر خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
اللہ تبارک و تعالیٰ قارون کے احوال اور اس کے کرتوتوں اور ان کرتوتوں کی پاداش میں اس کے ساتھ جو کیا گیا ‘ اس کے ساتھ خیر خواہی اور جو اسے نصیحت کی گئی تھی ان سب کے بارے میں خبر دیتا ہے ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان قارون کان من قوم موسٰی) یعنی قارون ‘ بنی اسراتیل میں سے تھا جن کو تمام جہانوں پر فضیلت اور اپنے دور میں ان کو سب پر فوقیت دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ ‘ نے ان کو اپنے احسانات سے نوازا پس ان کا حال استقامت سے مناسبت رکھتا تھا ‘ مگر قارون اپنی قوم کے راستے سے منحرف ہوگیا ‘ اس نے ان پر ظلم کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی کیونکہ بڑے بڑے امور م اس کے سپرد کئے تھے۔ (واٰتینٰہ من الکنوز) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
117 روزی کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : سو روزی کے بسط و قبض کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالی ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ روزی کی تنگی اور کشادگی کا معاملہ اللہ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے کہ وہ وحدہ لاشریک ہی بہتر جانتا ہے کہ کون کس لائق ہے اور کس کو کیا اور کتنا دیا جائے ؟ اور کب اور کس طرح دیا جائے ؟ پس نہ تو رزق کی کشائش و فراوانی اللہ تعالیٰ کے یہاں محبوب و مقبول ہونے کی دلیل و علامت ہوسکتی ہے اور نہ اس کی تنگی اس کے یہاں غیر مقبول ہونے نشانی۔ بلکہ اس ضمن میں اللہ پاک کی کچھ دوسری ہی حکمتیں اور مصلحتیں کارفرما ہوتی ہیں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–85
قارون کی سرکشی اور اس کا انجام بد
تشریح : قارون کا واقعہ ‘ غرور ‘ زرپرستی ‘ اور اللہ سے دوری اور کفار کے اس اعتراض کا بہترین جواب ہے سیدنا محمد ﷺ کے علاوہ نبوت عرب کے کسی امیر کبیر سردار کو کیوں نہیں سونپی گئی۔ قارون سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ یہ بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون وہامان کے ساتھ جا ملا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیشمار مال و دولت دے رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ بجائے شکر گزار الٰہی ہونے کے کفر و شرک اور دولت کے نشے میں اپنی قوم سے بھی باغی ہوگیا تھا۔ اور یوں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین میں فرعون، ہامان اور یہ تیسرا قارون بھی شامل ہوگیا تھا۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیات 76 تا 82
اسرارو معارف
دولت دنیا کا انجام تو قارون کے واقعہ میں ظاہر ہے کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا وہی خوش نصیب قوم جسے موسیٰ (علیہ السلام) کے طفیل فرعون سے نجات ملی اور سمندر نے جس کی خاطر راستے چھوڑ دیئے جس قوم پر اللہ کے بہت احسانات تھے ان میں سے وہ بھی تھا۔ مفسرین کرام کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد تھا مگر بگڑ گیا اور پوری قوم کے ساتھ زیادتی کرتا تھا اور انہیں حقیر جانتا تھا حالانکہ اللہ نے اسے اس قدر مال و دولت بخشا کہ کہ بہت بڑی اور طاقتور جماعت بھی اس کے خزانوں کی کنجیاں اٹھانے سے قاصر تھی۔ اس قدر وسیع و عریض خزانے بھرے تھے اس پر قوم نے اس سے کہا کہ اس…
Read the full tafseer →2 ۔ یعنی نہ کوئی دوسرا اس کی مدد کرسکا اور نہ وہ خود اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا سکا۔ گویا نہ دوسروں کی مدد کام آئی نہ اپنی قوت۔ (ابن کثیر) حدیث میں ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا :” ایک شخص تکبر سے اپنا ازار زمین پر کھینچتے ہوئے جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت تک زمین دھنستا چلا جائے گا۔ “ علمائے تفسیر (رح) کا رجحان یہ ہے کہ اس سے قارون مراد ہے۔ واللہ اعلم۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(28:81) فخسفنا بہ : خسف یخسف خسوف (ضرب) المکان کسی جگہ کا دھنس جانا۔ القمر چاند کو گرہن لگنا۔ خسف اللہ الارض اللہ نے زمین کو معہ اس کی اوپر کی چیزوں کو دھنسا دیا۔ وخسف اللہ الارض بفلان اللہ تعالیٰ نے فلاں کو زمین میں دھنسا دیا۔ فخسفنا بہ الارض پس ہم نے اس کو زمین میں دھنسا دیا۔
فئۃ واحد بحالت جر۔ گروہ۔ جماعت۔ ایسا گروہ جو ایک دوسرے کی طرف مدد کے لئے لوٹے۔
من دون اللہ۔ اللہ کے سوا۔ جیسے ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء اور اس کے سوا اور گناہ معاف کر دے۔ ما دون سے دہ گناہ بھی مراد ہوسکتے ہیں جو شرک سے کم درجہ کے ہیں یا وہ جو شرک کے علاوہ ہیں یہ دونوں معنی ایک دوسرے کو لازم ملزوم ہیں۔
المنتصرین۔ اسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
لغات القرآن آیت نمبر (79 تا 82 ) ۔
خرج (وہ نکلا) ۔ زینتہ (زیب وزینت۔ خوبصورتی) ۔ یلیت (اے کاس ایسا ہوتا) ۔ ذوحظ (نصیب والا۔ جوش نصیب) ۔ ویلکم (تمہاری خرابی۔ تم پر افسوس ہے) ۔ لا یلقی (وہ نہیں ملتا۔ نصیب نہیں ہوتا) ۔ خسفنا (ہم نے دھنسادیا) ۔ فئتہ (جماعت۔ گروہ ) ۔ تمنوا (تمنا کی تھی) ۔ ویکان (ہائے شامت۔ ہائے افسوس) ۔ من (اس نے احسان کیا) ۔
تشریح : آیت نمبر (79 تا 82 ) ۔ ” اگر ایمان اور عمل صالح نہ ہو تو مال و دولت کا نشہ آدمی لو دیوانوں جیسی حرکتیں کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ قارون جو نہایت چالاک، عیار اور دولت پرست آدمی تھا وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف ہر ممکن سازشیں کرتا رہتا تھا تاکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–84
قارون کا دھنسنا۔
(ف 1) ایک روز اپنی قوم کے روبروبڑی تیاری و سامان زیوروں سے آراستہ ریشمی لباس پہنے گھوڑوں پر سوار نکلاجب دنیا کے طلب گاروں نے یہ دیکھا تو تمنا کی کہ کس طرح ہم کو بھی ایسا ہی سامان ملتا۔ اور یہ بھی ان دنیا کے طلب گاروں نے کہا کہ قارون بڑانصیبے والا ہے۔ جب ان کی یہ بات قوم کے علم والوں نے سنی تو کہنے لگے کہ کیوں خرابی میں پڑتے ہو اللہ کا دیا ہواثواب دنیا کے مال ومتاع سے ہزار درجہ بہتر ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے گھروالوں کو زمین کے اندر دھنسادیا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ، حضرت موسیٰ پر جب خدا کی طرف سے زکوۃ کا حکم آیا کہ دسواں حصہ مال کا ادا کریں حکم الٰہی سے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
[51] یعنی کسی شخص کی دنیوی ترقی و عروج دیکھ کر یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اللہ کا مقبول بندہ ہے اور اللہ اسے انعام دے رہا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کا رزق تنگ ہے تو ضروری نہیں کہ اللہ اس سے ناراض ہے اور اسے سزا دے رہا ہے۔ رزق کی کشادگی و تنگی جو کچھ بھی ہوتی ہے وہ اللہ کی مشیت کی بناء پر ہوتی ہے اور اس مشیت میں اللہ کی کچھ دوسری مصلحتیں بھی کارفرما ہوتی ہیں۔
[52] یہاں قارون کا قصہ بھی مشرکین کے اسی عذر کے جواب میں بیان کیا گیا ہے جو آیت 57 میں مذکور ہے اور جس پر اب تک مسلسل گفتگو ہو رہی تھی۔ اس قصے سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ قارون کی ہلاکت اس کی سرکشی اور اللہ سے بغاوت کی وجہ سے ہوئی۔ اگر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
حل لغات : خسفنا ۔ دھنسا دیا بالامس ۔ گزشتہ کل ویکانّ اللہ ۔ وے ۔ کانّ سے بالکل الگ ایک کلمہ ہے اس کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب کوئی اپنی غلطی پر متنبہ ہو ۔ اور ندامت کا اظہار کرے
Read the full tafseer →81۔ آخر کار ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا پھر اس کی مدد کو کوئی ایسی جماعت کھڑی نہیں ہوئی جو اللہ کے عذاب سے اس کو بچا لیتی اور نہ وہ اپنے آپ کو خو ہی بچا سکا ۔ قارون کی شرارت بڑھتی رہی اور زکوٰۃ ادا کرنے کو آمادہ نہیں ہوا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرتابی کرتا رہا یہاں تک کہ اس نے چاہا موسیٰ (علیہ السلام) علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجمع عام میں توہین کرائے اس کے لئے اس نے ایک عورت کو کثیر رشوت دیکر آمادہ کیا اور جب موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام زنا کی حد بیان کررہے تھے تو قارون نے کھڑے ہو کر دریافت کیا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) اگر آپ بھی اس فعل شنیع کے مرتکب ہوں تو کیا اسی سزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
ف 5۔ گو چند روزہ مزے لوٹ لیں مگر انجام پھر خسران ہے، پس فلاح معتد بہ اہل ایمان ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔
Read the full tafseer →قارون نے اپنا حصہ حاصل کرلیا اور اس کے بعد وہ اپنے عبرتناک انجام کو پہنچ گیا :
81۔ آخر کار جب قارون نے کبر ونخوت کے بڑھ چڑھ کر خوب مظاہرے کر لئے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے دوسرے مسلمانوں کی تحقیر وتذلیل میں کافی زیادہ زور صرف کرلیا اور اپنے مال و دولت کے ڈھیروں سے آخرت کے لئے بہت سارا عذاب تیار کرلیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اتنا ستا لیا کہ جتنا شاید ان کو فرعون بھی نہ ستا سکا تو اب غیرت حق حرکت میں آئی اور اس کو دی گئی مہلت اپنے اختتام کو پہنچ گئی تو انجام کار اس کو پاداش عمل کے فطری قانون نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور قارون اور اس کی دولت اور گھر بار پر اللہ رب ذوالجلال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
Commentary
لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا (We assigned it to those who intend neither haughtiness on earth nor mischief. - 28:83). This verse tells us that only those will achieve salvation and success in the Hereafter who do not intend any mischief, nor are indulged in عُلُوًّا ` Uluww in this world. عُلُوًّا ` Uluww means pride or conceit, that is, to present oneself as superior before others, and to look down upon others and treat them in an insulting manner. Mischief is used here for oppression. (Sufyan Ath-Thauri). Some commentators have observed that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
101 That is "The extension or the restriction of provisions is always according to the will of Allah, and Allah's will is determined by His own reasons and considerations. His favouring somebody with generous provisions does not necessarily mean that AIIah is well pleased with him and is honouring him with gifts. Mostly it so happens that a person is under Allah's wrath, but He goes on favouring him with wore and more wealth till, at last, the same wealth causes A Ilah's torment to descend on him. Contrary to this, if somebody is being given restricted provisons it dces not necessarily mean…
Read the full tafseer →