Al-Qasas 28:80

Al-Qasas · from ayah 80

28:80

وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَكُمْ ثَوَابُ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ۚ— وَلَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ ۟وَقَالَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ وَيۡلَـكُمۡ ثَوَابُ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّمَنۡ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًـا ۚ وَلَا يُلَقّٰٮهَاۤ اِلَّا الصّٰبِرُوۡنَ

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس۔ مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

But those who had been given knowledge said, "Woe to you! The reward of Allah is better for he who believes and does righteousness. And none are granted it except the patient."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 8 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:80

مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے "افسوس تمہارے حال پر، اللہ کا ثواب بہتر ہے اُس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس۔ مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ذی علم لوگ انہیں سمجھانے لگے کہ افسوس! بہتر چیز تو وه ہے جو بطور ﺛواب انہیں ملے گی جو اللہ پر ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں یہ بات انہی کے دل میں ڈالی جاتی ہے جو صبر وسہارا والے ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن لوگوں کو (اللہ کی طرف سے) علم عطا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا : تم پر افسوس ہے (کہ تم ایسا کہہ رہے ہو) اللہ کا دیا ہوا ثواب اس شخص کے لیے کہیں زیادہ بہتر ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور وہ انہی کو ملتا ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بولے وہ جنہیں علم دیا گیا خرابی ہو تمہاری، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کے لیے جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے اور یہ انہیں کو ملتا ہے جو صبر والے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (دوسری طرف) وہ لوگ جنہیں علمِ (حق) دیا گیا تھا بول اٹھے: تم پر افسوس ہے اللہ کا ثواب اس شخص کے لئے (اس دولت و زینت سے کہیں زیادہ) بہتر ہے جو ایمان لایا ہو اور نیک عمل کرتا ہو، مگر یہ (اجر و ثواب) صبر کرنے والوں کے سوا کسی کو عطا نہیں کیا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان لوگوں نے کہا جنھیں علم دیا گیا تھا، افسوس تم پر ! اللہ کا ثواب اس شخص کے لیے کہیں بہتر ہے جو ایمان لایا اور اس نے اچھا عمل کیا اور یہ چیز نہیں دی جاتی مگر انھی کو جو صبر کرنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مگر جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے : جو شخص ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو اس کے لئے اللہ کے ہاں جو ثواب ہے وہ (اس سے) بہتر ہے۔ اور وہ ثواب صبر کرنے والوں کو ہی ملے گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جن لوگوں کو علم عطا ہوا تھا انہوں نے کہا، شامت زدہ ! ایمان اور عمل صالح والوں کے لئے خدا کا اجر اس سے کہیں بہتر ہے اور یہ حکمت صرف صابروں ہی کو عطا ہوتی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس کے برعکس ان لوگوں نے جن کو علم صحیح کی دولت سے نوازا گیا تھا انہوں نے ان سے کہا افسوس ہے تم پر اے کوتاہ نظر لوگو ! اللہ کا ثواب تو اس سے کہیں بڑھ کر بہتر ہے ہر اس شخص کے لئے جو ایمان لائے اور عمل بھی نیک کرے اور یہ شرف نصیب نہیں ہوتا مگر صبر کرنے والوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور جن لوگوں کو (دین کی) فہم عطا ہوئی تھی وہ بولے تمہارے اوپر نیکی پڑے اللہ (کے ہاں) کا ثواب کہیں بہتر ہے جو ایسے شخص کو ملتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے اور وہ تو صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کہا ان لوگوں نے جنہیں علم عطا ہو اتھا افسوس ہے تم پر ! اللہ کا (عطا کردہ) ثواب (اس سے) کہیں بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیے اور وہ نہیں ملے گا مگر ان لوگوں کو جو صبر کرنے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ ”تم پر افسوس ‘ مومنوں اور نیکو کاروں کے لیے جو ثواب اللہ کے پاس تیار ہے وہ کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But those endowed with true knowledge said: "Woe to you. The reward of Allah is best for those who believe and act righteously. But none except those who are patient shall attain to this."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And said those who were given knowledge, :Woe to you, Allah‘s reward is much better for him who believes and acts righteously. But this is given to none but to those who observe restraint.

— Muhammad Taqi Usmani

And said those who were given knowledge, :Woe to you, Allah‘s reward is much better for him who believes and acts righteously. But this is given to none but to those who observe restraint.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But those who had been given knowledge said: "Woe to you! The reward of Allah is better for those who believe and do righteous deeds, and this none shall attain except the patient."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But those who had been given knowledge said: Woe unto you! The reward of Allah for him who believeth and doeth right is better, and only the steadfast will obtain it.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But those who had been given knowledge said, "Woe to you! The reward of Allah is better for he who believes and does righteousness. And none are granted it except the patient."

— Saheeh International

The people who had received knowledge would tell them, "Woe to you! The reward of God is far better for the righteously striving believers. No one can receive such reward except those who exercise patience."

— Muhammad Sarwar

And those who were given the knowledge said: Woe to you! Allah's reward is better for him who believes and does good, and none is made to receive this except the patient.

— Muhammad Habib Shakir

And those who had been vouchsafed the knowledge said: woe unto you! the reward of Allah is best for him who believeth and worketh righteously and none shall attain it except the patient.

— Abdul Majid Daryabadi

But those who had been granted (true) knowledge said: "Alas for you! The reward of Allah (in the Hereafter) is best for those who believe and work righteousness: but this none shall attain, save those who steadfastly persevere (in good)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:80

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 79–80

سامان تعیش کی فروانی قارون ایک دن نہایت قیمتی پوشاک پہن کر زرق برق عمدہ سواری پر سوار ہو کر اپنے غلاموں کو آگے پیچھے بیش بہا پوشاکیں پہنائے ہوئے لے کر بڑے ٹھاٹھ سے اتراتا ہوا اکڑتا ہوا نکلا اسکا یہ ٹھاٹھ اور یہ زینت وتجمل دیکھ کر دنیا داروں کے منہ میں پانی بھر آیا اور کہنے لگے کاش کہ ہمارے پاس بھی اس جتنا مال ہوتا۔ یہ تو بڑا خوش نصیب ہے اور بڑی قسمت والا ہے۔ علماء کرام نے ان کی یہ بات سن کر انہیں اس خیال سے روکنا چاہا اور انہیں سمجھانے لگے کہ دیکھو اللہ نے جو کچھ اپنے مومن اور نیک بندوں کے لئے اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے وہ اس سے کروڑہا درجہ بارونق دیرپا اور عمدہ ہے۔ تمہیں ان درجات کو حاصل کرنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 80–81

سورة القصص 100 یعنی یہ سیرت، یہ انداز فکر اور یہ ثواب الہی کی بخشش صرف انہی لوگوں کے حصہ میں آتی ہے جن میں اتنا تحمل اور اتنی ثابت قدمی موجود ہو کہ حلال طریقے ہی اختیار کرنے پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہیں، خواہ ان سے صرف چٹنی روٹی میسر ہو یا کروڑ پتی بن جانا نصیب ہوجائے، اور حرام طریقوں کی طرف قطعا مائل نہ ہوں خواہ ان سے دنیا بھر کے فائدے سمیٹ لینے کا موقع مل رہا ہو۔ اس آیت میں اللہ کے ثواب سے مراد ہے وہ رزق کریم جو حدود اللہ کے اندر رہتے ہوئے محنت و کوشش کرنے کے نتیجے میں انسان کو دنیا اور آخرت میں نصیب ہو۔ اور صبر سے مراد ہے اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو رکھنا، لالچ اور حرص و آز کے مقابلے میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 80–82

وَقَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ الآیتہ اس آیت میں الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ یعنی علماء کا مقابلہ الَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا سے کیا گیا ہے جس میں واضح اشارہ اس طرف ہے کہ متاع دنیا کا ارادہ اور اس کو مقصود بنانا اہل علم کا کام نہیں اہل علم کی نظر ہمیشہ آخرت کے دائمی فائدہ پر رہتی ہے۔ متاع دنیا کو بقدر ضرورت حاصل کرتے ہیں اور اسی پر قناعت کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قوم کے اہل دانش کا رویہ قوم میں جو لوگ علم و دانش رکھنے والے تھے انہوں نے لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اصل چیز مال و دولت اور اس کی نمائش نہیں ہے بلکہ ایمان و عمل صالح اور اس کا اجر وثواب ہے جس کے لئے انسان کو اپنی زندگی وقف کرنی چاہئے لیکن یہ حکمت ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتی، صرف انہی کو حاصل ہوتی ہے جن کے اندر دنیا کی رغبات و مطامع کے مقابل میں ایمان و عمل پر جمے رہنے کی ہمت و عزیمت ہوتی ہے۔ حقیقی علم خدا کی معرفت اور آخرت کا علم ہے اوتوا العلم میں علم سے مراد علم حقیقی ہے یعنی خدا کی معرفت اور آخرت کا علم یہی علم ہے جس سے انسان کو اصل روشنی حاصل ہوتی ہے۔ اگر یہ علم کسی کو حاصل نہ ہو تو وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

80-1یعنی جن کے پاس دین کا علم تھا اور دنیا اور اس کے مظاہر کی اصل حقیقت سے باخبر تھے، انہوں نے کہا کہ یہ کیا ہے ؟ کچھ بھی نہیں۔ اللہ نے اہل ایمان اور اعمال صالح بجا لانے والوں کے لئے جو اجر وثواب رکھا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ جیسے حدیث قدسی میں ہے۔ اللہ فرماتا ہے ' میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا اور نہ کسی کے وہم و گمان میں ان کا ذکر ہوا ' (البخاری کتاب التوحید) 80-2یعنی یلقاھا میں ھا کا مرجع، کلمہ ہے اور یہ قول اللہ کا ہے۔ اور اگر اسے اہل علم ہی کے قول کا تتمہ قرار دیا جائے تو ھا کا مرجع جنت ہوگی یعنی جنت…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 80–84

48:”صبر“ قرآن کریم کی ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی ناجائز خواہشات پر قابو پاکر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری پر ثابت قدم رکھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 79–80

فخرج علی قومہ فی زینتہ ۔۔۔۔۔ ولا یلقھا الا الصبرون (79 – 80) ” “۔ “۔ دنیا کی اس زندگی کے اس فتنے کے سلسلے میں دو قسم کے ردعمل سامنے آئے۔ ایک گروہ اس کی گرفت میں آگیا ، مبہوت ہوگیا۔ اس منظر کے سامنے بچھ گیا اور اس پر ٹوٹ پڑا اور دوسرے گروہ کا ردعمل یہ تھا کہ وہ اس کے سامنے کھڑا ہوگیا ، نظر بلند رکھی ، امیدیں اس ثواب کے ساتھ وابستہ کرلیں جو اللہ کے ہاں محفوظ ہے یوں اس کے نزدیک مال کی قوت کے مقابلے میں ایمان کا ترازو بھاری رہا۔ قال الذین یریدون ۔۔۔۔۔ لذو حظ عظیم (28: 79) ” وہ لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا۔ یہ تو بڑا نصیب والا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی سمجھدار اور ذی علم لوگوں نے کہا کہ کم بختو ! اس فانی چمک دمک میں کیا رکھا ہے جو ریجھے جاتے ہو۔ مومنین صالحین کو اللہ کے ہاں جو دولت ملنے والی ہے اس کے سامنے یہ ٹیپ ٹاپ محض ہیچ اور لاشئی ہے اتنی بھی نسبت نہیں جو ذرہ کو آفتاب سے ہوتی ہے۔ 10 یعنی دنیا سے آخرت کو بہتر وہ ہی جانتے ہیں جن سے محنت سہی جاتی ہے۔ اور بےصبر لوگ حرص کے مارے دنیا کی آرزو پر گرتے ہیں۔ نادان آدمی دنیا کی آسودگی دیکھ کر سمجھتا ہے کہ اس کی بڑی قسمت ہے اس کی شب و روز کی فکر و تشویش، درد سری اور آخرت کی ذلت کو اور سو جگہ خوشامد کرنے کو نہیں دیکھتا اور یہ نہیں دیکھتا کہ دنیا میں کچھ آرام ہے تو دس بیس برس، اور مرنے کے بعد…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 80 وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ” جیسا کہ قبل ازیں آیت 76 کے ضمن میں بھی بیان ہوچکا ہے کہ اس معاشرے میں کچھ نیک سرشت لوگ اور اصحاب علم و فہم بھی تھے جنہیں دنیوی زندگی کے ٹھاٹھ باٹھ اور زیب وزینت کی اصل حقیقت معلوم تھی۔ ایسے لوگوں نے قارون کے ٹھاٹھ باٹھ سے متاثر ہونے والے لوگوں کو سمجھاتے ہوئے کہا : وَیْلَکُمْ ثَوَاب اللّٰہِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ج ” یعنی تم خواہ مخواہ اس کی شان و شوکت کو حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہے ہو۔ اگر تم حقیقی ایمان اور عمل صالح کی شرائط پر پورے اترو تو اللہ تعالیٰ تمہیں دنیا و آخرت میں جن نعمتوں سے نوازے گا وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہوں گی۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

108 علم سے مراد علم شریعت ہے۔ یعنی جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آخرت کی کامیابی کے مقابلہ میں دنیا کا سازوسامان جتنا بھی ہو وہ کچھ حقیقت رکھا۔ ایسے عالم لوگوں نے قارون اور اس کے ٹھاٹھ باٹھ پر رہنے والوں سے کہا، تمہاری دنیا سے یہ محبت تمہاری خطرناک بھول غلطی ہے۔ اصل کامیابی دنیا کی نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی اور وہ اجر ہے جو ایماندار نیک لوگوں کو ملے گا۔ 109 یہاں صبر بڑے وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اپنے آپ کو صرف حلال کمائی کی پابند بنائے رکھنا بھی صبر ہے۔ اللہ کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو خندہ پیشانی سے برداشت کرلینا بھی ہے۔ دنیوی جاہ و حشمت کو دیکھ کر اس پر فریفتہ نہ ہونا بھی صبر ہے۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

107۔ اسرائیلیوں میں جو صاحب فہم وتقوی تھے انہوں نے اپنی قوم والوں کو سمجھایا کہ اس دنیوی ٹیپ ٹاپ میں کیا رکھا ہے، اصل شے تو خدا کے ہاں کا اجر ہے اور وہ مشروط ہے ایمان وطاعت کے ساتھ اور اجر میں بھی درجہ کامل کا مستحق وہی ہوتا ہے جو اپنے نفس کو دنیوی حرص وطمع سے روکے رہے۔ (آیت) ” ویلکم “۔ سے مقصود یہاں بددعا نہیں۔ عربی محاورہ میں ترحم یا تنبیہ کے موقع پر بھی آتا ہے اور وہی یہاں مراد ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” ولا یلقھا الا الصبرون “ دال ہے مطلوبیت مجاہدہ پر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 76–82

آیت نمبر 76 تا 82 ترجمہ : قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تھا (یعنی) چچا زاد اور خالی زاد بھائی تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا تھا، کبر و تعلّی اور کثرت مال کے ذریعہ لوگوں کے مقابلہ میں تکبر کرنے لگا تھا، اور ہم نے اس کو اس قدر خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں کئی کئی زور آور لوگوں کو گراں بار کردیتے تھیں یعنی ان کو بوجھل کردیتی تھیں باتعدیہ کے لئے ہے (اور اٹھانے والی جماعت کے افراد کی تعداد) کہا گیا ہے ستر تھی اور کہا گیا چالیس تھی اور کہا گیا کہ دس تھی، اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں، اس وقت کو یاد کرو جب اس کو قوم بنی اسرائیل کے مومن لوگوں نے اس سے کہا کثرت مال پر مت اتراو اقعی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقال الذین اوتو لعلم ویلکم ثواب اللہ خیر لمن امن وعمل صالحا ولا یلقھا الا الصبرون اور جن لوگوں کو (دین کا) علم دیا گیا تھا ‘ انہوں نے کہا : ارے تمہارا برا ہو ! اللہ کے گھر کا ثواب (ہزار درجہ) بہتر ہے جو ان لوگوں کو ملے گا جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے اور (کامل طور پر) انہی لوگوں کو دیا جائے گا جو (حرص و طمع سے) اپنے آپ کو روکنے والے ہیں۔ اُوْتُوْا لْعِلْمَ یعنی جو لوگ اس ثواب سے واقف تھے جس کا وعدہ اللہ نے مؤمنوں سے کیا ہے ‘ انہوں نے ان تمنا کرنے والوں سے کہا۔ وَیْلَکُمْ لفظ وَیْل مصدر ہے ‘ اس کا معنی ہے ہلاکت۔ یہ فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے یعنی تم مرو ‘ ہلاک ہوجاؤ۔ حقیقت میں اس لفظ کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(80) اور جن لوگوں کو دین کی فہم یعنی زہد و توکل حاصل تھا وہ بولے تم لوگ برباد ہو اللہ تعالیٰ کے گھر یعنی جنت کا ثواب اس سے ہزار درجہ بہتر ہے جو ایسے شخص کو ملتا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لائے اور نیک کام کرے اور جنت ان ہی لوگوں کو دی جاتی ہے جو احکام خداوندی اور تکالیف پر صبر کرنے والے ہیں یا یہ کہ کلمہ طیبہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی توفیق ان ہی لوگوں کو ہوتی ہے جو احکام خداوندی اور تکالیف پر صبر کرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ۔۔ : وہ لوگ جنھیں علم دیا گیا تھا، کہنے لگے، افسوس تم پر ! اللہ کی نافرمانی کے ساتھ حاصل ہونے والی اس زیب و زینت اور شان و شوکت کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ بدلا کہیں بہتر ہے جو وہ ایمان اور عمل صالح والوں کو عطا کرتا ہے۔ اس آیت میں اللہ کے ثواب سے مراد وہ رزق کریم ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام پر قائم رہ کر محنت و کوشش کے نتیجے میں دنیا اور آخرت میں حاصل ہوتا ہے۔ وَلَا يُلَقّٰىهَآ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ : صبر کی تین قسمیں ہیں، اللہ کے احکام پر صبر یعنی ان کا پابند رہنا، اس کی نافرمانی سے صبر یعنی اس سے بچتے رہنا اور مصیبتوں پر صبر۔ یعنی اللہ کا یہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 79–80

اس سے مراد بنی اسرائیل ہے۔ اس حال میں جو اس نے دنیاوی زندگی کے سامان میں سے جس میں زینت دیکھی اس کے ساتھ وہ ان پر نکلا یعنی کپڑے چوپائے اور عید کے دن بنائو سنگھار۔ غزنوی نے کہا : مراد ہفتہ کا دن ہے : زینتہ کے معنی میں ہے : شاعر نے کہا :۔ شعر میں بالنفوس کے معنی میں ہے وہ ستر ہزار پیروکاروں کے ساتھ نکلا جن کے جسم پر عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے تھے، وہ پہلا شخص تھا جس کے لئے کپڑوں کو عصفر سے رنگا گیا تھا۔ سدی نے کہا : وہ ہزار سفید رنگ کی لونڈیوں، سفید خچروں پر نکلا جن خچروں پر سونے کی زینتیں تھیں اور ارجونی (سرخ) کپڑے ان پر پڑے ہوئے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ منہ نے کہا : سرخ خچروں پر نکلا۔ مجاہد نے کہا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 76–82

قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا 1۔ ابن شیبہ نے المصنف میں وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ان قارون کان من قوم موسیٰ کے بارے میں روایت کیا کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا اور وہ علم کو تلاش کرنا چاہتا تھا یہاں تک کہ اس نے علم کو جمع کرلیا وہ اسی طرح رہا یہاں تک کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر بغاوت کی اور حسد کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے زکوٰۃ لینے کا حکم فرمایا ہے تو اس نے انکار کردیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے مالوں کو کھانے کا ارادہ رکھتا ہے تمہارے پاس نماز کو لائے اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالَ الَّذِيْنَ [اور ان لوگوں نے کہا جن کو ] اُوْتُوا [دیا گیا تھا ] الْعِلْمَ [علم ] وَيْلَكُمْ [تمہارا ستیاناس ] ثَوَابُ اللّٰهِ [اللہ کا (دیا ہوا) ثواب ] خَيْرٌ [بہتر ہے ] لِّمَنْ [اس کے لئے جو ] اٰمَنَ [ایمان لایا ] وَعَمِلَ [اور جس نے عمل کیا ] صَالِحًا ۚ [نیک ] وَلَا يُلَقّٰىهَآ [اور نہیں دی جاتی یہ (توفیق)] اِلَّا [مگر ] الصّٰبِرُوْنَ [ثابت قدم رہنے والوں کو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 80–83

آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے ہے جو زمین میں بلندی اور فساد کا ارادہ نہیں کرتے یہ دو آیتیں ہیں پہلی آیت میں یہ بتایا کہ دار آخرت یعنی موت کے بعد جو مؤمنین صالحین کو ٹھکانہ ملے گا اسے ہم انہیں لوگوں کے لیے خاص کردیں گے جو زمین میں بڑائی، برتری اور بلندی کا ارادہ نہیں کرتے اور فساد کو نہیں چاہتے۔ اور اچھا انجام متقیوں ہی کا ہے، بندوں کو تواضع کے ساتھ رہنا لازم ہے۔ ساری بڑائی خالق اور مالک ہی کے لیے ہے جس نے سب کو پیدا فرمایا ہے۔ اس کی بڑائی اور کبریائی کے سامنے ہر بندہ کو جھک جانا لازم ہے۔ جن لوگوں کو جتنی زیادہ معرفت حاصل ہوتی ہے ان میں اسی قدر تواضع ہوتی ہے۔ جو لوگ دنیا میں بڑا بننا چاہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 76–82

ذکر قصہء قارون برائے عبرت مغرور ان مال ودولت قال اللہ تعالیٰ ان قارون کان من قوم موسیٰ ۔۔۔ الی۔۔۔ ویکانہ لا یفلح الکفرون۔ (ربط) شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے تکبر اور فساد کا ذکر کیا۔ ان فرعون علا فی الارض اور انہ کان من المفسدین اب اخیر سورت میں ایک دوسرے متکبر اور مفسد یعنی قارون کا ذکر کرتے ہیں کہ فرعون کی طرح قارون بھی تکبر اور فساد فی الارض کی وجہ سے تباہ اور برباد ہوا۔ یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ متاع دنیا ہیچ ہے اور چند روزہ ہے اور فانی ہے اور گزرگاہ ہے اور آرائش ہے اور اس کے شیدائی گمراہ ہیں اور بقول حافظ شیرازی۔ مرا در منزل جاناں چہ امن وعیش چوں ہر دم جرس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 80–81

76:۔ قارون کی سرکشی اور اس کے عناد و استکبار اور انکار و جحود کی وجہ سے ہم نے اس کو اور اس کے عالیشان محلات کو خزائن دولت سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ فما کان لہ من فئۃ الخ، دنیا میں ہزاروں افراد اس کی خدمت اور امداد و اعانت کرنے والے موجود تھے مگر عذاب خداوندی سے اسے کوئی بھی نہ بچا سکا۔ قارون کے بارے میں کئی بےسرو پا قصے مشہور ہیں جن میں سے کوئی بھی صحیح نہیں۔ مثلاً خزانے اس قدر زیادہ تھے کہ ان کی چابیاں ساٹھ یا چالیس خچریں اٹھا سکتی تھیں جب کہ ایک چابی صرف انگلی کی مقدار لمبی تھی اور اتنی ہلکی کہ چمڑے سے بنائی گئی تھی۔ اسی طرح جب وہ شان و شوکت سے نکلا تو اس کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں ستر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 79–82

ربط آیات : اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہم قوم قارون کا ذکر کیا جو سرکش اور مغرور ہوچکا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال و دولت پر اتراتا تھا ، اس کی قوم کے لوگوں اور خود موسیٰ نے بھی سمجھایا کہ وہ اس مال پر غرور وتکبر کرنے کی بجائے اس کے ذریعے آخرت کا بہتر گھر تلاش کرے۔ نیز یہ کہ مخلوق اسی طرح احسان کرے جس طرح اللہ نے اسے مال و دولت دے کر اس پر احسان کیا ہے ، مگر وہ سخت مغرور تھا ، کہنے لگا مجھ پر کسی کا کیا احسان ہے۔ یہ دولت تو میں نے اپنے علم و ہنر کی بنا پر کمائی ہے ، مگر اللہ نے تنبیہ فرمائی کہ اس شخص کو اتنا بھی پتہ نہیں چلا کہ اس جیسی متکبر قوموں کو ہم نے پہلے ہی ہلاک کیا ہے۔ وہ تو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللہِ خَيْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا۝ 0ۚ وَلَا يُلَقّٰىہَآ اِلَّا الصّٰبِرُوْنَ۝ 80 ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] ( و ی ل ) الویل اصمعی نے کہا ہے کہ ویل برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور حسرت کے موقع پر ویل اور تحقیر کے لئے ویس اور ترحم کے ویل کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ اور جن لوگوں کا یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 76–81

ترکیب : ماان مفاتحہ، بمعنی الذی فی موضع نصب باتینا وان و اسمھا و خبرھا صلۃ الذی ولھذا کسرت ان، تنوءا الخ ای ثقلھم فالباء، للتعدیۃ وقد یقال اناء تہ ونوء ت، بہ وقیل ھو علی القلب ای لتنوء بہ العصبۃ و من الکنوز متعلق باتیناہ واذقال لہ ظرف لاتیناہ والا وجہ ان یقال اذکر اذ قال لہ قومہ۔ فیما اتاک، مصدریۃ او بمعنی الذی وھی فی موضع الحال اے واطلب منقلبا فیما اتاک اللہ اجر الآخرۃ ویجوزان یکون ظرفا لاتبغ علی علم فی موضع الحال وعندی صفۃ لعلم من قبلہ ظرف لا ھلکنا من ھو مفعول۔ تفسیر : کلام اس میں آگیا تھا کہ ما اوتیتم من شیئٍ فمتاع الحیوۃ الدنیا و زینتہا و ما عند اللہ خیر و ابقی کہ دنیا کے ناز و نعم بےثبات…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَیْلَـکُمْ ثَوَابُ اللّٰہِ خَیْرٌلِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ج وَلاَ یُلَقّٰھَآ اِلاَّ الصّٰبِرُوْنَ ۔ (القصص : 80) (اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے افسوس ہے تم پر، اللہ کا ثواب بہتر ہے اس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو۔ ) قوم کے تربیت یافتہ لوگوں کا ردعمل جو لوگ علم کی دولت سے بہرہ ور تھے یعنی جن کی نگاہیں دولت کی چمک نے خیرہ نہیں کی تھیں جن پر دولت میں استغراق اور اسے مقصد زندگی بنانے کا نتیجہ بھی واضح تھا وہ اس علم حقیقی سے آگاہ تھے کہ انسان کی ترقی درحقیقت اقدارِانسانیت کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 79–81

فہم القرآن ربط کلام : قارون کا عملاً فخر و غرور کا اظہار کرنا اور اس کا بدترین انجام ہونا۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک دن قارون لباس فاخرہ پہنے ہوئے نوکروں، چاکروں اور اپنے دوست و احباب کے ساتھ پورے جاہ و جلال کے ساتھ بڑے جلوس کی شکل میں نکلا۔ تاکہ جاہ و حشمت اور اپنی دولت و ثروت کی لوگوں پر دھاک بٹھا سکے۔ وہ اس جاہ و جلال اور شوکت و حشمت کے ساتھ نکلا کہ کمزور ایمان والے لوگ اس قدر مرعوب ہوئے کہ بےساختہ پکار اٹھے کہ کاش ! ہمیں بھی اس طرح کا مال اور اسباب دئیے جاتے جس طرح قارون کو دئیے گئے ہیں۔ یہ تو بڑا ہی خوش بخت اور اچھے نصیب والا ہے۔ لوگوں کی مرعوبیت دور کرنے اور ان کی حقیقی نعمتوں کی طرف…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

80: وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُو الْعِلْمَ (اور کہا ان لوگوں نے جن کو علم ملا) ۔ ثواب ٗ عقاب اور فنائے دنیا اور بقائے عقبیٰ کے متعلق انہوں نے قارون پر رشک کرنے والوں سے کہا۔ وَیْلَکُمْ (تم پر افسوس ہے) ۔ اس کلمہ کی اصل ویلک ہے۔ یہ ہلاکت کی بددعا ہے۔ پھر ڈانٹ وردع کے لئے استعمال ہونے لگا۔ اور ایسی چیز پر آمادہ کرنے کے لئے جو ناپسند ہو۔ نحو : یہ فعل محذوف کا مفعول ہے۔ ای الزمکم اللّٰہ ویلکم کذا فی التبیان فی اعراب القرآن۔ ثَوَابُ اللّٰہِ خَیْرٌ لِّمَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا یُلَقّٰہَآ (اللہ تعالیٰ کا بدلہ بہت بہتر ہے اس شخص کے لئے جو ایمان لایا اور اس نے نیک اعمال کیے اور یہ انہی کو دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

80۔ وقال الذین اوتوالعلم، ، ابن عباس نے فرمایا کہ اس سے بنی اسرائیلیوں کے بڑے بڑے علماء مراد ہیں مقاتل کا بیان ہے کہ اوتوالعلم سے مراد وہ ہے جس کا وعدہ اللہ نے آخرت میں کیا ہے وہ ان لوگوں کے سامنے یہ تمنا کریں گے کہ کاش ہمیں بھی قارون کی طرح مال دیاجاتا جس طرح دنیا میں قارون کو دیا گیا، ویلکم ثواب اللہ خیر، اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو ثواب واجر پا گیا وہ خیر ہے۔ لمن امن ، اور اللہ کی توحید کو سچاجانا۔ وعمل صالحا، جتناقارون کو دنیا میں دیا گیا۔ ” ولایلقاھا ، الالصابرون۔ ،، مقاتل کا بیان ہے کہ ان کو نہیں عطا کیا گیا نیک اعمال کی توفیق ان کو نہیں دی گئی، کلبی نے اس کا ترجمہ کیا ہے کہ ان کو آخرت کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 76–84

76 تا 84۔ معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا اور اللہ تعالیٰ کا دشمن منافق تھا۔ جیسے سامری منافق تھا کثرت مال کے سبب سے وہ اترا گیا تھا اس کے اترانے پر اللہ تعالیٰ نے اس کو برباد کردیا قارون کے خزانوں کی کنجیاں چمڑے کی تھیں تاکہ وہ کنجیاں ہلکی رہیں کیوں کہ جب دہ کہیں جاتا تھا تو کنجیاں اپنے ساتھ رکھتا تھا مجاہد کے قول کے موافق عصبہ دس سے لے کر پندرہ آدمیوں کی جماعت تک کو کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فَرِحِیْن کی تفسیر اترانے والوں کی فرمائی ہے حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس قدر خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت والی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 76–82

اللہ تبارک و تعالیٰ قارون کے احوال اور اس کے کرتوتوں اور ان کرتوتوں کی پاداش میں اس کے ساتھ جو کیا گیا ‘ اس کے ساتھ خیر خواہی اور جو اسے نصیحت کی گئی تھی ان سب کے بارے میں خبر دیتا ہے ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان قارون کان من قوم موسٰی) یعنی قارون ‘ بنی اسراتیل میں سے تھا جن کو تمام جہانوں پر فضیلت اور اپنے دور میں ان کو سب پر فوقیت دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ ‘ نے ان کو اپنے احسانات سے نوازا پس ان کا حال استقامت سے مناسبت رکھتا تھا ‘ مگر قارون اپنی قوم کے راستے سے منحرف ہوگیا ‘ اس نے ان پر ظلم کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی کیونکہ بڑے بڑے امور م اس کے سپرد کئے تھے۔ (واٰتینٰہ من الکنوز) ”…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–88

سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

116 علم حقیقی کی روشنی ہی اصل روشنی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں کو حق اور حقیقت کے علم کی روشنی بخشی گئی تھی انہوں نے ان لوگوں سے کہا کہ آخرت کا ثواب ایمان والوں کے لیے اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ سو وہ لوگ راہ حق پر ثابت قدم رہتے ہیں اور کسی بھی لالچ یا خوف سے ان کے قدم ڈگمگانے نہیں پاتے۔ پس اصل علم وہی علم ہے جو انسان کو حق اور حقیقت سے آگہی بخشتا ہے اور اس علم حقیقی کی روشنی ہی وہ اصل اور حقیقی روشنی ہے جو انسان کیلئے اصل حقائق کو روشن کرتی اور اس کو مہالک سے آگہی بخشتی ہے۔ یہ علم اگر کسی کو حاصل نہ ہو تو وہ سراسر اندھیروں میں ہے اگرچہ وہ اپنے آپ کو بہت کچھ کہتا اور سمجھتا ہو اور خواہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 76–85

قارون کی سرکشی اور اس کا انجام بد تشریح : قارون کا واقعہ ‘ غرور ‘ زرپرستی ‘ اور اللہ سے دوری اور کفار کے اس اعتراض کا بہترین جواب ہے سیدنا محمد ﷺ کے علاوہ نبوت عرب کے کسی امیر کبیر سردار کو کیوں نہیں سونپی گئی۔ قارون سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ یہ بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون وہامان کے ساتھ جا ملا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیشمار مال و دولت دے رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ بجائے شکر گزار الٰہی ہونے کے کفر و شرک اور دولت کے نشے میں اپنی قوم سے بھی باغی ہوگیا تھا۔ اور یوں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین میں فرعون، ہامان اور یہ تیسرا قارون بھی شامل ہوگیا تھا۔ اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 76–82

آیات 76 تا 82 اسرارو معارف دولت دنیا کا انجام تو قارون کے واقعہ میں ظاہر ہے کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا وہی خوش نصیب قوم جسے موسیٰ (علیہ السلام) کے طفیل فرعون سے نجات ملی اور سمندر نے جس کی خاطر راستے چھوڑ دیئے جس قوم پر اللہ کے بہت احسانات تھے ان میں سے وہ بھی تھا۔ مفسرین کرام کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد تھا مگر بگڑ گیا اور پوری قوم کے ساتھ زیادتی کرتا تھا اور انہیں حقیر جانتا تھا حالانکہ اللہ نے اسے اس قدر مال و دولت بخشا کہ کہ بہت بڑی اور طاقتور جماعت بھی اس کے خزانوں کی کنجیاں اٹھانے سے قاصر تھی۔ اس قدر وسیع و عریض خزانے بھرے تھے اس پر قوم نے اس سے کہا کہ اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

1 ۔ یعنی اپنا اصلی گھر آخرت کو سمجھتے ہیں۔ دنیا کی تکالیف کو عارضی اور چند روزہ سمجھ کر کسی نہ کسی طرح گزار دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شکوہ شکایت کا کوئی لفظ زبان پر نہیں لاتے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” دنیا سے آخرت کو وہی بہتر جانتے ہیں جن سے محنت سہی جاتی ہے۔ اور بےصبر لوگ حرص کے مارے دنیا کی آرزو پر گرتے ہیں۔ نادان آدمی دنیا دار کی آسودگی کو جانتا ہے (یعنی اس کی آسودگی کو دیکھ کر سمجھتا ہے کہ یہ بڑا قسمت والا ہے) اس کی فکر کو اور آخر کی (یعنی آخرت کی) ذلت اور سوجائی (یعنی سو جگہ) خوشامد کرنے کو نہیں دیکھتا ہے کہ دنیا میں آرام ہے تو دس بیس برس اور مرنے کے بعد کاٹنے ہیں ہزاروں برس۔ “

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:80) ویلکم مضاف مجاف الیہ۔ تمہاری ہلاکتر۔ بطور کلمہ حسرت و مدامت یا کلمہ زجر استعمال ہوتا ہے۔ ویل بمعنی ہلاکت۔ عذاب۔ دوزخ کی ایک وادی۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ حیف ہے تم پر۔ تم مرو۔ ثواب اللہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اللہ کا ثواب۔ ثواب۔ انعام۔ جزائ۔ بدلہ۔ یہاں مراد جنت بھی ہوسکتی ہے۔ لایلقھا : لایلقی۔ مضارع منفی مجہول ۔ واحد مذکر غائب۔ نہیں دیا جائے گا کوئی شخص وہ ثواب۔ یعنی نہیں دیا جائے وہ ثواب (مگر صبر کرنے والوں کو) ۔ لقی فلان الشیئ۔ کوئی چیز کسی کی طرف پھینکنا۔ تلقیۃ (تفعیل) مصدر۔ ثواب کو اس کے مفہوم (المثوبۃ او الجنۃ) کی رعایت سے مؤنث لایا گیا ہے۔ یہ یلقی کا مفعول ثانی ہے مطلب یہ کہ یہ جزاء…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 79–82

لغات القرآن آیت نمبر (79 تا 82 ) ۔ خرج (وہ نکلا) ۔ زینتہ (زیب وزینت۔ خوبصورتی) ۔ یلیت (اے کاس ایسا ہوتا) ۔ ذوحظ (نصیب والا۔ جوش نصیب) ۔ ویلکم (تمہاری خرابی۔ تم پر افسوس ہے) ۔ لا یلقی (وہ نہیں ملتا۔ نصیب نہیں ہوتا) ۔ خسفنا (ہم نے دھنسادیا) ۔ فئتہ (جماعت۔ گروہ ) ۔ تمنوا (تمنا کی تھی) ۔ ویکان (ہائے شامت۔ ہائے افسوس) ۔ من (اس نے احسان کیا) ۔ تشریح : آیت نمبر (79 تا 82 ) ۔ ” اگر ایمان اور عمل صالح نہ ہو تو مال و دولت کا نشہ آدمی لو دیوانوں جیسی حرکتیں کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ قارون جو نہایت چالاک، عیار اور دولت پرست آدمی تھا وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف ہر ممکن سازشیں کرتا رہتا تھا تاکہ ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 79–84

قارون کا دھنسنا۔ (ف 1) ایک روز اپنی قوم کے روبروبڑی تیاری و سامان زیوروں سے آراستہ ریشمی لباس پہنے گھوڑوں پر سوار نکلاجب دنیا کے طلب گاروں نے یہ دیکھا تو تمنا کی کہ کس طرح ہم کو بھی ایسا ہی سامان ملتا۔ اور یہ بھی ان دنیا کے طلب گاروں نے کہا کہ قارون بڑانصیبے والا ہے۔ جب ان کی یہ بات قوم کے علم والوں نے سنی تو کہنے لگے کہ کیوں خرابی میں پڑتے ہو اللہ کا دیا ہواثواب دنیا کے مال ومتاع سے ہزار درجہ بہتر ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے گھروالوں کو زمین کے اندر دھنسادیا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ، حضرت موسیٰ پر جب خدا کی طرف سے زکوۃ کا حکم آیا کہ دسواں حصہ مال کا ادا کریں حکم الٰہی سے حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 79–80

[49] اللہ کے ہاں کا ثواب سے مراد ہے رزق کریم جو حدود اللہ کے اندر رہتے ہوئے محنت و کوشش کے نتیجے میں انسان کو دیا جاتا ہے اور آخرت میں نصیب ہوتا ہے۔ [50] یعنی اللہ کے ہاں اجر کا مستحق وہی ہوتا ہے جو اپنے نفس کو دنیوی حرص و طمع سے روکے رکھے اور جس میں اتنا تحمل اور اتنی ثابت قدمی موجود ہو کہ روزی حاصل کرنے کے لئے حلال طریقے ہی اختیار کرنے پر جما رہے خواہ اسے کبھی روٹی میسر نہ ہو یا لکھ پتی بن جانا نصیب ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 80–81

حل لغات : خسفنا ۔ دھنسا دیا بالامس ۔ گزشتہ کل ویکانّ اللہ ۔ وے ۔ کانّ سے بالکل الگ ایک کلمہ ہے اس کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب کوئی اپنی غلطی پر متنبہ ہو ۔ اور ندامت کا اظہار کرے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

80۔ اور جن لوگوں کو صحیح علم و فہم عطا کیا گیا تھا انہوں نے فرمایا اے دنیا کے طالبو ! تم پر افسوس ہے ، اللہ تعالیٰ کا وہ ثواب بدرجہا بہتر ہے جو اس کی بارگاہ سے ایسے شخص کو ملتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتا رہے اور یہ مرتبہ سوائے صبر کرنیوالوں اور ثابت قدم رہنے والوں کے اور کسی کو میسر نہیں ہوا کرتا ۔ حضرت شمعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دوسرے ہمراہی جو اہل علم و فہم تھے ان کو سمجھانے لگے کہ ایسی فانی چیز کی تمنا کیوں کرتے ہو ۔ اس قارون کی زینت و زیبائش سے اللہ تعالیٰ کا ثواب جو ایمان لانے والوں اور اعمال نیک کرنیوالوں کو ملتا ہے وہ ہزارہا درجے اس سے بہتر اور اچھا ہے۔ یہ کرامت اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 79–80

ف 4۔ پس تم لوگ ایمان کی تکمیل و عمل صالح کی تحصیل میں لگو، اور حد شرعی کے اندر دنیا حاصل کرو اس کی حرص و طمع سے صبر کرو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم کے اہل دانش نے ان کے چہروں سے بھانپ لیا اور ان کو مخاطب کرکے کہا : 80۔ بنی اسرائیل کے ارباب بصیرت نے ایک نظر قارون اور اس کے جتھے پر ڈالی اور پھر اپنی قوم کے لوگوں کے چہروں کو دیکھا تو ساری بات سمجھ گئے اور پھر فورا مداخلت کرتے ہوئے انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں کو کہا کہ خبردار ! اد دنیوی زیب وزینت پر نہ جانا اور اس کے لالچ میں کہیں گرفتار نہ ہوجانا تم نے شاید نہ دیکھا ہو یا نہ سنا ہو لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس دولت و ثروت کا انجام بد کیا ہے کہ قوم کی لوٹی ہوئی دولت اور قوم کو بیچ کر اکٹھا کیا ہوا مال اور اس کا انجام کیا ہوتا ہے اور جو پیچھے ہوتا آیا ہے یقینا اس کا بھی وہی انجام ہوگا کیونکہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 79–80

وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ (And said those who were given knowledge - 28:80). This verse has compared the knowledgeable persons with الَّذِينَ يُرِ‌يدُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (Those who are desirous of the worldly life - 28:79), which clearly indicates that it is not the trait of knowledgeable persons to aspire for the acquisition of wealth and to make it the object of life. They always keep their eyes toward the lasting benefits of the Hereafter. As for the mundane wealth, they take it only to fulfill their day-to-day needs, and stay content with that.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 79–80

100 That is, "'This kind of character and the way of thinking and the hounty of Allah's reward falls to the lot of only those who stick firmly and steadfastly and patiently to the lawful ways in life, whether by so doing they are able to earn only a bare living, or are enabled to become millionaires, but are never inclined to follow the unlawful ways even if they promise aII the benefits and wealth of the world. In this verse, "Allah's reward" means the bounteous provision that is gained by man in the world and the Hereafter as a result of labour acrd toil undertaken within the bounds set by…

Read the full tafseer →