Explained with ayahs 79–80
سامان تعیش کی فروانی
قارون ایک دن نہایت قیمتی پوشاک پہن کر زرق برق عمدہ سواری پر سوار ہو کر اپنے غلاموں کو آگے پیچھے بیش بہا پوشاکیں پہنائے ہوئے لے کر بڑے ٹھاٹھ سے اتراتا ہوا اکڑتا ہوا نکلا اسکا یہ ٹھاٹھ اور یہ زینت وتجمل دیکھ کر دنیا داروں کے منہ میں پانی بھر آیا اور کہنے لگے کاش کہ ہمارے پاس بھی اس جتنا مال ہوتا۔ یہ تو بڑا خوش نصیب ہے اور بڑی قسمت والا ہے۔ علماء کرام نے ان کی یہ بات سن کر انہیں اس خیال سے روکنا چاہا اور انہیں سمجھانے لگے کہ دیکھو اللہ نے جو کچھ اپنے مومن اور نیک بندوں کے لئے اپنے ہاں تیار کر رکھا ہے وہ اس سے کروڑہا درجہ بارونق دیرپا اور عمدہ ہے۔ تمہیں ان درجات کو حاصل کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
سورة القصص 97
اصل الفاظ ہیں اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ ، اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ میں نے جو کچھ پایا ہے اپنی قابلیت سے پایا ہے، یہ کوئٰ فضل نہیں ہے جو استحقاق کے بجائے احسان کے طور پر کسی نے مجھ کو دیا ہو اور اب مجھے اس کا شکریہ اس طرح ادا کرنا ہو کہ جن نااہل لوگوں کو کچھ نہیں دیا گیا ہے انہیں میں فضل و احسان کے طور پر اس میں سے کچھ دوں، یا کوئی خیرات اس غرض کے لیے کروں کہ یہ فضل مجھ سے چھین نہ لیا جائے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میرے نزدیک تو خدا نے یہ دولت جو مجھے دی ہے میرے اوصاف کو جانتے ہوئے دی ہے، اگر میں اس کی نگاہ میں ایک پسندیدہ انسان نہ ہوتا تو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ ، بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہاں علم سے مراد علم تورات ہے جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ قارون تورات کا حافظ اور عالم تھا اور ان ستر اصحاب میں سے تھا جن کو حضرت موسیٰ ؑ نے میقات کے لئے منتخب فرمایا تھا۔ مگر اس کو اپنے اس علم پر ناز و غرور پیدا ہوگیا اس کو اپنی ذاتی کمال سمجھ بیٹھا اور اس کے اس کلام کا مطلب یہی تھا کہ مجھے جو کچھ مال و دولت ملا ہے میرے اپنے ذاتی کمال علمی کے سبب ملا ہے اس لئے میں اس کا خود حقدار ہوں اس میں مجھ پر کسی کا احسان نہیں۔ مگر ظاہر یہ ہے کہ یہاں علم سے مراد معاشی تدبیروں کا علم ہے مثلاً تجارت صنعت وغیرہ کا جن سے مال حاصل ہوتا ہے…
Read the full tafseer →قارون کا جلوس اور عوام پر اس کا اثر
معلوم ہوتا ہے اس کے اسی دوران میں اپنے زور و اثر اور اپنی قوت و جمعیت کی نمائش کے لئے کوئی جلوس نکالا تاکہ حضرت موسیٰ ؑ اور انکے ساتھیوں کو مرعوب اور اپنی جمعیت میں اضافہ کرے۔ فی زینتہ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس موقع پر اس نے اپنی دولت و حشمت کا خاص طور پر مظارہ کیا اس لئے کہ عوام کا الانعام کو سب سے زیادہ یہی چیز متاثر کرتی ہے۔ یہ بعینیہ اسی طرح کی حرکت ہے جس کے تماشے آئے دن آپ کے لیڈر حضرات آپ کے شہروں اور قصبوں میں دکھاتے رہتے ہیں۔ اس کا اثر، ان لوگوں پر جو اسی دنیا کی دولت کو سب کچھ سمجھتے ہیں، یہ پڑا کہ وہ اس کا نعرہ لگانے لگے کہ بیشک قارون بڑا…
Read the full tafseer →79-1یعنی زینت و آرائش کے ساتھ۔
79-2یہ کہنے والے کون تھے ؟ بعض کے نزدیک ایماندار ہی تھے جو اس کی امارت و شوکت کے مظاہرے سے متاثر ہوگئے تھے اور بعض کے نزدیک کافر تھے۔
Read the full tafseer →47: یعنی اللہ تعالیٰ کو مجرموں کے حالات کا پورا علم ہے، اس لیے اس کو حالات جاننے کے لیے ان سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں آخرت میں ان سے جو سوالات ہوں گے، وہ ان کا جرم خود ان پر ثابت کرنے کے لیے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
فخرج علی قومہ فی زینتہ ۔۔۔۔۔ ولا یلقھا الا الصبرون (79 – 80) ” “۔ “۔ دنیا کی اس زندگی کے اس فتنے کے سلسلے میں دو قسم کے ردعمل سامنے آئے۔ ایک گروہ اس کی گرفت میں آگیا ، مبہوت ہوگیا۔ اس منظر کے سامنے بچھ گیا اور اس پر ٹوٹ پڑا اور دوسرے گروہ کا ردعمل یہ تھا کہ وہ اس کے سامنے کھڑا ہوگیا ، نظر بلند رکھی ، امیدیں اس ثواب کے ساتھ وابستہ کرلیں جو اللہ کے ہاں محفوظ ہے یوں اس کے نزدیک مال کی قوت کے مقابلے میں ایمان کا ترازو بھاری رہا۔
قال الذین یریدون ۔۔۔۔۔ لذو حظ عظیم (28: 79) ” وہ لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا۔ یہ تو بڑا نصیب والا ہے…
Read the full tafseer →8 یعنی لباس فاخرہ پہن کر بہت سے خدم و حشم کے ساتھ بڑی شان و شکوہ اور ٹیپ ٹاپ سے نکلا، جسے دیکھ کر طالبین دنیا کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ کہنے لگے کاش ہم بھی دنیا میں ایسی ترقی اور عروج حاصل کرتے جو اس کو حاصل ہوا۔ بیشک یہ بڑا ہی صاحب اقبال اور بڑی قسمت والا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 79 فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ فِیْ زِیْنَتِہٖ ط ”
اپنی قوم پر رعب جمانے کے لیے وہ اپنے َ خدم و حشم کے ساتھ اپنی دولت اور آرائش و زیبائش کا اظہار کرتے ہوئے نکلا۔ چناچہ اس کی شان و شوکت کو دیکھ کر :
قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا یٰلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ قَارُوْنُلا ”
وہ لوگ جو دنیوی زندگی ہی کے طالب تھے ‘ اسے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ کر اندر ہی اندر اپنی محرومیوں پر پچھتاتے اور اس کی خوش نصیبی کی داد دیتے رہے کہ :
اِنَّہٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ ”
دنیا پرست اور ظاہر بین لوگوں کی نظر میں تو کسی شخص کی کامیابی اور خوش بختی کا معیار یہی ہے کہ اس کے پاس کس قدردولت…
Read the full tafseer →107 یعنی اس کے کچھ گھڑ سوار خادم اس لئے آگے چل رہے تھے اور خود لباس فاخرہ پہنے ایک عمدہ گھوڑے پر سوار تھا۔ پھر اس کے پیچھے بھی اس کے خادم گھڑ سواروں کا دستہ تھا۔ اس سے دراصل وہ اپنی شان و شوکت اور ٹھاٹھ باٹھ کا لوگوں کے سامنے مظاہرہ کرنا چاہتا تھا۔ اور یہی وہ متکبرانہ مظاہرہ ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے اور اللہ ایسے لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرتا۔ مگر جو لوگ دنیا پر ربیجھے ہوئے ہوں، انھیں ایسی ہی مظاہرہ ترقی کی انتہائی منزل نظر آتا ہے۔ چناچہ دنیا دار مادہ پرستوں نے جب قارون کو اس ٹھاٹھ باٹھ سے نکلتے دیکھا تو خود بھی اس منزل تک پہنچنے کی آرزو کرتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ شخص تو بڑا ہی خوش نصیب ہے۔…
Read the full tafseer →105۔ یعنی ان کے اوپر محبت اسی دنیا اور اس کی مادی زیب وزینت کی غالب تھی۔ (آیت) ” یریدون الحیوۃ الدنیا “۔ یعنی اسی زندگی کے زیب وزینت کو اپنا مقصد وجود بنائے ہوئے اور اپنا اصلی مطمح نظر قرار دیئے ہوئے تھے۔
106۔ دوسروں کے ظاہری سازوسامان یا ٹیپ ٹاپ پر پھسل پڑنا فطرت بشری میں ہمیشہ سے داخل رہا ہے۔ یہاں اہل ایمان بنی اسرائیل کی زبان پر اس کلمہ رشک کا آنا۔ اسی فطرت بشری کا ظہور تھا (آیت) ” یلیت ..... قارون “۔ یہ تمنا حرص کی بنا پر تھی۔ اس سے کافر ہونا لازم نہیں آتا۔ جیسا اب بھی بعضے آدمی باوجود مسلمان یہود میں مریدین کی ایک بڑی جماعت کا ذکر ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” وقال الذین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیت نمبر 76 تا 82
ترجمہ : قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تھا (یعنی) چچا زاد اور خالی زاد بھائی تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا تھا، کبر و تعلّی اور
کثرت مال کے ذریعہ لوگوں کے مقابلہ میں تکبر کرنے لگا تھا، اور ہم نے اس کو اس قدر خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں کئی کئی زور آور لوگوں کو گراں بار کردیتے تھیں یعنی ان کو بوجھل کردیتی تھیں باتعدیہ کے لئے ہے (اور اٹھانے والی جماعت کے افراد کی تعداد) کہا گیا ہے ستر تھی اور کہا گیا چالیس تھی اور کہا گیا کہ دس تھی، اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں، اس وقت کو یاد کرو جب اس کو قوم بنی اسرائیل کے مومن لوگوں نے اس سے کہا کثرت مال پر مت اتراو اقعی…
Read the full tafseer →فخرج علی قومہ فی زینتہ قال الذیہ یریدون الحیوۃ الدنیا یلیت لنا مثل ما اوتی قارون
انہ لدو حظ عظیم . پھر (ایک بار) وہ اپنی قوم کے سامنے بن سنور کر (شان و شوکت کے ساتھ) نکلا تو (اس کی برادری میں سے) جو لوگ (صرف) دنیاوی زندگی کے طلب گار تھے انہوں نے کہا کہ کاش ! ہمارے پاس بھی ویسی ہے (دولت و راحت) ہوتی جو قارون کو دی گئی ہے ‘ یہ یقیناً بڑا خوش نصیب ہے۔
ابراہیم نخعی نے کہا کہ قارون اور اس کی قوم والے (نوکر چاکر اور کنبہ ‘ خاندان کے آدمی) سبز سرخ لباس پہن کر نکلے۔ ابن زید نے کہا کہ قارون ستر ہزار آدمیوں کو جو زعفرانی لباس میں تھے ‘ ساتھ لے کر نکلا۔ مجاہد نے کہا کہ قارون اپنے ساتھیوں کو جو زعفرانی…
Read the full tafseer →(79) ایک بار قارون جو اس کی شان و آرائش تھی یعنی گھوڑوں، خچروں، غلاموں اور لونڈیوں اور سونے چاندی کے زیورات اور طرح طرح کے ہتھیار اور کپڑوں کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا تو جو لوگ دنیا کے طالب تھے وہ کہنے لگے کیا خوب ہوتا کہ ہمیں بھی وہ ہی مال و دولت ملا ہوتا جیسا کہ قارون کو ملا ہے۔ واقعی وہ بڑا خوش نصیب ہے۔
Read the full tafseer →فَخَـــرَجَ عَلٰي قَوْمِهٖ فِيْ زِيْنَتِهٖ : قارون نے مال و دولت پر اپنے کبرو غرور کے زبانی اظہار کو کافی نہیں سمجھا، بلکہ اس نے لوگوں کے سامنے اس کی نمائش کا بھی اہتمام کیا۔ ”فِيْ زِيْنَتِهٖ“ (اپنی زینت میں) کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ اس نے اس موقع پر اپنی دولت و حشمت کا کیا کچھ اہتمام کیا ہوگا۔ اس طرح وہ موسیٰ ؑ اور ان کے ساتھیوں کو مرعوب کرنا چاہتا تھا، تاکہ ان میں سے کچھ لوگ ٹوٹ کر اس سے آ ملیں، کیونکہ عوام کی اکثریت ایسے مظاہروں سے متاثر ہوتی ہے۔ تفاسیر میں اس کی زینت کی کچھ تفصیل بیان ہوئی ہے، مگر اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس کا تانا بانا اسرائیلی روایات ہیں، مثلاً تفسیر طبری میں ہے کہ قتادہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
اس سے مراد بنی اسرائیل ہے۔ اس حال میں جو اس نے دنیاوی زندگی کے سامان میں سے جس میں زینت دیکھی اس کے ساتھ وہ ان پر نکلا یعنی کپڑے چوپائے اور عید کے دن بنائو سنگھار۔ غزنوی نے کہا : مراد ہفتہ کا دن ہے : زینتہ کے معنی میں ہے : شاعر نے کہا :۔
شعر میں بالنفوس کے معنی میں ہے وہ ستر ہزار پیروکاروں کے ساتھ نکلا جن کے جسم پر عصفر سے رنگے ہوئے کپڑے تھے، وہ پہلا شخص تھا جس کے لئے کپڑوں کو عصفر سے رنگا گیا تھا۔
سدی نے کہا : وہ ہزار سفید رنگ کی لونڈیوں، سفید خچروں پر نکلا جن خچروں پر سونے کی زینتیں تھیں اور ارجونی (سرخ) کپڑے ان پر پڑے ہوئے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ منہ نے کہا : سرخ خچروں پر نکلا۔ مجاہد نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا
1۔ ابن شیبہ نے المصنف میں وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ان قارون کان من قوم موسیٰ کے بارے میں روایت کیا کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا اور وہ علم کو تلاش کرنا چاہتا تھا یہاں تک کہ اس نے علم کو جمع کرلیا وہ اسی طرح رہا یہاں تک کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر بغاوت کی اور حسد کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے زکوٰۃ لینے کا حکم فرمایا ہے تو اس نے انکار کردیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے مالوں کو کھانے کا ارادہ رکھتا ہے تمہارے پاس نماز کو لائے اور…
Read the full tafseer →فَخَـــرَجَ [تو وہ نکلا ] عَلٰي قَوْمِهٖ [اپنی قوم پر ] فِيْ زِيْنَتِهٖ ۭ [اپنی زینت میں ] قَالَ الَّذِيْنَ [تو ان لوگوں نے کہا جو ] يُرِيْدُوْنَ [خواہش رکھتے تھے ] الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا [دنیوی زندگی کی ] يٰلَيْتَ [اے کاش ] لَنَا [ہمارے لئے ہوتا ] مِثْلَ مَآ [اس کے جیسا جو ] اُوْتِيَ [دیا گیا ] قَارُوْنُ ۙ [قارون کو ] اِنَّهٗ [بیشک وہ ] لَذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ [یقینا بڑے نصیب والا ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
(فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ فِیْ زِیْنَتِہٖ ) (الیٰ الآیات الاربع) قارون کو اپنے مال پر فخر بھی تھا تکبر بھی تھا، ایک دن ریاکاری کے طور پر مالی حیثیت دکھانے کے لیے ٹھاٹھ باٹھ ساز و سامان کے ساتھ نکلا (جیسے اس دور میں مالدار لوگ بعض علاقوں میں ہاتھی پر بیٹھ کر بازاروں میں نکلتے ہیں اور بعض لوگ بلا ضرورت بڑی بڑی کوٹھیاں بناتے ہیں پھر ریا کاری کے لیے لوگوں کی دعوتیں کرتے ہیں اور آنے والوں کو مختلف کمرے اور ان کا ساز و سامان دکھاتے پھرتے ہیں حد یہ کہ بیٹی کو جو جہیز دیتے ہیں وہ بھی ریا کاری کے ساتھ گاڑی کے ساتھ آگے پیچھے اس طرح روانہ کرتے ہیں کہ ایک ایک چیز کو ایک ایک مزدور ہاتھ میں لے کر یا سر پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ذکر قصہء قارون برائے عبرت مغرور ان مال ودولت
قال اللہ تعالیٰ ان قارون کان من قوم موسیٰ ۔۔۔ الی۔۔۔ ویکانہ لا یفلح الکفرون۔
(ربط) شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے تکبر اور فساد کا ذکر کیا۔ ان فرعون علا فی الارض اور انہ کان من المفسدین اب اخیر سورت میں ایک دوسرے متکبر اور مفسد یعنی قارون کا ذکر کرتے ہیں کہ فرعون کی طرح قارون بھی تکبر اور فساد فی الارض کی وجہ سے تباہ اور برباد ہوا۔
یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ متاع دنیا ہیچ ہے اور چند روزہ ہے اور فانی ہے اور گزرگاہ ہے اور آرائش ہے اور اس کے شیدائی گمراہ ہیں اور بقول حافظ شیرازی۔
مرا در منزل جاناں چہ امن وعیش چوں ہر دم جرس…
Read the full tafseer →75:۔ قارون ایک دفعہ اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ، اپنے خدم و حشم کے جلو میں نہایت ہی بیش قیمت لباس اور ساز و سامان کے ساتھ نکلا۔ جب دنیا دار لوگوں نے اس کی شان اور آن بان دیکھی تو بول اٹھے ہائے کاش ! ہمارے پاس بھی اس قدرت دولت ہوتی۔ قارون تو بڑا ہی خوش قسمت ہے۔ وقال الذین اوتوا العلم الخ دنیاداروں کی باتیں سن کر دیندار اور اہل علم نے اس آرزو پر انہیں سرزنش کی اور کہا تم پر افسوس ! تم دنیا کی تمنا کرتے ہو حالانکہ ایمان اور عمل صالح کا ثواب واجر اس سے بدرجہا بہتر ہے۔ لیکن یہ خیال صرف انہی لوگوں کے دلوں میں آتا ہے جو ایمان وعمل صالح پر قائم ہوں اور شہوات و معاصی سے اپنے نفس امارہ کو قابو میں رکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
ربط آیات :
اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہم قوم قارون کا ذکر کیا جو سرکش اور مغرور ہوچکا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال و دولت پر اتراتا تھا ، اس کی قوم کے لوگوں اور خود موسیٰ نے بھی سمجھایا کہ وہ اس مال پر غرور وتکبر کرنے کی بجائے اس کے ذریعے آخرت کا بہتر گھر تلاش کرے۔ نیز یہ کہ مخلوق اسی طرح احسان کرے جس طرح اللہ نے اسے مال و دولت دے کر اس پر احسان کیا ہے ، مگر وہ سخت مغرور تھا ، کہنے لگا مجھ پر کسی کا کیا احسان ہے۔ یہ دولت تو میں نے اپنے علم و ہنر کی بنا پر کمائی ہے ، مگر اللہ نے تنبیہ فرمائی کہ اس شخص کو اتنا بھی پتہ نہیں چلا کہ اس جیسی متکبر قوموں کو ہم نے پہلے ہی ہلاک کیا ہے۔ وہ تو…
Read the full tafseer →فَخَـــرَجَ عَلٰي قَوْمِہٖ فِيْ زِيْنَتِہٖ 0ۭ قَالَ الَّذِيْنَ يُرِيْدُوْنَ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا يٰلَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ قَارُوْنُ 0ۙ اِنَّہٗ لَذُوْ حَظٍّ عَظِيْمٍ 79
خرج
خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ،
( خ رج ) خرج ۔ ( ن)
خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
ترکیب : ماان مفاتحہ، بمعنی الذی فی موضع نصب باتینا وان و اسمھا و خبرھا صلۃ الذی ولھذا کسرت ان، تنوءا الخ ای ثقلھم فالباء، للتعدیۃ وقد یقال اناء تہ ونوء ت، بہ وقیل ھو علی القلب ای لتنوء بہ العصبۃ و من الکنوز متعلق باتیناہ واذقال لہ ظرف لاتیناہ والا وجہ ان یقال اذکر اذ قال لہ قومہ۔ فیما اتاک، مصدریۃ او بمعنی الذی وھی فی موضع الحال اے واطلب منقلبا فیما اتاک اللہ اجر الآخرۃ ویجوزان یکون ظرفا لاتبغ علی علم فی موضع الحال وعندی صفۃ لعلم من قبلہ ظرف لا ھلکنا من ھو مفعول۔
تفسیر : کلام اس میں آگیا تھا کہ ما اوتیتم من شیئٍ فمتاع الحیوۃ الدنیا و زینتہا و ما عند اللہ خیر و ابقی کہ دنیا کے ناز و نعم بےثبات…
Read the full tafseer →فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ فِیْ زِیْنَتِہٖ ط قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوَنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا یٰـلَیْتَ لَنَا مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ قَارُوْنُ لا اِنَّـہٗ لَذُوْحَظٍّ عَظِیْمٍ ۔ (القصص : 79)
(پس وہ پوری شان و شوکت کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا، تو جو لوگ حیات دنیا کے طالب تھے کہنے لگے، کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے، بیشک وہ بڑے نصیبے والا ہے۔ )
قارون کا اظہارِطاقت اور کمزور لوگوں کا تأثر
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جن دنوں حق و باطل کی کشمکش جاری تھی اور قارون اپنے خزانوں اور اپنے اثرواقتدار سے فرعون کی تائید کررہا تھا، تو ایک روز اس نے اپنی قوت و جمعیت کی نمائش کے لیے کوئی جلوس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–81
فہم القرآن
ربط کلام : قارون کا عملاً فخر و غرور کا اظہار کرنا اور اس کا بدترین انجام ہونا۔
مفسرین نے لکھا ہے کہ ایک دن قارون لباس فاخرہ پہنے ہوئے نوکروں، چاکروں اور اپنے دوست و احباب کے ساتھ پورے جاہ و جلال کے ساتھ بڑے جلوس کی شکل میں نکلا۔ تاکہ جاہ و حشمت اور اپنی دولت و ثروت کی لوگوں پر دھاک بٹھا سکے۔ وہ اس جاہ و جلال اور شوکت و حشمت کے ساتھ نکلا کہ کمزور ایمان والے لوگ اس قدر مرعوب ہوئے کہ بےساختہ پکار اٹھے کہ کاش ! ہمیں بھی اس طرح کا مال اور اسباب دئیے جاتے جس طرح قارون کو دئیے گئے ہیں۔ یہ تو بڑا ہی خوش بخت اور اچھے نصیب والا ہے۔ لوگوں کی مرعوبیت دور کرنے اور ان کی حقیقی نعمتوں کی طرف…
Read the full tafseer →79: فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ فِیْ زِیْنَتِہٖ (وہ اپنی قوم کے سامنے بن سنور کر نکلا) ۔ زرد اور سرخ کپڑے پہن کر۔
ایک قول یہ ہے :
وہ ہفتہ کے دن سفید خچر پر سوار ارغوانی لباس جس پر سنہری سورج بنے ہوئے تھے پہن کر نکلا۔ اس کے ساتھ چار ہزار آدمی اسی کے لباس زیب تن کیے ہوئے نکلے۔
ایک قول :
ان پر اور ان کے گھوڑوں پر سرخ پاکھریں تھیں اور اس کے دائیں جانب تین سو غلام اور بائیں طرف تین سو لونڈیاں جن کی رنگت سفید اور زیورات و ریشم میں سجی ہوئیں۔
فی زینتہٖ یہ فاعل سے حال ہے ای خرج متزینًا۔
قَالَ الَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ الْحَیٰوۃ الدُّنْیَا (ان لوگوں نے کہا جو دنیا کی زندگی کو چاہنے والے تھے) ۔
ایک قول :
یہ…
Read the full tafseer →79۔ فخرج علی قومہ فی زینتہ، ،، ابراہیم نخعی نے کہا کہ قارون اور اس کی قوم والے سبز اور سرخ لباس پہن کرنکلے ۔ ابن زید نے کہا کہ قارون سترہزار آدمیوں کو جوزعفرانی لباسوں میں تھے ، ساتھ لے کرنکلا۔ مجاہد کا قول ہے کہ قاروں اپنے ساتھیوں کو جو زعفرانی لباسوں اور سفید خچروں پر سوار تھے جن پر ارغوانی رنگ کی زینیں کسی ہوئی تھیں ساتھ لے کرنکلا، مقاتل کا بیان ہے کہ قارون سفید خچر پر نکلا چار ہزار سوار تھے اور اسن سواروں کے گھوڑے ارغوانی تھے تین سوباندیاں بھی سفید خچروں پر ساتھ سوار تھیں، باندیاں گوری گوری، زیور اور سرخ لباس سے آراستہ ، تھیں، قال الذین یریدون الحیوۃ الدنیا یلیت لنا، ،، ،، عظیم، ، یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–84
76 تا 84۔ معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا اور اللہ تعالیٰ کا دشمن منافق تھا۔ جیسے سامری منافق تھا کثرت مال کے سبب سے وہ اترا گیا تھا اس کے اترانے پر اللہ تعالیٰ نے اس کو برباد کردیا قارون کے خزانوں کی کنجیاں چمڑے کی تھیں تاکہ وہ کنجیاں ہلکی رہیں کیوں کہ جب دہ کہیں جاتا تھا تو کنجیاں اپنے ساتھ رکھتا تھا مجاہد کے قول کے موافق عصبہ دس سے لے کر پندرہ آدمیوں کی جماعت تک کو کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فَرِحِیْن کی تفسیر اترانے والوں کی فرمائی ہے حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس قدر خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
اللہ تبارک و تعالیٰ قارون کے احوال اور اس کے کرتوتوں اور ان کرتوتوں کی پاداش میں اس کے ساتھ جو کیا گیا ‘ اس کے ساتھ خیر خواہی اور جو اسے نصیحت کی گئی تھی ان سب کے بارے میں خبر دیتا ہے ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان قارون کان من قوم موسٰی) یعنی قارون ‘ بنی اسراتیل میں سے تھا جن کو تمام جہانوں پر فضیلت اور اپنے دور میں ان کو سب پر فوقیت دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ ‘ نے ان کو اپنے احسانات سے نوازا پس ان کا حال استقامت سے مناسبت رکھتا تھا ‘ مگر قارون اپنی قوم کے راستے سے منحرف ہوگیا ‘ اس نے ان پر ظلم کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی کیونکہ بڑے بڑے امور م اس کے سپرد کئے تھے۔ (واٰتینٰہ من الکنوز) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →115 قارون کے ایک بڑے جلوس کا ذکر : سو قاروں جب اپنی زیب وزینت کے اظہار اور دکھلاوے کے لیے ایک جلوس کی شکل میں نکلا تو ان لوگوں نے جن کے سامنے دنیا اور اس کے مادی ٹھاٹھ باٹھ ہی سب کچھ ہیں انہوں نے قارون کے ٹھاٹھ باٹھ کو دیکھ کر کہا کہ کاش کہ ہمیں بھی وہ کچھ مل جاتا جو قارون کو ملا ہے۔ یقینا وہ بڑا ہی نصیبے والا ہے۔ سو یہ ابنائے دنیا کی للچائی ہوئی نگاہوں کا ایک مظہر ہے۔ دنیا داروں اور دولت پرستوں کا یہی حال کل تھا اور یہی آج ہے کہ دنیا کی چمک دمک سے ان کی رال فوراً ٹپک پڑتی ہے اور ان کے منہ میں پانی بھر آتا ہے کہ بس یہی ٹھیک اور یہی سب کچھ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وہ اس کو دیکھنے اور جاننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–85
قارون کی سرکشی اور اس کا انجام بد
تشریح : قارون کا واقعہ ‘ غرور ‘ زرپرستی ‘ اور اللہ سے دوری اور کفار کے اس اعتراض کا بہترین جواب ہے سیدنا محمد ﷺ کے علاوہ نبوت عرب کے کسی امیر کبیر سردار کو کیوں نہیں سونپی گئی۔ قارون سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ یہ بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون وہامان کے ساتھ جا ملا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیشمار مال و دولت دے رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ بجائے شکر گزار الٰہی ہونے کے کفر و شرک اور دولت کے نشے میں اپنی قوم سے بھی باغی ہوگیا تھا۔ اور یوں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین میں فرعون، ہامان اور یہ تیسرا قارون بھی شامل ہوگیا تھا۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیات 76 تا 82
اسرارو معارف
دولت دنیا کا انجام تو قارون کے واقعہ میں ظاہر ہے کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا وہی خوش نصیب قوم جسے موسیٰ (علیہ السلام) کے طفیل فرعون سے نجات ملی اور سمندر نے جس کی خاطر راستے چھوڑ دیئے جس قوم پر اللہ کے بہت احسانات تھے ان میں سے وہ بھی تھا۔ مفسرین کرام کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد تھا مگر بگڑ گیا اور پوری قوم کے ساتھ زیادتی کرتا تھا اور انہیں حقیر جانتا تھا حالانکہ اللہ نے اسے اس قدر مال و دولت بخشا کہ کہ بہت بڑی اور طاقتور جماعت بھی اس کے خزانوں کی کنجیاں اٹھانے سے قاصر تھی۔ اس قدر وسیع و عریض خزانے بھرے تھے اس پر قوم نے اس سے کہا کہ اس…
Read the full tafseer →8 ۔ اس جلوس کے بارے میں مفسرین (رح) کے مختلف اقوال ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ بڑے ٹھاٹ باٹ اور شان و شوکت سے نکلا جسے دیکھ کر اس کی قوم کے لوگ دنگ رہ گئے۔
Read the full tafseer →(28:76) فی زینتہ۔ اپنی زیب و زینت کے ساتھ ۔ اپنے پورے ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ۔ تزک و احتشام سے۔ فکرج علی تومہ فی زینتہ اس جملہ کا عطف قال (شروع آیتہ 78) پر ہے درمیانی عبارت جملہ معترضہ ہے۔
یلیت لنا۔ اے کاش ہمارے لئے بھی ہوتا (جو قارون کو دیا گیا ہے)
ذوحظ عظیم : ذو والا۔ صاھب ۔ یہ مضاف ہے اور حظ عظیم موصوف و صفت ہوکر مضاف الیہ۔ بڑے نصیب والا۔ بڑا خوش قسمت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
لغات القرآن آیت نمبر (79 تا 82 ) ۔
خرج (وہ نکلا) ۔ زینتہ (زیب وزینت۔ خوبصورتی) ۔ یلیت (اے کاس ایسا ہوتا) ۔ ذوحظ (نصیب والا۔ جوش نصیب) ۔ ویلکم (تمہاری خرابی۔ تم پر افسوس ہے) ۔ لا یلقی (وہ نہیں ملتا۔ نصیب نہیں ہوتا) ۔ خسفنا (ہم نے دھنسادیا) ۔ فئتہ (جماعت۔ گروہ ) ۔ تمنوا (تمنا کی تھی) ۔ ویکان (ہائے شامت۔ ہائے افسوس) ۔ من (اس نے احسان کیا) ۔
تشریح : آیت نمبر (79 تا 82 ) ۔ ” اگر ایمان اور عمل صالح نہ ہو تو مال و دولت کا نشہ آدمی لو دیوانوں جیسی حرکتیں کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ قارون جو نہایت چالاک، عیار اور دولت پرست آدمی تھا وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف ہر ممکن سازشیں کرتا رہتا تھا تاکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–84
قارون کا دھنسنا۔
(ف 1) ایک روز اپنی قوم کے روبروبڑی تیاری و سامان زیوروں سے آراستہ ریشمی لباس پہنے گھوڑوں پر سوار نکلاجب دنیا کے طلب گاروں نے یہ دیکھا تو تمنا کی کہ کس طرح ہم کو بھی ایسا ہی سامان ملتا۔ اور یہ بھی ان دنیا کے طلب گاروں نے کہا کہ قارون بڑانصیبے والا ہے۔ جب ان کی یہ بات قوم کے علم والوں نے سنی تو کہنے لگے کہ کیوں خرابی میں پڑتے ہو اللہ کا دیا ہواثواب دنیا کے مال ومتاع سے ہزار درجہ بہتر ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو اور اس کے گھروالوں کو زمین کے اندر دھنسادیا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ، حضرت موسیٰ پر جب خدا کی طرف سے زکوۃ کا حکم آیا کہ دسواں حصہ مال کا ادا کریں حکم الٰہی سے حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
[49] اللہ کے ہاں کا ثواب سے مراد ہے رزق کریم جو حدود اللہ کے اندر رہتے ہوئے محنت و کوشش کے نتیجے میں انسان کو دیا جاتا ہے اور آخرت میں نصیب ہوتا ہے۔
[50] یعنی اللہ کے ہاں اجر کا مستحق وہی ہوتا ہے جو اپنے نفس کو دنیوی حرص و طمع سے روکے رکھے اور جس میں اتنا تحمل اور اتنی ثابت قدمی موجود ہو کہ روزی حاصل کرنے کے لئے حلال طریقے ہی اختیار کرنے پر جما رہے خواہ اسے کبھی روٹی میسر نہ ہو یا لکھ پتی بن جانا نصیب ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
نفسیات انسانی کا ادق تجزیہ
1: اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں نفسیات انسانی کا نہایت عمدہ تجزیہ کرکے دکھایا ہے ۔ کہ کس طرح اس کو کسی پہلو قرار نہیں ۔ یہ تو یہ کیفیت تھی ۔ کہ جب قارون کو سج دھج میں محل سرائے سے نکلتے دیکھتے تو ان کے دلوں میں یہ خواہش پیدا ہوتی ۔ کہ کاش کہ ہم بھی اسی طرح مال و دولت سے بہرہ ور ہوتے اور یا اب یہ حالت ہے ۔ کہ قارون جب اپنے غرور کی وجہ سے زمین میں دھنس گیا ۔ تو یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کررہے ہیں کہ اس نے ان کو اس عذاب سے محفوظ رکھا ۔ اور گویا اب ان کو احساس ہوا ۔ کہ منکرین کے لئے فوز و فلاح نہیں ۔
حل لغات : فی زینتیہ ۔ اپنی سج دھن میں
حظ ۔ حصہ نصیب اور قسمہ
Read the full tafseer →79۔ پھر قارون اپنی خوب زینت و زیبائش کے ساتھ اپنی قوم پر نکلا تو وہ لوگ جو دنیوی زندگی کو چاہتے تھے اس کی شان و شوکت دیکھ کر کہنے لگے کیا خوب ہوتا کہ ہم کو بھی وہ ساز و سامان ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے واقعی وہ بڑے نصیبے والا ہے۔ قارون اپنا خاص لباس پہن کر ایک سفید خچر پر بیٹھ کر نکلا اور ہزاروں پیدل اور سوار اسکے جلوس میں تھے یہ ٹھاٹھ اور کرد فردیکھ کر بعض طالبین دنیا نے یہ تمنا کی کہ کاش ہم کو یہ سب سامان عیش ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے وہ واقعی بڑا نصیبے والا ہے بنی اسرائیل کے بعض دنیا داروں نے یہ تمنا کی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
ف 4۔ پس تم لوگ ایمان کی تکمیل و عمل صالح کی تحصیل میں لگو، اور حد شرعی کے اندر دنیا حاصل کرو اس کی حرص و طمع سے صبر کرو۔
Read the full tafseer →قارون کا طمطراق سے نکلنا اور قوم بنی اسرائیل کا اس کو دیکھنا :
79۔ قارون نے جب دیکھا کہ موسیٰ کس طرح بھی پیچھا نہیں چھوڑتا تو اس کو زچ کرنے کے لئے اور پنی دولت و حشمت کے مظاہرے سے مرعوب کرنے کے لئے ایک دن بڑے کروفر کے ساتھ نکلا ، موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے کے ایک بڑے مجمع میں پیغام الہی سنا رہے تھے کہ قارون ایک بڑی جماعت اور خاص شان و شوکت اور پوری نمائش کے ساتھ سامنے سے گزرا بلاشبہ اس کا ارشارہ یہ تھا کہ اے موسیٰ ! اگر تیرے پاس بنی اسرائیل کی ایک بہت بڑی جماعت ہے تو میرے پاس بھی ایک جتھا موجود ہے لیکن تیری جماعت اور میرے جتھے میں جو فرق ہے اس کو اپنی آنکھوں سے ذرا دیکھ لے ۔ موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ (And said those who were given knowledge - 28:80). This verse has compared the knowledgeable persons with الَّذِينَ يُرِيدُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (Those who are desirous of the worldly life - 28:79), which clearly indicates that it is not the trait of knowledgeable persons to aspire for the acquisition of wealth and to make it the object of life. They always keep their eyes toward the lasting benefits of the Hereafter. As for the mundane wealth, they take it only to fulfill their day-to-day needs, and stay content with that.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
100 That is, "'This kind of character and the way of thinking and the hounty of Allah's reward falls to the lot of only those who stick firmly and steadfastly and patiently to the lawful ways in life, whether by so doing they are able to earn only a bare living, or are enabled to become millionaires, but are never inclined to follow the unlawful ways even if they promise aII the benefits and wealth of the world. In this verse, "Allah's reward" means the bounteous provision that is gained by man in the world and the Hereafter as a result of labour acrd toil undertaken within the bounds set by…
Read the full tafseer →