اپنی عقل ودانش پہ مغرور قارون
قوم کے علماء کی نصیحتوں کو سن کر قارون نے جو جواب دئیے اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس نے کہا آپ اپنی نصیحتوں کو رہنے دیجئے میں خوب جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو دے رکھا ہے اسی کا مستحق میں تھا، میں ایک عقلمند زیرک، دانا شخص ہوں میں اسی قابل ہوں اور اسے بھی اللہ جانتا ہے اسی لئے اس نے مجھے یہ دولت دی ہے۔ بعض انسانوں کا یہ خاصہ ہوتا ہے جیسے قرآن میں ہے کہ جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تب بڑی عاجزی سے ہمیں پکارتا ہے اور جب انسان کو کوئی نعمت وراحت اسے ہم دے دیتے ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ آیت (قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ ۭ اَوَلَمْ يَعْلَمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
سورة القصص 97
اصل الفاظ ہیں اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ ، اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ میں نے جو کچھ پایا ہے اپنی قابلیت سے پایا ہے، یہ کوئٰ فضل نہیں ہے جو استحقاق کے بجائے احسان کے طور پر کسی نے مجھ کو دیا ہو اور اب مجھے اس کا شکریہ اس طرح ادا کرنا ہو کہ جن نااہل لوگوں کو کچھ نہیں دیا گیا ہے انہیں میں فضل و احسان کے طور پر اس میں سے کچھ دوں، یا کوئی خیرات اس غرض کے لیے کروں کہ یہ فضل مجھ سے چھین نہ لیا جائے۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میرے نزدیک تو خدا نے یہ دولت جو مجھے دی ہے میرے اوصاف کو جانتے ہوئے دی ہے، اگر میں اس کی نگاہ میں ایک پسندیدہ انسان نہ ہوتا تو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ ، بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہاں علم سے مراد علم تورات ہے جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ قارون تورات کا حافظ اور عالم تھا اور ان ستر اصحاب میں سے تھا جن کو حضرت موسیٰ ؑ نے میقات کے لئے منتخب فرمایا تھا۔ مگر اس کو اپنے اس علم پر ناز و غرور پیدا ہوگیا اس کو اپنی ذاتی کمال سمجھ بیٹھا اور اس کے اس کلام کا مطلب یہی تھا کہ مجھے جو کچھ مال و دولت ملا ہے میرے اپنے ذاتی کمال علمی کے سبب ملا ہے اس لئے میں اس کا خود حقدار ہوں اس میں مجھ پر کسی کا احسان نہیں۔ مگر ظاہر یہ ہے کہ یہاں علم سے مراد معاشی تدبیروں کا علم ہے مثلاً تجارت صنعت وغیرہ کا جن سے مال حاصل ہوتا ہے…
Read the full tafseer →قارون کا جواب
قارون نے جواب دیا کہ یہ مال ومتاع جو مجھے حاصل ہے میری حسن تدبیر، مہارت فن اور قابلیت کا ثمرہ ہے، اس کو خدا سے کیا تعلق کہ اس میں اس کا کوئی حق قائم ہو اور مجھ پر اس کے ادا کرنے کی ذمہ داری ہوا لفظ عندی سے اس کے ذہن کا یہ مخفی پہلو ظاہر ہوتا ہے کہ اس تمام دولت کا سرچشمہ خود میرے اندر ہے نہ کہ خدا کے اندر اس وجہ سے مجھے اس باب میں خدا یا کسی اور سے کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ آپ لوگوں کا یہ سارا وعظ میرے آگے بالکل بےسود ہے، یہ وعظ کسی اور کو سنایئے !
اللہ تعالیٰ کی تنبیہ
یہ اس کے قول پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تبصرہ ہے کہ اس بدقسمت نے یہ لاف زنی کرتے ہوئے یہ نہ سوچا کہ اس…
Read the full tafseer →78-1ان نصیحتوں کے جواب میں اس نے یہ کہا۔ اس کا مطلب ہے کہ مجھے کسب و تجارت کا جو فن آتا ہے، یہ دولت تو اسکا اور ثمر ہے، اللہ کے فضل و کرم سے اسکا کیا تعلق ہے ؟ جو سرے معنی یہ کیے گئے ہیں کہ اللہ نے مجھے یہ مال دیا ہے تو اس نے اپنے علم کی وجہ سے دیا ہے کہ میں اس کا مستحق ہوں اور میرے لیے اس نے یہ پسند کیا ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر انسانوں کا ایک اور قول اللہ نے نقل فرمایا ہے ، جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی نعمت سے نواز دیتے ہیں تو کہتا ہے (اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ) 28۔ القصص :78) أی۔ علی علم من اللہ یعنی مجھے یہ نعمت اس لیے ملی ہے کہ اللہ کے…
Read the full tafseer →46: ایک طرف تو قارون یہ دعوی کررہا تھا کہ میں نے جو مال و دولت حاصل کیا ہے اپنے علم وہنر سے حاصل کیا ہے، اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ علم کا کوئی اعلی درجہ تو درکنار اسے اتنی معمولی بات بھی معلوم نہیں تھی کہ اگر بالفرض اس نے اپنے علم وہنرہی سے یہ سب کچھ حاصل کیا تو وہ علم وہنر کس کا دیا ہوا تھا ؟ نیز یہ بات بھی اس نے نظر انداز کردی کہ اللہ تعالیٰ ایسے بہت سے انسانوں کو ہلاک کرچکا ہے، جو اس سے زیادہ مضبوط تھے، اور اسی قسم کے دعوے کیا کرتے تھے۔
یعنی اللہ تعالیٰ کو مجرموں کے حالات کا پورا علم ہے، اس لئے اس کو حالات جاننے کے لئے ان سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے، ہاں آخرت میں ان سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
درس نمبر 178 ایک نظر میں
اس سورت کا ابتدائی حصہ قصہ فرعون و کلیم پر مشتمل تھا۔ اس قصے میں بتا یا گیا تھا کہ قوت اور اقتدار کے نتیجے میں کسی طرح نافرمانی اور سرکشی آتی ہے ۔ اور حکمران کس طرح اللہ کی ناشکری کرتے ہیں۔ اللہ کی ہدایت سے دور ہوتے ہیں اور پھر ان سب باتوں کے نتیجے میں وہ زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ اب یہاں قارون کا قصہ لایا جاتا ہے کہ مال اور علم و ہنر جب سرکشی اختیار کرلیں ، مالدار اترانے لگیں ، عوام پر برتری جتلائیں ، اللہ کی نعمتوں کا انکار کریں تو ان پر کس طرح ہلاکت آتی ہے۔ اس کے بعد درست تصورات اور نظریات کے مطابق مال اور علم دنیا کی زیب وزینت ہیں اور ایمان اور نیک عمل کے مقابلے میں…
Read the full tafseer →5 یعنی میں ہنر مند تھا۔ کمانے کا سلیقہ رکھتا تھا۔ اپنی لیاقت و قابلیت یا کسی خاص علمی مہارت سے مجھے یہ دولت حاصل ہوئی۔ اللہ نے بھی میری لیاقت کو دیکھ کر اور قابل جان کر یہ کچھ دیا ہے۔ کیا یونہی بیٹھے بٹھائے بےمحنت مل گیا ہے کہ موسیٰ کے حکم اور تمہارے مشورہ کے موافق خدا کے نام پر خرچ کر ڈالوں۔
6 یعنی دولت کمانے کی لیاقت کس نے دی۔ افسوس ہے منعم حقیقی کو بھول کر اس کی دی ہوئی دولت و لیاقت پر غرہ کرنے لگا۔ کیا اسی دولت کو اس نے اپنی نجات کا ضامن تصور کر رکھا ہے۔ اسے معلوم نہیں کتنی جماعتیں اپنی شرارت و سرکشی کی بدولت پہلے تباہ کی جا چکی ہیں۔ جن کے پاس بادشاہتیں تھیں اور اس ملعون سے زیادہ خزانوں…
Read the full tafseer →آیت 78 قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ ط ”
یعنی تم کیا سمجھتے ہو کہ یہ دولت مجھے اللہ نے دی ہے ؟ یہ تو میں نے اپنی ذہانت ‘ سمجھ بوجھ ‘ محنت اور اعلیٰ منصوبہ بندی کی وجہ سے کمائی ہے۔ یہ خالص مادہ پرستانہ سوچ ہے اور ہر زر پرست شخص جو عملی طور پر اللہ کے فضل کا منکر ہے ہمیشہ اسی سوچ کا حامل ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میرے کاروبار کی سب کامیابیاں میرے علم اور تجربے کی بنیاد پر ہیں۔ میں نے مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کا بروقت اندازہ لگا کر جو فلاں فیصلہ کیا تھا اور فلاں سودا کیا تھا اس کی وجہ سے مجھے یہ اتنی بڑی کامیابی ملی ہے۔
وَلَا یُسْءَلُ عَنْ ذُنُوْبِہِمُ الْمُجْرِمُوْنَ ”
م اللہ…
Read the full tafseer →104 قارون اس نصیحت کے جواب میں کہنے لگا : میری دولت میں دوسروں کا حق کیسے آگیا۔ یہ ساری دولت میں نے خود کمائی ہے۔ محنت کرکے کمائی ہے۔ اپنے ہنر، تجربہ اور قابلیت کی بنا پر کمائی ہے۔ پھر اس میں دوسروں کا حق کیوں کر شامل ہوگیا ؟ جو تم مجھے دوسروں کا حق ادا کرنے کی تلقین کرنے لگے ہو۔
105 قارون کو یہ جواب دیتے وقت اتنا بھی خیال نہ آیا کہ جس ہنر، تجربہ اور قابلیت کا وہ ذکر کر رہا ہے وہ اسے اللہ نے ہی بخشی ہے۔ لہذا وہ اپنے حقیقی محسن کو بھول کر اپنی ہی دولت اور لیاقت پر ناز کرنے لگا۔ پھر اسے یہ بھی خیال نہ آیا کہ دولت ڈھلتی چھاؤں ہے اس کے پاس اگر جمع ہوگئی ہے تو اس سے چھن بھی سکتی ہے۔ پھر یہ دولت…
Read the full tafseer →102۔ (اس میں کسی کے احسان کی کیا بات اور اس میں کسی کا استحقاق کیسا ؟ ) ” روشن خیال “ قارون نے جواب دیا کہ جو کیا دقیانوسیوں کی سی باتیں ہیں۔ میں مالیات ومعاشیات کا ماہر ہوں۔ مجھے جو کچھ بھی ملا ہے، یہ میں نے اپنی قوت بازو سے، اپنے علم وہنر کے زور سے کمایا ہے۔ نہ میرے اوپر کوئی احسان غیبی، نہ میری کمائی میں دوسروں کا حق۔ علی علم، قیل علم التجارۃ والا متعۃ وسائر المکاسب (بیضاوی) عارفین نے کہا ہے کہ علم وفضل، فن وہنر کو اپنی جانب منسوب کرنا، اپناذاتی کمال سمجھنا اور اسے اللہ کا عطیہ نہ جاننا بھی اصل جڑ ہے مغضوبیت ومخذولیت کی، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اسی طرح طریقت میں بھی ثمرات کو بجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیت نمبر 76 تا 82
ترجمہ : قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تھا (یعنی) چچا زاد اور خالی زاد بھائی تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا تھا، کبر و تعلّی اور
کثرت مال کے ذریعہ لوگوں کے مقابلہ میں تکبر کرنے لگا تھا، اور ہم نے اس کو اس قدر خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں کئی کئی زور آور لوگوں کو گراں بار کردیتے تھیں یعنی ان کو بوجھل کردیتی تھیں باتعدیہ کے لئے ہے (اور اٹھانے والی جماعت کے افراد کی تعداد) کہا گیا ہے ستر تھی اور کہا گیا چالیس تھی اور کہا گیا کہ دس تھی، اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں، اس وقت کو یاد کرو جب اس کو قوم بنی اسرائیل کے مومن لوگوں نے اس سے کہا کثرت مال پر مت اتراو اقعی…
Read the full tafseer →قال انما اوتیتہ علی علم عندی . قارون نے کہا کہ مجھے جو کچھ ملا ہے (مجھے دیا گیا ہے) وہ مجھے میرے علم
کی وجہ سے ملا ہے۔ قوم والوں نے قارون سے کہا تھا : اَحْسِنْ کَمَا اَحْسَنَ اللہ اِلَیْکَ قارون نے اس کا تردیدی جواب یہ دیا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے میرے ساتھ کوئی احسان نہیں کیا مجھے اس کا استحقاق تھا اس کی کوئی مہربانی نہیں جس کا شکریہ ادا کرنا مجھ پر لازم ہو اور اس کے بندوں سے بھلائی کرنا مجھ پر فرض ہوجائے۔ مجھے جو کچھ عزت ‘ مال اور سیادت ملی وہ میرے علم کی وجہ سے ملی۔
بعض علماء نے کہا کہ علم سے مراد ہے کیمیا گری۔ سعید بن مسیب کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ کیمیا بنافی جانتے تھے۔ آپ نے علم کیمیا کا…
Read the full tafseer →(78) قارون کہنے لگا کہ مجھ کو یہ جو کچھ مال ملا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا اہل سمجھ کردیا ہے اور یہ کیمیا سے سونا بنایا کرتا تھا کیا اس قارون نے یہ نہ جانا کہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے گزشتہ امتوں میں سے ایسے ایسوں کو ہلاک کرچکا ہے جو قوت جسمانی میں بھی ان سے کہیں بڑھے ہوئے تھے اور ان کا مال اور مجمع بھی زیادہ تھا اور قیامت کے دن مشرکین سے ان کے گناہوں کے بارے میں سوال کرنا نہیں پڑے گا ہر ایک اپنے نشان سے خود بخود پہچانا جائے گا۔
Read the full tafseer →قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ : اس نے کہا اللہ کا مجھ پر کوئی احسان نہیں، یہ سب کچھ تو مجھے صرف اس علم کی وجہ سے دیا گیا ہے جو میرے پاس ہے۔ یہ اس طرح کی بات ہے جیسے آج کل کے دہر یہ سائنس دان کہتے ہیں کہ ہماری تمام تر ترقی ہمارے علوم کی وجہ سے ہے، اللہ تعالیٰ کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ یہ نہیں سوچتے کہ یہ عقل، ذہانت اور مہارت عطا کرنے والا کون ہے ؟ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ”عندی“ کو ”علم“ کے متعلق ماننے کے بجائے ”اُوْتِيْتُهٗ“ کے متعلق مانا جائے، اس صورت میں معنی یہ ہوگا کہ ”میرے نزدیک یہ سب کچھ مجھے اللہ تعالیٰ کے میرے اعمال و اوصاف کو جاننے کی بنا پر ملا ہے۔“ یعنی اسے معلوم تھا…
Read the full tafseer →قال انما اوتیتہ، علی علم عندی، مراد علم تورات ہے یہ اس سے روایت کیا گیا ہے جو تمام لوگوں میں سے زیادہ قاری ہیں اور ان سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔ وہ ان ستر علماء میں سے ایک تھا جن کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے میقات کے لئے منتخب کیا تھا۔ ابن زید نے کہا : مجھے یہ اس لئے عطا کیا گیا کیونکہ وہ میری فضیلت اور اس کی مجھ سے رضا سے آگاہ تھا (2) قول : عندی اس کا معنی ہے میرے ہاں اس کی تعبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ خزانے عطا کئے ہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اپنی فضیلت کی وجہ سے میں ان کا مستحق ہوں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مجھے یہ عطا کیا گیا ہے کہ میرے پاس تجارت اور کمائی کے مختلف ذرائع ہیں، یہ علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا
1۔ ابن شیبہ نے المصنف میں وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ان قارون کان من قوم موسیٰ کے بارے میں روایت کیا کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا اور وہ علم کو تلاش کرنا چاہتا تھا یہاں تک کہ اس نے علم کو جمع کرلیا وہ اسی طرح رہا یہاں تک کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر بغاوت کی اور حسد کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے زکوٰۃ لینے کا حکم فرمایا ہے تو اس نے انکار کردیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے مالوں کو کھانے کا ارادہ رکھتا ہے تمہارے پاس نماز کو لائے اور…
Read the full tafseer →قَالَ [(قارون نے) کہا ] اِنَّمَآ [کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اُوْتِيْتُهٗ [مجھ کو دیا گیا یہ (خزانہ)] عَلٰي عِلْمٍ [ایک ایسے علم کی بنا پر جو ] عِنْدِيْ ۭ [میرے پاس ہے ] اَوَلَمْ يَعْلَمْ [اور کیا اس نے جانا ہی نہیں ] اَنَّ اللّٰهَ [کہ اللہ ] قَدْ اَهْلَكَ [ہلاک کرچکا ہے ] مِنْ قَبْلِهٖ [اس سے پہلے ] مِنَ الْقُرُوْنِ [قوموں میں سے ] مَنْ هُوَ [اسکو کہ وہ ] اَشَدُّ [زیادہ شدید تھا ] مِنْهُ [اس سے ] قُوَّةً [بلحاظ قوت کے ] وَّاَكْثَرُ [اور زیادہ کثرت والا تھا ] جَمْعًا ۭ [بلحاظ جمع کرنے کے ] وَلَا يُسْـَٔــلُ [اور پوچھا نہیں جاتا ] عَنْ ذُنُوْبِهِمُ [ان کے گناہوں کے بارے میں ] الْمُجْرِمُوْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
(فَخَرَجَ عَلٰی قَوْمِہٖ فِیْ زِیْنَتِہٖ ) (الیٰ الآیات الاربع) قارون کو اپنے مال پر فخر بھی تھا تکبر بھی تھا، ایک دن ریاکاری کے طور پر مالی حیثیت دکھانے کے لیے ٹھاٹھ باٹھ ساز و سامان کے ساتھ نکلا (جیسے اس دور میں مالدار لوگ بعض علاقوں میں ہاتھی پر بیٹھ کر بازاروں میں نکلتے ہیں اور بعض لوگ بلا ضرورت بڑی بڑی کوٹھیاں بناتے ہیں پھر ریا کاری کے لیے لوگوں کی دعوتیں کرتے ہیں اور آنے والوں کو مختلف کمرے اور ان کا ساز و سامان دکھاتے پھرتے ہیں حد یہ کہ بیٹی کو جو جہیز دیتے ہیں وہ بھی ریا کاری کے ساتھ گاڑی کے ساتھ آگے پیچھے اس طرح روانہ کرتے ہیں کہ ایک ایک چیز کو ایک ایک مزدور ہاتھ میں لے کر یا سر پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ذکر قصہء قارون برائے عبرت مغرور ان مال ودولت
قال اللہ تعالیٰ ان قارون کان من قوم موسیٰ ۔۔۔ الی۔۔۔ ویکانہ لا یفلح الکفرون۔
(ربط) شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے تکبر اور فساد کا ذکر کیا۔ ان فرعون علا فی الارض اور انہ کان من المفسدین اب اخیر سورت میں ایک دوسرے متکبر اور مفسد یعنی قارون کا ذکر کرتے ہیں کہ فرعون کی طرح قارون بھی تکبر اور فساد فی الارض کی وجہ سے تباہ اور برباد ہوا۔
یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ متاع دنیا ہیچ ہے اور چند روزہ ہے اور فانی ہے اور گزرگاہ ہے اور آرائش ہے اور اس کے شیدائی گمراہ ہیں اور بقول حافظ شیرازی۔
مرا در منزل جاناں چہ امن وعیش چوں ہر دم جرس…
Read the full tafseer →73:۔ قارون نے اپنے ناصحین کو نہایت ہی سرکشانہ جواب دیا اور کہنے لگا اللہ کا کونسا اھسان ہے یہ دولت تو میں نے اپنے علم وہنر سے حاصل کی ہے۔ علم سے تجارت اور ذرائع معاش کا علم مراد ہے۔ بعض نے علم کیمیاء مراد لیا ہے۔ اراد بہ علمہ بوجوہ المکاسب والتجارات (کبیر ج 6 ص 629) قال ابن المسیب علم الیکیمیاء (روح) ۔
74:۔ یہ قارون کے لیے تنبیہ و تہدید ہے۔ کیا تورات کی تلاوت سے اسے یہ بات معلوم نہیں ہوئی کہ اس سے پہلے بڑی بڑی سرکش قوموں کو اللہ نے ہلاک کردیا جو دولت اور خدم و حشم میں اس سے کہیں زیادہ تھے۔ اور پھر ایسے سرکش اور متکبر مجرموں کے گناہوں کا کوئی حساب کتاب نہیں کیا جاتا اور انہیں بلا حساب ہی جہنم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے پہلے مشرکوں کا د کیا ، پھر توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور قیامت اور جزائے عمل کا ذکر کیا ۔ اس سے پہلے مشرکین کو تنبیہ کی گئی جو غرور وتکبر کی وجہ سے توحید اور رسالت کا انکار کرتے تھے اور ظلم و زیادتی کے مرتکب ہوتے تھے ، اللہ نے ان کو سمجھانے کے لیے بعض پہلی بستیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا ۔ اب سورة کے آخری حصے میں اللہ نے ایسے ہی لوگوں کو نصیحت کے لیے قارون کا واقعہ بیان کیا ہے۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا آدمی تھا۔ اللہ نے بےتحاشا مال و دولت دے رکھا تھا ، مگر اس نے سرکشی اختیار کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ حسد اور ضد کا اظہار کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ…
Read the full tafseer →قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِيْتُہٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ 0ۭ اَوَلَمْ يَعْلَمْ اَنَّ اللہَ قَدْ اَہْلَكَ مِنْ قَبْلِہٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ ہُوَاَشَدُّ مِنْہُ قُوَّۃً وَّاَكْثَرُ جَمْعًا 0ۭ وَلَا يُسْـَٔــلُ عَنْ ذُنُوْبِہِمُ الْمُجْرِمُوْنَ 78
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
عند
عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ،
( عند ) ظرف
عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
ترکیب : ماان مفاتحہ، بمعنی الذی فی موضع نصب باتینا وان و اسمھا و خبرھا صلۃ الذی ولھذا کسرت ان، تنوءا الخ ای ثقلھم فالباء، للتعدیۃ وقد یقال اناء تہ ونوء ت، بہ وقیل ھو علی القلب ای لتنوء بہ العصبۃ و من الکنوز متعلق باتیناہ واذقال لہ ظرف لاتیناہ والا وجہ ان یقال اذکر اذ قال لہ قومہ۔ فیما اتاک، مصدریۃ او بمعنی الذی وھی فی موضع الحال اے واطلب منقلبا فیما اتاک اللہ اجر الآخرۃ ویجوزان یکون ظرفا لاتبغ علی علم فی موضع الحال وعندی صفۃ لعلم من قبلہ ظرف لا ھلکنا من ھو مفعول۔
تفسیر : کلام اس میں آگیا تھا کہ ما اوتیتم من شیئٍ فمتاع الحیوۃ الدنیا و زینتہا و ما عند اللہ خیر و ابقی کہ دنیا کے ناز و نعم بےثبات…
Read the full tafseer →قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ ط اَوَلَمْ یَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَھْلَکَ مِنْ قَبْلِہٖ مِنَ الْقُرُوْنِ مَنْ ھُوَ اَشَدُّمِنْہُ قُوَّۃً وَّاَکْثَرُ جَمْعًا ط وَلاَ یُسْئَلُ عَنْ ذُنُوْبِھِمُ الْمُجْرِمُوَنَ ۔
(القصص : 78)
(قارون نے کہا ! یہ سب کچھ تو مجھے اس علم کی بناء پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے، کیا اس نے یہ نہیں جانا کہ اللہ اس سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکا ہے جو قوت میں اس سے بڑھ کر اور جمعیت میں اس سے زیادہ تھی اور مجرموں سے ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے۔ )
قارون کا جواب
قارون نے نصیحت کے جواب میں یہ کہا کہ یہ مال و متاع مجھے جو حاصل ہے یہ سب میرے حُسنِ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قوم اور موسیٰ (علیہ السلام) کے سمجھانے کے باوجود قارون کا طرز عمل۔
قوم کے معزز اور صالح لوگوں نے قارون کو بہت سمجھایا کہ تجھے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوتے ہوئے غریبوں، مسکینوں پر مال خرچ کرنا چاہیے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت سے باز آنا چاہیے۔ معزز لوگوں کی بات سمجھنے کی بجائے قارون کہنے لگا کہ اس مال میں کسی دوسرے کا کوئی حق نہیں بنتا کیونکہ یہ میری قابلیت اور محنت کا نتیجہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو خوشحال کرنا ہوتا تو وہ ضرور انھیں مال دیتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اِ ن کی یہی حالت منظور ہے اس لیے میں اپاہج اور نکمے لوگوں پر اپنا مال ضائع نہیں کرسکتا۔…
Read the full tafseer →78: قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ (اس نے کہا مجھے جو کچھ ملا ہے۔ وہ مجھے میرے علم کی وجہ سے ملا ہے) ۔ ہٗ سے مراد مال ہے۔ علی علمٍ عندی کہہ کر اس نے اپنے علم کو سبب قرار دیکر استحقاقِ مال کا دعویٰ کیا ہے۔ جو علم تو رات ایسے لوگوں سے زیادہ ملا ہوا تھا۔ نمبر 2۔ تجارت و زراعت سے کمائی کے طرق۔
نحو : عندی یہ علمٍ کی صفت ہے۔
قول سہل (رح) :
کوئی ایسا شخص نہیں کہ جس نے اپنی طرف دیکھا ہو (تکبر کیا ہو) اور پھر وہ کامیاب ہوا ہو۔ خوش نصیب وہ ہے۔ جس نے اپنے افعال و اقوال سے اپنی نگاہ کو پھیرلیا اور اپنے لئے اللہ تعالیٰ کے احسانات کو اپنے تمام افعال و اقوال دیکھنے کا دروازہ کھول لیا اور…
Read the full tafseer →تفسیر۔
78۔ قال، ، قارون نے کہا، انما اوتیتہ علی علم عندی، ، قارون نے اپنی قوم والوں کی طرف سے تردیدی جواب دیا کہ یہ جو مجھے ملا ہے یہ میرے علم وفضل کی وجہ سے ملا ہے۔ یعنی مجھے بھی ایسے ہی مال ملا ہے جیسے تمہیں مال ملا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ نے میرے ساتھ کوئی احسان نہیں کیا، مجھے اس کا استحقاق تھا، اس کی کوئی مہربانی نہیں، بعض علماء نے کہا کہ علم سے مراد ہے کیمیاگری۔ سعید بن المسیب کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ کیمیابناناجانتے تھے۔ آپ نے علم کیمیا کا ایک حصہ یوشع بن نون کو سکھادیا اور ایک تہائی حصہ کالب بن یوقنا کو اور ایک تہائی قارون کو، قارون نے یوشع اور کالب کو فریب دے کر وہ حصہ بھی معلوم کرلیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–84
76 تا 84۔ معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا اور اللہ تعالیٰ کا دشمن منافق تھا۔ جیسے سامری منافق تھا کثرت مال کے سبب سے وہ اترا گیا تھا اس کے اترانے پر اللہ تعالیٰ نے اس کو برباد کردیا قارون کے خزانوں کی کنجیاں چمڑے کی تھیں تاکہ وہ کنجیاں ہلکی رہیں کیوں کہ جب دہ کہیں جاتا تھا تو کنجیاں اپنے ساتھ رکھتا تھا مجاہد کے قول کے موافق عصبہ دس سے لے کر پندرہ آدمیوں کی جماعت تک کو کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فَرِحِیْن کی تفسیر اترانے والوں کی فرمائی ہے حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس قدر خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
اللہ تبارک و تعالیٰ قارون کے احوال اور اس کے کرتوتوں اور ان کرتوتوں کی پاداش میں اس کے ساتھ جو کیا گیا ‘ اس کے ساتھ خیر خواہی اور جو اسے نصیحت کی گئی تھی ان سب کے بارے میں خبر دیتا ہے ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان قارون کان من قوم موسٰی) یعنی قارون ‘ بنی اسراتیل میں سے تھا جن کو تمام جہانوں پر فضیلت اور اپنے دور میں ان کو سب پر فوقیت دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ ‘ نے ان کو اپنے احسانات سے نوازا پس ان کا حال استقامت سے مناسبت رکھتا تھا ‘ مگر قارون اپنی قوم کے راستے سے منحرف ہوگیا ‘ اس نے ان پر ظلم کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی کیونکہ بڑے بڑے امور م اس کے سپرد کئے تھے۔ (واٰتینٰہ من الکنوز) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →112 قارون کا غرور وتکبر بھرا جواب : سو قوم کے دانشمندوں کی ان مخلصانہ نصیحتوں کے جواب میں قارون نے کہا کہ یہ سب کچھ تو مجھے اپنے علم و ہنر کی بنا پر ملا ہے۔ سو یہ ہے مومن و کافر کے درمیان ایک واضح اور کھلا فرق کہ مومن اپنی ہر نعمت کو اللہ پاک کا فضل و احسان قرار دیتا ہے جبکہ کافر و منکر اس کو اپنی قابلیت اور محنت و کاوش کا نتیجہ وثمرہ بتاتا ہے اور وہ یہ نہیں سمجھتا کہ یہ قابلیت جو مجھے ملی ہوئی ہے اور جس کا گھمنڈ میں رکھتا ہوں یہ مجھے بخشی کس نے ؟ اور اس بخشنے والے کا مجھ پر حق کیا ہے ؟ ۔ تبارک و تعالیٰ ۔ سو قارون نے اپنے کبر و غرور کے نشے میں کہا کہ یہ سب کچھ مجھے اپنے علم و ہنر، حسن تدبیر،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–85
قارون کی سرکشی اور اس کا انجام بد
تشریح : قارون کا واقعہ ‘ غرور ‘ زرپرستی ‘ اور اللہ سے دوری اور کفار کے اس اعتراض کا بہترین جواب ہے سیدنا محمد ﷺ کے علاوہ نبوت عرب کے کسی امیر کبیر سردار کو کیوں نہیں سونپی گئی۔ قارون سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ یہ بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون وہامان کے ساتھ جا ملا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیشمار مال و دولت دے رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ بجائے شکر گزار الٰہی ہونے کے کفر و شرک اور دولت کے نشے میں اپنی قوم سے بھی باغی ہوگیا تھا۔ اور یوں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین میں فرعون، ہامان اور یہ تیسرا قارون بھی شامل ہوگیا تھا۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیات 76 تا 82
اسرارو معارف
دولت دنیا کا انجام تو قارون کے واقعہ میں ظاہر ہے کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا وہی خوش نصیب قوم جسے موسیٰ (علیہ السلام) کے طفیل فرعون سے نجات ملی اور سمندر نے جس کی خاطر راستے چھوڑ دیئے جس قوم پر اللہ کے بہت احسانات تھے ان میں سے وہ بھی تھا۔ مفسرین کرام کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد تھا مگر بگڑ گیا اور پوری قوم کے ساتھ زیادتی کرتا تھا اور انہیں حقیر جانتا تھا حالانکہ اللہ نے اسے اس قدر مال و دولت بخشا کہ کہ بہت بڑی اور طاقتور جماعت بھی اس کے خزانوں کی کنجیاں اٹھانے سے قاصر تھی۔ اس قدر وسیع و عریض خزانے بھرے تھے اس پر قوم نے اس سے کہا کہ اس…
Read the full tafseer →5 ۔ لہٰذا اللہ کا مجھ پر کوئی احسان نہیں ہے جو میں اس کا شکر بجا لائوں۔ (کذا فی الموضح) اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ نے مجھے جو مال دیا ہے میرے اوصاف کو جانتے ہوئے دیا ہے۔ اگر میں اس کی نگاہ میں ناپسندیدہ آدمی ہوتا تو وہ مجھے یہ مال کیوں دیتا ؟۔ (کذا فی القرطبی) 6 ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر قوت و اقتدار اور مالداری کسی کے پسندیدہ ہونے کی دلیل ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان پہلی قوموں کو کیوں تباہ کرتا جو اس سے زیادہ طاقت ور اور مالدار تھیں۔ (قرطبی) 7 ۔ یعنی ان کے گناہ اتنے زیادہ اور واضح ہونگے کہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی یا یہ کہ ان کو معاف کرنے کے لئے نہیں پوچھا جائے گا۔ دیکھئے۔ (النحل :84)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(28:77) وابتغ۔ واؤ حرف عطف۔ ابتغ کا عطف لاتفرح پر ہے ابتغ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ابتغاء (افتعال) مصدر۔ تو طلب کر ۔ تو جستجو کر۔ تو حاصل کرنے کی کوشش کر۔
فیما اتک اللہ۔ میں فی یا ظرفیہ ہے یا سببیہ۔ اس کو خرچ کرکے۔ ما اسم موصول۔ اتک اللہ (جملہ خبر یہ) صلہ۔ اس (مال وزر) سے جو اللہ نے تجھے دیا ہے ۔ یعنی اسے خرچ کرکے اللہ کی راہ میں۔
الدار الاخرۃ۔ موصوف و صفت۔ ابتغ کا مفعول۔ مطلب یہ ہوا کہ جو دولت اللہ نے تجھے دی ہے اس کے ذریعہ آخرت کا گھر حاصل کرنے کی کوشش کر۔
لاتنس۔ فعل نہی۔ واحد مذکر حاضر۔ نسی ینسی (سمع) نسی نسیان ونسایۃ مصدر۔ تو مت بھول۔ نہ ترک کر۔
نصیبک۔ مضاف مضاف الیہ۔ اپنا حصہ۔ یعنی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 78 ) ۔
بغی (اس نے زیادتی کی) ۔ الکنوز (کنز) (خزانے) ۔ مفاتیح (مفتاح) (چابیاں۔ کنجیاں) ۔ تنوء (بھاری ہوئیں) ۔ العصبتہ (جماعت) ۔ لا تفرح (مت اترا ۔ مت اکڑ) ۔ لاتنس (تومت بھول ) ۔ نصیب (حصہ) ۔ احسن (بھلائی کر ۔ نیکی کر ) ۔ لا تبغ (تلاش نہ کر) ۔ ذنوب (ذنب) (گناہ ۔ خطائیں) ۔
تشریح : آیت (76 تا 78 ) ۔ ” مال و دولت اور تجارت اگر اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے اصولوں اور طریقوں کے مطابق حاصل کرکے اس کو صرف کیا جائے یا جمع کیا جائے تو وہ ہر ایک کے لئے خیر و برکت اور سلامتی کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ اور اگر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے مجبور و بےکس بندوں کی مدد پر خرچ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
قارون کا عبرتناک واقعہ۔
(ف 2) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا اور اللہ تعالیٰ کا دشمن منافق تھا جیسے سامری منافق تھا، کثرت مال کے سبب سے اترا گیا تھا اس کے اترانے پر اللہ تعالیٰ نے اس کو برباد کردیا تھا اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس قدرخزانے دیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت والی جماعت پر بھاری تھیں وہ کنجیاں اپنے ساتھ رکھتا تھا اسقدر خزانے کی وجہ سے وہ اترا گیا اور جب اس کی قوم نے اس سے کہا کہ مت اترا اپنے مال و حشمت پر، کیونکہ اللہ اترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے اور جو تجھ کو خدا نے دیا ہے اس سے اپنے لیے آخرت کی اصلاح تلاش کر، اور دنیا سے اپناحصہ…
Read the full tafseer →[48] یعنی ان سے دریافت کرنے کی حاجت نہیں کیونکہ ان کے گناہ تو اللہ کو معلوم ہی رہتے ہیں۔ ہاں ان کی رسوائی کے لئے اور مزید حجت قائم کرنے کی غرض سے سوالات کئے جائیں تو اور بات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
نفسیات انسانی کا ادق تجزیہ
1: اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں نفسیات انسانی کا نہایت عمدہ تجزیہ کرکے دکھایا ہے ۔ کہ کس طرح اس کو کسی پہلو قرار نہیں ۔ یہ تو یہ کیفیت تھی ۔ کہ جب قارون کو سج دھج میں محل سرائے سے نکلتے دیکھتے تو ان کے دلوں میں یہ خواہش پیدا ہوتی ۔ کہ کاش کہ ہم بھی اسی طرح مال و دولت سے بہرہ ور ہوتے اور یا اب یہ حالت ہے ۔ کہ قارون جب اپنے غرور کی وجہ سے زمین میں دھنس گیا ۔ تو یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کررہے ہیں کہ اس نے ان کو اس عذاب سے محفوظ رکھا ۔ اور گویا اب ان کو احساس ہوا ۔ کہ منکرین کے لئے فوز و فلاح نہیں ۔
حل لغات : فی زینتیہ ۔ اپنی سج دھن میں
حظ ۔ حصہ نصیب اور قسمہ
Read the full tafseer →78۔ قارون نے جواب دیا مجھ کو تو یہ سب کچھ بس ہیرے علم و ہنر کی وجہ سے ملا ہے جو مجھ کو حاصل اور میرے پاس ہے حضرت حق نے فرمایا کیا یہ اس کو معلوم نہیں اور اس کو یہ خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے گزشتہ قوموں میں سے ایسے ایسے شخصوں کو ہلاک کرچکا ہے جو با اعتبار قوت و طاقت کے اس سے کہیں زیادہ اور با اعتبار مال جمع کرنے کے اس سے کہیں بڑھے ہوئے تھے ان گناہ گاروں سے ان کے گناہوں کے متعلق تحقیق کرنے کی غرض سے پوچھا نہیں جاتا ۔ اللہ تعالیٰ کے احسان و انعام کو نظر انداز کردیا اور کہنے لگا یہ تو میں نے صرف اپنے علم و ہنر کی وجہ سے کمایا ہے یعنی میں معاش کی تدابیر اور کمانے کی ترکیبوں سے خوب واقف ہوں…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی میں وجوہ تدابیر معاش کی خوب جانتا ہوں۔ اس سے میں نے یہ سب جمع کیا ہے، پھر میرا تفاخر بےجا نہیں، اور نہ اس کو غیبی احسان کہا جاسکتا ہے، اور نہ کسی کا اس میں کچھ استحقاق ہوسکتا ہے۔
3۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے، گو تقریع و توبیخ کے لئے سوال ہو، مطلب یہ کہ اگر قارون اس مضمون پر نظر کرتا تو ایسی جہالت کی بات نہ کہتا، کیونکہ ہلاکت دنیویہ سے قدرت حقیقیہ کے تحت میں اور مواخذہ اخرویہ سے حکومت حقیقیہ کے تحت میں داخل ہونا ظاہر ہے۔ پھر ایسے شخص کی کیا قدرت کہ اپنے اکتساب کو علت حقیقیہ سمجھے اور ایسے شخص کی کیا رائے کہ حقوق واجبہ کی نفی کرے۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر سن کر قارون نے جواب دیا :
78۔ بلاشبہ قارون کے جذبہ انانیت کو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ نصیحت پسند نہ آئی اور اس نے مغرورانہ انداز میں کہا کہ موسیٰ ! میری یہ دولت و ثروت تیرے خدا کی عطا کردہ نہیں ہے یہ تو میری عقلی تجربوں اور علمی کاوشوں کا نتیجہ ہے ، میں تیری نصیحت مان کر اپنی دولت کو اس طرح برباد نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی اس کو اس طرح ضائع کرسکتا ہوں ، موسیٰ (علیہ السلام) نے قارون کی یہ بات بڑے غور سے سنی اور برابر اپنے فرض تبلیغ کو انجام دیتے اور قارون کو راہ ہدایت دکھاتے رہے ۔ قارون کے اس جواب کو سن کر جواب الجواب کے طور پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا یا…
Read the full tafseer →إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي (This is given to me because of knowledge (I have) with me- 28:78). Some commentators are of the view that "knowledge" in this sentence refers to the understanding of Torah. As reported in some narrations, Qarun remembered Torah by heart and was an authority on it. He was one of the seventy scholars whom Sayyidna Musa (علیہ السلام) had selected for Miqat (the appointed time and place for having conversation with Allah). But he became conceited on his knowledge, and regarded it as his personal achievement. The object of his above-referred utterance was…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
97 The words of the Text can have two meanings: (1) "Whatever I have obtained is by virtue of my own ability. It is not a bounty which somebody else might have given me as a favour without my deserving it as a right, and now I may have to render thanks for it by giving a portion of it to those who have not been given anything, as a favour, or give some of it in charity so that the bounty is not withdrawn from me." (2) "I think God has given me this wealth in view of my qualities and excellences Had I not been a likeable person, He would not have given me all this. That He has bestowed on me…
Read the full tafseer →