Explained with ayahs 76–77
قارون
مروی ہے کہ قارون حضرت موسیٰ ؑ کے چچا کا لڑکا تھا۔ اس کا نسب یہ ہے قارون بن یصہر بن قاہیث اور موسیٰ ؑ کا نسب یہ ہے موسیٰ بن عمران بن قاہیث۔ ابن اسحاق کی تحقیق یہ کہ یہ حضرت موسیٰ ؑ کا چچا تھا۔ لیکن اکثر علماء چچاکا لڑکا بتاتے ہیں۔ یہ بہت خوش آواز تھا، تورات بڑی خوش الحانی سے پڑھتا تھا اس لئے اسے لوگ منور کہتے تھے۔ لیکن جس طرح سامری نے منافق پنا کیا تھا یہ اللہ کا دشمن بھی منافق ہوگیا تھا۔ چونکہ بہت مال دار تھا اس لئے بھول گیا تھا اور اللہ کو بھول بیٹھا تھا۔ قوم میں عام طور پر جس لباس کا دستور تھا اس نے اس سے بالشت بھر نیچا لباس بنوایا تھا جس سے اس کا غرور اور اس کی دولت ظاہر ہو۔ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
سورة القصص 94
یہ واقعہ بھی کفار مکہ کے اسی عذر کے جواب میں بیان کیا جارہا ہے جس پر آیت نمبر 57 سے مسلسل تقریر ہو رہی ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ جن لوگوں نے محمد ﷺ کی دعوت سے قومی مفاد پر ضرب لگنے کا خطرہ ظاہر کیا تھا وہ دراصل مکہ کے بڑے بڑے سیٹھ، ساہبوکار اور سرمایہ دار تھے، جنہیں بین الاقوامی تجارت اور سود خواری نے قارون وقت بنا رکھا تھا، یہی لوگ اپنی جگہ یہ سمجھنے بیٹھے تھے کہ اصل حق بس یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹو، اس مقصد پر جس چیز سے بھی آنچ آنے کا اندیشہ ہو وہ سراسر باطل ہے جسے کسی حال میں قبول نہیں کیا جاسکتا، دوسری طرف عوام الناس دولت کے ان میناروں کو آرزو بھری…
Read the full tafseer →وَابْتَغِ فِيْمَآ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا، یعنی مسلمانوں نے قارون کو یہ نصیحت کی کہ اللہ تعالیٰ نے جو مال و دولت تجھے عطا فرمایا ہے اس کے ذریعہ آخرت کا سامان فراہم کر اور دنیا میں جو تیرا حصہ ہے اس کو نہ بھول۔
دنیا کا حصہ کیا ہے اس کی تفسیر اکثر مفسرین نے یہ کی ہے کہ اس سے مراد دنیا کی عمر اور اس میں کئے ہوئے وہ اعمال ہیں جو اس کو آخرت میں کام آویں جس میں صدقہ خیرات بھی داخل ہے اور دوسرے اعمال صالحہ بھی۔ حضرت ابن عباس اور جمہور مفسرین سے یہی معنے منقول ہیں (کما فی القرطبی) اس صورت میں دوسرا جملہ پہلے جملہ کی تاکید و تائید ہوگی۔ پہلے جملے…
Read the full tafseer →یہ اسی نصیحت کی مزید تفصیل ہے جو انہوں نے قارون کو کی۔ اس کا ایک ایک فقرہ حکمت و معفرت کا خزانہ ہے۔
وابتغ فی مآ اتک اللہ الدار الاخرۃ یعنی خدا نے تمہیں یہ رفاہیت جو بخشی ہے اکڑنے اور اترانے کے لئے نہیں بخشی ہے بلکہ اس لئے بخشی ہے کہ تم اس کو آخرت کی فوز و فلاح حاصل کرنے کا ذریعہ بنائو۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جو کچھ بھی تمہیں حاصل ہے نہ تمہارے اب وجد کی میراث ہے اور نہ تمہاری قابلیت و استحقاق کا کرشمہ ہے بلکہ یہ سرتاسر خدا کی بخشش ہے اور اس کورے کو خدا نے تمہارا امتحان کیا ہے کہ اس کو پا کر تم اس کے پرستار بن کر بیٹھ جاتے ہو یا اس کو خدا کی خوشنودی اور رضا طلبی کا ذریعہ بناتے ہو۔
ولاتنس نصیبک من…
Read the full tafseer →77-1یعنی اپنے مال کو ایسی جگہوں اور راہوں پر خرچ کر، جہاں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے، اس سے تیری آخرت سنورے گی اور وہاں اس کا تجھے اجر ثواب ملے گا۔
77-2یعنی دنیا کے مباحات پر بھی اعتدال کے ساتھ خرچ کر مباحات دنیا کیا ہیں ؟ کھانا پینا، لباس، گھر اور نکاح وغیرہ، مطلب یہ ہے کہ جس طرح تجھ پر تیرے رب کا حق ہے، اسی طرح تیرے اپنے نفس کا، بیوی بچوں کا اور مہمانوں وغیرہ کا بھی حق ہے، ہر حق والے کو اس کا حق دے۔
77-3اللہ نے تجھے مال دے کر تجھ پر احسان کیا ہے تو مخلوق پر حرچ کر کے ان پر احسان کر۔
77-4یعنی تیرا مقصد زمین میں فساد پھیلانا نہ ہو۔ اسی طرح مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کے بجائے بدسلوکی مت کر، نہ…
Read the full tafseer →43: مطلب یہ ہے کہ مال ودلت کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق استعمال کرو جس کے نتیجے میں آخرت کا ثواب حاصل ہو۔
44: یعنی آخرت کا گھر بنانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دنیا کی ضروریات بالکل نظر انداز کردو ؛ بلکہ ضرورت کے مطابق دنیا کا ساز و سامان رکھنے اور کمانے میں بھی کچھ گناہ نہیں ہے، البتہ دنیا اس انداز سے نہ کماؤ جس سے آخرت میں نقصان اٹھانا پڑے۔
45: یہاں اشارہ فرمادیا گیا کہ جو مال و دولت تمہیں دنیا میں ملا ہے، حقیقت میں وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے، اور اس نے تم پر احسان کرکے تمہیں عطا فرمایا ہے، اسی طرح تم بھی لوگوں پر احسان کرکے انہیں اس مال و دولت میں شریک کرو
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
درس نمبر 178 ایک نظر میں
اس سورت کا ابتدائی حصہ قصہ فرعون و کلیم پر مشتمل تھا۔ اس قصے میں بتا یا گیا تھا کہ قوت اور اقتدار کے نتیجے میں کسی طرح نافرمانی اور سرکشی آتی ہے ۔ اور حکمران کس طرح اللہ کی ناشکری کرتے ہیں۔ اللہ کی ہدایت سے دور ہوتے ہیں اور پھر ان سب باتوں کے نتیجے میں وہ زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ اب یہاں قارون کا قصہ لایا جاتا ہے کہ مال اور علم و ہنر جب سرکشی اختیار کرلیں ، مالدار اترانے لگیں ، عوام پر برتری جتلائیں ، اللہ کی نعمتوں کا انکار کریں تو ان پر کس طرح ہلاکت آتی ہے۔ اس کے بعد درست تصورات اور نظریات کے مطابق مال اور علم دنیا کی زیب وزینت ہیں اور ایمان اور نیک عمل کے مقابلے میں…
Read the full tafseer →2 یعنی خدا کا دیا ہوا مال اس لیے ہے کہ انسان اسے آخرت کا توشہ بنائے۔ نہ یہ کہ غفلت کے نشہ میں چور ہو کر غرور تکبر کی چال چلنے لگے۔
3 یعنی حصہ موافق کھا، پہن اور زیادہ مال سے آخرت کما۔ اور مخلوق کے ساتھ سلوک کر۔
4 یعنی حضرت موسیٰ کی ضد نہ کر، خدا کی زمین پر سیدھی طرح رہ۔ خواہ مخواہ ملک میں اودھم مچانا اور خرابیاں ڈالنا اچھا نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 77 وَابْتَغِ فِیْمَآ اٰتٰٹک اللّٰہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ ”
یہ دولت اللہ ہی کی دی ہوئی ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ اس کے راستے میں خرچ کر کے اپنے لیے توشۂ آخرت جمع کرنے کی کوشش کرو۔ اس ضمن میں سورة التوبہ کی آیت 111 کے یہ الفاظ بھی مد نظر رہیں : اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَ ط ”یقیناً اللہ نے خرید لی ہیں اہل ایمان سے ان کی جانیں بھی اور ان کے مال بھی ‘ اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔“
وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا ”
کسی دولت مند شخص کے لیے یہ تیسری نصیحت ہے کہ جو دولت اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اس میں سے اپنی ذات پر…
Read the full tafseer →103 یعنی تمہاری دولت کا بہترین مصرف یہ ہے کہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرکے اپنی عاقبت سنوارنے کی کوشش کرو۔ نہ یہ کہ مال کے نشہ میں چور ہو کر دوسروں کو حقیر سمجھنے لگو۔ اس سے خود کھاؤ پیؤپہنو اور جو بچ جائے اس سے خویش و اقارب اور دوسرے لوگوں کی مالی اعانت کرو۔ اللہ کی مخلوق پر تم بھی ایسے ہی احسان کرو جیسے اللہ نے تم پر احسان کیا ہے اور مخلوق خدا کی دعائیں لو۔ اور اللہ کے فرمانبردار بن کر رہو۔ اپنے مال و دولت کا دوسروں پر رعب جمانا کوئی اچھا طریقہ نہیں۔ تمہاری اس دولت میں جو دوسروں کا حق ہے اسے ادا کرو اور معاشی اور معاشرتی ناہمواریوں کا باعث نہ بنو۔
Read the full tafseer →100۔ یعنی یہ کوئی نہیں کہتا کہ ساری کی ساری دولت بندگان خدا کو دے ڈال، فراغت سے کھا، پی، عیش کر، لیکن اپنے حدود کے اندر رہ۔ حقوق واجب کی ادائی پر توجہ کرکے اسی سرمایہ کو توشہ آخرت بھی بنا لے۔ ولا تنس نصیبک من الدنیا وھو ان تحصل بھا اخر تک وتاخذ منھا ما یکفیک (بیضاوی) اے لاباس بالتمتع بالوجوہ المباحۃ (کبیر) اے مااحل اللہ لک منھا (ابن جریر۔ عن الحسن) معنی ذلک لاتترک ان تطلب فیھا حظک من الرزق (ابن جریر)
101۔ راہ کفر ومعصیت کے ساتھ ساتھ بار بار فساد فی الارض کو لاکر قرآن نے بتا اور جتلا دیا ہے کہ غیر اسلامی طریقے اس دنیا کے بھی امن ونظام کے برہم زن ہیں۔ (آیت) ” ولا تبغ الفساد فی الارض “۔ معاشیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیت نمبر 76 تا 82
ترجمہ : قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تھا (یعنی) چچا زاد اور خالی زاد بھائی تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا تھا، کبر و تعلّی اور
کثرت مال کے ذریعہ لوگوں کے مقابلہ میں تکبر کرنے لگا تھا، اور ہم نے اس کو اس قدر خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں کئی کئی زور آور لوگوں کو گراں بار کردیتے تھیں یعنی ان کو بوجھل کردیتی تھیں باتعدیہ کے لئے ہے (اور اٹھانے والی جماعت کے افراد کی تعداد) کہا گیا ہے ستر تھی اور کہا گیا چالیس تھی اور کہا گیا کہ دس تھی، اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں، اس وقت کو یاد کرو جب اس کو قوم بنی اسرائیل کے مومن لوگوں نے اس سے کہا کثرت مال پر مت اتراو اقعی…
Read the full tafseer →واتبغ فیما اتک اللہ الدار الاٰخرۃ ولا تنس نصیبک من الدنیا واحسن کما احسن اللہ
الیک ولاتبغ الفساد فی الارض ان اللہ لا یحب المفسدین . اور تجھ کو خدا نے جتنا دے رکھا ہے اس میں عالم آخرت کی بھی جستجو کیا کر اور دنیا سے اپنا حصہ (آخرت میں لے جانا) فراموش نہ کر اور جس طرح خدا نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی (اس کے بندوں کے ساتھ) احسان کیا کر اور دنیا میں بگاڑ کا خواہاں نہ ہو۔ بیشک اللہ اہل فساد کو پسند نہیں کرتا۔
فِیْ مَا اٰتٰکَ اللّٰہُ یعنی اللہ نے جو دنیوی نعمتیں تجھے عطا فرمائی ہیں۔
اَلدَّرَالْاٰخِرَۃَ یعنی جنت کی طلب کر۔ مطلب یہ ہے کہ خداداد نعمتوں کا شکر کر اور ان کو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے…
Read the full tafseer →(77) اور یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے جتنا مال دے رکھا ہے اس میں حصول جنت کی بھی جستجو کیا کر اور دنیا سے اپنے آخرت کے حصہ کو فراموش مت کر یا یہ کہ دنیا کے حصہ سے آخرت کے حصہ میں کمی مت کر اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے مال دے کر تم پر احسان کیا تو پھر تم بھی فقرا اور مساکین کے ساتھ احسان کیا کر اور نافرمانی اور حضرت موسیٰ ؑ کے فرمان کی مخالفت مت کر اللہ تعالیٰ ایسے نافرمانوں کو پسند نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →وَابْتَغِ فِيْمَآ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ : اور اللہ تعالیٰ نے تجھے جو کچھ عطا فرمایا ہے اس کے ذریعے سے آخری گھر یعنی جنت حاصل کرنے کی کوشش کر۔
وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا : یعنی مت بھول کہ دنیا جو تجھے عطا کی گئی ہے، اس میں تیرا حصہ کیا ہے۔ اس کی بہترین تفسیر وہ حدیث ہے جو ابوہریرہ ؓ نے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَقُوْلُ الْعَبْدُ مَالِيْ مَالِيْ إِنَّمَا لَہُ مِنْ مَّالِہِ ثَلَاثٌ، مَا أَکَلَ فَأَفْنٰی أَوْ لَبِسَ فَأَبْلٰی أَوْ أَعْطٰی فَاقْتَنٰی وَمَا سِوَی ذٰلِکَ فَہُوَ ذَاہِبٌ وَ تَارِکُہُ للنَّاسِ) [ مسلم، الزھد، باب ”الدنیا سجن للمؤمن و جنۃ للکافر“…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
ان قارن کان من قوم موسیٰ جب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : فما اوتیتم من شیء فمتاع الحیوۃ الدین (الشوریٰ : 36) تو اس امر کو واضح کیا کہ قارون کو مال عطا کیا گیا، اس نے اس کے ساتھ دھوکہ کھایا اور مال و دولت قارون کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ نہیں رکھے گا جس طرح فرعون کو معصوم نہیں رکھے گا۔ اے مشرکو ! تم تعداد اور مال میں قارون اور فرعون سے تعداد میں زیادہ نہیں ہو گے۔ فرعون کو اس کے لشکروں اور اموال نے کوئی فائدہ نہ دیا اور قارون کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رشتہ داری اور مال نے کوئی نفع نہ دیا۔ نخعی قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نسب موسیٰ بن عمران بن قاہت ہے (1)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا
1۔ ابن شیبہ نے المصنف میں وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ان قارون کان من قوم موسیٰ کے بارے میں روایت کیا کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا اور وہ علم کو تلاش کرنا چاہتا تھا یہاں تک کہ اس نے علم کو جمع کرلیا وہ اسی طرح رہا یہاں تک کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر بغاوت کی اور حسد کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے زکوٰۃ لینے کا حکم فرمایا ہے تو اس نے انکار کردیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے مالوں کو کھانے کا ارادہ رکھتا ہے تمہارے پاس نماز کو لائے اور…
Read the full tafseer →وَابْتَغِ [اور تو تلاش کر ] فِيْمَآ [اس میں سے جو ] اٰتٰىكَ [دیا تجھ کو ] اللّٰهُ [اللہ نے ] الدَّارَ الْاٰخِرَةَ [آخری گھر کو ] وَلَا تَنْسَ [اور تو مت بھول ] نَصِيْبَكَ [اپنا حصہ ] مِنَ الدُّنْيَا [دنیا میں سے ] وَاَحْسِنْ [اور تو بھلائی کر ] كَمَآ [جیسے کہ ] اَحْسَنَ [بھلائی کی ] اللّٰهُ [اللہ نے ] اِلَيْكَ [تیری طرف ] وَلَا تَبْغِ [اور تو خواہش مت کر ] الْفَسَادَ [نظم بگاڑنے کی ] فِي الْاَرْضِ ۭ [زمین میں ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] لَا يُحِبُّ [پسند نہیں کرتا ] الْمُفْسِدِيْنَ [نظم بگاڑنے والوں کو ] ۔
نوٹ۔ 2: آیت۔ 77 ۔ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو مال و دولت تجھے عطا فرمایا ہے اس کے…
Read the full tafseer →قارون کی قوم نے یہ بھی کہا کہ (وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا) (کہ دنیا میں سے اپنے حصہ کو مت بھول جا) یعنی اس دنیا میں سے اپنا حصہ لے لے جو آخرت میں تیرے کام آئے، دنیا میں سے اپنا حصہ وہی ہے جو آخرت کے لیے بھیج دیا، وہاں جائیں گے تو وہ مل جائے گا۔ سورة مزمل میں فرمایا۔ (وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللّٰہِ ) (اور جو کچھ اپنی جانوں کے لیے پہلے سے بھیج دو گے اسے اللہ کے پاس لو گے)
بعض مفسرین نے (وَ لَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا) کا یہی مطلب بتایا ہے جو ہم نے ابھی ذکر کیا۔ اس معنی کے اعتبار سے یہ جملہ پہلے جملہ کی تاکید ہوگا۔ اور بعض حضرات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ذکر قصہء قارون برائے عبرت مغرور ان مال ودولت
قال اللہ تعالیٰ ان قارون کان من قوم موسیٰ ۔۔۔ الی۔۔۔ ویکانہ لا یفلح الکفرون۔
(ربط) شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے تکبر اور فساد کا ذکر کیا۔ ان فرعون علا فی الارض اور انہ کان من المفسدین اب اخیر سورت میں ایک دوسرے متکبر اور مفسد یعنی قارون کا ذکر کرتے ہیں کہ فرعون کی طرح قارون بھی تکبر اور فساد فی الارض کی وجہ سے تباہ اور برباد ہوا۔
یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ متاع دنیا ہیچ ہے اور چند روزہ ہے اور فانی ہے اور گزرگاہ ہے اور آرائش ہے اور اس کے شیدائی گمراہ ہیں اور بقول حافظ شیرازی۔
مرا در منزل جاناں چہ امن وعیش چوں ہر دم جرس…
Read the full tafseer →72:۔ قوم کے لوگوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی اور اس سے کہا اللہ تعالیٰ نے جو تمہیں دولت دی ہے اس میں اللہ کا حق ادا کر کے اور اسے اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کر کے سامان آخرت تیار کر اور دنیا کی زندگی سے فائدہ اٹھا۔ جس طرح اللہ نے تجھ پر احسان فرمایا ہے اور تجھے دولت عطا فمرائی ہے اسی طرح تو اللہ کے بندوں پر احسان اور دولت کے بل پر زمین میں شر و فساد بپا مت کر کیونکہ اللہ تعالیٰ شر پسند لوگوں کو پسند نہیں فرماتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے پہلے مشرکوں کا د کیا ، پھر توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور قیامت اور جزائے عمل کا ذکر کیا ۔ اس سے پہلے مشرکین کو تنبیہ کی گئی جو غرور وتکبر کی وجہ سے توحید اور رسالت کا انکار کرتے تھے اور ظلم و زیادتی کے مرتکب ہوتے تھے ، اللہ نے ان کو سمجھانے کے لیے بعض پہلی بستیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا ۔ اب سورة کے آخری حصے میں اللہ نے ایسے ہی لوگوں کو نصیحت کے لیے قارون کا واقعہ بیان کیا ہے۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا آدمی تھا۔ اللہ نے بےتحاشا مال و دولت دے رکھا تھا ، مگر اس نے سرکشی اختیار کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ حسد اور ضد کا اظہار کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ…
Read the full tafseer →وَابْتَغِ فِــيْمَآ اٰتٰىكَ اللہُ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ وَلَا تَنْسَ نَصِيْبَكَ مِنَ الدُّنْيَا وَاَحْسِنْ كَـمَآ اَحْسَنَ اللہُ اِلَيْكَ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْاَرْضِ 0ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ 77
ابتغاء (ينبغي)
البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، تجاوزه أم لم يتجاوزه، فتارة يعتبر في القدر الذي هو الكمية، وتارة يعتبر في الوصف الذي هو الكيفية، يقال : بَغَيْتُ الشیء : إذا طلبت أكثر ما يجب، وابْتَغَيْتُ كذلك، قال اللہ عزّ وجل : لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48] ،
وأمّا الابتغاء
فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
ترکیب : ماان مفاتحہ، بمعنی الذی فی موضع نصب باتینا وان و اسمھا و خبرھا صلۃ الذی ولھذا کسرت ان، تنوءا الخ ای ثقلھم فالباء، للتعدیۃ وقد یقال اناء تہ ونوء ت، بہ وقیل ھو علی القلب ای لتنوء بہ العصبۃ و من الکنوز متعلق باتیناہ واذقال لہ ظرف لاتیناہ والا وجہ ان یقال اذکر اذ قال لہ قومہ۔ فیما اتاک، مصدریۃ او بمعنی الذی وھی فی موضع الحال اے واطلب منقلبا فیما اتاک اللہ اجر الآخرۃ ویجوزان یکون ظرفا لاتبغ علی علم فی موضع الحال وعندی صفۃ لعلم من قبلہ ظرف لا ھلکنا من ھو مفعول۔
تفسیر : کلام اس میں آگیا تھا کہ ما اوتیتم من شیئٍ فمتاع الحیوۃ الدنیا و زینتہا و ما عند اللہ خیر و ابقی کہ دنیا کے ناز و نعم بےثبات…
Read the full tafseer →وَابْتَغِ فِیْمَآ اٰتٰـکَ اللُّہُ الدَّارَالْاٰخِرَۃَ وَلاَ تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا وَاَحْسِنْ کَمَآ اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ وَلاَ تَبْغِ الْفَسَادَ فِی الْاَرْضِ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ ۔
(القصص : 77)
(اور جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس میں آخرت کے طالب بنو، اور دنیا میں سے اپنے حصہ کو نہ بھولو، اور احسان کرو جس طرح اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے، اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کرو، بیشک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ )
قوم کے اہل دانش کی قارون کو نصیحت
سابقہ آیت کریمہ میں قارون کی قوم کے اہل دانش کی نصیحت کا ذکر کیا گیا ہے جو انھوں نے قارون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
فہم القرآن
ربط کلام : اس سورة مبارکہ کی آیت 57 میں اہل مکہ کے عذر لنگ کا ذکر کیا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اس نبی کی اتباع کریں تو ہمارے کاروبار تباہ ہوجائیں گے۔ سورت کے اختتام میں اہل مکہ اور دنیا پرست لوگوں کے سامنے ایک سرمایہ دار کے انجام کا ذکر کیا جاتا ہے۔
اہل علم نے توراۃ اور تاریخ کے حوالے سے یہ بات تحریر کی ہے کہ قارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بغاوت اور اپنی قوم کے ساتھ غداری کی۔ جس کے معاوضہ میں فرعون نے اسے اپنے ہاں ایک خاص مقام دیا۔ حکومتی خزانے کے بعد ملک بھر میں سب سے زیادہ دولت اس کے پاس تھی۔ جس کے بارے میں مفسرین نے لکھا…
Read the full tafseer →77: وَابْتَغِ فِیْمَآ ٰاتٰکَ اللّٰہُ (اور اللہ تعالیٰ نے جو تجھے دیا ہے اس میں عالم آخرت کو تلاش کر) ۔ یعنی جو غنی اور ثروت تمہیں دی ہے۔ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ (آخرت والے گھر کو) ۔ اس طرح کہ تم فقراء پر خیرت کرو اور صلہ رحمی کرو اور مقامات خیر میں اس کو صرف کرو۔ وَلَا تَنْسَ نَصِیْبَکَ مِنَ الدُّنْیَا (اور دنیا سے اپنا حصہ (آخرت) ہرگز نہ بھول) ۔ وہ یہ ہے کہ بقدر کفایت اس میں سے لو جو تمہارے لئے بہتری والا ہو۔
ایک قول یہ ہے :
اپنی دنیا کے ذریعہ آخرت کو طلب کرو۔ پس یہی دنیا میں سے آخرت کا حصہ ہے۔
وَاَحْسِنْ (اور احسان کرو) ۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ کَمَا اَحْسَنَ اللّٰہُ اِلَیْکَ (جیسا اللہ…
Read the full tafseer →77۔ وابتغ فیمااتاک اللہ الدارالاخرہ، ، اللہ نے جو دنیاوی نعمتیں تجھے عطا فرمائی ہیں ان خدادا نعمتوں کا شکر کرو، اور ان کو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے راستے میں خرچ کرو۔ ولاتنس نصیبک من الدنیا، مجاہد اور ابن زید کا قول ہے کہ دنیا کے اندر آخرت کے لیے اعمال کرنے کو مت چھوڑنا تاکہ تم آخرت کے عذاب سے بچ جاؤ، انسان کو دنیا مین کچھ حصہ اس لیے ملا کہ وہ آخرت کے لیے عمل کرے۔ سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد خیرات دینا کنبہ پروری کرنا ۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا اپنی صحت، قوت جوانی اور مال داری کو آخر ت کے حصول کے لیے صرف کرنے کو ترک نہ کرو۔
عمرو بن میمون ازدی سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–84
76 تا 84۔ معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا اور اللہ تعالیٰ کا دشمن منافق تھا۔ جیسے سامری منافق تھا کثرت مال کے سبب سے وہ اترا گیا تھا اس کے اترانے پر اللہ تعالیٰ نے اس کو برباد کردیا قارون کے خزانوں کی کنجیاں چمڑے کی تھیں تاکہ وہ کنجیاں ہلکی رہیں کیوں کہ جب دہ کہیں جاتا تھا تو کنجیاں اپنے ساتھ رکھتا تھا مجاہد کے قول کے موافق عصبہ دس سے لے کر پندرہ آدمیوں کی جماعت تک کو کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فَرِحِیْن کی تفسیر اترانے والوں کی فرمائی ہے حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس قدر خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
اللہ تبارک و تعالیٰ قارون کے احوال اور اس کے کرتوتوں اور ان کرتوتوں کی پاداش میں اس کے ساتھ جو کیا گیا ‘ اس کے ساتھ خیر خواہی اور جو اسے نصیحت کی گئی تھی ان سب کے بارے میں خبر دیتا ہے ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان قارون کان من قوم موسٰی) یعنی قارون ‘ بنی اسراتیل میں سے تھا جن کو تمام جہانوں پر فضیلت اور اپنے دور میں ان کو سب پر فوقیت دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ ‘ نے ان کو اپنے احسانات سے نوازا پس ان کا حال استقامت سے مناسبت رکھتا تھا ‘ مگر قارون اپنی قوم کے راستے سے منحرف ہوگیا ‘ اس نے ان پر ظلم کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی کیونکہ بڑے بڑے امور م اس کے سپرد کئے تھے۔ (واٰتینٰہ من الکنوز) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →109 مال و دولت کا صحیح مصرف اور حقیقی فائدہ : سو مال و دولت کا صحیح مصرف یہ ہے کہ اس کو راہ حق میں اور حق تعالیٰ کی تعلیمات وارشادات کے مطابق خرچ کر کے اسے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ بنایا جائے۔ چناچہ اس کی قوم کے ان دانش مندوں نے اس کو مزید نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ مال و دولت تجھے اللہ نے دے رکھا ہے اس سے تو آخرت کے اپنے اصل اور حقیقی گھر کو بنانے کی فکر کرو۔ یہ ہے مال و دولت کا اصل مصرف کہ اس کو راہ حق میں خرچ کرکے اس سے آخرت کی کمائی کا سامان کیا جائے۔ اور اس طرح اسے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بنایا جائے۔ اس صورت میں وہ دولت ایک نعمت بن جائے گی۔ جیسا کہ حدیث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–85
قارون کی سرکشی اور اس کا انجام بد
تشریح : قارون کا واقعہ ‘ غرور ‘ زرپرستی ‘ اور اللہ سے دوری اور کفار کے اس اعتراض کا بہترین جواب ہے سیدنا محمد ﷺ کے علاوہ نبوت عرب کے کسی امیر کبیر سردار کو کیوں نہیں سونپی گئی۔ قارون سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ یہ بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون وہامان کے ساتھ جا ملا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیشمار مال و دولت دے رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ بجائے شکر گزار الٰہی ہونے کے کفر و شرک اور دولت کے نشے میں اپنی قوم سے بھی باغی ہوگیا تھا۔ اور یوں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین میں فرعون، ہامان اور یہ تیسرا قارون بھی شامل ہوگیا تھا۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیات 76 تا 82
اسرارو معارف
دولت دنیا کا انجام تو قارون کے واقعہ میں ظاہر ہے کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا وہی خوش نصیب قوم جسے موسیٰ (علیہ السلام) کے طفیل فرعون سے نجات ملی اور سمندر نے جس کی خاطر راستے چھوڑ دیئے جس قوم پر اللہ کے بہت احسانات تھے ان میں سے وہ بھی تھا۔ مفسرین کرام کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد تھا مگر بگڑ گیا اور پوری قوم کے ساتھ زیادتی کرتا تھا اور انہیں حقیر جانتا تھا حالانکہ اللہ نے اسے اس قدر مال و دولت بخشا کہ کہ بہت بڑی اور طاقتور جماعت بھی اس کے خزانوں کی کنجیاں اٹھانے سے قاصر تھی۔ اس قدر وسیع و عریض خزانے بھرے تھے اس پر قوم نے اس سے کہا کہ اس…
Read the full tafseer →2 ۔ یعنی دنیا میں آخرت کے لئے نیک کام کرتا وہ کیونکہ دنیا میں انسان کا حصہ اس کی عمر اور نیک عمل ہی ہیں۔ جمہور مفسرین (رح) نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے۔ بعض نے لکھا ہے کہ دنیا میں حلال رزق سے متمتع ہونے اور حلال روزی طلب کرنے کا حصہ ضائع نہ کر اور دنیا کے انجام پر غور کرتا رہ جیسے حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : اخرت لدناک کانک تعیش ابدا و اعمل لاخرتک کانک لموت غدا (کذا فی القرطبی) ۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” حصہ موافق کھا پہن اور زیادہ مال سے آخرت کما۔ “ (موضح) 3 ۔ یہاں ” احسان “ کے معنی ہیں ” خلوص سے اللہ کی عبادت کرنا “۔ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ سے احسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(28:77) وابتغ۔ واؤ حرف عطف۔ ابتغ کا عطف لاتفرح پر ہے ابتغ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ابتغاء (افتعال) مصدر۔ تو طلب کر ۔ تو جستجو کر۔ تو حاصل کرنے کی کوشش کر۔
فیما اتک اللہ۔ میں فی یا ظرفیہ ہے یا سببیہ۔ اس کو خرچ کرکے۔ ما اسم موصول۔ اتک اللہ (جملہ خبر یہ) صلہ۔ اس (مال وزر) سے جو اللہ نے تجھے دیا ہے ۔ یعنی اسے خرچ کرکے اللہ کی راہ میں۔
الدار الاخرۃ۔ موصوف و صفت۔ ابتغ کا مفعول۔ مطلب یہ ہوا کہ جو دولت اللہ نے تجھے دی ہے اس کے ذریعہ آخرت کا گھر حاصل کرنے کی کوشش کر۔
لاتنس۔ فعل نہی۔ واحد مذکر حاضر۔ نسی ینسی (سمع) نسی نسیان ونسایۃ مصدر۔ تو مت بھول۔ نہ ترک کر۔
نصیبک۔ مضاف مضاف الیہ۔ اپنا حصہ۔ یعنی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 78 ) ۔
بغی (اس نے زیادتی کی) ۔ الکنوز (کنز) (خزانے) ۔ مفاتیح (مفتاح) (چابیاں۔ کنجیاں) ۔ تنوء (بھاری ہوئیں) ۔ العصبتہ (جماعت) ۔ لا تفرح (مت اترا ۔ مت اکڑ) ۔ لاتنس (تومت بھول ) ۔ نصیب (حصہ) ۔ احسن (بھلائی کر ۔ نیکی کر ) ۔ لا تبغ (تلاش نہ کر) ۔ ذنوب (ذنب) (گناہ ۔ خطائیں) ۔
تشریح : آیت (76 تا 78 ) ۔ ” مال و دولت اور تجارت اگر اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے اصولوں اور طریقوں کے مطابق حاصل کرکے اس کو صرف کیا جائے یا جمع کیا جائے تو وہ ہر ایک کے لئے خیر و برکت اور سلامتی کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ اور اگر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے مجبور و بےکس بندوں کی مدد پر خرچ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
قارون کا عبرتناک واقعہ۔
(ف 2) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا اور اللہ تعالیٰ کا دشمن منافق تھا جیسے سامری منافق تھا، کثرت مال کے سبب سے اترا گیا تھا اس کے اترانے پر اللہ تعالیٰ نے اس کو برباد کردیا تھا اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس قدرخزانے دیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت والی جماعت پر بھاری تھیں وہ کنجیاں اپنے ساتھ رکھتا تھا اسقدر خزانے کی وجہ سے وہ اترا گیا اور جب اس کی قوم نے اس سے کہا کہ مت اترا اپنے مال و حشمت پر، کیونکہ اللہ اترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے اور جو تجھ کو خدا نے دیا ہے اس سے اپنے لیے آخرت کی اصلاح تلاش کر، اور دنیا سے اپناحصہ…
Read the full tafseer →[47] یعنی یہ کوئی نہیں کہتا کہ تو ساری کی ساری دولت اللہ کی راہ میں خرچ کر دے۔ فراغت سے کھا پی، عیش کر لیکن حدود کے اندر رہ کر اور زیادہ مال سے آخرت کما۔
Read the full tafseer →حل لغات :۔ ولاتنس ۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جہاں عقبے کے لئے تم سے کہا جاتا ہے کہ اس کے لئے زاد مہیا کرو ۔ وہاں یہ نہیں کہا جاتا ۔ کہ دنیا بالکل فراموش کردو ۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ دولت بھی جمع کرو اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ بھی کرو
Read the full tafseer →77۔ اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو دے رکھا ہے اس سے آخرت کے گھر کی تلاش اور جستجو کر اور دنیا میں سے اپنے حصے کو فراموش نہ کر اور اس کو بھول نہ جا اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے تجھ پر احسان کیا ہے تو اس کی مخلوق پر احسان کر اور ملک میں فساد پھیلانے کا خواہش مند نہ ہو اور فساد پھیلانے کی راہیں تلاش نہ کر بلاشبہ اللہ تعالیٰ فساد کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ یہ بھی قوم کا ہی قول ہے جو قوم نے اس کو سمجھانے کی غرض سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تجھ کو عطا فرمایا ہے اس سے اپنی آخرت کو سنوارا اور دار آخرت کے لئے اعمال خیر کر اور دنیا میں اپنا حصہ فراموش نہ کر یعنی کھالے پہن لے باقی خدا کی مخلوق پر…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی گناہ کرنے سے دنیا میں فساد ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کا وعظ قارون کی مجلس خاص میں :
77۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی مجلس میں اس کو وعظ کرتے ہوئے بہت سی نصیحتیں کیں اور اس کو ضمیر فروشی اور خصوصا قوم فروشی سے بہت روکا اور ہدایت کی کہ دیکھو تمہارا تعلق قوم بنی اسرائیل سے ہے اور فرعون بنی اسرائیل پر کس طرح ظلم وستم کر رہا ہے اور تم ہو کہ اس کی ہاں میں ہاں ملا کر اپنا الو سیدھا کئے ہوئے ہو آخر اس دولت کو کہاں ثبات ہے اور اس نے کس کا ساتھ دیا ہے ۔ آپ فرعون کی حکومت سے اس قدر بےفکر زندگی کیوں بسر کر رہے ہیں جب کہ قوم کے ہاتھوں میں غلامی کی بیڑیاں اور گلے میں غلامی کا طوق باعث ننگ وعار ہے ۔
حالانکہ جو کچھ تم کو دیا گیا ہے اسی قوم…
Read the full tafseer →وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّـهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا (And seek the (betterment of) the ultimate Abode with what Allah has given to you, and do not neglect your share from this world - 28:77). The Muslims advised Qarun that he should try to do as much good as possible for the Hereafter by utilizing the wealth Allah Ta’ ala had given him, and 'should not forget his share in the world'.
What is his 'share in this world'? Many commentators have explained that it refers to his life in this world and the deeds that may help him in the Hereafter which…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
97 The words of the Text can have two meanings: (1) "Whatever I have obtained is by virtue of my own ability. It is not a bounty which somebody else might have given me as a favour without my deserving it as a right, and now I may have to render thanks for it by giving a portion of it to those who have not been given anything, as a favour, or give some of it in charity so that the bounty is not withdrawn from me." (2) "I think God has given me this wealth in view of my qualities and excellences Had I not been a likeable person, He would not have given me all this. That He has bestowed on me…
Read the full tafseer →