Explained with ayahs 76–77
قارون
مروی ہے کہ قارون حضرت موسیٰ ؑ کے چچا کا لڑکا تھا۔ اس کا نسب یہ ہے قارون بن یصہر بن قاہیث اور موسیٰ ؑ کا نسب یہ ہے موسیٰ بن عمران بن قاہیث۔ ابن اسحاق کی تحقیق یہ کہ یہ حضرت موسیٰ ؑ کا چچا تھا۔ لیکن اکثر علماء چچاکا لڑکا بتاتے ہیں۔ یہ بہت خوش آواز تھا، تورات بڑی خوش الحانی سے پڑھتا تھا اس لئے اسے لوگ منور کہتے تھے۔ لیکن جس طرح سامری نے منافق پنا کیا تھا یہ اللہ کا دشمن بھی منافق ہوگیا تھا۔ چونکہ بہت مال دار تھا اس لئے بھول گیا تھا اور اللہ کو بھول بیٹھا تھا۔ قوم میں عام طور پر جس لباس کا دستور تھا اس نے اس سے بالشت بھر نیچا لباس بنوایا تھا جس سے اس کا غرور اور اس کی دولت ظاہر ہو۔ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
سورة القصص 94
یہ واقعہ بھی کفار مکہ کے اسی عذر کے جواب میں بیان کیا جارہا ہے جس پر آیت نمبر 57 سے مسلسل تقریر ہو رہی ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ جن لوگوں نے محمد ﷺ کی دعوت سے قومی مفاد پر ضرب لگنے کا خطرہ ظاہر کیا تھا وہ دراصل مکہ کے بڑے بڑے سیٹھ، ساہبوکار اور سرمایہ دار تھے، جنہیں بین الاقوامی تجارت اور سود خواری نے قارون وقت بنا رکھا تھا، یہی لوگ اپنی جگہ یہ سمجھنے بیٹھے تھے کہ اصل حق بس یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹو، اس مقصد پر جس چیز سے بھی آنچ آنے کا اندیشہ ہو وہ سراسر باطل ہے جسے کسی حال میں قبول نہیں کیا جاسکتا، دوسری طرف عوام الناس دولت کے ان میناروں کو آرزو بھری…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
قارون (کا حال دیکھ لو کہ کفر و خلاف کرنے سے اس کو کیا ضرر پہنچا اور اس کا مال و متاع کچھ کام نہ آیا بلکہ اس کے ساتھ اس کا مال و متاع بھی برباد ہوگیا، مختصر اس کا قصہ یہ ہے کہ وہ) موسیٰ ؑ کی برادری میں سے (یعنی بنی اسرائیل میں سے، بلکہ ان کا چچا زاد بھائی) تھا (کذا فی الدر) سو وہ کثرت مال کی وجہ سے) ان لوگوں کے مقابل ہمیں تکبر کرنے لگا اور (مال کی اس کے پاس یہ کثرت تھی کہ) ہم نے ان اس کو اس قدر خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں کئی کئی زور آور شخصوں کو گرانبار کردیتی تھیں (یعنی ان سے بتکلف اٹھتی تھیں تو جب کنجیاں اس کثرت سے تھیں تو ظاہر ہے کہ خزانے بہت ہی ہوں گے اور یہ تکبر اس وقت کیا…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 84-76
آگے کا مضمون اوپر آیت 61 سے مربوط ہوگیا ہے۔ اوپر یہ بیان ہوا تھا کہ اپنی رفاہیت و خوشحالی پر اترانے والی کتنی قومیں گزری ہیں جن کو خدا نے تباہ کردیا اور ان کو اپنے جن معبودوں پر ناز تھا وہ ان کو خدا کی پکڑ سے نہ بچا سکے اس کے بعد ضمناً رد شرک کا مضمون آگیا جو آیت 75 پر تمام ہوا۔ اس کے بعد پھر اسی اوپر والے مضمون کو از سر نو لے لیا اور ایک یہودی سرمایہ دار … قارون … کے فخر و غرور اور اس کے عبرت انگیز انجام کو بطور مثال ذکر کر کے ان لوگوں کو متنبہ فرمامیا جو دنیا کی زینتوں پر ریجھ کر خدا اور آخرت کو بھلا بیٹھے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی قوم میں قارون کا مماثل ابولہب تھا۔ اس کو…
Read the full tafseer →76-1اپنی قوم بنی اسرائیل پر اس کا ظلم یہ تھا کہ اپنے مال و دولت کی فراوانی کی وجہ سے ان کا استخفاف کرتا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ فرعون کی طرف سے یہ اپنی قوم بنی اسرائیل پر عامل مقرر تھا اور ان پر ظلم کرتا تھا۔
76-2تنوء کے معنی تمیل (جھکنا) جس طرح کوئی شخص بھاری چیز اٹھاتا ہے تو بوجھ کی وجہ سے ادھر ادھر لڑکھڑاتا ہے اس کی چابیوں کا بوجھ اتنا زیادہ تھا کہ ایک طاقتور جماعت بھی اسے اٹھاتے ہوئے گرانی محسوس کرتی تھی۔
76-3یعنی تکبر اور غرور مت کرو، بعض نے بخل، معنی کئے ہیں، بخل مت کر۔
76۔-4یعنی تکبر اور غرور کرنے والوں کو یا بخل کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →41: اتنی بات تو خود قرآن کریم سے واضح ہے کہ قارون بنو اسرائیل ہی کا ایک شخص تھا، بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ ؑ کا چچا زاد بھائی تھا، اور حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت سے پہلے فرعون نے اس کو بنو اسرائیل کی نگرانی پر متعین کیا ہوا تھا، جب حضرت موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بنایا اور حضرت ہارون ؑ آپ کے نائب قرار پائے تو اسے حسد ہوا اور بعض روایات میں ہے کہ اس نے حضرت موسیٰ ؑ سے مطالبہ بھی کیا کہ اسے کوئی منصب دیا جائے، لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہیں تھا کہ اسے کوئی منصب ملے، اس لئے حضرت موسیٰ ؑ نے معذرت کرلی، اس پر حسد کی آگ اور زیادہ بھڑک اٹھی، اور اس نے منافقت شروع کردی۔
42: قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
درس نمبر 178 ایک نظر میں
اس سورت کا ابتدائی حصہ قصہ فرعون و کلیم پر مشتمل تھا۔ اس قصے میں بتا یا گیا تھا کہ قوت اور اقتدار کے نتیجے میں کسی طرح نافرمانی اور سرکشی آتی ہے ۔ اور حکمران کس طرح اللہ کی ناشکری کرتے ہیں۔ اللہ کی ہدایت سے دور ہوتے ہیں اور پھر ان سب باتوں کے نتیجے میں وہ زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ اب یہاں قارون کا قصہ لایا جاتا ہے کہ مال اور علم و ہنر جب سرکشی اختیار کرلیں ، مالدار اترانے لگیں ، عوام پر برتری جتلائیں ، اللہ کی نعمتوں کا انکار کریں تو ان پر کس طرح ہلاکت آتی ہے۔ اس کے بعد درست تصورات اور نظریات کے مطابق مال اور علم دنیا کی زیب وزینت ہیں اور ایمان اور نیک عمل کے مقابلے میں…
Read the full tafseer →8 رکوع سابق کے آغاز میں دنیا کی بےثباتی اور حقارت آخرت کے مقابلہ میں بیان کی گئی تھی۔ بعدہ ذکر آخرت کی مناسبت سے کچھ احوال عالم آخرت کے بیان ہوئے۔ رکوع حاضر میں پھر اصل مضمون کی طرف عود کیا گیا ہے اور اسی دعوے کے استشہاد میں قارون کا قصہ سنایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ قارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا اور فرعون کی پیشی میں رہتا تھا، جیسا کہ ظالم حکومتوں کا دستور ہے کہ کسی قوم کا خون چوسنے کے لیے انہی میں سے بعض افراد کو اپنا آلہ کار بنا لیتے ہیں۔ فرعون نے بنی اسرائیل میں سے اس ملعون کو چن لیا تھا۔ قارون نے اس وقت موقع پا کر دونوں ہاتھوں سے خوب دولت سمیٹی اور دنیاوی اقتدار حاصل…
Read the full tafseer →آیت 76 اِنَّ قَارُوْنَ کَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰی ”
تورات میں اس شخص کا نام Qaurah لکھا گیا ہے۔ ممکن ہے تلفظ کے اختلاف کی وجہ سے یہ فرق پیدا ہوا ہو۔ بہر حال اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ یہاں قارون نامی شخص کے حوالے سے جس کردار اور رویے ّ کا ذکر کیا گیا ہے وہ محض ایک فرد کا نام نہیں بلکہ یہ کردار ایک پورے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایک ایسا طبقہ جو کسی محکوم قوم کے اندر حکمرانوں کے ہاتھوں جنم لیتا ہے اور ان کے سائے میں نشوونما پاتا ہے۔ دراصل کسی بھی ملک میں فاتح اور غاصب حکمرانوں کا طرز حکمرانی ظلم و ناانصافی سے عبارت ہوتا ہے۔ ایسے نظام میں عزت و شرافت کے نئے معیار جنم لیتے ہیں۔ سورة النمل کی…
Read the full tafseer →101 قریش مکہ کا عذر یہ تھا کہ اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو عرب مشرک قبائل ان کے دشمن بن جائیں گے۔ نیز ان کا سیاسی اقتدار ہی ختم نہیں ہوگا بلکہ وہ معاشی طور پر تباہ ہوجائیں گے۔ اگرچہ یہ بات ان کے اسلام نہ لانے کا محض ایک بہانہ تھی۔ تاہم اس میں اتنی حقیقت ضرور تھی کہ قریش سرداروں میں سے اکثر بہت دولتمند اور رئیس تھے۔ ان میں کچھ سود خور بھی تھے اور بہت سے لوگ اپنا سرمایہ شراکت کی بنیاد پر تجارت کرنے والے قافلوں کے افراد کو بھی دیتے تھے۔ ان کے تجارتی قافلے لوٹ مار سے بھی محفوظ رہتے تھے۔ علاوہ ازیں مکہ تجارتی منڈی بھی بنا ہوا تھا۔ لہذا ان میں کئی کروڑ پتی سیٹھ موجود تھے۔ اور جہاں ماحول ہی سارا مادہ…
Read the full tafseer →96۔ یعنی اسرائیلی تھا، قبطی نہ تھا۔ اور صرف اسرائیلی ہی نہیں بلکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہم جد اور عزیر قریب بھی تھا۔ توریت میں نام قرح کرکے آیا ہے اور نسب نامہ یوں درج ہے۔ قرح بن اظہار بن قحات بن لادی بن اسرائیل۔ ہمارے ہاں کے نسب ناموں میں املاء یوں آیا ہے۔ قارون بن یصہر بن تاہث بن لادی بن یعقوب، تاہث پر جاکر موسیٰ بن عمران کا بھی نسب نامہ مل جاتا ہے اور تاہث بن لادی جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جدامجد تھے اسی طرح قارون کے بھی تھے۔ اس رشتہ سے قارون آپ کے سگے چچا کا لڑکا ٹھہرتا ہے۔
97۔ (اپنی دولت وتمول کی بناء پر) یعنی اس نے جماعت اسرائیل کے مقابلہ میں شیوۂ تمردو طغیان اختیار کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیت نمبر 76 تا 82
ترجمہ : قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تھا (یعنی) چچا زاد اور خالی زاد بھائی تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لایا تھا، کبر و تعلّی اور
کثرت مال کے ذریعہ لوگوں کے مقابلہ میں تکبر کرنے لگا تھا، اور ہم نے اس کو اس قدر خزانے دئیے تھے کہ ان کی کنجیاں کئی کئی زور آور لوگوں کو گراں بار کردیتے تھیں یعنی ان کو بوجھل کردیتی تھیں باتعدیہ کے لئے ہے (اور اٹھانے والی جماعت کے افراد کی تعداد) کہا گیا ہے ستر تھی اور کہا گیا چالیس تھی اور کہا گیا کہ دس تھی، اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں، اس وقت کو یاد کرو جب اس کو قوم بنی اسرائیل کے مومن لوگوں نے اس سے کہا کثرت مال پر مت اتراو اقعی…
Read the full tafseer →ان قارون کان من قوم موسیٰ . قارون بلاشبہ موسیٰ کی قوم میں سے تھا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ قارون حضرت
موسیٰ کے چچا کا بیٹا تھا۔ حضرت موسیٰ کے باپ کا نام عمران تھا اور قارون کا باپ یصہر تھا اور عمران و یصہر دونوں قاہت بن لادی بن یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے تھے۔ کذا اخرج ابن المنذر عن ابن جریح۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچا اور عمران کا بھائی تھا اور قارون و عمران دونوں یصہر بن قاہت کے بیٹے تھے اور بنی اسرائیل میں کوئی بھی قارون سے زیادہ توریت کا قاری نہ تھا مگر سامری کی طرح یہ بھی منافق ہوگیا۔ جلال الدین محلی نے لکھا ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کے چچا کا بیٹا بھی تھا اور خالہ کا بیٹا…
Read the full tafseer →(76) قارون حضرت موسیٰ ؑ کا چچازاد بھائی تھا حضرت موسیٰ ؑ و ہارون ؑ اور ان کی قوم کے مقابلہ میں تکبر کرنے لگا اور کہنے لگا کہ حضرت موسیٰ ؑ کو رسالت اور ہارون کو دانش مندی مل گئی اور مجھے کچھ بھی نہیں ملا میں تو اس چیز پر راضی نہیں ہوں اور حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت انکار کردیا اور ہم نے اس کو دولت کے اس قدر خزانے دیے تھے کہ اس کے خزانوں کی چابیاں کئی کئی طاقت آور آدمیوں کو گرانبار کردیتی تھیں یعنی چالیس آدمیوں سے بھی اس کے خزانوں کی چابیاں نہیں اٹھتی تھیں جب کہ حضرت موسیٰ ؑ کی قوم نے اس سے کہا کہ تو دولت کی وجہ سے تکبر مت کر اور شرک مت کر اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰي۔۔ : کفار مکہ کے ایمان قبول نہ کرنے کا بہت بڑا باعث ان کے مالی اور دنیوی مفادات تھے، جس کا اظہار انھوں نے یہ کہہ کر کیا : (اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا) [ القصص : 57 ] ”اگر ہم تیرے ہمراہ اس ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے۔“ یہ لوگ بہت بڑے سیٹھ، ساہو کار اور سرمایہ دار تھے، جنھیں بین الاقوامی تجارت نے قارون وقت بنادیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس بہانے کو کئی طرح سے دور فرمایا، جس میں انھیں حرم کی بدولت حاصل نعمتوں کا تذکرہ بھی ہے، اپنی معیشت پر متکبر قوموں کی ہلاکت کا بھی اور اس بات کا بھی کہ دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
ان قارن کان من قوم موسیٰ جب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : فما اوتیتم من شیء فمتاع الحیوۃ الدین (الشوریٰ : 36) تو اس امر کو واضح کیا کہ قارون کو مال عطا کیا گیا، اس نے اس کے ساتھ دھوکہ کھایا اور مال و دولت قارون کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ نہیں رکھے گا جس طرح فرعون کو معصوم نہیں رکھے گا۔ اے مشرکو ! تم تعداد اور مال میں قارون اور فرعون سے تعداد میں زیادہ نہیں ہو گے۔ فرعون کو اس کے لشکروں اور اموال نے کوئی فائدہ نہ دیا اور قارون کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رشتہ داری اور مال نے کوئی نفع نہ دیا۔ نخعی قتادہ اور دوسرے علماء نے کہا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نسب موسیٰ بن عمران بن قاہت ہے (1)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا
1۔ ابن شیبہ نے المصنف میں وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ان قارون کان من قوم موسیٰ کے بارے میں روایت کیا کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا اور وہ علم کو تلاش کرنا چاہتا تھا یہاں تک کہ اس نے علم کو جمع کرلیا وہ اسی طرح رہا یہاں تک کہ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر بغاوت کی اور حسد کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے زکوٰۃ لینے کا حکم فرمایا ہے تو اس نے انکار کردیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے مالوں کو کھانے کا ارادہ رکھتا ہے تمہارے پاس نماز کو لائے اور…
Read the full tafseer →اِنَّ قَارُوْنَ [بیشک قارون ] كَانَ [تھا ] مِنْ قَوْمِ مُوْسٰي [موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے ] فَبَغٰى عَلَيْهِمْ ۠ [تو اس نے بغاوت کی ان کے خلاف ] وَ [حالانکہ ] اٰتَيْنٰهُ [ہم نے دیا تھا اس کو ] مِنَ الْكُنُوْزِ [خزانوں میں سے ] مَآ [وہ ] اِنَّ [کہ ] مَفَاتِحَهٗ [جس کی کنجیاں ] لَتَنُوْۗاُ [یقینا مشکل سے اٹھتی تھیں ] بِالْعُصْبَةِ اُولِي الْقُوَّةِ ۤ [قوت والی جماعت سے ] اِذْ قَالَ لَهٗ [جب کہا اس سے ] قَوْمُهٗ [اس کی قوم نے ] لَا تَفْرَحْ [تو مت اترا ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] لَا يُحِبُّ [پسند نہیں کرتا ] الْفَرِحِيْنَ [اترانے والوں کو ] ۔
ن و ء
(ن) نوءا مشقت و تکلیف سے اٹھنا۔ زیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
قارون کا اپنے مال پر اترنا، دنیا داروں کا اس کا مال دیکھ کر ریجھنا، اور قارون کا اپنے گھر کے ساتھ زمین میں دھنس جانا
ان آیات میں قارون کا اور اس کی مالداری کا اور بغاوت اور سر کشی کا اور زمین میں دھنسائے جائے کا ذکر ہے یہ تو قرآن مجید میں ذکر ہے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا اور بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا کا لڑکا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ ان کا چچا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ ان کی خالہ کا لڑکا تھا یہ سب اسرائیلی روایات ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اسے اتنا زیادہ مال دیا تھا کہ اس کے خزانوں کا اٹھانا تو بہت دور کی بات ہے اس کے خزانوں کی کنجیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ذکر قصہء قارون برائے عبرت مغرور ان مال ودولت
قال اللہ تعالیٰ ان قارون کان من قوم موسیٰ ۔۔۔ الی۔۔۔ ویکانہ لا یفلح الکفرون۔
(ربط) شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے تکبر اور فساد کا ذکر کیا۔ ان فرعون علا فی الارض اور انہ کان من المفسدین اب اخیر سورت میں ایک دوسرے متکبر اور مفسد یعنی قارون کا ذکر کرتے ہیں کہ فرعون کی طرح قارون بھی تکبر اور فساد فی الارض کی وجہ سے تباہ اور برباد ہوا۔
یا یوں کہو کہ گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ متاع دنیا ہیچ ہے اور چند روزہ ہے اور فانی ہے اور گزرگاہ ہے اور آرائش ہے اور اس کے شیدائی گمراہ ہیں اور بقول حافظ شیرازی۔
مرا در منزل جاناں چہ امن وعیش چوں ہر دم جرس…
Read the full tafseer →ٖ 71:۔ یہ تخویف دنیوی ہے اور وما اوتیتم من شیء الخ سے متعلق ہے۔ دنیا کی ناپائیداری کا حال دیکھ لو۔ قارون کے پاس کس قدر دولت تھی مگر اس نے دولت میں اللہ کا حق ادا نہ کیا۔ اور کفر و شرک کرتا رہا اس لیے دولت کے ساتھ تباہ و ربرباد کردیا گیا۔ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے والد عمران اور قارون کا والد یصہر دونوں حقیقی بھائی تھے جو قاہث بن لادی بن یعقوب کے بیٹے تھے (روح) قارون منافق تھا اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ دریا سے پار ہوگیا ولم یکن فی بنی اسرائیل اقرا منہ للتوارۃ ولکنہ نافق کما نافق السامری (خازن ج 5 ص 150) ۔ وہ کثرت مال کی وجہ سے دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے پہلے مشرکوں کا د کیا ، پھر توحید کے عقلی دلائل بیان فرمائے اور قیامت اور جزائے عمل کا ذکر کیا ۔ اس سے پہلے مشرکین کو تنبیہ کی گئی جو غرور وتکبر کی وجہ سے توحید اور رسالت کا انکار کرتے تھے اور ظلم و زیادتی کے مرتکب ہوتے تھے ، اللہ نے ان کو سمجھانے کے لیے بعض پہلی بستیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا ۔ اب سورة کے آخری حصے میں اللہ نے ایسے ہی لوگوں کو نصیحت کے لیے قارون کا واقعہ بیان کیا ہے۔ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا آدمی تھا۔ اللہ نے بےتحاشا مال و دولت دے رکھا تھا ، مگر اس نے سرکشی اختیار کی اور موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ حسد اور ضد کا اظہار کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ…
Read the full tafseer →اِنَّ قَارُوْنَ كَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰي فَبَغٰى عَلَيْہِمْ 0۠ وَاٰتَيْنٰہُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَآ اِنَّ مَفَاتِحَہٗ لَتَنُوْۗاُ بِالْعُصْبَۃِ اُولِي الْقُوَّۃِ 0ۤ اِذْ قَالَ لَہٗ قَوْمُہٗ لَا تَفْرَحْ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِيْنَ 76
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ،
( ق و م ) قيام
القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]
موسی
مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
ترکیب : ماان مفاتحہ، بمعنی الذی فی موضع نصب باتینا وان و اسمھا و خبرھا صلۃ الذی ولھذا کسرت ان، تنوءا الخ ای ثقلھم فالباء، للتعدیۃ وقد یقال اناء تہ ونوء ت، بہ وقیل ھو علی القلب ای لتنوء بہ العصبۃ و من الکنوز متعلق باتیناہ واذقال لہ ظرف لاتیناہ والا وجہ ان یقال اذکر اذ قال لہ قومہ۔ فیما اتاک، مصدریۃ او بمعنی الذی وھی فی موضع الحال اے واطلب منقلبا فیما اتاک اللہ اجر الآخرۃ ویجوزان یکون ظرفا لاتبغ علی علم فی موضع الحال وعندی صفۃ لعلم من قبلہ ظرف لا ھلکنا من ھو مفعول۔
تفسیر : کلام اس میں آگیا تھا کہ ما اوتیتم من شیئٍ فمتاع الحیوۃ الدنیا و زینتہا و ما عند اللہ خیر و ابقی کہ دنیا کے ناز و نعم بےثبات…
Read the full tafseer →اِنَّ قَارُوْنَ کَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰی فَبَغٰی عَلَیْہِمْ ص وَاٰتَیْنٰہُ مِنَ الْـکُنُوْزِ مَـآ اِنَّ مَفَاتِحَہٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَۃِ اُوْلِی الْقُوَّۃِ ق اِذْقَالَ لَـہٗ قَوْمَہٗ لاَ تَفْرَحْ اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ الْفَرِحِیْنَ ۔ (القصص : 76)
(بیشک قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا، پھر وہ اپنی قوم کیخلاف سرکش ہوگیا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے جن کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت سے مشکل سے اٹھتی تھیں اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا کہ اترائو مت، اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ )
قارون دنیا پرستی کا نمونہ اور اس کے اطوار
قارون کا ذکر تورات کی کتاب گنتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
فہم القرآن
ربط کلام : اس سورة مبارکہ کی آیت 57 میں اہل مکہ کے عذر لنگ کا ذکر کیا گیا ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اس نبی کی اتباع کریں تو ہمارے کاروبار تباہ ہوجائیں گے۔ سورت کے اختتام میں اہل مکہ اور دنیا پرست لوگوں کے سامنے ایک سرمایہ دار کے انجام کا ذکر کیا جاتا ہے۔
اہل علم نے توراۃ اور تاریخ کے حوالے سے یہ بات تحریر کی ہے کہ قارون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بغاوت اور اپنی قوم کے ساتھ غداری کی۔ جس کے معاوضہ میں فرعون نے اسے اپنے ہاں ایک خاص مقام دیا۔ حکومتی خزانے کے بعد ملک بھر میں سب سے زیادہ دولت اس کے پاس تھی۔ جس کے بارے میں مفسرین نے لکھا…
Read the full tafseer →76: اِنَّ قَارُوْنَ کَانَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰی (بیشک قارون قوم موسیٰ میں سے تھا) ۔
نحو : قارون یہ غیر منصرف ہے۔ کیونکہ عجمہ و معرفہ دو سبب موجود ہیں اگر اس کو فاعولا کے وزن پر مانیں تو یہ منصرف ہوگا۔ پھر یہ قرنت الشیٔ سے ماخوذ ہوگا۔
یہ اسرائیلی الاصل تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا ابن عم تھا۔ سلسلہ نسب قارون بن یصہر بن قاہث بن لاوی بن یعقوب اور موسیٰ (علیہ السلام) کا سلسلہ موسیٰ بن عمران بن قاہث اس کو خوبصورتی کی وجہ سے المنور کہا جاتا تھا۔ یہ بنی اسرائیل میں تورات کا بڑا قاری تھا۔ لیکن سامری کی طرح منافق تھا۔ فَبَغٰی عَلَیْہِمْ (پھر یہ قوم پر تکبر کرنے لگا) ۔ یعنی یہ البغی سے نکلا ہے۔ جس کا معنی…
Read the full tafseer →تفسیر۔
قارون کا مختصر تعارف۔
76۔ ان قارون کان من قوم موسی، ، قارون حضرت موسیٰ کے چچا کا بیٹا تھا، حضرت موسیٰ کے باپ کا نام عمران تھا اور قارون کے باپ کا نام یصہر تھا، عمران ویصہر دونوں قاہت بن لاوی بن یعقوب کے بیٹے تھے۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچ اور عمران کا بھائی تھا اور قارون و عمران دونوں یصہر بن قاہت کے بیٹے تھے اور بنی اسرائیل میں کوئی بھی قارون سے زیادہ توریت کا قاری نہ تھا، مگر سامری کی طرح یہ بھی منافق ہوگیا۔ فبغی علیھم ، بعض نے کہا کہ یہ فرعون کی طرف قوم بنی اسرائیل پر عامل تھا اور وہ ان پر سرکشی اور ظلم کرتا تھا، قتادہ کا بیان ہے کہ یہ کثر مال کی وجہ سے ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–84
76 تا 84۔ معتبر سند سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا اور اللہ تعالیٰ کا دشمن منافق تھا۔ جیسے سامری منافق تھا کثرت مال کے سبب سے وہ اترا گیا تھا اس کے اترانے پر اللہ تعالیٰ نے اس کو برباد کردیا قارون کے خزانوں کی کنجیاں چمڑے کی تھیں تاکہ وہ کنجیاں ہلکی رہیں کیوں کہ جب دہ کہیں جاتا تھا تو کنجیاں اپنے ساتھ رکھتا تھا مجاہد کے قول کے موافق عصبہ دس سے لے کر پندرہ آدمیوں کی جماعت تک کو کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فَرِحِیْن کی تفسیر اترانے والوں کی فرمائی ہے حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس قدر خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت والی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
اللہ تبارک و تعالیٰ قارون کے احوال اور اس کے کرتوتوں اور ان کرتوتوں کی پاداش میں اس کے ساتھ جو کیا گیا ‘ اس کے ساتھ خیر خواہی اور جو اسے نصیحت کی گئی تھی ان سب کے بارے میں خبر دیتا ہے ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان قارون کان من قوم موسٰی) یعنی قارون ‘ بنی اسراتیل میں سے تھا جن کو تمام جہانوں پر فضیلت اور اپنے دور میں ان کو سب پر فوقیت دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ ‘ نے ان کو اپنے احسانات سے نوازا پس ان کا حال استقامت سے مناسبت رکھتا تھا ‘ مگر قارون اپنی قوم کے راستے سے منحرف ہوگیا ‘ اس نے ان پر ظلم کیا اور سرکشی کی راہ اختیار کی کیونکہ بڑے بڑے امور م اس کے سپرد کئے تھے۔ (واٰتینٰہ من الکنوز) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →106 قارون اور اس کی سرکشی کی داستان عبرت کا بیان : سو یہاں سے طغیان و سرکشی کے دوسرے سبب یعنی دنیوی مال و دولت کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جبکہ اس سے قبل اس کے پہلے عامل و باعث یعنی نشہ اقتدار کو بیان فرمایا گیا ہے۔ روایات کے مطابق قارون حضرت موسیٰ کا چچا زاد بھائی تھا۔ اس نے اپنی قوم کے خلاف فرعون سے مل کر خوب خوب نفع اٹھایا۔ فائدے حاصل کئے اور دولت کمائی۔ پھر غرق فرعون کے بعد جب یہ حضرت موسیٰ کے ساتھ بچ نکلا تو بظاہر اگرچہ یہ مسلمان بنا ہوا تھا مگر اندر سے سامری کی طرح یہ بھی منافق اور منکر تھا۔ تاآنکہ جب حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو زکٰوۃ کا حکم سنایا تو یہ نفاق کے پردے سے نکل کر کھلے کفر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–85
قارون کی سرکشی اور اس کا انجام بد
تشریح : قارون کا واقعہ ‘ غرور ‘ زرپرستی ‘ اور اللہ سے دوری اور کفار کے اس اعتراض کا بہترین جواب ہے سیدنا محمد ﷺ کے علاوہ نبوت عرب کے کسی امیر کبیر سردار کو کیوں نہیں سونپی گئی۔ قارون سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا۔ یہ بنی اسرائیل میں سے ہونے کے باوجود فرعون وہامان کے ساتھ جا ملا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بیشمار مال و دولت دے رکھا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ بجائے شکر گزار الٰہی ہونے کے کفر و شرک اور دولت کے نشے میں اپنی قوم سے بھی باغی ہوگیا تھا۔ اور یوں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے مخالفین میں فرعون، ہامان اور یہ تیسرا قارون بھی شامل ہوگیا تھا۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
آیات 76 تا 82
اسرارو معارف
دولت دنیا کا انجام تو قارون کے واقعہ میں ظاہر ہے کہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا وہی خوش نصیب قوم جسے موسیٰ (علیہ السلام) کے طفیل فرعون سے نجات ملی اور سمندر نے جس کی خاطر راستے چھوڑ دیئے جس قوم پر اللہ کے بہت احسانات تھے ان میں سے وہ بھی تھا۔ مفسرین کرام کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد تھا مگر بگڑ گیا اور پوری قوم کے ساتھ زیادتی کرتا تھا اور انہیں حقیر جانتا تھا حالانکہ اللہ نے اسے اس قدر مال و دولت بخشا کہ کہ بہت بڑی اور طاقتور جماعت بھی اس کے خزانوں کی کنجیاں اٹھانے سے قاصر تھی۔ اس قدر وسیع و عریض خزانے بھرے تھے اس پر قوم نے اس سے کہا کہ اس…
Read the full tafseer →1 ۔ اوپر بیان فرمایا تھا کہ جو کچھ مال و دولت یا اقتدار تمہیں حاصل ہے۔ یہ دنیا کا چند روزہ فائدہ ہے لہٰذا انسان کو اس پر مغرور نہیں ہونا چاہیے۔ اب قارون کا قصہ اس پر بطور دلیل پیش کیا۔ (قرطبی) نخعی (رح) ، قتادہ (رح) اور دوسرے مفسرین (رح) کہتے ہیں کہ قارون حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا اور یہی بات بائیبل کتاب خروج (باب 6) میں مذکور ہے۔ بعض مفسرین اسے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا خالہ زاد بھائی بتاتے ہیں۔ (فتح القدیر) بہرحال وہ بنی اسرائیل میں سے تھا۔ لیکن منافق ہو کر فرعون سے مل گیا تھا بلکہ اس کا مقرب بن گیا تھا۔ قرآن میں دوسری جگہ اس کا ذکر فرعون اور اس کے وزیر ہامان کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
(28:75) نزعنا۔ ماضی جمع متکلم۔ نزع (فتح) مصدر ہم نکال لیں گے (ماضی بمعنی مستقبل) نزع الشیء کے معنی کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنے کے ہیں۔ یا باہر نکال لانا۔ اس کا عطف ینادیہم پر ہے ای یوم نزعنا ۔۔
شھیدا۔ شاہد۔ گواہ۔ جو ان کے متعلق شہادت دے کر وہ کیا کرتے رہے ہیں دنیا میں ۔ مراد یہاں انبیاء (علیہم السلام) ہیں جو جو اپنی اپنی امت کے کفر پر گواہی دیں گے۔
فقلنا ھاتوا برھانکم۔ فا ضمیر جمع متکلم۔ اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور مخاطبین امتیں ہیں۔ ای فقلنا لکل من تلک الامم ان امتوں میں سے ہر ایک سے ہم کہیں گے کہ لاؤ اپنی کوئی دلیل یا عذر (یعنی اپنی صفائی میں تم بھی کوئی دلیل پیش کرو) ھاتوا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
لغات القرآن آیت نمبر 76 تا 78 ) ۔
بغی (اس نے زیادتی کی) ۔ الکنوز (کنز) (خزانے) ۔ مفاتیح (مفتاح) (چابیاں۔ کنجیاں) ۔ تنوء (بھاری ہوئیں) ۔ العصبتہ (جماعت) ۔ لا تفرح (مت اترا ۔ مت اکڑ) ۔ لاتنس (تومت بھول ) ۔ نصیب (حصہ) ۔ احسن (بھلائی کر ۔ نیکی کر ) ۔ لا تبغ (تلاش نہ کر) ۔ ذنوب (ذنب) (گناہ ۔ خطائیں) ۔
تشریح : آیت (76 تا 78 ) ۔ ” مال و دولت اور تجارت اگر اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے اصولوں اور طریقوں کے مطابق حاصل کرکے اس کو صرف کیا جائے یا جمع کیا جائے تو وہ ہر ایک کے لئے خیر و برکت اور سلامتی کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ اور اگر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کے مجبور و بےکس بندوں کی مدد پر خرچ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
قارون کا عبرتناک واقعہ۔
(ف 2) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قارون حضرت موسیٰ کا چچازاد بھائی تھا اور اللہ تعالیٰ کا دشمن منافق تھا جیسے سامری منافق تھا، کثرت مال کے سبب سے اترا گیا تھا اس کے اترانے پر اللہ تعالیٰ نے اس کو برباد کردیا تھا اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس قدرخزانے دیے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت والی جماعت پر بھاری تھیں وہ کنجیاں اپنے ساتھ رکھتا تھا اسقدر خزانے کی وجہ سے وہ اترا گیا اور جب اس کی قوم نے اس سے کہا کہ مت اترا اپنے مال و حشمت پر، کیونکہ اللہ اترانے والوں کو دوست نہیں رکھتا ہے اور جو تجھ کو خدا نے دیا ہے اس سے اپنے لیے آخرت کی اصلاح تلاش کر، اور دنیا سے اپناحصہ…
Read the full tafseer →[46] قارون موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا زاد بھائی تھا اور فرعون کی پیشی میں رہتا تھا۔ جیسا کہ ظالم حکومتوں کا دستور ہے کہ کسی قوم کا خون چوسنے کے لئے اس میں سے بعض کو اپنا آلہ کار بنا لیتے ہیں فرعون نے بنی اسرائیل میں سے اس ملعون کو چن لیا تھا۔ قارون نے موقع سے فائدہ اٹھا کر خوب دولت سمیٹی اور دنیوی اقتدار حاصل کیا۔ جب فرعون غرق ہوا اور بنی اسرائیل نے اس کی غلامی سے نجات حاصل کی تو قارون کی مالی ترقی کے ذرائع مسدود ہوگئے اور سرداری جاتی رہی۔ اسی حسد و غیظ میں موسیٰ (علیہ السلام) سے دل میں خلش رکھنے لگا تاہم ظاہر میں مومن بنا ہوا تھا۔ اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف ایک سازش کی۔ آخرکار موسیٰ…
Read the full tafseer →قارون
2: یہ آیات قارون کے متعلق ہیں ۔ اس میں یہ بتایا ہے کہ انسان بعض دفعہ مال و دولت کے نشہ میں کسی درجہ سرشار ہوجاتا ہے اور تمام انسانی حقوق کو بھول جاتا ہے اور یہ سمجھنے لگتا ہے کہ عیش و عشرت کی یہ فراوانی اللہ کے فضل اور بخشش کا نتیجہ نہیں ہے ۔ بلکہ میری اپنی قوت بازو کا ثمرہ ہے ۔ اور میری عقل و فراست کا پھل ہے ۔ اس لئے میرے مال و دولت میں خدا کا کوئی حصہ نہیں اس قسم کے لوگ عموماً کم ظرف ہوتے ہیں بالی حوصلہ اور بلند ومقام لوگ باوجود تمول کے منکسر ہوتے ہیں اور بڑی فراخدلی سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں
قارون کی شخصیت کے متعلق مفصل معلوم نہیں ۔ کہ کون تھا ۔ مفسرین نے مختلق یاس آرائیاں کی…
Read the full tafseer →76۔ اوپر کی آیتوں میں قرآن کریم کی حقانیت اور رسول کی صداقت اور منکرین و ظالمین پر نزول عذاب کا ذکر تھا پھر قیامت کا ذکر فرمایا اور قیامت میں منکرین و متکبرین کا انجام فرمایا اسی سلسلے میں ایک اور متکبر و سرکش یعنی قارون کا ذکر کیا اور اس کی ہلاکت اور تباہی کا بیان فرمایا تاکہ تکبر کرنے والوں اور سرکشوں کو عبرت ہو چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
بلا شبہ قارون موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم اور برادری میں سے تھا پھر وہ لوگوں پر زیادتی اور ان کے مقابلے میں تکبر کرنے لگا اور ہم نے جو خزانے اس کو دیئے تھے وہ اتنے تھے کہ اس خزانے کے صندوقوں کی کنجیاں ایک طاقتور اور زورآور آدمیوں کی جماعت کو گراں بار کردیا کرتی…
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی ان سب بتکلف اٹھتی تھیں، تو جب کنجیاں اس کثرت سے تھیں تو ظاہر ہے کہ خزانے بہت ہی ہوں گے۔
Read the full tafseer →قارون جس کا تعلق قوم موسیٰ سے تھا لیکن دولت نے اس کو بےراہ کردیا :
76۔ قارون بنی اسرائیل میں ایک بہت بڑا متمول شخص تھا ، قرآن کریم نے اس کا نام قارون بتایا ہے اور تورات نے اس کو قورح کے نام سے یاد کیا ہے اس کے خزانے زردوجواہر سے پر تھے اور قومی ہیکل مزدوروں کی جماعت جن کی تعداد چالیس تک بتائی جاتی ہے جن کو آج کل کی زبان میں منیجر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس کے خزانوں کی کنجیاں اٹھاتے تھے گویا اتنے ادارے اس کے چلتے تھے اور ہر ادارہ کا الگ ناظم ومنیجر تھا جو ذمہ دار افسر تھا جس کو آپ چابی بردار کہہ لیجئے ، اس تمول اور سرمایہ داری نے اس کو بیحد مغرور بنا دیا تھا اور وہ دولت کے نشہ میں اس قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
Commentary
From the beginning of Surah Al-Qasas to this point, the story of Sayyidna Musa (علیہ السلام) with the Pharaoh and his people was narrated. From here onward another story about his is being related which is about Qarun, who belonged to his own fraternity. This story has an affinity with the previous verses in that it was said in an earlier verse that the wealth you are given in this world is temporary, and it is not wise to get involved in its love. وَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا (And whatever thing you are given is the enjoyment of the worldly life -…
Read the full tafseer →94 This fact also is being related in continuation of the answer to the excuse which has been the theme of the discourse from verse 57 onward. In this regard, one should bear in mind the fact that the people who feared that the Holy Prophet Muhammad's message would affect the overall national interests adversely were, in fact, the big money owners, money-lenders and capitalists of Makkah, who by virtue of their international trade and money-lending business had become the Korahs of their time. These were the people who thought that the real truth was to earn and amass maximum wealth. Anything…
Read the full tafseer →