Explained with ayahs 74–75
افترا بندی چھوڑ دو
مشرکوں کو دوسری دفعہ ڈانٹ دکھائی جائے گی اور فرمایا جائے گا کہ دنیا میں جنہیں میرا شریک ٹھہرا رہے تھے وہ آج کہاں ہیں ؟ ہر امت میں سے ایک گواہ یعنی اس امت کا پیغمبر ممتاز کرلیا جائے گا۔ مشرکوں سے کہا جائے گا اپنے شرک کی کوئی دلیل پیش کرو۔ اس وقت یہ یقین کرلیں گے کہ فی الواقع عبادتوں کے لائق اللہ کے سوا اور کوئی نہیں۔ کوئی جواب نہ دے سکیں گے حیران رہ جائیں گے اور تمام افترا بھول جائیں گے۔
Read the full tafseer →سورة القصص 92
یعنی وہ نبی جس نے اس امت کو خبردار کیا تھا، یا انبیاء کے پیرو وں میں سے کوئی ایسا ہدایت یافتہ انسان جس نے اس امت میں تبلیغ حق کا فریضہ انجام دیا تھا، یا کوئی ایسا ذریعہ جس سے اس امت تک پیغام حق پہنچ چکا تھا۔
سورة القصص 93
یعنی اپنی صفائی میں کوئی ایسی حجت پیش کرو جس کی بنا پر تمہیں معاف کیا جاسکے، یا تو یہ ثابت کرو کہ تم جس شرک، جس انکار آخرت اور جس انکار نبوت پر قائم تھے وہ برحق تھا اور تم نے معقول وجوہ کی بنا پر یہ مسلک اختیار کیا تھا، یا یہ نہیں تو پھر کم از کم یہی ثابت کردو کہ خدا کی طرف سے تم کو اس غلطی پر متنبہ کرنے اور ٹھیک بات تم تک پہنچانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
خلاصہ تفسیر
اور جس دن اللہ تعالیٰ ان کو پکار کر فرماوے گا (تاکہ سب لوگ ان کی رسوائی سن لیں) کہ جن کو تم میرا شریک سمجھتے تھے وہ کہاں گئے اور (اگرچہ حجت تمام کرنے کے لئے خود اس کا اقرار کافی تھا مگر مزید تاکید کے لئے ان پر شہادت بھی قائم کردی جاوے گی اس طرح کہ) ہم ہر امت میں سے ایک ایک گواہ (بھی) نکال کر لائیں گے (مراد اس سے انبیاء ہیں جو ان کے کفر کی گواہی دیں گے) پھر ہم (ان مشرکین سے) کہیں گے کہ (اب) اپنی کوئی دلیل (شرک کے دعوے کی صحت پر) پیش کرو سو (اس وقت) ان کو (بعین الیقین) معلوم ہوجاوے گا کہ سچ بات خدا کی تھی (جو انبیاء کے ذریعہ بتلائی گئی تھی اور شرک کا دعویٰ جھوٹا تھا) اور (دنیا میں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
آیت 75-74
آخری اتمام حجت
آیت 74 بعینہ اس سلسلہ بحث کے آغاز میں بھی گزر چکی ہے۔ یہاں یہ ایک اور ماجرے کی تمہید کے طور پر آئی ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں پر آخری اتمام حجت کے لئے یہ بھی کرے گا کہ ہر امت پر اپنے رسولوں کے ذریعہ سے یہ گواہی دلوا دے گا کہ انہوں نے ان کو دین توحید کی تعلیم دی تھی، شرک کی تعلیم نہیں دی۔ رسولوں کی اس گواہی کے بعد اللہ تعالیٰ امتوں سے پوچھے گا کہ اب بتائو تم نے کس سند کی بنا پر خدا کے شریک ٹھہرائے، اگر تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو اس کو پیش کرو، اس وقت سب پر واضح ہوجائے گا کہ حق بجانب اللہ ہے اور ان کے تمام خود تراشیدہ معبود بالکل بےحقیقت ثابت ہوں گے۔
شھید سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
75-1اس گواہ سے مراد پیغمبر ہے۔ یعنی ہر امت کے پیغمبر کو اس امت سے الگ کھڑا کردیں گے۔
75-2یعنی دنیا میں میرے پیغمبروں کی دعوت توحید کے باوجود میرے شریک ٹھہراتے تھے اور میرے ساتھ ان کی بھی عبادت کرتے تھے، اس کی دلیل پیش کرو۔
75-3یعنی وہ حیران اور ساکت کھڑے ہونگے، کوئی جواب اور دلیل انھیں نہیں سوجھے گی۔
75-4یعنی ان کے کام نہیں آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
40: یہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم انعام کا تذکرہ ہے کہ اس نے رات کے وقت کو سکون حاصل کرنے کا ذریعہ بنادیا، اندھیرا طاری کر کے سب کو مجبور کردیا کہ وہ اس وقت آرام کریں، ورنہ یہ ممکن نہیں تھا کہ سب لوگ کسی ایک وقت پر متفق ہو کر اسے آرام کا وقت قرار دے دیتے، اور نتیجہ یہ ہوتا کہ ایک شخص آرام کرنا چاہتا ہے تو دوسرا اس وقت کوئی کام کرنا چاہتا ہے، اور اس کے کام میں مشغول ہونے سے پہلے شخص کے آرام میں خلل واقع ہوتا۔ اسی طرح دن کے وقت کو اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل تلاش کرنے یعنی روزی روزگار کمانے کا وقت بنادیا، تاکہ اس وقت سب کام میں لگیں۔ اگر تمام وقت دن رہتا تو سکون حاصل کرنا مشکل ہوتا، اور اگر تمام وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ویوم ینادیھم فیقول ۔۔۔۔۔۔۔۔ ما کانوا یفترون (74 – 75)
قیامت کے دن پکارنے کا منظر اور شرکاء کی بابت پوچھنے کا وقفہ گزشتہ سبق میں بھی گزرا ہے لیکن یہاں اسے بطور تاکید دوبارہ ایک نئے منظر میں لایا جاتا ہے۔ اس منظر میں یہ سوال و جواب ایک گواہ کے سامنے ہوگا۔ یہ ہر امت کا نبی ہوگا اور یہ شہادت دے گا کہ کس نے دعوت اسلامی کے حوالے سے کیا موقف اختیار کیا۔ اس منظر میں اصل مقصد یہ ہے کہ نبی کے سامنے لایا جائے گا تاکہ اس کی امت بھی اسے سب کی سب دیکھے اور وہ بھی ان کو سب کے سب کو دیکھے۔ اور اس عظیم گواہ کے سامنے مشرکین کو مزید شرمسار کرنے کے لیے ان سے پوچھا جائے کہ وہ شرکاء کہاں ہیں جن کو تم ایسا سمجھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
5 احوال بتلانے والا پیغمبر یا ان کے نائب جو نیک بخت تھے۔ (موضح) وہ بتلائیں گے کہ لوگوں نے شرائع سماویہ اور احکام الٰہیہ کے ساتھ کیا برتاؤ کیا۔
6 یعنی خدا تعالیٰ کے شریک کس سند اور دلیل سے ٹھہرائے اور حلال و حرام وغیرہ کے احکام کس مأخذ صحیح سے لیے تھے۔ پیغمبروں کو تو تم نے مانا نہیں، پھر کس نے بتلایا کہ خدا کا یہ حکم ہے، یہ نہیں۔
7 یعنی اس وقت نظر آجائے گا کہ سچی بات اللہ کی ہے۔ اور معبودیت صرف اسی کا حق ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔ دنیا میں پیغمبر جو بتلاتے تھے وہ ہی ٹھیک ہے۔ مشرکین نے جو عقیدے گھڑ رکھے تھے اور جو باتیں اپنے دل سے جوڑی تھیں اس روز سب کافور ہوجائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
آیت 75 وَنَزَعْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیْدًا ”
یہ مضمون دو مرتبہ سورة النحل آیت 84 اور 89 میں بھی آیا ہے ‘ لیکن سورة النساء کی یہ آیت تو گویا اس مضمون کا ذروۂ سنام ہے : فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ وَّجِءْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآءِ شَہِیْدًا۔ ”تو اس دن کیا صورت حال ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور اے نبی ﷺ ! آپ کو لائیں گے ہم ان پر گواہ بنا کر“۔ جو پیغمبر جس قوم کی طرف مبعوث کیا گیا ہوگا وہ قیامت کے دن اللہ کی عدالت میں استغاثہ کا گواہ prosecution witness بن کر گواہی دے گا کہ اے اللہ ! تیری طرف سے جو ہدایت مجھ تک پہنچی تھی میں نے وہ اپنی قوم تک پہنچا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
99 یہ گواہ وہ شخص ہوگا جس کے ذریعہ اللہ کا پیغام اس قوم یا گروہ کو پہنچا ہو۔ خواہ وہ کوئی پیغمبر ہو یا کوئی دوسرا بزرگ ہو۔ اور وہ گواہ اس بات کی گواہی دے گا کہ میں نے اللہ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔
100 اس گواہی کے بعد مجرموں کو موقعہ دیا جائے گا کہ وہ اس گواہی کے خلاف کوئی عذر پیش کرسکتے ہیں تو کریں اور جب وہ کوئی عذر پیش نہ کرسکیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ تم اللہ کا پیغام پہنچنے کے بعد بھی جو شرک میں ہی مبتلا رہے تو اس بات کے لئے تمہارے پاس کوئی دلیل ہے ؟ اور اگر ہے تو اسے پیش کیوں نہیں کرتے ؟ دلیل سے یہاں مراد کسی الٰہامی کتاب یا کتاب و سنت سے کی دلیل ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
93۔ مراد انبیاء (علیہم السلام) ہیں جو اپنی اپنی امت کے کفر پر گواہی دیں گے۔ حجت تو کافروں پر خود انہیں کے قول سے پوری ہوجائے گی، اہتمام مزید کے طور پر بیرونی شہادتیں بھی مہیا کردی جائیں گی۔
94۔ (جو انبیاء کے ذریعہ سے ان تک پہنچ چکی تھی مگر پھر بھی اپنی حماقت سے اسے جھٹلاتے رہے تھے) کافروں سے کہا جائے گا کہ کوئی عذر، کوئی جواب رکھتے ہو تو اب پیش کرونا، انکشاف کامل ہوچکے گا، سب خاموش ولا جواب رہ جائیں گے۔
95۔ جتنے سہارے انہوں نے گڑھ رکھے تھے کوئی ان میں سے ذرا بھی کام نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–75
آیت نمبر 61 تا 75
ترجمہ : بھلا وہ شخص کہ جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے جسے وہ قطعاً پانے والا ہے یعنی اس وعدۂ (موعودبہٖ ) کو پہنچنے والا ہے اور وہ جنت ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے، جو عنقریب زائل ہوجائے گا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کرکے دوزخ میں حاضر کئے جائیں گے اول شخص مومن ہوگا اور دوسرا کافر یعنی دونوں میں کوئی مساوات نہ ہوگی اور اس دن کو یاد کرو کہ جس دن خدا تعالیٰ ان کافروں کو پکار کر کہے گا میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم سمجھتے تھے وہ میرے شریک ہیں جن پر خدا کا دخول نار کا حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں…
Read the full tafseer →ونزعنا من کل امۃ شھیدًا فقلنا ہاتوا برھانکم فعلموا ان الحق اللہ وضل عنھم ما کانوا
یفترون . اور ہم ہر امت میں سے ایک ایک گواہ (یعنی نبی کو) نکال کر لائیں گے پھر ہم (کافروں سے) کہیں گے کہ اپنی کوئی دلیل پیش کرو سو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ سچی بات خدا ہی کی تھی اور (دنیا میں) جو باتیں گھڑا کرتے تھے ‘ ان میں سے انہیں کسی بات کا پتہ بھی نہ ہوگا۔
نَزَعْنَا ہم نکال کر لائیں گے۔ شَھِیْدًا یعنی پیغمبر کو جو ان کے خلاف شہادت دیں گے۔ بُرْھَانَکُمْ اپنی دلیل یعنی اس بات کی دلیل کہ جس مذہب پر وہ چلتے تھے ‘ وہ صحیح تھا۔ اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰہِ کہ الوہیت اللہ ہی کا حق ہے ‘ الوہیت میں اس کا کوئی شریک نہیں۔…
Read the full tafseer →(75) اور ہم ہر امت میں سے ایک ایک نبی بھی نکال کر لائیں گے جو دنیا میں ان امتوں کے اندر بھیجا گیا تھا اور وہ احکام خداوندی پہنچانے کی گواہی دے گا پھر ہم ان مشرکین سے کہیں گے کہ اپنی کوئی دلیل پیش کرو کہ تم نے انبیاء کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو کیوں جھٹلایا تو ہر ایک امت جان جائے گی کہ سچی بات دین خداوندی اور عبادت خداوندی تھی اور ان کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق اللہ ہی کو ہے اور دنیا میں جو جھوٹے معبودوں کی پوجا کرتے تھے آج کسی کا پتا نہیں رہے گا
Read the full tafseer →وَنَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا : اس گواہ سے مراد وہ نبی ہے جس نے کسی امت کو حق کا پیغام پہنچایا اور اس کی امت کے وہ لوگ بھی جنھوں نے پیغمبر کے بعد لوگوں کو دین کی تبلیغ کی۔ اسی طرح ہر وہ ذریعہ بھی جس سے کسی قوم یا شخص تک حق کا پیغام پہنچا۔ وہ گواہ گواہی دے گا کہ میں نے ان لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا تھا۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَجِايْۗءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ) [ الزمر : 69 ] ”اور نبیوں اور گواہوں کو لایا جائے گا اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“
فَقُلْنَا هَاتُوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ویوم ینادیھم فیقول این شرکآءی الذین کنتم تزعمون حالوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے ضمیر کا اعادہ کیا۔ وہ ایک دفعہ ندا کرتے ہیں تو انہیں کیا جاتا تھا : این شرکآء الذین کنتم تزعمون وہ بتوں کو بلائیں گے تو وہ انہیں جواب نہ دیں گے تو ان کی حیرت ظاہر ہوگی۔ پھر وہ دوبارہ ندا کریں گے اور خاموش ہوجائیں گے۔ یہ تو بیخ اور روسائی کیزیادتی ہے۔ یہ ندا اللہ تعالیٰ کی جانب سے نہ ہوگی ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ کفار سے کلام نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولا یکلمھم اللہ یوم القیمۃ (البقرہ : 174) لیکن اللہ تعالیٰ انہیں ایسے امور کا حکم دے گا جو ان کو شرمندہ کر دے گا اور لا جواب کرے گا اور مقام حساب میں ان پر حجت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
1۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان جعل اللہ علیکم الیل سرمدا میں سرمدا سے مراد ہے ہمیشہ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ رات کردے۔
2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت سرمدا الی یوم القیمۃ سے مراد ہے ہمیشہ من الہ غیر اللہ یاتیکم بضیاء یعنی اللہ کے علاوہ کونسا خدا ہے جو تمہارے پاس دن کو لے آئے ضیا سے مراد ہے دن۔
4۔ ابن المنذرنے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن رحمتہ جعل لکم الیل والنہار لتسکنوا فیہ یعنی رات میں تم آرام کرتے ہو آیت ولتبتغوا من فضلہ یعنی دن میں تم اللہ کا فضل کرو۔
5۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذروابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →وَنَزَعْنَا [اور ہم نکالیں گے ] مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ [ہر امت میں سے ] شَهِيْدًا [ایک گواہ ] فَقُلْنَا [تو ہم کہیں گے ] هَاتُوْا [تم لوگ وہ ] بُرْهَانَكُمْ [اپنی روشن دلیل ] فَعَلِمُوْٓا [تب وہ لوگ جان لیں گے ] اَنَّ الْحَقَّ [کہ کل حق ] لِلّٰهِ [اللہ کے لئے ہے ] وَضَلَّ [اور گم ہوجائے گا ] عَنْهُمْ [ان سے ] مَّا [وہ جو ] كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ [وہ گھڑا کرتے تھے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
قارون کا اپنے مال پر اترنا، دنیا داروں کا اس کا مال دیکھ کر ریجھنا، اور قارون کا اپنے گھر کے ساتھ زمین میں دھنس جانا
ان آیات میں قارون کا اور اس کی مالداری کا اور بغاوت اور سر کشی کا اور زمین میں دھنسائے جائے کا ذکر ہے یہ تو قرآن مجید میں ذکر ہے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے تھا اور بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چچا کا لڑکا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ ان کا چچا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ ان کی خالہ کا لڑکا تھا یہ سب اسرائیلی روایات ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اسے اتنا زیادہ مال دیا تھا کہ اس کے خزانوں کا اٹھانا تو بہت دور کی بات ہے اس کے خزانوں کی کنجیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
تذکیر نعم مشتمل بر بیان دلائل توحید
قال اللہ تعالی، قل ارء یتم ان جعل اللہ علیکم الیل سرمدا۔۔۔ الی۔۔۔ وضل عنہم ما کانوا یفترون۔
(ربط) گزشتہ آیت یعنی ولہ الحمد فی الاولی والاخرۃ۔ میں اجمالا اپنا مستحق حمد وثنا ہونا بیان کیا کہ اللہ ہی دنیوی اور اخروی نعمتوں کا مالک ہے اس لئے وہی مستحق حمد وثنا ہے اب آئندہ آیات میں اپنی چند نعمتوں کا ذکر فرماتے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک اس کے کمال قدرت کی بھی دلیل ہے وہ یہ کہ اللہ نے تمہارے لئے لیل ونہار کو مسخر کیا جن کے بغیر تمہارے نظام حیات کا قیام اور قوام ناممکن ہے اور یہ دن رات اس کی کمال قدرت واختیار کی دلیل ہیں جس کا ما کان لہم الخیرۃ میں ذکر تھا۔ دن کی…
Read the full tafseer →69:۔ شہیدًا سے ہر امت کا نبی مراد ہے جو اپنی امت کے بارے میں بیان دے گا کہ اس نے اپنی امت کو دعوت پہنچا دی اور جب اس نے اپنی امت کو توحید کی دعوت دی امت نے کیا جواب دیا۔ یعنی نبی ہم لان الانبیاء للامم شہداء علیہم یشہدون بما کانوا علیہ (مدارک ج 3 ص 187) ۔ والشہید یشہد علی تلک المۃ بما صدر منہا وما اجابت بہ لما دعیت الی التوحید وانہ قد بلغہم رسالۃ ربہم (بحر ج 7 ص 131) ۔
ٖ 70:۔ مشرکین کو حکم ہوگا دنیا میں تم جو کچھ کفر و شرک تم کرتے رہے اس کی صحت پر کوئی دلیل یا اپنے جرائم و معاصی کے لیے کوئی عذر ہو تو پیش کرو۔ لیکن ان کے پاس نہ کوئی دلیل ہوگی نہ عذر اس لیے اب انہیں عین الیقین حاصل ہوجائے گا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
ربطہ آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا رد فرمایا اور ساتھ دونوں کا انجام بھی بیان کیا ۔ پھر اللہ نے اپنی صفت خلق کا ذکر کیا اور یہ بھی فرمایا کہ وہ جو چاہے پسند کرے سارا اختیار اسی کو ہے ، مخلوق میں سے کوئی بھی با اختیار ہستی نہیں ہے۔ فرمایا اللہ کی ذات بلندو برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ فرمایا خدا تعالیٰ ظاہر و باطن ہر چیز کو جانتا ہے ، وہ وحدہٗ لا شریک ہے ، دنیا آخرت میں اسی کی تعریف ہے اور سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
لیل و نہار کا نظام
آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں دو عقلی دلائل پیش کیے ہیں جو لیل و…
Read the full tafseer →وَنَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّۃٍ شَہِيْدًا فَقُلْنَا ہَاتُوْا بُرْہَانَكُمْ فَعَلِمُوْٓا اَنَّ الْحَقَّ لِلہِ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ 75ۧ
نزع
نَزَعَ الشیء : جَذَبَهُ من مقرِّه كنَزْعِ القَوْس عن کبده، ويُستعمَل ذلک في الأعراض، ومنه : نَزْعُ العَداوة والمَحبّة من القلب . قال تعالی:
وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43]
( ن زع ) نزع
الشئی کے معنی کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنے کے ہیں ۔ جیسا کہ کام ن کو در میان سے کھینچا جاتا ہے اور کبھی یہ لفظ اعراض کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور محبت یا عداوت کے دل سے کھینچ لینے کو بھی نزع کہا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
ترکیب : سرمدًا یجوزان یکون حالاً من اللیل وان یکون مفعولا ثانیاً لجعل والی یتعلق بسرمدًا من الہ الخ جواب ہے ان جعل اللہ کا۔
تفسیر : و ربک یخلق مایشاء سے مبدء میں گفتگو شروع ہوگئی تھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں اس لیے وھو اللہ لا الہ الا ھو سے اس کی تکمیل کی جاتی ہے گویا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے اور قرآن مجید کی عادت ہے کہ کبھی مبدء میں گفتگو کرتا ہے۔ کبھی معاد میں ‘ کبھی نبوات و شرائع میں اور یہی باتیں مقصود بالذات بھی تھیں۔ فرمایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا و آخرت میں اپنی نعمتوں کے سبب وہی ستائش کا مستحق ہے اور فرمانروائی اسی کے لیے ہے اور اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے اور کون ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
وَیَوْمَ یُنَادِیْہِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَکَآئِ یَ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ۔ وَنَزَعْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَھِیْدًا فَقُلْنَا ھَاتُوْا بُرْھَانَـکُمْ فَعَلِمُوْٓا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰہِ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ (القصص : 74، 75)
(اس دن کا خیال کرو جس دن وہ انھیں پکارے گا پھر پوچھے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے۔ اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکالیں گے اور لوگوں سے کہیں گے لائو اب اپنی دلیل، اس وقت تم پر واضح ہوجائے گا کہ حق اللہ کی طرف ہے اور گم ہوجائیں گے ان کے وہ سارے جھوٹ جو انھوں نے گھڑ رکھے تھے۔ )
ایک اور پہلو سے سوال
پہلی آیت بعینہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کی قدرتوں اور لیل و نہار کی گردش میں کوئی مداخلت نہیں کرسکتا تو پھر ذات کبریا کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے کا کیا جواز ہے ؟
اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مجید میں جس بات کی سب سے زیادہ تر دید اور مذّمت کی ہے وہ شرک ہے۔ شرک کرنے والا جن کو ” اللہ “ کے ساتھ یا اس کے سوا پکارتا ہے وہ کسی نہ کسی درجہ میں انہیں اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہراتا یا کم ازکم اس کے اختیارات میں شریک سمجھتا ہے۔ مشرکوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سوال کرے گا بتاؤ جنھیں تم میرا شریک بناتے تھے کہاں ہیں ؟ اگر ہیں تو انھیں سامنے لاؤ تاکہ وہ اپنی اور تمہاری مدد کرسکیں۔ جو بزرگ دنیا میں لوگوں کو شرک سے منع…
Read the full tafseer →75: وَنَزَعْنَا (اور ہم نکال کر لائیں گے) ۔ مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیْدًا (ہر امت میں سے ایک گواہ) یعنی ان کا پیغمبر کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) اپنی اپنی امتوں پر گواہ ہیں۔ جو کہ ان کے متعلق ان اعتقادات کی گواہی دیں گے جن پر وہ تھے۔ فَقُلْنَا (پھر ہم امتوں کو کہیں گے) ۔ ہَاتُوْا بُرْہَانَکُمْ (تم اپنی دلیل پیش کرو) ۔ اس شرک پر جس پر تم قائم تھے اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت پر۔ فَعَلِمُوْا (پس اس وقت وہ جان لیں گے) ۔ اَنَّ الْحَقَّ (کہ توحید) لِلّٰہِ وَضَلَّ عَنْہُمْ (اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خاص ہے اور ان سے گم ہوجائیں گی) اور ان سے وہ تمام معبود اس طرح غائب ہوجائیں گے جس طرح کوئی ضائع ہونے والی…
Read the full tafseer →75۔ ونزعنا، ہم نکال کرلائیں گے۔ من کل امۃ شھیدا، ، ہر امت سے ایک ایک گواہ یعنی پیغبر جو ان کے خلاف شہادت دیں گے، فقلناھاتوا برھانکم، تمہارے لیے کوئی دلیل کہ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں توپھرتم کیوں شریک کرتے تھے اگر ہے دلیل تو پیش کرو، فعلموا ان الحق، ، توحید حق ہے۔ للہ وضل عنھم ماکانوایفترون، دنیا میں ۔
Read the full tafseer →75۔ صحیح بخاری ماجہ اور مسند امام احمد میں حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث ہے وہ حدیث اس آیت کی گویا تفسیر ہے حاصل اس حدیث کا یہ ہے کہ قیامت کے دن جب نبی اور ان کی امتیں اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑی ہوں گی تو پہلے ہر ایک امت کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تم کو تمہارے نبی نے اللہ کا حکم دنیا میں پہنچا دیا تھا پہلے تو مشرک لوگ اس سوال کے جواب میں خاموشی اختیار کریں گے چناچہ اس کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گذرا پھر جو لوگ دنیا میں اللہ کے رسول سے مخالفت کرتے ہیں وہ وہاں بھی اللہ کے رسول کی مخالفت میں جواب دیں گے اور اللہ سے یہ کہویں گے کہ یا اللہ ہم کو کسی نبی نے تیرا کوئی حکم نہیں پہنچایا اس پر…
Read the full tafseer →آیت 75
جس روز اللہ تعالیٰ مشرکین کو اور ان لوگوں کو۔۔۔ جو غیر اللہ کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہیں، جو یہ سمجھتے ہیں کہ الوہیت میں غیر اللہ کا حصہ ہے اور ان کے یہ خود ساختہ معبود عبادت کے مستحق ہیں اور نفع و نقصان دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔۔۔ پکارے گا۔ پس جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ مشرکین کی جسارت، ان کے زعم کاذب اور ان کی خظد اپنے آپ کی تکذیب کو ظاہر کرنا چاہے گا۔ (ینادیھم فیقول این شرکاء ی الذین کنتھم تزعمون) ” تو ان کو پکار کر پوچھے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم ” شریک سمجھتے تھے “۔ یہ نفس امر میں شریک نہیں بلکہ ان کے زعم باطل کے مطابق شریک ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےُ (وما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →103 ہر امت سے ایک گواہ لانے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور نکال لائیں گے ہم ۔ اس روز۔ ہر امت سے ایک گواہ "۔ یعنی انکے نبی کو یا جو اس کے قائم مقام ہوگا جس نے انکو حق کا پیغام پہنچایا ہوگا۔ (فتح وغیرہ) ۔ سو اس روز ہر پیغمبر اپنی امت پر گواہی دے گا کہ اس نے ان کو حق ہی کی دعوت دی تھی اور ان کو توحید ہی کی تعلیم و تلقین فرمائی تھی۔ اس طرح مشرکوں پر حجت قائم ہوجائے گی اور واضح ہوجائے گا کہ شرک کے ہولناک جرم کا ارتکاب ان لوگوں نے خود کیا تھا اور پیغمبر کی تعلیمات کیخلاف کیا تھا۔ اور ان کے نام پر کیا جانے والا کاروبار شرک انہوں نے انکے رخصت ہوجانے کے بعد کیا تھا۔ سو اس طرح ان لوگوں کا جرم ثابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
اللہ کی برتری کی نشانیاں
تشریح : یہ تمام باتیں اللہ کی نشانیاں ‘ اس کی رحمتیں ‘ برکتیں اور فضل و کرم جو اس نے انسانوں کی سہولیات کے لیے پیدا کر رکھا ہے۔ عقل مند ‘ سوجھ بوجھ رکھنے والے اور نیک فطرت لوگوں کے لیے اللہ کی راہ اختیار کرنے اس کو معبود برحق ماننے کے لیے بہت کافی ہے۔ پھر راہبری اور ہدایت کے لیے ہر امت میں سے رسول ‘ نبی اور پیغمبر بھیجے گئے۔ صرف اس لیے کہ لوگوں کی راہبری کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–75
آیات 61 تا 75
اسرارو معارف
اور بھلا جس شخص کو بہت حسین وعدہ دیا اگیا ہو یعنی آخرت کی کامیابی کا اور وہ اسے پانے والا بھی ہو اس کی برابری وہ شخص تو نہیں کرسکتا جس کے پاس چند روز مال و دولت دنیا تو ہو مگر قیامت کے روز اسے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہو وہ ایسا دن ہوگا کہ جب ان کفار و مشرکین پر سوال ہوگا کہ جن لوگوں کو تم نے میرا شریک مان رکھا تھا وہ کہاں ہیں تو وہ لوگ جو یہاں دنیا میں ان کے پیشوا بنے ہوئے ہیں اپنے اوپر جرم ثابت ہوچکنے کے بعد یہ عذر کریں گے کہ اے اللہ خود گمراہ تھے لہذا انہیں بھی وہی کچھ بتایا جس پر خود عمل کرتے تھے لیکن انہوں نے ہماری بات اپنے اختیار سے مانی ہم نے ان پر کوئی…
Read the full tafseer →6 ۔ یعنی وہ نبی ﷺ جس نے اس امت تک پیغام حق پہنچایا تھا کھڑے ہو کر گواہی دیگا کہ اس کی امت نے کہاں تک اس پیغام کو قبول کیا اور کہاں تک رد کردیا۔ اس احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آخر کار امت محمدی ﷺ کو ان انبیا ( علیہ السلام) کی شہادت کی تصدیق کے لئے پیش کیا جائے گا۔ دیکھئے سورة نساء آیت 41 ۔ (قرطبی) 7 ۔ جس کی بنا پر تم معافی کے مستحق قرار دے جا سکو۔ یا یہ ثابت کرو کہ واقعی ہمارے کچھ شریک تھے جو بندگی کے اسی طرح مستحق تھے جیسے ہم۔ (ابن کثیر) 8 ۔ ” جتنی جھوٹی باتیں انہوں نے گھڑ رکھی تھیں کافور ہوجائیں گی۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
(28:75) نزعنا۔ ماضی جمع متکلم۔ نزع (فتح) مصدر ہم نکال لیں گے (ماضی بمعنی مستقبل) نزع الشیء کے معنی کسی چیز کو اس کی قرار گاہ سے کھینچنے کے ہیں۔ یا باہر نکال لانا۔ اس کا عطف ینادیہم پر ہے ای یوم نزعنا ۔۔
شھیدا۔ شاہد۔ گواہ۔ جو ان کے متعلق شہادت دے کر وہ کیا کرتے رہے ہیں دنیا میں ۔ مراد یہاں انبیاء (علیہم السلام) ہیں جو جو اپنی اپنی امت کے کفر پر گواہی دیں گے۔
فقلنا ھاتوا برھانکم۔ فا ضمیر جمع متکلم۔ اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور مخاطبین امتیں ہیں۔ ای فقلنا لکل من تلک الامم ان امتوں میں سے ہر ایک سے ہم کہیں گے کہ لاؤ اپنی کوئی دلیل یا عذر (یعنی اپنی صفائی میں تم بھی کوئی دلیل پیش کرو) ھاتوا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
لغات القرآن آیت نمبر (68 تا 75 )
یختار (وہ پسند کرتا ہے۔ منتخب کرتا ہے) ۔ الخیرۃ (اختیار ۔ پسند ) ۔ تکن (چھپتا ہے) ۔ سرمد (ہمیشہ ) ۔ ضیاء (روشنی۔ چمک ) ۔ تسکنون (تم سکون حاصل کرتے ہو) ۔ تبتغوا (تم تلاش کرتے ہو) ۔ نزعنا (ہم نے کھینچ لیا۔ نکال لیا) ۔ ھاتوا (لے آئو۔ (تم آئو) ۔ برھان (دلیل۔ پسند) ۔ ضل (بھٹک گیا۔ گم ہوگیا) ۔ یفترون (وہ گھڑتے ہیں۔ بناتے ہیں ) ۔
تشریح : آیت نمبر (68 تا 75 ) ۔ ” نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ہر شخص کو بتایا جارہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اس کائنات میں ساری قدرت، طاقت، ہر چیز کی خوبی اور عبادت و بندگی صرف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنا پیغام پہنچانے کے لئے…
Read the full tafseer →قیامت میں رسولوں کی گواہی ۔
(ف 1) مشرکین قیامت کے دن اللہ سے یہ کہیں گے کہ یا اللہ ہم کو کسی نبی نے تیرا کوئی حکم نہیں پہنچایا اس پر اللہ تعالیٰ ہر ایک نبی سے دریافت فرمائے گا کہ تم نے دنیا میں احکام پہنچائے تھے وہ کہیں گے کہ ہاں، ہم نے تو ان کو ہر طرح کا حکم پہنچادیا تھا، کفار کہیں گے ہرگز نہیں تمام رسولوں کی طرف سے رسول کریم اور آپ کی امت پیش ہوگی اور شہادت دیں گے کہ اے اللہ ہر ایک نبی نے اپنی امت کو اللہ کا حکم پہنچایا تھا اللہ تعالیٰ ان گواہی دینے والوں سے پوچھے گا کہ تم کو کیا خبر کہ ہر ایک نبی نے اپنی امت کو اللہ کا حکم پہنچادیا تھا وہ جواب دیں گے کہ دنیا میں ہمارے آقا سردار دوجہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
[43] مراد ہیں انبیاء (علیہم السلام) جو اپنی امت کے کفر پر گواہی دیں گے۔
[44] یعنی اللہ کے شریک کس سند اور دلیل سے ٹھہرائے اور حرام و حلال وغیرہ کے احکام کس ماخذ صحیح سے لئے تھے۔
[45] یعنی اس وقت انھیں نظر آجائے گا کہ سچی بات اللہ کی ہے اور معبودیت صرف اسی کا حق ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔ دنیا میں جو پیغمبر بتلاتے تھے وہی ٹھیک تھا اور جو عقیدے انہوں نے گھڑ رکھے تھے سب کافور ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ف 1: یعنی اس وقت جو لوگ اپنے مقتداؤں کو عرش بریں پر متمکن سمجھتے ہیں ۔ قیامت کے دن جب ان سے مطالبہ کیا جائے گا ۔ کہ اپنے عقیدہ وشرک پر دلیل لاؤ۔ اور ہو اسباب داخل بیان کرو جس کی وجہ سے تم نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی پرستش کی ۔ تو وہ بالکل خاموش اور ساکت ہوجائیں گے ۔ اور کوئی معقول وجہ پیش نہ کرسکیں گے ۔ بلکہ اس وقت انہیں محسوس ہوگا کہ سچی اور درست بات اللہ ہی کی تھی ۔ اور ہم نے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا کر سخت گناہ کا ارتکاب کیا ہے ۔
حل لغات :۔ ونزعنا ۔ یعنی ہر امت کی صفوں میں سے ایک گواہ کھینچ لائینگے
Read the full tafseer →75۔ اور ہم ہر ایک امت میں سے ایک گواہ اور احوال بتانے والا نکال لائیں گے ، پھر ہم ان مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اپنے شرک کے جواز پر دلیل پیش کرو اور اپنی دلیل لائو تب ان کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ سچی بات اللہ تعالیٰ ہی کی تھی اور جو افترا پر دازیاں وہ کیا کرتے تھے وہ سب ان سے گم ہوجائیں گی اور سب کھوئی جائیں گی ۔ یعنی گواہ ہر امت میں سے میدان حشر میں ایک ایک گواہ لا کھڑا کریں گے پھر مشرکوں سے مطالبہ کیا جائے گا کہ کفر کے دعوے کی صحت پر کوئی دلیل بیان کرو ، اس وقت وہ جان سکیں گے اور ان کو عین الیقین ہوجائے گا کہ بات وہی سچی تھی جو اللہ کی طرف سے تھی اور وہی دین حق تھا جو پیغمبر لے کر آئے تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ف 4۔ مراد اس سے انبیاء میں کہ وہ ان کے کفر کی گواہی دیں گے۔
5۔ کیونکہ انکشاف حق کے لئے باطل کا غائب ہوجانا لازم ہے۔
Read the full tafseer →ہم ہر ایک امت سے گواہ پیش کردیں گے جو ہم سے تمہارے لئے کی دلیل طلب کریں گے :
75۔ غور کرو کہ جب رسولوں کا آنا تم کو تسلیم ہے اور یہ بھی تم جان گئے کہ ہم نے ہر امت میں کوئی نہ کوئی ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ضرور روانہ کیا ہے اور پھر تم کو یہ بھی معلوم ہوچکی کہ سارے انسانوں کو دوبارہ زندہ ہونا ہے اور یہ بھی کہ فقط زندہ ہی نہیں ہونا ہے بلکہ اس دنیا میں جو کچھ ہم نے کیا ہے یا کرتے رہے ہیں اس کے متعلق ہم سے سوال بھی ہونا ہے کہ تم نے یہ اور یہ کیا ہے تو آخر کیوں ؟ پھر جب اس پر یہ اور یہ بھی ہمارا شرک بھی ثابت ہوجائے گا تو ہم ہر اس رسول کو بلائیں گے کہ آیا تو نے ان کو اس شرک سے منع نہیں کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
Commentary
From the beginning of Surah Al-Qasas to this point, the story of Sayyidna Musa (علیہ السلام) with the Pharaoh and his people was narrated. From here onward another story about his is being related which is about Qarun, who belonged to his own fraternity. This story has an affinity with the previous verses in that it was said in an earlier verse that the wealth you are given in this world is temporary, and it is not wise to get involved in its love. وَمَا أُوتِيتُم مِّن شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا (And whatever thing you are given is the enjoyment of the worldly life -…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
92 A witness": the Prophet who had warned that community, or a rightly-guided person from among the followers of the Prophets, who had performed the duty of preaching the Truth in the community, or a means through which the message of the Truth had reached the community .
93 That is, "Present a cogent argument in your defence so that you are pardoned. You should either prove that the shirk and the denial of the Hereafter and Prophethood in which you persisted were the correct creed and you had adopted it on rational grounds, or, if you cannot do that, you should at least prove that no…
Read the full tafseer →