Explained with ayahs 74–75
افترا بندی چھوڑ دو
مشرکوں کو دوسری دفعہ ڈانٹ دکھائی جائے گی اور فرمایا جائے گا کہ دنیا میں جنہیں میرا شریک ٹھہرا رہے تھے وہ آج کہاں ہیں ؟ ہر امت میں سے ایک گواہ یعنی اس امت کا پیغمبر ممتاز کرلیا جائے گا۔ مشرکوں سے کہا جائے گا اپنے شرک کی کوئی دلیل پیش کرو۔ اس وقت یہ یقین کرلیں گے کہ فی الواقع عبادتوں کے لائق اللہ کے سوا اور کوئی نہیں۔ کوئی جواب نہ دے سکیں گے حیران رہ جائیں گے اور تمام افترا بھول جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
سورة القصص 91
اس سلسلہ کلام میں یہ بات جس مقصد کے لیے ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص یا گروہ دنیا میں لوگوں کے سامنے یہ دعوی کرسکتا ہے کہ جس گمراہی کو اس نے اختیار کیا ہے اس کی صحت پر وہ بڑے معقول وجوہ سے مطمئن ہے، اور اس کے خلاف جو دلائل دیے گئے ہیں ان سے فی الحقیقت اس کا اطمینان نہیں ہوا ہے، اور اس گمراہی کو اس نے کسی برے جذبے سے نہیں بلکہ خاص نیک نیتی کے ساتھ اختیار کیا ہے اور اس کے سامنے کبھی کوئی ایسی چیز نہیں آئی ہے جس سے اس کی غلطی اس پر واضح ہو۔ لیکن اللہ کے سامنے اس کی یہ بات نہیں چل سکتی۔ وہ صرف ظاہری کو نہیں دیکھتا، اس کے سامنے تو آدمی کے دل و دماغ کا ایک ایک گوشہ کھلا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
خلاصہ تفسیر
اور جس دن اللہ تعالیٰ ان کو پکار کر فرماوے گا (تاکہ سب لوگ ان کی رسوائی سن لیں) کہ جن کو تم میرا شریک سمجھتے تھے وہ کہاں گئے اور (اگرچہ حجت تمام کرنے کے لئے خود اس کا اقرار کافی تھا مگر مزید تاکید کے لئے ان پر شہادت بھی قائم کردی جاوے گی اس طرح کہ) ہم ہر امت میں سے ایک ایک گواہ (بھی) نکال کر لائیں گے (مراد اس سے انبیاء ہیں جو ان کے کفر کی گواہی دیں گے) پھر ہم (ان مشرکین سے) کہیں گے کہ (اب) اپنی کوئی دلیل (شرک کے دعوے کی صحت پر) پیش کرو سو (اس وقت) ان کو (بعین الیقین) معلوم ہوجاوے گا کہ سچ بات خدا کی تھی (جو انبیاء کے ذریعہ بتلائی گئی تھی اور شرک کا دعویٰ جھوٹا تھا) اور (دنیا میں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
آیت 75-74
آخری اتمام حجت
آیت 74 بعینہ اس سلسلہ بحث کے آغاز میں بھی گزر چکی ہے۔ یہاں یہ ایک اور ماجرے کی تمہید کے طور پر آئی ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مشرکوں پر آخری اتمام حجت کے لئے یہ بھی کرے گا کہ ہر امت پر اپنے رسولوں کے ذریعہ سے یہ گواہی دلوا دے گا کہ انہوں نے ان کو دین توحید کی تعلیم دی تھی، شرک کی تعلیم نہیں دی۔ رسولوں کی اس گواہی کے بعد اللہ تعالیٰ امتوں سے پوچھے گا کہ اب بتائو تم نے کس سند کی بنا پر خدا کے شریک ٹھہرائے، اگر تمہارے پاس کوئی دلیل ہے تو اس کو پیش کرو، اس وقت سب پر واضح ہوجائے گا کہ حق بجانب اللہ ہے اور ان کے تمام خود تراشیدہ معبود بالکل بےحقیقت ثابت ہوں گے۔
شھید سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
75-1اس گواہ سے مراد پیغمبر ہے۔ یعنی ہر امت کے پیغمبر کو اس امت سے الگ کھڑا کردیں گے۔
75-2یعنی دنیا میں میرے پیغمبروں کی دعوت توحید کے باوجود میرے شریک ٹھہراتے تھے اور میرے ساتھ ان کی بھی عبادت کرتے تھے، اس کی دلیل پیش کرو۔
75-3یعنی وہ حیران اور ساکت کھڑے ہونگے، کوئی جواب اور دلیل انھیں نہیں سوجھے گی۔
75-4یعنی ان کے کام نہیں آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
40: یہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم انعام کا تذکرہ ہے کہ اس نے رات کے وقت کو سکون حاصل کرنے کا ذریعہ بنادیا، اندھیرا طاری کر کے سب کو مجبور کردیا کہ وہ اس وقت آرام کریں، ورنہ یہ ممکن نہیں تھا کہ سب لوگ کسی ایک وقت پر متفق ہو کر اسے آرام کا وقت قرار دے دیتے، اور نتیجہ یہ ہوتا کہ ایک شخص آرام کرنا چاہتا ہے تو دوسرا اس وقت کوئی کام کرنا چاہتا ہے، اور اس کے کام میں مشغول ہونے سے پہلے شخص کے آرام میں خلل واقع ہوتا۔ اسی طرح دن کے وقت کو اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل تلاش کرنے یعنی روزی روزگار کمانے کا وقت بنادیا، تاکہ اس وقت سب کام میں لگیں۔ اگر تمام وقت دن رہتا تو سکون حاصل کرنا مشکل ہوتا، اور اگر تمام وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ویوم ینادیھم فیقول ۔۔۔۔۔۔۔۔ ما کانوا یفترون (74 – 75)
قیامت کے دن پکارنے کا منظر اور شرکاء کی بابت پوچھنے کا وقفہ گزشتہ سبق میں بھی گزرا ہے لیکن یہاں اسے بطور تاکید دوبارہ ایک نئے منظر میں لایا جاتا ہے۔ اس منظر میں یہ سوال و جواب ایک گواہ کے سامنے ہوگا۔ یہ ہر امت کا نبی ہوگا اور یہ شہادت دے گا کہ کس نے دعوت اسلامی کے حوالے سے کیا موقف اختیار کیا۔ اس منظر میں اصل مقصد یہ ہے کہ نبی کے سامنے لایا جائے گا تاکہ اس کی امت بھی اسے سب کی سب دیکھے اور وہ بھی ان کو سب کے سب کو دیکھے۔ اور اس عظیم گواہ کے سامنے مشرکین کو مزید شرمسار کرنے کے لیے ان سے پوچھا جائے کہ وہ شرکاء کہاں ہیں جن کو تم ایسا سمجھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
5 احوال بتلانے والا پیغمبر یا ان کے نائب جو نیک بخت تھے۔ (موضح) وہ بتلائیں گے کہ لوگوں نے شرائع سماویہ اور احکام الٰہیہ کے ساتھ کیا برتاؤ کیا۔
6 یعنی خدا تعالیٰ کے شریک کس سند اور دلیل سے ٹھہرائے اور حلال و حرام وغیرہ کے احکام کس مأخذ صحیح سے لیے تھے۔ پیغمبروں کو تو تم نے مانا نہیں، پھر کس نے بتلایا کہ خدا کا یہ حکم ہے، یہ نہیں۔
7 یعنی اس وقت نظر آجائے گا کہ سچی بات اللہ کی ہے۔ اور معبودیت صرف اسی کا حق ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔ دنیا میں پیغمبر جو بتلاتے تھے وہ ہی ٹھیک ہے۔ مشرکین نے جو عقیدے گھڑ رکھے تھے اور جو باتیں اپنے دل سے جوڑی تھیں اس روز سب کافور ہوجائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
آیت 75 وَنَزَعْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیْدًا ”
یہ مضمون دو مرتبہ سورة النحل آیت 84 اور 89 میں بھی آیا ہے ‘ لیکن سورة النساء کی یہ آیت تو گویا اس مضمون کا ذروۂ سنام ہے : فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ وَّجِءْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآءِ شَہِیْدًا۔ ”تو اس دن کیا صورت حال ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور اے نبی ﷺ ! آپ کو لائیں گے ہم ان پر گواہ بنا کر“۔ جو پیغمبر جس قوم کی طرف مبعوث کیا گیا ہوگا وہ قیامت کے دن اللہ کی عدالت میں استغاثہ کا گواہ prosecution witness بن کر گواہی دے گا کہ اے اللہ ! تیری طرف سے جو ہدایت مجھ تک پہنچی تھی میں نے وہ اپنی قوم تک پہنچا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
99 یہ گواہ وہ شخص ہوگا جس کے ذریعہ اللہ کا پیغام اس قوم یا گروہ کو پہنچا ہو۔ خواہ وہ کوئی پیغمبر ہو یا کوئی دوسرا بزرگ ہو۔ اور وہ گواہ اس بات کی گواہی دے گا کہ میں نے اللہ کا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا تھا۔
100 اس گواہی کے بعد مجرموں کو موقعہ دیا جائے گا کہ وہ اس گواہی کے خلاف کوئی عذر پیش کرسکتے ہیں تو کریں اور جب وہ کوئی عذر پیش نہ کرسکیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ تم اللہ کا پیغام پہنچنے کے بعد بھی جو شرک میں ہی مبتلا رہے تو اس بات کے لئے تمہارے پاس کوئی دلیل ہے ؟ اور اگر ہے تو اسے پیش کیوں نہیں کرتے ؟ دلیل سے یہاں مراد کسی الٰہامی کتاب یا کتاب و سنت سے کی دلیل ہے۔ جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
93۔ مراد انبیاء (علیہم السلام) ہیں جو اپنی اپنی امت کے کفر پر گواہی دیں گے۔ حجت تو کافروں پر خود انہیں کے قول سے پوری ہوجائے گی، اہتمام مزید کے طور پر بیرونی شہادتیں بھی مہیا کردی جائیں گی۔
94۔ (جو انبیاء کے ذریعہ سے ان تک پہنچ چکی تھی مگر پھر بھی اپنی حماقت سے اسے جھٹلاتے رہے تھے) کافروں سے کہا جائے گا کہ کوئی عذر، کوئی جواب رکھتے ہو تو اب پیش کرونا، انکشاف کامل ہوچکے گا، سب خاموش ولا جواب رہ جائیں گے۔
95۔ جتنے سہارے انہوں نے گڑھ رکھے تھے کوئی ان میں سے ذرا بھی کام نہ آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–75
آیت نمبر 61 تا 75
ترجمہ : بھلا وہ شخص کہ جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے جسے وہ قطعاً پانے والا ہے یعنی اس وعدۂ (موعودبہٖ ) کو پہنچنے والا ہے اور وہ جنت ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے، جو عنقریب زائل ہوجائے گا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کرکے دوزخ میں حاضر کئے جائیں گے اول شخص مومن ہوگا اور دوسرا کافر یعنی دونوں میں کوئی مساوات نہ ہوگی اور اس دن کو یاد کرو کہ جس دن خدا تعالیٰ ان کافروں کو پکار کر کہے گا میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم سمجھتے تھے وہ میرے شریک ہیں جن پر خدا کا دخول نار کا حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں…
Read the full tafseer →. ویوم ینادیھم فیقول این شرکاء ی الذین کنتم تزعمون . اور (یاد کرو اس دن کو) جب کہ اللہ
ان (کافروں) کو ندا دے گا اور فرمائے گا (آج) کہاں ہیں وہ میرے (فرض کئے ہوئے) شریک جن کو تم (اپنا سفارشی اور عذاب خدا سے بچانے والا) خیال کرتے تھے۔
یہ زجر کے بعد دوسری زجر ہے ‘ یہ تنبیہ ہے اس امر پر کہ اللہ کے غضب کا موجب سب سے بڑھ کر شرک ہے۔ پہلی زجر تھی اس بات پر کہ وہ اپنے سرداروں کے نقش قدم پر چلتے تھے اور سرداروں کا اتباع کر کے انہوں نے اللہ کی عبادت کو ترک کردیا تھا اور یہ دوسری زجر ہے اس بات پر کہ ان کا عقیدہ ہی بگڑا ہوا ہے ‘ وہ پتھروں کو اپنا سفارشی سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →(74) اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا جن کو تم میرا شریک سمجھتے تھے وہ کہاں گئے۔
Read the full tafseer →وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ۔۔ : توحید کے مزید دلائل ذکر کرنے کے بعد وہی مضمون دہرایا جو اوپر گزرا ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکین کو آواز دے کر کہے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جنھیں تم گمان کرتے تھے ! ؟ بار بار یہ کہنے کا مقصد انھیں ڈانٹنا، ذلیل و رسوا کرنا اور ان کی اور ان کے شرکاء کی بےبسی کا اور شرک کے باطل ہونے کا اظہار ہوگا۔ پھر کبھی وہ اس بات سے انکار کریں گے کہ وہ کسی شریک کی عبادت کرتے تھے (دیکھیے انعام : 22 تا 24) ، کبھی اپنے جھوٹے معبودوں کو پکاریں گے اور کوئی جواب نہ پائیں گے اور کبھی مایوس ہو کر خاموش ہو رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ویوم ینادیھم فیقول این شرکآءی الذین کنتم تزعمون حالوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے ضمیر کا اعادہ کیا۔ وہ ایک دفعہ ندا کرتے ہیں تو انہیں کیا جاتا تھا : این شرکآء الذین کنتم تزعمون وہ بتوں کو بلائیں گے تو وہ انہیں جواب نہ دیں گے تو ان کی حیرت ظاہر ہوگی۔ پھر وہ دوبارہ ندا کریں گے اور خاموش ہوجائیں گے۔ یہ تو بیخ اور روسائی کیزیادتی ہے۔ یہ ندا اللہ تعالیٰ کی جانب سے نہ ہوگی ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ کفار سے کلام نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولا یکلمھم اللہ یوم القیمۃ (البقرہ : 174) لیکن اللہ تعالیٰ انہیں ایسے امور کا حکم دے گا جو ان کو شرمندہ کر دے گا اور لا جواب کرے گا اور مقام حساب میں ان پر حجت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
1۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان جعل اللہ علیکم الیل سرمدا میں سرمدا سے مراد ہے ہمیشہ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ رات کردے۔
2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت سرمدا الی یوم القیمۃ سے مراد ہے ہمیشہ من الہ غیر اللہ یاتیکم بضیاء یعنی اللہ کے علاوہ کونسا خدا ہے جو تمہارے پاس دن کو لے آئے ضیا سے مراد ہے دن۔
4۔ ابن المنذرنے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن رحمتہ جعل لکم الیل والنہار لتسکنوا فیہ یعنی رات میں تم آرام کرتے ہو آیت ولتبتغوا من فضلہ یعنی دن میں تم اللہ کا فضل کرو۔
5۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذروابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ [اور جس دن وہ پکارے گا ان کو ] فَيَقُوْلُ [پھر وہ کہے گا ] اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ [کہاں ہیں میرے وہ شریک جن پر ] كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ [تم لوگ زعم کیا کرتے تھے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
قیامت کے دن ہر امت میں سے گواہ لانا اور شرک کی دلیل طلب فرمانا
یہ دو آیات ہیں پہلی آیت کے الفاظ تو مکرر ہیں لیکن سیاق کے اعتبار سے مقام مختلف ہے۔ پہلے تو یہ فرمایا تھا کہ جب ان لوگوں سے یہ سوال ہوگا کہ میرے شرکاء کہاں ہیں جنہیں تم میرا شریک بناتے تھے تو اس پر وہ لوگ جواب دیں گے جنہوں نے انہیں بہکایا تھا اور گمراہ کیا کہ اے ہمارے رب ہم نے انہیں گمراہ کیا جیسے ہم گمراہ ہوئے ہم نے بہکایا تو تھا لیکن زبردستی نہیں کی تھی ہم بھی بہکے ان کو بہکایا ہم ان سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں، اور یہاں دوسری جگہ جو آیت شریفہ کو دو بارہ ذکر فرمایا ہے وہ بعد والی آیت کی تمہید ہے یعنی جب انہیں پکارا جائے گا تو ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
تذکیر نعم مشتمل بر بیان دلائل توحید
قال اللہ تعالی، قل ارء یتم ان جعل اللہ علیکم الیل سرمدا۔۔۔ الی۔۔۔ وضل عنہم ما کانوا یفترون۔
(ربط) گزشتہ آیت یعنی ولہ الحمد فی الاولی والاخرۃ۔ میں اجمالا اپنا مستحق حمد وثنا ہونا بیان کیا کہ اللہ ہی دنیوی اور اخروی نعمتوں کا مالک ہے اس لئے وہی مستحق حمد وثنا ہے اب آئندہ آیات میں اپنی چند نعمتوں کا ذکر فرماتے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک اس کے کمال قدرت کی بھی دلیل ہے وہ یہ کہ اللہ نے تمہارے لئے لیل ونہار کو مسخر کیا جن کے بغیر تمہارے نظام حیات کا قیام اور قوام ناممکن ہے اور یہ دن رات اس کی کمال قدرت واختیار کی دلیل ہیں جس کا ما کان لہم الخیرۃ میں ذکر تھا۔ دن کی…
Read the full tafseer →68:۔ یہ تخویف اخروی ہے قیامت کے دن مشرکین سے سوال ہوگا وہ میرے شریک کہاں ہیں ؟ جنہیں تم میرے سوا کارساز اور سفارشی سمجھتے تھے۔ آج وہ تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے۔ یہ آیت نیک پیروں کے حق میں ہے جنہیں بعد کے لوگوں نے کارساز سمجھ کر حاجات میں غائبانہ پکارنا شروع کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
ربطہ آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا رد فرمایا اور ساتھ دونوں کا انجام بھی بیان کیا ۔ پھر اللہ نے اپنی صفت خلق کا ذکر کیا اور یہ بھی فرمایا کہ وہ جو چاہے پسند کرے سارا اختیار اسی کو ہے ، مخلوق میں سے کوئی بھی با اختیار ہستی نہیں ہے۔ فرمایا اللہ کی ذات بلندو برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ فرمایا خدا تعالیٰ ظاہر و باطن ہر چیز کو جانتا ہے ، وہ وحدہٗ لا شریک ہے ، دنیا آخرت میں اسی کی تعریف ہے اور سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
لیل و نہار کا نظام
آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں دو عقلی دلائل پیش کیے ہیں جو لیل و…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ يُنَادِيْہِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ 74
ندا
النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
ترکیب : سرمدًا یجوزان یکون حالاً من اللیل وان یکون مفعولا ثانیاً لجعل والی یتعلق بسرمدًا من الہ الخ جواب ہے ان جعل اللہ کا۔
تفسیر : و ربک یخلق مایشاء سے مبدء میں گفتگو شروع ہوگئی تھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں اس لیے وھو اللہ لا الہ الا ھو سے اس کی تکمیل کی جاتی ہے گویا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے اور قرآن مجید کی عادت ہے کہ کبھی مبدء میں گفتگو کرتا ہے۔ کبھی معاد میں ‘ کبھی نبوات و شرائع میں اور یہی باتیں مقصود بالذات بھی تھیں۔ فرمایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا و آخرت میں اپنی نعمتوں کے سبب وہی ستائش کا مستحق ہے اور فرمانروائی اسی کے لیے ہے اور اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے اور کون ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
وَیَوْمَ یُنَادِیْہِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَکَآئِ یَ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ۔ وَنَزَعْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَھِیْدًا فَقُلْنَا ھَاتُوْا بُرْھَانَـکُمْ فَعَلِمُوْٓا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰہِ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ (القصص : 74، 75)
(اس دن کا خیال کرو جس دن وہ انھیں پکارے گا پھر پوچھے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے۔ اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکالیں گے اور لوگوں سے کہیں گے لائو اب اپنی دلیل، اس وقت تم پر واضح ہوجائے گا کہ حق اللہ کی طرف ہے اور گم ہوجائیں گے ان کے وہ سارے جھوٹ جو انھوں نے گھڑ رکھے تھے۔ )
ایک اور پہلو سے سوال
پہلی آیت بعینہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
فہم القرآن
ربط کلام : ” اللہ “ کی قدرتوں اور لیل و نہار کی گردش میں کوئی مداخلت نہیں کرسکتا تو پھر ذات کبریا کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے کا کیا جواز ہے ؟
اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام مجید میں جس بات کی سب سے زیادہ تر دید اور مذّمت کی ہے وہ شرک ہے۔ شرک کرنے والا جن کو ” اللہ “ کے ساتھ یا اس کے سوا پکارتا ہے وہ کسی نہ کسی درجہ میں انہیں اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہراتا یا کم ازکم اس کے اختیارات میں شریک سمجھتا ہے۔ مشرکوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سوال کرے گا بتاؤ جنھیں تم میرا شریک بناتے تھے کہاں ہیں ؟ اگر ہیں تو انھیں سامنے لاؤ تاکہ وہ اپنی اور تمہاری مدد کرسکیں۔ جو بزرگ دنیا میں لوگوں کو شرک سے منع…
Read the full tafseer →74: وَیَوْمَ یُنَادِیْہِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَکَآئِ یَ (اور اس دن کو یاد کرو جس دن اللہ تعالیٰ ان کو نداء دے کر فرمائے گا) ۔ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ (کہاں ہیں میرے وہ شرکاء جن کو تم (سفارشی) خیال کرتے تھے۔ شریک بنانے پر۔ بار دیگر تو بیخ کی گئی تاکہ یہ اعلان کردیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے غضب کو شرک سے بڑھ کر کوئی چیز دعوت دینے والی نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندیوں میں سب سے زیادہ توحید داخل کرنے والی ہے۔
Read the full tafseer →74۔ ویوم ینادیھم فقول این شرکاء الذین کنتم تزعمون، ، یہاں پر مشرکین کو بار بار ندا کی گئی۔ ان کی توبیخ ارتفریع کے لیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–74
64 تا 73۔ اوپر کی آیتوں میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے قریش کو طرح طرح کی فہمائش کی ہے اسی طرح کی فہمایش ان آیتوں میں ہے حاصل اس فہمایش کا یہ ہے کہ اللہ کی عبادت چھوڑ کر جو یہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں ان کو اتنی سمجھ نہیں کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی ہزارہا نعمتوں میں سے مثلا ایک دن رات ہے ایک رات اگر اللہ کے حکم سے آفتاب نہ نکلے اور زمین کے اندر روکا ہی رہ جاوے یا جس طرح ہر روز شام کو اللہ کے حکم سے سورج غروب ہوتا ہے اسی طرح ایک رات کو غروب نہ ہو اور بجائے رات کے دن اور بجائے دن کے رات ہوجاوے اور ان لوگوں کے دن اور رات کے عادتی اور مقررہ کاموں میں ہرج پڑجاوے تو بھلا ان کے بتوں میں قدرت ہے کہ ان کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
آیت 73
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر احسان ہے۔ وہ ان کو اس احسان پر شکر ادا کرنے، اس کی عبودیت اور حق کو قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ بیشک اس نے اپنی بےپایاں رحمت کی وجہ سے ان کے لئے دن بنایا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کریں اور دن کی روشنی میں اپنے رزق اور معیشت کی طلب میں زمین میں پھیل جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے رات پیدا کی تاکہ وہ اس میں سکون پائیں ان کے بدن، دن بھر کی تگ و دو کے بعد آرام کرکے تھکاوٹ کو دور کریں۔ یہ بندوں پر اس کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے۔۔۔ کیا مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی ہے جو ایسا کرنے پر قادر ہو ؟ (ان جعل اللہ علیکم الیل سرھدا الی یوم القیمۃ من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →102 روز قیامت کی تذکیر و یاددہانی اور مشرکوں کو تنبیہ و تذکیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یاددہانی کراؤ ان کو اس ہولناک دن کی جس دن وہ ان کو پکار فرمائے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم لوگ بڑا دعویٰ اور گھمنڈ رکھا کرتے تھے۔ کہ وہ ہمیں مشکل وقت میں کام آئیں گے اور ہمارا کام بنادیں گے کہ یہ بڑی پہنچی ہوئی " سرکاریں " ہیں۔ " ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے " وغیرہ وغیرہ۔ قرآن حکیم آخرت کے اس ہولناک منظر کا ذکر جگہ جگہ اور طرح طرح سے فرماتا ہے تاکہ لوگ ایسے خود ساختہ مفروضوں اور من گھڑت ڈھکوسلوں سے بچ سکیں اور ان خودساختہ معبودوں کی پوجا پاٹ سے باز آجائیں اور ارتکاب شرک سے اپنی تباہی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
اللہ کی برتری کی نشانیاں
تشریح : یہ تمام باتیں اللہ کی نشانیاں ‘ اس کی رحمتیں ‘ برکتیں اور فضل و کرم جو اس نے انسانوں کی سہولیات کے لیے پیدا کر رکھا ہے۔ عقل مند ‘ سوجھ بوجھ رکھنے والے اور نیک فطرت لوگوں کے لیے اللہ کی راہ اختیار کرنے اس کو معبود برحق ماننے کے لیے بہت کافی ہے۔ پھر راہبری اور ہدایت کے لیے ہر امت میں سے رسول ‘ نبی اور پیغمبر بھیجے گئے۔ صرف اس لیے کہ لوگوں کی راہبری کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–75
آیات 61 تا 75
اسرارو معارف
اور بھلا جس شخص کو بہت حسین وعدہ دیا اگیا ہو یعنی آخرت کی کامیابی کا اور وہ اسے پانے والا بھی ہو اس کی برابری وہ شخص تو نہیں کرسکتا جس کے پاس چند روز مال و دولت دنیا تو ہو مگر قیامت کے روز اسے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہو وہ ایسا دن ہوگا کہ جب ان کفار و مشرکین پر سوال ہوگا کہ جن لوگوں کو تم نے میرا شریک مان رکھا تھا وہ کہاں ہیں تو وہ لوگ جو یہاں دنیا میں ان کے پیشوا بنے ہوئے ہیں اپنے اوپر جرم ثابت ہوچکنے کے بعد یہ عذر کریں گے کہ اے اللہ خود گمراہ تھے لہذا انہیں بھی وہی کچھ بتایا جس پر خود عمل کرتے تھے لیکن انہوں نے ہماری بات اپنے اختیار سے مانی ہم نے ان پر کوئی…
Read the full tafseer →5 ۔ اس سے پہلے بھی یہی مضمون تھا۔ اسے دہرایا اس لئے گیا کہ کافروں کو تو بیخ و زجر کے طور پر بار بار اس قسم کی آواز دی جائے گی۔ کبھی وہ اپنے جھوٹے معبودوں کو پکاریں گے اور کوئی جواب نہ پائیں گے اور کبھی مایوس ہو کر خاموش ہو رہیں گے۔ (کذانی ابن کثیر)
Read the full tafseer →(28:74) ملاحظہ ہو آیت 62 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
لغات القرآن آیت نمبر (68 تا 75 )
یختار (وہ پسند کرتا ہے۔ منتخب کرتا ہے) ۔ الخیرۃ (اختیار ۔ پسند ) ۔ تکن (چھپتا ہے) ۔ سرمد (ہمیشہ ) ۔ ضیاء (روشنی۔ چمک ) ۔ تسکنون (تم سکون حاصل کرتے ہو) ۔ تبتغوا (تم تلاش کرتے ہو) ۔ نزعنا (ہم نے کھینچ لیا۔ نکال لیا) ۔ ھاتوا (لے آئو۔ (تم آئو) ۔ برھان (دلیل۔ پسند) ۔ ضل (بھٹک گیا۔ گم ہوگیا) ۔ یفترون (وہ گھڑتے ہیں۔ بناتے ہیں ) ۔
تشریح : آیت نمبر (68 تا 75 ) ۔ ” نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ہر شخص کو بتایا جارہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اس کائنات میں ساری قدرت، طاقت، ہر چیز کی خوبی اور عبادت و بندگی صرف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنا پیغام پہنچانے کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–74
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان کو اپنے سامنے کھڑا کرکے ان سے پوچھے گا کہ بتلاؤ تم لوگوں نے اللہ کے رسولوں کی فرمانبرداری کی تو ان کے ہوش اڑجائیں گے اور ان کو جواب تک نہ آئے گا یہ توحید اور اطاعت رسول کا سوال گویا آخری سوال ہے ۔ جو میدان قیامت میں خاص اللہ تعالیٰ کے روبرو ہوگا اور یوں تو توحید اور اطاعت رسول کی پرسش آدمی کو قبر میں دفناتے ہی شروع ہوجاتی ہے چناچہ دفنانے والے لوگ ابھی قبرستان سے پلٹ کر بھی نہیں آتے کہ منکرنکیر یہ دوفرشتے مردہ کے پاس آن کر اس سے توحید اور اطاعت رسول کا سوال کرتے ہیں ۔ جو شخص توحید اور اطاعت رسول پر ثابت قدم دنیا سے اٹھا ہے وہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
[43] مراد ہیں انبیاء (علیہم السلام) جو اپنی امت کے کفر پر گواہی دیں گے۔
[44] یعنی اللہ کے شریک کس سند اور دلیل سے ٹھہرائے اور حرام و حلال وغیرہ کے احکام کس ماخذ صحیح سے لئے تھے۔
[45] یعنی اس وقت انھیں نظر آجائے گا کہ سچی بات اللہ کی ہے اور معبودیت صرف اسی کا حق ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔ دنیا میں جو پیغمبر بتلاتے تھے وہی ٹھیک تھا اور جو عقیدے انہوں نے گھڑ رکھے تھے سب کافور ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ف 1: یعنی اس وقت جو لوگ اپنے مقتداؤں کو عرش بریں پر متمکن سمجھتے ہیں ۔ قیامت کے دن جب ان سے مطالبہ کیا جائے گا ۔ کہ اپنے عقیدہ وشرک پر دلیل لاؤ۔ اور ہو اسباب داخل بیان کرو جس کی وجہ سے تم نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی پرستش کی ۔ تو وہ بالکل خاموش اور ساکت ہوجائیں گے ۔ اور کوئی معقول وجہ پیش نہ کرسکیں گے ۔ بلکہ اس وقت انہیں محسوس ہوگا کہ سچی اور درست بات اللہ ہی کی تھی ۔ اور ہم نے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا کر سخت گناہ کا ارتکاب کیا ہے ۔
حل لغات :۔ ونزعنا ۔ یعنی ہر امت کی صفوں میں سے ایک گواہ کھینچ لائینگے
Read the full tafseer →74۔ اور وہ دن قابل ذک رہے جس دن اللہ تعالیٰ ان کافروں کو پکارے گا اور پکارکر ارشاد فرمائے گا جن لوگوں کو تم میرا شریک سمجھا کرتے تھے اور جن کے شریک ہونے کا دعویٰ کیا کرتے تھے وہ میرے شریک کہاں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا بطور تو بیخ ہوگا اور انکے خلاف شہادت لیتے وقت فرمائے گا ۔ چناچہ ارشاد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ف 4۔ مراد اس سے انبیاء میں کہ وہ ان کے کفر کی گواہی دیں گے۔
5۔ کیونکہ انکشاف حق کے لئے باطل کا غائب ہوجانا لازم ہے۔
Read the full tafseer →بلاشبہ مشرکین سے کہا جائے گا کہ میرے شریکوں کو بلاؤ جن کو تم نے شریک بنایا تھا :
74۔ زیر نظر آیت وہی ہے جو اس سے پہلے 62 کے طور پر گز چکی ہے جہاں سے یہ مضمون چلا تھا اور اس کو دوبارہ اس جگہ بیان کرنا گویا اتمام حجت کے طور پر ہے کہ ایک بات کو بار بار تمہارے سامنے بیان کیا جا رہا ہے لیکن تم ایسے مدہوش انسان ہو کہ تمہارے کان پر جوں بھی نہیں رینگتی کہ یہ جو بار بار ہم کو کہا جارہا ہے کہ بلاؤ اپنے شریکوں کو جو تم نے اپنے زعم میں میرے لئے بنا لئے تھے اگرچہ یہ پکار تو قیامت کے روز ہوگی لیکن ہمارا حق تو بنتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کا تجزیہ کرکے دیکھیں کہ کہیں ہم تو شرک کے مرتکب نہیں ہو رہے اور پھر جب تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
Commentary
A question that will be asked from the infidels on the Day of Judgment to repeat what they had replied to the prophets on their invitation to truth was mentioned in an earlier verse. Now in this verse it is stated that the prophets would testify about the reply that was given by the infidels.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
92 A witness": the Prophet who had warned that community, or a rightly-guided person from among the followers of the Prophets, who had performed the duty of preaching the Truth in the community, or a means through which the message of the Truth had reached the community .
93 That is, "Present a cogent argument in your defence so that you are pardoned. You should either prove that the shirk and the denial of the Hereafter and Prophethood in which you persisted were the correct creed and you had adopted it on rational grounds, or, if you cannot do that, you should at least prove that no…
Read the full tafseer →