Explained with ayahs 71–73
سنی ان سنی نہ کرو
اللہ کا احسان دیکھو کہ بغیر تمہاری کوشش اور تدبیر کے دن اور رات برابر آگے پیچھے آرہے ہیں اگر رات ہی رات رہے تو تم عاجز آجاؤ تمہارے کام رک جائیں تم پر زندگی وبال ہوجائے تم تھک جاؤ اکتاجاؤ کسی کو نہ پاؤ جو تمہارے لئے دن نکال سکے کہ تم اس کی روشنی میں چلو پھرو، دیکھو بھالو اپنے کام کاج کرلو۔ افسوس تم سنا کر بھی بےسناکر دیتے ہو۔ اسی طرح اگر وہ تم پر دن ہی دن کو روک دے رات آئے ہی نہیں تو بھی تمہاری زندگی تلخ ہوجائے۔ بدن کا نظام الٹ پلٹ ہوجائے تھک جاؤ تنگ ہوجاؤ کوئی نہیں جسے قدرت ہو کہ وہ رات لاسکے جس میں تم راحت وآرام حاصل کرسکو لیکن تم آنکھیں رکھتے ہوئے اللہ کی ان نشانیوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
سورة القصص 91
اس سلسلہ کلام میں یہ بات جس مقصد کے لیے ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص یا گروہ دنیا میں لوگوں کے سامنے یہ دعوی کرسکتا ہے کہ جس گمراہی کو اس نے اختیار کیا ہے اس کی صحت پر وہ بڑے معقول وجوہ سے مطمئن ہے، اور اس کے خلاف جو دلائل دیے گئے ہیں ان سے فی الحقیقت اس کا اطمینان نہیں ہوا ہے، اور اس گمراہی کو اس نے کسی برے جذبے سے نہیں بلکہ خاص نیک نیتی کے ساتھ اختیار کیا ہے اور اس کے سامنے کبھی کوئی ایسی چیز نہیں آئی ہے جس سے اس کی غلطی اس پر واضح ہو۔ لیکن اللہ کے سامنے اس کی یہ بات نہیں چل سکتی۔ وہ صرف ظاہری کو نہیں دیکھتا، اس کے سامنے تو آدمی کے دل و دماغ کا ایک ایک گوشہ کھلا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ سَرْمَدًا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَيْرُ اللّٰهِ يَاْتِيْكُمْ بِضِيَاۗءٍ ۭ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ الی قولہ بِلَيْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِيْهِ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ آیت میں حق تعالیٰ نے رات کے ساتھ تو اس کا ایک فائدہ ذکر فرمایا، بِلَيْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِيْهِ یعنی رات میں انسان کو سکون ملتا ہے اس کے بالمقابل دن کے ذکر میں بضیاء کے ساتھ کوئی فائدہ ذکر نہیں فرمایا سبب ظاہر ہے کہ دن کی روشنی اپنی ذات میں افضل ہے اور ظلم سے روشنی کا بہتر ہونا معلوم و معروف ہے۔ روشنی کے بیشمار فوائد اتنے معروف ہیں کہ ان کے بیان کی ضرورت نہیں، بخلاف رات…
Read the full tafseer →خدا کے انعامات کا حق شکر
یعنی یہ رات اور دن کا لانا صرف خدا کے فضل و رحمت ہی کا کرشمہ ہے کسی اور کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے اور تمہارا خدا پر کوئی حق بھی قائم نہیں تھا کہ وہ تمہارے لئے یہ اہتمام کرتا کہ رات آ کر تمہارے لئے راحت و سکون کا بستر بچھائے اور پھر دن طلوع ہو کر تمہارے لئے تلاش رزق و فضل کا میدان گرم کرے۔ یہ سب کچھ مجرد خدا کی رحمت کا ظہور ہے تاکہ تم ان نعمتوں سے فائدہ اٹھائو اور اپنے اس رب کے شکر گزار رہو جس نے تمہارے لئے یہ کچھ اہتمام کیا ہے آیت میں لتسکنوا کا تعلق رات سے ہے اور ولتبتغوا من فضلہ کا تعلق دن ہے۔ انسان کسب رزق کے لئے جو جدوجہد کرتا ہے اس کو ابتغائے فضیل سے تعبیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
73-1دن اور رات، یہ دونوں اللہ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ رات کو تاریک بنایا تاکہ سب لوگ آرام کرسکیں۔ اس اندھیرے کی وجہ سے ہر مخلوق سونے اور آرام کرنے پر مجبور ہے۔ ورنہ اگر آرام کرنے اور سونے کے اپنے اپنے اوقات ہوتے تو کوئی بھی مکمل طریقے سے سونے نہ پاتا، جب کہ معاشی تگ و دو اور کاروبار جہاں کے لئے نیند کا پورا کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر توانائی بحال نہیں ہوتی۔ اگر کچھ لوگ سو رہے ہوتے اور کچھ لوگ جاگ کر مصروف تگ و تاز ہوتے، تو سونے والوں کے آرام و راحت میں خلل پڑتا، نیز لوگ ایک دوسرے کے تعاون سے بھی محروم رہتے، جب کہ دنیا کا نظام ایک دوسرے کے تعاون و تناصر کا محتاج ہے اس لئے اللہ نے رات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
40: یہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم انعام کا تذکرہ ہے کہ اس نے رات کے وقت کو سکون حاصل کرنے کا ذریعہ بنادیا، اندھیرا طاری کر کے سب کو مجبور کردیا کہ وہ اس وقت آرام کریں، ورنہ یہ ممکن نہیں تھا کہ سب لوگ کسی ایک وقت پر متفق ہو کر اسے آرام کا وقت قرار دے دیتے، اور نتیجہ یہ ہوتا کہ ایک شخص آرام کرنا چاہتا ہے تو دوسرا اس وقت کوئی کام کرنا چاہتا ہے، اور اس کے کام میں مشغول ہونے سے پہلے شخص کے آرام میں خلل واقع ہوتا۔ اسی طرح دن کے وقت کو اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل تلاش کرنے یعنی روزی روزگار کمانے کا وقت بنادیا، تاکہ اس وقت سب کام میں لگیں۔ اگر تمام وقت دن رہتا تو سکون حاصل کرنا مشکل ہوتا، اور اگر تمام وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
قل ارءیتم ان جعل اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ ولعلکم تشکرون (71 – 74)
وگوں کی حالت یہ ہے کہ انہوں نے رات اور دن کی گردش دیکھ دیکھ کر ان سے اس قدر مانوس ہوگئے ہیں کہ اس گردش
کے اندر ان کو کوئی بات نئی نہیں لگتی۔ وہ سورج کے طلوع اور غروب سے بہت زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔ اسی طرح دن کا نمودار ہونا اور رات کا چھا جانا بھی ان کو کچھ زیادہ نہیں کرتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ گردش لیل و نہار کے اندر انسانوں کے لیے جو فائدے ہیں اور جو رحمتیں ہیں اور جس طرح یہ گردش ان کو تباہی و ہلاکت سے بچاتی ہے ، اکتانے اور تھکانے سے بچاتی ہے۔ یہ باتیں ان کے شعور میں مسحضر نہیں رہتیں۔
قرآن کریم ان کو غفلت کی نیند سے جگاتا ہے ان کو ذرا اس عادی…
Read the full tafseer →4 یعنی رات دن کا الٹ پھیر کرتا رہتا تو رات کی تاریکی اور خنکی میں سکون و راحت بھی حاصل کرلو اور دن کے اجالے میں کاروبار بھی جاری رکھ سکو۔ اور روز و شب کے مختلف النوع انعامات پر حق تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
آیت 75 وَنَزَعْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیْدًا ”
یہ مضمون دو مرتبہ سورة النحل آیت 84 اور 89 میں بھی آیا ہے ‘ لیکن سورة النساء کی یہ آیت تو گویا اس مضمون کا ذروۂ سنام ہے : فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ وَّجِءْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآءِ شَہِیْدًا۔ ”تو اس دن کیا صورت حال ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور اے نبی ﷺ ! آپ کو لائیں گے ہم ان پر گواہ بنا کر“۔ جو پیغمبر جس قوم کی طرف مبعوث کیا گیا ہوگا وہ قیامت کے دن اللہ کی عدالت میں استغاثہ کا گواہ prosecution witness بن کر گواہی دے گا کہ اے اللہ ! تیری طرف سے جو ہدایت مجھ تک پہنچی تھی میں نے وہ اپنی قوم تک پہنچا…
Read the full tafseer →98 یہ اللہ کی خاص رحمت ہے کہ اس نے دن رات کا نظام ایسا بنادیا جس میں تمام مخلوق کے لئے فائدے ہی فائدے ہیں۔ کوئی جاندار مسلسل کام نہیں کرسکتا۔ لہذا اللہ نے رات بنادی جو تاریک بھی ہوتی ہے اور ٹھنڈی بھی اور آرام یا نیند کے لئے یہی دو باتیں ضروری ہیں۔ ان دونوں کی موجودگی میں انسان گہری نیند سو کر دن بھر کی تھکاوٹ دور کرسکتا ہے۔ اور کام کاج کے لئے روشنی ضروری تھی لہذا دن اس غرض کے لئے دن بنادیا۔ اب چاہئے تو یہ تھا کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتا مگر اس اوندھی عقل کے انسان نے اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے الٹا اس کے شریک بنانا شروع کردیئے۔ اور کئی ہستیوں میں اللہ کے اختیارات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
92۔ (اس کی دونوں نعمتوں کا) ” رات ہمیشہ ہونا اس طور پر کہ شمس کو افق سے طلوع نہ ہونے دے یا اس کا نور سلب کرلے اور دن کا ہمیشہ ہونا کہ شمس کو غروب نہ ہونے دے یا بلاشمس یا ایسا نور پیدا کردے “۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” ولتبتغوا من فضلہ “۔ روزی کمانے کے دھندے کو (آیت) ” من رحمتہ “۔ رحمت الہی کے تحت میں لانا صاف اس امر پر دلیل ہے کہ معاشی مشغلے اسلام میں کتنی فضیلت کا درجہ رکھتے ہیں۔ حقیر و ذلیل نہیں معزز ومکرم ہیں۔ وفیھا اشارۃ الی مدح السعی فی طلب الرزق وقد ورد الکاسب حبیب اللہ وھو لاینا فی التوکل (روح) (آیت) ” من رحمتہ “۔ میں من سببیہ قرار دیا گیا ہے۔ من ھھنا للسبب اے وبسبب رحمتہ ایاکم (بحر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–75
آیت نمبر 61 تا 75
ترجمہ : بھلا وہ شخص کہ جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے جسے وہ قطعاً پانے والا ہے یعنی اس وعدۂ (موعودبہٖ ) کو پہنچنے والا ہے اور وہ جنت ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے، جو عنقریب زائل ہوجائے گا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کرکے دوزخ میں حاضر کئے جائیں گے اول شخص مومن ہوگا اور دوسرا کافر یعنی دونوں میں کوئی مساوات نہ ہوگی اور اس دن کو یاد کرو کہ جس دن خدا تعالیٰ ان کافروں کو پکار کر کہے گا میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم سمجھتے تھے وہ میرے شریک ہیں جن پر خدا کا دخول نار کا حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں…
Read the full tafseer →ومن رحمتہ جعل لکم الیل والنھار لیسکنوا فیہ ولتبتغوا من فضلہ ولعلم تشکرون . اور
ا اللہ نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن بنائے تاکہ رات میں تم آرام پاؤ اور (دن میں) اللہ کے فضل کو تلاش کرو اور تاکہ تم (ا اللہ کی نعمتوں کا) شکر ادا کرو۔
مِنْ فَضْلِہٖ یعنی دنیا اور آخرت کے منافع تلاش کرو۔ فِیْہِ کی ضمیر لیل کی طرف لوٹ رہی ہے ‘ اس صورت میں لف و نشر مرتب ہوگا (پہلے دو چیزوں کا ذکر یکجائی کیا پھر ہر ایک کا حکم اور حال ترتیب کے ساتھ الگ الگ بیان کردیا۔ جس چیز کا ذکر پہلے کیا تھا ‘ اس کا حکم پہلے بیان کیا اور جس کا ذکر پیچھے کیا تھا ‘ اس کے حکم کو پیچھے ذکر کیا) زجاج نے کہا کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ…
Read the full tafseer →(73) اس نے اپنی نعمت و رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا تاکہ تم رات میں آرام کرو اور دن میں علم دین اور عبادت الہی کے ذریعے سے اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم ان نعمتوں پر کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا اللہ کا شکر کرو۔
Read the full tafseer →وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ۔۔ : یعنی اسی نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات دن کی صورت میں راحت و سکون اور معیشت کے اسباب و وسائل مہیا کیے، تاکہ تم اس کی نعمتوں کا شکر بجا لاؤ، مگر تم نے شکر ادا کرنے کے بجائے اس کے لیے شریک بنانے شروع کردیے۔ معلوم ہوا کہ فطری طریق یہی ہے کہ انسان دن کو کام کرے اور رات کو آرام اور عموماً ہوتا بھی ایسا ہی ہے، پھر دونوں وقت دونوں کام ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
قل ارئیتم ان جعل اللہ علیکم الیل سرمداً سرمد سے مراد دائمی ہے، اسی معنی میں طرف کا قول ہے :
لعمرک ما امری علی بغتۃ نھاوی ولا لیلی علی یسرمد
تیری زندگی کی قسم ! میرا معاملہ مجھ پر چھپا ہوا نہیں میرا دن اور میری رات مجھ پر ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے معیشت کے اسباب کو مسخر کردیا تاکہ وہ اس کی نعمتوں کا شکر بجا لائیں۔ من اللہ غیر اللہ یاتیکم بضآء کون نور لائے گا جس میں تم اپنی روزی تلاش کرو گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کون دن لائے گا جس میں تم اپنے رزق کے اسباب کو دیکھ سکو گے اور اس میں پھل اور نباتات درست ہوں گے۔ افلاتسمعون کیا تم فہم اور قبول والا سننا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
1۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان جعل اللہ علیکم الیل سرمدا میں سرمدا سے مراد ہے ہمیشہ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ رات کردے۔
2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت سرمدا الی یوم القیمۃ سے مراد ہے ہمیشہ من الہ غیر اللہ یاتیکم بضیاء یعنی اللہ کے علاوہ کونسا خدا ہے جو تمہارے پاس دن کو لے آئے ضیا سے مراد ہے دن۔
4۔ ابن المنذرنے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن رحمتہ جعل لکم الیل والنہار لتسکنوا فیہ یعنی رات میں تم آرام کرتے ہو آیت ولتبتغوا من فضلہ یعنی دن میں تم اللہ کا فضل کرو۔
5۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذروابن ابی حاتم نے…
Read the full tafseer →وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ [اور (یہ) اس کی رحمت میں سے ہے (کہ)] جَعَلَ [اس نے بنایا ] لَكُمُ [تمہارے لئے ] الَّيْلَ [رات ] وَالنَّهَارَ [اور دن ] لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ [تاکہ تم لوگ آرام کرو اس میں ] وَلِتَبْتَغُوْا [اور تاکہ تم لوگ تلاش کرو ] مِنْ فَضْلِهٖ [اس کے فضل میں سے ] وَلَعَلَّكُمْ [اور شاید تم لوگ ] تَشْكُرُوْنَ [شکر کرو ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
قیامت کے دن ہر امت میں سے گواہ لانا اور شرک کی دلیل طلب فرمانا
یہ دو آیات ہیں پہلی آیت کے الفاظ تو مکرر ہیں لیکن سیاق کے اعتبار سے مقام مختلف ہے۔ پہلے تو یہ فرمایا تھا کہ جب ان لوگوں سے یہ سوال ہوگا کہ میرے شرکاء کہاں ہیں جنہیں تم میرا شریک بناتے تھے تو اس پر وہ لوگ جواب دیں گے جنہوں نے انہیں بہکایا تھا اور گمراہ کیا کہ اے ہمارے رب ہم نے انہیں گمراہ کیا جیسے ہم گمراہ ہوئے ہم نے بہکایا تو تھا لیکن زبردستی نہیں کی تھی ہم بھی بہکے ان کو بہکایا ہم ان سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں، اور یہاں دوسری جگہ جو آیت شریفہ کو دو بارہ ذکر فرمایا ہے وہ بعد والی آیت کی تمہید ہے یعنی جب انہیں پکارا جائے گا تو ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
تذکیر نعم مشتمل بر بیان دلائل توحید
قال اللہ تعالی، قل ارء یتم ان جعل اللہ علیکم الیل سرمدا۔۔۔ الی۔۔۔ وضل عنہم ما کانوا یفترون۔
(ربط) گزشتہ آیت یعنی ولہ الحمد فی الاولی والاخرۃ۔ میں اجمالا اپنا مستحق حمد وثنا ہونا بیان کیا کہ اللہ ہی دنیوی اور اخروی نعمتوں کا مالک ہے اس لئے وہی مستحق حمد وثنا ہے اب آئندہ آیات میں اپنی چند نعمتوں کا ذکر فرماتے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک اس کے کمال قدرت کی بھی دلیل ہے وہ یہ کہ اللہ نے تمہارے لئے لیل ونہار کو مسخر کیا جن کے بغیر تمہارے نظام حیات کا قیام اور قوام ناممکن ہے اور یہ دن رات اس کی کمال قدرت واختیار کی دلیل ہیں جس کا ما کان لہم الخیرۃ میں ذکر تھا۔ دن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
67:۔ یہ پانچویں عقلی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے محض اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن کا سلسلہ بنایا ہے رات کو تم آرام کرتے ہو اور دن کو معاش طلب کرتے ہو۔ یہ دن رات بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جس کا شکر اس کے بندوں پر واجب ہے۔ اللہ کیساتھ شرک کرنا اور معبودانِ باطلہ کو کارساز سمجھنا اللہ کی سب سے بڑی ناشکری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
ربطہ آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا رد فرمایا اور ساتھ دونوں کا انجام بھی بیان کیا ۔ پھر اللہ نے اپنی صفت خلق کا ذکر کیا اور یہ بھی فرمایا کہ وہ جو چاہے پسند کرے سارا اختیار اسی کو ہے ، مخلوق میں سے کوئی بھی با اختیار ہستی نہیں ہے۔ فرمایا اللہ کی ذات بلندو برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ فرمایا خدا تعالیٰ ظاہر و باطن ہر چیز کو جانتا ہے ، وہ وحدہٗ لا شریک ہے ، دنیا آخرت میں اسی کی تعریف ہے اور سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
لیل و نہار کا نظام
آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں دو عقلی دلائل پیش کیے ہیں جو لیل و…
Read the full tafseer →وَمِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّہَارَ لِتَسْكُنُوْا فِيْہِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 73
رحم
والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
ترکیب : سرمدًا یجوزان یکون حالاً من اللیل وان یکون مفعولا ثانیاً لجعل والی یتعلق بسرمدًا من الہ الخ جواب ہے ان جعل اللہ کا۔
تفسیر : و ربک یخلق مایشاء سے مبدء میں گفتگو شروع ہوگئی تھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں اس لیے وھو اللہ لا الہ الا ھو سے اس کی تکمیل کی جاتی ہے گویا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے اور قرآن مجید کی عادت ہے کہ کبھی مبدء میں گفتگو کرتا ہے۔ کبھی معاد میں ‘ کبھی نبوات و شرائع میں اور یہی باتیں مقصود بالذات بھی تھیں۔ فرمایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا و آخرت میں اپنی نعمتوں کے سبب وہی ستائش کا مستحق ہے اور فرمانروائی اسی کے لیے ہے اور اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے اور کون ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
وَیَوْمَ یُنَادِیْہِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَکَآئِ یَ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ۔ وَنَزَعْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَھِیْدًا فَقُلْنَا ھَاتُوْا بُرْھَانَـکُمْ فَعَلِمُوْٓا اَنَّ الْحَقَّ لِلّٰہِ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ (القصص : 74، 75)
(اس دن کا خیال کرو جس دن وہ انھیں پکارے گا پھر پوچھے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے۔ اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکالیں گے اور لوگوں سے کہیں گے لائو اب اپنی دلیل، اس وقت تم پر واضح ہوجائے گا کہ حق اللہ کی طرف ہے اور گم ہوجائیں گے ان کے وہ سارے جھوٹ جو انھوں نے گھڑ رکھے تھے۔ )
ایک اور پہلو سے سوال
پہلی آیت بعینہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ صرف مخلوق کو پیدا کرنے والا ہی نہیں بلکہ پوری کائنات کا نظام بھی چلا رہا ہے۔ جس میں مشرکوں کے بنائے ہوئے شریکوں کا ذرا برابر بھی عمل دخل نہ تھا نہ ہے اور نہ ہوگا۔
کائنات کے نظام میں لیل و نہار کی گردش کا بڑا عمل دخل ہے۔ اگر رات اور دن کا سلسلہ نہ ہوتا یا اسے ختم کردیا جائے تو دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے یہ رنگینیاں، چہل پہل اور انسان کی ترقی لیل و نہار کے نظام کی وجہ سے ہے۔ دن کی اہمیت اور کی ضرورت واضح ہے، رات کو لیجیے۔ اگر رات اور اس کی نیند نہ ہوتی تو انسان کب تک کام کاج کرسکتا تھا۔ یہ رات ہی کا فائدہ ہے کہ آدمی دن کا تھکا ماندہ سوتا ہے۔ لیکن صبح اٹھتا…
Read the full tafseer →73: وَمِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ وَالنَّہَارَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فِضْلِہٖ (اور اللہ تعالیٰ کی اپنی رحمت سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات اور دن بنائے۔ تاکہ تم آرام پائو۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو تلاش کرو) تقدیر کلام اس طرح ہے : لتسکنوا فی اللیل ولتبتغوا من فضل اللّٰہ فی النہار۔ (تاکہ تم رات کو سکون کرو اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو دن میں تلاش کرو) ۔ پس یہ لف و نشر مرتب کی قسم میں سے ہوگا۔ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ (اور تاکہ تم اس کا شکریہ ادا کرو) ۔ اللہ تعالیٰ کا شکریہ اس کی نعمتوں پر۔
قولِ زجاج (رح) :
اس کا یہ معنی بھی درست ہے۔ لتسکنوا فیہما و لتبتغوا من…
Read the full tafseer →73۔ ومن رحمتہ، جعل الکم الیل والنھار لتسکنوافیہ، رات میں ، ولتبتغوا من فضلہ، اور دن میں اپنافضل تلاش کرو، ولعلکم تشکرون، ،،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–74
64 تا 73۔ اوپر کی آیتوں میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے قریش کو طرح طرح کی فہمائش کی ہے اسی طرح کی فہمایش ان آیتوں میں ہے حاصل اس فہمایش کا یہ ہے کہ اللہ کی عبادت چھوڑ کر جو یہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں ان کو اتنی سمجھ نہیں کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی ہزارہا نعمتوں میں سے مثلا ایک دن رات ہے ایک رات اگر اللہ کے حکم سے آفتاب نہ نکلے اور زمین کے اندر روکا ہی رہ جاوے یا جس طرح ہر روز شام کو اللہ کے حکم سے سورج غروب ہوتا ہے اسی طرح ایک رات کو غروب نہ ہو اور بجائے رات کے دن اور بجائے دن کے رات ہوجاوے اور ان لوگوں کے دن اور رات کے عادتی اور مقررہ کاموں میں ہرج پڑجاوے تو بھلا ان کے بتوں میں قدرت ہے کہ ان کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
آیت 73
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر احسان ہے۔ وہ ان کو اس احسان پر شکر ادا کرنے، اس کی عبودیت اور حق کو قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ بیشک اس نے اپنی بےپایاں رحمت کی وجہ سے ان کے لئے دن بنایا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کریں اور دن کی روشنی میں اپنے رزق اور معیشت کی طلب میں زمین میں پھیل جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے رات پیدا کی تاکہ وہ اس میں سکون پائیں ان کے بدن، دن بھر کی تگ و دو کے بعد آرام کرکے تھکاوٹ کو دور کریں۔ یہ بندوں پر اس کا فضل و کرم اور اس کی رحمت ہے۔۔۔ کیا مخلوق میں سے کوئی ایسی ہستی ہے جو ایسا کرنے پر قادر ہو ؟ (ان جعل اللہ علیکم الیل سرھدا الی یوم القیمۃ من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
100 سلسلہ روز و شب میں عظیم الشان دلائل قدرت : سو رات اور دن کے یہ دونوں سلسلے اس کی قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت کے دو عظیم الشان نشان ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے اپنی رحمت و عنایت سے تمہارے لیے رات بھی بنا لی اور دن بھی۔ تو کیا جس ذات اقدس و اعلیٰ نے تمہارے جسمانی آرام و سکون کا اس قدر انتظام فرمایا ہے کیا اس نے تمہارے لئے دوزخ کی آگ سے بچاؤ کا کوئی انتظام نہیں فرمایا ہوگا ؟ ضرور اور بالضرور فرمایا ہے۔ اور اسی لئے اس نے تمہیں دین حق کی اس نعمت عظمی سے نوازا ہے تاکہ اس کی روشنی میں تم لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہو سکو۔ پس تم پر لازم ہے اے لوگو کہ تم لوگ دل و جان سے اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–75
اللہ کی برتری کی نشانیاں
تشریح : یہ تمام باتیں اللہ کی نشانیاں ‘ اس کی رحمتیں ‘ برکتیں اور فضل و کرم جو اس نے انسانوں کی سہولیات کے لیے پیدا کر رکھا ہے۔ عقل مند ‘ سوجھ بوجھ رکھنے والے اور نیک فطرت لوگوں کے لیے اللہ کی راہ اختیار کرنے اس کو معبود برحق ماننے کے لیے بہت کافی ہے۔ پھر راہبری اور ہدایت کے لیے ہر امت میں سے رسول ‘ نبی اور پیغمبر بھیجے گئے۔ صرف اس لیے کہ لوگوں کی راہبری کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–75
آیات 61 تا 75
اسرارو معارف
اور بھلا جس شخص کو بہت حسین وعدہ دیا اگیا ہو یعنی آخرت کی کامیابی کا اور وہ اسے پانے والا بھی ہو اس کی برابری وہ شخص تو نہیں کرسکتا جس کے پاس چند روز مال و دولت دنیا تو ہو مگر قیامت کے روز اسے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہو وہ ایسا دن ہوگا کہ جب ان کفار و مشرکین پر سوال ہوگا کہ جن لوگوں کو تم نے میرا شریک مان رکھا تھا وہ کہاں ہیں تو وہ لوگ جو یہاں دنیا میں ان کے پیشوا بنے ہوئے ہیں اپنے اوپر جرم ثابت ہوچکنے کے بعد یہ عذر کریں گے کہ اے اللہ خود گمراہ تھے لہذا انہیں بھی وہی کچھ بتایا جس پر خود عمل کرتے تھے لیکن انہوں نے ہماری بات اپنے اختیار سے مانی ہم نے ان پر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
4 ۔” یعنی اسی نے اسباب و وسائل معیشت مہیا کئے تاکہ اس کی نعمتوں کا شکر بجا لائو “… معلوم ہوا کہ فطری طریق یہی ہے کہ انسان دن کو کام کرے اور رات کو آرام اور عموماً ہوتا بھی ایسا ہی ہے پھر دونوں وقت دونوں کام ہوتے ہیں۔ (کذا فی الموضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
(28:72) تسکنون۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ سکون (نصر) مصدر۔ تم چین پاسکو۔ تم سکون پاسکو۔
لتبتغوا۔ لام تعلیل کی ہے تبتغوا جمع مذکر حاضر۔ لام کی وجہ سے نون اعرابی ساقط ہوگیا ہے تاکہ تم تلاش کرسکو۔ تاکہ تم تلاش کرو۔ تاکہ تم ڈھونڈھو۔
الیل والنھار اور لتسکنوا ولتبتغوا میں لف و نشر مرتب ہے۔ (علم بیان کی اصطلاح میں وہ صفت جس میں اول چند چیزوں کا ذکر کریں پھر چند اور چیزیں بیان کریں جو پہلی چیزوں سے نسبت رکھتی ہوں مگر اس طرح کہ ہر ایک کی نسبت اپنے منسوب الیہ سے مل جائے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
لغات القرآن آیت نمبر (68 تا 75 )
یختار (وہ پسند کرتا ہے۔ منتخب کرتا ہے) ۔ الخیرۃ (اختیار ۔ پسند ) ۔ تکن (چھپتا ہے) ۔ سرمد (ہمیشہ ) ۔ ضیاء (روشنی۔ چمک ) ۔ تسکنون (تم سکون حاصل کرتے ہو) ۔ تبتغوا (تم تلاش کرتے ہو) ۔ نزعنا (ہم نے کھینچ لیا۔ نکال لیا) ۔ ھاتوا (لے آئو۔ (تم آئو) ۔ برھان (دلیل۔ پسند) ۔ ضل (بھٹک گیا۔ گم ہوگیا) ۔ یفترون (وہ گھڑتے ہیں۔ بناتے ہیں ) ۔
تشریح : آیت نمبر (68 تا 75 ) ۔ ” نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ہر شخص کو بتایا جارہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اس کائنات میں ساری قدرت، طاقت، ہر چیز کی خوبی اور عبادت و بندگی صرف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنا پیغام پہنچانے کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–74
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان کو اپنے سامنے کھڑا کرکے ان سے پوچھے گا کہ بتلاؤ تم لوگوں نے اللہ کے رسولوں کی فرمانبرداری کی تو ان کے ہوش اڑجائیں گے اور ان کو جواب تک نہ آئے گا یہ توحید اور اطاعت رسول کا سوال گویا آخری سوال ہے ۔ جو میدان قیامت میں خاص اللہ تعالیٰ کے روبرو ہوگا اور یوں تو توحید اور اطاعت رسول کی پرسش آدمی کو قبر میں دفناتے ہی شروع ہوجاتی ہے چناچہ دفنانے والے لوگ ابھی قبرستان سے پلٹ کر بھی نہیں آتے کہ منکرنکیر یہ دوفرشتے مردہ کے پاس آن کر اس سے توحید اور اطاعت رسول کا سوال کرتے ہیں ۔ جو شخص توحید اور اطاعت رسول پر ثابت قدم دنیا سے اٹھا ہے وہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
[42] یعنی کسب معاش کرو۔ روزی کمانے کے دھندے کو رحمت الٰہی کے تحت لانا صاف اس امر پر دلیل ہے کہ معاشی مشاغل اسلام میں فضیلت کا درجہ رکھتے ہیں۔ حقیرو ذلیل نہیں، معزز و مکرم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
ایک واضح حقیقت
1: یہ بالکل سادہ اور واضح حقیقت ہے ۔ کہ تمام اختیارات اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ۔ مگر اتنی سی بات بھی مشرکوں کے دماغ میں نہیں آتی ۔ اور وہ اس کے سوا دوسروں کو اپنا معبود بنالیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کائنأت کا نظم ونسق ان کے ہاتھ میں ہے ارشاد ہے کہ کیا تم نے کبھی اپنے معبودوں کی قوتوں کا جائزہ بھی لینے کی کوشش کی ! کیا کبھی تم نے سوچا ہے کہ وہ کن اختیارات کے مالک ہیں ؟ اور کیا ان کی بےچارگی اور عجز پر بھی تم نے نظر کی ، بتاؤ کہ اگر آفتاب اور ماہتاب کا پیدا کرنے والا خدا ان کو روک لے اور آفات کو غروب نہ ہونے دے ۔ تو پھر یہ تمہارے خدا اور تمہارے مزعومہ معبود کیا تمہارے لئے پر…
Read the full tafseer →73۔ اور اس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن کو بنایا تاکہ رات میں راحت و آرام حاصل کرو اور دن میں اس کا فضل یعنی روزی تلاش کرو اور تا کہ تم اس کا شکر بجا لائو ۔ یعنی تمہارے لئے رات اور دن کا مقرر کرنا یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے تا کہ دن میں روزی تلاش کرو اور کمائو اور کما کر معاش حاصل کرو اور رات میں آرام حاصل کرو اور ان دونوں سے حسب ضرورت فائدہ حاصل کرکے خالق لیل و نہار کا شکر بجا لائو ، یہ اس کا اپنی رحمت میں منفرد ہونا ، غرض خالق ہونا مختار ہونا ، کمال علم کا مالک ہونا ، کمال قوت اور کمال سلطنت کا مالک ہونا وسیع القدرت اور اس کی رحمت کا عام ہونا ، یہ سب اس کی الوہیت اور اس…
Read the full tafseer →ف 3۔ کل صفات کمال جو اس مقام پر استدلال کے لئے مذکور ہیں یہ ہوئے۔ (1) خالق ہونا (2) مختار تشریع ہونا (3) علم (4) حکومت (5) قوت و وسعت سلطنت (6) قدرت کا اضافہ نعمت۔
Read the full tafseer →اللہ کی خاص رحمت ہے کہ وہ دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن کو لاتا ہے :
73۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے جو تمہارے لئے اس طرح کا نظا بنا دیا ہے کہ ہر رات کے بعد دن اور ہر دن کے بعد رات رکھ دی ہے تو یہ بلاشبہ اس کا بہت بڑا فضل اور رحمت ہے ورنہ نہ تو آپ کی طرف سے کوئی اس طرح کا تقاضا تھا اور نہ ہی آپ کی طرف کوئی حق تھا جس کے عوض میں اس کا ایسا کرنا لازم وضروری ٹھہرا ہو ۔
بلکہ اس نے خود بخود اس طرح کا نظام تشکیل دیا ہے لیکن اب وہ تمہاری زندگی میں اس طرح راسخ ہے کہ اگر ان دونوں میں سے ایک نہ ہو جاتو گویا تمہارے لئے جینا دوبھر ہوجائے۔ اس نے رات بنائی ہے تمہارے آرام کے لئے اور دن بنایا ہے تو تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–74
Commentary
A question that will be asked from the infidels on the Day of Judgment to repeat what they had replied to the prophets on their invitation to truth was mentioned in an earlier verse. Now in this verse it is stated that the prophets would testify about the reply that was given by the infidels.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
92 A witness": the Prophet who had warned that community, or a rightly-guided person from among the followers of the Prophets, who had performed the duty of preaching the Truth in the community, or a means through which the message of the Truth had reached the community .
93 That is, "Present a cogent argument in your defence so that you are pardoned. You should either prove that the shirk and the denial of the Hereafter and Prophethood in which you persisted were the correct creed and you had adopted it on rational grounds, or, if you cannot do that, you should at least prove that no…
Read the full tafseer →