Explained with ayahs 85–88
جو کروگے سو بھروگے
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم فرماتا ہے کہ رسالت کی تبلیغ کرتے رہیں لوگوں کو کلام اللہ سناتے رہیں اللہ تعالیٰ آپ کو قیامت کی طرف واپس لے جانے والا ہے اور وہاں نبوت کی بابت پرستش ہوگی۔ جیسے فرمان ہے۔ آیت (فَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الَّذِيْنَ اُرْسِلَ اِلَيْهِمْ وَلَنَسْــــَٔـلَنَّ الْمُرْسَلِيْنَ ۙ) 7۔ الاعراف :6) یعنی امتوں سے اور رسولوں سے سب سے ہم دریافت فرمائیں گے۔ اور آیت میں ہے رسولوں کو جمع کرکے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا ؟ اور آیت میں ہے نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا۔ معاد سے مراد جنت بھی ہوسکتی ہے موت بھی ہوسکتی ہے۔ دوبارہ کی زندگی بھی ہوسکتی ہے…
Read the full tafseer →سورة القصص 112
یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ فرمانروائی اسی کے لیے ہے، یعنی اس کا حق رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ ، اس آیت میں وجھہ سے مراد ذات حق سبحانہ و تعالیٰ ہے اور معنے یہ ہیں ذات حق سبحانہ و تعالیٰ کے سوا ہر چیز ہلاک و فنا ہونے والی ہے اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ وجہہ سے مراد وہ عمل ہے جو خالص اللہ کے لئے کیا جائے، تو مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ جو عمل اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص کے ساتھ کیا جائے وہ ہی باقی رہنے والا ہے باقی سب فانی ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
الحمد للہ سورة قصص آج 9 ذیقعدہ 1391 ھ کو ایسے حالات میں تمام ہوئی کہ پاکستان پر ہندوستان اور دوسری بڑی طاقتوں کے گٹھ جوڑ سے شدید حملہ ہوا اور چودہ روز کراچی پر روزانہ بمباری ہوتی رہی، شہری آبادی کو جا…
Read the full tafseer →مداہنت کے ہر امکان کا سدباب
یہ آخر میں اسی بات کی مزید وضاحت فرما دی کہ مداہنت کے ہر امکان کا سدباب ہوجائے۔ فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارو، معبود صرف ویہ ہے اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں۔ اس کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے۔ فیصلہ کا تمام اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے اور قیامت کے دن سب کی واپسی اسی کی طرف ہوئی ہے۔ کوئی اور مولیٰ و مرجع نہیں ہے۔
بتوفیق ایزدی آج بروز جمعتہ المبارک 10 بجے دن اس سورة کی تفسیر اختتام کو پہنچی۔ فالحمد للہ علی ذلک
Read the full tafseer →88-1یعنی کسی اور کی عبادت نہ کرنا، نہ دعا کے ذریعے سے، نہ نذر نیاز کے ذریعے، نہ ہی قربانی کے ذریعے سے کہ یہ سب عبادات ہیں جو صرف ایک اللہ کے لئے خاص ہیں۔ قرآن میں ہر جگہ غیر اللہ کی عبادت کو پکارنے سے تعبیر کیا گیا ہے، جس سے مقصود اسی نکتے کی وضاحت ہے کہ غیر اللہ
کو ما فوق الا سباب طریقے سے پکارنا، ان سے استغاثہ کرنا، ان سے دعائیں اور التجائیں کرنا یہ ان کی عبادت ہی ہے جس سے انسان مشرک بن جاتا ہے۔
88-2وجھہ (اس کا منہ) سے مراد اللہ کی ذات ہے جو وجہ (چہرہ) سے متصف ہے۔ یعنی اللہ کے سوا ہر چیز ہلاک اور فنا ہوجانے والی ہے۔
88-3یعنی اسی کا فیصلہ، جو وہ چاہے، نافذ ہوتا ہے اور اسی کا حکم، جس کا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
49: قرآن کریم میں اصل لفظ“ معاد ”استعمال ہوا ہے، بعض مفسرین کے نزدیک یہ“ عادت ”سے نکلا ہے، یعنی وہ جگہ جس میں رہنے اور آنے جانے کا انسان عادی اور اس سے مانوس ہو، اور بعض مفسرین نے اس کے معنی“ لوٹنے کی جگہ ”بیان کئے ہیں، دونوں صورتوں میں اس سے مکہ مکرمہ مراد ہے، اور یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب حضور نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے جارہے تھے، جب جحفہ کے قریب اس جگہ پہنچے جہاں سے مکہ مکرمہ کا راستہ الگ ہوجاتا تھا، تو آپ کو اپنے وطن سے جدائی کا احساس ہوا، اس موقع پر اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تسلی دی، اور وعدہ فرمایا کہ آپ کو دوبارہ اس سرزمین میں فاتح کی حیثیت سے لایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
وما کنت ترجوا ۔۔۔۔۔ من ربک
یہ اس مسئلہ پر ایک فیصلہ کن بات ہے کہ رسالت سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو کوئی امید نہ تھی کہ آپ رسول ﷺ بھی ہوسکتے ہیں۔ پس یہ اللہ کا اچانک انتخاب تھا۔ اور اللہ جو چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، منتخب کرتا ہے۔ یہ اس قدر بلند منصب ہے کہ اس کے لیے کوئی انسان قبل از وقت توقع بھی نہیں کرسکتا ، سوچ بھی نہیں سکتا کہ اللہ اسے اس منصب کے لیے چن لے گا یا اللہ اسے اس کے اہل بنا دے گا۔ یہ اللہ کا محض رحم و کرم ہوتا ہے۔ کسی شخص پر یا کسی قوم پر کہ ان میں سے کسی کو اللہ چن لیتا ہے اور یہ انتخاب ان کا ہوتا ہے جو اللہ کے اونچے بندے ہوں ، ان کا انتخاب نہیں ہوتا جو اس منصب کے…
Read the full tafseer →4 یہ آپ ﷺ کو خطاب کر کے دوسروں کو سنایا۔ اوپر کی آیتوں میں بھی بعض مفسرین ایسا ہی لکھتے ہیں۔
5 یعنی ہر چیز اپنی ذات سے معدوم ہے اور تقریباً تمام چیزوں کو فنا ہونا ہے، خواہ کبھی ہو۔ مگر اس کا منہ یعنی وہ آپ نہ کبھی معدوم تھا، نہ کبھی فنا ہوسکتا ہے۔ سچ ہے۔ " اَلاَ کُلُّ شَیْ ءٍ مَاخَلا اللّٰہَ بَاطِلٌ۔ " قال تعالیٰ (كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ 26ښ وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ 27ۚ ) 55 ۔ الرحمن :27-26) (اور بعض سلف نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ سارے کام مٹ جانے والے اور فنا ہوجانے والے ہیں بجز اس کام کے جو خالصۃً بوجہ اللہ کیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
6 یعنی سب کو اس کی…
Read the full tafseer →آیت 88 وَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ 7 لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَقف ”
جیسے کہ پہلے بھی کئی بار اس نکتے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اس نوعیت کے احکام میں اگرچہ صیغہ واحد میں خطاب بظاہر حضور ﷺ سے ہوتا ہے لیکن حقیقت میں آپ ﷺ کی وساطت سے تمام امت مخاطب ہوتی ہے۔
کُلُّ شَیْءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہٗ ط ”
کیا اللہ کا چہرہ بھی ہے ؟ اور اگر اس کے چہرے کو فنا نہیں ہے تو کیا اس کے کوئی اور اعضاء بھی ہیں جن کو فنا ہے ؟ معاذ اللہ ‘ ثم معاذ اللہ !
یہ بہت اہم اور حساسّ مسئلہ ہے جس کے بارے میں پہلے بھی کئی بار بتایا جا چکا ہے۔ یہاں پھر ذہن نشین کرلیجیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ‘ عالم برزخ ‘ عالم غیب اور…
Read the full tafseer →121 یہ وہ جملہ ہے کہ دعوت اسلام کا خلاصہ ہے۔ قرآن کریم کی اکثر سورتوں کا آغاز بھی شرک کی تردید اور توحید کی دعوت سے ہوتا ہے اور اختتام یعنی ایسی ہی آیات پر ہوتا ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا سب سے اہم موضوع یہی ہے۔
122 جو چیز بھی مخلوق ہے وہ ضرور فنا ہونے والی ہے یہ فنا کب ہوگی۔ قیامت کو یہ اس سے بھی مدتوں بعد ؟ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے جس طرح اللہ خود مخلوق نہیں بلکہ ہر چیز کا خالق ہے اسی طرح اللہ کی صفات بھی مخلوق نہیں جیسے لوح محفوظ اور قلم جو کہ اللہ کی صفت علم سے تعلق رکھتی ہیں۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا آٹھ چیزیں ایسی ہیں جو قیامت کو بھی فنا نہ ہوں گی۔ اللہ کا عرش اور…
Read the full tafseer →116۔ اس میں رد آگیا ان ساری مشرک قوموں کا جنہوں نے صانع مطلق کے ساتھ ساتھ روح یا مادہ یا کسی اور چیز کو بھی ازلی وابدی تسلیم کیا ہے۔ وحدۃ الوجود کے ماننے والوں نے اس آیت سے اپنے عقیدہ پر بھی استدلال کیا ہے ان کی تقریریہ ہے کہ آیت میں (آیت) ” ھالک بصیغہ اسم فاعل ہے، نہ کہ یھلک بصیغہ مضارع وبمعنی مستقبل، گویا مراد یہ نہیں کہ عملی فنا آیندہ کسی زمانہ میں طاری ہوگا۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ عملی فنا ہر موجود پر مستقلا طاری ہوتا ہی رہتا ہے۔ اور اس کا تحقق اسی صورت میں ممکن ہے جب ہالک کا کا لہا لک اور معدوم کو کالمعدوم کے معنی میں لیا جائے اور مراد یہ سمجھی جائے کہ موجودات کا وجود ذاتی نہ ہونے کے سبب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
آیت نمبر 83 تا 88
ترجمہ : یہ دار آخرت یعنی جنت ہم انہیں لوگوں کے لئے خاص کرتے ہیں جو دنیا میں نہ ظلم کے ذریعہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ نافرمانی کرکے فساد کرتے ہیں اور بہتر انجام فرما نبرداری کرکے اللہ کے عذاب سے ڈرنے والوں کے لئے ہے جو شخص نیکی لیکر آئے گا اس کو اس سے بہتر ملے گا ان کو نیکیوں کا اجر ملے گا اور وہ ان نیکیوں کا دس گنا ہوگا اور جو شخص بدی لیکر آئے گا سو ایسے لوگوں کو جو بدی کا کام کرتے ہیں اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا وہ کرتے تھے جس خدا نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے وہ آپ کو دوبارہ پہلی جگہ لوٹانے والا ہے یعنی مکہ (کی طرف) اور آپ نے مکہ کے لئے اشتیاق ظاہر فرمایا تھا، آپ کہہ دیجئے کہ…
Read the full tafseer →ولا تدع مع اللہ الھا اخر . اور اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو آپ نہ پکاریں۔ یہ اور اس سے اوپر والی آیات میں
حکم دیا ہے کہ کافروں کی امیدوں کو بالکل قطع کر دو ۔ وہ کوئی امید اس بات کی نہ کریں کہ آپ ان کی مدد کریں گے۔
لا الہ الا ھو . کیونکہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہ کلام سابق کی علت ہے۔
کل شیء ھالک الاوجھہ . اس کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاکت پذیر ہے کیونکہ اللہ کے سوا ہر چیز ممکن ہے اور
ممکن وہی ہوتا ہے جو فی نفسہ معدوم الوجود ہوتا ہے (اس کا کوئی وجود ذات نہیں ہوتا) ہر چیز کا وجود ایک عاریت ہے ‘ اللہ نے بطور عاریت عطا فرما دیا ہے۔
بعض نے کُلُّ شَیْءٍ ھَالِکٌ کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ جس عمل کا…
Read the full tafseer →(88) اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی معبود کی عبادت نہ کرنا اور نہ مخلوق کو غیرہ اللہ کی طرف بلانا، اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں سوائے اس کی ذات کے سب چیزیں فانی ہیں یعنی جو کام بھی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے نہ کیا جائے وہ ناپاک ہے اسی طرح اس کی بادشاہت اور سلطنت کے علاوہ اور تمام سلطنتیں فانی ہیں وہی مخلوق کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور مرنے کے بعد سب کو اسی کے سامنے پیش ہونا ہے وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →وَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰــهًا اٰخَرَ : یہ پانچواں حکم ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکار۔ یہ پانچوں حکم ہر انسان کے لیے ہیں، مگر آپ کو مخاطب کرنے سے ایک تو آپ کے لیے ان احکام کی تاکید مراد ہے اور ایک یہ کہ سنایا آپ کو جا رہا ہے مگر خبردار دوسرے تمام لوگوں کو کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ تو ان احکام پر عمل کر ہی رہے تھے اور اللہ تعالیٰ کے آپ کو رسالت کے لیے چن لینے کے بعد آپ سے شرک کا امکان ہی نہیں تھا، جیسا کہ دوسری جگہ یہی بات بہت سخت لہجے میں کہی گئی ہے : (قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْۗنِّىْٓ اَعْبُدُ اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَ وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
ان الذی فرض۔۔۔۔۔
سورت کا اختتام اپنے نبی کو بشارت دیتے ہوئے کیا کہ وہ حضرت محمد ﷺ کو مکہ مکرمہ کی طرف اپنے دشمنوں پر غلبہ دیتے ہوئے لوٹائے گا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آپ کو جنت کی بشارت ہے : پہلا قول اکثر علماء کا ہے، یہ حضرت جابر بن عبداللہ حضرت ابن عباس، مجاہد وغیرہم کا قول ہے (1) ۔ قتیی نے کہا : معاد الرجل سے مراد اس کا ملک و شہر ہے کیونکہ وہ وہاں سے جاتا ہے پھر واپس لوٹ آتا ہے۔ مقاتل نے کہا : نبی کریم ﷺ تلاٹ کے خوف سے غیر معروف راستہ سے غار ثور سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلے۔ جب راستے تک پہنچے اور حجفہ میں فروکش ہوئے تو مکہ مکرمہ کی طرف جانے والے راستہ سے آگاہ ہوئے تو مکہ…
Read the full tafseer →1۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت کل من علیہا فان (الرحمن آیت 26) نازل ہوئی تو فرشتوں نے کہا زمین والے ہلاک ہوگئے جب یہ آیت کل نفس ذائقۃ الموت (آل عمران 185) نازل ہوئی تو فرشتوں نے کہا ہر جاندار ہلاک ہوگیا۔ جب یہ آیت کل شیء ہالک الا وجہہ نازل ہوئی تو فرشتوں نے کہا ا آمان والے اور زمین والے سب ہلاک ہوگئے۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت کل نفس ذائقۃ الموت (آل عمران آیت 188) نازل ہوئی تو پوچھا گیا یارسول اللہ فرشتوں کا کیا حال ہوگا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت کل شیء ہالک الا وجہہ تو اس آیت میں فرشتوں اور جن اور انسان اور باقی عالم کے ہلاک ہونے کو واضح…
Read the full tafseer →وَلَا تَدْعُ [اور آپ ﷺ مت پکاریں ] مَعَ اللّٰهِ [اللہ کے ساتھ ] اِلٰــهًا اٰخَرَ ۘ [کسی دوسرے الہ کو ] لَآ اِلٰهَ [کوئی الہ نہیں ہے ] اِلَّا هُوَ ۣ [مگر وہ ہی ] كُلُّ شَيْءٍ [ہر چیز ] هَالِكٌ [ہلاک ہونے والی ] اِلَّا وَجْهَهٗ ۭ [سوائے اس کے چہرے (یعنی ذات) کے ] لَهُ [اس کے لئے ہی ہے ] الْحُكْمُ [حکم دینا ] وَاِلَيْهِ [اور اس کی طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ [تم لوگ لوٹائے جاؤ گے ] ۔
Read the full tafseer →(وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ ) (اور آپ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریے) اس میں اہل ایمان کو واپس شرک میں چلے جانے کی ممانعت ہے گو بظاہر خطاب آپ کو ہے ﷺ (روح المعانی ص 130 ج 20) (لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ) (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) (کُلُّ شَیْءٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْھَہٗ ) (ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے) (لَہُ الْحُکْمُ وَ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ) (اسی کے لیے حکومت ہے اور اسی کے پاس تم سب کو جانا ہے) ۔
و قدتم والحمد للّٰہ تفسیر سورة القصص فی لیلۃ السابع والعشرین من شھر ربیع الثانی 1416 ھ من ھجرۃ سید المرسلین و اکرام الاکرمین ﷺ فی الاولین والآخرین و علی الہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
خاتمہء سورت بربشارت وہدایت ونصیحت دربارہ تبلیغ ودعوت
ذکر فناء عالم وتذکیر آخرت
قال اللہ تعالیٰ ان الذی فرض علیک القران لوادک الی معاد۔۔۔ الی۔۔۔ لہ الحکم والیہ ترجعون۔
(ربط) یہ سورت کا خاتمہ ہے جس کو ایک بشارت پر اور چند نصائح اور ہدایات پر ختم کیا جا رہا ہے آنحضرت ﷺ نے جب مکہ سے ہجرت فرمائی تو آپ ﷺ رنجیدہ اور غمگین تھے تو آپ ﷺ کی تسلی اور بشارت کے لئے یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ ﷺ عنقریب پھر مکہ واپس آئیں گے اور آپ کا یہ دوبارہ آنا فاتحانہ اور حاکمانہ ہوگا۔ بعد ازاں آپ کو ایک دوسری تسلی دیتے ہیں کہ یہ نبوت اور رسالت اور نزول قرآن سب اللہ کی رحمت ہے جو آپ کو بلا کسی امیدوار بلا کسی توقع کے عطا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
84:۔ یہ امر ششم ہے جو وھو اللہ لا الہ الا ھو الخ، پر متفرع ہے یہی وہ دعوت ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کی قوم کے سامنے پیش کی اور جس کی خاطر عمر بھر مصائب اٹھائے۔ یہ تمام سورت کے بیان کا ثمرہ و نتیجہ ہے۔ یہ خطاب بدستور امت سے ہے۔ سورت میں بیان کردہ دلائل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ خالق ومالک، متصرف و مختار اور عالم الغیب صرف اللہ ہی ہے۔ نفع نقصان اور منع وعطاء اسی کے اختیار میں ہے لہذا اللہ کے سوا کسی کو کارساز نہ سمجھو، مصائب و مشکلات اور حاجات و بلیات میں غائبانہ صرف اسی کو پکارو۔ لا تتخذ غیرہ وکیلا علی امورک کلہا ولا تعتمد علی غیرہ (خازن ج 5 ص 155) ۔ ویجوز ان یکون المعنی لا تعمتد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
ربط آیات
سورۃ القصص میں بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت و صداقت کے علاوہ بہت سی نصیحت کی باتیں بھی بیان کی گئی ہیں ۔ اس میں کفر کی مذمت اور غرور وتکبر کی قباحت ذکر ہوتی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ بلا شبہ مشرکین آپ کی طرح طرح کی اذیتیں پہنچاتے ہیں مگر آپ موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ انہیں زندگی بھر کن کن مشکل حالات سے گزرنا پڑا ۔ ان کا واسطہ بھی بڑے سرکش اور متکبر لوگوں کے ساتھ تھا ، آپ کے مخالفین بھی بڑے نا ہنجار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مغروروں میں فرعون اور ہامان تھا۔ جب کہ حاسدوں میں قارون تھا اسی طرح آپ کے بھی بڑی بڑے…
Read the full tafseer →وَلَا تَدْعُ مَعَ اللہِ اِلٰــہًا اٰخَرَ 0ۘ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ 0ۣ كُلُّ شَيْءٍ ہَالِكٌ اِلَّا وَجْہَہٗ 0ۭ لَہُ الْحُكْمُ وَاِلَيْہِ تُرْجَعُوْنَ 88ۧ
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
ترکیب : تلک مبتداء والدار لغت و نجعلہا خبر من موضع نصب میں ہے۔ اعلم سے ومن یہ معطوف ہے، من اول پر۔ الا رحمۃ ای ولکن القی رحمۃ الاوجہہ استثناء من الجنس ای الا ایاہ۔
تفسیر : قارون کی بربادی کا حال بیان فرما کر اور یہ بات ثابت کرکے کہ دار آخرت کی نعماء باقی اور بہتر ہیں۔ یہ بات بتلاتا ہے کہ اس دار آخرت کا کون مستحق ہے اور کن کن باتوں سے حاصل ہوتا ہے۔ فقال تلک الدار الآخرۃ نجعلہا للذین لا یریدون علوًا فی الارض ولا فسادًا کہ یہ دار آخرت ہم اس کو دیں گے کہ جو دنیا میں سرکشی اور فساد کرنے کا قصد بھی نہ کرے گا۔ علو گردن کشی ‘ تکبر ‘ اس کی ضد اسلام گردن نہادن یعنی جو اللہ اور اس کے رسول کے آگے گردن…
Read the full tafseer →وَلاَ تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَ م لَآاِلٰہَ اِلاَّھُوَ قف کُلُّ شَیْ ئٍ ھَالِکٌ اِلاَّ وَجْھَہٗ ط لَـہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (القصص : 88)
(اور اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارو، کوئی معبود نہیں بجز اس کے، اس کی ذات کے سوا ہر چیز فانی ہے، اسی کی حکمرانی ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ )
آنحضرت ﷺ کی دعوت توحید کا نچوڑ
سابقہ مضمون کا تسلسل جاری ہے، اس آیت تک پہنچتے پہنچتے اس کی لو اور تیز ہوگئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے وقت شرک نے ایسی وسعت اور متنوع صورت اختیار کرلی تھی کہ جس کا ازالہ آسان نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کا وہ گھر جسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو مزید ہدایات :
اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور نبی آخر الزمان ﷺ کی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔ اے نبی ﷺ ! آپ سے پہلے جتنے پیغمبر مبعوث کیے گئے ہم نے ان کی طرف یہی پیغام بھیجا کہ وہ لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی حاجت روا اور مشکل کشا ہے۔ اس لیے اس کا حکم ہے کہ اسی کی عبادت کی جائے۔ (الانبیاء : 25) نبی آخر الزماں ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے بھی یہی ارشاد فرمایا کہ آپ لوگوں میں اس بات کا اعلان فرمائیں کہ میں بنی نوع انسان کے لیے اللہ کا رسول ہوں۔ مجھے اس ذات نے اپنا رسول منتخب فرمایا ہے جو…
Read the full tafseer →88 : وَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ (اور اللہ کے ساتھ کسی معبود کو مت پکارئیے) ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ خطاب بظاہر حضور ﷺ کو ہے اور مراد اس سے ہر وہ شخص ہے جس نے آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کو اختیار کرلیا ہے نیز گناہوں سے معصوم ہونا اس کا متقاضی نہیں کہ گناہوں سے روکا نہ جائے اور لفظ اخر پر وقف ضروری ہے کیونکہ ملا کر پڑھنے کی صورت میں لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَکا جملہ انما ٰخر کی صفت بن جائے گا جس کا فاسد ہونا ظاہر ہے۔
کُلُّ شَیْئٍ ہَالِکٌ اِلاَّ وَجْہَہٗ (اور اس کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاکت پذیر ہے) ۔ وجہ سے اس کی ذات مراد ہے۔ وجہ سے تعبیر کی گئی ہے۔
قولِ مجاہد۔ :
الاوجہہ سے مراد علماء…
Read the full tafseer →88۔ ولاتدع مع اللہ الھا اخر، ،، صرف وہی ذات مبارکہ ہے بعض نے کہا کہ سب کی بادشاہت ختم ہوجائے گی مگر اللہ کی بادشاہت ختم نہیں ہوگی، ابوالعالیہ کا قول ہے کہ مگر وہ شخص جو اللہ کی رضامندی چاہے۔ لہ الحکم، اسی کا حکم ہے اور اسی کی فیصلہ ہے۔ والیہ ترجعون، ، تم لوگ آخرت کی طرف لوٹائے جاؤ گے وہی تم کو تمہارے اعمال کی سزا اور جزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
85 تا 88۔ صحیح بخاری اور نسائی میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے جس میں انہوں نے فرمایا معاد سے مقصود مکہ معظمہ ہے جس کا حاصل فتح مکہ کی خوشخبری ہے۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن عباس کا دوسرا قول ہے۔ جس میں انہوں نے معاد کی تفسیر قیامت کی فرمائی ہے حقیقت میں دونوں تفسیریں صحیح ہیں کیوں کہ پہلی تفسیر کا ظہور تو فتح مکہ کے وقت ہوچکا دوسری تفسیر کا حاصل یہ ہے۔ کہ قرآن کی نصیحت سن کر راہ راست پر آنے والوں کا اور گمراہی پر جمنے والوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے۔ اے رسول اللہ کے تم اپنا کام کیے جاؤ۔ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان گمراہی پر جمے رہنے والوں سے ماذا اجبتم المرسلین کا سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
آیت 85
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (ان الذی فرض علیک القراٰن) ” جس (اللہ) نے تم پر قرآن (کے احکام) کو فرض کیا ہے۔ “ یعنی جس ہستی نے آپ پر قرآن نازل کیا ‘ اس میں احکام فرض کئے ‘ اس میں حلال اور حرام کو واضح کیا ہے۔ “ آپ کو اسے تمام لوگوں لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا ‘ نیز آپ کو حکم دیا کہ آپ تمام مکلفین کو ان احکام پر عمل کرنے کی دعوت دیں اس اللہ تعالیٰ کی حکمت کے لائق نہیں کہ صرف اسی دنیا کی زندگی ہوتی اور بندوں کو جزا و سزا نہ دی جاتی ‘ بلکہ ضروری ہے کہ وہ آپ کو (معاد) ” انجام کار “ کی طرف لوٹائے جہاں نیکو کاروں کو ان کی نیکی کی جزا دی جائے اور بدکاروں کو ان کے گناہوں کی سزا۔ آپ نے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →127 معبود برحق اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پکارنا نہیں اللہ کے ساتھ کسی بھی اور ۔ خودساختہ ۔ معبود کو " کہ اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کوئی بھی ہستی ایسی نہیں ہے جس کو اس طرح کا کوئی حق پہنچتا ہو کہ معبود برحق بہرحال وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور عبادت کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا حق اور اسی کے ساتھ مختص ہے۔ سو اس طرح شرک کی تردید کیلئے یہ مزید تاکید فرما دی گئی کہ اس کے سوا کسی بھی اور معبود کو نہیں پکارنا تاکہ اس طرح مداہنت کی ہر قسم کا سدِّ باب ہوجائے۔ مگر افسوس کہ اس قدر تاکید و تکرار کے باوجود غیر اللہ کے پکارنے کے اس ہولناک جرم کا ارتکاب آج تک کیا جا رہا ہے اور دھڑلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
نبوت اللہ کی عطا ہے کسی کی کمائی نہیں
تشریح : اصل میں یہ آیات پوری سورت کا خلاصہ بیان کر رہی ہیں۔ اور اس بات کی وضاحت بھی کر رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے قانون بہت پہلے سے بنائے ہوئے ہوتا ہے۔ انسان کو تو خبر بھی نہیں ہوتی کہ اس کے ساتھ اگلے لمحہ میں کیا ہونے والا ہے۔ مثلاً نبوت ملنے کا نہ تو دعا سے تعلق ہے اور نہ ہی کسی خاص اعلان کا تعلق ہے۔ جیسا کہ سیدنا محمد ﷺ اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا نبوت کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ البتہ نبوت کے لیے اللہ کا چنائو ایک خاص معیار سے ضرور ہوتا ہے وہ یہ کہ جس طرح سیدنا محمد ﷺ کی زندگی شروع سے ہی صداقت ‘ امانت ‘ دیانت ‘ راست بازی ‘ پاکبازی ‘ شرافت ‘ امن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
آیات 83 تا 88
اسرارومعارف
اور آخرت کا گھر تو ان لوگوں کے لیے بنایا گیا ہے جو دنیا میں اپنی بڑائی اور تکبر میں گرفتار نہیں ہوتے اور اللہ کی زمین پر فساد نہیں کرتے ۔
تکبر اور فساد :
یعنی تکبر یہ ہے کہ اپنی رائے کو سب سے حتی کہ احکام شریعہ سے بھی بالا سمجھے تو اس کا یقینی نتیجہ فساد ہے محض اچھے کپڑے پہننا یا اچھا گھر اور اچھی گاڑی اگر حلال ذرائع سے نصیب ہو اور دکھاوے کے لیے نہ ہو ضرورت کے لیے ہو تو یہ بھی شکر ادا کرنے کا ایک انداز ہے لیکن اگر ذاتی نمائش کے لیے ہو تو تکبر شمار ہوگا اور دونوں صورتوں میں نتائج الگ الگ برآمد ہوں گے اور حق یہ ہے کہ عاقبت و آخرت کی سرفرازی انہی لوگوں کے لیے ہے جو دنیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
3 ۔ یا ” حکومت اسی کے لئے ہے یعنی وہ اس کا حق رکھتا ہے۔ 4 ۔ پھر وہی ہر ایک کو اس کے نیک یا بدعمل کا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →(28:88) لاتدع فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ قومت پکار۔ اس کا مفعول الہا ہے یعنی تو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہ پکار۔
ھالک اسم فاعل واحد مذکر۔ ہلک ہلاک تہلکۃ۔ دصادر (ضرب، سمع ، فتح) ہلاک ہونے والا۔ فنا ہونے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
لغات القرآن آیت نمبر (83 تا 88 ) ۔
علو (بڑائی ۔ برتری) ۔ العاقبتہ (انجام۔ نتیجہ) ۔ فرض (فرض کردیا۔ لازم کردیا) ۔ راد (وہ لوٹ گیا) ۔ معاد (لوٹنے کی جگہ ) ۔ لا یصدن (وہ ہرگز نہ روکیں گے) ۔ ھالک (ہلاک ہونے والا) ۔ وجہ (چہرہ۔ ذات) ۔
تشریح : آیت نمبر (83 تا 88 ) ۔ ” سورة القصص میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو عبرت و نصیحت کے لئے تفصیل سے بیان کرنے کے بعد بنی اسرائیل ہیہ کے ایک فرد قارون کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو اپنی دولت کی کثرت، خوشامدیوں کی بھیڑ اور فخر و غرور کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر الزام لگانے سے باز نہیں آیا تو اللہ نے اس کو اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
توحیدکابیان۔
(ف 1) ان آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کی نصیحت سن کر راہ راست پر آنے والوں کا اور گمراہی پر جمنے والوں کا حال اللہ کو خوب معلوم ہے اے محبوب تم اپنا کام تبلیغ کا کیے جاؤ، قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان گمراہی پر جمے رہنے والوں سے سوال کرے گا تو یہ پچھتائیں گے پھر فرمایا اے محبوب تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ میرا پروردگار خوب جانتا ہے اس کو جو ہدایت پر ہے اور جو کھلاگمراہ ہے اور تم امید بھی نہیں رکھتے کہ تم پر خدا کی کتاب بھیجی جائے گی مگر محض تمہارے پروردگار کی مہربانی سے نازل کی گئی ہے پھر تم کافروں کے مددگار نہ ہونا کہ یہ کافر تم کو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی نصیحت سے نہ روک دیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
[56] ان آیتوں میں اگرچہ خطاب نبی اکرم ﷺ سے ہے لیکن سنانا دوسروں کو مقصود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
حل لغات :۔ ھالک : فانی یا بےسود ۔ دونوں معنوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ھلک الثوب یا حللک الناع
Read the full tafseer →88۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکاریئے اس کے سوا کوئی اور معبود ۔ حقیقی نہیں ہے اس کی ذات کے سوا سب چیزیں فنا ہونے والی ہیں ۔ اسی کی حکومت اسی کی فرماں روائی ہے اور تم سب کی بازگشت اسی کی طرف ہے اور تم سب اسکی طرف لوٹائے جائو گے وجہ سے مراد حق تعالیٰ کی ذات اقدس ہے وہی باقی رہے گا اور سب فنا ہوجانے والے ہیں نہ اس کے سوا کوئی معبود حقیقی ہے نہ اس کے سوا کسی اور کو پکارنے کی اجازت ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ ہرچیز فنا ہوتی ہے کبھی ہو مگر اس کا مونہ یعنی وہ آپ ۔ 12 تم تفسیر سورة القصص۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
ف 3۔ ان آیتوں میں کفار و مشرکین کو ان کی درخواستوں سے مایوس کرنا ہے اور روئے سخن ان ہی کی طرف ہے کہ تم جو رسول اللہ ﷺ سے دین میں موافق ہونے کی درخواست کرتے ہو اس میں کامیابی کا کبھی احتمال نہیں مگر عادت ہے، کہ جس شخص پر زیادہ غصہ ہوتا ہے، اس سے بات نہیں کیا کرتے اپنے محبوب سے باتیں کر کے اس شخص کو سنایا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہرچیز کو فنا ہے مگر اللہ ہی کی ذات اس سے مستثنی ہے :
88۔ اب گزشتہ مضمون کی ساری آیتوں کا ایک بار پھر خلاصہ بیان کیا جا رہا ہے تاکہ ایک بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے ، ایک بات کو کم از کم تین بار دہرانا تو آپ ﷺ کا معمول زندگی تھا ۔ آپ ﷺ کی مجلس میں پہنچ کر اہل مجلس کو سلام بھی پیش کرتے تو تین بار کرتے تاکہ سارے لوگ اس سلام میں شریک ہوجائیں اس لئے اس بات کو جو پہلے کہی گئی پھر دہرائی گئی اور اب تیسری بار کہی جارہی ہے اور اس کا پیرایہ انداز پہلے سے زیادہ مختصر اور زیادہ ذو معنی اور بہت گہرائی میں اتر کر بیان کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے ساتھ کسی اور معبو کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ (Everything is going to perish except His Face - 28:88). The word 'His Face' in this verse means the very Being of Allah Ta’ ala. Hence, the meaning of the verse is that except for Allah Ta’ ala everything is mortal and will get destroyed and will vanish. Some commentators have taken the phrase' His Face' to mean the good deeds performed by human beings exclusively for Allah Ta’ ala. In that case the meaning of the verse would be that those actions which are performed exclusively for Allah Ta’ ala will not be destroyed, while all other things will…
Read the full tafseer →112 Another meaning can be: "Sovereignty is for Him, for He alone is entitled to it by right. "
Read the full tafseer →