Explained with ayahs 68–70
ٖصفات الٰہی
ساری مخلوق کا خالق تمام اختیارات والا اللہ ہی ہے۔ نہ اس میں کوئی اس سے جھگڑنے والا نہ اس کا شریک و ساتھی۔ جو چاہے پیدا کرے جسے چاہے اپنا خاص بندہ بنالے۔ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا ہو نہیں سکتا۔ تمام امور سب خیرو شر اسی کے ہاتھ ہے۔ سب کی باز گشت اسی کی جانب ہے کسی کو کوئی اختیار نہیں۔ یہی لفظ اسی معنی میں آیت (وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ 36ۭ) 33۔ الأحزاب :36) میں ہے دنوں جگہ ما نافیہ ہے۔ گو ابن جریر نے یہ کہا کہ ما معنی میں الذی کے ہے یعنی اللہ پسند کرتا ہے اسے جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
سورة القصص 91
اس سلسلہ کلام میں یہ بات جس مقصد کے لیے ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص یا گروہ دنیا میں لوگوں کے سامنے یہ دعوی کرسکتا ہے کہ جس گمراہی کو اس نے اختیار کیا ہے اس کی صحت پر وہ بڑے معقول وجوہ سے مطمئن ہے، اور اس کے خلاف جو دلائل دیے گئے ہیں ان سے فی الحقیقت اس کا اطمینان نہیں ہوا ہے، اور اس گمراہی کو اس نے کسی برے جذبے سے نہیں بلکہ خاص نیک نیتی کے ساتھ اختیار کیا ہے اور اس کے سامنے کبھی کوئی ایسی چیز نہیں آئی ہے جس سے اس کی غلطی اس پر واضح ہو۔ لیکن اللہ کے سامنے اس کی یہ بات نہیں چل سکتی۔ وہ صرف ظاہری کو نہیں دیکھتا، اس کے سامنے تو آدمی کے دل و دماغ کا ایک ایک گوشہ کھلا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
خلاصہ تفسیر
اور آپ کا رب (بالانفراد صفات کمال کے ساتھ موصوف ہے چناچہ وہ) جس چیز کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے (تو تکوینی اختیارات بھی اسی کو حاصل ہیں) اور جس حکم کو چاہتا ہے پسند کرتا ہے (اور انبیاء کے ذریعہ سے نازل فرماتا ہے پس تشریعی اختیارات بھی اسی کو حاصل ہیں) ان لوگوں کو تجویز (احکام) کا کوئی حق (حاصل) نہیں (کہ جو حکم چاہے تجویز کرلیں جیسے یہ مشرک اپنی طرف سے شرک کو جائز تجویز کر رہے ہیں اور اس خصوصی اختیار سے ثابت ہو کہ) اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے (کیونکہ جب تکوینًا و تشریعاً خالق اور مختار ہونے میں وہ منفرد ہے تو عبادت کا بھی تنہا وہی مستحق ہے کیونکہ معبود ہونا صرف اس کا حق…
Read the full tafseer →خلاصہ بحث
یہ اوپر کی ساری بحث کا خلاصہ یک جا کردیا ہے کہ بس وہی اللہ معبود حقیقی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کے سوا جن کو بھی معبود بنایا گیا ہے سب باطل ہے۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ اللہ کو معبود اعظم کی حیثیت سے اہل عرب بھی مانتے تھے لیکن ساتھ ہی اس کے شریک بھی مانتے تھے۔ یہ ان کے شرک کی نفی کردی۔
لہ الحمد فی الاولی والاخرۃ یعنی دنیا میں بھی جو نعمت انسان کو ملی ہے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملی ہے اور آخرت میں بھی جو نعمت حاصل ہونے والی ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ملے گی۔ اس لئے اس دنیا میں بھی حمد و شکر کا سزا وار وہی ہے اور آخرت میں بھی وہی حمد و شکر کا سزاوار ہوگا، کسی دوسرے کا اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
73-1دن اور رات، یہ دونوں اللہ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ رات کو تاریک بنایا تاکہ سب لوگ آرام کرسکیں۔ اس اندھیرے کی وجہ سے ہر مخلوق سونے اور آرام کرنے پر مجبور ہے۔ ورنہ اگر آرام کرنے اور سونے کے اپنے اپنے اوقات ہوتے تو کوئی بھی مکمل طریقے سے سونے نہ پاتا، جب کہ معاشی تگ و دو اور کاروبار جہاں کے لئے نیند کا پورا کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر توانائی بحال نہیں ہوتی۔ اگر کچھ لوگ سو رہے ہوتے اور کچھ لوگ جاگ کر مصروف تگ و تاز ہوتے، تو سونے والوں کے آرام و راحت میں خلل پڑتا، نیز لوگ ایک دوسرے کے تعاون سے بھی محروم رہتے، جب کہ دنیا کا نظام ایک دوسرے کے تعاون و تناصر کا محتاج ہے اس لئے اللہ نے رات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–72
39: یہ کفار کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ پیغمبر ہمارے سرداروں اور دولت مند لوگوں میں سے کسی کو کیوں نہیں بنایا گیا ؟ مختصرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے یہ ساری کائنات پیدا کی ہے اور اسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کس کو اپنا پیغمبر بنائے ان لوگوں کو کوئی اختیار نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
اب ہر امر اور ہر چیز کو نتیجہ ارادہ الٰہی قرار دیا جاتا ہے ، کیونکہ وہی ذات ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور تمام معاملات اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ اول میں بھی آخر میں بھی۔ دنیا میں بھی وہی قابل تعریف ہے اور آخرت میں بھی وہی قابل تعریف ہے۔ دنیا میں بھی اس کا حکم چلتا ہے اور آخرت بھی اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ لوگوں کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے خود کوئی فیصلہ کرسکیں نہ دوسروں کے بارے میں یہاں کوئی انسان کوئی فیصلہ کرسکتا ہے۔ اللہ جو چاہتا ہے ، تخلیق کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، اختیار کرلیتا ہے۔
وربک یخلق ۔۔۔۔۔۔ والیہ ترجعون (68: 70)
” ۔ ۔ “۔
یہ تبصرہ ان لوگوں کے اس…
Read the full tafseer →10 یعنی جس طرح تخلیق و اختیار اور علم محیط میں وہ متفرد ہے الوہیت میں بھی یگانہ ہے۔ بجز اس کے کسی کی بندگی نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ اسی کی ذات منبع الکمالات میں تمام خوبیاں جمع ہیں۔ دنیا اور آخرت میں جو تعریف بھی ہو خواہ وہ کسی کے نام رکھ کر کی جائے حقیقت میں اسی کی تعریف ہے۔ اسی کا حکم چلتا ہے اسی کا فیصلہ ناطق ہے۔ اسی کو اقتدار کلی حاصل ہے اور انجام کار سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ آگے بتلاتے ہیں کہ رات دن میں جس قدر نعمتیں اور بھلائیاں تم کو پہنچتی ہیں اسی کے فضل و انعام سے ہیں بلکہ خود رات اور دن کا ادل بدل کرنا بھی اس کا مستقل احسان ہے۔
Read the full tafseer →لَہُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰی وَالْاٰخِرَۃِز ”
یہاں آخرت کے مقابلے میں ”اُولیٰ“ دنیا کے لیے آیا ہے ‘ کیونکہ آخرت کی زندگی کے مقابلے میں ہماری پہلی زندگی یہی دنیوی زندگی ہے۔
وَلَہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ”
حکم دینے کا اختیار اسی کو حاصل ہے اور کائنات پر اصل حاکمیت اسی کی ہے۔ وہ جو حکم چاہے دے ‘ جس چیز کو چاہے حلال قرار دے اور جس کو چاہے حرام ٹھہرائے۔
Read the full tafseer →95 یعنی کائنات کی ایک ایک چیز اور مخلوق کے ایک ایک فرد کو پیدا کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہے۔ اور اس کام میں کسی دوسری ہستی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ پھر ان دوسرے معبودوں کی خدائی اور ان کے خدائی اختیارات کہاں سے آگئے۔ کائنات کی ایک ایک چیز پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قابل تعریف صرف اللہ کی ذات ہے اور اگر کوئی اور ہستی سے کوئی قابل تعریف کام صادر ہو تو وہ بھی حقیقتاً اللہ ہی تعریف ہے کیونکہ قابل تعریف کام کرنے کی استعداد بھی اسی نے عطا کی ہے۔ پھر جس طرح اللہ تعالیٰ موجودہ زمین و آسمان اور کائنات پیدا کی ہے اسی طرح آخرت میں اس موجودہ زمین و آسمان کے بجائے اور ہی زمین و آسمان پیدا کرے گا۔ جو…
Read the full tafseer →91۔ تاکید ہے اس کے اکیلے ہونے کی۔ اور دوسرے خداؤں کی نفی قطعی کی، یہ نہیں کہ منجملہ اور معبودوں کے ایک وہ بھی ہو۔ اتنا تو مشرکین بھی مانتے تھے۔ حکومت آج بھی حقیقۃ اسی کی ہے۔ آخرت میں چونکہ بالکل بلاوسائط ہوگی، عیاں وظاہر اور ہر ایک پر منکشف ہو کر رہے گی۔ محققین نے (آیت) ” لہ الحمد “۔ الخ سے یہ نکتہ بھی نکالا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل بالآ خیر محض ہی ہے۔ ورنہ ہر حال میں حمد اس کے لیے ثابت نہ ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–75
آیت نمبر 61 تا 75
ترجمہ : بھلا وہ شخص کہ جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے جسے وہ قطعاً پانے والا ہے یعنی اس وعدۂ (موعودبہٖ ) کو پہنچنے والا ہے اور وہ جنت ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے، جو عنقریب زائل ہوجائے گا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کرکے دوزخ میں حاضر کئے جائیں گے اول شخص مومن ہوگا اور دوسرا کافر یعنی دونوں میں کوئی مساوات نہ ہوگی اور اس دن کو یاد کرو کہ جس دن خدا تعالیٰ ان کافروں کو پکار کر کہے گا میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم سمجھتے تھے وہ میرے شریک ہیں جن پر خدا کا دخول نار کا حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں…
Read the full tafseer →وھو اللہ لا الہ الا ھو . اور وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا قابل عبادت اور کوئی نہیں۔ یہ مذکورہ بالا آیات کی تائید ہے۔
لہ الحمد الاولیٰ ولاٰخرۃ . اسی کو استحقاق ستائش ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
کیونکہ اصلی حسن و جمال اسی کا ہے ‘ دوسروں کے اندر جمال مستعار ہے (حمد کا معنی ہے کسی کی خوبی کی تعریف کرنا زبان سے) وہی ساری نعمتیں عطا کرنے والا یہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ مؤمن دنیا میں بھی اس کی حمد کرتے ہیں اور آخرت میں بھی کریں گے۔ جنت میں داخلہ کے بعد کہیں گے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزَن حمد اس خدا کے لئے جس نے ہمارا غم دور کردیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ…
Read the full tafseer →(70) اور اللہ تعالیٰ وہی وحدہ لاشریک ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، دنیا و آخرت میں حمد وثنا کے لائق وہی ہے یا یہ کہ آسمان و زمین میں حمد وثنا کے لائق وہی ہے اور حکومت بھی اس کی ہوگئی اور قیامت کے دن تم سب اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے۔
Read the full tafseer →وَهُوَ اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ : اور وہ جس نے جو چاہا پیدا کیا اور پیدا کرتا ہے اور جو چاہے اختیار کرتا ہے، جو سینوں کی چھپائی ہوئی باتوں کو اور علانیہ کیے جانے والے کاموں کو جانتا ہے وہی اللہ ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ کیونکہ یہ صفات کسی اور میں ہیں ہی نہیں، پھر کوئی اس کا شریک کیسے بن گیا ؟ !
لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَالْاٰخِرَةِ : دنیا اور آخرت میں تعریف جو بھی ہے اور جس کی بھی ہے سب اس اکیلے کی ہے، کیونکہ جو تعریف ہوگی کسی نہ کسی خوبی پر ہوگی اور خوبی جو بھی ہے اور جس میں ہے سب اس کی عطا کردہ ہے۔ سو تعریف جس کی بھی کی جائے اصل میں اسی کی ہوگی۔ اس کے علاوہ دنیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
وربک یخلق مایشآء و یختار یہ ان شرکئا کی ذکر کے ساتھ متصل ہے جن کی انہوں نے عبادت کی اور انہوں نے شفاعت کے لئے انہیں اختیار کیا۔ شفعاء میں اختیار اللہ تعالیٰ کا ہے مشرکین کا اس میں کوئی اختیار نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ولدین بن مغیرہ کا جواب ہے جب اس نے کہا، لو لا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم۔ (الزخرف : 31)
یعنی اس نے اپنے آپ کو اور طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی کو عظیم خیال کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ یہودیوں کا جواب ہے جب انہوں نے کہا : اگر جبریل امین کے علاوہ حضرت محمد ﷺ کی طرف پیغام لانے والا ہوتا تو ہم اس پر ایمان لے آتے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، تیرا رب مخلوق میں سے جسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
1۔ ابن ابی حاتم نے ارطاۃ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابی عون الحمص (رح) سے تقدیر کی بات میں سے کچھ پوچھاتو انہوں نے فرمایا کیا تم اللہ کی کتاب کو نہیں پڑھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وربک یخلق مایشاء ویختار ماکان لہم الخیرۃ اور آپ کا رب جس چیز کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جس حکم کو چاہتا ہے اختیار کرلیتا ہے۔
2۔ البخاری وابو داوٗد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہ والبیہقی جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کسی درپیش کام کے بارے میں ہم کو استخارہ اس اہتمام سے سکھات تھے جیسے ہم کو قرآن مجید میں سے کوئی سورت سکھاتے تھے اور یوں فرماتے تھے جب تمہیں کوئی کام درپیش ہو تو فرض…
Read the full tafseer →وَهُوَ [اور وہی ] اللّٰهُ [اللہ نے ] لَآ اِلٰهَ [کوئی بھی الٰہ نہیں ہے ] اِلَّا هُوَ ۭ [مگر وہ ہی ] لَهُ [اس کے لئے ہیں ] الْحَمْدُ [تمام شکرو سپاس ] فِي الْاُوْلٰى [پہلی (زندگی) میں ] وَالْاٰخِرَةِ ۡ [اور آخری (زندگی) میں ] وَلَهُ [اور اس کے لئے ہی ] الْحُكْمُ [تمام حکم ہے ] وَاِلَيْهِ [اور اس کی طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ [تم لوگ لوٹائے جاؤ گے ] ۔
Read the full tafseer →تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت بیان فرمائی اور صفات جلیلہ و جمیلہ سے اس کا متصف ہونا ذکر فرمایا۔ ارشاد ہے۔ (وَ ھُوَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ لَہُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰی وَ الْاٰخِرَۃِ وَ لَہُ الْحُکْمُ وَ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ )
(اور اللہ وہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کے لیے سب تعریف ہے دنیا میں اور آخرت میں، اور اسی کے لیے حکم ہے۔ اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) تمام تعریفوں کا وہی مستحق ہے دنیا میں بھی آخرت میں بھی، اسی کا فیصلہ حق ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اسے سب کا حال معلوم ہے وہ اپنے علم کے مطابق فیصلے فرمائے گا اور جزا و سزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
ظہور ثمرات ایمان وہدایت ونتائج کفر وضلالت در روز قیامت
قال اللہ تعالیٰ افمن وعدنہ وحدا حسنا۔۔۔ الی۔۔۔ الہ الحکم والیہ ترجعون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ایمان وہدایت کی ترغیب اور کفر وضلالت سے ترہیب کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ ایمان اور ہدایت کے ثمرات اور کفر وضلالت کے نتائج کا ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ اول۔ افمن وعدنہ وعدا حسنا کی آیت میں اجمالی طور پر اہل دنیا اور اہل آخرت کے تفاوت کو بیان کیا بعد ازاں اس تفاوت کی تفصیل فرمائی کہ قیامت کے دن اہل ضلالت سے قیامت کے دن بطور زجر و توبیخ تین سوال ہوں گے۔
پہلا سوال : این شرکای الذین کنتم تزعمون۔ یعنی بتلاؤ کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
66:۔ یہ تیسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ یعنی یہ بات تم بھی جانتے اور مانتے ہو کہ دن رات اللہ کے قبضے میں ہیں۔ اگر وہ چاہے کہ قیامت تک رات ہی رہے اور دن کبھی نہ آئے تو کیا تمہارے معبودوں میں اللہ کے سوا کوئی ایسا کارساز ہے جو تمہیں دن کی روشنی مہیا کرسکے۔ قل ارایتم ان جعل اللہ علیکم النہار الخ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم، اسی طرح اگر وہ قیامت تک دن کو طویل کردے تو آرام و راحت کے لیے اللہ کے سوا کوئی رات لاسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ افلا تبصرون۔ کیا تم عقل و بصیرت سے کام نہیں لیتے ہو اور ان دلائل میں غور و فکر کر کے اللہ کی توحید کو نہیں مانتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا تھا اور پھر ان کے برے انجام کا ذکر کیا تھا۔ اللہ نے ان کی گرفت کا ذکر کیا کہ وہ ظلم وتعدی کرنے والوں کو ہی پکڑتا ہے ۔ پھر اللہ نے دنیا کے سازو سامان کی نا پانیداری کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اللہ کے ہاں جو نعمتیں ہیں وہ ہمیشہ رہنے والی ہیں اللہ نے انسان کو ترغیب دلائی کہ عقل سے کام لیں اور پائیدار چیزوں کو اختیار کریں اور عارضی چیزوں میں دل نہ لگائیں ۔ اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور نیکی والوں کا تقابل کفر ، شرک اور برائی والوں سے کیا ہے ۔ اس کے بعد رسالت کا ذکر ہے اور پھر توحید خدا ندی کی تائید او شرک کی تردید فرمائی…
Read the full tafseer →وَہُوَاللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ 0ۭ لَہُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَالْاٰخِرَۃِ 0ۡوَلَہُ الْحُكْمُ وَاِلَيْہِ تُرْجَعُوْنَ 70
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم،
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
ترکیب : سرمدًا یجوزان یکون حالاً من اللیل وان یکون مفعولا ثانیاً لجعل والی یتعلق بسرمدًا من الہ الخ جواب ہے ان جعل اللہ کا۔
تفسیر : و ربک یخلق مایشاء سے مبدء میں گفتگو شروع ہوگئی تھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں اس لیے وھو اللہ لا الہ الا ھو سے اس کی تکمیل کی جاتی ہے گویا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے اور قرآن مجید کی عادت ہے کہ کبھی مبدء میں گفتگو کرتا ہے۔ کبھی معاد میں ‘ کبھی نبوات و شرائع میں اور یہی باتیں مقصود بالذات بھی تھیں۔ فرمایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا و آخرت میں اپنی نعمتوں کے سبب وہی ستائش کا مستحق ہے اور فرمانروائی اسی کے لیے ہے اور اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے اور کون ہے…
Read the full tafseer →وَھُوَاللّٰہُ لَآاِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ ط لَـہُ الْحَمْدُفِی الْاُوْلٰی وَالْاٰخِرَۃِ ز وَلَـہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (القصص : 70)
(اور وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور اسی کے اختیار میں فیصلہ ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ )
خلاصہ بحث
اس سے پہلے کی آیات میں شرک کیخلاف اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق، اس کی صفت اختیار اور اس کے علم محیط سے استدال کیا گیا ہے۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں اس استدلال سے جو بدیہی نتیجہ نکلتا ہے اسے ہمارے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ جب کائنات کی ہر مخلوق اللہ تعالیٰ ہی کی قوت تخلیق سے وجود میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
فہم القرآن
ربط کلام : گمراہ اور ہدایت یافتہ لوگوں کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور اختیارات کا تذکرہ کرتا ہے۔
یہاں شرک کی نفی ایک خاص انداز میں کی گئی ہے۔ مقصود یہ بتلانا ہے کہ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات کو بھول کر دوسروں کو اپنا معبود اور مشکل کشا بنا لیتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مشرک اللہ تعالیٰ کے اختیار سے باہر ہیں ایسا ہرگز نہ ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ملہ کا نتیجہ ہے کہ اس نے لوگوں کو ہدایت اور گمراہی کے بارے میں اختیار دے رکھا ہے۔ کہ دونوں میں سے جس کا چاہیں انتخاب کرلیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو جس فطرت پر چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کس کو کس…
Read the full tafseer →70: وَہُوَ اللّٰہُ (اور وہی اللہ تعالیٰ ) الوہیت میں خاص اور سب پر قابل ترجیح ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ (اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) ۔ یہ ماقبل کی تقریر ہے۔ جیسا کہتے ہیں۔ الکعبۃ القبلۃ لا قبلۃ الاہی۔ یہ پچھلا جملہ تاکید و تقریر ہے۔ لَہُ الْحَمْدُ فِی الْاَرضِ (اور اسی ہی کیلئے تعریف ہے دنیا میں) وَالْاٰخِرَۃِ (اور آخرت میں) اور وہ دوسرے مقام پر اس طرح مذکور ہے۔ الحمدللّٰہ الذی اذہب عنا الحزن۔] فاطر۔ 34[
ایک اور مقام پر فرمایا۔ الحمدللّٰہ الذی صدقنا وعدہ۔ ] الزمر۔ 74[
ایک مقام پر ارشاد ہوا۔ وقیل الحمدللّٰہ رب العالمین۔ ] الزمر۔ 75[
مسئلہ : جنت میں حمد وثناء بطور لذت کے ہوگی بطور امر…
Read the full tafseer →70۔ وھواللہ لاالہ الاھو، ،، ، مومن دنیا میں بھی اس کی حمد کرتے ہیں اور آخرت میں بھی کریں گے۔ ولہ الحکم، ، مخلوقات کے درمیان وہ فیصلہ کرنے والا ہے۔ ابن عباس کا قول ہے کہ اہل طاعت کے لیے اس کا حکم مغفرت اور گناہ گاروں کے لیے فیصلہ بدبختی نافذ ہے۔ والیہ ترجعون۔۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–74
64 تا 73۔ اوپر کی آیتوں میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے قریش کو طرح طرح کی فہمائش کی ہے اسی طرح کی فہمایش ان آیتوں میں ہے حاصل اس فہمایش کا یہ ہے کہ اللہ کی عبادت چھوڑ کر جو یہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں ان کو اتنی سمجھ نہیں کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی ہزارہا نعمتوں میں سے مثلا ایک دن رات ہے ایک رات اگر اللہ کے حکم سے آفتاب نہ نکلے اور زمین کے اندر روکا ہی رہ جاوے یا جس طرح ہر روز شام کو اللہ کے حکم سے سورج غروب ہوتا ہے اسی طرح ایک رات کو غروب نہ ہو اور بجائے رات کے دن اور بجائے دن کے رات ہوجاوے اور ان لوگوں کے دن اور رات کے عادتی اور مقررہ کاموں میں ہرج پڑجاوے تو بھلا ان کے بتوں میں قدرت ہے کہ ان کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
آیت 70
اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا پھر ان میں اپنی مشیت نافذ کی اور وہ اپنے اختیار میں متفرد ہے۔ وہ اشخاص، او امر، ازمان اور اماکن میں سے جو چاہتا ہے چن کر مختص کرلیتا ہے کسی کو اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام شریکوں، مددگاروں، اولاد اور بیوی وغیرہ سے منزہ اور مبرا ہے جنہیں یہ مشرکین اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو خوب جانتا ہے جنہیں یہ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں اور جنہیں یہ ظاہر کرتے ہیں۔ وہ اکیلا ہی دنیا و آخرت میں اپنی صفات جمال و کمال اور اپنی مخلوق پر احسان و اکرام کی بناء پر مستحق عبادت اور لائق ستائش ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →97 ہر تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کیلئے ہے ہر تعریف دنیا میں بھی آخرت میں بھی "۔ آخرت میں تو بہرحال اسی کی حمد و ثنا کے غلغلے ہوں گے اس دنیا میں بھی جس کسی کی تعریف اس کی کسی خوبی کی بنا پر کی گئی یا کی جاتی ہے یا کی جائے گی، وہ سب بھی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے اسی وحدہ لاشریک کی تعریف ہے۔ کہ ہر خوبی و کمال اسی کو سزاوار، اسی کے لائق اور اسی کی طرف سے ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ دنیا میں جو بھی کوئی نعمت کسی کو ملتی ہے یا ملے گی وہ سب اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ {…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
میدان حشر میں پوچھ گچھ اور اللہ کی قدرتیں
تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ بتایا گیا ہے کہ حشر کے میدان میں کفار و مشرکین حیران و پریشان بےسہارا سخت بےبسی کے عالم میں ادھر سے ادھر مارے مارے پھریں گے کوئی سفارش کرنے والا اور کوئی بچانے ولا ان کو دکھائی نہ دے گا اور ان کے معبود بھی ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گے یہ کہتے ہوئے کہ ” جب ہم نے ان کو گمراہی کی طرف بلایا اور پیغمبر نے ان کو حق کی طرف بلایا تو انہوں نے اپنی عقلوں سے کیوں کام نہ لیا ؟ اور کیوں اندھوں کی طرح ہمارے پیچھے لگ گئے ؟ ہمارا ان سے کوئی واسطہ نہیں یہ جانیں اور ان کا کام۔ “ عام زندگی میں بھی ہر شخص کو یہ سوچ سمجھ کر دوسرے کی بات ماننی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–75
آیات 61 تا 75
اسرارو معارف
اور بھلا جس شخص کو بہت حسین وعدہ دیا اگیا ہو یعنی آخرت کی کامیابی کا اور وہ اسے پانے والا بھی ہو اس کی برابری وہ شخص تو نہیں کرسکتا جس کے پاس چند روز مال و دولت دنیا تو ہو مگر قیامت کے روز اسے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہو وہ ایسا دن ہوگا کہ جب ان کفار و مشرکین پر سوال ہوگا کہ جن لوگوں کو تم نے میرا شریک مان رکھا تھا وہ کہاں ہیں تو وہ لوگ جو یہاں دنیا میں ان کے پیشوا بنے ہوئے ہیں اپنے اوپر جرم ثابت ہوچکنے کے بعد یہ عذر کریں گے کہ اے اللہ خود گمراہ تھے لہذا انہیں بھی وہی کچھ بتایا جس پر خود عمل کرتے تھے لیکن انہوں نے ہماری بات اپنے اختیار سے مانی ہم نے ان پر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
3 ۔ کہ اسے سمجھو اور راہ ہدایت پائو۔
Read the full tafseer →(28:70) فی الاولی والاخرۃ۔ یعنی دنیا میں اور آخرت میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
لغات القرآن آیت نمبر (68 تا 75 )
یختار (وہ پسند کرتا ہے۔ منتخب کرتا ہے) ۔ الخیرۃ (اختیار ۔ پسند ) ۔ تکن (چھپتا ہے) ۔ سرمد (ہمیشہ ) ۔ ضیاء (روشنی۔ چمک ) ۔ تسکنون (تم سکون حاصل کرتے ہو) ۔ تبتغوا (تم تلاش کرتے ہو) ۔ نزعنا (ہم نے کھینچ لیا۔ نکال لیا) ۔ ھاتوا (لے آئو۔ (تم آئو) ۔ برھان (دلیل۔ پسند) ۔ ضل (بھٹک گیا۔ گم ہوگیا) ۔ یفترون (وہ گھڑتے ہیں۔ بناتے ہیں ) ۔
تشریح : آیت نمبر (68 تا 75 ) ۔ ” نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ہر شخص کو بتایا جارہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اس کائنات میں ساری قدرت، طاقت، ہر چیز کی خوبی اور عبادت و بندگی صرف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنا پیغام پہنچانے کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–74
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان کو اپنے سامنے کھڑا کرکے ان سے پوچھے گا کہ بتلاؤ تم لوگوں نے اللہ کے رسولوں کی فرمانبرداری کی تو ان کے ہوش اڑجائیں گے اور ان کو جواب تک نہ آئے گا یہ توحید اور اطاعت رسول کا سوال گویا آخری سوال ہے ۔ جو میدان قیامت میں خاص اللہ تعالیٰ کے روبرو ہوگا اور یوں تو توحید اور اطاعت رسول کی پرسش آدمی کو قبر میں دفناتے ہی شروع ہوجاتی ہے چناچہ دفنانے والے لوگ ابھی قبرستان سے پلٹ کر بھی نہیں آتے کہ منکرنکیر یہ دوفرشتے مردہ کے پاس آن کر اس سے توحید اور اطاعت رسول کا سوال کرتے ہیں ۔ جو شخص توحید اور اطاعت رسول پر ثابت قدم دنیا سے اٹھا ہے وہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
[42] یعنی کسب معاش کرو۔ روزی کمانے کے دھندے کو رحمت الٰہی کے تحت لانا صاف اس امر پر دلیل ہے کہ معاشی مشاغل اسلام میں فضیلت کا درجہ رکھتے ہیں۔ حقیرو ذلیل نہیں، معزز و مکرم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
حل لغات :۔ سرمدا ۔ دائمی ۔ ہمیشہ
Read the full tafseer →70۔ اور اللہ ہی کامل الصفات ذات ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں تمام تعریفیں اور ہر قسم کی حمد وثناء کے لائق دنیا اور آخرت میں وہی ہے اسی کی فرمانبرداری اور حکومت ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔ یعنی جو خالقیت میں منفرد ، اختیارات میں منفرد، علم میں منفردوہی تو ذات اللہ جل جلالہ ٗ ہے جب وہ ہر صفت کمالیہ میں منفرد ہے تو اس کے سوا کوئی معبود بھی نہیں دنیا اور آخرت دونوں عالموں میں اس کا تصرف ہے اس لئے وہی دونوں عالموں میں ہر قسم کی حمد وثناء کے لائق ہے فرماں روائی کا یہ عالم کہ آخرت میں تو اس کے سوا کسی کی حکومت ہی نہیں دنیا میں اگر مجازا ً کسی کی حکومت نظر آتی ہے تو وہ بھی محض عارضی ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
ف 1۔ کیونکہ اس کے تصرفات دونوں عالم میں ایسے ہیں جو دال ہیں صفات کمال پر کہ مدار ہیں اہلیت حمد کے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ساری ستائشیں ہیں اور الوہیت اسی کو زیبا ہے :
70۔ اجاز قرآنی پر غور کرو کہ اس کا کیا کمال ہے اور وہ بحث مضمون کو کسی طرح سمیٹ کر رکھ دیتا ہے گزشتہ آیتوں کی ساری بحث کو اس ایک ہی آیت میں جمع کر کے اس کا خلاصہ بیان کردیا کہ ” وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور تمام اچھی تعریفیں اسی کی ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘ اسی کیلئے حکم ہے اور اسی کی طرف تم سب کو واپس لوٹ کر جانا ہے “ اس طرح گویا اس ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ کی توحید ذاتی اور صفاتی کو بیان کرکے ان کے تمام شکوک و شبہات اور سارے اعتراضات کا جواب چند لفظوی میں بیان کردیا ۔ پھر مزید وضاحت کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّـهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِضِيَاءٍ ۖ أَفَلَا تَسْمَعُونَ ﴿71﴾ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّـهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ ۖ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ﴿72﴾
Say, "Tell me, if Allah makes night continuing upon you forever upto the Day of Judgment, which god, other than Allah, would bring to you light? Then do you not listen?" Say, "Tell me, if Allah makes the day continuing upon…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
92 A witness": the Prophet who had warned that community, or a rightly-guided person from among the followers of the Prophets, who had performed the duty of preaching the Truth in the community, or a means through which the message of the Truth had reached the community .
93 That is, "Present a cogent argument in your defence so that you are pardoned. You should either prove that the shirk and the denial of the Hereafter and Prophethood in which you persisted were the correct creed and you had adopted it on rational grounds, or, if you cannot do that, you should at least prove that no…
Read the full tafseer →