Explained with ayahs 68–70
ٖصفات الٰہی
ساری مخلوق کا خالق تمام اختیارات والا اللہ ہی ہے۔ نہ اس میں کوئی اس سے جھگڑنے والا نہ اس کا شریک و ساتھی۔ جو چاہے پیدا کرے جسے چاہے اپنا خاص بندہ بنالے۔ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا ہو نہیں سکتا۔ تمام امور سب خیرو شر اسی کے ہاتھ ہے۔ سب کی باز گشت اسی کی جانب ہے کسی کو کوئی اختیار نہیں۔ یہی لفظ اسی معنی میں آیت (وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ 36ۭ) 33۔ الأحزاب :36) میں ہے دنوں جگہ ما نافیہ ہے۔ گو ابن جریر نے یہ کہا کہ ما معنی میں الذی کے ہے یعنی اللہ پسند کرتا ہے اسے جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–74
سورة القصص 91
اس سلسلہ کلام میں یہ بات جس مقصد کے لیے ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص یا گروہ دنیا میں لوگوں کے سامنے یہ دعوی کرسکتا ہے کہ جس گمراہی کو اس نے اختیار کیا ہے اس کی صحت پر وہ بڑے معقول وجوہ سے مطمئن ہے، اور اس کے خلاف جو دلائل دیے گئے ہیں ان سے فی الحقیقت اس کا اطمینان نہیں ہوا ہے، اور اس گمراہی کو اس نے کسی برے جذبے سے نہیں بلکہ خاص نیک نیتی کے ساتھ اختیار کیا ہے اور اس کے سامنے کبھی کوئی ایسی چیز نہیں آئی ہے جس سے اس کی غلطی اس پر واضح ہو۔ لیکن اللہ کے سامنے اس کی یہ بات نہیں چل سکتی۔ وہ صرف ظاہری کو نہیں دیکھتا، اس کے سامنے تو آدمی کے دل و دماغ کا ایک ایک گوشہ کھلا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
خلاصہ تفسیر
اور آپ کا رب (بالانفراد صفات کمال کے ساتھ موصوف ہے چناچہ وہ) جس چیز کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے (تو تکوینی اختیارات بھی اسی کو حاصل ہیں) اور جس حکم کو چاہتا ہے پسند کرتا ہے (اور انبیاء کے ذریعہ سے نازل فرماتا ہے پس تشریعی اختیارات بھی اسی کو حاصل ہیں) ان لوگوں کو تجویز (احکام) کا کوئی حق (حاصل) نہیں (کہ جو حکم چاہے تجویز کرلیں جیسے یہ مشرک اپنی طرف سے شرک کو جائز تجویز کر رہے ہیں اور اس خصوصی اختیار سے ثابت ہو کہ) اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے (کیونکہ جب تکوینًا و تشریعاً خالق اور مختار ہونے میں وہ منفرد ہے تو عبادت کا بھی تنہا وہی مستحق ہے کیونکہ معبود ہونا صرف اس کا حق…
Read the full tafseer →وربک یعلم ماتکن صدورھم ومایعلنون 69
احاطہ علم الٰہی کی دلیل سے شرک کا ابطام
یہ احاطہ علم الٰہی کی دلیل سے شرک کا ابطال فرمایا ہے کہ جب تیرا رب ان کے سرد عالنیہ ہر چیز سے خود اچھی طرح باخبر ہے تو اس کو ضرورت کیا ہے کہ وہ کسی کو اپنا شریک اور سہیم بنائے ! وہ اپنی مملکت میں دوسروں کو شریک تو جب بنائے جب وہ لوگوں کے احوال و معاملات سے باخبر رہنے کے لئے کسی کا محتاج ہو اور اس کے ہاں کسی کے باب میں کسی کی سفارش کی ضرورت تو جب پیش آئے جب کوئی اس کے علم میں اضافہ کرنے کے پوزیشن میں ہو کہ فلاں کے باب میں نعوذ باللہ خدا کو خبر نہیں ہے اسے ہے جب اس طرح کی کوئی بات فرض کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–73
73-1دن اور رات، یہ دونوں اللہ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ رات کو تاریک بنایا تاکہ سب لوگ آرام کرسکیں۔ اس اندھیرے کی وجہ سے ہر مخلوق سونے اور آرام کرنے پر مجبور ہے۔ ورنہ اگر آرام کرنے اور سونے کے اپنے اپنے اوقات ہوتے تو کوئی بھی مکمل طریقے سے سونے نہ پاتا، جب کہ معاشی تگ و دو اور کاروبار جہاں کے لئے نیند کا پورا کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر توانائی بحال نہیں ہوتی۔ اگر کچھ لوگ سو رہے ہوتے اور کچھ لوگ جاگ کر مصروف تگ و تاز ہوتے، تو سونے والوں کے آرام و راحت میں خلل پڑتا، نیز لوگ ایک دوسرے کے تعاون سے بھی محروم رہتے، جب کہ دنیا کا نظام ایک دوسرے کے تعاون و تناصر کا محتاج ہے اس لئے اللہ نے رات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–72
39: یہ کفار کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ پیغمبر ہمارے سرداروں اور دولت مند لوگوں میں سے کسی کو کیوں نہیں بنایا گیا ؟ مختصرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے یہ ساری کائنات پیدا کی ہے اور اسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کس کو اپنا پیغمبر بنائے ان لوگوں کو کوئی اختیار نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
اب ہر امر اور ہر چیز کو نتیجہ ارادہ الٰہی قرار دیا جاتا ہے ، کیونکہ وہی ذات ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور تمام معاملات اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ اول میں بھی آخر میں بھی۔ دنیا میں بھی وہی قابل تعریف ہے اور آخرت میں بھی وہی قابل تعریف ہے۔ دنیا میں بھی اس کا حکم چلتا ہے اور آخرت بھی اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ لوگوں کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے خود کوئی فیصلہ کرسکیں نہ دوسروں کے بارے میں یہاں کوئی انسان کوئی فیصلہ کرسکتا ہے۔ اللہ جو چاہتا ہے ، تخلیق کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، اختیار کرلیتا ہے۔
وربک یخلق ۔۔۔۔۔۔ والیہ ترجعون (68: 70)
” ۔ ۔ “۔
یہ تبصرہ ان لوگوں کے اس…
Read the full tafseer →9 یعنی دل میں جو فاسد عقیدے یا بری نیتیں رکھتے ہیں اور زبان، ہاتھ، پاؤں وغیرہ سے جو کام کرتے ہیں سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں اور وہ ہی ہر ایک شخص کی پوشیدہ استعداد و قابلیت سے آگاہ ہے اسی کے موافق معاملہ کرے گا۔
Read the full tafseer →آیت 69 وَرَبُّکَ یَعْلَمُ مَا تُکِنُّ صُدُوْرُہُمْ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ”
مثلاً ان کے دل قرآن اور محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی حقانیتّ کی گواہی دیتے ہیں مگر وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس گواہی کو چھپائے ہوئے ہیں۔ اور دوسری طرف اپنے جن نام نہاد اعتراضات کو وہ ظاہر کر رہے ہیں ان پر انہیں خود بھی اعتماد نہیں۔ مثلاً یہ کہ اگر یہ نبی ہیں تو انہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح معجزات کیوں نہیں دیے گئے ؟
Read the full tafseer →94 بات مشرکین مکہ کے ان حیلوں بہانوں کی ہو رہی تھی۔ جو وہ اسلام نہ لانے کے سلسلہ میں دلیل کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین مکہ خود بھی خوب سمجھتے ہیں کہ ان کے ایسے حیلوں اور اعتراضات کی کیا حقیقت ہے۔ اور اللہ ان کے دلوں کے خیالات تک سے خوب واقف ہے وہ جانتا ہے کہ ان کے ایسے لغو اعتراضات میں وہ کون سے محرکات ہیں۔ جو انھیں ایسی باتیں بنانے پر اکساتے ہیں اور ان کے ایمان نہ لانے کے اصل اسباب کیا ہیں ؟ پھر اسی کے مطابق ان سے معاملہ بھی کرے گا۔
Read the full tafseer →90۔ کھلا ہوا کفر اور چھپا ہوا نفاق سب اس پر روشن وآشکار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–75
آیت نمبر 61 تا 75
ترجمہ : بھلا وہ شخص کہ جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے جسے وہ قطعاً پانے والا ہے یعنی اس وعدۂ (موعودبہٖ ) کو پہنچنے والا ہے اور وہ جنت ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے، جو عنقریب زائل ہوجائے گا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کرکے دوزخ میں حاضر کئے جائیں گے اول شخص مومن ہوگا اور دوسرا کافر یعنی دونوں میں کوئی مساوات نہ ہوگی اور اس دن کو یاد کرو کہ جس دن خدا تعالیٰ ان کافروں کو پکار کر کہے گا میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم سمجھتے تھے وہ میرے شریک ہیں جن پر خدا کا دخول نار کا حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں…
Read the full tafseer →وربک یعلم ما تکن صدروھم وما یعلنون . اور آپ کا رب جانتا ہے ان باتوں کو جو ان کے سینوں کے اندر چھپی ہوئی ہیں (جیسے رسول اللہ سے حسد و دشمنی) اور جو یہ لوگ ظاہر کرتے ہیں (جیسے رسول اللہ پر طعن و طنز) ۔
Read the full tafseer →(69) اور آپ کا پروردگار سب چیزوں کی خبر رکھتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں بغض ودشمنی چھپی ہوئی ہے اور جو یہ ظاہری طور پر نافرمانیاں کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ۔۔ : ”أَکَنَّ یُکِنُّ إِکْنَانًا“ چھپانا۔ پچھلی آیت میں مذکور اختیار اور قدرت علم کے بغیر ممکن ہی نہیں، اس لیے فرمایا : ”تیرا رب جانتا ہے جو ان کے سینے چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔“ یعنی قدرت و اختیار کا مالک بھی وہی ہے اور پوشیدہ اور ظاہر کا علم بھی اسی کے پاس ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ سینوں کی چھپی ہوئی بات جاننا تو واقعی اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے، مخلوق کو اس کی خبر نہیں ہوسکتی، مگر جو کچھ لوگ علانیہ کرتے یا کہتے ہیں اسے جاننا تو آدمی کے لیے بھی کچھ مشکل نہیں۔ جواب اس کا یہ ہے کہ سینوں کی چھپی ہوئی بات تو پھر بھی بعض اوقات کسی اشارے کنائے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
وربک یخلق مایشآء و یختار یہ ان شرکئا کی ذکر کے ساتھ متصل ہے جن کی انہوں نے عبادت کی اور انہوں نے شفاعت کے لئے انہیں اختیار کیا۔ شفعاء میں اختیار اللہ تعالیٰ کا ہے مشرکین کا اس میں کوئی اختیار نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ولدین بن مغیرہ کا جواب ہے جب اس نے کہا، لو لا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم۔ (الزخرف : 31)
یعنی اس نے اپنے آپ کو اور طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی کو عظیم خیال کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ یہودیوں کا جواب ہے جب انہوں نے کہا : اگر جبریل امین کے علاوہ حضرت محمد ﷺ کی طرف پیغام لانے والا ہوتا تو ہم اس پر ایمان لے آتے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، تیرا رب مخلوق میں سے جسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
1۔ ابن ابی حاتم نے ارطاۃ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابی عون الحمص (رح) سے تقدیر کی بات میں سے کچھ پوچھاتو انہوں نے فرمایا کیا تم اللہ کی کتاب کو نہیں پڑھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وربک یخلق مایشاء ویختار ماکان لہم الخیرۃ اور آپ کا رب جس چیز کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جس حکم کو چاہتا ہے اختیار کرلیتا ہے۔
2۔ البخاری وابو داوٗد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہ والبیہقی جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کسی درپیش کام کے بارے میں ہم کو استخارہ اس اہتمام سے سکھات تھے جیسے ہم کو قرآن مجید میں سے کوئی سورت سکھاتے تھے اور یوں فرماتے تھے جب تمہیں کوئی کام درپیش ہو تو فرض…
Read the full tafseer →وَرَبُّكَ [اور آپ ﷺ کا رب ] يَعْلَمُ [جانتا ہے ] مَا [اس کی جو ] تُكِنُّ [چھپاتے ہیں ] صُدُوْرُهُمْ [ان کے سینے ] وَمَا [اور اس کا جو ] يُعْلِنُوْنَ [وہ لوگ اعلان کرتے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفت علم کو بیان فرمایا اور فرمایا کہ آپ کا رب وہ سب کچھ جانتا ہے جسے لوگ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ لہٰذا کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ میں نے جو کچھ اپنے دل میں بات رکھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں نہیں ہے اسے ظاہراً اور باطناً ہر چیز اور ہر بات کا پورا پورا علم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
ظہور ثمرات ایمان وہدایت ونتائج کفر وضلالت در روز قیامت
قال اللہ تعالیٰ افمن وعدنہ وحدا حسنا۔۔۔ الی۔۔۔ الہ الحکم والیہ ترجعون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ایمان وہدایت کی ترغیب اور کفر وضلالت سے ترہیب کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ ایمان اور ہدایت کے ثمرات اور کفر وضلالت کے نتائج کا ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ اول۔ افمن وعدنہ وعدا حسنا کی آیت میں اجمالی طور پر اہل دنیا اور اہل آخرت کے تفاوت کو بیان کیا بعد ازاں اس تفاوت کی تفصیل فرمائی کہ قیامت کے دن اہل ضلالت سے قیامت کے دن بطور زجر و توبیخ تین سوال ہوں گے۔
پہلا سوال : این شرکای الذین کنتم تزعمون۔ یعنی بتلاؤ کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم نے…
Read the full tafseer →65:۔ یہ دعوی توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی عالم الغہب ہے اور کوئی نہیں۔ وھو اللہ لا الہ الا ھو الخ یہ مذکورہ دونوں دلیلوں کا ثمرہ ہے یعنی جب متصرف و مختار بھی وہی ہے اور عالم الغیب بھی تو لا محالہ حاجات و مشکلات میں پکار کے لائق بھی وہی ہے۔ لہ الحمد فی الاولی الخ دنیا اور آخرت میں صفت کارسازی کا مالک وہی ہے اور کوئی نہیں، دنیا میں بھی وہی کارساز ہے اور آخرت میں بھی مذکورہ بالا دونوں دلیلوں کے درمیان علت و معلول کا رشتہ ہے۔ پہلی دلیل دوسری کے لیے علت ہے یعنی جب سب کچھ کرنے والا وہی ہے تو سب کچھ جاننے والا بھی وہی ہے۔ ثبوت دعوی کا مدار چونکہ امر اول (پہلی دلیل) پر ہے اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا تھا اور پھر ان کے برے انجام کا ذکر کیا تھا۔ اللہ نے ان کی گرفت کا ذکر کیا کہ وہ ظلم وتعدی کرنے والوں کو ہی پکڑتا ہے ۔ پھر اللہ نے دنیا کے سازو سامان کی نا پانیداری کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اللہ کے ہاں جو نعمتیں ہیں وہ ہمیشہ رہنے والی ہیں اللہ نے انسان کو ترغیب دلائی کہ عقل سے کام لیں اور پائیدار چیزوں کو اختیار کریں اور عارضی چیزوں میں دل نہ لگائیں ۔ اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور نیکی والوں کا تقابل کفر ، شرک اور برائی والوں سے کیا ہے ۔ اس کے بعد رسالت کا ذکر ہے اور پھر توحید خدا ندی کی تائید او شرک کی تردید فرمائی…
Read the full tafseer →وَرَبُّكَ يَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُہُمْ وَمَا يُعْلِنُوْنَ 69
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
كن
الْكِنُّ : ما يحفظ فيه الشیء . يقال : كَنَنْتُ الشیء كَنّاً : جعلته في كِنٍّ «1» ، وخُصَّ كَنَنْتُ بما يستر ببیت أو ثوب، وغیر ذلک من الأجسام، قال تعالی: كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ
[ الصافات/ 49] ، كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَكْنُونٌ [ الطور/ 24] .
وأَكْنَنْتُ : بما يُستَر في النّفس . قال تعالی: أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ [ البقرة/ 235] وجمع الکنّ أَكْنَانٌ. قال تعالی: وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْجِبالِ أَكْناناً [ النحل/ 81] . والکِنَانُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–69
ترکیب : ھولاء مبتداء، موصوف الذی صلہ موصول صفت اغوینہم خبر کما غوینا صفت ویمکن ھولاء مبتداء الذین الخ خبر اغوینہم جملہ مستانفہ لو انہم کلمہ تسحر۔ اگر شرط ہو تو بارا دہ جواب محذوف۔
تفسیر : پھر دنیا کی نعمت اور آخرت کی مصیبت والے کا اس سے مقابلہ کرکے دکھاتا ہے کہ جس کے لیے حیات جاودانی اور سرور ابدی تیار رکھا ہے، اس کے جانے ہی کی دیر ہے، بقولہ افمن وعدًنہ وعد احسنا فہولا قیہ الخ کہ کیا دونوں شخص برابر ہوگئے ؟ ہرگز نہیں، بھلا کہاں وہ کہ اس کے لیے اس عالم میں بیشمار نعمتیں تیار کر رکھی ہوں اور وہ اس کو ملنے والی ہیں، اس کے برابر ہے کہ جس کو دنیا کی زندگانی کا اسباب عطا ہوا، لیکن قیامت کے روز اس…
Read the full tafseer →وَرَبُّکَ یَعْلَمُ مَا تُکِنُّ صُدُوْرُھُمْ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ۔ (القصص : 69)
(اور آپ کا رب جانتا ہے جو کچھ کہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں۔ )
صفتِ علم سے استدلال
جس سیاق کلام میں یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ دنیا میں کوئی شخص یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ میں نے فلاں معاملے میں جو رائے اختیار کر رکھی ہے مجھے آج تک اس سے مختلف ایسی کوئی دلیل نہیں مل سکی کہ جس سے میں اپنی رائے کو بدلنے پر مجبور ہوجاتا۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ میری رائے کی اصابت میں کوئی شبہ نہیں، لیکن اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ الفاظ کے طوطے مینا اڑانا اور سخن سازی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
فہم القرآن
ربط کلام : گمراہ اور ہدایت یافتہ لوگوں کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور اختیارات کا تذکرہ کرتا ہے۔
یہاں شرک کی نفی ایک خاص انداز میں کی گئی ہے۔ مقصود یہ بتلانا ہے کہ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات کو بھول کر دوسروں کو اپنا معبود اور مشکل کشا بنا لیتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مشرک اللہ تعالیٰ کے اختیار سے باہر ہیں ایسا ہرگز نہ ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ملہ کا نتیجہ ہے کہ اس نے لوگوں کو ہدایت اور گمراہی کے بارے میں اختیار دے رکھا ہے۔ کہ دونوں میں سے جس کا چاہیں انتخاب کرلیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو جس فطرت پر چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کس کو کس…
Read the full tafseer →69: وَرَبُّکَ یَعْلَمُ مَا تُکِنُّ صُدُوْرُہُمْ (اور آپ کا رب جانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں) ۔ تکن کا معنی چھپانا ہے۔ اور سینوں میں وہ چھپانے والی بات عداوت اور حسد ِرسول اللہ ﷺ تھا۔
وَمَا یُعْلِنُوْنَ (اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں) ۔ ان کے متعلق طعنہ زنیاں کہ ان کے علاوہ نبوت کے لئے اور کسی کو منتخب کیوں نہ کیا۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
69۔ وربک یعلم ماتکن صدورھم ومایعلنون، ، وہ ظاہر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–74
64 تا 73۔ اوپر کی آیتوں میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے قریش کو طرح طرح کی فہمائش کی ہے اسی طرح کی فہمایش ان آیتوں میں ہے حاصل اس فہمایش کا یہ ہے کہ اللہ کی عبادت چھوڑ کر جو یہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں ان کو اتنی سمجھ نہیں کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی ہزارہا نعمتوں میں سے مثلا ایک دن رات ہے ایک رات اگر اللہ کے حکم سے آفتاب نہ نکلے اور زمین کے اندر روکا ہی رہ جاوے یا جس طرح ہر روز شام کو اللہ کے حکم سے سورج غروب ہوتا ہے اسی طرح ایک رات کو غروب نہ ہو اور بجائے رات کے دن اور بجائے دن کے رات ہوجاوے اور ان لوگوں کے دن اور رات کے عادتی اور مقررہ کاموں میں ہرج پڑجاوے تو بھلا ان کے بتوں میں قدرت ہے کہ ان کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
آیت 67
اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق سے ان کے معبود اور ان کے رسولوں کے بارے میں اپنے سوال کا ذکر کرنے کے بعد اس طریق کا ذکر کرتا ہے جس کے ذریعے سے بندہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکتا ہے۔ بیشک صرف وہی شخص نجات حاصل کرسکتا ہے جو شرک اور معاصی سے توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے، اس کی عبادت کرتا ہے، اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے، ان کی تصدیق کرتا ہے، نیک عمل کرتا ہے اور اپنے اعمال میں رسولوں کی اتباع کرتا ہے۔
(فعسی ان یکون) ” پس امید ہے کہ وہ ہوں “ یعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام خصائل جمع ہیں۔ (من المفلحین) ” کامیاب ہونے والوں میں سے “۔ اپنا مطلوب و مقصود حاصل کرنے اور خوف سے نجات پانے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →96 اِبطال شرک علم الہی کے کمال کی رو سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہارا رب خوب اور ایک برابر جانتا ہے وہ سب کچھ جس کو یہ لوگ پوشیدہ رکھتے ہیں اپنے سینوں کے اندر اور جس کو یہ ظاہر کرتے ہیں "۔ اور جس اللہ کی یہ شان ہے اس کو دنیاوی بادشاہوں کی طرح سمجھ کر اور اس کو ان پر قیاس کرکے اس کے لئے خود ساختہ وسیلے ڈھونڈنا کس درجہ حماقت اور کتنی بڑی جہالت ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس کمال علمی کے بیان سے واضح ہوجاتا ہے کہ کوئی اس کا شریک وسہیم نہ ہوسکتا ہے اور نہ اس کی کوئی ضرورت و حاجت ہے۔ کیونکہ وہ جب لوگوں کی ان باتوں کو پوری طرح اور ایک برابر جانتا ہے جن کو وہ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
میدان حشر میں پوچھ گچھ اور اللہ کی قدرتیں
تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ بتایا گیا ہے کہ حشر کے میدان میں کفار و مشرکین حیران و پریشان بےسہارا سخت بےبسی کے عالم میں ادھر سے ادھر مارے مارے پھریں گے کوئی سفارش کرنے والا اور کوئی بچانے ولا ان کو دکھائی نہ دے گا اور ان کے معبود بھی ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گے یہ کہتے ہوئے کہ ” جب ہم نے ان کو گمراہی کی طرف بلایا اور پیغمبر نے ان کو حق کی طرف بلایا تو انہوں نے اپنی عقلوں سے کیوں کام نہ لیا ؟ اور کیوں اندھوں کی طرح ہمارے پیچھے لگ گئے ؟ ہمارا ان سے کوئی واسطہ نہیں یہ جانیں اور ان کا کام۔ “ عام زندگی میں بھی ہر شخص کو یہ سوچ سمجھ کر دوسرے کی بات ماننی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–75
آیات 61 تا 75
اسرارو معارف
اور بھلا جس شخص کو بہت حسین وعدہ دیا اگیا ہو یعنی آخرت کی کامیابی کا اور وہ اسے پانے والا بھی ہو اس کی برابری وہ شخص تو نہیں کرسکتا جس کے پاس چند روز مال و دولت دنیا تو ہو مگر قیامت کے روز اسے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہو وہ ایسا دن ہوگا کہ جب ان کفار و مشرکین پر سوال ہوگا کہ جن لوگوں کو تم نے میرا شریک مان رکھا تھا وہ کہاں ہیں تو وہ لوگ جو یہاں دنیا میں ان کے پیشوا بنے ہوئے ہیں اپنے اوپر جرم ثابت ہوچکنے کے بعد یہ عذر کریں گے کہ اے اللہ خود گمراہ تھے لہذا انہیں بھی وہی کچھ بتایا جس پر خود عمل کرتے تھے لیکن انہوں نے ہماری بات اپنے اختیار سے مانی ہم نے ان پر کوئی…
Read the full tafseer →2 ۔ یعنی وہ ان کے دل کی باتوں کو بھی اسی طرح جانتا ہے جس طرح ان باتوں کو جنہیں وہ اپنی زبانوں پر لاتے ہیں۔ لہٰذا اگر یہ ایسا کریں کہ دلوں میں کفر و شرک یا نبی ﷺ کی عداوت چھپائے رکھیں اور ظاہر میں مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے لگیں تو اس سے انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →(28:29) تکن۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ فاعل صدور چونکہ اسم ظاہر ہے اور جمع مکسر ہے اس لئے فعل کو مؤنث لایا گیا ہے اکن یکن اکنان افعال۔ کسی بات کو دل میں چھپانا۔ تکن وہ چھپاتی ہے ما تکن صدرہم جو ان کے سینے میں چھپائے ہوئے ہیں۔ جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے اور جگہ قرآن مجید میں ہے او اکننتم فی انفسکم (2:235) یا اپنے دلوں میں مخفی رکھو (نکاح کی خواہش کو)
یعلنون۔ مضارع جمع مذکر غائب اعلان (افعال) مصدر۔ وہ ظاہر کرتے ہیں۔ وہ علانیہ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
لغات القرآن آیت نمبر (68 تا 75 )
یختار (وہ پسند کرتا ہے۔ منتخب کرتا ہے) ۔ الخیرۃ (اختیار ۔ پسند ) ۔ تکن (چھپتا ہے) ۔ سرمد (ہمیشہ ) ۔ ضیاء (روشنی۔ چمک ) ۔ تسکنون (تم سکون حاصل کرتے ہو) ۔ تبتغوا (تم تلاش کرتے ہو) ۔ نزعنا (ہم نے کھینچ لیا۔ نکال لیا) ۔ ھاتوا (لے آئو۔ (تم آئو) ۔ برھان (دلیل۔ پسند) ۔ ضل (بھٹک گیا۔ گم ہوگیا) ۔ یفترون (وہ گھڑتے ہیں۔ بناتے ہیں ) ۔
تشریح : آیت نمبر (68 تا 75 ) ۔ ” نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ہر شخص کو بتایا جارہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اس کائنات میں ساری قدرت، طاقت، ہر چیز کی خوبی اور عبادت و بندگی صرف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنا پیغام پہنچانے کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–74
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان کو اپنے سامنے کھڑا کرکے ان سے پوچھے گا کہ بتلاؤ تم لوگوں نے اللہ کے رسولوں کی فرمانبرداری کی تو ان کے ہوش اڑجائیں گے اور ان کو جواب تک نہ آئے گا یہ توحید اور اطاعت رسول کا سوال گویا آخری سوال ہے ۔ جو میدان قیامت میں خاص اللہ تعالیٰ کے روبرو ہوگا اور یوں تو توحید اور اطاعت رسول کی پرسش آدمی کو قبر میں دفناتے ہی شروع ہوجاتی ہے چناچہ دفنانے والے لوگ ابھی قبرستان سے پلٹ کر بھی نہیں آتے کہ منکرنکیر یہ دوفرشتے مردہ کے پاس آن کر اس سے توحید اور اطاعت رسول کا سوال کرتے ہیں ۔ جو شخص توحید اور اطاعت رسول پر ثابت قدم دنیا سے اٹھا ہے وہ ان کے…
Read the full tafseer →[41] یعنی دل میں جو فاسد عقیدے یا بری نیتیں رکھتے ہیں اور زبان، ہاتھ، پاؤں وغیرہ سے جو کام کرتے ہیں سب اللہ کے علم میں ہیں اور وہ اسی کے موافق ان کا معاملہ کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
حل لغات :۔ سرمدا ۔ دائمی ۔ ہمیشہ
Read the full tafseer →69۔ اور آپ کے پروردگار کو وہ سب باتیں معلوم ہیں جو ان کے سینوں نے چھپا رکھی ہیں اور وہ بھی معلوم ہیں جو یہ لوگ علانیہ کرتے ہیں۔ یعنی علم بھی ایسا کامل ہے کہ کسی دوسرے کو ایسا علم نہیں جو ہر شخص کے سینے کی باتوں سے اور اس کی علانیہ باتوں سے واقف ہو تو وہ علم میں بھی منفرد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
ف 1۔ کیونکہ اس کے تصرفات دونوں عالم میں ایسے ہیں جو دال ہیں صفات کمال پر کہ مدار ہیں اہلیت حمد کے۔
Read the full tafseer →بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہاری چھپی باتیں بھی جانتا ہے اور ظاہر باتیں بھی :
69۔ وہ تمہاری ساری باتوں سے واقف ہے جو تم کر کے بھول گئے اور جو تم کر رہے ہو ان سے بھی اور جو تم کرو گے ان سے بھی کیونکہ ان کے لئے ماضی اور مستقبل کوئی چیز نہیں یہ سارے کا سارا چکر تو تم انسانوں کے لئے ہے پھر جو سینے کے رازوں سے بھی واقف ہے اس کے ساتھ کسی کو کوئی شریک ٹھہرائے گا تو اس کی آخر حقیقت کیا ہوگی اور یہ بھی کہ جب وہ وحدہ لاشریک ہے تو پھر اس کے کاموں میں کسی کو دخل دینے کا آخر حق کیا ہے ؟ عقل کے ناخن لو اور سیدھی بات کو سیدھے طریقہ سے سمجھنے کی کوشش کرو اور آباؤ و اجداد کی اندھی تقلید کو چھوڑ دو اب زمانہ روشنی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّـهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِضِيَاءٍ ۖ أَفَلَا تَسْمَعُونَ ﴿71﴾ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّـهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ ۖ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ﴿72﴾
Say, "Tell me, if Allah makes night continuing upon you forever upto the Day of Judgment, which god, other than Allah, would bring to you light? Then do you not listen?" Say, "Tell me, if Allah makes the day continuing upon…
Read the full tafseer →91 The object for which this thing has been said in this context is: A person (or persons) can make a claim before the people in this world that he is fully satisfied on rational grounds that the deviation he has adopted is sound and right, and the arguments that are given against it are not convincing; that he has adopted the deviation not due to any evil motive but with the sincerest and purest intentions; that he has never been confronted by anything that might have proved him to be in the wrong. But he cannot advance such an argument before Allah, for Allah is not only aware of the open,…
Read the full tafseer →