Al-Qasas 28:68

Al-Qasas · from ayah 68

28:68

وَرَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَیَخْتَارُ ؕ— مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ ؕ— سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِكُوْنَ ۟وَرَبُّكَ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ وَيَخۡتَارُ‌ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الۡخِيَرَةُ‌ ؕ سُبۡحٰنَ اللّٰهِ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ

اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) برگزیدہ کرلیتا ہے۔ ان کو اس کا اختیار نہیں ہے۔ یہ جو شرک کرتے ہیں خدا اس سے پاک وبالاتر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And your Lord creates what He wills and chooses; not for them was the choice. Exalted is Allah and high above what they associate with Him.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 7 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:68

تیرا رب پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور (وہ خود ہی اپنے کام کے لیے جسے چاہتا ہے) منتخب کر لیتا ہے، یہ انتخاب اِن لوگوں کے کرنے کا کام نہیں ہے، اللہ پاک ہے اور بہت بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) برگزیدہ کرلیتا ہے۔ ان کو اس کا اختیار نہیں ہے۔ یہ جو شرک کرتے ہیں خدا اس سے پاک وبالاتر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے، ان میں سے کسی کو کوئی اختیار نہیں، اللہ ہی کے لیے پاکی ہے وه بلند تر ہے ہر اس چیز سے کہ لوگ شریک کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور (جو چاہتا ہے) پسند کرتا ہے۔ ان کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ اللہ ان کے شرک سے پاک ہے اور بہت بالا و برتر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہے اور پسند فرماتا ہے ان کا کچھ اختیار نہیں، پاکی اور برتری ہے اللہ کو ان کے شرک سے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور (جسے چاہتا ہے نبوت اور حقِ شفاعت سے نوازنے کے لئے) منتخب فرما لیتا ہے، ان (منکر اور مشرک) لوگوں کو (اس امر میں) کوئی مرضی اور اختیار حاصل نہیں ہے۔ اللہ پاک ہے اور بالاتر ہے ان (باطل معبودوں) سے جنہیں وہ (اللہ کا) شریک گردانتے ہیں۔،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تیرا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور چن لیتا ہے، ان کے لیے کبھی بھی اختیار نہیں، اللہ پاک ہے اور بہت بلند ہے، اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ کا پروردگار ! جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہے (اپنے کام کے لئے) منتخب کرلیتا ہے۔ انھیں اس کا کچھ اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور جو کچھ یہ شریک بناتے ہیں اس سے وہ بالاتر ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تیرا رب ہی پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ ان کو کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اللہ پاک و برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تمہارا رب پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے اور چنتا اور برگزیدہ کرتا ہے جس کو چاہتا ہے یہ اختیار ان لوگوں کا کام نہیں اللہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کا پروردگار پیدا کرتا ہے جس چیز کو بھی اس کی مشیت ہوتی ہے اور جو (حکم بھی) وہ پسند کرے ان لوگوں کو تجویز کا کوئی حق نہیں۔ اللہ پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آپ ﷺ کا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور منتخب کرلیتا ہے (جسے چاہتا ہے) (جبکہ) ان کو کچھ بھی اختیار نہیں۔ اللہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو یہ لوگ شرک کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تمہارا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے برگزیدہ کرلیتا ہے ان کو اس کا اختیار نہیں ہے۔ یہ جو شرک کرتے ہیں اللہ اس سے پاک اور بالاتر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Your Lord creates what He will and chooses (for His tasks) whomsoever He will. It is not for them to make the choice. Glory be to Allah. He is exalted far above their associating others in His Divinity.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Your Lord creates what He wills and chooses. Choice is not theirs. Pure is Allah and far higher than their ascribing of partners to Him.

— Muhammad Taqi Usmani

Your Lord creates what He wills and chooses. Choice is not theirs. Pure is Allah and far higher than their ascribing of partners to Him.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And your Lord creates whatsoever He wills and chooses, no choice have they. Glorified is Allah, and exalted above all that they associate.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thy Lord bringeth to pass what He willeth and chooseth. They have never any choice. Glorified be Allah and Exalted above all that they associate (with Him)!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And your Lord creates what He wills and chooses; not for them was the choice. Exalted is Allah and high above what they associate with Him.

— Saheeh International

Your Lord creates and chooses (to grant mercy) to whomever He wants. (In matters of guidance) they (unbelievers) do not have the choice to choose whatever they want. God is too exalted to be considered equal to anything else.

— Muhammad Sarwar

And your Lord creates and chooses whom He pleases; to choose is not theirs; glory be to Allah, and exalted be He above what they associate (with Him).

— Muhammad Habib Shakir

And thy lord createth whatsoever He listeth and chooseth; no Choice is to be far them. Hallowed be Allah and exalted above that which they associate!

— Abdul Majid Daryabadi

Thy Lord does create and choose as He pleases: no choice have they (in the matter): Glory to Allah! and far is He above the partners they ascribe (to Him)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:68

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 68–70

ٖصفات الٰہی ساری مخلوق کا خالق تمام اختیارات والا اللہ ہی ہے۔ نہ اس میں کوئی اس سے جھگڑنے والا نہ اس کا شریک و ساتھی۔ جو چاہے پیدا کرے جسے چاہے اپنا خاص بندہ بنالے۔ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا ہو نہیں سکتا۔ تمام امور سب خیرو شر اسی کے ہاتھ ہے۔ سب کی باز گشت اسی کی جانب ہے کسی کو کوئی اختیار نہیں۔ یہی لفظ اسی معنی میں آیت (وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ 36؀ۭ) 33۔ الأحزاب :36) میں ہے دنوں جگہ ما نافیہ ہے۔ گو ابن جریر نے یہ کہا کہ ما معنی میں الذی کے ہے یعنی اللہ پسند کرتا ہے اسے جس میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القصص 90 یہ ارشاد دراصل شرک کی تردید میں ہے، مشرکین نے اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے جو بیشمار معبود اپنے لیے بنا لیے ہیں، اور ان کو اپنی طرف سے جو اوصاف، مراتب اور مناصب سونپ رکھے ہیں، اس پر اعتراض کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے پیدا کیے ہوئے انسانوں، فرشتوں، جنوں اور دوسرے بندوں میں سے ہم خود جس کو جیسے چاہتے ہیں اوصاف، صلاحیتیں اور طاقتیں بخشتے ہیں اور جو کام جس سے لینا چاہتے ہیں لیتے ہیں، یہ اختیارات آخر ان مشرکین کو کیسے اور کہاں سے مل گئے کہ میرے بندوں میں سے جس کو چاہیں مشکل کشا، جسے چاہیں گنج بخش اور جسے چاہیں فریاد فرس قرار دے لیں ؟ جسے چاہیں بارش برسانے کا مختار، جسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 68–70

خلاصہ تفسیر اور آپ کا رب (بالانفراد صفات کمال کے ساتھ موصوف ہے چناچہ وہ) جس چیز کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے (تو تکوینی اختیارات بھی اسی کو حاصل ہیں) اور جس حکم کو چاہتا ہے پسند کرتا ہے (اور انبیاء کے ذریعہ سے نازل فرماتا ہے پس تشریعی اختیارات بھی اسی کو حاصل ہیں) ان لوگوں کو تجویز (احکام) کا کوئی حق (حاصل) نہیں (کہ جو حکم چاہے تجویز کرلیں جیسے یہ مشرک اپنی طرف سے شرک کو جائز تجویز کر رہے ہیں اور اس خصوصی اختیار سے ثابت ہو کہ) اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے (کیونکہ جب تکوینًا و تشریعاً خالق اور مختار ہونے میں وہ منفرد ہے تو عبادت کا بھی تنہا وہی مستحق ہے کیونکہ معبود ہونا صرف اس کا حق…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرشتوں کی ایک حیثیت یہاں یختار کے بعد بھی مایشآء بربنائے قرینہ محذوف ہے۔ یہ فرشتوں کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو بھی خدا ہی نے پیدا کیا ہے اور اگر ان کو اپنا مقرب و برگزیدہ بنایا ہے تو اسی نے بنایا ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اللہ یضطفی من الملٓئکۃ رسلاً و من الناس (الحج :75) (اللہ منتخب کرتا ہے اپنے رسول فرشتوں میں سے بھی اور لوگوں کے اندر سے بھی) مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو جو برتری باعتبار خلق یا باعتبار تقرب حاصل ہے، وہ خدا ہی کی عطا کردہ ہے۔ اس چیز کی بنا پر ان کو یہ درجہ حاصل نہیں ہوگیا ہے کہ ان کو خدا کی خدائی میں شریک بنا دیا جائے۔ ماکان لھم الخیرۃ ان کو بذات خود کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 67–68

68-1یعنی اللہ تعالیٰ مختار کل ہے اس کے مقابلے میں کسی کو سرے سے کوئی اختیار ہی نہیں، چہ جائکہ کوئی مختار کل ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 68–72

39: یہ کفار کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ پیغمبر ہمارے سرداروں اور دولت مند لوگوں میں سے کسی کو کیوں نہیں بنایا گیا ؟ مختصرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے یہ ساری کائنات پیدا کی ہے اور اسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کس کو اپنا پیغمبر بنائے ان لوگوں کو کوئی اختیار نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 68–70

اب ہر امر اور ہر چیز کو نتیجہ ارادہ الٰہی قرار دیا جاتا ہے ، کیونکہ وہی ذات ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور تمام معاملات اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ اول میں بھی آخر میں بھی۔ دنیا میں بھی وہی قابل تعریف ہے اور آخرت میں بھی وہی قابل تعریف ہے۔ دنیا میں بھی اس کا حکم چلتا ہے اور آخرت بھی اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ لوگوں کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے خود کوئی فیصلہ کرسکیں نہ دوسروں کے بارے میں یہاں کوئی انسان کوئی فیصلہ کرسکتا ہے۔ اللہ جو چاہتا ہے ، تخلیق کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، اختیار کرلیتا ہے۔ وربک یخلق ۔۔۔۔۔۔ والیہ ترجعون (68: 70) ” ۔ ۔ “۔ یہ تبصرہ ان لوگوں کے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی ہر چیز کا پیدا کرنا بھی اسی کی مشیت و اختیار سے ہے اور کسی چیز کو پسند کرنے یا چھانٹ کر منتخب کرلینے کا حق بھی اسی کو حاصل ہے۔ جو اس کی مرضی ہو احکام بھیجے۔ جس شخص کو مناسب جانے کسی خاص منصب و مرتبہ پر فائز کرے۔ جس کسی میں استعداد دیکھے راہ ہدایت پر چلا کر کامیاب فرما دے اور مخلوقات کی ہر جنس میں سے جس نوع کو یا نوع میں سے جس فرد کو چاہے اپنی حکمت کے موافق دوسرے انواع و افراد سے ممتاز بنا دے۔ اس کے سوا کسی دوسرے کو اس طرح کے اختیار و انتخاب کا حق حاصل نہیں۔ حافظ ابن القیم نے زادالمعاد کے اوائل میں اس مضمون کو بہت بسط سے لکھا ہے فلیراجع۔ 8 یعنی تخلیق و تشریع اور اختیار مذکور میں حق…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 67–68

آیت 68 وَرَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَیَخْتَارُ ط ” تمام مخلوق اسی کی ہے ‘ اپنی مخلوق میں سے اس نے جس کو چاہا منتخب کرلیا اور رسول بنا لیا : اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلآءِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ط الحج : 75 ”اللہ چن لیتا ہے اپنے پیغامبر فرشتوں میں سے اور انسانوں میں سے ”۔ سورة آل عمران میں یہی مضمون اس طرح آیا ہے : اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفآی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰہِیْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ”یقیناً اللہ نے چن لیا آدم علیہ السلام کو اور نوح علیہ السلام کو اور آل ابراہیم علیہ السلام کو اور آل عمران کو تمام جہان والوں پر۔“ مَا کَانَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُط سُبْحٰنَ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

92 یعنی چونکہ اللہ تعالیٰ ہی سب لوگوں کا خالق ہے اس لئے وہی یہ بات جان سکتا ہے کہ اس نے کس شخص کو کس طرح کی خصوصیات اور استعداد عطا کی ہے۔ پھر وہ اپنے اسی علم کی بنا پر اپنی مخلوق میں سے جسے چاہے اور جس کام کے لئے چن لیتا ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ چونکہ اللہ نے یہ سب لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ لہذا اوامرو نواہی یا لوگوں کو کسی کام کا حکم دینے اور کسی کام سے باز رہنے کا حکم دینے کا اختیار بھی صرف اللہ ہی کو ہے نیز اگر اللہ کسی کو اپنا رسول بنادے تو دوسرے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس پر اعتراض کرے اور اگر اللہ تعالیٰ کہے کہ رسول کی اطاعت تم پر فرض ہے۔ جو کچھ وہ کہے تمہیں کرنا ہوگا اور جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 67–68

88۔ سارے تکوینی وتشریعی اختیارات اس کو اور صرف اس کو حاصل ہیں، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اپنے ارادہ اختیار کے غیر مستقل ہونے کا علما وعملا استحضار رکھنا جبریت محمود ہے۔ 9 8۔ (بلحاظ ذات بھی، بلحاظ صفات بھی) یونان کے ” حکماء “ بھی اکثر مشرک ہوئے ہیں۔ خدا کا وجود تسلیم کرنے کے بعد بھی عجیب عجیب قیود سے اسے مقید مانا ہے۔ آیت توحید کامل کی شارح ان سب شرکوں کی جڑکاٹ رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–75

آیت نمبر 61 تا 75 ترجمہ : بھلا وہ شخص کہ جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے جسے وہ قطعاً پانے والا ہے یعنی اس وعدۂ (موعودبہٖ ) کو پہنچنے والا ہے اور وہ جنت ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے، جو عنقریب زائل ہوجائے گا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کرکے دوزخ میں حاضر کئے جائیں گے اول شخص مومن ہوگا اور دوسرا کافر یعنی دونوں میں کوئی مساوات نہ ہوگی اور اس دن کو یاد کرو کہ جس دن خدا تعالیٰ ان کافروں کو پکار کر کہے گا میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم سمجھتے تھے وہ میرے شریک ہیں جن پر خدا کا دخول نار کا حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وربک یخلق ما یشآء ویختار ما کان لھم الخیرۃ سبحن اللہ و تعلی عما یشرکون . اور آپ کا رب جس چیز کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جس حکم کو چاہتا ہے) اختیار کرتا ہے۔ ان لوگوں کو (تخلیق اور تجویز احکام کا) کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی شرک آفرینی سے پاک اور برتر ہے۔ وَیَخْتَار اور جس کو جس چیز کے لئے چاہتا ہے اختیار کرلیتا ہے۔ اس نے تمام لوگوں کو چھوڑ کر نبوت کے لئے محمد ﷺ کا انتخاب کرلیا۔ بغوی نے لکھا ہے : مشرکوں نے کہا تھا کہ یہ قرآن دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہی اتارا گیا یعنی ولید بن مغیرہ ر پر یا عروۃ بن مسعود ثقفی پر ‘ اس قول کے جواب میں آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ مَا کَانَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(68) اور آپ کا پروردگار جیسا چاہتا ہے پیدا کرتا اور اپنی مخلوقات میں سے جس کو چاہتا ہے نبوت کے لیے پسند فرماتا ہے یعنی رسول اکرم ﷺ کو اس نے منتخب فرمایا ان کفار مکہ کو کسی قسم کا کوئی بھی حق حاصل نہیں اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ وَيَخْتَارُ : قیامت کے دن مشرکین کی رسوائی اور ان کے شرکاء کی بےبسی کے اظہار کے بعد اللہ تعالیٰ کی توحید کا اور اس کے چند دلائل کا ذکر فرمایا۔ چناچہ فرمایا : ”تیرا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جس چیز کو یا جس شخص کو چاہتا ہے چن لیتا ہے۔“ ظاہر ہے جس نے پیدا کیا وہی چنے گا۔ جس کا پیدا کرنے میں کوئی حصہ ہی نہیں، کسی چیز یا شخص کے انتخاب میں اس کا کیا دخل ہوسکتا ہے۔ پھر کسی چیز یا شخص کو چننا صرف اسی کی مشیت پر موقوف ہے، نہ اس میں کسی کا مشورہ چلتا ہے، نہ کسی چیز یا شخص کی خوبی کی وجہ سے اسے چننا اس پر لازم ہے، کیونکہ : (لَا يُسْــَٔـلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 68–70

وربک یخلق مایشآء و یختار یہ ان شرکئا کی ذکر کے ساتھ متصل ہے جن کی انہوں نے عبادت کی اور انہوں نے شفاعت کے لئے انہیں اختیار کیا۔ شفعاء میں اختیار اللہ تعالیٰ کا ہے مشرکین کا اس میں کوئی اختیار نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ولدین بن مغیرہ کا جواب ہے جب اس نے کہا، لو لا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم۔ (الزخرف : 31) یعنی اس نے اپنے آپ کو اور طائف سے عروہ بن مسعود ثقفی کو عظیم خیال کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ یہودیوں کا جواب ہے جب انہوں نے کہا : اگر جبریل امین کے علاوہ حضرت محمد ﷺ کی طرف پیغام لانے والا ہوتا تو ہم اس پر ایمان لے آتے۔ حضرت ابن عباس نے کہا، تیرا رب مخلوق میں سے جسے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 68–70

1۔ ابن ابی حاتم نے ارطاۃ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابی عون الحمص (رح) سے تقدیر کی بات میں سے کچھ پوچھاتو انہوں نے فرمایا کیا تم اللہ کی کتاب کو نہیں پڑھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وربک یخلق مایشاء ویختار ماکان لہم الخیرۃ اور آپ کا رب جس چیز کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جس حکم کو چاہتا ہے اختیار کرلیتا ہے۔ 2۔ البخاری وابو داوٗد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہ والبیہقی جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کسی درپیش کام کے بارے میں ہم کو استخارہ اس اہتمام سے سکھات تھے جیسے ہم کو قرآن مجید میں سے کوئی سورت سکھاتے تھے اور یوں فرماتے تھے جب تمہیں کوئی کام درپیش ہو تو فرض…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَرَبُّكَ [اور آپ ﷺ کا رب ] يَخْلُقُ [پیدا کرتا ہے ] مَا [اس کو جس کو ] يَشَاۗءُ [وہ چاہتا ہے ] وَيَخْتَارُ ۭ [اور وہ چن لینا ہے (جس کو چاہتا ہے)] مَا كَانَ [نہیں ہے ] لَهُمُ [ان لوگوں کے لئے ] الْخِيَرَةُ ۭ [پسند کرنے کا اختیار ] سُبْحٰنَ اللّٰهِ [پاکیزگی اللہ کی ہے ] وَتَعٰلٰى [اور وہ بلند ہوا ] عَمَّا [اس سے جو ] يُشْرِكُوْنَ [یہ لوگ شرک کرتے ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 66–68

اگر اللہ تعالیٰ رات یا دن کو ہمیشہ باقی رکھتے تو وہ کون ہے جو اس کے مقابلہ میں رات یا دن لاسکے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہٗ کی صفات جلیلہ اور قدرت کاملہ کے مظاہر بیان فرمائے جن میں بندوں پر بھی امتنان ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا (وَ رَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ ) (آپ کا رب جو چاہے پیدا فرمائے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے) بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس میں ولید بن المغیرہ کی بات کا جواب دیا ہے جو اس نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو رسول بھیجنا ہی تھا تو مکہ اور طائف کے شہروں میں سے کسی بڑے آدمی کو بھیجنا چاہیے تھا (یعنی جو اس کے ذہن میں بڑا تھا) اہل دنیا دنیا داروں ہی کو بڑا سمجھتے ہیں اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–70

ظہور ثمرات ایمان وہدایت ونتائج کفر وضلالت در روز قیامت قال اللہ تعالیٰ افمن وعدنہ وحدا حسنا۔۔۔ الی۔۔۔ الہ الحکم والیہ ترجعون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ایمان وہدایت کی ترغیب اور کفر وضلالت سے ترہیب کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ ایمان اور ہدایت کے ثمرات اور کفر وضلالت کے نتائج کا ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ اول۔ افمن وعدنہ وعدا حسنا کی آیت میں اجمالی طور پر اہل دنیا اور اہل آخرت کے تفاوت کو بیان کیا بعد ازاں اس تفاوت کی تفصیل فرمائی کہ قیامت کے دن اہل ضلالت سے قیامت کے دن بطور زجر و توبیخ تین سوال ہوں گے۔ پہلا سوال : این شرکای الذین کنتم تزعمون۔ یعنی بتلاؤ کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ٖ 64:۔ یہاں سے لے کر ولعلکم تشکرون تک وہی دعوی دلائل عقلیہ سے ثابت کیا گیا ہے جس کی تبلیغ و اشاعت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عمر بھر مصائب برداشت کیے اور جسے فرعون نے رد کیا اور مقابلے میں ما علمت لکم من الہ غیری کا دعوی کیا اور جس دعوے کی تبلیغ کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کو بھیجا گیا اور مشرکین مکہ نے اس کا انکار کیا۔ وہ دعوی یہ تھی وھو اللہ لا الہ الا ھو الخ یعنی غائبانہ حاجات میں پکارنے کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہے اور کوئی نہیں۔ وربک یخلق الخ، یہ دعوی مذکورہ پر پہلی عقلی دلیل ہے۔ یعنی ساری کائنات کا خالق اور سارے جہاں میں متصرف و مختار اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس کی مخلوق میں سے کوئی مختار…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–70

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا تھا اور پھر ان کے برے انجام کا ذکر کیا تھا۔ اللہ نے ان کی گرفت کا ذکر کیا کہ وہ ظلم وتعدی کرنے والوں کو ہی پکڑتا ہے ۔ پھر اللہ نے دنیا کے سازو سامان کی نا پانیداری کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اللہ کے ہاں جو نعمتیں ہیں وہ ہمیشہ رہنے والی ہیں اللہ نے انسان کو ترغیب دلائی کہ عقل سے کام لیں اور پائیدار چیزوں کو اختیار کریں اور عارضی چیزوں میں دل نہ لگائیں ۔ اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور نیکی والوں کا تقابل کفر ، شرک اور برائی والوں سے کیا ہے ۔ اس کے بعد رسالت کا ذکر ہے اور پھر توحید خدا ندی کی تائید او شرک کی تردید فرمائی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاۗءُ وَيَخْتَارُ۝ 0ۭ مَا كَانَ لَہُمُ الْخِيَرَۃُ۝ 0ۭ سُبْحٰنَ اللہِ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۝ 68 رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 61–69

ترکیب : ھولاء مبتداء، موصوف الذی صلہ موصول صفت اغوینہم خبر کما غوینا صفت ویمکن ھولاء مبتداء الذین الخ خبر اغوینہم جملہ مستانفہ لو انہم کلمہ تسحر۔ اگر شرط ہو تو بارا دہ جواب محذوف۔ تفسیر : پھر دنیا کی نعمت اور آخرت کی مصیبت والے کا اس سے مقابلہ کرکے دکھاتا ہے کہ جس کے لیے حیات جاودانی اور سرور ابدی تیار رکھا ہے، اس کے جانے ہی کی دیر ہے، بقولہ افمن وعدًنہ وعد احسنا فہولا قیہ الخ کہ کیا دونوں شخص برابر ہوگئے ؟ ہرگز نہیں، بھلا کہاں وہ کہ اس کے لیے اس عالم میں بیشمار نعمتیں تیار کر رکھی ہوں اور وہ اس کو ملنے والی ہیں، اس کے برابر ہے کہ جس کو دنیا کی زندگانی کا اسباب عطا ہوا، لیکن قیامت کے روز اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَرَبُّکَ یَخْلُقُ مَایَشَآئُ وَیَخْتَارُ ط مَا کَانَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ ط سُبْحٰنَ اللّٰہِ وَتَعٰـلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (القصص : 68) (اور آپ کا رب ہی پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے (جو چاہتا ہے) ، انھیں کچھ اختیار نہیں، اللہ پاک و برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ ) شرک کے خلاف صفت خلق و اختیار سے استدلال اس آیت کریمہ میں ایک بہت بڑی حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ کائنات میں جتنی مخلوقات ہیں ان سب کا خالق ایک ہے۔ چاہے ان مخلوقات کا تعلق انسانوں سے ہو یا فرشتوں سے یا جنوں سے۔ چاہے ان کا تعلق زمینوں سے یا آسمانوں سے اور چاہے ان کا تعلق مکانوں میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 68–70

فہم القرآن ربط کلام : گمراہ اور ہدایت یافتہ لوگوں کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور اختیارات کا تذکرہ کرتا ہے۔ یہاں شرک کی نفی ایک خاص انداز میں کی گئی ہے۔ مقصود یہ بتلانا ہے کہ اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی ذات کو بھول کر دوسروں کو اپنا معبود اور مشکل کشا بنا لیتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مشرک اللہ تعالیٰ کے اختیار سے باہر ہیں ایسا ہرگز نہ ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ملہ کا نتیجہ ہے کہ اس نے لوگوں کو ہدایت اور گمراہی کے بارے میں اختیار دے رکھا ہے۔ کہ دونوں میں سے جس کا چاہیں انتخاب کرلیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو جس فطرت پر چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کس کو کس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

68: یہ لولا نزل ہذا القرآن علی رجلٍ من القریتین عظیم (الزخرف : 31) جو ولید بن مغیرہ نے کہا تھا۔ رجل سے اپنی ذات یا ابو مسعود ثقفی مراد لے رہا تھا۔ اس کے جواب میں یہ آیت اتری۔ وَرَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآئُ (اور آپ کا رب جس چیز کو وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے) ۔ نحو : اس میں دلالت ہے کہ افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ قراءت : ویختارُ پر وقف ہے۔ یعنی اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور آپ کا رب جو چاہتا ہے چنتا ہے۔ تقدیر کلام : وربک یخلق مایشاء وربک یختار مایشائُ ۔ مَاکَانَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ (ان کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے) ۔ یعنی ان کو کچھ بھی اختیار نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر کسی چیز کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

68۔ وربک یخلق مایشاء ویختار، ، یہ آیت مشرکین کے جواب میں نازل ہوئی ، جب انہوں نے یہ کہا تھا کہ یہ قرآن دوبستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر نازل کیوں نہیں ہوا، یعنی ولید بن مغیرہ، پر یاعروہ بن مسعود ثقفی، پر اس پر اللہ نے ان کو جواب دیا کہ تمہارے اختیار سے اللہ تعالیٰ رسول نہیں بھیجتے۔ ماکان لھم الخیرہ، ، بعض نے کہا کہ مااثبات کے لیے ہے اس کا معنی یہ ہے کہ بندوں کے لیے جس چیز میں بہتری ہوتی ہے اللہ اس کو اختیار کرتا ہے۔ بعض نے کہا کہ مانفی کے لیے ہے، یعنی ان پر اختیار نہیں یا ان کو اللہ تعالیٰ پر کوئی اختیار نہیں یہ لوگ جو چاہیں کروائیں جیسا کہ ارشاد باری ہے ، وماکان لمومن ولامومنہ، اذاقضی اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 64–74

64 تا 73۔ اوپر کی آیتوں میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے قریش کو طرح طرح کی فہمائش کی ہے اسی طرح کی فہمایش ان آیتوں میں ہے حاصل اس فہمایش کا یہ ہے کہ اللہ کی عبادت چھوڑ کر جو یہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں ان کو اتنی سمجھ نہیں کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی ہزارہا نعمتوں میں سے مثلا ایک دن رات ہے ایک رات اگر اللہ کے حکم سے آفتاب نہ نکلے اور زمین کے اندر روکا ہی رہ جاوے یا جس طرح ہر روز شام کو اللہ کے حکم سے سورج غروب ہوتا ہے اسی طرح ایک رات کو غروب نہ ہو اور بجائے رات کے دن اور بجائے دن کے رات ہوجاوے اور ان لوگوں کے دن اور رات کے عادتی اور مقررہ کاموں میں ہرج پڑجاوے تو بھلا ان کے بتوں میں قدرت ہے کہ ان کے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 67–69

آیت 67 اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق سے ان کے معبود اور ان کے رسولوں کے بارے میں اپنے سوال کا ذکر کرنے کے بعد اس طریق کا ذکر کرتا ہے جس کے ذریعے سے بندہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکتا ہے۔ بیشک صرف وہی شخص نجات حاصل کرسکتا ہے جو شرک اور معاصی سے توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے، اس کی عبادت کرتا ہے، اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے، ان کی تصدیق کرتا ہے، نیک عمل کرتا ہے اور اپنے اعمال میں رسولوں کی اتباع کرتا ہے۔ (فعسی ان یکون) ” پس امید ہے کہ وہ ہوں “ یعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام خصائل جمع ہیں۔ (من المفلحین) ” کامیاب ہونے والوں میں سے “۔ اپنا مطلوب و مقصود حاصل کرنے اور خوف سے نجات پانے میں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–88

سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

94 خلق و اختیار حق تعالیٰ ہی کی شان ہے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور تمہارا رب پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے اور چتنا ہے جو چاہتا ہے "۔ پس جس طرح اس کی صفت خلق و ایجاد میں کسی کا کوئی دخل و اختیار نہیں وہ جو چاہے اور جیسا چاہے پیدا کرے اسی طرح اس کی صفت عطاء و اختیار میں بھی کسی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوسکتا۔ وہ جو احکام چاہے صادر فرمائے اور جس کو چاہے شرف نبوت سے سرفراز فرمائے۔ لہذا کفار قریش کا نبوت محمدیہ پر یہ اعتراض بھی لغو اور باطل ہے کہ یہ نعمت مکہ اور طائف کے کسی سردار کو کیوں نہ بخشی گئی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وقالوا لولا نُزِّلَ ہذَا الْقُرْآنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 65–70

میدان حشر میں پوچھ گچھ اور اللہ کی قدرتیں تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی دفعہ بتایا گیا ہے کہ حشر کے میدان میں کفار و مشرکین حیران و پریشان بےسہارا سخت بےبسی کے عالم میں ادھر سے ادھر مارے مارے پھریں گے کوئی سفارش کرنے والا اور کوئی بچانے ولا ان کو دکھائی نہ دے گا اور ان کے معبود بھی ان کا ساتھ چھوڑ جائیں گے یہ کہتے ہوئے کہ ” جب ہم نے ان کو گمراہی کی طرف بلایا اور پیغمبر نے ان کو حق کی طرف بلایا تو انہوں نے اپنی عقلوں سے کیوں کام نہ لیا ؟ اور کیوں اندھوں کی طرح ہمارے پیچھے لگ گئے ؟ ہمارا ان سے کوئی واسطہ نہیں یہ جانیں اور ان کا کام۔ “ عام زندگی میں بھی ہر شخص کو یہ سوچ سمجھ کر دوسرے کی بات ماننی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–75

آیات 61 تا 75 اسرارو معارف اور بھلا جس شخص کو بہت حسین وعدہ دیا اگیا ہو یعنی آخرت کی کامیابی کا اور وہ اسے پانے والا بھی ہو اس کی برابری وہ شخص تو نہیں کرسکتا جس کے پاس چند روز مال و دولت دنیا تو ہو مگر قیامت کے روز اسے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہو وہ ایسا دن ہوگا کہ جب ان کفار و مشرکین پر سوال ہوگا کہ جن لوگوں کو تم نے میرا شریک مان رکھا تھا وہ کہاں ہیں تو وہ لوگ جو یہاں دنیا میں ان کے پیشوا بنے ہوئے ہیں اپنے اوپر جرم ثابت ہوچکنے کے بعد یہ عذر کریں گے کہ اے اللہ خود گمراہ تھے لہذا انہیں بھی وہی کچھ بتایا جس پر خود عمل کرتے تھے لیکن انہوں نے ہماری بات اپنے اختیار سے مانی ہم نے ان پر کوئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 67–68

11 ۔ یعنی اسے یقینا نجات ملے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ جس چیز کی امید دلاتا ہے اس کے ہونے میں کوئی شک نہیں ہوتا یا عسیٰ سے اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ نجات پانا اللہ کے فضل سے ہوگا ورنہ یہ اللہ تعالیٰ پر واجب نہیں ہے۔ 12 ۔” یا جو چاہتا ہے اختیار کرتا ہے “۔ جیسے فرمایا : لا یسئل عما یفعل و ھم یسائولون۔ (انبیاء :23) یا ” جن کو چاہتا ہے (اپنے دین کی مدد کے لئے) پسند فرما لیتا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام ؓ کو چن لیا اور ان میں سے پھر چار (خلفاء اربعہ) کو خاص طور پر منتخب کرلیا جیسا کہ حضرت جابر ؓ سے ایک مرفوع روایت میں ہے۔ (قرطبی) 13 ۔ کہ خدا کے حکم کے بغیر کوئی کام کرسکیں بلکہ خود بندے اور ان کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:68) یختار۔ مضارع واحد مذکر اختیار بمعنی اپنی مرضی و پسند میں آزاد ہونا۔ ماکان میں مانافیہ ہے بعض کے نزدیک ما موصولہ ہے لیکن یہ تبھی ہوسکتا ہے کہ جب وقف یشاء پر ہو۔ لیکن وقف یختار پر ہے الخیرۃ : خار یخیر ضرب کا مصدر ہے پسند کرنا۔ منتخب کرنا۔ ما کان لہم الخیرۃ۔ انہیں کچھ اختیار نہیں۔ یعنی سارے تکوینی و تشریعی اختیارات اس (اللہ) کو ہیں اور صرف اسی کو ہیں۔ تعالی۔ ماضی واحد مذکر غائب تعالیٰ (تفاعل) مصدر۔ وہ بہت ہی بلند اور برتر ہے یہاں باب تفاعل کا استعمال تکلف کے لئے نہیں بلکہ مبالغہ کے لئے آیا ہے۔ عما : عن ما۔ ما موصولہ ہے۔ جس چیز سے۔ یشرکون مضارع جمع مذکر غائب اشراک افعال مصدر۔ وہ شریک…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 68–75

لغات القرآن آیت نمبر (68 تا 75 ) یختار (وہ پسند کرتا ہے۔ منتخب کرتا ہے) ۔ الخیرۃ (اختیار ۔ پسند ) ۔ تکن (چھپتا ہے) ۔ سرمد (ہمیشہ ) ۔ ضیاء (روشنی۔ چمک ) ۔ تسکنون (تم سکون حاصل کرتے ہو) ۔ تبتغوا (تم تلاش کرتے ہو) ۔ نزعنا (ہم نے کھینچ لیا۔ نکال لیا) ۔ ھاتوا (لے آئو۔ (تم آئو) ۔ برھان (دلیل۔ پسند) ۔ ضل (بھٹک گیا۔ گم ہوگیا) ۔ یفترون (وہ گھڑتے ہیں۔ بناتے ہیں ) ۔ تشریح : آیت نمبر (68 تا 75 ) ۔ ” نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ہر شخص کو بتایا جارہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اس کائنات میں ساری قدرت، طاقت، ہر چیز کی خوبی اور عبادت و بندگی صرف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنا پیغام پہنچانے کے لئے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–74

(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان کو اپنے سامنے کھڑا کرکے ان سے پوچھے گا کہ بتلاؤ تم لوگوں نے اللہ کے رسولوں کی فرمانبرداری کی تو ان کے ہوش اڑجائیں گے اور ان کو جواب تک نہ آئے گا یہ توحید اور اطاعت رسول کا سوال گویا آخری سوال ہے ۔ جو میدان قیامت میں خاص اللہ تعالیٰ کے روبرو ہوگا اور یوں تو توحید اور اطاعت رسول کی پرسش آدمی کو قبر میں دفناتے ہی شروع ہوجاتی ہے چناچہ دفنانے والے لوگ ابھی قبرستان سے پلٹ کر بھی نہیں آتے کہ منکرنکیر یہ دوفرشتے مردہ کے پاس آن کر اس سے توحید اور اطاعت رسول کا سوال کرتے ہیں ۔ جو شخص توحید اور اطاعت رسول پر ثابت قدم دنیا سے اٹھا ہے وہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 64–68

[40] کفار مکہ نبی ﷺ پر ایک اعتراض یہ بھی کرتے تھے کہ دولت اور جتھے کے اعتبار سے دوسرے لوگ رسالت کے زیادہ اہل ہیں۔ یہ اس کا جواب ہے کہ اللہ نے انتخاب اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور اس معاملے میں دخل دینا ایک طرح کا شرک ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 67–68

اللہ جس کو چاہے اپنی خدمات کے لئے مختص کرلے 2: یخلق مایشاء ومختار سے مقصود اصل میں ایک شبہ کارندہ ہے ۔ مکہ والوں کو ہمیشہ یہ بات کھٹکتی تھی کے خدا نے قریش کے بڑے بڑے لوگوں کو چھوڑ کر محمد ﷺ ایسے بےیارو مدد گا شخص کو نبوت اور رسالت کے لئے کیوں منتخب کیا ۔ وہ کہتے تھے کہ ہم روساء ہیں ۔ معززین ہیں ۔ پڑھے لکھے لوگ ہیں اور دنیا کے لحاظ سے وجیہہ ہیں عظیم الشان ہیں ۔ ان سب باتوں سے قطع نظر کرکے آخر اللہ نے یہ کیا سوچا کہ ایک یتیم بنیوا کو سرداری بخش دی ! کیا ہم میں کوئی اس قابل نہ تھا ۔ کہ اس کے سر پر نبوت کا تاج رکھا جاتا ! کیا ہم سب نالائق تھے ! ان کی رائے میں یہ سخت تکلیف دہ اور ناقابل برداشت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

68۔ اور اے پیغمبر آپ کا پروردگار جس چیز کو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے پسند فرماتا ہے ان لوگوں کو پسندیدگی کا کوئی اختیار نہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے شرک سے پاک اور بلند وبالا تر ہے ۔ جو چاہے پیدا کرے یعنی تکوینی اختیارات اسی کے قبضے میں ہیں اور جن احکام کو چاہے پسند کرے اور انبیاء (علیہم السلام) کی معرفت نازل فرمائے۔ یعنی تشریعی اختیارات بھی سب اسی کے ہاتھ میں ہیں ۔ منکروں اور بےدینوں کو نہ تو حلال و حرام کا اختیار ہے اور نہ پیدائش و اموات ان کے قبضے میں ہے ، جب تکوینی اور تشریعی خالق ہونے میں وہ یکتا ہے تو الوہیت میں بھی وہی منفرد اور یکتا ہے اور وہ ان مشرکوں کے شرک سے پاک اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 67–70

ف 1۔ کیونکہ اس کے تصرفات دونوں عالم میں ایسے ہیں جو دال ہیں صفات کمال پر کہ مدار ہیں اہلیت حمد کے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کو بتایا جا رہا ہے کہ ذرا غور کرو کہ تم کو شریک ٹھہرانے کی ضرورت کیا ہے ؟ : 68۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے شرک کے رد کی کیا دلیل بیان فرما دی کہ اگر ذرا بھر بھی یہ لوگ عقل وفکر سے کام لیں تو ان پر ساری حقیقت واضح ہوجائے فرمایا کہ جب ان کو بھی یہ معلوم ہے کہ اللہ رب العزت ان کے سارے رازوں اور بھیدوں سے واقف ہے اور اس سے ان کی کوئی بات بھی پوشیدہ نہیں پھر آخر ان کو کسی سے سفارش کرانے کی ضرورت کیا ہے ؟ اور جب اس نے ان کو بن مانگے بہت کچھ عطا کردیا ہے تو دوسروں کے واسطوں اور وسیلوں کی آخر ضرورت کیا ؟ اگر ان کو طلب ہے تو کیا وہ ان کے مانگے سے نہیں دے گا جب کہ بن مانگے اس نے ان کو بہت کچھ عطا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–68

Commentary وَرَ‌بُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ‌ (And your Lord creates what He wills and chooses - 28:68). According to one interpretation of this verse, the choice referred to here is Allah's choice with regard to the divine commands, and the sense is that as Allah Ta` ala is unique in the creation of universe and no one is His partner, so is He in the issuance of His commands. He can give out any command to His creatures. But Imam Baghawi, in his commentary, and ` Allamah Ibn Al-Qayyim (رح) in the preface of Zad al-Ma` ad have adopted another interpretation according to which the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–68

90 This, in fact, is a refutation of shirk. Allah objects to the setting up of countless gods froth among His creatures by the mushriks and assigning to them from themselves of attributes and ranks and offices, and says: "We Ourselves bless with whatever attributes, capabilities and powers whomever We like from among the men, angels, jinns and other servants whom We have created, and employ whomever We will for whatever service We will. But, how and wherefrom have the mushriks got the authority that they should make whomever they like from among My servants remover of hardships, bestower of…

Read the full tafseer →