Al-Qasas 28:71

Al-Qasas · from ayah 71

28:71

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ ؕ— اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ ۟قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمُ الَّيۡلَ سَرۡمَدًا اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ مَنۡ اِلٰـهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِضِيَآءٍ‌ؕاَفَلَا تَسۡمَعُوۡنَ

کہو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات (کی تاریکی) کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے ہے جو تم کو روشنی لا دے تو کیا تم سنتے نہیں؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Have you considered: if Allah should make for you the night continuous until the Day of Resurrection, what deity other than Allah could bring you light? Then will you not hear?"

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 7 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:71

اے نبیؐ، اِن سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کونسا معبود ہے جو تمہیں روشنی لا دے؟ کیا تم سُنتے نہیں ہو؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہو بھلا دیکھو تو اگر خدا تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات (کی تاریکی) کئے رہے تو خدا کے سوا کون معبود ہے ہے جو تم کو روشنی لا دے تو کیا تم سنتے نہیں؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجئے! کہ دیکھو تو سہی اگر اللہ تعالیٰ تم پر رات ہی رات قیامت تک برابر کر دے تو سوائے اللہ کے کون معبود ہے جو تمہارے پاس دن کی روشنی ﻻئے؟ کیا تم سنتے نہیں ہو؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر ! ان سے) کہو : ذرا یہ بتلاؤ کہ اگر اللہ تم پر رات کو ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک مسلط رکھے تو اللہ کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہارے پاس روشنی لے کر آئے ؟ بھلا کیا تم سنتے نہیں ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر اللہ ہمیشہ تم پر قیامت تک رات رکھے تو اللہ کے سوا کون خدا ہے جو تمہیں روشنی لادے تو کیا تم سنتے نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: ذرا اتنا بتاؤ کہ اگر اللہ تمہارے اوپر روزِ قیامت تک ہمیشہ رات طاری فرما دے (تو) اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہیں روشنی لا دے۔ کیا تم (یہ باتیں) سنتے نہیں ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ کیا تم نے دیکھا اگر اللہ تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے پاس کوئی روشنی لے آئے ؟ تو کیا تم نہیں سنتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے پوچھئے : بھلا دیکھو تو ! اگر اللہ قیامت کے دن تک ہمیشہ تم پر رات ہی طاری کردیتا تو اللہ کے سوا کوئی الٰہ ہے جو تمہیں روشنی لا دیتا ؟ کیا تم سنتے نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے کہو کہ بتائو، اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لئے، تاقیامت رات ہی کو مسلط کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے پاس روشنی لائے گا، تو کیا تم لوگ سنتے نہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے لوگو ! ان سے کہو کہ کیا تم لوگوں نے کبھی اس پر بھی غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک ہمیشہ کے لئے تم پر رات ہی طاری کر دے تو پھر کون سا معبود ایسا ہوسکتا ہے اللہ کے سوا جو تمہیں روشنی کی ایک کرن لا دے ؟ تو کیا تم لوگ سنتے نہیں ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہیے بھلا یہ بتاؤ اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لئے قیامت تک رات ہی رہنے دے تو اللہ کے علاوہ کوئی معبود ہے جو تمہارے لئے روشنی کردے ؟ تو کیا تم سنتے نہیں ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ کہیے : کیا تم لوگوں نے کبھی غور کیا کہ اگر اللہ تم پر رات مسلط کر دے ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک تو کون معبود ہوگا اللہ کے سوا جو تمہارے لیے روشنی لائے گا ؟ تو کیا تم لوگ سنتے نہیں ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہو بھلا دیکھو تو اگر اللہ تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات کی تاریکی کیے رکھے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تم کو روشنی لا دے ؟ تو کیا تم سنتے نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), tell them: "Did you consider: if Allah were to make the night perpetual over you till the Day of Judgement, is there a god other than Allah who can bring forth light for you? Do you not hear?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Tell me, if Allah were to impose the night over you, continuing forever up to the Day of Judgment, which god, other than Allah, would bring to you light? Then, do you not listen?

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Tell me, if Allah were to impose the night over you, continuing forever up to the Day of Judgment, which god, other than Allah, would bring to you light? Then, do you not listen?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Tell me! If Allah made the night continuous for you till the Day of Resurrection, which god besides Allah could bring you light Will you not then hear"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Have ye thought, if Allah made night everlasting for you till the Day of Resurrection, who is a god beside Allah who could bring you light? Will ye not then hear?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Have you considered: if Allah should make for you the night continuous until the Day of Resurrection, what deity other than Allah could bring you light? Then will you not hear?"

— Saheeh International

(Muhammad), ask them, "Think, if God were to cause the night to continue until the Day of Judgment which Lord besides Him could bring you light? Will you then not listen to (His revelations)?"

— Muhammad Sarwar

Say: Tell me, if Allah were to make the night to continue incessantly on you till the day of resurrection, who is the god besides Allah that could bring you light? Do you not then hear?

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: bethink ye, if Allah made night continuous for you till the Day of Resurrection, what god is there beside Allah, who would bring you light? Hearken ye not?

— Abdul Majid Daryabadi

Say: See ye? If Allah were to make the night perpetual over you to the Day of Judgment, what god is there other than Allah, who can give you enlightenment? Will ye not then hearken?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:71

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 71–73

سنی ان سنی نہ کرو اللہ کا احسان دیکھو کہ بغیر تمہاری کوشش اور تدبیر کے دن اور رات برابر آگے پیچھے آرہے ہیں اگر رات ہی رات رہے تو تم عاجز آجاؤ تمہارے کام رک جائیں تم پر زندگی وبال ہوجائے تم تھک جاؤ اکتاجاؤ کسی کو نہ پاؤ جو تمہارے لئے دن نکال سکے کہ تم اس کی روشنی میں چلو پھرو، دیکھو بھالو اپنے کام کاج کرلو۔ افسوس تم سنا کر بھی بےسناکر دیتے ہو۔ اسی طرح اگر وہ تم پر دن ہی دن کو روک دے رات آئے ہی نہیں تو بھی تمہاری زندگی تلخ ہوجائے۔ بدن کا نظام الٹ پلٹ ہوجائے تھک جاؤ تنگ ہوجاؤ کوئی نہیں جسے قدرت ہو کہ وہ رات لاسکے جس میں تم راحت وآرام حاصل کرسکو لیکن تم آنکھیں رکھتے ہوئے اللہ کی ان نشانیوں اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 69–74

سورة القصص 91 اس سلسلہ کلام میں یہ بات جس مقصد کے لیے ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص یا گروہ دنیا میں لوگوں کے سامنے یہ دعوی کرسکتا ہے کہ جس گمراہی کو اس نے اختیار کیا ہے اس کی صحت پر وہ بڑے معقول وجوہ سے مطمئن ہے، اور اس کے خلاف جو دلائل دیے گئے ہیں ان سے فی الحقیقت اس کا اطمینان نہیں ہوا ہے، اور اس گمراہی کو اس نے کسی برے جذبے سے نہیں بلکہ خاص نیک نیتی کے ساتھ اختیار کیا ہے اور اس کے سامنے کبھی کوئی ایسی چیز نہیں آئی ہے جس سے اس کی غلطی اس پر واضح ہو۔ لیکن اللہ کے سامنے اس کی یہ بات نہیں چل سکتی۔ وہ صرف ظاہری کو نہیں دیکھتا، اس کے سامنے تو آدمی کے دل و دماغ کا ایک ایک گوشہ کھلا ہوا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–73

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ سَرْمَدًا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَيْرُ اللّٰهِ يَاْتِيْكُمْ بِضِيَاۗءٍ ۭ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ الی قولہ بِلَيْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِيْهِ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ آیت میں حق تعالیٰ نے رات کے ساتھ تو اس کا ایک فائدہ ذکر فرمایا، بِلَيْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِيْهِ یعنی رات میں انسان کو سکون ملتا ہے اس کے بالمقابل دن کے ذکر میں بضیاء کے ساتھ کوئی فائدہ ذکر نہیں فرمایا سبب ظاہر ہے کہ دن کی روشنی اپنی ذات میں افضل ہے اور ظلم سے روشنی کا بہتر ہونا معلوم و معروف ہے۔ روشنی کے بیشمار فوائد اتنے معروف ہیں کہ ان کے بیان کی ضرورت نہیں، بخلاف رات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 71–72

آیت 72-71 مخاطب کے مسلمات سے استدلال قل یہاں سوال کرنے اور پوچھنے کے معنی میں ہے جب سوال بالکل بدیہی نوعیت کا ہے جس کے جواب میں مخاطب کے لئے کسی اختلاف کی گنجائش نہ ہو تو اتمام حجت کے پہلو سے یہی لفظ زیادہ موزوں ہوتا ہے۔ یہ بات مشرکین عرب کو بھی تسلیم تھی کہ آسمان و زمین اور روز و شب کا خالق خدا ہی ہے ان کے اسی مسلمہ کو بنیاد بنا کر سوال فرمایا کہ بھلابتائو تو سہی کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ہمیشہ کے لئے رات ہی کو مسلط کر دے تو تمہارے معبودوں میں سے کوئی ہے جو تمہارے لئے دن کی روشنی نمودار کرسکے ! اسی طرح بتائو کہ اگر وہ تمہارے اوپر قیامت تک کے لئے دن ہی کو مسلط کر دے تو کیا تمہارے معبودوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 69–73

73-1دن اور رات، یہ دونوں اللہ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں۔ رات کو تاریک بنایا تاکہ سب لوگ آرام کرسکیں۔ اس اندھیرے کی وجہ سے ہر مخلوق سونے اور آرام کرنے پر مجبور ہے۔ ورنہ اگر آرام کرنے اور سونے کے اپنے اپنے اوقات ہوتے تو کوئی بھی مکمل طریقے سے سونے نہ پاتا، جب کہ معاشی تگ و دو اور کاروبار جہاں کے لئے نیند کا پورا کرنا نہایت ضروری ہے۔ اس کے بغیر توانائی بحال نہیں ہوتی۔ اگر کچھ لوگ سو رہے ہوتے اور کچھ لوگ جاگ کر مصروف تگ و تاز ہوتے، تو سونے والوں کے آرام و راحت میں خلل پڑتا، نیز لوگ ایک دوسرے کے تعاون سے بھی محروم رہتے، جب کہ دنیا کا نظام ایک دوسرے کے تعاون و تناصر کا محتاج ہے اس لئے اللہ نے رات کو…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 68–72

39: یہ کفار کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ پیغمبر ہمارے سرداروں اور دولت مند لوگوں میں سے کسی کو کیوں نہیں بنایا گیا ؟ مختصرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے یہ ساری کائنات پیدا کی ہے اور اسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کس کو اپنا پیغمبر بنائے ان لوگوں کو کوئی اختیار نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 71–73

قل ارءیتم ان جعل اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ ولعلکم تشکرون (71 – 74) وگوں کی حالت یہ ہے کہ انہوں نے رات اور دن کی گردش دیکھ دیکھ کر ان سے اس قدر مانوس ہوگئے ہیں کہ اس گردش کے اندر ان کو کوئی بات نئی نہیں لگتی۔ وہ سورج کے طلوع اور غروب سے بہت زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔ اسی طرح دن کا نمودار ہونا اور رات کا چھا جانا بھی ان کو کچھ زیادہ نہیں کرتا۔ اور یہی وجہ ہے کہ گردش لیل و نہار کے اندر انسانوں کے لیے جو فائدے ہیں اور جو رحمتیں ہیں اور جس طرح یہ گردش ان کو تباہی و ہلاکت سے بچاتی ہے ، اکتانے اور تھکانے سے بچاتی ہے۔ یہ باتیں ان کے شعور میں مسحضر نہیں رہتیں۔ قرآن کریم ان کو غفلت کی نیند سے جگاتا ہے ان کو ذرا اس عادی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 مثلاً سورج کو طلوع نہ ہونے دے یا اس سے روشنی سلب کرلے تو اپنے کاروبار کے لیے ایسی روشنی کہاں سے لاسکتے ہو۔ 2 یہ بات ایسی روشن اور صاف ہے کہ سنتے ہی سمجھ میں آجائے۔ تو کیا تم سنتے بھی نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 71–75

آیت 75 وَنَزَعْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیْدًا ” یہ مضمون دو مرتبہ سورة النحل آیت 84 اور 89 میں بھی آیا ہے ‘ لیکن سورة النساء کی یہ آیت تو گویا اس مضمون کا ذروۂ سنام ہے : فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَہِیْدٍ وَّجِءْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓؤُلَآءِ شَہِیْدًا۔ ”تو اس دن کیا صورت حال ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور اے نبی ﷺ ! آپ کو لائیں گے ہم ان پر گواہ بنا کر“۔ جو پیغمبر جس قوم کی طرف مبعوث کیا گیا ہوگا وہ قیامت کے دن اللہ کی عدالت میں استغاثہ کا گواہ prosecution witness بن کر گواہی دے گا کہ اے اللہ ! تیری طرف سے جو ہدایت مجھ تک پہنچی تھی میں نے وہ اپنی قوم تک پہنچا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 71–72

96 رات اور دن کے نظام کو اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بہت بڑے بڑے قدرت کے کارناموں اور عجائبات میں شمار کیا ہے۔ ایک ظاہر بین انسان ان نشانیوں کو روزمرہ کے معمولات سمجھ کر ان کی طرف توجہ ہی نہیں دیتا۔ لیکن جن لوگوں نے اس نظام کا تحقیقی مطالعہ کیا ہے وہ اس نظام کی پیچیدگیوں کو خوب جانتے ہیں۔ یہ تو واضح سی بات کہ دن اور رات کا تعلق سورج سے ہے۔ اختلاف اگر ہے تو اس بات میں رہا ہے کہ آیا ہماری زمین ساکن ہے اور سورج اس کے گرد گردش کرتا ہے یا سورج ساکن ہے اور زمین اس کے گرد گھومتی ہے یا یہ دونوں سیارے ہی محو گردش ہیں۔ اس سلسلہ میں آج تک چار نظریات بدل چکے ہیں۔ دور نبوی میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 71–73

92۔ (اس کی دونوں نعمتوں کا) ” رات ہمیشہ ہونا اس طور پر کہ شمس کو افق سے طلوع نہ ہونے دے یا اس کا نور سلب کرلے اور دن کا ہمیشہ ہونا کہ شمس کو غروب نہ ہونے دے یا بلاشمس یا ایسا نور پیدا کردے “۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” ولتبتغوا من فضلہ “۔ روزی کمانے کے دھندے کو (آیت) ” من رحمتہ “۔ رحمت الہی کے تحت میں لانا صاف اس امر پر دلیل ہے کہ معاشی مشغلے اسلام میں کتنی فضیلت کا درجہ رکھتے ہیں۔ حقیر و ذلیل نہیں معزز ومکرم ہیں۔ وفیھا اشارۃ الی مدح السعی فی طلب الرزق وقد ورد الکاسب حبیب اللہ وھو لاینا فی التوکل (روح) (آیت) ” من رحمتہ “۔ میں من سببیہ قرار دیا گیا ہے۔ من ھھنا للسبب اے وبسبب رحمتہ ایاکم (بحر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–75

آیت نمبر 61 تا 75 ترجمہ : بھلا وہ شخص کہ جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے جسے وہ قطعاً پانے والا ہے یعنی اس وعدۂ (موعودبہٖ ) کو پہنچنے والا ہے اور وہ جنت ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے، جو عنقریب زائل ہوجائے گا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کرکے دوزخ میں حاضر کئے جائیں گے اول شخص مومن ہوگا اور دوسرا کافر یعنی دونوں میں کوئی مساوات نہ ہوگی اور اس دن کو یاد کرو کہ جس دن خدا تعالیٰ ان کافروں کو پکار کر کہے گا میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم سمجھتے تھے وہ میرے شریک ہیں جن پر خدا کا دخول نار کا حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل ارء یتم ان جعل اللہ علیکم الیل سرمدا الٰی یوم القیمۃ من الہ غیر اللہ یاتیکم بضیآء افلا تسمعون . (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ بھلا بتاؤ تو اگر اللہ روز قیامت تک مسلسل رات ہی رات تم پر کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے لئے روشنی لے آئے گا ؟ کیا تم (گوش ہوش سے اتنی بات بھی) نہیں سنتے ؟ اَرَءَ یْتُمْ اے مکہ والو ! مجھے بتاؤ۔ سَرْمَدًا ہمیشہ ‘ یہ لفظ سُرُود سے بنا ہے اور مبالغہ ک صیغہ ہے۔ اس میں میم زائد ہے یعنی قیامت تک سورج نہ نکلے ‘ ہمیشہ رات ہی رات رہے۔ بِضِیَاءٍ کون معبود ہے جو تمہارے لئے روشنی لے آئے جس میں تم اپنی معاش کی تلاش کرتے ہو۔ بیضاوی نے لکھا ہے : ھَلْ اِلٰہٌ کی جگہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(71) آپ ان کفار مکہ سے کہیے کہ اے گروہ کفار یہ تو بتاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ کے لیے قیامت تک تاریک رات رہنے دے تو اللہ کے علاوہ وہ کون سا معبود ہے جو تمہارے لیے دن کی روشنی لے آئے کیا پھر بھی تم اس ذات کی اطاعت نہیں کرتے جس سے تمہارے لیے رات اور دن کو بنایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 71–72

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ۔۔ :”اَرَءَيْتُمْ“ کا لفظی معنی ہے ”کیا تم نے دیکھا۔“ عرب اسے ”أَخْبِرُوْنِيْ“ (مجھے بتاؤ) کے معنی میں استعمال کرتے ہیں، یعنی تم نے دیکھا ہے تو بتاؤ۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کی ایک اور دلیل اور اس کی نعمتوں میں سے ایک اور نعمت، جس پر وہ حمد کا مستحق ہے، رات دن کا بدلنا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ) [ آل عمران : 190 ] ”بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں عقلوں والوں کے لیے یقیناً بہت سی نشانیاں ہیں۔“ فرمایا : ”یہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 71–73

قل ارئیتم ان جعل اللہ علیکم الیل سرمداً سرمد سے مراد دائمی ہے، اسی معنی میں طرف کا قول ہے : لعمرک ما امری علی بغتۃ نھاوی ولا لیلی علی یسرمد تیری زندگی کی قسم ! میرا معاملہ مجھ پر چھپا ہوا نہیں میرا دن اور میری رات مجھ پر ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے معیشت کے اسباب کو مسخر کردیا تاکہ وہ اس کی نعمتوں کا شکر بجا لائیں۔ من اللہ غیر اللہ یاتیکم بضآء کون نور لائے گا جس میں تم اپنی روزی تلاش کرو گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کون دن لائے گا جس میں تم اپنے رزق کے اسباب کو دیکھ سکو گے اور اس میں پھل اور نباتات درست ہوں گے۔ افلاتسمعون کیا تم فہم اور قبول والا سننا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 71–75

1۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان جعل اللہ علیکم الیل سرمدا میں سرمدا سے مراد ہے ہمیشہ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ رات کردے۔ 2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت سرمدا الی یوم القیمۃ سے مراد ہے ہمیشہ من الہ غیر اللہ یاتیکم بضیاء یعنی اللہ کے علاوہ کونسا خدا ہے جو تمہارے پاس دن کو لے آئے ضیا سے مراد ہے دن۔ 4۔ ابن المنذرنے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ومن رحمتہ جعل لکم الیل والنہار لتسکنوا فیہ یعنی رات میں تم آرام کرتے ہو آیت ولتبتغوا من فضلہ یعنی دن میں تم اللہ کا فضل کرو۔ 5۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذروابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اَرَءَيْتُمْ [کیا تم لوگوں نے غور کیا ] اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ [اگر بنا دے اللہ ] عَلَيْكُمُ [تم لوگوں پر ] الَّيْلَ [رات کو ] سَرْمَدًا [ہمیشہ کے لئے ] اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ [قیامت کے دن تک ] مَنْ اِلٰهٌ [کون الٰہ ہے ] غَيْرُ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ ] يَاْتِيْكُمْ [جو لائے گا تمہارے لئے ] بِضِيَاۗءٍ ۭ [ روشنیاں ] اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ [تو کیا تم لوگ سنتے نہیں ہو ] نوٹ۔ 1: آیت ۔ 71 ۔ میں رات کی ہمیشگی کا ذکر ہے اور اندھیرے میں انسان کو دکھائی نہیں دیتا ۔ اس لئے اس کی رعایت سے آیت کے آخر میں افلا تسمعون فرمایا کہ اگر تمہیں سجھائی نہیں دیتا تو کیا سنائی بھی نہیں دیتا۔ جبکہ اگلی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

چوتھی، پانچویں، چھٹی آیت میں اللہ تعالیٰ شانہٗ نے بندوں کو اپنی دو بڑی نعمتیں یاد دلائیں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دن بھی دیا ہے اور رات بھی دی ہے۔ یہ محض اس کا فضل ہے اور اسی کی قدرت سے لیل و نہار کا آنا جانا ہے۔ وہ اگر چاہے تو قیامت تک ہمیشہ رات ہی رات کر دے دن کبھی نہ آئے اور دن کی روشنی سے تم بالکل محروم ہوجاؤ، اسی طرح اگر وہ ہمیشہ ہمیشہ قیامت تک دن ہی دن رکھے رات نہ لائے جس میں تم آرام کرتے ہو تو تم کیا کرسکتے ہو ؟ چونکہ مشرکین غیر اللہ کو بھی عبادت میں شریک کرتے تھے جب کہ انہیں کچھ قدرت اور اختیار نہیں اسی لیے پہلی جگہ میں یوں فرمایا کہ (مَنْ اِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–75

تذکیر نعم مشتمل بر بیان دلائل توحید قال اللہ تعالی، قل ارء یتم ان جعل اللہ علیکم الیل سرمدا۔۔۔ الی۔۔۔ وضل عنہم ما کانوا یفترون۔ (ربط) گزشتہ آیت یعنی ولہ الحمد فی الاولی والاخرۃ۔ میں اجمالا اپنا مستحق حمد وثنا ہونا بیان کیا کہ اللہ ہی دنیوی اور اخروی نعمتوں کا مالک ہے اس لئے وہی مستحق حمد وثنا ہے اب آئندہ آیات میں اپنی چند نعمتوں کا ذکر فرماتے ہیں۔ جن میں سے ہر ایک اس کے کمال قدرت کی بھی دلیل ہے وہ یہ کہ اللہ نے تمہارے لئے لیل ونہار کو مسخر کیا جن کے بغیر تمہارے نظام حیات کا قیام اور قوام ناممکن ہے اور یہ دن رات اس کی کمال قدرت واختیار کی دلیل ہیں جس کا ما کان لہم الخیرۃ میں ذکر تھا۔ دن کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 70–71

66:۔ یہ تیسری عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ یعنی یہ بات تم بھی جانتے اور مانتے ہو کہ دن رات اللہ کے قبضے میں ہیں۔ اگر وہ چاہے کہ قیامت تک رات ہی رہے اور دن کبھی نہ آئے تو کیا تمہارے معبودوں میں اللہ کے سوا کوئی ایسا کارساز ہے جو تمہیں دن کی روشنی مہیا کرسکے۔ قل ارایتم ان جعل اللہ علیکم النہار الخ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے علی سبیل الاعتراف من الخصم، اسی طرح اگر وہ قیامت تک دن کو طویل کردے تو آرام و راحت کے لیے اللہ کے سوا کوئی رات لاسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ افلا تبصرون۔ کیا تم عقل و بصیرت سے کام نہیں لیتے ہو اور ان دلائل میں غور و فکر کر کے اللہ کی توحید کو نہیں مانتے ہو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 71–75

ربطہ آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کا رد فرمایا اور ساتھ دونوں کا انجام بھی بیان کیا ۔ پھر اللہ نے اپنی صفت خلق کا ذکر کیا اور یہ بھی فرمایا کہ وہ جو چاہے پسند کرے سارا اختیار اسی کو ہے ، مخلوق میں سے کوئی بھی با اختیار ہستی نہیں ہے۔ فرمایا اللہ کی ذات بلندو برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ فرمایا خدا تعالیٰ ظاہر و باطن ہر چیز کو جانتا ہے ، وہ وحدہٗ لا شریک ہے ، دنیا آخرت میں اسی کی تعریف ہے اور سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ لیل و نہار کا نظام آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں دو عقلی دلائل پیش کیے ہیں جو لیل و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللہُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ سَرْمَدًا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَيْرُ اللہِ يَاْتِيْكُمْ بِضِيَاۗءٍ۝ 0ۭ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ۝ 71 رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 70–75

ترکیب : سرمدًا یجوزان یکون حالاً من اللیل وان یکون مفعولا ثانیاً لجعل والی یتعلق بسرمدًا من الہ الخ جواب ہے ان جعل اللہ کا۔ تفسیر : و ربک یخلق مایشاء سے مبدء میں گفتگو شروع ہوگئی تھی، یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں اس لیے وھو اللہ لا الہ الا ھو سے اس کی تکمیل کی جاتی ہے گویا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے اور قرآن مجید کی عادت ہے کہ کبھی مبدء میں گفتگو کرتا ہے۔ کبھی معاد میں ‘ کبھی نبوات و شرائع میں اور یہی باتیں مقصود بالذات بھی تھیں۔ فرمایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں دنیا و آخرت میں اپنی نعمتوں کے سبب وہی ستائش کا مستحق ہے اور فرمانروائی اسی کے لیے ہے اور اسی کے پاس لوٹ کر جاؤ گے اور کون ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ اَرَئَ یْـتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ مَنْ اِلٰـہٌ غَیْرُاللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِضِیَـآئٍ ط اَفَلاَ تَسْمَعُوْنَ ۔ قُلْ اَرَئَ یْـتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ النَّھَارَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ مَنْ اِلٰـہٌ غَیْرُاللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِلَیْلٍ تَسْکُنُوْنَ فِیْہِ ط اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ ۔ (القصص : 71، 72) (اے پیغمبر ان سے کہئے کہ بتائو کہ اگر اللہ تم پر ہمیشہ کے لیے قیامت تک رات ہی کو مسلط کردے تو کون معبود ہے اللہ کے سوا جو تمہارے پاس روشنی لے آئے، تو کیا تم سنتے نہیں ہو۔ اے پیغمبر ان سے پوچھئے کہ تمہارا کیا خیال ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 71–73

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ صرف مخلوق کو پیدا کرنے والا ہی نہیں بلکہ پوری کائنات کا نظام بھی چلا رہا ہے۔ جس میں مشرکوں کے بنائے ہوئے شریکوں کا ذرا برابر بھی عمل دخل نہ تھا نہ ہے اور نہ ہوگا۔ کائنات کے نظام میں لیل و نہار کی گردش کا بڑا عمل دخل ہے۔ اگر رات اور دن کا سلسلہ نہ ہوتا یا اسے ختم کردیا جائے تو دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے یہ رنگینیاں، چہل پہل اور انسان کی ترقی لیل و نہار کے نظام کی وجہ سے ہے۔ دن کی اہمیت اور کی ضرورت واضح ہے، رات کو لیجیے۔ اگر رات اور اس کی نیند نہ ہوتی تو انسان کب تک کام کاج کرسکتا تھا۔ یہ رات ہی کا فائدہ ہے کہ آدمی دن کا تھکا ماندہ سوتا ہے۔ لیکن صبح اٹھتا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قراءت : یعقوب نے تَرْجِعُون پڑھا ہے۔ 71: قُلْ اَرَئَ یْتُمْ (کہہ دیں ذرا دیکھو تو سہی) ۔ قراءت : علی نے حذف ِہمزہ سے پڑھا ہے۔ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ (اگر اللہ قیامت کے دن تک مسلسل رات ہی رات بنا دے) ۔ تو اللہ تعالیٰ مَنْ اِلٰـہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِضِیَآئٍ اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ (کے سوا کوئی معبود ہے۔ جو تمہارے لئے روشنی لے آئے گا کیا تم نہیں سنتے) ۔ نحو : سرمَدًا یہ جعل کا مفعول ثانی ہے۔ معنی دائمًا۔ ہمیشہ ہے یہ لفظ اسرد سے ماخوذ ہے۔ اور اس کا معنی مسلسل ہے۔ عرب کہتے ہیں۔ الا شہر الحرم ثلاثۃ سرد و واحد فرد۔ یہ صیغہ مبالغہ ہے اور میم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

71۔ قل ارایتم، ،، اے اہل مکہ خبردیں۔ ان جعل اللہ علیکم اللیل سرمدا، ، ہمیشہ، الی یوم القیامہ، قیامت تک سورج نہیں نکلے گا، دن نہ آے بلکہ رات ہی رات آئے، من الہ غیر اللہ یاتیکم بضیائ، ، کون ہے جو روشنی کو واپس لاسکے جس میں وہ اپنی معیشت روزگار تلاش کریں، افلاتسمعون، ، ایساسننا جو اس کے لیے سننا اور قبول کرنا بھی ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 64–74

64 تا 73۔ اوپر کی آیتوں میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے قریش کو طرح طرح کی فہمائش کی ہے اسی طرح کی فہمایش ان آیتوں میں ہے حاصل اس فہمایش کا یہ ہے کہ اللہ کی عبادت چھوڑ کر جو یہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں ان کو اتنی سمجھ نہیں کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی ہزارہا نعمتوں میں سے مثلا ایک دن رات ہے ایک رات اگر اللہ کے حکم سے آفتاب نہ نکلے اور زمین کے اندر روکا ہی رہ جاوے یا جس طرح ہر روز شام کو اللہ کے حکم سے سورج غروب ہوتا ہے اسی طرح ایک رات کو غروب نہ ہو اور بجائے رات کے دن اور بجائے دن کے رات ہوجاوے اور ان لوگوں کے دن اور رات کے عادتی اور مقررہ کاموں میں ہرج پڑجاوے تو بھلا ان کے بتوں میں قدرت ہے کہ ان کے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 70–72

آیت 70 اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا پھر ان میں اپنی مشیت نافذ کی اور وہ اپنے اختیار میں متفرد ہے۔ وہ اشخاص، او امر، ازمان اور اماکن میں سے جو چاہتا ہے چن کر مختص کرلیتا ہے کسی کو اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام شریکوں، مددگاروں، اولاد اور بیوی وغیرہ سے منزہ اور مبرا ہے جنہیں یہ مشرکین اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو خوب جانتا ہے جنہیں یہ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں اور جنہیں یہ ظاہر کرتے ہیں۔ وہ اکیلا ہی دنیا و آخرت میں اپنی صفات جمال و کمال اور اپنی مخلوق پر احسان و اکرام کی بناء پر مستحق عبادت اور لائق ستائش ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–88

سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

99 دن اور رات کی دو عظیم الشان نعمتوں کے بارے میں دعوت غور و فکر : سو اس ارشاد سے دن رات کے ادلنے بدلنے میں قدرت کے بعض عظیم الشان دلائل قدرت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ { سرمد } کے معنیٰ ہیں ہمیشہ رہنے والا ۔ " الدائم المتصل " ۔ سو دن رات کے اس اختلاف اور ہیرپھیر میں اگر انسان غور کرے تو اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کے عظیم الشان دلائل نظر آئیں گے۔ سو جب دائمی دن رات کو اللہ پاک کے سوا بدل دینے والا کوئی نہیں تو پھر اس کے سوا عبادت و بندگی کا حق بھی کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔ (المراغی، ابن کثیر، صفوہ وغیرہ) ۔ سو منکروں اور مشرکوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے اور ان کے دل و دماغ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 71–75

اللہ کی برتری کی نشانیاں تشریح : یہ تمام باتیں اللہ کی نشانیاں ‘ اس کی رحمتیں ‘ برکتیں اور فضل و کرم جو اس نے انسانوں کی سہولیات کے لیے پیدا کر رکھا ہے۔ عقل مند ‘ سوجھ بوجھ رکھنے والے اور نیک فطرت لوگوں کے لیے اللہ کی راہ اختیار کرنے اس کو معبود برحق ماننے کے لیے بہت کافی ہے۔ پھر راہبری اور ہدایت کے لیے ہر امت میں سے رسول ‘ نبی اور پیغمبر بھیجے گئے۔ صرف اس لیے کہ لوگوں کی راہبری کریں۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–75

آیات 61 تا 75 اسرارو معارف اور بھلا جس شخص کو بہت حسین وعدہ دیا اگیا ہو یعنی آخرت کی کامیابی کا اور وہ اسے پانے والا بھی ہو اس کی برابری وہ شخص تو نہیں کرسکتا جس کے پاس چند روز مال و دولت دنیا تو ہو مگر قیامت کے روز اسے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہو وہ ایسا دن ہوگا کہ جب ان کفار و مشرکین پر سوال ہوگا کہ جن لوگوں کو تم نے میرا شریک مان رکھا تھا وہ کہاں ہیں تو وہ لوگ جو یہاں دنیا میں ان کے پیشوا بنے ہوئے ہیں اپنے اوپر جرم ثابت ہوچکنے کے بعد یہ عذر کریں گے کہ اے اللہ خود گمراہ تھے لہذا انہیں بھی وہی کچھ بتایا جس پر خود عمل کرتے تھے لیکن انہوں نے ہماری بات اپنے اختیار سے مانی ہم نے ان پر کوئی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:71) ارأیتم۔ لفظی معنی ہوں گے کیا تم نے دیکھا۔ الاتقان میں ہے کہ جب ہمزہ استفہام رأیت پر داخل ہوتا ہے تو اس حالت میں رویت کا آنکھوں یا دل سے دیکھنے کے معنی میں آنا ممنوع ہے۔ اور اس کے معنی اخبرنی (مجھ کو خبر دو ) کے ہوتے ہیں۔ ارأیتم۔ بھلا یہ تو بتاؤ ۔ مجھے بتاؤ تو۔ سرمدا۔ ہمیشہ۔ دائم۔ منصوب بوجہ جعل کے مفعول ثانی ہونے کے یا بوجہ الیل کے حال ہونے کے۔ افلا تسمعون۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہےکا عطف محذوف پر ہے گویا آیت کی تقدیر یوں ہے۔ الا تدبرون الا تسمعون تو کیا تم سوچتے نہیں اور سنتے نہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 68–75

لغات القرآن آیت نمبر (68 تا 75 ) یختار (وہ پسند کرتا ہے۔ منتخب کرتا ہے) ۔ الخیرۃ (اختیار ۔ پسند ) ۔ تکن (چھپتا ہے) ۔ سرمد (ہمیشہ ) ۔ ضیاء (روشنی۔ چمک ) ۔ تسکنون (تم سکون حاصل کرتے ہو) ۔ تبتغوا (تم تلاش کرتے ہو) ۔ نزعنا (ہم نے کھینچ لیا۔ نکال لیا) ۔ ھاتوا (لے آئو۔ (تم آئو) ۔ برھان (دلیل۔ پسند) ۔ ضل (بھٹک گیا۔ گم ہوگیا) ۔ یفترون (وہ گھڑتے ہیں۔ بناتے ہیں ) ۔ تشریح : آیت نمبر (68 تا 75 ) ۔ ” نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ہر شخص کو بتایا جارہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اس کائنات میں ساری قدرت، طاقت، ہر چیز کی خوبی اور عبادت و بندگی صرف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنا پیغام پہنچانے کے لئے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 65–74

(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ ان کو اپنے سامنے کھڑا کرکے ان سے پوچھے گا کہ بتلاؤ تم لوگوں نے اللہ کے رسولوں کی فرمانبرداری کی تو ان کے ہوش اڑجائیں گے اور ان کو جواب تک نہ آئے گا یہ توحید اور اطاعت رسول کا سوال گویا آخری سوال ہے ۔ جو میدان قیامت میں خاص اللہ تعالیٰ کے روبرو ہوگا اور یوں تو توحید اور اطاعت رسول کی پرسش آدمی کو قبر میں دفناتے ہی شروع ہوجاتی ہے چناچہ دفنانے والے لوگ ابھی قبرستان سے پلٹ کر بھی نہیں آتے کہ منکرنکیر یہ دوفرشتے مردہ کے پاس آن کر اس سے توحید اور اطاعت رسول کا سوال کرتے ہیں ۔ جو شخص توحید اور اطاعت رسول پر ثابت قدم دنیا سے اٹھا ہے وہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 70–73

[42] یعنی کسب معاش کرو۔ روزی کمانے کے دھندے کو رحمت الٰہی کے تحت لانا صاف اس امر پر دلیل ہے کہ معاشی مشاغل اسلام میں فضیلت کا درجہ رکھتے ہیں۔ حقیرو ذلیل نہیں، معزز و مکرم ہیں۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

71۔ اے پیغمبر آپ ان سے دریافت کیجئے بھلا یہ تو بتائو اگر اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ کے لئے قیامت تک رات ہی رہنے دے تو اللہ تعالیٰکے سوا وہ کون سا معبود ہے جو تمہارے لئے روشنی لے آئے تو کیا تم سنتے نہیں ۔ یعنی آفتاب کی گردش اس طور پر ہو کہ زمین پر اس کی روشنی نہ پڑ سکے تو پھر زمین کو روشن کرنے اور تم کو روشنی دکھانے والا اور کونسا معبود ہے جو تم کو روشنی سے مستفیض کر دے تو تم ان دلائل قدرت کو توجہ کے ساتھ سن کر سمجھتے نہیں چونکہ ہمیشہ کی رات سے استدلال فرمایا تھا تاریکی مناسبت سے اذلات سمعون فرمایا کیونکہ تاریکی میں دکھائی نہیں دیتا البتہ سن سکتا ہے اس لئے اس وسعت قدرت کا حال سنتے نہیں آگے اس کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 71–72

ف 2۔ رات ہمیشہ ہونا اس طور پر کہ شمس کو افق سے طلوع نہ ہونے دے، یا اس کا نور سلب کرلے، اور دن کا ہمیشہ ہونا اس طرح کہ شمس کو غروب نہ ہونے دے، یا بلا شمس ایسا نور پیدا کر دے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر وہ رات کو ہمیشہ کے لئے کردے تو کون ہے جو دن کی روشنی لے آئے ؟ : 71۔ شرک کی ساری نسیں کاٹ دینے کے بعد توحید کے دلائل کو عقلی معیار کے مطابق کرکے بیان کیا جارہا ہے کہ صاحب عقل لوگ اپنی عقل پر ذرا زور دے کر سوچیں کہ ان کو کیا کرنا چاہئے اور وہ کیا کر رہے ہیں ؟ بلاشبہ یہاں اعلان توحید کیا جا رہا ہے لیکن سوال کرنے کے انداز سے اس کو بیان کیا گیا ہے کہ اے صاحب عقل وخرد ! ذرا غور کرو کہ وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام جس نے اس کارخانہ ہستی کو بنایا اور چلایا ہے اور آج بھی وہی ناظم اعلی ہے اگر تم پر کسی ایک رات کے آنے کے بعد رات ہی رات کر دے اور دن کبھی نہ آئے تو تمہارا کیا بنے ؟ یہ سوال اس لئے پوچھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 69–71

قُلْ أَرَ‌أَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّـهُ عَلَيْكُمُ اللَّيْلَ سَرْ‌مَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ‌ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِضِيَاءٍ ۖ أَفَلَا تَسْمَعُونَ ﴿71﴾ قُلْ أَرَ‌أَيْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّـهُ عَلَيْكُمُ النَّهَارَ‌ سَرْ‌مَدًا إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ إِلَـٰهٌ غَيْرُ‌ اللَّـهِ يَأْتِيكُم بِلَيْلٍ تَسْكُنُونَ فِيهِ ۖ أَفَلَا تُبْصِرُ‌ونَ ﴿72﴾ Say, "Tell me, if Allah makes night continuing upon you forever upto the Day of Judgment, which god, other than Allah, would bring to you light? Then do you not listen?" Say, "Tell me, if Allah makes the day continuing upon…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 70–75

92 A witness": the Prophet who had warned that community, or a rightly-guided person from among the followers of the Prophets, who had performed the duty of preaching the Truth in the community, or a means through which the message of the Truth had reached the community . 93 That is, "Present a cogent argument in your defence so that you are pardoned. You should either prove that the shirk and the denial of the Hereafter and Prophethood in which you persisted were the correct creed and you had adopted it on rational grounds, or, if you cannot do that, you should at least prove that no…

Read the full tafseer →