Explained with ayahs 60–61
دنیا اور اخرت کا تقابلی جائزہ
اللہ تعالیٰ دنیا کی حقارت اس کی رونق کی قلت وذلت اس کی ناپائیداری بےثباتی اور برائی بیان فرما رہا ہے اور اس کے مقابلہ میں آخرت کی نعمتوں کی پائیداری دوام عظمت اور قیام کا ذکر فرما رہے ہیں۔ جیسے ارشاد ہے آیت (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ ۭ وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْٓا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 96) 16۔ النحل :96) تمہارے پاس جو کچھ ہے فنا ہونے والا ہے۔ اور اللہ کے پاس تمام چیزیں بقا والی ہیں۔ اللہ کے پاس جو ہے وہ نیک لوگوں کے لئے بہت ہی بہتر اور عمدہ ہے۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا تو کچھ بھی نہیں۔ لیکن افسوس کہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
سورة القصص 83
یہ ان کے عذر کا تیسرا جواب ہے۔ پہلے جو قومیں تباہ ہوئیں ان کے لوگ ظالم ہوچکے تھے، مگر خدا نے ان کو تباہ کرنے سے پہلے اپنے رسول بھیج کر انہیں متنبہ کیا، اور جب ان کی تنبیہ پر بھی وہ اپنی کچ روی سے باز نہ آئے تو انہیں ہلاک کردیا۔ یہی معاملہ اب تمہیں درپیش ہے، تم بھی ظالم ہوچکے ہو، اور ایک رسول تمہیں بھی متنبہ کرنے کے لیے آگیا ہے۔ اب تم کفر و انکار کی روش اختیار کر کے اپنے عیش اور اپنی خوشحالی کو بچاؤ گے نہیں بلکہ الٹا خطرے میں ڈالو گے، جس تباہی کا تمہیں اندیشہ ہے وہ ایمان لانے سے نہیں بلکہ انکار کرنے سے تم پر آئے گی۔
Read the full tafseer →تیسرا جواب اس آیت میں دیا گیا وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا الآیتہ جس میں یہ بتلایا کہ اگر بالفرض ایمان لانے کے نتیجہ میں تمہیں کوئی تکلیف پہنچ ہی جائے تو وہ چند روزہ ہے اور جس طرح دنیا کی عیش و عشرت مال و دولت سب چند روزہ متاع ہے کسی کے پاس ہمیشہ نہیں رہتی، اسی طرح یہاں کی تکلیف و راحت کی کرے جو پائیدار اور ہمیشہ رہنے والی ہے ہمیشہ رہنے والی دولت و نعمت کی خاطر چند روزہ تکلیف و مشقت برداشت کرلینا ہی عقلمندی کی دلیل ہے۔
وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى، یعنی دنیا کا مال و متاع اور عیش و عشرت سب فانی ہے اور یہاں کے اعمال کا جو بدلہ آخرت میں ملنے والا ہے…
Read the full tafseer →قریش کو براہ راست تنبیہ
اوپر کی تنبیہات بالواسطہ تھیں۔ اب یہ براہ راست قریش کے لیڈروں کو مخاطب کر کے متنبہ فرمایا کہ جو رفاہیت و خوش حالی تمہیں حاصل ہوے اس پر اترائو نہیں۔ یہ کچھ بھی ہے بس حیات چند روزہ کی متاع اور عاضری رونق ہے۔ اصل چیز جو بہتر اور غیر فانی ہے وہ خدا کے پاس ہے جو ان لوگوں کو حاصل ہوگی جو آخرت کے طالب بنیں گے اور اس کے لئے جدوجہ دکریں گے تو اس متاع عارضی اور وقتی چمک دمک پر ریجھ کر حیات ابدی کے خزانوں کو ضائع نہ کرو۔ عقل سے کام لو۔ افلاتعقلون کیا تم لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے !
Read the full tafseer →60-1کیا اس حقیقت سے بھی تم بیخبر ہو کہ یہ دنیا اور اس کی رونقیں عارضی بھی ہیں اور حقیر بھی، جب کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے اپنے پاس جو نعمتیں، آسائشیں اور سہولتیں تیار کر رکھی ہیں وہ دائمی بھی ہیں اور عظیم بھی، حدیث میں ہے ' اللہ کی قسم دنیا، آخرت کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے تم سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبو کر نکال لے، دیکھے کہ سمندر کے مقابلے میں انگلی میں کتنا پانی ہوگا۔ (صحیح بخاری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–61
34: یہ بیچ میں کفار عرب کے ایک اور اعتراض کا جواب دیا گیا ہے، وہ لوگ کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمارے مذہب اور طریق کار سے ناراض ہے تو جس طرح اس نے پچھلی قوموں کو ہلاک کیا ہے جن کا حوالہ پچھلی آیت میں بھی دیا گیا ہے اسی طرح ہم کو اب تک کیوں ہلاک نہیں کیا ؟ جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو معاذ اللہ لوگوں کو ہلاک کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے، وہ سب سے پہلے اپنا کوئی پیغبر ان کے مرکزی علاقے میں بھیجتا ہے جو انہیں سیدھے راستے کی دعوت دے اور بار بار دیتا رہے، تاکہ وہ راہ راست پر آئیں اور انہیں سزا دینے کی ضرورت ہی نہ پڑے، اگر وہ اپنی گمراہی سے باز آجاتے ہیں تو انہیں ہلاک نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
یہ اہل مکہ کا ایک سطحی اور دنیاوی نقطہ نظر تھا۔ قریش کو اسی دنیا پرستی کے نقطہ نظر نے ڈر میں مبتلا کردیا تھا کہ اگر ہم نے اس جدید تحریک کو قبول کیا تو نقصان ہوگا۔ دشمن حملہ آور ہوجائیں گے اور معاون و مددگار حمایت سے ہاتھ اٹھالیں گے اور ہم مالی لحاظ سے کمزور اور بدحال ہوجائیں گے۔
وقالوا ان نتبع ۔۔۔۔۔ من ارضنا (28: 57) ” وہ کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ یہ لوگ اس بات کے منکر نہیں تھے کہ حضرت پیغمبر ﷺ جو تعلیمات پیش کرتے ہیں وہ حقیقی راہ ہدایت ہے۔ لیکن انہیں ڈر یہ تھا کہ مکہ کے اردگرد کے لوگ ان پر ٹوٹ پڑیں گے دراصل ان کی نظروں میں…
Read the full tafseer →7 یعنی آدمی کو عقل سے کام لے کر اتنا سمجھنا چاہیے کہ دنیا میں کتنے دن جینا ہے اور یہاں کی بہار اور چہل پہل کا مزہ کب تک اٹھا سکتے ہی۔ فرض کرو دنیا میں عذاب بھی نہ آئے، تاہم موت کا ہاتھ تم سے یہ سب سامان جدا کر کے رہے گا۔ پھر خدا کے سامنے حاضر ہونا اور ذرہ ذرہ عمل کا حساب دینا اگر وہاں کا عیش و آرام میسر ہوگیا تو یہاں کا عیش اس کے سامنے محض ہیچ اور لاشئ ہے۔ کون عقلمند ہوگا جو ایک مکدرو منغض زندگی کے بےغل و غش زندگی پر اور ناقص وفانی لذتوں کو کامل و باقی نعمتوں پر ترجیح دے۔
Read the full tafseer →آیت 60 وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَزِیْنَتُہَا ج ”
اس سے یہ نکتہ انسان کو خود بخود سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح دنیا کی یہ زندگی عارضی ہے اسی طرح اس سے متعلقہ ہر قسم کا سازوسامان بھی عارضی ہے۔
Read the full tafseer →83 یہ بھی دراصل ان کے اعتراض کا جواب ہے۔ یعنی سامان معیشت پر تم اس وقت اترا رہے ہو اور اس کے ضائع ہوجانے کے خوف کی بنا پر اسلام لانا گوارا نہیں کرتے اس کی زیادہ سے زیادہ مدت تمہاری موت ہے۔ جبکہ یہ تمہاری موت سے پہلے بھی تم سے چھینا جاسکتا ہے۔ موت کے تمہیں اپنی سرکشی کے نتیجہ میں تمہیں دائمی عذاب بھگتنا ہوگا۔ اس کے برعکس اگر تم ایمان لے آتے ہو۔ تو کوئی وجہ نہیں کہ تم سے یہ نعمتیں چھن جائیں البتہ کچھ مشکلات اور مصائب ضرور پیش آسکتے ہیں۔ لیکن ان کے عوض تمہیں اجر ملے گا۔ وہ دائمی اور لازوال ہوگا اب یہ دونوں پہلو سامنے رکھ کر اور خوب سوچ سمجھ کر اپنے متعلق خود ہی فیصلہ کرلو۔
Read the full tafseer →79۔ یعنی اس دنیا کی لذتوں اور آخرت کی راحتوں کا مقابلہ ہی کیا ؟ اس دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت بھی محض عارضی وچند روزہ۔ بخلاف عیش آخرت کے کہ وہ بلحاظ نوعیت وکیفیت بھی کہیں اعلی اور بلحاظ بقا تو دائم وقائم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : اور ہم نے لوگوں کے لئے قول یعنی قرآن کو (کھول کر بیان کیا) پیہم بھیجا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ایمان لے آئیں جن کو ہم نے اس قرآن سے پہلے کتاب عطا فرمائی وہ اس قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں یہ آیت یہود کی اس جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا، جیسا کہ عبد اللہ بن سلام وغیرہ اور ان نصاریٰ کے بارے میں جو حبشہ اور شام سے آئے تھے اور جب ان کو قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس کے ہمارے رب کی طرف سے حق ہونے پر ہمارا ایمان ہے ہم تو اس سے پہلے ہی سے مسلمان یعنی موحد ہیں یہ لوگ اپنے دونوں کتابوں پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اور دونوں پر عمل…
Read the full tafseer →وما اوتیتھم من شیء فمتاع الحیوۃ الدنیا وزینتھا وما عندا اللہ خیرو ابقی افلا تعلمون
اور جو کچھ تم کو (مال و اسباب) دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کا (عارضی) سروسمان اور سجاوٹ ہے اور جو (اجر وثواب) اللہ کے ہاں ہے وہ (دنیوی سامان وزینت سے) بہت بہتر اور لازوال ہے ‘ کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے ؟
فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَزِیْنَتُھَا یعنی دنیوی سامان ہے جس کو تم برتتے ہو اور دنیا کی سجاوٹ ہے جس سے زندگی بھر زینت حاصل کرتے ہو۔ وَمَا عِنْدَ اللہ یعنی جو جنت اور مراتب قرب خَیْرٌ اس سے فی نفسہ بہتر ہے کیونکہ وہ خالص لذت اور کامل سرور ہے۔ وَاَبْقٰی اور بہت زیادہ باقی رہنے والی ہے کیونکہ ابدی…
Read the full tafseer →(60) اور اے گروہ قریش جو کچھ تمہیں مال و خرم دیا گیا ہے وہ چند روزہ دنیوی زندگی کا سازو سامان ہے جو باقی نہیں رہے گا اور یہیں کی زیب وزینت ہے اور جنت میں جو اجر وثواب رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کیلیے ہے وہ اس سے کئی گنا بہتر ہے اور تمہارے اس دنیاوی ساز و سامان کے مقابلہ میں ہمیشہ رہنے والا ہے۔
کیا تم لوگوں میں انسانوں والے دماغ نہیں کہ اتنی سی بات سمجھ لو کہ دنیاوی چیزیں فانی ہیں اور آخرت باقی رہنے والی ہے۔
Read the full tafseer →وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا۔۔ : یہ کفار مکہ کے شبہ کا تیسرا جواب ہے، کیونکہ ان کے شبہ کا اصل یہ تھا کہ ہم یہ دین اس لیے قبول نہیں کر رہے کہ ہمیں اپنی دنیا کے نقصان کا خطرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ یہ تمہاری بہت بڑی غلطی ہے، کیونکہ دنیا میں تمہیں جو کچھ بھی دے دیا جائے سب دنیا کی زندگی کا تھوڑے سے وقت کے لیے فائدہ اٹھانے کا سامان ہے، جس نے آخر ختم ہونا ہے اور آخرت میں جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ اس سے کہیں بہتر بھی ہے اور باقی رہنے والا بھی ہے اور کوئی بھی عقل مند بہتر اور باقی کو چھوڑ کر کمتر اور فانی کو ترجیح نہیں دیتا، تو کیا تمہیں عقل نہیں…
Read the full tafseer →وما اوتیتم من شی تم ضمیر سے مراد اہل مکہ میں فمتاع الحیوۃ الدنیا و زینتا تم اپنی زندگی کے عرصہ میں اس سے لطف اندوز ہوئے ہو یا اپنی زندگی میں ایک عرصہ تک یا تو تم اس سے الگ ہوجاتے ہو یا وہ تم سے زائل ہوجاتی ہے۔ وما عند اللہ خیرو ابقی اللہ تعالیٰ کے ہاں جو کچھ ہوے وہ افضل اور دائمی ہے۔ اس سے مراد دار آخرت ہے اور یہ جنت ہے۔
افلا تعقلون کیا تم اتنی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے کہ باقی رہنے والی چیز فانی سے افضل ہوتی ہے۔ ابو عمرو نے اسے یعقلون یاء کے ساتھ پڑھا ہے (1) باقی قراء نے تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ پڑھا ہے یہی پسندیدہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وما اوتیتم
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش کے کچھ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ ہم اگر ہم آپ کا اتباع کریں تو ہم کو لوگ اچک لیں گے۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت وقالوا ان نتبع الہدی معک۔ یعنی اگر ہم آپ کے کہنے پر چلیں تو ہم کو اندیشہ ہے کہ عرب ہم کو مکہ کی سرزمین سے نکال دیں گے۔
2۔ النسائی وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حارث بن عامر بن نوفل نے کہا کہ آیت وقالوا ان نتبع الہدی معک نتخطف من ارضنا یعنی اگر ہم آپ کے کہنے پر چلیں تو ہم کو ہماری زمین یعنی مکہ سے نکال دیا جائے گا۔
3۔ عبدالرزاق وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت اولم نمکن لہم حرم…
Read the full tafseer →وَمَآ [اور جو ] اُوْتِيْتُمْ [تم لوگوں کو دی جاتی ہے ] مِّنْ شَيْءٍ [کوئی بھی چیز ] فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [تو (وہ) دنیوی زندگی کا سامان ہے ] وَزِيْنَتُهَا ۚ [اور اس کی زینت ہے ] وَمَا [اور جو ] عِنْدَ اللّٰهِ [اللہ کے پاس ہے ] خَيْرٌ [(تو وہ) سب سے بہتر ہے ] وَّاَبْقٰى ۭ [اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے ] اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ [تو کیا تم لوگ عقل نہیں کرتے ]
نوٹ۔ 1: قریش کو پورے ملک پر جو اقتدار حاصل تھا، وہ سمجھتے تھے کہ یہ ان کے دین شرک کی برکت سے ہوا ہے۔ مزید برآں انہوں نے پورے ملک پر اپنی مذہبی و سیاسی دھاک قائم رکھنے کے لئے یہ تدبیر اختیار کی تھی کہ تمام قبائل عرب کے اصنام…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ مَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُھَا وَ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰی) (اور تمہیں جو بھی کوئی چیز دی گئی ہے سو دنیاوی زندگی کا سامان ہے اور زینت ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے سو وہ بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے۔ ) چونکہ دنیاوی زندگی اور اس میں کام آنے والا مال و متاع اہل کفر کو ایمان لانے سے روکتا تھا اور اتنی بھاری تعداد میں ایسے کافر و مشرک ہیں جو رسول اللہ ﷺ کو واقعی اللہ تعالیٰ کا رسول سمجھتے ہیں اور یہ یقین کرتے ہیں کہ قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے لیکن دنیاوی اموال اور اغراض اور تھوڑی سی دیر کی دنیاوی عزت اور جاہ کو دیکھتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
اتمام حجت وقطع معذرت
یعنی قبول ہدایت کے بارے میں کافروں کے ایک حیلہ اور بہانہ کا ذکر اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا۔۔۔ الی۔۔۔ افلا تعقلون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ آنحضرت ﷺ من جانب اللہ ہادی برحق ہے۔ حق کا راستہ بتلانے والے ہیں مگر کسی کے دل میں حق کا اتار دینا یہ اللہ ہی کا کام ہے نبی کا کام ہدایت اور رہنمائی اور حق کی دعوت ہے اور بندوں کا کام اللہ کی راہ پر چلنا اور اس کی ہدایت اور دعوت کو قبول کرنا ہے اب آئندہ آیات میں کافروں کے ایک حیلہ اور بہانہ کا ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یہ جاہل ہدایت کے نہ قبول کرنے کے عذر میں…
Read the full tafseer →57:۔ یہ ترغیب الی الایمان ہے۔ یعنی آؤ مان لو اور ایمان لے آؤ اور دنیا کی عیش و راحت پر مغرور نہ رہو۔ کیونکہ یہ دولت اور یہ ساز و سامان چند روزہ اور حیات مستعار کی زینت و آرائش ہے اسے بقاء و دوام نہیں لیکن ایمان لانے کی صورت میں جو اجر وثواب ملے گا وہ اس دنیوی دولت سے ہزار درجہ بہتر ہوگا اور ابدی و دائمی بھی ہوگا۔ افلا تعقلون، کیا تم اتنا بھی نہیں سوچ سکتے کہ ان دونوں میں سے کونسا سودا نفع آور اور کونسا خسارے کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کو شکوہ بیان کیا تھا کہ وہ ہدایت کی عد م قبولیت کے لیے طرح طرح کے حیلوں بہانوں سے کام لیتے ہیں ، اور ساتھ اہل ایمان کو تسلی بھی دی کہ اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کے لیے اللہ کے ہاں دوہرا اجر ہے۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے محروم رہنے والوں کے ایک حیلے بہانے کا ذکر کیا اور اس کا جواب بھی دیا ہے۔
مشرکین مکہ کا عذر لنگ
ارشاد ہوتا ہے وقالو ان نتبع الھدی معک اور وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں نتخطف من ارضنا تو ہم اچک لیے جائیں گے اپنی سر زمین سے ، یعنی اگر ہم نے ایمان قبول کرلیا تو ہمیں مخالفین سے…
Read the full tafseer →وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَزِيْنَتُہَا 0ۚ وَمَا عِنْدَ اللہِ خَيْرٌ وَّاَبْقٰى 0ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 60ۧ
إِيتاء
: الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247]
الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ {…
Read the full tafseer →1 ؎ حیف ہے اول ان لوگوں کی عقل پر جو دنیا فانی کے لالچ میں آکر دین چھوڑ دیتے ہیں یا کسی گناہ اور بدکاری کو اختیار کرلیتے ہیں ہائے کے دن اور کے سال اس کو کیا پئیں گے نہیں دیکھتے کہ ان کے روبرو کیسے کیسے نازو نعم والے بدشاہ اور وبالیان ملک فارس میں مل گئی نہ آج نہ ان کے وہ رنگ محل ہیں نہ ہاتھی گھوڑے نہ زر و نقد نہ وہ عیش کے سامان نہ وہ حکومت و شوکت نہ وہ شراب اور اس کے طلائی گلاس نہ وہ مہر دیاں تبہ کا فقط ایک خاک کا ڈھیر ہے اور اس کے اردگرد حسرتوں کا انبار اور جہنم کی نار ہے۔ عبرت عبرت 12 منہ
Read the full tafseer →وَمَـآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْ ئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰـوۃِ الدُّنْـیَا وَزِیْـنَـتُـھَا ج وَمَا عِنْدَاللّٰہِ خَیْرٌ وَّاَبْقٰی ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ (القصص : 60)
(تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بہتر اور پائیدار ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ )
قریش کو براہ راست تنبیہ
اس سے پہلے کی آیات میں جو تنبیہات کی گئی ہیں ان میں روئے سخن اگرچہ قریش کی طرف تھا لیکن خطاب براہ راست ان سے نہ تھا۔ اب براہ راست قریش کے لیڈروں سے مخاطب ہو کر تنبیہ کی جارہی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ تمہیں جو دنیوی خوشحالی اور امارت و رفاہیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
فہم القرآن
ربط کلام : دنیا دار لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ دین پر عمل کرنے سے ان کا نقصان ہوگا۔ اس فرمان میں ان کے اس ذہن کی نفی کی گئی ہے۔
اہل مکہ کا خیال تھا کہ اگر ہم عقیدہ توحید اپنائیں اور دین اسلام کو قبول کریں گے تو لوگ ہمارے مخالف ہوجائیں گے جس سے ہمیں کاروباری لحاظ سے نقصان پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس ذہن کی نفی کرتے ہوئے وضاحت فرمائی ہے کہ اے لوگو ! تم اپنے محدود علم کی بنیاد پر یہ سوچتے ہو کہ اگر تم نے توحید خالص کو اپنایا اور دین اسلام کو اختیار کیا تو تمہیں دنیا کے حوالے سے نقصان پہنچے گا۔ یاد رکھو ! یہ دنیا عارضی اور اس کی زیب وزینت ناپائیدار ہے اگر تمہیں اللہ کے راستے پر…
Read the full tafseer →60: وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (اور جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کا سامان) اور اس کی وَزِیْنَتُہَا (زینت ہے) ۔ یعنی تمہارے پاس جتنے اسباب دنیا پائے جاتے ہیں۔ یہ صرف چند دن نفع اٹھانے اور زینت کرنے کے لئے ہے۔ اور وہ چند ایام اس فناء ہونے والی زندگی کی مدت ہے۔ وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ (اور جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے) ۔ وہ اس کا ثواب ہے۔ خَیْرٌ (وہ بہت بہتر ہے) ۔ وہ ذاتی لحاظ سے اس سے بہت بہتر ہے۔ وَاَبْقٰی (اور وہ باقی رہنے والا ہے) ۔ کیونکہ وہ دائمی ہے۔ اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ (کیا تم عقل نہیں رکھتے ہو) کہ باقی فانی سے بہتر ہے۔
قراءت : ابوعمرو نے یاء اور…
Read the full tafseer →60۔ ومااوتیتم من شئی فمتاع الحیوۃ الدنیا وزینتھا، ، یعنی دنیاوی سامان ہے جس کو تم برتتے ہو، اور دنیاوی سجاوٹ ہے جس سے زندگی بھرزینت حاصل کرتے ہو۔ وماعنداللہ خیر وابقی افلاتعقلون، ، جو باقی رہنے والا ہے وہ فنا ہونے والے سے بہتر ہے ، عام قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابوعمرو تاء اور یاء کے درمیان اختیار دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
57 تا 60۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کا یہ قول بیان فرمایا تھا جس کو وہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کے عذر میں پیش کرتے تھے کہ ہم نبی آخر الزمان پر ایمان لاویں گے تو مکہ کے گردو نواح کی بستیوں کے لوگ مخالفت دینی اور مذہبی کے پیدا ہوجانے کے سبب سے بڑی مخالفت اور دشمنی سے ہمارے ساتھ پیش آنے لگیں گے جس سے ہماری راحت اور ہمارے امن میں بڑا فتور پڑجاوے گا ایک جواب تو اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے اس عذر کا اوپر فرمایا تھا جس کا حاصل یہ تھا کہ ان لوگوں کی یہ نادانی ہے جو مکہ کے امن کو یہ لوگ اپنی تدبیر کا نتیجہ خیال کرتے ہیں ان کی تدبیر سے کچھ مکہ میں امن نہیں ہے بلکہ اللہ کے حکم سے آدمیوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
آیت 56
اللہ تبارک و تعالیٰ رسول مصطفیٰ ﷺ کو آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ۔۔۔ اور آپ کے علاوہ لوگ بدرجہ اولیٰ ۔۔۔ کسی کو ہدایت دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے خواہ وہ آپ کو کتنا ہی زیادہ محبوب کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جو مخلوق کے اختیار میں نہیں۔ ہدایت کی توفیق اور قلب میں ایمان جاگزیں کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت کا اہل ہے پس اسے ہدایت عطا کردیتا ہے اور کون ہدایت عطا کئے جانے کا اہل نہیں پس اسے اس کی گمراہی میں سرگرداں چھوڑ دیتا ہے۔
رہا اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (وانک لتھدی الی صراط مستقیم) (الشوریٰ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
83 متاع دنیا سب فانی اور عارضی : سو ابنائے دنیا کو ایک صاف اور کھلی تنبیہ و تذکیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جو بھی کچھ تمہیں دیا گیا ہے اے لوگو وہ سب اس دنیاوی زندگی ہی کا چند روزہ سامان ہے اور بس۔ سو کتنے کوتاہ نظر اور محروم و بدنصیب ہیں وہ لوگ جو دنیا کے اس چند روزہ سامان زیست اور اس کی عارضی اور فانی ٹیپ ٹاپ اور زیب وزینت میں الجھ کر رہ جائیں اور اپنے انجام کو اور اپنی آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کو بھول جائیں۔ اور اس طرح وہ ابدی خسارے کا شکار ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ایسے لوگوں کو براہ راست خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ دنیاوی مال و دولت اور رفاہت و خوشحالی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–64
ہجرت، مدین میں قیام، فرعون کی طرف واپسی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے سرفرازی
نبی کو بھیجنے کا مقصد ‘ نیک و بد کا فرق اور مشرکین کا انجام
تشریح : کفار و مشرکین کی خصلتیں ہر زمانے اور ہر دور میں ایک سی ہی رہی ہیں۔ آج کا دور باوجود ترقی کرنے کے اور علم و فضل میں کافی ترقی کر جانے کے کفار وہی ہٹ دھرمی اور ضد رکھتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں رکھتے تھے۔ کبھی کہتے موسیٰ جیسے معجزے دکھائو کبھی کہتے موسیٰ (علیہ السلام) جیسی کتاب لائو۔ حالانکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اہل عرب کیسے ایمان لاسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور حکیم ہے اس لیے وہ نبی بھیجتا رہا تاکہ قیامت کے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیات 51 تا 60
اسرارو معارف
اور پھر قرآن حکیم کے مسلسل اتارے جانے کی حکمت ارشاد ہوئی کہ ہم نے قرآن کریم کو بتدریج نازل فرمایا کہ لوگوں کو بار بار تازہ بتازہ کلام الہی نصیب ہوتا رہے اور مسلسل دعوت الی اللہ دی جاتی رہے نیز ہر آیت کو واقعات اور سوالات کے جواب میں نازل فرما کر یہ سہولت پیدا کردی کہ یاد رکھنے میں بھی آسانی ہو ورنہ اللہ قادر ہے تورات کی طرح ایک ہی دفعہ بھی عطا فرما دیتا۔ اور یہ محض اعتراض ہے ورنہ وہ لوگ جو اہل کتاب میں سے ایمان دار تھے اور اپنی کتاب پر ہی ایمان رکھتے تھے جب ان کے سامنے یہ آیات پڑھی گئیں تو انہوں نے فورا کہا کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ہمارے پروردگار…
Read the full tafseer →1 ۔ کہ فانی کو اختیار کرتے ہو اور باقی رہنے والی زندگی کا خیال نہیں کرتے ؟ صحیح حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :” اللہ کی قسم، آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص سمندر میں اپنی انگلی ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ اس کی انگلی کتنا پانی واپس لے کر آتی ہے “۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(28:60) اوتیتم ماضی مجہول جمع مذکر حاضر۔ تم کو دیا گیا۔ تم کو ملا۔ ایتاء افعال مصدر۔
ابقی۔ افعل التفصیل کا صیغہ۔ زیادہ دیر تک رہنے والا۔ سدا رہنے والا۔ بقاء مصدر جس کے معنی باقی رہنے کے ہیں۔ یہ لفظ جب اللہ کی طرف منسوب ہوگا تو اس کے معنی سدا باقی رہنے والے کے ہوں گے ورنہ دیر تک رہنے ووالے کے۔
افلا تعقلون۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہےعاطفہ ہے پھر تم کیوں نہیں سمجھتے یا عقل سے کام نہیں لیتے۔کا عطف جملہ محذوف پر ہے۔ ای الا تفکرون، فلا تعقلون۔
افمن کیا بھلا وہ شخص۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
لغات القرآن آیت نمبر 56 تا 61 ) ۔
لا تھدی (تو ہدایت نہیں دیتا ) ۔ احببت (تو نے چاہا۔ تو نے پسند کیا ) ۔ نتخطف (ہم اچک لئے جائیں گے ) ۔ لم نمکن (ہم نے ٹھکانا نہیں دیا ) ۔ یجبی (کھنچے آتے ہیں ) ۔ ثمرات (ثمرۃ) (پھل، پھول، سبزہ۔ سبزی ) ۔ لدنا (ہمارے پاس ) ۔ بطرت (اترائی ۔ (ناز کیا) ۔ معیشتہ (زندگی گذارنا) ۔ لم تسکن (آباد نہ ہوئے) ۔ یبعث (وہ بھیجتا ہے۔ اٹھاتا ہے) ۔ لا قیہ (اس کو پانے والا ) ۔ متعنا (ہم نے سامان دیا ) ۔ المحضرین (حاضر کئے گئے) ۔
تشریح : آیت نمبر (56 تا 61 ) ۔ ” سورة القصص کی گذشتہ آیات کی تشریح میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ملک حبش سے بیس آدمیوں کی ایک جماعت دین اسلام، نبی کریم ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
(ف 1) ارشاد ہوتا ہے کہ اور بہت سی بستیاں ہم نے ہلاک کرڈالیں، کہ ان کے رہنے والوں نے اپنی زندگی میں سرکشی کی تھی، پس جس بستی نے ہمارا کفران نعمت کیا اور عیش و عشرت میں ہمارے احکام کو پس پشت ڈال دیا ہم نے ان کو ایسا برباد اور ہلاک کیا کہ آج صفحہ ہستی پر ان کانشان تک باقی نہیں ہے۔ لیکن ہلاک کرنے سے قبل یہ ہم نے ضرور کیا ہے کہ ان کے پاس اپنے رسول بھیجے ہیں کہ وہ ہمارے احکام انہیں پڑھ کرسنائیں، جب ان لوگوں نے پشت پھیری اور نافرمانی کی، تو ہم نے ان کو ہلاک وبرباد کردیا، آگے فرمایا جو کچھ چیز تم کو دنیا میں دی گئی ہے تو وہ محض چند روزہ دنیا میں دی گئی ہے تو وہ محض چند روزہ دنیا کی زندگی کا برتاوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
[37] یہاں مشرکین مکہ سے کہا جا رہا ہے کہ دنیا کے فائدے چند روزہ ہیں اور وہ زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوجائیں گے۔ اس کے برعکس اللہ کے پاس جو نعمتیں ہیں وہ دنیوی نعمتوں سے بہتر بھی ہیں اور ابدی بھی۔ اس لئے محض چند روزہ دنیوی نعمتوں کی خاطر تم انکار کی روش پر قائم رہے تو آخرت میں تمہیں اس کا نتیجہ دائمی خسارے کی شکل میں بھگتنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
دیندار اور مادہ پرستی
1: اس آیت میں منکرین کے شبہ کا جواب ہے کہ اگر ہم اسلام قبول کریں گے تو نتخطف من او حتتا یعنی ہمیں ہماری سرزمین سے نکال باہر کیا جائے گا ۔ اور املاک و دولت سب کچھ چھین لیا جائے گا ۔ ارشاد ہے کہ کیا تم دولت عقبی کے مقابلہ دنیائے ونی کے سامان عیش و عشرت سے کرتے ہو ۔ کیا تمہیں معلوم نہیں ۔ کہ یہ سب کچھ عارضی وفانی ہے ۔ اور آخرت کی نعمتیں باقی رہنے والی اور دائمی ہیں ۔ اور منافع کے لحاظ سے کہیں بہتر اور موزوں ہیں فرمایا پھر اس بات پر بھی غور کرو کہ دیندار اور دنیا دار کیا اگر اور درجہ میں برابر ہیں ؟ دیندار اور متقی کے لئے جنت کے پر بہار دروازے کھلے ہوں گے ۔ اور دنیا کے طالب…
Read the full tafseer →60۔ اور جو کچھ بھی تم کو سامان عیش دیا گیا ہے وہ محض دنیوی زندگی کے برتنے کے لئے ، اور اسی زندگی کی رونق اور زینت ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ اس سے بدرجہا بہتر اور اور باقی رہنے والا ہے کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔ یعنی تم کو جو کچھ سامان عیش سے حصہ ملا ہے وہ محض چندروزہ دنیا کی زندگی کا سرمایہ ہے اور اسی دنیا میں برتنے اور استعمال کرنے کا سازو سامان ہے اور جو اجر وثواب اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ کما اور کیفا دونوں اعتبار سے بد رجہا بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے اور یہاں کا سرمایہ عیش یہیں کی زیب وزینت ہے تو کیا اتنی موٹی بات بھی تم نہیں سمجھتے اور عارضی اور دائمی میں جو فرق ہے وہ…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی خاتمہ عمر کے ساتھ اس کا بھی خاتمہ ہوجاے گا۔
Read the full tafseer →اس دنیا میں تم کو جو کچھ دیا گیا ہے وہ سب عارضی ہے ‘ ہمیشگی نہیں ہے :
60۔ یہ دنیا کیا ہے ؟ ایک عارضی فائدہ ہی تو ہے کیونکہ اس کی کسی چیز کو بھی ہمیشگی نہیں ہے سب سے زیادہ اہمیت اس دنیا میں انسان کی ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہے لیکن کیا اس کے لئے ہمیشگی ہے ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہی اشرف المخلوقات باقی ساری کائنات میں سے بےاعتباری اور عارضی چیز ہے جس کے لئے کوئی معین وقت اس کو نہیں بتایا گیا بلکہ اس کی ” اجل مسمی “ سے کوئی بھی انسان واقف نہیں ہے پھر ” اجل مسمی “ تو وہی ہے جس کو موت کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے لیکن انسان کی زندگی کے جو نشیب و فراز ہیں ان سے کوئی آگاہ نہیں ہے بلکہ وہ اپنے ہر معاملہ میں…
Read the full tafseer →وَمَا عِندَ اللَّـهِ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ (And that which is with Allah is much better and far more lasting - 28:60). That is the mundane wealth and comforts are all mortal. But the recompense one would get in the Hereafter for the good deeds done in the world is much superior and everlasting as compared to the temporary worldly wealth and comforts. The best of comforts of this world are no match to the bounties of the Hereafter. Then, no matter how attractive mundane comforts are, they are but temporary. As against that, the bounties of the Hereafter will last forever. There is no doubt that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
84 This is the fourth answer to their excuse. To understand it fully one should bear in mind two things: First, the present life which is no more than a few years for anyone, is only the temporary phase of a journey. The real life which will be everlasting is yet to come. In this life man may amass as much provision as he may please and live the few years at his disposal as comfortably as he can, it will in any case come to an end, and man will depart from the world empty-handed. No sensible person will like to make the bad bargain of suffering the everlasting distress and affliction in the…
Read the full tafseer →