Al-Qasas 28:59

Al-Qasas · from ayah 59

28:59

وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا ۚ— وَمَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤی اِلَّا وَاَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ ۟وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهۡلِكَ الۡقُرٰى حَتّٰى يَبۡعَثَ فِىۡۤ اُمِّهَا رَسُوۡلًا يَّتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا‌ ۚ وَمَا كُنَّا مُهۡلِكِى الۡقُرٰٓى اِلَّا وَاَهۡلُهَا ظٰلِمُوۡنَ

اور تمہارا پروردگار بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا۔ جب تک اُن کے بڑے شہر میں پیغمبر نہ بھیج لے جو اُن کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And never would your Lord have destroyed the cities until He had sent to their mother a messenger reciting to them Our verses. And We would not destroy the cities except while their people were wrongdoers.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 6 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:59

اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسُول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات سُناتا اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہو جاتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہارا پروردگار بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا۔ جب تک اُن کے بڑے شہر میں پیغمبر نہ بھیج لے جو اُن کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظالم ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

تیرا رب کسی ایک بستی کو بھی اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی کسی بڑی بستی میں اپنا کوئی پیغمبر نہ بھیج دے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنا دے اور ہم بستیوں کو اسی وقت ہلاک کرتے ہیں جب کہ وہاں والے ﻇلم وستم پر کمر کس لیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ وہ بستیاں یونہی ہلاک کر ڈالے جب تک اس نے ان بستیوں کے مرکزی مقام پر کوئی رسول نہ بھیجا ہو، جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے، اور ہم بستیوں کو اس وقت تک ہلاک کرنے والے نہیں ہیں جب تک ان کے باشندے ظالم نہ بن جائیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تمہارا رب شہروں کو ہلاک نہیں کرتا جب تک ان کے اصل مرجع میں رسول نہ بھیجے جو ان پر ہماری آیتیں پڑھے اور ہم شہروں کو ہلاک نہیں کرتے مگر جبکہ ان کے ساکن ستمگار ہوں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ کا رب بستیوں کو تباہ کرنے والا نہیں ہے یہاں تک کہ وہ اس کے بڑے مرکزی شہر میں پیغمبر بھیج دے جو ان پر ہماری آیتیں تلاوت کرے، اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں ہیں مگر اس حال میں کہ وہاں کے مکین ظالم ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تیرا رب کبھی بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں، یہاں تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول بھیجے جو ان کے سامنے ہماری آیات پڑھے اور ہم کبھی بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں مگر جب کہ اس کے رہنے والے ظالم ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ کا پروردگار کسی بستی کو ہلاک نہیں کرتا تاآنکہ کسی مرکزی بستی میں رسول نہ بھیج لے، جو انھیں ہماری آیات پڑھ کر سناتے نیز ہم صرف ایسی بستی کو ہی ہلاک کرتے ہیں جس کے رہنے والے ظالم ہوں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تیرا رب بستیوں کا ہلاک کرنے والا نہیں بنتا جب تک ان کی مرکزی بستی میں کوئی رسول نہ بھیج لے جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنا دے اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں بنتے مگر اسی وقت جب ان کے باشندے اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے بن جاتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور آپ کا رب ایسا نہیں اور یہ اس کی شان نہیں کہ وہ ان بستیوں کو یونہی ہلاک کردیتا جب تک کہ ان کے مرکز میں کوئی ایسا رسول نہ بھیج دے جو ان کو پڑھ کر سنائے ہماری آیتیں اور احکام اور اس کے بعد بھی فوراً ہی ہم ان بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظلم ہی پر کمر بستہ ہوجائیں

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کا پروردگار بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک کہ ان کے صدر مقام میں کسی پیغمبر کو نہ بھیج لے جو انہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سنا دے اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کرتے بجز اس حال کے کہ وہاں کے باشندے شرارت کرنے لگیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہیں تھا آپ کا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا جب تک کہ وہ ان کی مرکزی بستی میں کوئی رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو پڑھ کر سناتا تھا ہماری آیات اور ہم ہرگز ان بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں تھے مگر اس بنا پر کہ ان کے باسی ظالم تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آپ کا رب بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک ان کے بڑے شہر میں پیغمبر نہ بھیج دے جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے ‘ اور ہم بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتے مگر اس وقت کہ وہاں کے لوگ ظالم ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Your Lord would not destroy a town until He had sent to its centre a Messenger who would recite to them Our verses. Nor would We destroy any town unless its inhabitants were iniquitous.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And your Lord is not such as He would destroy the towns unless he had sent to their central place a messenger who recites to them Our verses, nor are We such as would destroy the towns unless their people are wrongdoers.

— Muhammad Taqi Usmani

And your Lord is not such as He would destroy the towns unless he had sent to their central place a messenger who recites to them Our verses, nor are We such as would destroy the towns unless their people are wrongdoers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And never will your Lord destroy the towns until He sends to their mother town a Messenger reciting to them Our Ayat. And never would We destroy the towns unless the people thereof are wrongdoers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And never did thy Lord destroy the townships, till He had raised up in their mother(-town) a messenger reciting unto them Our revelations. And never did We destroy the townships unless the folk thereof were evil-doers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And never would your Lord have destroyed the cities until He had sent to their mother a messenger reciting to them Our verses. And We would not destroy the cities except while their people were wrongdoers.

— Saheeh International

Your Lord did not destroy the people of the towns without first sending a Messenger to the mother town who would recite His revelations to them. We did not want to destroy the towns if the people therein were not unjust.

— Muhammad Sarwar

And your Lord never destroyed the towns until He raised in their metropolis an apostle, reciting to them Our communications, and We never destroyed the towns except when their people were unjust.

— Muhammad Habib Shakir

Nor was thy Lord to destroy the Cities, until He had raised up in their mother-city an apostle reciting unto them our revealations. Nor were We to destroy the cities unless the inhabitants thereof were wrong-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

Nor was thy Lord the one to destroy a population until He had sent to its centre a messenger, rehearsing to them Our Signs; nor are We going to destroy a population except when its members practise iniquity.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:59

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 58–59

اہل مکہ کو تنبیہہ اہل مکہ کو ہوشیار کیا جاتا ہے کہ جو اللہ کے بہت سی نعمتیں حاصل کرکے اترا رہے تھے اور سرکشی اور بڑائی کرتے تھے اور اللہ سے کفر کرتے تھے نبی کا انکار کرتے تھے اور اللہ کی روزیاں کھاتے تھے اور اس کی نمک حرامی کرتے تھے انہیں اللہ تعالیٰ نے اس طرح تباہ و برباد کردیا کہ آج ان کا نام لینے والا نہیں رہا۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ01102) 16۔ النحل :112) یہاں فرماتا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 59–60

سورة القصص 83 یہ ان کے عذر کا تیسرا جواب ہے۔ پہلے جو قومیں تباہ ہوئیں ان کے لوگ ظالم ہوچکے تھے، مگر خدا نے ان کو تباہ کرنے سے پہلے اپنے رسول بھیج کر انہیں متنبہ کیا، اور جب ان کی تنبیہ پر بھی وہ اپنی کچ روی سے باز نہ آئے تو انہیں ہلاک کردیا۔ یہی معاملہ اب تمہیں درپیش ہے، تم بھی ظالم ہوچکے ہو، اور ایک رسول تمہیں بھی متنبہ کرنے کے لیے آگیا ہے۔ اب تم کفر و انکار کی روش اختیار کر کے اپنے عیش اور اپنی خوشحالی کو بچاؤ گے نہیں بلکہ الٹا خطرے میں ڈالو گے، جس تباہی کا تمہیں اندیشہ ہے وہ ایمان لانے سے نہیں بلکہ انکار کرنے سے تم پر آئے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

حَتّٰى يَبْعَثَ فِيْٓ اُمِّهَا رَسُوْلًا لفظ ام کے مشہور معنے والدہ اور ماں کے ہیں اور ماں چونکہ تخلیق انسانی کی بنیاد ہے اس لئے لفظ ام اصل اور اساس کے معنے میں بھی بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ امھا کی ضمیر قُرٰی کی طرف راجع ہے امھا سے مراد ام القری ہے یعنی بستیوں کی اصل اور مدارکار مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک اس قوم کو بڑے شہروں میں اپنے کسی رسول کے ذریعہ پیغام حق نہ پہنچا دے، جب دعوت حق پہنچ جائے اور لوگ اس کو قبول نہ کریں اس وقت ان بستیوں پر عذاب آتا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کے انبیاء اور رسل عموماً بڑے شہروں میں مبعوث ہوتے ہیں وہ چھوٹے قصبات و…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ہلاکت پیغمبر کی بعثت کے بعد یہ وہی انذار کا مضمون مزید واضح اور تیز ہوگیا ہے فرمایا کہ قوموں پر فیصلہ کن عذاب کے معامل میں سنت الٰہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی قوم کو ہلاک نہیں کرتا جب تک اس کی مرکزی بستی میں اپنا ایک رسول بھیج کر لوگوں کو اپنی آیات اچھی طرح سنا نہ دے۔ مطلب یہ ہے کہ جہاں تک قریش کا تعلق ہے اس سنت الٰہی کا ایک مرحلہ پورا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مرکزی بستی … مکہ … میں اپنا ایک رسول بھیج دیا جو رات دن لوگوں کو اللہ کی آیات کے ذریعہ سے انذار کر رہا ہے۔ اب عذاب کا انحصار ان کی رویہ پر ہے۔ ومالنا مھل کی القریٰ الا واھلھا ظلمون یہ اسی سنت الٰہی کے دوسرے مرحلے کا ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

59-1یعنی تمام حجت کے بغیر کسی کو ہلاک نہیں کرتا، ہر چھوٹے بڑے علاقے میں نبی نہیں آیا، بلکہ مرکزی مقامات پر نبی آتے رہے اور چھوٹے علاقے اس کے زیر اثر میں آ جماتے رہے ہیں۔ 59-2یعنی نبی بھیجنے کے بعد وہ بستی والے ایمان نہ لاتے اور کفر و شرک پر اپنا اصرار جاری رکھتے تو پھر انھیں ہلاک کردیا جاتا، یہی مضمون (وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِـيُهْلِكَ الْقُرٰي بِظُلْمٍ وَّاَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ) 11۔ ہود :117) میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 59–61

34: یہ بیچ میں کفار عرب کے ایک اور اعتراض کا جواب دیا گیا ہے، وہ لوگ کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمارے مذہب اور طریق کار سے ناراض ہے تو جس طرح اس نے پچھلی قوموں کو ہلاک کیا ہے جن کا حوالہ پچھلی آیت میں بھی دیا گیا ہے اسی طرح ہم کو اب تک کیوں ہلاک نہیں کیا ؟ جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو معاذ اللہ لوگوں کو ہلاک کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے، وہ سب سے پہلے اپنا کوئی پیغبر ان کے مرکزی علاقے میں بھیجتا ہے جو انہیں سیدھے راستے کی دعوت دے اور بار بار دیتا رہے، تاکہ وہ راہ راست پر آئیں اور انہیں سزا دینے کی ضرورت ہی نہ پڑے، اگر وہ اپنی گمراہی سے باز آجاتے ہیں تو انہیں ہلاک نہیں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 57–61

یہ اہل مکہ کا ایک سطحی اور دنیاوی نقطہ نظر تھا۔ قریش کو اسی دنیا پرستی کے نقطہ نظر نے ڈر میں مبتلا کردیا تھا کہ اگر ہم نے اس جدید تحریک کو قبول کیا تو نقصان ہوگا۔ دشمن حملہ آور ہوجائیں گے اور معاون و مددگار حمایت سے ہاتھ اٹھالیں گے اور ہم مالی لحاظ سے کمزور اور بدحال ہوجائیں گے۔ وقالوا ان نتبع ۔۔۔۔۔ من ارضنا (28: 57) ” وہ کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ یہ لوگ اس بات کے منکر نہیں تھے کہ حضرت پیغمبر ﷺ جو تعلیمات پیش کرتے ہیں وہ حقیقی راہ ہدایت ہے۔ لیکن انہیں ڈر یہ تھا کہ مکہ کے اردگرد کے لوگ ان پر ٹوٹ پڑیں گے دراصل ان کی نظروں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی اللہ تعالیٰ اس وقت تک بستیوں کو غارت نہیں کرتا جب تک ان کے صدر مقام میں کوئی ہشیار کرنے والا پیغمبر نہ بھیج دے (صدر مقام کی تخصیص شاید اس لیے کی کہ وہاں کا اثر دور تک پہنچتا ہے اور شہروں کے باشندے نسبتاً سلیم و عقیل ہوتے ہیں) تمام روئے زمین کی آبادیوں کا صدر مقام مکہ معظمہ تھا۔ ( لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَمَنْ حَوْلَهَا) 42 ۔ الشوری :7) اسی لیے وہاں سب سے بڑے اور آخری پیغمبر مبعوث ہوئے۔ 6 یعنی ہشیار کرنے پر بھی جب لوگ باز نہیں آتے، برابر ظلم و طغیان میں ترقی کرتے چلے جاتے ہیں تب اللہ تعالیٰ پکڑ کر ہلاک کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 59 وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّہَا رَسُوْلًا ” یعنی اللہ تعالیٰ کسی بستی تک دعوت حق پہنچائے بغیر اس پر عذاب نہیں بھیجتا۔ اس سلسلے میں اللہ کا اصول اور طریقہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ پہلے متعلقہ قوم کی طرف باقاعدہ ایک رسول مبعوث کیا جاتا جو حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا واضح کر کے اس قوم پر حجت قائم کردیتا۔ پھر اس کے بعد بھی جو لوگ اپنے کفر پر اڑے رہتے انہیں عذاب کے ذریعے نیست و نابود کردیا جاتا۔ یہی اصول سورة بنی اسرائیل میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ”اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

82 یہ بھی دراصل کفار مکہ کے اعتراض کا تیسرا جواب ہے ان کا اعتراض یہ تھا کہ اگر ہم ایمان لے آئے تو ہم تو سیاسی اور معاشی طور پر تباہ ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کسی قوم کی تباہی کے متعلق اپنا ضابطہ بیان فرما دیا ہے کہ وہ کیوں آتی ہے اور کب آتی ہے۔ اور وہ ضابطہ یہ ہے کہ پہلے ہم کسی مرکزی شہر یا صدر مقام میں اپنا رسول بھیجتے ہیں۔ مرکزی مقام کا انتخاب اس لئے کیا جاتا ہے کہ ایک تو ارد گرد کی آبادیوں کا اس سے رابطہ ہوتا ہے دوسرے مرکزی شہر کے لوگ نسبتاً پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ بات کو جلد سمجھ سکتے ہیں اور دیہاتیوں کی نسبت مہذب بھی ہوتے ہیں۔ پھر یہ رسول اس مرکزی بستی کے لوگوں کو اللہ کے پیغام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

78۔ یہ قہر الہی کا ایک عام قانون بیان ہورہا ہے۔ یعنی اول تو کسی آبادی پر عذاب آتا نہیں جب تک پہلے اس کے صدر مقام میں خوب تبلیغ نہ ہولے۔ اور پھر وہاں کے باشندے ایک مدت مدید تک مسلسل نافرمانیاں نہ کرلیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–60

آیت نمبر 51 تا 60 ترجمہ : اور ہم نے لوگوں کے لئے قول یعنی قرآن کو (کھول کر بیان کیا) پیہم بھیجا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ایمان لے آئیں جن کو ہم نے اس قرآن سے پہلے کتاب عطا فرمائی وہ اس قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں یہ آیت یہود کی اس جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا، جیسا کہ عبد اللہ بن سلام وغیرہ اور ان نصاریٰ کے بارے میں جو حبشہ اور شام سے آئے تھے اور جب ان کو قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس کے ہمارے رب کی طرف سے حق ہونے پر ہمارا ایمان ہے ہم تو اس سے پہلے ہی سے مسلمان یعنی موحد ہیں یہ لوگ اپنے دونوں کتابوں پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اور دونوں پر عمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما کان ربک مھلک القری حتی یبعث فی امھا رسولا یتلوا علیھم ایتنا وما کنا مھلکی القری الا واھلھا ظلمون اور آپ کا رب ایسا تو نہیں کہ بستیوں کو ہلاک کر دے بغیر اس کے کہ ان کے صدر مقام میں کسی ایسے رسول کو بھیجے جو ہماری آیات ان کو پڑھ کر سنائے ‘ ہم بستیوں کو اسی وقت ہلاک کرتے ہیں جب ان میں رہنے والے بہت ہی شرارت کرنے لگیں۔ وَمَا کَانَ رَبُّکَ یعنی آپ کے رب کا یہ دستور نہیں کہ بغیر رسول بھیجے کسی بستی کو یونہی تباہ کر دے۔ اَلْقُرٰی یعنی کافر بستیاں۔ فیْ اُمِّھَا یعنی ان کی سب سے بڑی بستی میں۔ رَسُوْلاً (یعنی اللہ کے عذاب اور اس کے احکام کی خلاف ورزی سے) ڈرانے والا۔ بڑی بستی کو بعثت رسول کے لئے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 57–59

(57) اور حرث بن عمرو نوفلی اور اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ اگر ہم آپ کے ساتھ توحید کا اقرار کرلیں گے تو ہم سر زمین مکہ سے نکال دیے جائیں گے۔ کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی کہ وہاں کسی قسم کا خوف نہیں جہاں ہر قسم کے پھل کھچے چلے آتے ہیں جو ہماری طرف سے ان کو کھانے کو ملتے ہیں سو اگر یہ ایمان لے آئیں گے تو میں ان پر کفار کو کیوں کر مسلط کر دوں گا لیکن ان میں سے اکثر اس چیز کو نہیں جانتے اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وقالوا ان نتبع الہدی معک“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے عوفی ؒ کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ کچھ قریشیوں نے رسول اکرم ﷺ سے کہا کہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان بستیوں کو ہلاک کرنے کا اصول بیان فرمایا اور اس سوال کا جواب دیا کہ ان اقوام کی ہلاکت کے بعد کتنی مدت گزری، کفار کا کفرو شرک اور ان کی سرکشی اور ظلم و زیادتی انتہا کو پہنچ چکی، انھیں کیوں ہلاک نہیں کیا گیا ؟ فرمایا یہ تیرے رب کی ربوبیت اور اس کی رحمت ہے کہ وہ کبھی بستیوں کو ہلاک نہیں کرتا، جب تک ان کی مرکزی بستی میں کوئی پیغام پہنچانے والا (رسول) نہ بھیجے، جو ان کے سامنے ہماری آیات کی تلاوت کر کے ان کا یہ عذر ختم نہ کر دے کہ ہمیں عذاب سے پہلے آگاہ کیوں نہیں کیا گیا۔ ”ما کان“ میں نفی کا استمرار ہے، یعنی ایسا کبھی ہوا ہی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وما کان ربک مھلک القریٰ یعنی ایسی بستیاں جن کے اہل کافر ہیں۔ حتی یبعث فی امھا ہمزہ کے ضمہ اور اس کے کسرہ کے ساتھ اسے پڑھا گیا ہے کسرہ جر کی اتباع میں ہے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ رسولاً مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فی امھا سے مراد ان میں سے سب سے بڑی، رسولاً ایسا رسول جو انہیں خبردار کرے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : ان کے اوائل میں (1) میں کہتا ہوں : مکہ مکرمہ اپنی حرمت اور اولیت کی بنا پر سب سے عظیم بستی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان اول بیت وضع للناس (آل عمران : 96) رسول کی بعثت کے لئے ان بستیوں میں سے بڑی کو خاص کیا گیا ہے کیونکہ رسولوں کو اشراف کی طرف مبعوث کیا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 57–60

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش کے کچھ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ ہم اگر ہم آپ کا اتباع کریں تو ہم کو لوگ اچک لیں گے۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت وقالوا ان نتبع الہدی معک۔ یعنی اگر ہم آپ کے کہنے پر چلیں تو ہم کو اندیشہ ہے کہ عرب ہم کو مکہ کی سرزمین سے نکال دیں گے۔ 2۔ النسائی وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حارث بن عامر بن نوفل نے کہا کہ آیت وقالوا ان نتبع الہدی معک نتخطف من ارضنا یعنی اگر ہم آپ کے کہنے پر چلیں تو ہم کو ہماری زمین یعنی مکہ سے نکال دیا جائے گا۔ 3۔ عبدالرزاق وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت اولم نمکن لہم حرم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا كَانَ [اور نہیں ہے ] رَبُّكَ [آپ ﷺ کا رب ] مُهْلِكَ الْقُرٰى [بستیوں کو ہلاک کرنے والا ] حَتّٰى [یہاں تک کہ ] يَبْعَثَ [وہ بھیج دے ] فِيْٓ اُمِّهَا [ان (بستیوں) کے مرکز میں ] رَسُوْلًا [ایک ایسا رسول ] يَّتْلُوْا عَلَيْهِمْ [جو پڑھ کر سنائے ان کو ] اٰيٰتِنَا ۚ [ہماری آیتیں ] وَمَا كُنَّا [اور ہم نہیں ہیں ] مُهْلِــكِي الْقُرٰٓى [بستیوں کو ہلاک کرنے والے ] اِلَّا [مگر ] وَ [اس حال میں کہ ] اَهْلُهَا [ان کے لوگ ] ظٰلِمُوْنَ [ظلم کرنے والے ہوں (آیت۔ 59) ۔ مہلک القری میں کان کی خبر ہونے کی وجہ سے مہلک حالت نصب میں ہے اور واحد آیا ہے۔ جبکہ آگے کنا (جمع) کی خبر حالت نصب میں مہلکین تھی۔ مضاف…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا (وَ مَا کَانَ رَبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی) (الآیۃ) کہ آپ کا رب اس وقت تک بستیوں کو ہلاک نہیں فرماتے جب تک مرکزی بستی میں کوئی رسول نہ بھیجیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول آتے رہے اللہ کے احکام پہنچاتے رہے جب مخاطبین نے نہیں مانا اور ظلم پر جمے رہے۔ گناہوں پر اڑے رہے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک فرما دیا۔ مطلب یہ ہے کہ اتمام حجت کے بعد ظالموں کو ہلاک کیا جاتا رہا ہے۔ (قال القرطبی (رح) اخبر تعالیٰ انہ لا یھلکھم الا اذا استخفوا الاھلاک بظلمھم ولا یھلکھم مع کانھم ظالمین الا بعد تاکید الحجۃ والالزام ببعثۃ الرسل ولا یجعل علمہ بالحوالھم حجۃ علیھم) ۔ (امام قرطبی ؓ فرماتے ہیں : اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 57–60

اتمام حجت وقطع معذرت یعنی قبول ہدایت کے بارے میں کافروں کے ایک حیلہ اور بہانہ کا ذکر اور اس کا جواب قال اللہ تعالیٰ وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا۔۔۔ الی۔۔۔ افلا تعقلون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ آنحضرت ﷺ من جانب اللہ ہادی برحق ہے۔ حق کا راستہ بتلانے والے ہیں مگر کسی کے دل میں حق کا اتار دینا یہ اللہ ہی کا کام ہے نبی کا کام ہدایت اور رہنمائی اور حق کی دعوت ہے اور بندوں کا کام اللہ کی راہ پر چلنا اور اس کی ہدایت اور دعوت کو قبول کرنا ہے اب آئندہ آیات میں کافروں کے ایک حیلہ اور بہانہ کا ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یہ جاہل ہدایت کے نہ قبول کرنے کے عذر میں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

56:۔ ہماری سنت جاریہ یہ ہے کہ جب تک ہم مرکزی شہر میں اپنا رسول بھیج کر اس علاقے کی بستیوں تک اپنا پیغام نہ پہنچا دیں اور جب تک وہ لوگ ہماری آیتوں کا انکار نہ کریں اس وقت تک ہم ان کو ہلاک نہیں کرتے۔ اے اہل مکہ ! اب تمہاری ہلاکت کا وقت قریب آپہنچا ہے کیونکہ تم میں ہمارا رسول بھی آچکا جس نے کما حقہ ہمارا پیغام تمہیں پہنچا دیا اور تم اس کا انکار بھی کرچکے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 57–60

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کو شکوہ بیان کیا تھا کہ وہ ہدایت کی عد م قبولیت کے لیے طرح طرح کے حیلوں بہانوں سے کام لیتے ہیں ، اور ساتھ اہل ایمان کو تسلی بھی دی کہ اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کے لیے اللہ کے ہاں دوہرا اجر ہے۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے محروم رہنے والوں کے ایک حیلے بہانے کا ذکر کیا اور اس کا جواب بھی دیا ہے۔ مشرکین مکہ کا عذر لنگ ارشاد ہوتا ہے وقالو ان نتبع الھدی معک اور وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں نتخطف من ارضنا تو ہم اچک لیے جائیں گے اپنی سر زمین سے ، یعنی اگر ہم نے ایمان قبول کرلیا تو ہمیں مخالفین سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا كَانَ رَبُّكَ مُہْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى يَبْعَثَ فِيْٓ اُمِّہَا رَسُوْلًا يَّتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰتِنَا۝ 0ۚ وَمَا كُنَّا مُہْلِــكِي الْقُرٰٓى اِلَّا وَاَہْلُہَا ظٰلِمُوْنَ۝ 59 هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 57–59

ترکیب : معک نتبع سے متعلق نتخطف جواب شرط خطف ربودن اچکنا تمکن بمعنی نجعل اس لیے حرما کی طرف بنفسہ متعدی ہوا۔ امنا بمعنی مومن او ذا امن صفت ہے حرما کی یجبیٰ جملہ صفت ہے ثانیہ رزقا یجبیٰ کے معنی سے مفعول مطلق و قیل حال و کم فی موضع نصب با ھلکنا معیشتہا کا نصب بطرت ہے جس کا فاعل ضمیر قریۃً لان المعنی کفرت نعمھا اوجاوزت الحد۔ لم تسکن حال و العامل فیہ الاشارۃ الا قلیلا او زماناً قلیلا فمتاع الحیوۃ ای فالموتی متاع۔ تفسیر : مشرکین مکہ کا ایک اور شبہ تھا جس کو بعد وضوح دلائل کے پیش کیا کرتے تھے، اس کو خدا تعالیٰ یہاں نقل فرماتا ہے۔ وقالوا ان نتبع الہدیٰ معک کہ اگر ہم تیرے ساتھ ہدایت پر آجاویں تو لوگ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّھَا رَسُوْلاً یَّتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰـتِـنَا ج وَمَا کُنَّا مُھْلِکِی الْقُرٰٓی اِلاَّ وَاَھْلُھَا ظٰلِمُوْنَ ۔ (القصص : 59) (اور آپ کا رب بستیوں کا ہلاک کرنے والا نہ تھا جبکہ تک ان کی مرکزی بستی میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتا اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے مگر اس وقت جب ان کے رہنے والے اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے بن گئے۔ ) سنت اللہ کا بیان قریش کو انذار کرتے ہوئے ایک نہایت اہم حقیقت کو واشگاف فرمایا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ تم جن چیزوں اور جن ترقیات کو زندگی کی ضمانت سمجھتے ہو گزشتہ آیت کے آئینہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : بستیوں کو تباہ کرنے کی وجہ۔ اس سے پہلے زکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ترقی یافتہ اور کئی مال دار بستیوں کو تباہ کیا۔ اب وضاحت کی جا رہی ہے کہ جن بستیوں کو تباہ کیا گیا ان پر آپ کے رب نے کوئی ظلم نہیں کیا۔ کیونکہ اس کا اصول ہے کہ اس وقت تک کسی قوم کو عذاب نہ دیا جائے جب تک اس تک رب تعالیٰ کا پیغام نہ پہنچ جائے۔ اسی اصول کے پیش نظر ہر تباہ کی جانے والی قوم کے مرکزی شہر یا علاقہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول بھیجے جو ان کے سامنے اس کے فرامین بیان کرتے تھے اور انھیں باربار بتلاتے اور سمجھاتے کہ اگر تم اپنے رب کی نافرمانی سے باز نہ آئے تو اس کا عذاب تم پر نازل ہوگا۔ جب لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

59: وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرٰی (اور آپ کا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں) ۔ ہر زمانہ میں حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْ اُمِّہَا رَسُوْلاً (جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول نہ بھیج دے) ۔ قراءت : اُمِّہَا۔ میں ہمزہ کو کسرہ دیکر حمزہ ٗ علی نے پڑھا ہے۔ یعنی اس بستی میں جو اس کی جڑ و بنیاد ہے۔ یعنی اس کے اصل اور اعلی حصہ میں ایک رسول بھیج دیا تاکہ حجت لازم ہوجائے اور معذرت منقطع ہو۔ نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ کے حکم اور سابقہ قضاء میں یہ بات نہ تھی کہ زمین میں وہ کسی بستی کو ہلاک کرے یہاں تک کہ ام القریٰ یعنی مکہ میں رسول بھیجے کیونکہ زمین کو وہیں سے پھیلایا گیا۔ رسول سے محمد ﷺ مراد ہیں۔ یَتْلُوْا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

59۔ وماکان ربک مھلک القری، ،، کافروں کی بستی اور اس کے رہنے والے۔ حتی یبعث فی امھا رسولا، یعنی ان کی بستی بڑی تھی اور بڑے پیغمبر تھے اس کو اعظم اس لیے کہا کیونکہ اس میں نبی کو مبعوث کیا گیا چون کہ انبیاء کرام بھی اشراف لوگوں کی طرف بھیجے جاتے ہیں اور اشراف لوگا ی سے ہی شہروں میں سکونت اختیار کرتے ہیں اور سردار لوگ عام طور پر بڑے شہروں میں ہی رہتے ہیں اور مرکزی مکانات ہی ان کے مکان ہوتے ہیں۔ یتلواعلیھم ایاتنا، مقاتل اور محمد بن کعب قرظی کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت حمزہ اور ابوجہل یا حضرت علی یا ابوجہل کے حق میں ہوا۔ بعض نے کہا کہ حضرت عمار اور ولید بن مغیرہ کے متعلق اس کا نزول ہوا۔ وماکنا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 57–60

57 تا 60۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کا یہ قول بیان فرمایا تھا جس کو وہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کے عذر میں پیش کرتے تھے کہ ہم نبی آخر الزمان پر ایمان لاویں گے تو مکہ کے گردو نواح کی بستیوں کے لوگ مخالفت دینی اور مذہبی کے پیدا ہوجانے کے سبب سے بڑی مخالفت اور دشمنی سے ہمارے ساتھ پیش آنے لگیں گے جس سے ہماری راحت اور ہمارے امن میں بڑا فتور پڑجاوے گا ایک جواب تو اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے اس عذر کا اوپر فرمایا تھا جس کا حاصل یہ تھا کہ ان لوگوں کی یہ نادانی ہے جو مکہ کے امن کو یہ لوگ اپنی تدبیر کا نتیجہ خیال کرتے ہیں ان کی تدبیر سے کچھ مکہ میں امن نہیں ہے بلکہ اللہ کے حکم سے آدمیوں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 56–60

آیت 56 اللہ تبارک و تعالیٰ رسول مصطفیٰ ﷺ کو آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ۔۔۔ اور آپ کے علاوہ لوگ بدرجہ اولیٰ ۔۔۔ کسی کو ہدایت دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے خواہ وہ آپ کو کتنا ہی زیادہ محبوب کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جو مخلوق کے اختیار میں نہیں۔ ہدایت کی توفیق اور قلب میں ایمان جاگزیں کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت کا اہل ہے پس اسے ہدایت عطا کردیتا ہے اور کون ہدایت عطا کئے جانے کا اہل نہیں پس اسے اس کی گمراہی میں سرگرداں چھوڑ دیتا ہے۔ رہا اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (وانک لتھدی الی صراط مستقیم) (الشوریٰ :…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–88

سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 59–60

83 متاع دنیا سب فانی اور عارضی : سو ابنائے دنیا کو ایک صاف اور کھلی تنبیہ و تذکیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جو بھی کچھ تمہیں دیا گیا ہے اے لوگو وہ سب اس دنیاوی زندگی ہی کا چند روزہ سامان ہے اور بس۔ سو کتنے کوتاہ نظر اور محروم و بدنصیب ہیں وہ لوگ جو دنیا کے اس چند روزہ سامان زیست اور اس کی عارضی اور فانی ٹیپ ٹاپ اور زیب وزینت میں الجھ کر رہ جائیں اور اپنے انجام کو اور اپنی آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کو بھول جائیں۔ اور اس طرح وہ ابدی خسارے کا شکار ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ایسے لوگوں کو براہ راست خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ دنیاوی مال و دولت اور رفاہت و خوشحالی جو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–64

ہجرت، مدین میں قیام، فرعون کی طرف واپسی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے سرفرازی نبی کو بھیجنے کا مقصد ‘ نیک و بد کا فرق اور مشرکین کا انجام تشریح : کفار و مشرکین کی خصلتیں ہر زمانے اور ہر دور میں ایک سی ہی رہی ہیں۔ آج کا دور باوجود ترقی کرنے کے اور علم و فضل میں کافی ترقی کر جانے کے کفار وہی ہٹ دھرمی اور ضد رکھتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں رکھتے تھے۔ کبھی کہتے موسیٰ جیسے معجزے دکھائو کبھی کہتے موسیٰ (علیہ السلام) جیسی کتاب لائو۔ حالانکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اہل عرب کیسے ایمان لاسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور حکیم ہے اس لیے وہ نبی بھیجتا رہا تاکہ قیامت کے دن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–60

آیات 51 تا 60 اسرارو معارف اور پھر قرآن حکیم کے مسلسل اتارے جانے کی حکمت ارشاد ہوئی کہ ہم نے قرآن کریم کو بتدریج نازل فرمایا کہ لوگوں کو بار بار تازہ بتازہ کلام الہی نصیب ہوتا رہے اور مسلسل دعوت الی اللہ دی جاتی رہے نیز ہر آیت کو واقعات اور سوالات کے جواب میں نازل فرما کر یہ سہولت پیدا کردی کہ یاد رکھنے میں بھی آسانی ہو ورنہ اللہ قادر ہے تورات کی طرح ایک ہی دفعہ بھی عطا فرما دیتا۔ اور یہ محض اعتراض ہے ورنہ وہ لوگ جو اہل کتاب میں سے ایمان دار تھے اور اپنی کتاب پر ہی ایمان رکھتے تھے جب ان کے سامنے یہ آیات پڑھی گئیں تو انہوں نے فورا کہا کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ہمارے پروردگار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

11 ۔ یعنی جب تک وہ کفر پر اصرار کر کے خود ہی مستحق عذاب نہیں ہوجاتے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی پکڑ نہیں ہوئی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:59) مہلک القری : مہلک اسم فاعل واحد مذکر منصوب بوجہ خبر کان ۔ مضاف۔ القری (جمع قریۃ) مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر کان کی خبر۔ یبعث مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ ان مقدرہ۔ حتی یبعث تاآنکہ وہ بھیجے۔ امھا۔ مضاف مجاف الیہ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب القری کی طرف راجع ہے۔ ان بستیوں کی ماں۔ یعنی بڑی بستی۔ وما کنا مہلکی القری۔ اس جملہ کا عطف جملہ ما کان ربک مہلک القری پر ہے۔ کان سے کنا کی طرف التفات (غائب سے متکلم کی طرف) عظمت شان کے لئے ہے۔ مہلکی اسم فاعل جمع مذکر منصوب بوجہ خبر کنا اصل میں مہلکن تھا اضافت کہ وجہ سے ن گرگیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 56–61

لغات القرآن آیت نمبر 56 تا 61 ) ۔ لا تھدی (تو ہدایت نہیں دیتا ) ۔ احببت (تو نے چاہا۔ تو نے پسند کیا ) ۔ نتخطف (ہم اچک لئے جائیں گے ) ۔ لم نمکن (ہم نے ٹھکانا نہیں دیا ) ۔ یجبی (کھنچے آتے ہیں ) ۔ ثمرات (ثمرۃ) (پھل، پھول، سبزہ۔ سبزی ) ۔ لدنا (ہمارے پاس ) ۔ بطرت (اترائی ۔ (ناز کیا) ۔ معیشتہ (زندگی گذارنا) ۔ لم تسکن (آباد نہ ہوئے) ۔ یبعث (وہ بھیجتا ہے۔ اٹھاتا ہے) ۔ لا قیہ (اس کو پانے والا ) ۔ متعنا (ہم نے سامان دیا ) ۔ المحضرین (حاضر کئے گئے) ۔ تشریح : آیت نمبر (56 تا 61 ) ۔ ” سورة القصص کی گذشتہ آیات کی تشریح میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ملک حبش سے بیس آدمیوں کی ایک جماعت دین اسلام، نبی کریم ﷺ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 58–61

(ف 1) ارشاد ہوتا ہے کہ اور بہت سی بستیاں ہم نے ہلاک کرڈالیں، کہ ان کے رہنے والوں نے اپنی زندگی میں سرکشی کی تھی، پس جس بستی نے ہمارا کفران نعمت کیا اور عیش و عشرت میں ہمارے احکام کو پس پشت ڈال دیا ہم نے ان کو ایسا برباد اور ہلاک کیا کہ آج صفحہ ہستی پر ان کانشان تک باقی نہیں ہے۔ لیکن ہلاک کرنے سے قبل یہ ہم نے ضرور کیا ہے کہ ان کے پاس اپنے رسول بھیجے ہیں کہ وہ ہمارے احکام انہیں پڑھ کرسنائیں، جب ان لوگوں نے پشت پھیری اور نافرمانی کی، تو ہم نے ان کو ہلاک وبرباد کردیا، آگے فرمایا جو کچھ چیز تم کو دنیا میں دی گئی ہے تو وہ محض چند روزہ دنیا میں دی گئی ہے تو وہ محض چند روزہ دنیا کی زندگی کا برتاوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[36] یعنی اللہ تعالیٰ کی شان انصاف سے بعید ہے کہ اتمام حجت کے بغیر کسی بستی کو ہلاک کرے اور پیغمبر کا مبعوث ہونا ہی اتمام حجت ہے۔ اس لئے مشرکین مکہ سے کہا جا رہا ہے کہ تمہارے پاس ہمارا پیغمبر آگیا ہے۔ اب اگر تم نے اس کی ہدایت کی پیروی نہ کی اور کفر و انکار کی روش پر قائم رہے تو تمہارا بھی وہی حشر ہوگا جو پچھلی قوموں کا ہوا اور جس تباہی کا تمہیں اندیشہ ہے وہ ایمان لانے سے نہیں بلکہ انکار کرنے سے تم پر آئے گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ابتلا اور عذاب میں منطقی فرق 1: آیت کا مطلب بالکل واضح ہے ۔ کہ عذاب الٰہی سے پیشتر تمام حجت کے طور پر انبیاء کا آنا ضروری ہے ۔ مگر بعض اہل زیغ نے اس کے معنے یہ سمجھے ہیں ۔ کہ ہر مصیبت اور ہر بتلاء سے قبل لازمی ہے کہ ایک پیغمبر فرض کرلیاجائے ۔ اور اس مصیبت یا ابتلاء کو اس کے انکار کا نتیجہ ٹھہرایا جائے ۔ اس مفہوم کے پیش کردنے میں ایک دھوکہ یہ بھی ہے ۔ کہ ہر مصیبت کو عذاب کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے حالانکہ ان دونوں میں منطقی لحاظ سے عموم وخصوص مطلق ہے یعنی ہر عذاب تو یقینا مصیبت ہے مگر ہر مصیبت عذاب نہیں ۔ بلکہ ہوسکتا ہے کہ وہ نیک بندوں کے لئے بمنزلہ آزمائش کے ہو ۔ اور بس فی امھا رسولا سے معلوم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

59۔ آگے ایک اور شبہ کا جواب ہے ، اور اے پیغمبر آپ کا پروردگار اس وقت تک بستیوں کو ہلاک نہیں کیا کرتا جب تک ان بستیوں کے مرکزی مقام میں کسی پیغمبر کو نہ بھیج دے کہ وہ وہاں کے لوگوں کو ہمارے احکام پڑھ کر سنادے اور اس تبلیغ احکام کے بعد اور پیغمبر کے بھیجنے کے بعد بھی فورا ًہی بستیوں کو ہلاک نہیں کردیتے مگر ہاں اس وقت تک ہلاک کرتے ہیں اور اس حالت میں تباہ کرتے ہیں جب وہاں کے لوگ بہت ہی شرارت اور ظلم کرنے لگیں ۔ یعنی اگر ان بستیوں کو جن کا اوپر ذکر ہوا ان کے کفر کی وجہ سے ہلاک کیا گیا تو ہم بھی کفر کررہے ہیں پھر ہم کو کیوں تباہ نہیں کیا گیا تو اس کا جواب فرمایا اور پیغمبر کو مخاطب بنا کر ارشاد…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی ایک مدت معتد بہ تک بار بار کی تذکیر سے تذکر حاصل نہ کریں، اس وقت ہلاک کردیتے ہیں، اسی قانون کے موافق تمہارے ساتھ عملدرآمد ہورہا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے جب بھی کسی قوم کو ہلاک کیا تو ان کے ظلم ہی کے باعث کیا ہے : 59۔ یہ اس سنت اللہ کا بیان ہے جو آدم (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک جاری وساری رہی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہ کیا یہاں تک کہ پہلے اس بستی میں اپنا کوئی نہ کوئی رسول مبعوث فرمایا اور اس رسول نے آکر اپنی قوم کو اپنی قوم کو ان کے برے اعمال کے باعث ڈرایا اور اللہ تعالیٰ کی آیات ان کو پڑھ کر سنائیں لیکن جب انہوں نے رسول کی مخالفت کی اور پھر مخالفت میں ساری حدود کو انہوں نے توڑ دیا اور ظلم کرنے میں اتنے آگے نکل گئے کہ گزشتہ قوموں کو وہ بہت پیچھے چھوڑ گئے تو اللہ تعالیٰ نے اسی نبی ورسول کے ذریعہ ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

حَتَّىٰ يَبْعَثَ فِي أُمِّهَا رَ‌سُولًا (Unless he sends to their central place a messenger -28:59). Popular meaning of the word 'Umm is mother, and since mother is the very basis of human creation, hence the word 'Umm (اُمَّ ) is also used extensively for origin, base, and foundation. The pronoun ha (translated above as 'their' ) refers back to the towns, and 'mother of the towns' means the central town. The meaning of the verse is that Allah Ta` ala does not destroy a people unless He had sent His message through His messengers in their main cities. When the invitation to truth had reached,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

83 This is the third answer to their excuse. It means: "The nations which were destroyed before you had become wicked. To warn them finally Allah sent His Messengers, but when they took no notice of their warnings and persisted in their evil ways, they were destroyed. The same is the case with you now. You have also become wicked, and a Messenger has come to you to warn you too. Now if you persist in your disbelief and denial, you will not be safeguarding your prosperity and comforts of life but endangering them. The destruction that you are afraid of will overtake you not because of…

Read the full tafseer →