Explained with ayahs 58–59
اہل مکہ کو تنبیہہ
اہل مکہ کو ہوشیار کیا جاتا ہے کہ جو اللہ کے بہت سی نعمتیں حاصل کرکے اترا رہے تھے اور سرکشی اور بڑائی کرتے تھے اور اللہ سے کفر کرتے تھے نبی کا انکار کرتے تھے اور اللہ کی روزیاں کھاتے تھے اور اس کی نمک حرامی کرتے تھے انہیں اللہ تعالیٰ نے اس طرح تباہ و برباد کردیا کہ آج ان کا نام لینے والا نہیں رہا۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَىِٕنَّةً يَّاْتِيْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ01102) 16۔ النحل :112) یہاں فرماتا…
Read the full tafseer →سورة القصص 82
یہ ان کے عذر کا دوسرا جواب ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس مال و دولت اور خوشحالی پر تم اترائے ہوئے ہو، اور جس کے کھوئے جانے کے خطرے سے باطل پر جمنا اور حق سے منہ موڑنا چاہتے ہو، یہی چیز کبھی عاد اور ثمود اور سبا اور مدین اور قوم لوط کے لوگوں کو بھی حاصل تھی۔ پھر کیا یہ چیز ان کو تباہی سے بچا سکی ؟ آخر معیار زندگی کی بلندی ہی تو ایک مقصود نہیں ہے کہ آدمی حق و باطل سے بےنیاز ہو کر بس اسی کے پیچھے پڑا رہے اور راہ راست کو صرف اس لیے قبول کرنے سے انکار کردے کہ ایسا کرنے سے یہ گوہر مقصود ہاتھ سے جانے کا خطرہ ہے، کیا تمہارے پاس اس کی کوئی ضمانت ہے کہ جن گمراہیوں اور بدکاریوں نے بچھلی خوشحال…
Read the full tafseer →اس کے بعد دوسرا جواب اس عذر کا یہ ہے وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍۢ بَطِرَتْ مَعِيْشَتَهَا، جس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ دنیا کی دوسری کافر قوموں کے حالات پر نظر ڈالو کہ ان کے کفر و شرک کے وبال سے کس طرح ان کی بستیاں تباہ ہوئیں اور مضبوط و مستحکم قلعے اور حفاظتی سامان سب خاک میں مل گئے تو اصل خوف کی چیز کفر و شرک ہے جو تباہی و بربادی کا سبب ہوتا ہے۔ تم کیسے بیخبر بیوقوف ہو کہ کفر و شرک سے خطرہ محسوس نہیں کرتے ایمان سے خطرہ محسوس کرتے ہو۔
لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِيْلًا یعنی پچھلی قوموں کی جن بستیوں کو عذاب الٰہی سے برباد کیا گیا تھا اب تک بھی ان میں آبادی نہیں ہوئی بجز قدر…
Read the full tafseer →عربیہ کا ایک لعنت
بطر کے معنی اکڑنے اترانے اور فخر و ناز کرنے کے ہیں۔ چونکہ اس کا استعمال بطور متعدی معروف نہیں ہے اس وجہ سے معیشتھا کے نصب کے بارے میں بڑا اختلاف ہے۔ عام طور پر لوگوں نے یہاں یا تو حرف جز محذوف مانا ہے یا ظرف استاذ امام کا رجحان یہ معلوم ہوتا ہے کہ معیشتھا املکنا کا مفعول ہے۔ لیکن مجھے ان اقوال میں سے کسی قول پر بھی اعتماد نہیں ہے۔ بعضوں نے بطرت کو کفرت کے مضمون پر متضمن قرار دیا ہے۔ یہ رائے اقرب الی الصواب ہے۔ عربی میں بضرالحق کا استعمال تکبرعنہ کے مفہوم میں معروف ہے۔ یعنی اس نے حق سے متکبرانہ اعراض کیا۔ اسی طرح اگر کہیں بطرفلان لنعمۃ تو اس کا مفہوم ہوگا استخفھا فکفرھا (اس…
Read the full tafseer →58-1یہ اہل مکہ کو ڈرایا جا رہا ہے کہ تم دیکھتے نہیں کہ اللہ کی نعمتوں سے فیض یاب ہو کر اللہ کی ناشکری کرنے اور سرکشی کرنے والوں کا انجام کیا ہوا، آج ان کی بیشتر آبادیاں کھنڈر بنی ہوئی یا صرف صفحات تاریخ پر ان کا نام رہ گیا ہے۔ اور اب آتے جاتے مسافر ہی ان میں کچھ دیر کے لئے سستا لیں تو سستا لیں، ان کی نحوست کی وجہ سے کوئی بھی ان میں مستقل رہنا پسند نہیں کرتا۔
58-2یعنی ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا جو ان مکانوں اور مال و دولت کا وارث ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
33: بعض کافروں نے اسلام لانے میں یہ رکاوٹ ظاہر کی تھی کہ اسلام لانے کے بعد عرب کے لوگ ہماری عزت کرنا چھوڑ دیں گے اور ہمارے خلاف قتل و غارت گری کا بازار گرم کرکے ہمیں یہاں سے نکال باہر کریں گے، قرآن کریم نے اس کے تین جواب دئیے ہیں، پہلا جواب تو اسی آیت میں یہ دیا ہے کہ ہم نے ان کے کفر کے باوجود ان کو حدود حرم میں اتنا محفوظ بنایا ہوا ہے کہ سارے عرب میں قتل و غارت گری ہورہی ہے لیکن حرم والوں کو کوئی کچھ نہیں کہتا، بلکہ چاروں طرف سے ہر قسم کے پھل کھنچ کھنچ کر وہاں آتے ہیں اور حرم آنے والے کسی سامان پر کوئی ڈاکا نہیں ڈالتے، جب تمہارے کفر کے باوجود اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حفاظت بخشی ہوئی ہے تو جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
یہ اہل مکہ کا ایک سطحی اور دنیاوی نقطہ نظر تھا۔ قریش کو اسی دنیا پرستی کے نقطہ نظر نے ڈر میں مبتلا کردیا تھا کہ اگر ہم نے اس جدید تحریک کو قبول کیا تو نقصان ہوگا۔ دشمن حملہ آور ہوجائیں گے اور معاون و مددگار حمایت سے ہاتھ اٹھالیں گے اور ہم مالی لحاظ سے کمزور اور بدحال ہوجائیں گے۔
وقالوا ان نتبع ۔۔۔۔۔ من ارضنا (28: 57) ” وہ کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ یہ لوگ اس بات کے منکر نہیں تھے کہ حضرت پیغمبر ﷺ جو تعلیمات پیش کرتے ہیں وہ حقیقی راہ ہدایت ہے۔ لیکن انہیں ڈر یہ تھا کہ مکہ کے اردگرد کے لوگ ان پر ٹوٹ پڑیں گے دراصل ان کی نظروں میں…
Read the full tafseer →3 یعنی عرب کی دشمنی سے کیا ڈرتے ہو، اللہ کے عذاب سے ڈرو، دیکھتے نہیں کتنی قومیں گزر چکی ہیں جنہیں اپنی خوش عیشی پر غرہ ہوگیا تھا۔ جب انہوں نے تکبر اور سرکشی اختیار کی، اللہ تعالیٰ نے کس طرح تباہ و برباد کر ڈالا کہ آج صفحہ ہستی پر ان کا نام و نشان باقی نہ رہا۔ یہ کھنڈر ان کی بستیوں کے پڑے ہیں جن میں کوئی بسنے والا نہیں بجز اس کے کہ کوئی مسافر تھوڑی دیر سستانے یا قدرت الٰہی کا عبرتناک تماشہ دیکھنے کے لیے وہاں جا اترے۔
4 یعنی سب مر مرا گئے کوئی وارث بھی نہ رہا ہمیشہ رہے نام اللہ کا۔
Read the full tafseer →آیت 58 وَکَمْ اَہْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍم بَطِرَتْ مَعِیْشَتَہَا ج ”
انہیں اپنے معاشی نظام کے استحکام پر بہت گھمنڈ تھا ‘ لیکن ان کی خوشحالی اور ان کی مستحکم معیشت انہیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکی۔
Read the full tafseer →80 یہ کفار مکہ کے اعتراض کا دوسرا جواب ہے یعنی تمہیں خطرہ یہ ہے کہ اگر تم مسلمان ہوگئے تو تمہاری سیاسی برتری اور تمہاری معیشت تباہ ہوجائے گی اور جس معیشت پر اس وقت تم اترا رہے ہو تو جن لوگوں نے تم سے پہلے اپنی معیشت پر گھمنڈ کیا تھا ان کا انجام بھی تمہارے ساتھ ہے۔ ان لوگوں نے اسی گھمنڈ میں آکر تکبر اور سرکشی کی راہ اختیار کی تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس طرح تباہ و برباد کر ڈالا کہ ان کا نام و نشان بھی باقی نہ رہ گیا۔ ان کی بستیوں کے کھنڈرات تم دیکھتے رہتے ہو۔ پھر اگر تم نے بھی انہی لوگوں کی روش اختیار کی تو کیا وجہ ہے کہ تمہارا وہی انجام نہ ہو جو ان کا ہوا تھا۔
81 یعنی اپنی معیشت پر اترانے…
Read the full tafseer →77۔ (اور کوئی ان کا ظاہری وارث بھی نہ رہا) اس میں ڈرایا ہے مکہ والوں کو کہ اپنی خوش عیشی و خوشحالی پر نازاں نہ ہوں، مکہ والوں کی خوشحالی آج بہت سے لوگوں کو ایک عجیب سی بات معلوم ہوگی، دماغ انہیں غربت زدہ، مفلوک الحال ونیم فاقہ کش سمجھتے رہنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ حالانکہ ان کی یہ تصویر واقعہ کے بالکل خلاف ہے، مکہ کی منڈی اپنے زمانہ کی یوں بھی بہت بڑی تجارتی منڈی تھی، اس پر اضافہ تاجران مکہ کے شمالی اور جنوبی تجارتی سفر، ایک موسم میں شام اور دوسرے میں یمن کی جانب۔ اس صورت حال نے مل ملا کر اہل جاہلیت کے تاجروں کو امیر کبیر بلکہ کہنا چاہیے کہ لکھ پتی بنا دیا تھا۔ اور چونکہ تجارت میں شرکت اور حصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : اور ہم نے لوگوں کے لئے قول یعنی قرآن کو (کھول کر بیان کیا) پیہم بھیجا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ایمان لے آئیں جن کو ہم نے اس قرآن سے پہلے کتاب عطا فرمائی وہ اس قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں یہ آیت یہود کی اس جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا، جیسا کہ عبد اللہ بن سلام وغیرہ اور ان نصاریٰ کے بارے میں جو حبشہ اور شام سے آئے تھے اور جب ان کو قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس کے ہمارے رب کی طرف سے حق ہونے پر ہمارا ایمان ہے ہم تو اس سے پہلے ہی سے مسلمان یعنی موحد ہیں یہ لوگ اپنے دونوں کتابوں پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اور دونوں پر عمل…
Read the full tafseer →وکم اھلکنا من قریۃ بطرت معیشتھا فتلک مسکنھم لم تسکن من بعدھم الا قلیلا وکنا
نحن الوارثین اور ہم بہت سی ایسی بستیاں ہلاک کرچکے ہیں جو اپنے اسباب عیش پر اتراتے تھے سو (دیکھ لو) یہ ان کے گھر (تمہاری نظروں کے سامنے) ہیں کہ ان کے بعد ان گھروں میں آبادی نہیں ہوئی مگر تھوڑے مکانوں میں اور آخرکار ان کے سب مکانوں کے ہم ہی مالک رہے۔
وَکَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ یعنی بہت سی بستیوں والوں کو ہم نے غارت کردیا جن کی حالت تمہاری حالت کی طرح تھی۔
بَطِرَتْ جو نازاں تھی ‘ مغرور تھی ‘ اتراتی تھی یعنی ان کے باشندے اپنی خوش عیشی کے زمانے میں اتراتے تھے ‘ اللہ کی نعمتوں کے شکرگزار نہ تھے۔ عطاء نے کہا : وہ عیش و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
(57) اور حرث بن عمرو نوفلی اور اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ اگر ہم آپ کے ساتھ توحید کا اقرار کرلیں گے تو ہم سر زمین مکہ سے نکال دیے جائیں گے۔
کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی کہ وہاں کسی قسم کا خوف نہیں جہاں ہر قسم کے پھل کھچے چلے آتے ہیں جو ہماری طرف سے ان کو کھانے کو ملتے ہیں سو اگر یہ ایمان لے آئیں گے تو میں ان پر کفار کو کیوں کر مسلط کر دوں گا لیکن ان میں سے اکثر اس چیز کو نہیں جانتے اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”۔ وقالوا ان نتبع الہدی معک“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ نے عوفی ؒ کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ کچھ قریشیوں نے رسول اکرم ﷺ سے کہا کہ…
Read the full tafseer →وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍۢ بَطِرَتْ مَعِيْشَتَهَا۔۔ :”بَطَرٌ“ کا معنی ہے نعمت پر سرکشی اختیار کرنا، پھول جانا۔ اس کا معنی ناشکری اور انکار بھی آتا ہے۔ پہلا معنی ہو تو یہاں ”فِیْ“ محذوف ہوگا : ”أَيْ بَطِرَتْ فِيْ مَعِیْشَتِھَا۔“ حرف جار حذف ہونے سے ”مَعِیْشَتَھَا“ پر نصب آگئی۔ جیسا کہ سورة اعراف (155) میں ہے : (وَاخْتَارَ مُوْسٰي قَوْمَهٗ سَبْعِيْنَ رَجُلًا) ”أَيْ مِنْ قَوْمِہِ“۔ یہ ان کے عذر کا دوسرا جواب ہے، یعنی تم نے گمان کر رکھا ہے کہ ایمان لانے کی صورت میں تم تباہ و برباد ہوجاؤ گے اور ایمان نہ لائے تو تمہاری شان و شوکت، سیادت و عزت، مال و دولت اور اعلیٰ درجے کی ترقی یافتہ معیشت…
Read the full tafseer →وکم اھلکنا من قریۃ بطرت معیشتھا اس آدمی کے لئے اس امر کو واضح کیا جو یہ گمان کرتا ہے کہ اگر وہ ایمان لایا تو عرب اس سے قتال کریں گے ایمان کے ترک کرنے میں خوف بہت زیادہ ہے کتنی ہی قومیں ہیں جنہیں نے کفر کیا پھر ان پر ہلاکت واقع ہوئی۔ بطر سے مرادنعمت کے بدلے میں سرکشی کرنا ہے، یہ زجاج کا قول ہے۔ معیشتھا سے مراد فی معیشتھا ہے جب فی کو حذف کیا تو فعل متعدی ہوگیا، یہ مازنی اور زجاج کا قول ہے، جس طرح اس ارشاد میں حرف جار حذف ہے، و اختار موسیٰ قومہ سبعین رجلاً (الاعراف : 551) فراء نے کہا : یہ تفسیر کے طور پر منوب ہے اسی طرح فرمایا : جس طرح تو کہتا ہے ابطرت مالک وبطرتہ اس کی مثل اس کے ہاں یہ ہے الا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش کے کچھ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ ہم اگر ہم آپ کا اتباع کریں تو ہم کو لوگ اچک لیں گے۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت وقالوا ان نتبع الہدی معک۔ یعنی اگر ہم آپ کے کہنے پر چلیں تو ہم کو اندیشہ ہے کہ عرب ہم کو مکہ کی سرزمین سے نکال دیں گے۔
2۔ النسائی وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حارث بن عامر بن نوفل نے کہا کہ آیت وقالوا ان نتبع الہدی معک نتخطف من ارضنا یعنی اگر ہم آپ کے کہنے پر چلیں تو ہم کو ہماری زمین یعنی مکہ سے نکال دیا جائے گا۔
3۔ عبدالرزاق وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت اولم نمکن لہم حرم…
Read the full tafseer →وَكَمْ اَهْلَكْنَا [اور ہم نے ہلاک کیں کتنی ہی ] مِنْ قَرْيَةٍۢ [ایسی بستیوں میں سے ] بَطِرَتْ [جنہوں نے ناقدری کی ] مَعِيْشَتَهَا ۚ [اپنی معیشت کی ] فَتِلْكَ [تو یہ ] مَسٰكِنُهُمْ [ان کے مکانات ہیں ] لَمْ تُسْكَنْ [ان کو آباد نہیں کیا گیا ] مِّنْۢ بَعْدِهِمْ [ان کے بعد ] اِلَّا قَلِيْلًا ۭ [مگر تھوڑے سے ] وَكُنَّا نَحْنُ [اور ہم ہی ہیں ] الْوٰرِثِيْنَ [وارث بننے والے ]
(آیت۔ 58) ۔ بطر کے ایک معنی ہیں نعمت پا کر بہک جانا۔ اترانا۔ اسی معنی میں یہ لازم ہے جس کا مفعول نہیں آتا۔ آگے معیشتھا میں معیشۃ کی نصب بتارہی ہے کہ یہاں بطرت اس معنی میں نہیں آیا ہے۔ جن مترجمین نے اسے اترانے ہی کے معنی میں…
Read the full tafseer →(وَ کَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَھَا) (اور کتنی ہی بستیاں ہم نے ہلاک کردیں جو اپنے سامان عیش پر اترانے والی تھیں) (فَتِلْکَ مَسٰکِنُھُمْ لَمْ تُسْکَنْ مِّنْ بَعْدِھِمْ اِلَّا قَلِیْلًا) (سو یہ ان کے گھر ہیں کہ ان کے بعد آباد ہی نہ ہوئے مگر تھوڑی دیر کے لیے) ۔
اس میں بتایا کہ تم جو اس وہم کی وجہ سے ایمان لانے سے ڈرتے ہو کہ لوگ ہمیں اچک لیں گے اور ایمان لانے کو قتل و غارت کا سبب سمجھتے ہو یہ تمہارا غلط خیال ہے ایمان سبب ہلاکت نہیں ہے بلکہ کفر سبب ہلاکت ہے۔ اہل مکہ گو امن وامان میں ہیں اور انہیں رزق ملتا ہے لیکن ان کا رزق اور مال اتنا زیادہ نہیں جتنا گزشتہ اقوام کے پاس تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
اتمام حجت وقطع معذرت
یعنی قبول ہدایت کے بارے میں کافروں کے ایک حیلہ اور بہانہ کا ذکر اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا۔۔۔ الی۔۔۔ افلا تعقلون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ آنحضرت ﷺ من جانب اللہ ہادی برحق ہے۔ حق کا راستہ بتلانے والے ہیں مگر کسی کے دل میں حق کا اتار دینا یہ اللہ ہی کا کام ہے نبی کا کام ہدایت اور رہنمائی اور حق کی دعوت ہے اور بندوں کا کام اللہ کی راہ پر چلنا اور اس کی ہدایت اور دعوت کو قبول کرنا ہے اب آئندہ آیات میں کافروں کے ایک حیلہ اور بہانہ کا ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یہ جاہل ہدایت کے نہ قبول کرنے کے عذر میں…
Read the full tafseer →55:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ بہت سے لوگ پہلے گذر چکے ہیں جو اہل مکہ کی طرح عیش و آرام کی زندگی بسر کرتے تھے۔ وہ اس امن و چین کی وجہ سے غرور میں آگئے اور اکڑ گئے اور ہماری نعمتوں کا شکر نہ کیا بلکہ اللہ کا رزق کھا کر اور اس کی نعمتیں استعمال کر کے اس کی توحید کا انکار کیا اور غیر اللہ کو اللہ کا شریک بنایا۔ ای اشرت و طغت قال عطاء عاشوا فی البطر فاکلوا رزق اللہ و عبدوا الاصنام (معالم و خازن ج 5 ص 148) ۔ تو ہم نے ان کو تباہ و برباد کردیا۔ دیکھ لو یہ ان کی بستیاں ابھی تک ویران اور غیر آباد پڑی ہیں۔ قریۃ سے اہل قریہ مراد ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کو شکوہ بیان کیا تھا کہ وہ ہدایت کی عد م قبولیت کے لیے طرح طرح کے حیلوں بہانوں سے کام لیتے ہیں ، اور ساتھ اہل ایمان کو تسلی بھی دی کہ اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کے لیے اللہ کے ہاں دوہرا اجر ہے۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے محروم رہنے والوں کے ایک حیلے بہانے کا ذکر کیا اور اس کا جواب بھی دیا ہے۔
مشرکین مکہ کا عذر لنگ
ارشاد ہوتا ہے وقالو ان نتبع الھدی معک اور وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں نتخطف من ارضنا تو ہم اچک لیے جائیں گے اپنی سر زمین سے ، یعنی اگر ہم نے ایمان قبول کرلیا تو ہمیں مخالفین سے…
Read the full tafseer →وَكَمْ اَہْلَكْنَا مِنْ قَرْيَۃٍؚبَطِرَتْ مَعِيْشَتَہَا 0ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُہُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِہِمْ اِلَّا قَلِيْلًا 0ۭ وَكُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِيْنَ 58
كم
كَمْ : عبارة عن العدد، ويستعمل في باب الاستفهام، وينصب بعده الاسم الذي يميّز به نحو : كَمْ رجلا ضربت ؟ ويستعمل في باب الخبر، ويجرّ بعده الاسم الذي يميّز به . نحو :
كَمْ رجلٍ. ويقتضي معنی الکثرة، وقد يدخل «من» في الاسم الذي يميّز بعده . نحو : وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها[ الأعراف/ 4] ، وَكَمْ قَصَمْنا مِنْ قَرْيَةٍ كانَتْ ظالِمَةً [ الأنبیاء/ 11] ، والکُمُّ : ما يغطّي الید من القمیص، والْكِمُّ ما يغطّي الثّمرةَ ، وجمعه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
ترکیب : معک نتبع سے متعلق نتخطف جواب شرط خطف ربودن اچکنا تمکن بمعنی نجعل اس لیے حرما کی طرف بنفسہ متعدی ہوا۔ امنا بمعنی مومن او ذا امن صفت ہے حرما کی یجبیٰ جملہ صفت ہے ثانیہ رزقا یجبیٰ کے معنی سے مفعول مطلق و قیل حال و کم فی موضع نصب با ھلکنا معیشتہا کا نصب بطرت ہے جس کا فاعل ضمیر قریۃً لان المعنی کفرت نعمھا اوجاوزت الحد۔ لم تسکن حال و العامل فیہ الاشارۃ الا قلیلا او زماناً قلیلا فمتاع الحیوۃ ای فالموتی متاع۔
تفسیر : مشرکین مکہ کا ایک اور شبہ تھا جس کو بعد وضوح دلائل کے پیش کیا کرتے تھے، اس کو خدا تعالیٰ یہاں نقل فرماتا ہے۔ وقالوا ان نتبع الہدیٰ معک کہ اگر ہم تیرے ساتھ ہدایت پر آجاویں تو لوگ…
Read the full tafseer →وَکَمْ اَھْلَـکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ م بَطِرَتْ مَعِیْشَتَھَا ج فَتِلْکَ مَسٰکِنُھُمْ لَمْ تُسْکَنْ مِّنْ م بَعْدِھِمْ اِلاَّ قَلِیْلاً ط وَکُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ ۔ (القصص : 58)
(کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کرچکے ہیں جن کے لوگ اپنی خوشحالی پر فخر کرنے لگے تھے، پس یہ ہیں ان کے گھر جن میں سکونت نہیں کی گئی ان کے بعد مگر بہت کم عرصہ، آخرکار ہم ہی ان کے وارث بنے۔ )
قریش کو جن فکری اور اخلاقی گمراہیوں نے ہدایت سے دور رکھا ہے ان میں سے ایک خرابی کا حوالہ دے کر تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم جس چیز پر فخر کرتے اور اتراتے ہو، یہی تو وہ چیز ہے جس کی وجہ سے گزشتہ کئی امتیں تباہ ہوچکی ہیں اور ان پر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
فہم القرآن
ربط کلام : مکہ والوں کا ہدایت قبول نہ کرنے کا عذر لنگ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی رفیقہ حیات حضرت ہاجرہ [ اور لخت جگر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو اس وقت مکہ میں چھوڑا جب بیت اللہ کی بنیادیں تھیں مگر عمارت موجود نہ تھی اور مکہ شہر کا نام و نشان تک نہ تھا۔ اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور ان الفاظ میں دعا کی۔
” اے میرے رب میں اپنے اہل و عیال کو بےآب وگیاہ وادی میں چھوڑے جا رہا ہوں تاکہ وہ نماز قائم کریں اور اے اللہ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ تیرا شکر ادا کریں۔ “ [ ابراہیم : 37]
مکہ والے یہ بہانہ بناتے تھے کہ اگر…
Read the full tafseer →58: وَکَمْ اَہْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ 0 بَطِرَتْ مَعِیْشَتَہَا (بہت سی ایسی بستیاں ہم نے ہلاک کردیں جو اپنے اسباب معیشت پر اتراتے تھے) ۔ اس میں اہل مکہ کے لئے تخویف ہے۔ کہ اس قوم کے برے انجام سے بچو جن کی حالت اللہ تعالیٰ کے انعامات کے سلسلہ میں انہی جیسی تھی۔ پھر انہوں نے نعمتوں کا شکریہ ادا نہ کیا بلکہ نعمتوں کا مقابلہ تکبر سے کیا جس کے نتیجے میں ان کو ہلاک کردیا گیا۔ اہلکنا کی وجہ سے کم منصوب ہے۔ معیشتہا منصوب ہے اس لئے کہ حرف جر حذف کردیا گیا ہے ای فی معیشتہا۔ البطر۔ مالداری میں اللہ تعالیٰ کے حقوق کی حفاظت نہ کرنا۔
فَتِلْکَ مَسٰکِنُہُمْ (پس یہ ان کے مکانات ہیں) ۔ ان کے مکانات کے بقیہ آثار…
Read the full tafseer →تفسیر۔
58۔ وکم اھلکنا من قریہ، اس بستی والوں کو، بطرت معیشتھا، ان کی معیشت میں عطا کا قول ہے کہ ان کو خوب عیش و عشرت حاصل ہوئی اللہ کا رزق کھایا اور بتوں کی پوجا کی۔ فتلک مساکنھم لم تسکن من یعدھم الاقلیلا، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا ان کھنڈروں میں ایک دن یا ایک گھنٹہ کے لیے مسافر اور راہ گیر ٹھہرے اور کوئی ان میں نہ رہا، بعض نے کہا کہ کوئی شخص بھی سوائے تھوڑے سے لوگوں میں وہاں نہیں رہا اور یہ ان کے گناہوں کو نحوست کا نتیجہ ان میں رہا، وکنا نحن الوارثین، یہ آیت اس آیت کی طرح ہے ، انانحن نرث الارض ومن علیھا، ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
57 تا 60۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کا یہ قول بیان فرمایا تھا جس کو وہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کے عذر میں پیش کرتے تھے کہ ہم نبی آخر الزمان پر ایمان لاویں گے تو مکہ کے گردو نواح کی بستیوں کے لوگ مخالفت دینی اور مذہبی کے پیدا ہوجانے کے سبب سے بڑی مخالفت اور دشمنی سے ہمارے ساتھ پیش آنے لگیں گے جس سے ہماری راحت اور ہمارے امن میں بڑا فتور پڑجاوے گا ایک جواب تو اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے اس عذر کا اوپر فرمایا تھا جس کا حاصل یہ تھا کہ ان لوگوں کی یہ نادانی ہے جو مکہ کے امن کو یہ لوگ اپنی تدبیر کا نتیجہ خیال کرتے ہیں ان کی تدبیر سے کچھ مکہ میں امن نہیں ہے بلکہ اللہ کے حکم سے آدمیوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
آیت 56
اللہ تبارک و تعالیٰ رسول مصطفیٰ ﷺ کو آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ۔۔۔ اور آپ کے علاوہ لوگ بدرجہ اولیٰ ۔۔۔ کسی کو ہدایت دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے خواہ وہ آپ کو کتنا ہی زیادہ محبوب کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جو مخلوق کے اختیار میں نہیں۔ ہدایت کی توفیق اور قلب میں ایمان جاگزیں کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت کا اہل ہے پس اسے ہدایت عطا کردیتا ہے اور کون ہدایت عطا کئے جانے کا اہل نہیں پس اسے اس کی گمراہی میں سرگرداں چھوڑ دیتا ہے۔
رہا اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (وانک لتھدی الی صراط مستقیم) (الشوریٰ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →78 دنیاوی مال و دولت پر اترانا ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کتنی ہی ایسی بستیوں کو ہم نے ہلاک کر کے رکھ دیا جو بڑی اترایا کرتی تھیں اپنے سامان عیش و عشرت پر "۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ نہ تو دنیاوی مال و دولت کوئی فخر و ناز کی چیز ہے اور نہ ہی اس کا مل جانا حق و صداقت کی کوئی دلیل۔ ورنہ ماضی کی یہ قومیں جن کو اپنے دنیاوی مال و متاع پر اتنا ناز اور اس قدر گھمنڈ تھا اور جنہوں نے دنیاوی اور مادی اعتبار سے واقعتا ترقی بھی بہت کی تھی وہ اس طرح تباہ و برباد نہ ہوتیں اور صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح ہمیشہ کے لئے مٹا کر نہ رکھ دی جاتیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دنیاوی مال و دولت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–64
ہجرت، مدین میں قیام، فرعون کی طرف واپسی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے سرفرازی
نبی کو بھیجنے کا مقصد ‘ نیک و بد کا فرق اور مشرکین کا انجام
تشریح : کفار و مشرکین کی خصلتیں ہر زمانے اور ہر دور میں ایک سی ہی رہی ہیں۔ آج کا دور باوجود ترقی کرنے کے اور علم و فضل میں کافی ترقی کر جانے کے کفار وہی ہٹ دھرمی اور ضد رکھتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں رکھتے تھے۔ کبھی کہتے موسیٰ جیسے معجزے دکھائو کبھی کہتے موسیٰ (علیہ السلام) جیسی کتاب لائو۔ حالانکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اہل عرب کیسے ایمان لاسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور حکیم ہے اس لیے وہ نبی بھیجتا رہا تاکہ قیامت کے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیات 51 تا 60
اسرارو معارف
اور پھر قرآن حکیم کے مسلسل اتارے جانے کی حکمت ارشاد ہوئی کہ ہم نے قرآن کریم کو بتدریج نازل فرمایا کہ لوگوں کو بار بار تازہ بتازہ کلام الہی نصیب ہوتا رہے اور مسلسل دعوت الی اللہ دی جاتی رہے نیز ہر آیت کو واقعات اور سوالات کے جواب میں نازل فرما کر یہ سہولت پیدا کردی کہ یاد رکھنے میں بھی آسانی ہو ورنہ اللہ قادر ہے تورات کی طرح ایک ہی دفعہ بھی عطا فرما دیتا۔ اور یہ محض اعتراض ہے ورنہ وہ لوگ جو اہل کتاب میں سے ایمان دار تھے اور اپنی کتاب پر ہی ایمان رکھتے تھے جب ان کے سامنے یہ آیات پڑھی گئیں تو انہوں نے فورا کہا کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ہمارے پروردگار…
Read the full tafseer →8 ۔ یعنی ان کے رہنے والے اپنی فارغ البالی اور خوشحالی کی بدولت بدمست ہوگئے تھے۔ 9 ۔ یا کبھی تھوڑی دیر کے لئے کوئی مسافر چند گھنٹے اترا اور پھر چل دیا۔ یعنی معنی زیادہ صحیح ہیں، گو بعض نے ترجمہ میں دیا ہوا مفہوم بھی اختیار کیا ہے۔ (دیکھئے قرطبی۔ شوکانی)
10 ۔ اس میں مشرکین مکہ کو تنبیہ ہے کہ تم اپنی خوشحالی کو بچانے کے لئے حق سے اعراض کر رہے ہو۔ تو پہلی قوموں کے حالات سے عبرت حاصل کرو کہ کیا ان کی آبادیوں میں کوئی بسنے والا باقی رہ گیا ہے۔
Read the full tafseer →(28:58) کم من قریۃ۔ کتنی ہی بستیاں۔ کم خبر یہ ہے اور کثیر کے معنی دیتا ہے اور بیشتر فخر جتانے اور بڑائی ظاہر کرنے کے موقعوں پر آتا ہے جیسے آیت ہذا (کتنی ہی بستیاں تھیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا جو اپنی خوشحالی پر نازاں تھیں)
کم استفہامیہ بھی آتا ہے جیسے کم لبثت (2:259) تم کتنا عرصہ ٹھہرے رہے ہو۔
بطرت۔ ماضی واحد مؤنث غائب بطر (سمع) مصدر۔ وہ اترائی۔ وہ اکڑنے لگی۔
معیشتھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی معیشت، معیشۃ اسم مصدر۔ سامان زندگی۔ معیشۃ کا نصب اس کے بطرت کے مثل مفعول بہ ہونے کی وجہ سے ہے کیونکہ بطوت فعل متعدی کو بھی متضمن ہے۔
بطرت معیشتھا وہ (بستیاں یعنی بستیوں کے باسی) اپنی خوشحالی پر نازاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
لغات القرآن آیت نمبر 56 تا 61 ) ۔
لا تھدی (تو ہدایت نہیں دیتا ) ۔ احببت (تو نے چاہا۔ تو نے پسند کیا ) ۔ نتخطف (ہم اچک لئے جائیں گے ) ۔ لم نمکن (ہم نے ٹھکانا نہیں دیا ) ۔ یجبی (کھنچے آتے ہیں ) ۔ ثمرات (ثمرۃ) (پھل، پھول، سبزہ۔ سبزی ) ۔ لدنا (ہمارے پاس ) ۔ بطرت (اترائی ۔ (ناز کیا) ۔ معیشتہ (زندگی گذارنا) ۔ لم تسکن (آباد نہ ہوئے) ۔ یبعث (وہ بھیجتا ہے۔ اٹھاتا ہے) ۔ لا قیہ (اس کو پانے والا ) ۔ متعنا (ہم نے سامان دیا ) ۔ المحضرین (حاضر کئے گئے) ۔
تشریح : آیت نمبر (56 تا 61 ) ۔ ” سورة القصص کی گذشتہ آیات کی تشریح میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ملک حبش سے بیس آدمیوں کی ایک جماعت دین اسلام، نبی کریم ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–61
(ف 1) ارشاد ہوتا ہے کہ اور بہت سی بستیاں ہم نے ہلاک کرڈالیں، کہ ان کے رہنے والوں نے اپنی زندگی میں سرکشی کی تھی، پس جس بستی نے ہمارا کفران نعمت کیا اور عیش و عشرت میں ہمارے احکام کو پس پشت ڈال دیا ہم نے ان کو ایسا برباد اور ہلاک کیا کہ آج صفحہ ہستی پر ان کانشان تک باقی نہیں ہے۔ لیکن ہلاک کرنے سے قبل یہ ہم نے ضرور کیا ہے کہ ان کے پاس اپنے رسول بھیجے ہیں کہ وہ ہمارے احکام انہیں پڑھ کرسنائیں، جب ان لوگوں نے پشت پھیری اور نافرمانی کی، تو ہم نے ان کو ہلاک وبرباد کردیا، آگے فرمایا جو کچھ چیز تم کو دنیا میں دی گئی ہے تو وہ محض چند روزہ دنیا میں دی گئی ہے تو وہ محض چند روزہ دنیا کی زندگی کا برتاوا…
Read the full tafseer →[35] یعنی عرب کی دشمنی سے کیا ڈرتے ہو اللہ کے عذاب سے ڈرو۔ دیکھتے نہیں کہ کتنی قومیں گزر چکی ہیں جنہیں اپنی خوش حالی پر بڑا ناز تھا۔ پھر جب انہوں نے تکبر اور سرکشی کی روش اختیار کی تو اللہ نے انھیں کس طرح ہلاک کر ڈالا کہ آج صفحہ ہستی پر ان کا نام و نشان نہ رہا سوائے ان کی بستیوں کے کھنڈروں کے جن میں کوئی بسنے والا نہیں۔
Read the full tafseer →حل لغات :۔ بطرت ۔ تکبر اختیار کریں ۔ بطر سے ہے یعنی کبر و غرور
Read the full tafseer →58۔ آگے ایمان نہ لانے کے ایک اور سبب کا جواب ہے اور ہم نے کتنی ہی ایسی بستیوں کو ہلاک کر ڈالا جن کے باشندے اپنے سامان پر نازاں اور اترانے والے تھے۔ اب یہ ان کے مکانات پڑے ہوئے ہیں جن کو ان ہلاک ہونے والوں کے بعد اب تک بسنا ہی نصیب نہیں ہو امگر بہت تھوڑا اور آخر کار ہم ہی ان کے وارث اور مالک ہوئے۔ یعنی یہ لوگ اپنی خوش عیشی اور آرام پسندی اور دولت و ثروت پر نازاں اور فخر کرنے والے ہیں اس لئے ایمان پر اور دین حق کو قبول کرنے پر توجہ نہیں کرتے اور اس سبب سے ایمان نہیں لاتے تو ہم اس قسم کی بہت بستیوں کو تباہ و برباد کرچکے ہیں جو بستیاں اپنی عیش پسندی پر نازاں اور فخرکناں تھیں وہ بستیاں اور ان کے…
Read the full tafseer →ف 1۔ یعنی کسی مسافر کا اتفاقا ادھر کو گزر ہوجاوے اور وہ تھوڑی دیر وہاں سستانے کو پا تماشا دیکھنے کو بیٹھ جاوے۔
Read the full tafseer →اس دنیا میں کتنی قومیں تھیں جن کو اپنی خوشحالی پر ناز تھا لیکن ان کو مٹتے کتنی دیر لگی ؟ :
58۔ مثال کے لئے تو ایک ہی قوم کی داستان کفایت کرتی ہے لیکن نوح (علیہ السلام) سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک جتنے انبیاء کرام (علیہ السلام) آئے ہیں ان میں سے جن کا ذکر تمہارے سامنے بیان کیا گیا ان میں سے ایک ایک قوم کی حالت پر غور کرو کہ اس دنیا میں انہوں نے کتنی کتنی ترقی کی ‘ کسی قوم نے تعمیرات میں قدم اٹھایا تو وہ ایسے ایسے محلات تیار کر گئے کہ آج تک ان کا جواب ممکن نہ ہوا ‘ کسی قوم نے پہاڑوں کے اندر رہائش گاہیں تعمیر کیں تو انہوں نے دنیا والوں کو حیران کردیا ‘ کسی قوم نے صنعت وحرفت کے سارے پیشوں کو…
Read the full tafseer →The second reply to their excuse is given in the next verse وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَرْيَةٍ بَطِرَتْ مَعِيشَتَهَا (And how many a town have We destroyed that were over-proud of their means of living. - 28:58). In this reply it is stressed that they should recall the plight of other infidel people of the world, how their habitations, strong forts, and all means of their protection were destroyed, because of their infidelity and rejection of the truth. at they should actually fear is their infidelity and associating others with Allah, which is the real cause of destruction. How foolish and…
Read the full tafseer →82 This is the second answer to their excuse. It means to imply this: The worldly wealth and prosperity of which you are so proud and whose probable danger of loss makes you stick to falsehood and turn away from the Truth was also possessed once by `Ad and Thamud and Saba' and the people of Lot. Then, did it save them from destruction? After all, a high standard of living is not the only aim in life that man should endeavour to pursue it regardless of every consideration for truth and falsehood, and refuse to accept the right way only because there was a risk of losing it if one did so. Do…
Read the full tafseer →