Explained with ayahs 56–57
ہدایت صرف اللہ کے ذمہ ہے
اے نبی ﷺ کسی کا ہدایت قبول کرنا تمہارے قبضے کی چیز نہیں۔ آپ پر تو صرف پیغام اللہ کے پہنچادینے کا فریضہ ہے۔ ہدایت کا مالک اللہ ہے وہ اپنی حکمت کے ساتھ جسے چاہے قبول ہدایت کی توفیق بخشتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (لیس علیک ھدھم) تیرے ذمہ ان کی ہدایت نہیں وہ چاہے تو ہدایت بخشے۔ اور آیت میں ہے (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ01003) 12۔ یوسف :103) گو تو ہرچند طمع کرے لیکن ان میں سے اکثر ایماندار نہیں ہوتے کہ یہ اللہ کے ہی علم میں ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے ؟ اور مستحق ضلالت کون ہے ؟ بخاری ومسلم میں ہے کہ یہ آیت آپ ﷺ کے چچا ابو طالب کے بارے میں اتری جو آپ…
Read the full tafseer →سورة القصص 80
یہ وہ بات ہے جو کفار قریش اسلام قبول نہ کرنے کے لیے عذر کے طور پر پیش کرتے تھے، اور اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے کفر و انکار کا سب سے اہم بنیادی سبب یہی تھا۔ اس بات کو ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لیے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ تاریخی طور پر اس زمانے میں قریش کی پوزیشن کیا تھی جس پر ضرب پڑنے کا انہیں اندیشہ تھا۔
قریش کو ابتداً جس چیز نے عرب میں اہمیت دی وہ یہ تھی کہ ان کا حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد سے ہونا انساب عرب کی رو سے بالکل ثابت تھا، اور اس بنا پر ان کا خاندان عربوں کی نگاہ میں پیرزادوں کا خاندان تھا، پھر جب قصی بن کلاب کے حسن تدبیر سے یہ لوگ کعبہ کے متولی ہوگئے اور مکہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اوپر دور سے کفار کے ایمان نہ لانے کا ذکر چلا آ رہا ہے ان آیات میں ان موانع کا ذکر ہے جو کفار کو ایمان لانے کی راہ میں حائل سمجھے جاتے تھے، مثلاً ایک مانع کا بیان یہ ہے کہ) اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر آپ کے ساتھ ہو کر (اس دین کی) ہدایت پر چلنے لگیں تو فی الفور اپنے مقام سے مار کر نکال دیئے جاویں (کہ بےوطنی کی بھی مضرت ہو اور معاش کی پریشانی الگ ہو، لیکن اس عذر کا بطلان ہی بالکل ظاہر ہے) کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل کھچے چلے آتے ہیں جو ہمارے پاس سے (یعنی ہماری قدرت اور رزاقی سے) کھانے کو ملتے ہیں (پس حرم ہونے کی وجہ سے جس کا سب احترام کرتے…
Read the full tafseer →خدائی نظام کی مخالفت کے لئے شیاطین کا مخصوص حربہ
یہ قریش کے ایک اور اعتراض کو نقل کر کے اس کا جواب دیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس دین کو قبول کرنے کے معاملے میں ہم تمہارے ساتھی بن جائیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم اپنے گرد و پیش کی ساری دنیا کو اپنا دشمن بنا لیں اور یہ دشمن مل کر ہمیں ہمارے اس ملک سے اچک لے جائیں۔
قریش کو پورے ملک پر جو اقتدار حاصل تھا وہ سمجھتے تھ کہ یہ ان کے دین شرک کی برکت سے ان کو حاصل ہوا ہے۔ وہ اپنے دیویوں دیوتائوں کو تو تمام خیر و برکت کا ذریعہ مانتے ہی تھے۔ مزید برآں انہوں نے پورے ملک پر اپنی مذہبی و سیاسی دھاک قائم رکھنے کے لئے یہ تدبیر اختیار کی تھی کہ تمام قبائل…
Read the full tafseer →57-1یعنی ہم جہاں ہیں، وہاں ہمیں رہنے دیا جائے گا اور ہمیں اذیتوں سے یا مخالفین سے جنگ و پیکار سے دوچار ہونا پڑے گا۔ یہ بعض کفار نے ایمان نہ لانے کا عذر پیش کیا۔ اللہ نے جواب دیا۔
57-2یعنی ان کا یہ عذر غیر معقول ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو، جس میں یہ رہتے ہیں، امن والا بنایا ہے جب یہ شہر ان کے کفر و شرک کی حالت میں ان کے لئے امن کی جگہ ہے تو کیا اسلام قبول کرلینے کے بعد وہ ان کے لئے امن کی جگہ نہیں رہے گا ؟
57-3یہ مکہ کی وہ خصوصیت ہے جس کا مشاہدہ لاکھوں حاجی اور عمرہ کرنے والے ہر سال کرتے ہیں کہ مکہ میں پیداوار نہ ہونے کے باوجود نہایت فروانی سے ہر قسم کا پھل بلکہ دنیا بھر کا سامان ملتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
33: بعض کافروں نے اسلام لانے میں یہ رکاوٹ ظاہر کی تھی کہ اسلام لانے کے بعد عرب کے لوگ ہماری عزت کرنا چھوڑ دیں گے اور ہمارے خلاف قتل و غارت گری کا بازار گرم کرکے ہمیں یہاں سے نکال باہر کریں گے، قرآن کریم نے اس کے تین جواب دئیے ہیں، پہلا جواب تو اسی آیت میں یہ دیا ہے کہ ہم نے ان کے کفر کے باوجود ان کو حدود حرم میں اتنا محفوظ بنایا ہوا ہے کہ سارے عرب میں قتل و غارت گری ہورہی ہے لیکن حرم والوں کو کوئی کچھ نہیں کہتا، بلکہ چاروں طرف سے ہر قسم کے پھل کھنچ کھنچ کر وہاں آتے ہیں اور حرم آنے والے کسی سامان پر کوئی ڈاکا نہیں ڈالتے، جب تمہارے کفر کے باوجود اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ حفاظت بخشی ہوئی ہے تو جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
یہ اہل مکہ کا ایک سطحی اور دنیاوی نقطہ نظر تھا۔ قریش کو اسی دنیا پرستی کے نقطہ نظر نے ڈر میں مبتلا کردیا تھا کہ اگر ہم نے اس جدید تحریک کو قبول کیا تو نقصان ہوگا۔ دشمن حملہ آور ہوجائیں گے اور معاون و مددگار حمایت سے ہاتھ اٹھالیں گے اور ہم مالی لحاظ سے کمزور اور بدحال ہوجائیں گے۔
وقالوا ان نتبع ۔۔۔۔۔ من ارضنا (28: 57) ” وہ کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ یہ لوگ اس بات کے منکر نہیں تھے کہ حضرت پیغمبر ﷺ جو تعلیمات پیش کرتے ہیں وہ حقیقی راہ ہدایت ہے۔ لیکن انہیں ڈر یہ تھا کہ مکہ کے اردگرد کے لوگ ان پر ٹوٹ پڑیں گے دراصل ان کی نظروں میں…
Read the full tafseer →1 انسان کو ہدایت سے روکنے والی کئی چیزیں ہیں۔ مثلاً نقصان، جان و مال کا خوف، چناچہ بعض مشرکین مکہ نے حضور ﷺ سے کہا کہ بیشک ہم جانتے ہیں کہ آپ حق پر ہیں، لیکن اگر ہم دین اسلام قبول کر کے آپ کے ساتھ ہوجائیں تو سارا عرب ہمارا دشمن ہوجائے گا۔ اردگرد کے تمام قبائل ہم پر چڑھ دوڑیں گے اور مل کر ہمارا لقمہ کرلیں گے، نہ جان سلامت رہے گی نہ مال۔ اس کا آگے جواب دیا ہے۔
2 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " مکہ کے لوگ کہنے لگے کہ ہم مسلمان ہوں تو سارے عرب ہم سے دشمنی کریں، اللہ نے فرمایا اب ان کی دشمنی سے کس کی پناہ میں بیٹھے ہو۔ یہ ہی حرم کا ادب (مانع ہے کہ باوجود آپس کی سخت عداوتوں کے باہر والے چڑھائی کر کے تم…
Read the full tafseer →آیت 57 وَقَالُوْٓا اِنْ نَّتَّبِعِ الْہُدٰی مَعَکَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا ط ”
ہم اچک لیے جائیں گے ‘ یعنی ہمیں ختم یا برباد کردیا جائے گا۔ یہ لفظ اسی مفہوم میں سورة الانفال کی آیت 26 میں بھی آیا ہے ‘ جس کا مطالعہ ہم کرچکے ہیں : وَاذْکُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ ”اور یاد کرو جب تم تعداد میں تھوڑے تھے اور زمین میں دبا لیے گئے تھے ‘ تمہیں اندیشہ تھا کہ لوگ تمہیں اچک لے جائیں گے“۔ مزید برآں یہ لفظ سورة العنکبوت کی آیت 67 میں بھی آیا ہے۔
عام طور پر کسی معاشرے میں حق کو قبول کرنے والے لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ…
Read the full tafseer →78 یعنی عرب کے مشرک قبائل ہمارے دشمن بن جائیں گے اور ان میں جو سیاسی اقتدار ہمیں حاصل ہے وہ بھی چھن جائے گا۔ اور اسی سیاسی اقتدار کی وجہ سے جو ہمارے تجارتی قافلے پرامن سفر کرسکتے ہیں۔ وہ بھی نہ کرسکیں گے۔ گویا اگر ہم آپ کی بات مان کر آپ پر ایمان لے لائیں تو ہماری سیاسی ساکھ بھی تباہ ہوجائے گی اور معاشی آسودگی بھی ختم ہوجائے گی اور یہ قبائل ہم پر ہمارا جینا بھی حرام کردیں گے۔
79 کفار کی یہ تراشیدہ بات بھی خوئے بدرا بہانہ بسیار والی بات تھی، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ سیاسی اور معاشی فوائد تمہیں صرف اس بنا پر حاصل ہو رہے ہیں کہ ہم نے اس سرزمین کو حرم بنادیا ہے۔ یہاں عرب بھر کے…
Read the full tafseer →75۔ (جیسے اور بہت سے مسلمان مارے نکالے جاچکے ہیں) آپ کے بعض کمزور معاصرین کا ایک عذر اپنے ایمان نہ لانے سے متعلق یہ تھا۔
76۔ یعنی اس پر غور نہیں کرتے۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ ہماری قدرت اور رزاقی پر غور نہیں کرتے کہ کہاں تو انہیں ایسے ویران اور بہیڑسر زمین پر پیدا کیا اور پھر ایک دن کے لیے بھوکا نہ رکھا، رزق کی ہر قسم کی افراط بھی رکھی اور ان کے وطن کو حرم قرار دے کر کشت وخون تک سے اسے محفوظ کردیا۔ ایسے قادر ورزاق مطلق کے لیے مشکل کیا ہے جو اپنے ایمان والے بندوں، اپنے اطاعت شعار غلاموں کو اپنے افضال خاص سے مستفید اور تنگی وہلاکت سے برابر محفوظ رکھے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : اور ہم نے لوگوں کے لئے قول یعنی قرآن کو (کھول کر بیان کیا) پیہم بھیجا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ایمان لے آئیں جن کو ہم نے اس قرآن سے پہلے کتاب عطا فرمائی وہ اس قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں یہ آیت یہود کی اس جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا، جیسا کہ عبد اللہ بن سلام وغیرہ اور ان نصاریٰ کے بارے میں جو حبشہ اور شام سے آئے تھے اور جب ان کو قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس کے ہمارے رب کی طرف سے حق ہونے پر ہمارا ایمان ہے ہم تو اس سے پہلے ہی سے مسلمان یعنی موحد ہیں یہ لوگ اپنے دونوں کتابوں پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اور دونوں پر عمل…
Read the full tafseer →وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا . اور انہوں نے یعنی مکہ والوں نے کہا : اگر ہم آپ
کے ساتھ ہدایت پر چلیں گے تو ہم ‘ ہماری (اس) زمین سے اچک لئے جائیں گے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ یہ آیت حارث بن عثمان بن نوفل بن عبد مناف کے بارے میں نازل ہوئی۔ حارث نے کہا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے لیکن اگر ہم آپ کے کہنے پر چلیں گے تو ہم کو اندیشہ ہے کہ عرب ہم کو مکہ کی سرزمین سے نکال دیں گے۔ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا کا یہی مطلب ہے۔ کذا اخرج النسائی و ابن المنذر عن ابن عباس۔ نسائی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ حارث بن عامر بن نوفل نے یہ بات کہی تھی۔ اِخْتِطَاف (جھپٹ لینا ‘ اچک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
(57) اور حرث بن عمرو نوفلی اور اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ اگر ہم آپ کے ساتھ توحید کا اقرار کرلیں گے تو ہم سر زمین مکہ سے نکال دیے جائیں گے۔
کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی کہ وہاں کسی قسم کا خوف نہیں جہاں ہر قسم کے پھل کھچے چلے آتے ہیں جو ہماری طرف سے ان کو کھانے کو ملتے ہیں سو اگر یہ ایمان لے آئیں گے تو میں ان پر کفار کو کیوں کر مسلط کر دوں گا لیکن ان میں سے اکثر اس چیز کو نہیں جانتے اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”۔ وقالوا ان نتبع الہدی معک“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ نے عوفی ؒ کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ کچھ قریشیوں نے رسول اکرم ﷺ سے کہا کہ…
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا۔۔ : رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لانے کا ایک بہانہ اور اس کا جواب اوپر گزر چکا ہے : (فَلَمَّا جَاۗءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْلَآ اُوْتِيَ مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ مُوْسٰي ۭ اَوَلَمْ يَكْفُرُوْا بِمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰي مِنْ قَبْلُ) [ القصص : 48 ] ”پھر جب ان کے پاس ہمارے ہاں سے حق آگیا تو انھوں نے کہا اسے اس جیسی چیزیں کیوں نہ دی گئیں جو موسیٰ کو دی گئیں ؟ تو کیا انھوں نے اس سے پہلے ان چیزوں کا انکار نہیں کیا جو موسیٰ کو دی گئی تھیں۔“ اب اس آیت میں ان کے ایمان نہ لانے کا ایک اور بہانہ ذکر فرمایا۔ ”وَقَالُوْٓا اِنْ…
Read the full tafseer →وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا یہ مشرکین مکہ کا قول ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : قریش میں سے یہ بات حرث بن عثمان بن نوفل بن عبدمناف قرشی نے کی : اس نے نبی کریم ﷺ سے کہا : ہم جانتے ہیں کہ تیرا قول ہے لیکن ہمیں یہ خوف کہ عرب ہمیں اپنی سر زمین (مکہ) سے اچک لیں یہ خوف اس سے روکتا ہے کہ ہم تیرے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں اور تجھ پر ایمان لائیں گے، کیونکہ وہ سب ہمارے خلاف مجتمع ہیں اور ہم میں ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں یہ ان کی حجت بازیوں میں سے تھی اللہ تعالیٰ نے ان کی حجت بازیوں کا جواب دیا اور کہا : اولم نمکن لھم حرماً امناً آمنا یہاں ذا امن کے منی میں ہے اس کی وجہ یہ تھی عرب دور جاہلیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش کے کچھ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ ہم اگر ہم آپ کا اتباع کریں تو ہم کو لوگ اچک لیں گے۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت وقالوا ان نتبع الہدی معک۔ یعنی اگر ہم آپ کے کہنے پر چلیں تو ہم کو اندیشہ ہے کہ عرب ہم کو مکہ کی سرزمین سے نکال دیں گے۔
2۔ النسائی وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حارث بن عامر بن نوفل نے کہا کہ آیت وقالوا ان نتبع الہدی معک نتخطف من ارضنا یعنی اگر ہم آپ کے کہنے پر چلیں تو ہم کو ہماری زمین یعنی مکہ سے نکال دیا جائے گا۔
3۔ عبدالرزاق وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت اولم نمکن لہم حرم…
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓا [اور انہوں نے کہا ] اِنْ نَّتَّبِعِ [اگر ہم پیروی کریں گے ] الْهُدٰى [اس ہدایت کی ] مَعَكَ [آپ ﷺ کے ساتھ ] نُتَخَطَّفْ [تو ہم کو گھسیٹ کرلے جایا جائے گا ] مِنْ اَرْضِنَا ۭ [ہماری سرزمین سے ] اَوَلَمْ نُمَكِّنْ [اور کیا ہم نے نہیں جمایا ] لَّهُمْ [ان کو ] حَرَمًا اٰمِنًا [امن میں ہونے والے ایسے حرم میں ] يُّجْــبٰٓى [اکٹھا کئے جاتے ہیں ] اِلَيْهِ [جس کی طرف ] ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ [ہر چیز کے پھل ] رِّزْقًا [رزق ہوتے ہوئے ] مِّنْ لَّدُنَّا [ہماری طرف سے ] وَلٰكِنَّ [اور لیکن ] اَكْثَرَهُمْ [ان کے اکثر ] لَا يَعْلَمُوْنَ [جانتے نہیں ہیں ]
ترکیب : (آیت۔ 57) ۔ الھدی پر لام تعریف ہے۔…
Read the full tafseer →اہل مکہ کی اس بات کی تردید کہ ہم ہدایت قبول کرلیں تو اپنی زمین سے نکال دیئے جائیں گے
علامہ قرطبی نے لکھا ہے ص 300: ج 7 کہ حارث بن عثمان، نوفل بن عبد مناف نے رسول اللہ ﷺ سے کہا ہم یہ جانتے ہیں کہ آپ کی بات حق ہے لیکن ہم جو ایمان لانے اور ہدایت قبول کرنے سے بچ رہے ہیں سو اس کا سبب یہ ہے کہ ہمیں ڈر ہے کہ اہل عرب ہمیں ہماری سرزمین مکہ سے اچک لیں گے یعنی ہمارے خلاف محاذ بنا کر ہمیں مکہ معظمہ سے نکال دیں گے، یہ خواہ مخواہ کی حیلہ بازی تھی کیونکہ عرب کے قبائل آپس میں ایک دوسرے پر حملہ کر کے لوٹ مار تو کرتے تھے اور ایک دوسرے کے خون کے دشمن بنے رہتے تھے لیکن حرم مکہ کو محترم جانتے تھے اور اہل مکہ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
اتمام حجت وقطع معذرت
یعنی قبول ہدایت کے بارے میں کافروں کے ایک حیلہ اور بہانہ کا ذکر اور اس کا جواب
قال اللہ تعالیٰ وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا۔۔۔ الی۔۔۔ افلا تعقلون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ آنحضرت ﷺ من جانب اللہ ہادی برحق ہے۔ حق کا راستہ بتلانے والے ہیں مگر کسی کے دل میں حق کا اتار دینا یہ اللہ ہی کا کام ہے نبی کا کام ہدایت اور رہنمائی اور حق کی دعوت ہے اور بندوں کا کام اللہ کی راہ پر چلنا اور اس کی ہدایت اور دعوت کو قبول کرنا ہے اب آئندہ آیات میں کافروں کے ایک حیلہ اور بہانہ کا ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یہ جاہل ہدایت کے نہ قبول کرنے کے عذر میں…
Read the full tafseer →ٖ 54:۔ یہ دوسرا شکوی ہے۔ بعض مشرکین نےحضور ﷺ سے آ کر کہا ہم جانتے ہیں کہ آپ رسول برحق ہیں لیکن بات یہ ہے کہ ہم سارے عرب کی مخالفت کی تاب نہیں رکھتے اگر آپ کو مان لیں تو سارا عرب ہم پر ٹوٹ پڑے اور ہمیں اپنے وطن سے نکال کر بےوطن کردے۔ اولم نمکن لہم الخ، یہ جواب شکوی ہے یعنی ان کا یہ خدشہ بےاصل ہے کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے انہیں حرم پاک میں جگہ دے رکھی ہے جو امن و سلامتی کا گھر ہے یہاں کے رہنے والوں پر کوئی دست ستم دراز نہیں کرسکتا۔ اور مزید برآن یہ کہ ہر جانب سے ہر قسم کے میوے اور پھل یہاں کھنچے چلے آرہے ہیں لیکن اکثر لوگ اس میں غور نہیں کرتے۔ حاصل یہ ہے کہ اب وہ شرک کرتے ہیں مگر اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کو شکوہ بیان کیا تھا کہ وہ ہدایت کی عد م قبولیت کے لیے طرح طرح کے حیلوں بہانوں سے کام لیتے ہیں ، اور ساتھ اہل ایمان کو تسلی بھی دی کہ اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کے لیے اللہ کے ہاں دوہرا اجر ہے۔ اب آج کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے محروم رہنے والوں کے ایک حیلے بہانے کا ذکر کیا اور اس کا جواب بھی دیا ہے۔
مشرکین مکہ کا عذر لنگ
ارشاد ہوتا ہے وقالو ان نتبع الھدی معک اور وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں نتخطف من ارضنا تو ہم اچک لیے جائیں گے اپنی سر زمین سے ، یعنی اگر ہم نے ایمان قبول کرلیا تو ہمیں مخالفین سے…
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓا اِنْ نَّتَّبِعِ الْہُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا 0ۭ اَوَلَمْ نُمَكِّنْ لَّہُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْبٰٓى اِلَيْہِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَلٰكِنَّ اَكْثَرَہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 57
تبع
يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
ترکیب : معک نتبع سے متعلق نتخطف جواب شرط خطف ربودن اچکنا تمکن بمعنی نجعل اس لیے حرما کی طرف بنفسہ متعدی ہوا۔ امنا بمعنی مومن او ذا امن صفت ہے حرما کی یجبیٰ جملہ صفت ہے ثانیہ رزقا یجبیٰ کے معنی سے مفعول مطلق و قیل حال و کم فی موضع نصب با ھلکنا معیشتہا کا نصب بطرت ہے جس کا فاعل ضمیر قریۃً لان المعنی کفرت نعمھا اوجاوزت الحد۔ لم تسکن حال و العامل فیہ الاشارۃ الا قلیلا او زماناً قلیلا فمتاع الحیوۃ ای فالموتی متاع۔
تفسیر : مشرکین مکہ کا ایک اور شبہ تھا جس کو بعد وضوح دلائل کے پیش کیا کرتے تھے، اس کو خدا تعالیٰ یہاں نقل فرماتا ہے۔ وقالوا ان نتبع الہدیٰ معک کہ اگر ہم تیرے ساتھ ہدایت پر آجاویں تو لوگ…
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓا اِنْ نَّـتَّبِعِ الْھُدٰی مَعَکَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا ط اَوَلَمْ نُمَکِّنْ لَّھُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْ ئٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔
(القصص : 57)
(اور وہ کہتے ہیں اگر ہم آپ کے ساتھ اس کتاب کی پیروی اختیار کرلیں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے، کیا ہم نے انھیں متمکن نہیں کیا ایک پرامن حرم میں جس کی طرف ہمارے فضل سے ہر چیز کی پیداواریں کھنچی چلی آرہی ہیں مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ )
قریش کے ایمان نہ لانے کا حقیقی سبب
اس آیت کریمہ میں کفارِقریش کے اسلام نہ لانے کے حقیقی سبب کو بیان کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
فہم القرآن
ربط کلام : مکہ والوں کا ہدایت قبول نہ کرنے کا عذر لنگ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی رفیقہ حیات حضرت ہاجرہ [ اور لخت جگر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو اس وقت مکہ میں چھوڑا جب بیت اللہ کی بنیادیں تھیں مگر عمارت موجود نہ تھی اور مکہ شہر کا نام و نشان تک نہ تھا۔ اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کے حضور ان الفاظ میں دعا کی۔
” اے میرے رب میں اپنے اہل و عیال کو بےآب وگیاہ وادی میں چھوڑے جا رہا ہوں تاکہ وہ نماز قائم کریں اور اے اللہ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل کر دے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما تاکہ تیرا شکر ادا کریں۔ “ [ ابراہیم : 37]
مکہ والے یہ بہانہ بناتے تھے کہ اگر…
Read the full tafseer →57: وَقَالُوْا اِنْ تَّتَّبِعِ الْہُدٰی مَعَکَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا اَوَلَمْ نُمَکِّنْ لَّہُمْ حَرَمًا ٰامِنًا (اور انہوں نے کہا اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت پر چلیں گے تو ہم زمین سے اچک لیے جائیں گے۔ کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی) قریش نے کہا ہم جانتے ہیں کہ تو حق پر ہے۔ لیکن ہمیں خطرہ یہ ہے کہ لوگ تمہاری اتباع کریں اور عرب کی مخالفت مول لیں تو وہ ہمیں اس زمین سے نکال باہر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دلیل کا جواب پتھر سے دیا کہ ہم نے اس حرم میں ان کو ٹھکانہ دیا جس کا امن بیت اللہ پر موقوف ہے اور وہاں کے باسیوں کا امن بیت اللہ کی حرمت کی وجہ سے ہے۔ ہر طرف سے پھل وہاں…
Read the full tafseer →57۔ وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا، ، اس سے ارض مکہ ہے۔ یہ حارث بن عثمان بن نوفل عبدمناف ک بارے میں نازل ہوئی۔ یہ اس وجہ سے حارث نے کہا کہ نبی کریم جو کچھ بھی لائے ہیں ہم جانتے ہیں وہ جو کچھ آپ لائے ہیں یہ حق ہے لیکن اگر ہم آپ کے کہنے پرچلیں گے توہم کو اندیشہ ہے کہ عرب ہم کو مکہ کی سرزمین سے نکال دیں گے ، نتخطف من ارضنا، کا یہی مطلب ہے۔ اختطاف ، جلدی سے چھیننا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
” اولم نمکن لھم حرما امنا، دور جاہلیت میں عرب باہم قتل و غارت کیا کرتے تھے، لوٹ مار کا عام دستور تھا، کسی جگہ امن نہ تھا، لیکن مکہ والے حرمت کی وجہ سے امن وچین سے رہتے تھے۔ مشہور بات ہے کہ ہرن بھیڑیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
57 تا 60۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کا یہ قول بیان فرمایا تھا جس کو وہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کے عذر میں پیش کرتے تھے کہ ہم نبی آخر الزمان پر ایمان لاویں گے تو مکہ کے گردو نواح کی بستیوں کے لوگ مخالفت دینی اور مذہبی کے پیدا ہوجانے کے سبب سے بڑی مخالفت اور دشمنی سے ہمارے ساتھ پیش آنے لگیں گے جس سے ہماری راحت اور ہمارے امن میں بڑا فتور پڑجاوے گا ایک جواب تو اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے اس عذر کا اوپر فرمایا تھا جس کا حاصل یہ تھا کہ ان لوگوں کی یہ نادانی ہے جو مکہ کے امن کو یہ لوگ اپنی تدبیر کا نتیجہ خیال کرتے ہیں ان کی تدبیر سے کچھ مکہ میں امن نہیں ہے بلکہ اللہ کے حکم سے آدمیوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
آیت 56
اللہ تبارک و تعالیٰ رسول مصطفیٰ ﷺ کو آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ۔۔۔ اور آپ کے علاوہ لوگ بدرجہ اولیٰ ۔۔۔ کسی کو ہدایت دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے خواہ وہ آپ کو کتنا ہی زیادہ محبوب کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جو مخلوق کے اختیار میں نہیں۔ ہدایت کی توفیق اور قلب میں ایمان جاگزیں کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت کا اہل ہے پس اسے ہدایت عطا کردیتا ہے اور کون ہدایت عطا کئے جانے کا اہل نہیں پس اسے اس کی گمراہی میں سرگرداں چھوڑ دیتا ہے۔
رہا اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (وانک لتھدی الی صراط مستقیم) (الشوریٰ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →73 منکرین و مشرکین کی مت ماری اور ٹیڑھی منطق کا ایک نمونہ : سو یہ منکرین حق اور مشرکین مکہ کی مت ماری کا ایک نمونہ ہے کہ اگر ہم نے حق کی پیروی کی تو ہمیں اپنی اس سرزمین سے اچک لیا جائے گا۔ کیونکہ ان کا کہنا اور ماننا یہ تھا کہ ہماری تمام تر خیرات و برکات کا ذریعہ اور ہمارے حاجت روا و مشکل کشا ہماری یہ دیویاں اور دیوتا ہیں۔ سو اگر ہم نے توحید کی اس دعوت کو قبول کرلیا جو محمد پیش کر رہے ہیں تو ایک طرف تو ہماری یہ دیویاں اور دیوتا ہم سے ناراض ہوجائیں گے اور دوسری طرف عرب کے تمام مشرک لوگ ہمارے خلاف ہوجائیں گے۔ پورا عرب ہمارے خلاف اٹھ کھڑا ہوگا اور اس طرح ہمیں اس ملک سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–64
ہجرت، مدین میں قیام، فرعون کی طرف واپسی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے سرفرازی
نبی کو بھیجنے کا مقصد ‘ نیک و بد کا فرق اور مشرکین کا انجام
تشریح : کفار و مشرکین کی خصلتیں ہر زمانے اور ہر دور میں ایک سی ہی رہی ہیں۔ آج کا دور باوجود ترقی کرنے کے اور علم و فضل میں کافی ترقی کر جانے کے کفار وہی ہٹ دھرمی اور ضد رکھتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں رکھتے تھے۔ کبھی کہتے موسیٰ جیسے معجزے دکھائو کبھی کہتے موسیٰ (علیہ السلام) جیسی کتاب لائو۔ حالانکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اہل عرب کیسے ایمان لاسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور حکیم ہے اس لیے وہ نبی بھیجتا رہا تاکہ قیامت کے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیات 51 تا 60
اسرارو معارف
اور پھر قرآن حکیم کے مسلسل اتارے جانے کی حکمت ارشاد ہوئی کہ ہم نے قرآن کریم کو بتدریج نازل فرمایا کہ لوگوں کو بار بار تازہ بتازہ کلام الہی نصیب ہوتا رہے اور مسلسل دعوت الی اللہ دی جاتی رہے نیز ہر آیت کو واقعات اور سوالات کے جواب میں نازل فرما کر یہ سہولت پیدا کردی کہ یاد رکھنے میں بھی آسانی ہو ورنہ اللہ قادر ہے تورات کی طرح ایک ہی دفعہ بھی عطا فرما دیتا۔ اور یہ محض اعتراض ہے ورنہ وہ لوگ جو اہل کتاب میں سے ایمان دار تھے اور اپنی کتاب پر ہی ایمان رکھتے تھے جب ان کے سامنے یہ آیات پڑھی گئیں تو انہوں نے فورا کہا کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ہمارے پروردگار…
Read the full tafseer →6 ۔ یعنی عرب کے دوسرے قبائل جو اسلام کے دشمن ہیں ہمارے مخالف ہوجائیں گے اور سب مل کر ہمیں مکہ کی سرزمین سے نکال باہر کریں گے۔ اور ہم اتنے طاقتور نہیں ہیں کہ ان کا مقابلہ کرسکیں۔ یہ بات منجملہ ان باتوں کے ہے جنہیں کفار قریش اسلام قبول نہ کرنے کے لئے بطور بہانہ کے پیش کرتے تھے۔ آیت کے اگلے حصہ میں اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔ (قرطبی) 7 ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ حرم جس کے امن وامان کی یہ حالت ہے کہ اس کے جانوروں تک کو کوئی نہیں ستاتا اور جسے وادی غیر ذمی زوع ہونے کے باوجود اس قدر مرکزی حیثیت حاصل ہے کہ دنیا بھر کے پھل اور اموال تجارت اس کی طرف کھچے چلے آتے رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اسے یہ حیثیت ہم نے بخشی ہے۔…
Read the full tafseer →(28:57) نتبع۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل ان جمع متکلم (اگر) ہم پیروی کریں۔
نتخطف۔ مضارع مجہول مجزوم بوجہ جواب شرط۔ تخطف تفعل مصدر ۔ ہم کو اچک لیا جائے گا۔ یعنی لوٹ لیا جائے گا یا قتل کردیا جائے گا۔ خطف یخطف (ضرب) وخطف یخطف (سمع) خطبۃ مصدر بمعنی کسی چیز کو جلدی سے اچک لینا۔ جیسے تخطفہ الطیر (22:31) پھر اس کو پرندے اچک لے جاویں۔
اولم نمکن ہمزہ استفہامیہ واؤ عطف کا ہے لم نکمن مضارع منفی نفی جحد بلم۔ کیا ہم نے جگہ نہیں دی۔ تمکن تفعیل مصدر جس کے لغوی معنی ہیں کسی کو ایسی جگہ دینا کہ وہ اس میں جماؤ کرسکے۔ توسیع استعمال کے بعد مجازا حکومت، اور قدرت دینے کا معنی ہوگیا۔
حرما امنا۔ موصوف وصفت خطہ حرم جو پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–61
لغات القرآن آیت نمبر 56 تا 61 ) ۔
لا تھدی (تو ہدایت نہیں دیتا ) ۔ احببت (تو نے چاہا۔ تو نے پسند کیا ) ۔ نتخطف (ہم اچک لئے جائیں گے ) ۔ لم نمکن (ہم نے ٹھکانا نہیں دیا ) ۔ یجبی (کھنچے آتے ہیں ) ۔ ثمرات (ثمرۃ) (پھل، پھول، سبزہ۔ سبزی ) ۔ لدنا (ہمارے پاس ) ۔ بطرت (اترائی ۔ (ناز کیا) ۔ معیشتہ (زندگی گذارنا) ۔ لم تسکن (آباد نہ ہوئے) ۔ یبعث (وہ بھیجتا ہے۔ اٹھاتا ہے) ۔ لا قیہ (اس کو پانے والا ) ۔ متعنا (ہم نے سامان دیا ) ۔ المحضرین (حاضر کئے گئے) ۔
تشریح : آیت نمبر (56 تا 61 ) ۔ ” سورة القصص کی گذشتہ آیات کی تشریح میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ملک حبش سے بیس آدمیوں کی ایک جماعت دین اسلام، نبی کریم ﷺ…
Read the full tafseer →(ف 2) شان نزول :
یہ آیت حارث بن عثمان بن نوفل بن عبدمناف کے حق میں نازل ہوئی۔ اس نے رسول کریم سے کہا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ سچے ہیں اور آپ کی تابعداری میں ہماری بھلائی ہے مگر ہمیں ڈر ہے کہ عرب لوگ شہر بدر کردیں گے اور ہمارے وطن میں نہ رہنے دیں گے اس آیت میں اس کا جواب دیا گیا حرم کو جب سب عرب اس کی حرمت جانتے ہیں تو کیونکرنکال دیں گے اور کس طرح تم کو قتل کریں گے جو تم اس بات کا خوف کرتے ہو، اب تو تم کفر کی حالت میں ہو اور امن سے اور آرام سے ہو کہ تم ملکوں کے پھل اور طرح طرح کے میوے اور دنیا کی نعمتیں کھاتے ہو، کیا جب ایمان لے آؤ گے اس وقت خدا تم کو امن سے نہ رکھے گا لیکن وہ اس بات کو نہیں…
Read the full tafseer →[33] مشرکین مکہ رسول اکرم ﷺ سے کہتے تھے کہ اگر دین اسلام قبول کر کے آپ کے ساتھ ہوجائیں تو
سارا عرب ہمارا دشمن ہوجائے گا اور اردگرد کے قبائل ہم پر چڑھ دوڑیں گے اور ہماری تکابوٹی کردیں گے۔ اس کا جواب آگے آ رہا ہے۔
[34] یعنی سخت بدامنی کے ماحول میں عرب کا صرف یہی ایک گوشہ ہے جہاں کے رہنے والے قتل و غارت سے امن میں ہیں اور تمام عرب کے لوگ اس کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ہر سال ہزارہا انسان اس کے طواف کے لئے آتے ہیں۔ اسی حرم کی وجہ سے تم عرب کے سردار بنے ہوئے ہو اور یہاں کی تجارت کا بڑا حصہ تمہارے قبضے میں ہے۔ تو کیا جس اللہ نے تمہارے شرک و کفر کے باوجود تمہیں پناہ دی ہے کیا وہ ایمان وتقویٰ…
Read the full tafseer →حل لغات نتخطف ۔ اچک لئے جائیں گے ۔ یعنی ہم کو ہمارے گھروں سے نکال باہر کیا جائے گا
Read the full tafseer →57۔ آگے اور شبہات کے جواب میں اور کفار مکہ یوں کہتے ہیں اگر ہم تیرے ساتھ ہو کر اس دین حق کی ہدایت پر چلنے لگیں اور اس ہدایت کے پیرو ہوجائیں تو ہم اس ملک سے اچک لئے جائیں اور یہاں سے مار نکال دیئے جائیں کیا ہم نے ان کو امن وامان والے حرم میں جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل کھینچے چلے آتے ہیں جو ہماری طرف سے بطور رزق کے دیئے جاتے ہیں لیکن ان میں کے اکثر لوگ ان باتوں کو نہیں سمجھتے۔ یعنی اسلام قبول کرنے پر یہ شبہ اور یہ عذر کرتے ہیں کہ اگر ہم ہدایت قبول کرلیں اور دین حق کی پیروی اختیار کر کے آپ کے ساتھ ہوجائیں تو جناب ہم کو لوگ یہاں سے مارکر نکال دیں اور ہم کو جلا وطنی اختیار کرنی پڑے اومعاش سے…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی حرم ہونے کی وجہ سے جس کا سب احترام کرتے ہیں، لحوق مضرت کا بھی اندیشہ نہیں، اور اس مضرت کے منتفی ہونے کی وجہ سے احتمال فوت منفعت رزق کا بھی نہیں، پس ان کو چاہئے تھا کہ اس حالت کو غنیمت سمجھتے اور اس کو نعمت سمجھ کر قدر کرتے اور ایمان لے آتے، لیکن وہ اس کا خیال نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →قریش مکہ ایک اعتراض اور اس کا دندان شکن جواب :
57۔ نبی کریم کے زمانے میں بھی مختلف طرح کے معترضین تھے اور جو کسی کے منہ میں آتا تھا کہہ دیتا تھا ‘ قریش کے بعض سرداروں کو یہ اعتراض تھا کہ باتیں تو آپ کی سچی ہیں اور ان کا جواب بھی ہم سے نہیں بن پڑتا لیکن دریا میں رہ کر مگرمچھ سے بیر بھی تو کوئی عقل مندی نہیں ہے ذرا آپ یہ بھی تو سوچیں کہ ہمارے اردگرد بسنے والے سارے قبیلے بھی تو آخر کوئی دین رکھتے ہیں وہ کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ بقول آپ کے اگر ہم مشرک ہیں تو وہ بھی مشرک ہیں کیونکہ ان کا اور ہمارا ایک ہی دین اور ایک ہی مشرب ہے اگر ہم آپ کا دین قبول کرلیں تو وہ اکٹھے ہو کر ہم پر چڑھائی کردیں گے اور ہمیں…
Read the full tafseer →Commentary
وَقَالُوا إِن نَّتَّبِعِ الْهُدَىٰ مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ أَرْضِنَا (And they said, "If we follow the guidance with you (0 Muhammad), we will be driven out of our land." - 28:57). Harith Ibn ` Uthman and other infidels of Makkah put forward one of the reasons for their non-acceptance of faith that although they believed that his teachings were based on truth, but they feared that if they followed him, the entire people of Arabia would turn against them, and as a consequence they will be driven out of their land. (Nasai' etc.). The Holy Qur'an has given three answers to their lame…
Read the full tafseer →81 This is the first reply to their excuse by Allah. It means this: It is all due to the sacredness and the central position of this Sanctuary that the merchandise of the entire world is being drawn and attracted to this barren and uncultivated valley, for your benefit and use. You should know that you are in no way responsible for giving it the central position it enjoys and for the state of security that prevails in the areas around it. 2;500 years ago a servant of Allah came to this barren valley in the bare mountains with his wife and suckling child. Here he built a small room with stone…
Read the full tafseer →