Al-Qasas 28:56

Al-Qasas · from ayah 56

28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ ۚ— وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ ۟اِنَّكَ لَا تَهۡدِىۡ مَنۡ اَحۡبَبۡتَ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ‌ؕ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُهۡتَدِيۡنَ

(اے محمدﷺ) تم جس کو دوست رکھتے ہو اُسے ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور وہ ہدایت پانیوالوں کو خوب جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, [O Muhammad], you do not guide whom you like, but Allah guides whom He wills. And He is most knowing of the [rightly] guided.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 6 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:56

اے نبیؐ، تم جسے چاہو اسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے محمدﷺ) تم جس کو دوست رکھتے ہو اُسے ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور وہ ہدایت پانیوالوں کو خوب جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کر سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہے ہدایت کرتا ہے۔ ہدایت والوں سے وہی خوب آگاه ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) حقیقت یہ ہے کہ تم جس کو خود چاہو ہدایت تک نہیں پہنچا سکتے، بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت تک پہنچا دیتا ہے، اور ہدایت قبول کرنے والوں کو وہی خوب جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کردو ہاں اللہ ہدایت فرماتا ہے جسے چاہے، اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت والوں کو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

حقیقت یہ ہے کہ جسے آپ (راہِ ہدایت پر لانا) چاہتے ہیں اسے راہِ ہدایت پر آپ خود نہیں لاتے بلکہ جسے اللہ چاہتا ہے (آپ کے ذریعے) راہِ ہدایت پر چلا دیتا ہے، اور وہ راہِ ہدایت پانے والوں سے خوب واقف ہے۔،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک تو ہدایت نہیں دیتا جسے تو دوست رکھے اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو زیادہ جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے نبی) ! جسے آپ چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے، اللہ ہی ہے جو جس کو چاہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم جن کو چاہو، ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہی ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک آپ اے پیغمبر ! ہدایت نہیں دے سکتے جس کو آپ پسند کریں بلکہ اللہ ہی ہدایت کی دولت سے نوازتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے ان لوگوں کو جو ہدایت پانے والے ہوتے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

جس کو آپ چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے البتہ اللہ ہدایت دیتا ہے اسے جس کے لئے اس کی مشیت ہوتی ہے اور وہی ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) آپ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو آپ چاہیں بلکہ اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اے محمد ﷺ !) آپ جس کو دوست رکھتے ہیں اسے ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), you cannot grant guidance to whom you please. It is Allah Who guides those whom He will. He knows best who are amenable to guidance.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

You cannot give guidance to whomsoever you wish, but Allah gives guidance to whomsoever He wills, and He best knows the ones who are on the right path.

— Muhammad Taqi Usmani

You cannot give guidance to whomsoever you wish, but Allah gives guidance to whomsoever He wills, and He best knows the ones who are on the right path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, you guide not whom you like, but Allah guides whom He wills. And He knows best those who are the guided.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! thou (O Muhammad) guidest not whom thou lovest, but Allah guideth whom He will. And He is Best Aware of those who walk aright.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, [O Muhammad], you do not guide whom you like, but Allah guides whom He wills. And He is most knowing of the [rightly] guided.

— Saheeh International

(Muhammad), you cannot guide whomever you love, but God guides whomever He wants and knows best those who seek guidance.

— Muhammad Sarwar

Surely you cannot guide whom you love, but Allah guides whom He pleases, and He knows best the followers of the right way.

— Muhammad Habib Shakir

Verily thou shalt not guide whomsoever thou lovest, but Allah shall guide whomsoever He will. And He knoweth best who are the guided.

— Abdul Majid Daryabadi

It is true thou wilt not be able to guide every one, whom thou lovest; but Allah guides those whom He will and He knows best those who receive guidance.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:56

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 56–57

ہدایت صرف اللہ کے ذمہ ہے اے نبی ﷺ کسی کا ہدایت قبول کرنا تمہارے قبضے کی چیز نہیں۔ آپ پر تو صرف پیغام اللہ کے پہنچادینے کا فریضہ ہے۔ ہدایت کا مالک اللہ ہے وہ اپنی حکمت کے ساتھ جسے چاہے قبول ہدایت کی توفیق بخشتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (لیس علیک ھدھم) تیرے ذمہ ان کی ہدایت نہیں وہ چاہے تو ہدایت بخشے۔ اور آیت میں ہے (وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ01003) 12۔ یوسف :103) گو تو ہرچند طمع کرے لیکن ان میں سے اکثر ایماندار نہیں ہوتے کہ یہ اللہ کے ہی علم میں ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے ؟ اور مستحق ضلالت کون ہے ؟ بخاری ومسلم میں ہے کہ یہ آیت آپ ﷺ کے چچا ابو طالب کے بارے میں اتری جو آپ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القصص 79 سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ حبشی عیسائیوں کے ایمان و اسلام کا ذکر کرنے کے بعد نبی ﷺ کو مخاطب کر کے یہ فقرہ ارشاد فرمانے سے مقصود دراصل کفار مکہ کو شرم دلانا تھا۔ کہنا یہ تھا کہ بدنصیبو، ماتم کرو اپنی حالت پر کہ دوسرے کہاں کہاں سے آکر اس نعمت سے مستفید ہورہے ہیں اور تم اس چشمہ فیض سے جو تمہارے اپنے گھر میں بہہ رہا ہے محروم رہے جاتے ہو، لیکن کہا گیا ہے اس انداز سے کہ اے محمد ﷺ ، تم چاہتے ہو کہ میری قوم کے لوگ، میرے بھائی بند، میرے عزیز و اقارب، اس آب حیات سے بہرہ مند ہوں، لیکن تمہارے چاہنے سے کیا ہوتا ہے، ہدایت تو اللہ کے اختیار میں ہے، وہ اس نعمت سے انہی لوگوں کو فیض یاب کرتا ہے جن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر آپ جس کو چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ جس کو چاہے ہدایت کردیتا ہے (اور ہدایت کرنے کی قدرت تو کسی کو کیا ہوتی اللہ کے سوا کسی کو اس کا علم تک بھی نہیں کہ کون کون ہدایت پانے والا ہے بلکہ) ہدایت پانے والوں کا علم اسی کو ہے۔ معارف و مسائل لفظ ہدایت کئی معنوں کے لئے استعمال ہوتا ہے، ایک معنے صرف راستہ دکھا دینے کے ہیں، جس کے لئے ضروری نہیں کہ جس کو راستہ دکھایا گیا وہ منزل مقصود پر پہنچے اور ایک معنی ہدایت کے یہ بھی آتے ہیں کہ کسی کو منزل مقصود پر پہنچا دیا جائے۔ پہلے معنے کے اعتبار سے تو رسول اللہ ﷺ بلکہ تمام انبیاء کا ہادی ہونا اور یہ ہدایت ان کے اختیار میں ہونا ظاہر ہے کیونکہ یہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آنحضرت کو تسلی ہدایت یہاں ہدایت یافتہ بنا دینے کے مفہوم میں ہے۔ یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی کہ تم ان لوگوں کے پیچھے زیادہ ہلکان نہ ہو۔ تمہارا کام صرف لوگوں تک پیغام حق پہنچا دینا ہے یہ تمہارے اختیار میں نہیں ہے کہ تم جس کو چاہو ہدایت یافتہ بنا دو بلکہ یہ اللہ کے اختیار میں ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت پانے کا اہل ہے، کون نہیں ہے۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں جو سنت الٰہی ہے اس کی وضاحت ہم برابر کرتے آ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

56-1یہ آیت اس وقت نازل ہوئی، جب نبی ﷺ کے ہمدرد اور غمسار چچا ابو طالب کا انتقال ہونے لگا تو آپ ﷺ نے کوشش فرمائی کہ چچا اپنی زبان سے ایک مرتبہ لاَ اِلٰہ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دیں تاکہ قیامت والے دن میں اللہ سے ان کی مغفرت کی سفارش کرسکوں۔ لیکن وہاں پر دوسرے رؤسائے قریش کی موجودگی کی وجہ سے ابو طالب قبول ایمان کی سعادت سے محروم رہے اور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہوگیا نبی ﷺ کو اس بات کا بڑا صدمہ تھا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر نبی ﷺ پر واضح کیا کہ آپ کا کام صرف تبلیغ و دعوت اور راہنمائی ہے۔ لیکن ہدایت کے اوپر چلا دینا یہ ہمارا کام ہے۔ ہدایت اسے ہی ملے گی جسے ہم ہدایت سے نوازنا چاہیں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 55–56

32: یعنی تم سے بحث میں الجھنا نہیں چاہتے، وہاں یہ دعا کرتے ہیں کہ تمہیں اسلام کی توفیق ملے، اور اس کے نتیجے میں تمہیں سلامتی عطا ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انک لا تھدی ۔۔۔۔۔ وھو اعلم بلمھتدین (56) صحیحین میں وارد ہے کہ یہ آیت نبی ﷺ کے چچا ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔ یہ نبی ﷺ کے حامی و مددگار تھے اور قریش کے مقابلے میں آپ کے دفاع کے لیے بنیان مرصوص بنے ہوئے تھے۔ یہ آپ ﷺ کے اس قدر حامی تھے کہ ان کی حمایت کی وجہ سے آپ آزادانہ دعوت دے سکتے تھے۔ اس حمایت کی وجہ سے قریش نے ان کو اور پورے بنی ہاشم کا مقاطعہ کیا تھا ، اور ان کو شعب ابو طالب میں محصور کردیا۔ یہ سب کام وہ اپنے بھیجتے کی محبت میں کرتے تھے اور قوی حمیت اور عزت و آبرو کو بچانے کے لیے کرتے تھے جب آپ کی وفات کا وقت آیا تو نبی ﷺ نے آپ کو دعوت ایمان دی اور عرض کیا کہ آپ اسلام میں داخل ہوجائیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے چچا (ابو طالب) کے واسطے بہت سعی کی کہ مرتے وقت کلمہ پڑھ لے، اس نے قبول نہ کیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ (موضح) یعنی جس سے تم کو طبعی محبت ہو، یا دل چاہتا ہو کہ فلاں کو ہدایت ہوجائے لازم نہیں کہ ایسا ضرور ہو کر رہے۔ آپ کا کام صرف راستہ بتانا ہے آگے یہ کہ کون راستہ پر چل کر منزل مقصود تک پہنچتا ہے کون نہیں پہنچتا، یہ آپ کے قبضہ اختیار سے خارج ہے۔ اللہ کو اختیار ہے جسے چاہے قبول حق اور وصول الی المطلوب کی توفیق بخشے (تنبیہ) جو کچھ حضرت شاہ صاحب نے فرمایا احادیث صحیحہ میں موجود ہے۔ اس سے زائد اس مسئلہ میں کلام کرنا اور ابو طالب کے ایمان و کفر کو خاص موضوع…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَہُوَ اَعْلَمُ بالْمُہْتَدِیْنَ ” یہ آیت خاص طور پر حضور ﷺ کے چچا ابو طالب کے بارے میں ہے۔ حضور ﷺ کی شدید خواہش تھی کہ وہ ایمان لے آئیں۔ ان کا انتقال 10 نبوی میں ہوا تھا۔ ان کے آخری وقت بھی حضور ﷺ نے ان سے بہت اصرار کیا کہ چچا جان ! آپ اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ کے کلمات میرے کان میں کہہ دیں تاکہ میں اللہ کے ہاں آپ کے ایمان کی گواہی دے سکوں ‘ لیکن وہ اس سے محروم رہے۔ بہر حال یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حضور ﷺ پر ان کے بہت احسانات ہیں اور ان کے وہ احسانات حضور ﷺ کی نسبت سے ہم سب پر بھی ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ان کا نام ادب سے لیں اور ان…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

76 ہدایت کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک سورة یہ ہے کہ کسی کافر کے قلب و دماغ میں ایسی تبدیلی آجائے کہ وہ ہدایت یا اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہوجائے یہ کام خالصتہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں اس کی صراحت موجود ہے۔ نیز درج ذیل حدیث بھی اسی معنی کی تائید کرتی ہے۔ سعید بن مسیب کے والد مسیب بن حزن کہتے ہیں کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ وہاں دیکھا کہ ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ پہلے ہی وہاں بیٹھے ہیں۔ آپ نے ابو طالب سے فرمایا : چچا جان ! اگر آپ لا الٰہ الا اللہ کہہ لیں تو میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں دلیل پیش کرسکوں گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

74۔ رسول اللہ ﷺ کو اپنے عزیزوں قریبوں کے ایمان نہ لانے پر رنج قدرۃ اور زیادہ تھا اور شوق واہتمام بھی انہیں کے ایمان لانے کا طبعا زیادہ تھا۔ یہ آیت آپ کی تسلی کے لیے ہے کہ ہدایت کا تعلق تو مشیت تکوینی سے ہے اس میں آپ کی مرضی اور پسند کو دخل نہیں۔ (آیت) ” لا تھدی “۔ ہدایت کے ایک معنی تو راہ دکھانے، اراء ۃ طریق کے ہوتے ہیں۔ یہاں اس کی نفی پیغمبر کی ذات سے نہیں ہورہی ہے۔ وہ تو پیغمبر کے عین فرائض میں داخل ہے۔ دوسرے معنی ہدایت کے منزل مقصود تک پہنچا دنیا۔ اور ایصال الی المقصود ہے، یہاں نفی اسی کی کی جاری ہے کہ یہ رسول کے بس کی چیز نہیں تمامتر مشیت تکوینی کے تابع ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–60

آیت نمبر 51 تا 60 ترجمہ : اور ہم نے لوگوں کے لئے قول یعنی قرآن کو (کھول کر بیان کیا) پیہم بھیجا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ایمان لے آئیں جن کو ہم نے اس قرآن سے پہلے کتاب عطا فرمائی وہ اس قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں یہ آیت یہود کی اس جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا، جیسا کہ عبد اللہ بن سلام وغیرہ اور ان نصاریٰ کے بارے میں جو حبشہ اور شام سے آئے تھے اور جب ان کو قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس کے ہمارے رب کی طرف سے حق ہونے پر ہمارا ایمان ہے ہم تو اس سے پہلے ہی سے مسلمان یعنی موحد ہیں یہ لوگ اپنے دونوں کتابوں پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اور دونوں پر عمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انک لا تھدی من اجبت ولکن اللہ یھدی من یشاء وھو اعلم بالمھتدین . بیشک آپ (ہر اس شخص کو) جس کو پسند کریں ہدایت یاب نہیں کرسکتے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت یاب کرتا ہے اور وہی ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔ مَنْ اَجْبَبْتَ یعنی جس کو ہدایت یاب کرنا آپ پسند کریں یا جس سے قرابت داری کی وجہ سے آپ کو محبت ہو۔ الْمُھْتَدِیْنَ مجاہد و مقاتل نے کہا : یعنی ان لوگوں کو اللہ ہی خوب جانتا ہے جن کے لئے ہدایت مقرر کردی گئی ہے۔ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں اور نسائی نے ابو سعید بن رافع کی روایت سے بیان کیا ہے۔ ابو سعید نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر سے دریافت کیا کہ آیت اِنَّکَ لاَ تَھْدِیْ مَنْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(56) اے محمد ﷺ آپ جس سے چاہیں ایمان کا اقرار نہیں کرا سکتے یعنی حضرت ابوطالب کو البتہ اللہ جس کو چاہے اپنے دین کی ہدایت دیتا ہے یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر ؓ اور ان کے ساتھی اور اپنے دین کی ہدایت پانے والوں کا علم بھی اسی کو ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ انک لا تہدی من احببت“۔ (الخ) امام مسلم ؒ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اپنے چچا محترم سے فرمایا کہ کلمہ لا الہ الا اللہ کہہ لو تاکہ قیامت کے دن میں تمہارے حق میں گواہی دوں انہوں نے فرمایا کہ اگر مجھے قریش کی عورتیں عار نہ دلاتیں اور یہ نہ کہتیں کہ گھبراہٹ اور ڈر سے یہ اس کے قائل ہوئے ہیں تو میں اس سے اپنی آنکھیں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ۔۔ : رسول اللہ ﷺ تمام لوگوں کے بیحد خیر خواہ تھے اور ان کے ایمان لانے کی شدید خواہش رکھتے تھے۔ خصوصاً آپ کے دل میں اپنے قرابت داروں کے متعلق صلہ رحمی کے جذبے کی وجہ سے یہ خواہش اور بھی زیادہ تھی۔ اس مقام پر اہل کتاب کے ان لوگوں کا ذکر آیا جو کتاب اللہ کی تلاوت سنتے ہی ایمان لے آئے، تو قدرتی طور پر آپ ﷺ کی طبیعت کا اس بات سے متاثر ہونا لازمی تھا کہ نسبتاً دور والے ایمان لانے میں بازی لے گئے اور میرے قرابت دار حتیٰ کہ عزیز چچا ابو طالب اس نعمت سے محروم رہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تسلی دی کہ اس معاملے میں آپ کی دعوت یا خیر خواہی میں کوئی کمی نہیں، بلکہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

میں کہتا ہوں : صحیح یہ ہے کہ مفسرین کی بڑی تعداد کا اتفاق ہے کہ یہ آیت نبی کریم ﷺ کے چچا ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ امام بخاری اور مسلم کی حدیث ہے۔ اس کے بارے میں گفتگو سورة براۃ میں گزر چکی ہے۔ ابو روق نے کہا : ولکن اللہ یھدی من یشآء میں اشارہ حضرت ابن عباس کی طرف ہے، یہ قتادہ کا قول ہے۔ وھو اعلم بالمھتدین مجاہد نے کہا : جس کے حق میں ہدایت کو مقدر کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : من احببت کا معنی ہے جس کی ہدایت پانے کو آپ پسند کرتے ہیں۔ جبیر بن مطعم نے کہا : وہ وحی جو نبی کریم ﷺ پر کی جاتی اس کو کسی نے نہیں سنا صرف حضرت ابوبکر صدیق نے اسے سنا کیونکہ انہوں نے حضرت جبریل امین کو یہ کہتے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبد بن حمید ومسلم والترمذی وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی الدلائل ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ جب ابوطالب کی موت قریب ہوئی تو نبی ﷺ نے ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے میرے چچا لا الا اللہ کہہ لو میں تیرے حق میں گواہی دوں قیامت کے دن تو انہوں نے کہا اگر قریش مجھے عار نہ دلاتے کہ وہ یہ کہیں گے کہ موت کے خوف نے اسے اس بات پر آمادہ کیا ہے تو میں تیری آنکھوں کو ٹھنڈا کردیتا اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ آیت اتاری آیت انک لاتہدی من احببت ولکن اللہ یہدی من یشاء وہو اعلم بالمہتدین۔ یعنی بیشک آپ جس کو پسند کریں ہدایت یاب نہیں کرسکتے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتے ہیں ہدایت یاب کرتے ہیں۔ اور اپنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّكَ [بیشک آپ ﷺ ] لَا تَهْدِيْ [ہدایت نہیں دیتے ] مَنْ [اسے جس کو ] اَحْبَبْتَ [آپ ﷺ چاہیں ] وَلٰكِنَّ اللّٰهَ [اور لیکن اللہ ] يَهْدِيْ [ہدایت دیتا ہے ] مَنْ [اسے جس کو ] يَّشَاۗءُ ۚ[وہ چاہتا ہے ] وَهُوَ [اور وہ ] اَعْلَمُ [سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] بِالْمُهْتَدِيْنَ [ہدایت پانے والوں کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آپ جسے چاہے ہدایت نہیں دے سکتے اللہ جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اول تو ہدایت کا مفہوم سمجھنا چاہیے۔ سو واضح رہے کہ لفظ ہدایت عربی میں دو معنی کے لیے آتا ہے۔ اول صحیح راہ بتادینا اور دوسرے پہنچا دینا۔ اول کو اراء ۃ الطریق اور دوسرے کو ایصال الی المطلوب کہتے ہیں۔ لفظ ہدایت قرآن مجید میں دونوں معنی میں استعمال ہوا ہے اس بات کو سمجھنے کے بعد اب یہ سمجھیں کہ رسول اللہ ﷺ کے واسطے سے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اور جنات کو حق کی راہ بتادی اور راہ دکھا دی اور چونکہ یہ سب رسول اللہ ﷺ کے توسط سے ہوا اس لیے آپ ہی سب کے ہادی اور رہبر اور راہ دکھانے والے ہیں آپ نے خوب واضح طور پر حق واضح فرما دیا، اور اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–56

بیان حکمت درتکریر موعظت ومدح مومنین اہل کتاب وپیران حق وصواب قال اللہ تعالیٰ ولقد وصلنا لہم القول لعلہم یتذکرون۔۔۔ الی۔۔۔ افلا تعقلون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اس بات کا ذکر تھا کہ اللہ نے رسول بھیج کر اور کتاب ہدایت نازل کر کے لوگوں پر حجت پوری کردی اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ ہم نے حق اور ہدایت کو خوب واضح کردیا اور مفصل اور مکرر اور سہ کرر بیان کر کے بھی لوگوں پر حجت پوری کردی ہے اور قرآن کریم کو ہم نے بتدریج نازل کیا ہے تاکہ لوگوں کو سمجھنے کا موقع ملے اور یاد رکھنے میں سہولت ہو اگر سارے قرآن کو یکبارگی نازل کردیتے تو تذکر کا فائدہ حاصل نہ ہوتا نیز گزشتہ آیات میں ان ظالموں اور نفس پرستوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ٖ 53:۔ یہ ولقد وصلنا لھم القول الخ سے متعلق ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت قریب آیاتو حضور ﷺ نے بڑی کوشش کی کہ وہ اسلام لے آئے مگر آپ کی آرزو پوری نہ ہوسکی جس سے آپ کو سخت غم لاحق ہوا اس پر یہ آیت نازل ہوئی (بخاری، مسلم، نسائی، ترمذی، احمد وغیرہم رحمہم اللہ تعالی) ۔ یعنی ہم نے اہل مکہ کی راہنمائی کے لیے مسلسل آیتیں نازل کی اور نصائح بھیجے اور آپ نے بھی دعوت و ارشاد میں کوئی قصور نہیں کیا لیکن ہدایت تو اللہ کے اختیار میں ہے، اس لیے اگر بعض مشرکین آپ کی انتہائی ناصحانہ تبلیغ اور مشفقانہ دعوت اور ان سے قلبی محبت و انس کے باوجود ایمان نہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–56

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا تھا کہ وہ ایمان کی بات قبول کرنے کی بجائے ہدایت کی بات کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں ، کبھی کہتے ہیں کہ یہ پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) جیسے معجزات کیوں نہیں لایا اور کبھی کہتے ہیں کہ آپ پر پورا قرآن یکبارگی کیوں نہیں نازل ہوا۔ اللہ نے جواباً فرمایا کہ ضدی او عنادی لوگ ہمیشہ محروم ہی رہتے ہیں ۔ اب تو یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے بات کرتے ہیں ۔ مگر جب خود کلیم اللہ معجزات اور تورات لے کر آئے تھے تو کیا اس وقت انہوں نے تسلیم کیا تھا ؟ نہیں بلکہ ان بدبختوں نے اس وقت بھی ان کو جھٹلا دیا تھا۔ آپ کے معجزات کو جادو سے تعبیر کیا ۔ اور آپ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّكَ لَا تَہْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللہَ يَہْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ۝ 0ۚ وَہُوَاَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِيْنَ۝ 56 هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–56

ترکیب : لہم وصلنا سے ای متعلق بینا القول القرآن مفعول و صلنا۔ من قبلہ ای من قبل القران پس یہ آیتنا سے متعلق ہے۔ تفسیر : اہل مکہ کا ایک یہ بھی شبہ تھا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی طرح ایک ہی بار تمام کتاب محمد ﷺ کو کیوں نہ دی گئی ؟ تھوڑا تھوڑا کیوں نازل ہوتا ہے ؟ اور نیز کیا موسیٰ ( علیہ السلام) کی کتاب کافی نہ تھی۔ پھر نئی کتاب کیوں نازل کی گئی ؟ (آج کل کے بعض ناواقف پادریوں نے بھی یہی شبہ کیا ہے) اس کا جواب دیتا ہے، ولقد وصلنا لہم القول لعلہم یتذکرون کہ ہم جو پے درپے 1 ؎ قول یعنی ہدایت کی بات قرآن مجید اور اس کی آیات یکے بعد دیگر اس لیے بھیجتے رہے کہ وہ سمجھیں ہر روز ایک نئے فائدے اور نئی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّـکَ لاَ تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ج وَھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ ۔ (القصص : 56) (اے پیغمبر ! آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہی ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی گزشتہ آیات کی تشریح میں ہم عرض کرچکے ہیں کہ یہودونصاریٰ میں سے جن مخلص لوگوں نے ناموافق حالات کے باوجود اسلام قبول کیا اور اس کی صداقت کی بلندبانگ شہادت دی۔ قرآن کریم نے ان کی تعریف و تحسین فرمائی ہے۔ اور مفسرین نے اس حوالے سے حبشہ سے آئے ہوئے وفد کی قبولیتِ اسلام کی جو تفصیل بیان کی ہے ہم نے اس کا بھی ذکر کیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ جاہلوں سے الجھنے سے پرہیز کریں۔ یہ بھی جہالت کی بدترین قسم ہے کہ انسان جاننے کے باوجود حقیقت قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہو۔ اکثر مفسرین نے اس آیت کا شان نزول بیان کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ جناب ابو طالب کی موت کا وقت قریب آیا تو نبی کریم ﷺ ان کے ہاں تشریف لے گئے۔ ان کی خدمت میں پہنچ کر فرمایا کہ چچا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھ لیں تاکہ قیامت کے دن میں اپنے رب کے حضور آپ کی سفارش کرسکوں۔ لیکن انھوں نے کلمہ پڑھنے سے انکار کردیا اور کفر کی حالت میں دنیا سے چل بسے۔ نبی کریم ﷺ بڑے دل آزوزدہ ہو کر وہاں سے اٹھے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

56 : اِنَّکَ لاَ تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ (بیشک آپ ہدایت نہیں دے سکتے) جس کو آپ پسند کریں۔ آپ اس بات کی قدرت نہیں رکھتے کہ جس کو اپنی قوم اور دیگر لوگوں میں چاہیں اسلام میں داخل کردیں۔ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ (لیکن اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے) ۔ جس میں چاہے ہدایت دینے کا فعل پیدا کر دے۔ وَہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ (وہ ہدایت والوں کو خوب جانتے ہیں) ۔ جو ہدایت کو پسند کرے اور اس کو قبول کرے اور دلائل و آیات سے نصیحت حاصل کرے۔ زجاج (رح) : نے فرمایا کہ مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے۔ کہ یہ ابوطالب کے متعلق اتریں اور اس کی وجہ یہ ہوئی کہ اس نے اپنی موت کے وقت کہا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

56۔ انک لاتھدی من احببت، جس کو ہدایت یاب کرنا آپ پسند کریں جن کی قرابت داری کی وجہ سے آپ کو محبت ہو۔ ولکن اللہ یھدی من یشاء وھواعلم بالمھتدین، ، مجاہد اور مقاتل کا بیان ہے یعنی ان لوگوں کو اللہ خوب جانتا ہے جن کے لیے ہدایت مقرر کردی گئی، یہ آیت ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی ، ان کو نبی کریم نے فرمایا کہ آپ لاالہ الا اللہ کہہ دیں تاکہ میں قیامت کے دن آپ کے لیے گواہی دے سکوں، ابوطالب نے کہا اگر قریش مجھے عار نہ دلاتے کہ کہیں خوف سے ابوطالب نے کلمہ پڑھ کر تمہاری آنکھ ٹھنڈی کردی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 54–56

54 تا 56۔ اوپر کی آیتوں میں اہل کتاب کی یہ تعریف تھی کہ وہ قرآن شریف کو بھی مانتے ہیں اور جو کتاب ان کو پہلے مل چکی ہے اس کو بھی مانتے ہیں اور برائی کو بھلائی کے ساتھ ہٹاتے ہیں اور ہماری دی روزی میں سے خرچ کرتے ہیں ایسے لوگوں کو دوہرا اجر ملی گا اب فرمایا وہ لوگ جب کوئی ناشائستہ بات سنتے ہیں تو اس سے درگزر کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے عمل اور تمہارے واسطے تمہارے عمل بس تمہیں رخصت کا سلام پہنچے ہم جاہلوں کی چال کو پسند نہیں کرتے حضرت ﷺ نے ابو طالب کے لیے کوشش کی کہ مرتے وقت تک کلمہ بڑھ لیں مگر ابوطالب نے اس کو منظور نہ کیا اس پر آیت انک لاتھدی اتری آگے ذکر ہے کہ مکہ والوں نے کہا ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 56–60

آیت 56 اللہ تبارک و تعالیٰ رسول مصطفیٰ ﷺ کو آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آپ۔۔۔ اور آپ کے علاوہ لوگ بدرجہ اولیٰ ۔۔۔ کسی کو ہدایت دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے خواہ وہ آپ کو کتنا ہی زیادہ محبوب کیوں نہ ہو، کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جو مخلوق کے اختیار میں نہیں۔ ہدایت کی توفیق اور قلب میں ایمان جاگزیں کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے ہدایت سے سرفراز کرتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت کا اہل ہے پس اسے ہدایت عطا کردیتا ہے اور کون ہدایت عطا کئے جانے کا اہل نہیں پس اسے اس کی گمراہی میں سرگرداں چھوڑ دیتا ہے۔ رہا اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (وانک لتھدی الی صراط مستقیم) (الشوریٰ :…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–88

سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

72 راہ حق و ہدایت پر ڈال دینا پیغمبر کے اختیار میں نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک آپ ۔ اے پیغمبر !۔ ہدایت نہیں دے سکتے جسکو آپ چاہیں " بلکہ یہ معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ یہ آیت کریمہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے چچا ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے حضور ﷺ کی خدمت تو بہت کی تھی اور ہمیشہ آپ ﷺ کا ساتھ بھی دیا تھا مگر آپ پر ایمان لانے کی سعادت اور توفیق ان کو نصیب نہیں ہوئی تھی۔ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے اپنی عظیم الشان ہمدردی اور شفقت کی بناء پر اس کی بہت کوشش فرمائی کہ کسی طرح آپ کے چچا کلمہ پڑھ کر اسلام کے حظیرہ قدس میں داخل ہوجائیں اور دوزخ کے عذاب سے بچ جائیں۔ چناچہ ان کی موت کے موقعہ پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–64

ہجرت، مدین میں قیام، فرعون کی طرف واپسی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے سرفرازی نبی کو بھیجنے کا مقصد ‘ نیک و بد کا فرق اور مشرکین کا انجام تشریح : کفار و مشرکین کی خصلتیں ہر زمانے اور ہر دور میں ایک سی ہی رہی ہیں۔ آج کا دور باوجود ترقی کرنے کے اور علم و فضل میں کافی ترقی کر جانے کے کفار وہی ہٹ دھرمی اور ضد رکھتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں رکھتے تھے۔ کبھی کہتے موسیٰ جیسے معجزے دکھائو کبھی کہتے موسیٰ (علیہ السلام) جیسی کتاب لائو۔ حالانکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اہل عرب کیسے ایمان لاسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور حکیم ہے اس لیے وہ نبی بھیجتا رہا تاکہ قیامت کے دن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–60

آیات 51 تا 60 اسرارو معارف اور پھر قرآن حکیم کے مسلسل اتارے جانے کی حکمت ارشاد ہوئی کہ ہم نے قرآن کریم کو بتدریج نازل فرمایا کہ لوگوں کو بار بار تازہ بتازہ کلام الہی نصیب ہوتا رہے اور مسلسل دعوت الی اللہ دی جاتی رہے نیز ہر آیت کو واقعات اور سوالات کے جواب میں نازل فرما کر یہ سہولت پیدا کردی کہ یاد رکھنے میں بھی آسانی ہو ورنہ اللہ قادر ہے تورات کی طرح ایک ہی دفعہ بھی عطا فرما دیتا۔ اور یہ محض اعتراض ہے ورنہ وہ لوگ جو اہل کتاب میں سے ایمان دار تھے اور اپنی کتاب پر ہی ایمان رکھتے تھے جب ان کے سامنے یہ آیات پڑھی گئیں تو انہوں نے فورا کہا کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ہمارے پروردگار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

5 ۔ صحیحین کی روایت ہے اور اس بارے میں تمام مفسرین (رح) کا اتفاق ہے کہ یہ آیت نبی ﷺ کے چچا ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابو طالب نے آنحضرت ﷺ کی ہمیشہ پشت پناہی کی لیکن ایمان نہ لایا۔ جب اس کا آخری وقت آیا تو آنحضرت ﷺ نے اپنی حد تک پوری کوشش فرمائی کہ وہ زبان سے توحید و رسالت کا اقرار کرلے تاکہ اس کا خاتمہ ایمان ر ہو۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی قسمت میں ایمان نہیں رکھا تھا، اس لئے اس نے ملت عبد المطلب پر جان دینے کو ترجیح دی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی لیکن اصولی طور پر اس آیت کا حکم عام ہے اور اس میں ہر وہ شخص شامل ہے جس کے متعلق آنحضرت ﷺ کی خواہش تھی کہ وہ ایمان لے آئے مگر اس نے کفر کی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 55–56

(28:55) سلم علیکم مقصود اس پورے فقرہ سے سلامت روی کا اظہار ہے یہ نہیں کہ اپنے مخالفین کو سلام کرتے رہتے ہیں ۔ یہ سلام متارکت و علیحدگی کے لئے ہے سلام متعارف مراد نہیں۔ (28:55) لانبتغی مضارع منفی جمع متکلم ابتغاء افتعال مصدر۔ بغی مادہ ہم نہیں چاہتے (چوہلوں سے الجھنا) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 56–61

لغات القرآن آیت نمبر 56 تا 61 ) ۔ لا تھدی (تو ہدایت نہیں دیتا ) ۔ احببت (تو نے چاہا۔ تو نے پسند کیا ) ۔ نتخطف (ہم اچک لئے جائیں گے ) ۔ لم نمکن (ہم نے ٹھکانا نہیں دیا ) ۔ یجبی (کھنچے آتے ہیں ) ۔ ثمرات (ثمرۃ) (پھل، پھول، سبزہ۔ سبزی ) ۔ لدنا (ہمارے پاس ) ۔ بطرت (اترائی ۔ (ناز کیا) ۔ معیشتہ (زندگی گذارنا) ۔ لم تسکن (آباد نہ ہوئے) ۔ یبعث (وہ بھیجتا ہے۔ اٹھاتا ہے) ۔ لا قیہ (اس کو پانے والا ) ۔ متعنا (ہم نے سامان دیا ) ۔ المحضرین (حاضر کئے گئے) ۔ تشریح : آیت نمبر (56 تا 61 ) ۔ ” سورة القصص کی گذشتہ آیات کی تشریح میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ملک حبش سے بیس آدمیوں کی ایک جماعت دین اسلام، نبی کریم ﷺ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ابوطالب کے ایمان لانے کا ذکر۔ (ف 1) شان نزول : مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ یہ آیت ابوطالب کے حق میں نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ نے ان سے ان کی موت کے وقت فرمایا، اے چچا کہہ دو ، لا الہ الا اللہ وہ کلمہ کہ اس کو خدا کے سامنے تمہاری بخشش کے لیے حجت پیش کرسکوں، کہا، اے میرے بھتیجے میں یہ جانتا ہوں ہوں کہ تم سچے ہو لیکن اس بات سے ڈرتا ہوں کہ لوگ کہیں گے کہ مرتے وقت اپنے قدیمی دین کو چھوڑ کر بھتیجے پر ایمان لے آیا، اس کے بعد انہوں نے یہ شعر پڑھے جس کا ترجمہ یہ ہے میں یقین سے جانتا ہوں کہ محمد ﷺ کا دین تمام جہانوں کے دینوں سے بہتر ہے اگر ملامت وبد گوئی کا اندیشہ نہ ہوتاتو میں نہایت صفائی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[31] صحیحین کی روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب کے واسطے بہت سعی کی کہ مرتے وقت کلمہ پڑھ لے مگر اس نے انکار ہی کیا اور ملت عبدالمطلب پر ہی جان دینے کو ترجیح دی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ [32] یعنی وہ نعمت ہدایت سے انہی لوگوں کو فیض یاب کرتا ہے جن میں وہ قبول ہدایت کی آمادگی پاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: اہل کتاب کے اس صفت شعار گروہ کے ساتھ ایک ایسی جماعت بھی تھی ۔ جو قرآن کی روشنی سے دلوں کی ظلمتوں کو دور کرنا چاہتی تھی ۔ اور حضور کی یہ انتہائی خواہش تھی کہ لوگ بھی اسلام کی ضیاباریوں سے دماغوں کو منور کرلیں قرآن نے کہا ۔ اور آپ ہدایت کی جانب دعوت دے سکتے ہیں اور یہ کرسکتے ہیں ۔ کہ صبح وشام انہیں ان کے اعمال بد کے نتائج سے آگاہ کرتے رہیں ۔ مگر توفیق ہدایت آپ کے بس کی بات نہیں ۔ یہ آپ کے اختیار سے باہر ہے ۔ کہ جس کو چاہیں دائرہ فلاں و فوز میں شامل کرلیں ۔ اور اس کے سینے کو حق وصداقت کے لئے کھول دیں ۔ مفسرین کی رائے ہے ۔ کہ یہ آیت عام نہیں ہے ۔ بلکہ ابوطالب سے متعلق ہے ۔ کہ ہرچند حضور نے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

56۔ آگے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد ہے ۔ اے پیغمبر آپ جس کو چاہیں اور جس کو پسند کریں اس کو ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ جس کو چاہے ہدات عطا کرتا ہے اور وہی راہ پر آنے والوں کو جانتا ہے۔ جو لوگ ایمان نہیں لاتے تھے اور کفر پر مرتے تھے ان کے قرابت داروں اور رشتہ دار مسلمانوں کو رنج ہوتا تھا اسی طرح نبی کریم ﷺ کو بھی بعض قرابت داروں کے مرنے پر سخت افسوس ہوا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہدایت و ضلالت کے مسئلے کو صاف کردیا کہ آپ کا کام صرف رہنمائی ہے ۔ آپ ان کو صحیح راستہ دکھاتے اور بتاتے ہیں لیکن منزل مقصود تک پہنچا دینا اور مطلوب تک پہنچانا یہ آپ کا کام نہیں ہے۔ اللہ جس کو چاہتا ہے۔ اس کو مطلوب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 52–56

ف 3۔ یعنی ہدایت کرنے کی قدرت تو بجز خدا کے کسی کو کیا ہوتی کسی کو اس کا علم تک بھی تو نہیں کہ کون کون ہدایت پانے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے تسلی دی جا رہی ہے اور قریش مکہ کو شرم دلائی جا رہی ہے : 56۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کی نبوت و رسالت کا سن کر دور دراز سے لوگ سفر کرکے آتے اور ایمان کی سعادت حاصل کرکے جاتے تھے اس سے نبی کریم ﷺ کے دل میں اپنی قوم اور اپنے خاندان کے لوگوں کے لئے یہ قلق پیدا ہونا ایک فطری امر تھا اس لئے ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرکے تسلی دی کہ آپ ﷺ کیوں ہلکان ہوتے ہیں آپ ﷺ کا کام تو فقط پیغام پہنچانا ہے آپ ﷺ کے اختیار میں ہدایت تو دی ہی نہیں گئی کہ جس جس کو آپ ﷺ چاہیں ہدایت دیتے چلے جائیں اور دوسری طرف قریش مکہ کو شرم دلائی جا رہی ہے کہ چشمہ ہدایت سے سیراب ہونے کے لئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The word as am hidayah (guidance) is used for several meanings. One meaning is to show the path, which does not necessarily mean that the one shown the path will reach his destination. Another meaning of hidayah is to make one reach his destination. According to first meaning of the word it is but obvious that the Holy Prophet ﷺ and all other prophets were guides, and that imparting guidance was within their control, because it was the obligation of their duty. If they did not have the control over imparting guidance, how could have they fulfilled their obligation? Therefore, the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

79 The context shows that the object of addressing this sentence to the Holy Prophet, after mentioning the affirmation of the Faith by this Christians from Habash, was to put the disbelievers of Makkah to shame, as if to say. "O unfortunate people, what wretches you are! People from far off places are coming to benefit from the fountainhead of blessings that has been made available in your own city, but you are wilfully depriving yourselves of it." But the same thing has been said like this: "O Muhammad, you wish that your clansmen and your kinsfolk; and your near and dear ones should benefit…

Read the full tafseer →