Explained with ayahs 52–55
اہل کتاب علماء
اہل کتاب کے علماء درحقیقت اللہ کے دوست تھے ان کے پاکیزہ اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں جیسے فرمان ہے جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وہ سمجھ بوجھ کر پڑھتے ہیں ان کا تو اس قرآن پر ایمان ہے۔ اور آیت میں ہے کہ بعض اہل کتاب ایسے بھی ہیں جو اللہ کو مان کر تمہاری طرف نازل شدہ کتاب اور اپنی طرف اتری ہوئی کتاب کو بھی مانتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اور جگہ ہے پہلے کے اہل کتاب ایسے بھی ہیں کہ ہمارے اس قرآن کی آیتیں سن کر سجدوں میں گرپڑتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں کہ دعا (وَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا01008) 17۔ الإسراء :108) اور…
Read the full tafseer →سورة القصص 78
اشارہ ہے اس بیہودہ بات کی طرف جو ابو جہل اور اس کے ساتھیوں نے حبشی عیسائیوں کے اس وفد سے کی تھی، جس کا ذکر اوپر حاشیہ 72 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ ، یعنی ان لوگوں کی ایک عمدہ خصلت یہ ہے کہ جب یہ کسی جاہل دشمن سے لغویات سنتے ہیں تو اس کا جواب دینے کے بجائے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا سلام لو ہم جاہل لوگوں سے الجھنا پسند نہیں کرتے۔ امام جصاص نے فرمایا کہ سلام کی دو قسمیں ہیں، ایک سلام تحیہ جو مسلمان باہم ایک دوسرے کو کرتے ہیں، دوسرا سلام مسالمت و متارکت یعنی اپنے حریف کو یہ کہہ دینا کہ ہم تمہاری لغو بات کا کوئی انتقام تم سے نہیں لیتے، یہاں سلام سے یہی دوسرے معنے مراد ہیں۔
Read the full tafseer →مخالفین سے اعراض
یہ یدرئون بالحسنۃ السیۃ کی مزید وضاحت ہے کہ یہ لوگ جب مخالفین کی بکواس سنتے ہیں تو ان سے الجھنے کے بجائے اعراض کرتے ہیں وقالوا کنا اعمالنا ولکم اعمالکم یہ ان کے اعراض کا طریقہ بیان ہوا ہے کہ جب مخالفین و معترضین ان سے الجھتے ہیں تو وہ ان سے یہ کہہ کر پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اچھا بھائی ! زیادہ بحث وجدال سے کیا فائدہ، ہم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں، آپ اپنے اعمال کے ذمہ دار ہو، ہمیں ہماری اختیار کردہ راہ پر چلنے دو ، آپ اپنی راہ پر چلو !
سلم علیکم یہ سلام، مفارقت کے مفہوم میں ہے جس طرح حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کو سلام کیا تھا۔ یہ کسی سے پیچھا چھڑانے کا ایک نہایت شائستہ…
Read the full tafseer →55-1یہاں لغو سے مراد وہ سب و شتم اور دین کے ساتھ استہزاء ہے جو مشرکین کرتے تھے۔
55-2یہ سلام، سلام تحیہ نہیں بلکہ سلام متارکہ ہے یعنی ہم تم جیسے جاہلوں سے بحث اور گفتگو کے روادار ہی نہیں، جیسے اردو میں بھی کہتے ہیں جاہلوں کو دور ہی سے سلام، ظاہر ہے سلام سے مراد ترک بول چال اور آمنا سامنا ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
32: یعنی تم سے بحث میں الجھنا نہیں چاہتے، وہاں یہ دعا کرتے ہیں کہ تمہیں اسلام کی توفیق ملے، اور اس کے نتیجے میں تمہیں سلامتی عطا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
الذین اتینھم الکتب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا نبتغی الجھلین (52 – 55)
سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ ان 70 پادریوں کے بارے میں ہے جنہیں نجاشی نے بھیجا تھا۔ جب یہ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان پر سورت یسین پڑھی۔ جب سورت ختم ہوگئی تو یہ لوگ رونے لگے اور مسلمان ہوگئے ان کے بارے میں زیر بحث آیات بھی نازل ہوئیں۔
الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون (28: 52) ” وہ لوگ جنہیں ہم نے اس سے قبل کتاب دی ہے ، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں “۔
محمد ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے ” اس کے بعد حضور اکرم ﷺ کے پاس قریبا بیس آدمی آئے۔ آپ ﷺ مکہ میں تھے۔ یہ لوگ عیسائی تھے اور انہوں نے آپ کے بارے میں سنا تھا۔ یہ لوگ…
Read the full tafseer →8 یعنی کوئی جاہل لغو بیہودہ بات کہے تو اس سے الجھتے نہیں۔ کہہ دیتے ہیں کہ بس صاحب ! تمہاری باتوں کو ہمارا دور سے سلام۔ یہ جہالت کی پوٹ تمہی رکھو ہم کو ہمارے مشغلہ میں رہنے دو ۔ تمہارا کیا تمہارے، اور ہمارا کیا ہمارے سامنے آجائے گا۔ ہم کو تم جیسے بےسمجھ لوگوں سے الجھنے کی ضرورت نہیں۔ محمد بن اسحاق نے سیرت میں لکھا ہے کہ قیام مکہ کے زمانہ میں تقریباً بیس اشخاص حبشہ سے حضور ﷺ کی خبر سن کر آئے کہ تحقیق کریں کیسے شخص ہیں۔ آپ سے بات چیت کی، اور بڑے زور سے آپ ﷺ کی تصدیق کی، جب مشرف باایمان ہو کر واپس ہونے لگے تو ابو جہل وغیرہ مشرکین نے ان پر آوازے کسے کہ ایسے احمقوں کا قافلہ آج تک کہیں نہ دیکھا…
Read the full tafseer →سَلٰمٌ عَلَیْکُمْز لَا نَبْتَغِی الْجٰہِلِیْنَ ”
یہاں اس مکالمے کی طرف اشارہ ہے جو حبشہ کے وفد کے ارکان کا مشرکین مکہ کے ساتھ ہوا تھا۔ یہ وفد حضور ﷺ سے ملاقات کے لیے مکہ آیا تھا۔ واقعہ دراصل یوں تھا کہ مکہ سے حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کرنے والے صحابہ رض کی تبلیغ سے حبشہ میں کچھ عیسائیوں نے اسلام قبول کرلیا۔ جیسے بعد میں دوسری ہجرت کے مہاجرین ‘ صحابہ کی تبلیغ سے شاہ حبشہ نجاشی بھی ایمان لے آئے تھے ‘ جو اپنی زندگی میں حضور ﷺ کی زیارت کر کے صحابیت کا درجہ تو نہ پا سکے ‘ البتہ صحابہ رض سے ملاقات کی بنا پر وہ تابعی ضرو رہیں۔ حضرت نجاشی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ حضور ﷺ نے ان کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی…
Read the full tafseer →75 ایسے مسلمانوں کی تیسری صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ لغو کاموں یا بےہودہ باتوں میں نہ صرف یہ کہ ان میں شامل نہیں ہوتے بلکہ ایسے کاموں سے کنارہ کش رہتے ہیں۔ اور اگر ایسے لوگوں سے سابقہ پڑجائے تو ان سے تعرض نہیں کرتے بلکہ سلام کہہ کر گزر جاتے ہیں جس سے ان کی مراد ایسے کاموں سے بیزاری کا اظہار ہوتا ہے۔
سیرت کی کئی کتابوں میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ ہجرت حبشہ کے بعد جب حبشہ کے لوگ اسلام اور اس کی دعوت سے متعارف ہوئے تو وہاں سے بیس آدمی، جو عیسائی تھے اس غرض کے لئے مکہ آئے کہ یہ تحقیق کریں کہ پیغمبر اسلام کیسے شخص آئے ہیں۔ جب وہ لوگ آپ سے ملے اور گفتگو شروع ہوئی تو آپ نے انھیں قرآن پڑھ کر سنایا جس سے وہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
73۔ (ہمیں ایسی صحبتوں سے تو معاف ہی رکھو) اے لانطلب مخالطتکم (بحر) (آیت) ” لنا ...... الجھلین “۔ اس پورے فقرہ سے مقصود ان کی سلامت روی کا اظہار ہے۔ یہ مقصود نہیں کہ یہ اپنے مخالفین کو سلام کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” سلم علیکم “۔ سلام متارکت و علیحدگی مقصود ہے۔ سلام متعارف مراد نہیں۔ قال الزجاج سلام متارکۃ لاسلام تحیۃ (بحر) قال ابوبکر ھذا سلام متارکۃ ولیس بتحیۃ (جصاص) ومن الناس من یظن ان ھذا یجوز علی جواز ابتداء الکافر بالسلام ولیس کذلک لما وضعنا عن ان السلام ینصرف علی معیین احدھما المسالمۃ التیھی المتارکۃ والثانی التحیۃ التیھی دعاء بالسلامۃ والامن (جصاص) (آیت) ” اللغو “۔ سے مراد ہے ایسا قول جس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : اور ہم نے لوگوں کے لئے قول یعنی قرآن کو (کھول کر بیان کیا) پیہم بھیجا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ایمان لے آئیں جن کو ہم نے اس قرآن سے پہلے کتاب عطا فرمائی وہ اس قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں یہ آیت یہود کی اس جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا، جیسا کہ عبد اللہ بن سلام وغیرہ اور ان نصاریٰ کے بارے میں جو حبشہ اور شام سے آئے تھے اور جب ان کو قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس کے ہمارے رب کی طرف سے حق ہونے پر ہمارا ایمان ہے ہم تو اس سے پہلے ہی سے مسلمان یعنی موحد ہیں یہ لوگ اپنے دونوں کتابوں پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اور دونوں پر عمل…
Read the full tafseer →واذا سمعوا اللغوا غرضوا عنہ وقالو لنا اعمالنا والکم اعمالکم سلم علیکم لا نبتعی الجھلین
اور جب وہ (مشرکوں سے) بیہودہ بات سنتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لئے تمہارے عمل تمہارے لئے (ہمارا دین ہمارے لئے تمہارا دین تمہارے لئے) تم کو سلام ‘ ہم جاہلوں (سے الجھنا) نہیں چاہتے۔
اَللَّغْوَ بیہودہ بات۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مشرکین ‘ مؤمنین اہل کتاب کو گالیاں دیتے اور کہتے تھے کہ تم مرو ‘ تم نے اپنا مذہب چھوڑ دیا۔ مؤمن ان سے منہ پھیر لیتے اور کوئی جواب نہیں دیتے تھے۔ سلام علیکم ‘ اس سے مراد سلام تحیت و دعا نہیں بلکہ سلام ترک مراد ہے۔ مطلب یہ کہ ہم گالیاں نہیں دیں گے ‘ برا…
Read the full tafseer →(55) اور جب کسی سے اپنی نسبت جھوٹی بات یعنی کفار کا طعنہ سنتے ہیں تو اس کو بھی خوبی کے ساتھ ٹال جاتے ہیں اور نرمی سے کہہ دیتے ہیں ہمارا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور ہمارا دین اسلام ہمارے سامنے ہے اور تم پر تمہارے بتوں کی پرستش اور شیطان کی پیروی اور شرک کا بوجھ ہے اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے ہم مشرکین کے طریقہ پر چلنا نہیں چاہتے۔
Read the full tafseer →وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ : یعنی جب کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَاِذَا مَرُّوْا باللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا) [ الفرقان : 72 ] ”جب بےہودہ کام کے پاس سے گزرتے ہیں تو باعزت گزر جاتے ہیں۔“
وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ : یعنی جب کوئی جاہل بےوقوفی کی کوئی حرکت کرے یا نامناسب بات کرے تو جواب میں ایسی بات یا حرکت نہیں کرتے، بلکہ کہتے ہیں، ہمارے لیے ہمارے عمل ہیں اور تمہارے لیے تمہارے عمل، تم جہالت کرو گے ہم صبر ہی کریں گے۔ مزید دیکھیے سورة شوریٰ (15) اور سبا (25، 26)۔
سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ : دوسری جگہ فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ اولئک یوتون اجرھم مرتین بما صبروا صحیح مسلم میں حضرت ابو موسیٰ اشعری سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تین قسم کے افراد ایسے ہیں جنہیں دو گنا اجر دیا جائے گا (1) اہل کتاب میں سے آدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور اس نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا تو وہ حضور ﷺ پر ایمان لایا، آپ کی اتباع کی اور آپ کی تصدیق کی۔ اس کے لئے دو اجر ہیں (2) مملوک غلام حسن نے اللہ تعالیٰ کے حق کو اور اپنے آقا کے حق کو ادا کیا اس کے لئے دو اجر ہیں (3) ایک مرد جس کی ایک لونڈی تھی۔ اس نے اسے غذا دی اور اچھی غذا دی اسے ادب سکھایا اور بہترین ادب سکھایا پھر اسے آزاد کیا اور اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابوالقاسم البغوی فی معجمہ والباوردی وابن قانع الثلاثہ فی معاجم الصحابہ والطبرانی وابن مردویہ جید سند کے ساتھ رفاعہ قرظی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ولقد وصلنا لہم القول لعلم یتذکرون سے لے کر اولئک یوتون اجرہم مرتین بما صبرو تک اور ہم ن اس کلام یعنی قرآن کو مسلسل نازل کیا تھا کہ وہ لوگ نصیحت حاصل کریں سے لے کر یہی لوگ ہیں ان کو دوگناملے گا۔ ان کے صبر کی وجہ سے یہ آیات دس افراد کے بارے میں نازل ہوئیں میں بھی ان میں سے ایک تھا۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد وصلنا قریش کے…
Read the full tafseer →وَاِذَا سَمِعُوا [اور جب وہ سنتے ہیں ] اللَّغْوَ [بے سود بات ] اَعْرَضُوْا [تو وہ اعراض کرتے ہیں ] عَنْهُ [اس سے ] وَقَالُوْا [اور کہتے ہیں ] لَنَآ [ہمارے لئے ہیں ] اَعْمَالُنَا [ہمارے اعمال ] وَلَكُمْ [اور تمہارے لئے ہیں ] اَعْمَالُكُمْ ۡ [تمہارے اعمال ] سَلٰمٌ [سلامتی ہو ] عَلَيْكُمْ ۡ [تم لوگوں پر ] لَا نَبْتَغِي [نہیں چاہتے ] الْجٰهِلِيْنَ [جاہلوں کو ]
Read the full tafseer →پانچویں آیت میں مؤمنین اہل کتاب کی ایک صفت بیان فرمائی (جو دیگر اہل ایمان کی صفات میں بھی مذکور ہے کہ) جب وہ کوئی لغویات سنتے ہیں تو وہ اس سے اعراض کرتے ہیں۔ یعنی اس طرح گزر جاتے ہیں جیسے سنا ہی نہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ بیہودہ باتوں سے پیش آتے ہیں ان سے کہتے ہیں کہ (لَنَآ اَعْمَالُنَا وَ لَکُمْ اَعْمَالُکُمْ ) (ہمارے لیے ہمارے اعمال اور تمہارے لیے تمہارے اعمال) تم لغو باتیں کیوں کرتے ہو اپنے اعمال کو دیکھو اور اپنی جان کی خیر منانے کی فکر کرو۔ عذاب میں مبتلا ہونے کا کام کر رہے ہو اور ہم سے بلا وجہ الجھتے ہو (سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ ) تم پر سلام ہو۔ یہ سلام وہ نہیں ہے جو اہل ایمان ملاقات کے وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
بیان حکمت درتکریر موعظت ومدح مومنین اہل کتاب وپیران حق وصواب
قال اللہ تعالیٰ ولقد وصلنا لہم القول لعلہم یتذکرون۔۔۔ الی۔۔۔ افلا تعقلون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اس بات کا ذکر تھا کہ اللہ نے رسول بھیج کر اور کتاب ہدایت نازل کر کے لوگوں پر حجت پوری کردی اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ ہم نے حق اور ہدایت کو خوب واضح کردیا اور مفصل اور مکرر اور سہ کرر بیان کر کے بھی لوگوں پر حجت پوری کردی ہے اور قرآن کریم کو ہم نے بتدریج نازل کیا ہے تاکہ لوگوں کو سمجھنے کا موقع ملے اور یاد رکھنے میں سہولت ہو اگر سارے قرآن کو یکبارگی نازل کردیتے تو تذکر کا فائدہ حاصل نہ ہوتا نیز گزشتہ آیات میں ان ظالموں اور نفس پرستوں…
Read the full tafseer →52:۔ ہر بری اور فضول بات یا شرک جیسا کہ امام ضحاک نے فرمایا ہے (روح) یعنی جب وہ مشرکین سے لغو، بیہودہ اور مشرکانہ باتیں سنتے ہیں تو ان سے منہ موڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں تم ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو ہم اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں اور تم اپنے اعمال کے جواب دہ ہو، تمہیں سلام ہے ہم تم ایسے نادانوں کے پاس بیٹھنا بھی پسند نہیں کرتے۔ یہ سلام متارکہ ہے نہ کہ سلام تحیہ، قال الزجاج سلام المتارکۃ لا سلام تحیۃ (بحر ج 7 ص 126)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا تھا کہ وہ ایمان کی بات قبول کرنے کی بجائے ہدایت کی بات کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں ، کبھی کہتے ہیں کہ یہ پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) جیسے معجزات کیوں نہیں لایا اور کبھی کہتے ہیں کہ آپ پر پورا قرآن یکبارگی کیوں نہیں نازل ہوا۔ اللہ نے جواباً فرمایا کہ ضدی او عنادی لوگ ہمیشہ محروم ہی رہتے ہیں ۔ اب تو یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے بات کرتے ہیں ۔ مگر جب خود کلیم اللہ معجزات اور تورات لے کر آئے تھے تو کیا اس وقت انہوں نے تسلیم کیا تھا ؟ نہیں بلکہ ان بدبختوں نے اس وقت بھی ان کو جھٹلا دیا تھا۔ آپ کے معجزات کو جادو سے تعبیر کیا ۔ اور آپ…
Read the full tafseer →وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ 0ۡسَلٰمٌ عَلَيْكُمْ 0ۡلَا نَبْتَغِي الْجٰہِلِيْنَ 55
سمع
السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا .
ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ
[ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ترکیب : لہم وصلنا سے ای متعلق بینا القول القرآن مفعول و صلنا۔ من قبلہ ای من قبل القران پس یہ آیتنا سے متعلق ہے۔
تفسیر : اہل مکہ کا ایک یہ بھی شبہ تھا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی طرح ایک ہی بار تمام کتاب محمد ﷺ کو کیوں نہ دی گئی ؟ تھوڑا تھوڑا کیوں نازل ہوتا ہے ؟ اور نیز کیا موسیٰ ( علیہ السلام) کی کتاب کافی نہ تھی۔ پھر نئی کتاب کیوں نازل کی گئی ؟ (آج کل کے بعض ناواقف پادریوں نے بھی یہی شبہ کیا ہے) اس کا جواب دیتا ہے، ولقد وصلنا لہم القول لعلہم یتذکرون کہ ہم جو پے درپے 1 ؎ قول یعنی ہدایت کی بات قرآن مجید اور اس کی آیات یکے بعد دیگر اس لیے بھیجتے رہے کہ وہ سمجھیں ہر روز ایک نئے فائدے اور نئی…
Read the full tafseer →وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْـہُ وَقَالُوْا لَنَـآ اَعْمَالُنَا وَلَـکُمْ اَعْمَالُـکُمْ ز سَلٰـمٌ عَلَیْکُمْ ز لاَ نَبْتَغِی الْجٰھِلِیْنَ ۔ (القصص : 55)
(جب یہ کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اعمال، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہتے۔ )
گزشتہ مضمون کا تسلسل
گزشتہ آیت میں عفو و درگزر ان کا خاص وصف بیان کیا گیا۔ اس آیت کریمہ میں اس کی مزید وضاحت محسوس ہوتی ہے اور یہ شاید اس لیے باردگر بیان کی جارہی ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ( رض) کو ایسی ہی صورتحال سے واسطہ تھا۔ اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حق قبول کرنے والوں کی چوتھی خوبی۔
مفسرین نے اس آیت کا شان نزول لکھتے ہوئے وضاحت فرمائی ہے کہ جب عیسائیوں کے ایک وفد نے اسلام قبول کیا تو مشرکین مکہ نے انھیں طعنہ دیا کہ تم عجب لوگ ہو کہ تمہارے پچھلے لوگوں نے تمہیں حقیقت حال جاننے کے لیے بھیجا ہے اور تم انھیں اطلاع دیے اور ان سے مشورہ کیے بغیر اپنا دین چھوڑ رہے ہو یہ تمہاری کیسی جہالت ہے اس موقعہ پر مسلمان ہونے والوں نے جو جواب دیا اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔
” اللہ “ کے نیک بندے اور نصیحت قبول کرنے والوں کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ باطل دین اور اپنی ضد پر اڑے نہیں رہتے بلکہ جوں ہی ان کے سامنے حق بات…
Read the full tafseer →55: وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ (اور جب وہ لغو بات سنتے ہیں) ۔ لغو : باطل ٗ مشرکین کی طرف سے گالم گلوچ۔ اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَقَالُوْا (تو وہ اس سے اعراض کرتے اور کہتے ہیں) ۔ ان لوگوں کو جو لغو گو ہیں۔ لَنَا اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ (ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے تم کو سلام ہو) ۔ ہماری طرف سے تم مطمئن رہو کہ ہم تمہاری لغویات کا مقابلہ اسی طرح کی لغویات سے نہیں کرسکتے۔ لَا نَبْتَغِی الْجٰہِلِیْنَ (اور نہ ہم جاہلوں کو چاہتے ہیں) یعنی جاہلوں سے میل جول اور ان کی صحبت نہیں چاہیے۔
Read the full tafseer →55۔ واذاسمعواللغو، ، اس سے مراد بےہودہ بات ہے۔ اعرضواعنہ، مشرکین مومنین اہل کتاب کو گالیاں دیتے ہیں اور کہتے تھے کہ تم مرد کہ تم نے اپنامذہب چھوڑ دیا، مومن ان سے منہ پھیرلیتے، ان کو کوئی جواب نہیں دیتے تھے، وقالوالنابل کہ اس سے سلام متارکہ مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم گالیاں نہیں دیں گے برا نہیں کہیں گے تم کو جواب نہیں دیں گے۔ لانبتغی الجاھلین، ، یعنی ہم جاہلوں کے دین کو نہیں چاہتے، جس دین پر تم ہو اس دین کو ہم پسند نہیں کرتے۔ بعض حضرات نے کہا کہ ہم جاہلوں کے ساتھ نہیں رہناچاہتے، یہ مسلمانوں کو قتال کرنے سے پہلے کا حکم تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
54 تا 56۔ اوپر کی آیتوں میں اہل کتاب کی یہ تعریف تھی کہ وہ قرآن شریف کو بھی مانتے ہیں اور جو کتاب ان کو پہلے مل چکی ہے اس کو بھی مانتے ہیں اور برائی کو بھلائی کے ساتھ ہٹاتے ہیں اور ہماری دی روزی میں سے خرچ کرتے ہیں ایسے لوگوں کو دوہرا اجر ملی گا اب فرمایا وہ لوگ جب کوئی ناشائستہ بات سنتے ہیں تو اس سے درگزر کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے عمل اور تمہارے واسطے تمہارے عمل بس تمہیں رخصت کا سلام پہنچے ہم جاہلوں کی چال کو پسند نہیں کرتے حضرت ﷺ نے ابو طالب کے لیے کوشش کی کہ مرتے وقت تک کلمہ بڑھ لیں مگر ابوطالب نے اس کو منظور نہ کیا اس پر آیت انک لاتھدی اتری آگے ذکر ہے کہ مکہ والوں نے کہا ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
(آیت 52
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کی عظمت، صداقت اور حقانیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ حقیقت کا علم رکھنے والے اہل علم ہی اس کو پہچانتے، اس پر ایمان لاتے اور اس کی حقانیت کا اقرار کرتے ہیں، چناچہ فرمایا : (آیت) ” جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی۔ “ اس سے مراد وہ اہل تورات اور اہل انجیل ہیں جنہوں نے اپنی کتاب میں تغیر و تبدل نہیں کیا۔ (ھم بہ) وہی اس قرآن اور قرآن کے لانے والے پر (یومنون) ” ایمان رکھتے ہیں۔ “ (آیت) ” اور جب ان کے سامنے اس قرآن کو پڑھا جاتا ہے “ تو اسے غور سے سنتے ہیں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے ہیں۔ (آیت) ” تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بیشک وہ ہمارے رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →70 مخالفین کے طعن وتشنیع کے جواب میں سلامتی کے بول ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ مخالفین سے کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال اور تمہارے لیے تمہارے اعمال "۔ تم لوگوں کو سلام ہے اور یہ سلام سلام متارکت کہلاتا ہے۔ یعنی تمہارا راستہ الگ ہمارا الگ۔ (المحاسن، البحر وغیرہ) ۔ اور یہ بھی ان حضرات کے مکارم اخلاق کا ایک نمونہ ہے کہ جاہلوں سے الجھنے کی بجائے سلامتی کا کلمہ کہہ کر ان سے الگ ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم نے کیا تھا کہ اپنے باپ کو پوری ہمدردی اور دلسوزی سے سمجھانے اور کلمہ حق پیش کرنے کے بعد جب دیکھا کہ وہ اپنے کفر و باطل کو ترک کرکے راہ حق و ہدایت کو قبول کرنے والا نہیں تو یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–64
ہجرت، مدین میں قیام، فرعون کی طرف واپسی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے سرفرازی
نبی کو بھیجنے کا مقصد ‘ نیک و بد کا فرق اور مشرکین کا انجام
تشریح : کفار و مشرکین کی خصلتیں ہر زمانے اور ہر دور میں ایک سی ہی رہی ہیں۔ آج کا دور باوجود ترقی کرنے کے اور علم و فضل میں کافی ترقی کر جانے کے کفار وہی ہٹ دھرمی اور ضد رکھتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں رکھتے تھے۔ کبھی کہتے موسیٰ جیسے معجزے دکھائو کبھی کہتے موسیٰ (علیہ السلام) جیسی کتاب لائو۔ حالانکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اہل عرب کیسے ایمان لاسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور حکیم ہے اس لیے وہ نبی بھیجتا رہا تاکہ قیامت کے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیات 51 تا 60
اسرارو معارف
اور پھر قرآن حکیم کے مسلسل اتارے جانے کی حکمت ارشاد ہوئی کہ ہم نے قرآن کریم کو بتدریج نازل فرمایا کہ لوگوں کو بار بار تازہ بتازہ کلام الہی نصیب ہوتا رہے اور مسلسل دعوت الی اللہ دی جاتی رہے نیز ہر آیت کو واقعات اور سوالات کے جواب میں نازل فرما کر یہ سہولت پیدا کردی کہ یاد رکھنے میں بھی آسانی ہو ورنہ اللہ قادر ہے تورات کی طرح ایک ہی دفعہ بھی عطا فرما دیتا۔ اور یہ محض اعتراض ہے ورنہ وہ لوگ جو اہل کتاب میں سے ایمان دار تھے اور اپنی کتاب پر ہی ایمان رکھتے تھے جب ان کے سامنے یہ آیات پڑھی گئیں تو انہوں نے فورا کہا کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ہمارے پروردگار…
Read the full tafseer →3 ۔ یعنی اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں اور اس کے کرنے والوں سے کوئی میل جول نہیں رکھتے۔ دیکھئے سورة فرقان 72 ۔ (قرطبی) 4 ۔ یہ محبت اور دعا کا سلام نہیں ہے بلکہ جدائی اور قطع تعلقی کا سلام نہیں ہے بلکہ جدائی اور قطع تعلقی کا سلام ہے دیکھئے فرقان :63 ۔ (قرطبی) حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : جس جاہل سے توقع نہ ہو کہ سمجھائے پر لگے گا اس سے کنارہ ہی بہتر ہے۔ (موضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
(28:55) سلم علیکم مقصود اس پورے فقرہ سے سلامت روی کا اظہار ہے یہ نہیں کہ اپنے مخالفین کو سلام کرتے رہتے ہیں ۔ یہ سلام متارکت و علیحدگی کے لئے ہے سلام متعارف مراد نہیں۔ (28:55) لانبتغی مضارع منفی جمع متکلم ابتغاء افتعال مصدر۔ بغی مادہ ہم نہیں چاہتے (چوہلوں سے الجھنا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 55 :
وصلنا (ہم نے ایک دوسرے سے ملایا) یئو تون ( وہ دیئے گئے ہیں) ‘ مرتین (مرۃ) دو مرتبہ ‘ یدرءون ( وہ دور کرتے ہیں) ‘ الحسنۃ (بھلائی ۔ خیر) السیئۃ (برائی) اللغو (بیکار۔ فضول) اعرضوا (انہوں نے منہ پھیرلیا) ‘ لانبتغی (ہم نہیں چاہتے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 55 :
قرآن کریم میں اس مضمون کو کئی مرتبہ بیان کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کو ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ اپنی دنیا اور آخرت کو بنانا اور سدھارنا ہوتا ہے وہ طرح طرح کے بہانے اور اعتراضات نہیں کرتے لیکن جو بد نصیب لوگ ہیں ان کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی بھر ایمان اور عمل صالح سے بھاگنے کے لئے بےتکی اور غیر سنجیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
(ف 1) شان نزول :
یہ آیت مومنین اہل کتاب حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے صحابہ کے حق میں نازل ہوئی اور ایک قول یہ ہے کہ یہ ان اہل انجیل کے حق میں نازل ہوئی جو حبشہ سے آکرنبی ﷺ پر ایمان لائے یہ چالیس حضرات تھے جو حضرت جعفر بن ابی طالب کے ساتھ آئے جب انہوں نے مسلمانوں کی حاجت اور تنگی معاش دیکھی تو بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ ہمارے پاس مال ہے نبی ﷺ اجازت دیں تو ہم واپس جاکر اپنے مال لے آئیں، اور ان مسلمانوں کی خدمت کریں۔ نبی ﷺ نے اجازت دی اور وہ جاکر اپنے مال لے آئے اور ان سے مسلمانوں کی خدمت کی ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ، ابن عباس نے فرمایا کہ یہ آیتیں انہیں اہل کتاب کے حق میں نازل ہوئیں جن…
Read the full tafseer →[30] یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ کچھ عیسائی حبشہ سے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی خبر سن کر مکہ آئے کہ آپ ﷺ کے بارے میں تحقیق کریں۔ آپ ﷺ سے بات چیت کی۔ آپ ﷺ نے قرآن پڑھ کر سنایا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور بڑے زور سے آپ ﷺ کی تصدیق کی۔ جب مشرف بہ ایمان ہو کر واپس جانے لگے تو ابو جہل اور دوسرے مشرکین نے ان پر آوازے کسے اور گالیاں دیں۔
Read the full tafseer →حل لغات : اللغو ۔ مخالف عقیدہ کوئی بات ۔ بیہودہ اور باطل بات
Read the full tafseer →55۔ اور وہ لوگ جب اپنی نسبت کوئی لغو اور بیہودہ بات مخالفین سے سنتے ہیں تو اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور بےتوجہی برتتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں ہمارا تو سلام ہے تم پر ہم بےسمجھ لوگوں سے الجھنا اور ان کے منہ لگنا نہیں چاہتے اور ہم کو ناسمجھ نہیں چاہئیں ۔ یعنی جب کوئی ان کو برا کہتا ہے اور بیہودہ گوئی سے پیش آتا ہے تو یہ ان لوگوں سے کہتے ہیں کہ بھائی ہمارے اعمال ہمارے واسطے ہیں اور انکا بدلہ ہم کو ہی ملنے والا ہے اور تمہارے اعمال کی جزا تم کو ملنے والی ہے اور ایسے لوگوں کی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دیتے اور صاحب سلامت کر کے الگ ہوجاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
ف 3۔ یعنی ہدایت کرنے کی قدرت تو بجز خدا کے کسی کو کیا ہوتی کسی کو اس کا علم تک بھی تو نہیں کہ کون کون ہدایت پانے والا ہے۔
Read the full tafseer →وہ لوگ بیہودہ باتوں سے ہمیشہ کنارہ کش ہی رہتے ہیں :
55۔ ان لوگوں کی چوتھی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ لوگ لغو دراصل چڑیوں اور چڑیوں کی طرح دوسرے پرندوں کی چوں چوں کی آواز کو کہتے ہیں جو بےارادہ وبغیر سوچے منہ سے نکلتی رہتی ہے اس لئے وہ ہر بیہودہ کلام اور فحش گفتگو کو کہا جاتا ہے جو بےمقصد اور خواہ مخواہ کی جائے ، لوگ جب فارخ اوقات گزارنے کے لئے مل کر بیٹھتے ہیں تو اس طرح کی فحش اور بےکار باتیں کرتے ہیں جن کا کوئی مقصد نہیں ہوتا اور وقت گزاری کے لئے بےکار کاموں میں انسان مصروف ہوجاتا ہے ، ان لوگوں کی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ لوگ بیہودہ باتوں اور بےکار اور فضول بحثوں میں مبتلا نہیں ہوتے اور…
Read the full tafseer →سَلَامٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجَاهِلِينَ (Peace be on you. We do not seek (the way of) the ignorant. - 28:55). These people have a good quality in that when they hear something stupid from an ignorant foe, they simply say salam, instead of giving a reply. They do not entangle themselves with the ignorant. Imam Jassas (رح) has said that there are two kinds of salarns. One is for salutation, as Muslims do to one another. The other type is for musalamah (adopting peaceful attitude with others) and mutarakah, (to avoid debate) which is to convey to one's adversary that he does not wish to…
Read the full tafseer →78 The reference is to the "vain talk" that Abu Jahl and his men had with the Christians from Habash, as mentioned in E.N. 72 above.
Read the full tafseer →