Explained with ayahs 52–55
اہل کتاب علماء
اہل کتاب کے علماء درحقیقت اللہ کے دوست تھے ان کے پاکیزہ اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں جیسے فرمان ہے جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وہ سمجھ بوجھ کر پڑھتے ہیں ان کا تو اس قرآن پر ایمان ہے۔ اور آیت میں ہے کہ بعض اہل کتاب ایسے بھی ہیں جو اللہ کو مان کر تمہاری طرف نازل شدہ کتاب اور اپنی طرف اتری ہوئی کتاب کو بھی مانتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اور جگہ ہے پہلے کے اہل کتاب ایسے بھی ہیں کہ ہمارے اس قرآن کی آیتیں سن کر سجدوں میں گرپڑتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں کہ دعا (وَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا01008) 17۔ الإسراء :108) اور…
Read the full tafseer →سورة القصص 74
یعنی ایک اجر اس ایمان کا جو وہ پہلے سیدنا عیسیٰ ؑ پر رکھتے تھے اور دوسرا اجر اس ایمان کا جو وہ اب نبی عربی محمد ﷺ پر لائے۔ یہی بات اس حدیث میں بیان کی گئی ہے جو بخاری و مسلم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ثلثۃ لہم اجران، رجل من اھل الکتب امن بنبیہ وامن بمحمد۔ " تین شخص ہیں جن کو دوہرا اجر ملے گا، ان میں سے ایک وہ ہے جو اہل کتاب میں سے تھا اور اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا، پھر محمد ﷺ پر ایمان لایا "۔
سورة القصص 75
یعنی انہیں یہ دوہرا اجر اس بات کا ملے گا کہ وہ قومی و نسلی اور وطنی و گروہی تعصبات سے بچ کر اصل دین حق پر ثابت قدم رہے اور نئے نبی کی آدم پر…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ ، یعنی مومنین اہل کتاب کو دو مرتبہ اجر دیا جائے گا۔ قرآن کریم میں اسی طرح کا وعدہ ازواج مطہرات کے متعلق بھی آیا ہے۔ وَمَنْ يَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّــؤْتِهَآ اَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ ، اور صحیح بخاری کی ایک حدیث میں تین شخصوں کے لئے دوہرے اجر کا ذکر فرمایا ہے ایک وہ اہل کتاب جو پہلے اپنے سابق نبی پر ایمان لایا پھر رسول اللہ ﷺ پر، دوسرا وہ شخص جو کسی کا مملوک غلام ہو اور وہ اپنے آقا کی بھی اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہو اور اللہ اور اس کے رسول کی بھی، تیسرا وہ شخص جس کی ملک میں کوئی کنیز تھی جس سے بلا نکاح صحبت اس…
Read the full tafseer →فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جو اپنی اس استقامت کے صلہ میں دہرا جر پائیں گے۔ ایک اجر تو انہیں اس بات کا ملے گا کہ ان کو دین حضرت موسیٰ کے ذریعہ سے ملا، اپنی قوم کے عام بگاڑ کے باوجود، وہ اس پر ثابت قدم رہے۔ دوسرا اس بات کا کہ جس نبی خاتم اور دین کامل کی پشین گوئی حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) نے کی تھی وہ برابر اس کے لئے چشم براہ رہے اور جب وہ آیا تو انہوں نے یوسف گم گشتہ کی طرح اس کا استقبال کیا۔ بمعا صبرو کی صفت کے حوالہ کا یہاں ایک خاص محل ہے جس کو نگاہ میں رکھیے وہ یہ کہ ان لوگوں کو اپنے سابق دین پر قائم رہنے کے لئے بھی بڑے زہرہ گداز مصائب کا مقابلہ کرنا پڑا تھا اور جب…
Read the full tafseer →54-1صبر سے مراد ہر قسم کے حالات میں انبیاء اور کتاب الہی پر ایمان اور اس پر ثابت قدمی سے قائم رہنا ہے۔ پہلی کتاب آئی تو اس پر، اس کے بعد دوسری پر ایمان رکھا۔ پہلے نبی پر ایمان لائے، اس کے بعد دوسرا نبی آگیا تو اس پر ایمان لائے۔ ان کے لئے دوہرا اجر ہے، حدیث میں بھی ان کی یہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، تین آدمیوں کے لئے دوہرا اجر ہے، ان میں ایک وہ اہل کتاب ہے جو اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا اور پھر مجھ پر ایمان لے آیا۔
54-2یعنی برائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے، بلکہ معاف کردیتے ہیں اور درگزر سے کام لیتے ہیں۔
Read the full tafseer →30: جو شخص پہلے ایک دین کو اختیار کیے ہوئے ہو، اور جسے اس بات پر فخر بھی ہو کہ وہ ایک آسمانی کتاب کی پیروی کر رہا ہے، اس کے لیے نیا دین اختیار کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، اس لیے بھی کہ اپنی پرانی عادت چھوڑنا دشوار ہے، اور اس لیے بھی کہ اس کے ہم مذہب اسے تکلیفیں پہنچاتے ہیں، لیکن ان حضرات نے ان تمام تکلیفوں پر صبر کیا، اور حق پر ثابت قدم رہے، اس لیے ان کو دہرا ثواب ملے گا۔
31: یعنی برائی کا جواب بھلائی سے دیتے ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
الذین اتینھم الکتب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا نبتغی الجھلین (52 – 55)
سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ ان 70 پادریوں کے بارے میں ہے جنہیں نجاشی نے بھیجا تھا۔ جب یہ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان پر سورت یسین پڑھی۔ جب سورت ختم ہوگئی تو یہ لوگ رونے لگے اور مسلمان ہوگئے ان کے بارے میں زیر بحث آیات بھی نازل ہوئیں۔
الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون (28: 52) ” وہ لوگ جنہیں ہم نے اس سے قبل کتاب دی ہے ، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں “۔
محمد ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے ” اس کے بعد حضور اکرم ﷺ کے پاس قریبا بیس آدمی آئے۔ آپ ﷺ مکہ میں تھے۔ یہ لوگ عیسائی تھے اور انہوں نے آپ کے بارے میں سنا تھا۔ یہ لوگ…
Read the full tafseer →5 یعنی مغرور و مستغنی ہو کر قبول حق سے گریز نہیں کیا بلکہ جس وقت جو حق پہنچا بےتکلف گردن تسلیم جھکا دی۔ (تنبیہ) شیخ اکبر نے فتوحات میں لکھا ہے کہ ان اہل کتاب کا ایمان اپنے پیغمبر پر دو مرتبہ ہوا۔ اول بالاستقلال دوبارہ نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کے ضمن میں۔ کیونکہ حضور ﷺ تمام انبیاء سابقین کے مصدق ہیں اور ان پر ایمان رکھنا ضروری قرار دیتے ہیں۔ اور حضور ﷺ پر بھی ان کا ایمان دو مرتبہ ہوا۔ ایک اب بالذات اور بالاستقلال دوسرا پہلے اپنے پیغمبر پر ایمان لانے کے ضمن میں۔ کیونکہ ہر پیغمبر حضور ﷺ کی بشارت دیتے، اور پیشگی تصدیق کرتے چلے آئے ہیں اسی لیے ان لوگوں کو اجر بھی دو مرتبہ ملے گا باقی حدیث میں جو "…
Read the full tafseer →آیت 54 اُولٰٓءِکَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَہُمْ مَّرَّتَیْنِ ”
یعنی سابقہ امت کے جو لوگ یہودی یا نصرانی اسلام قبول کریں گے وہ دہرے اجر کے مستحق قرار پائیں گے۔ اس سے پہلے وہ انجیل اور تورات کو مانتے تھے اور اب انہوں نے قرآن کو بھی تسلیم کرلیا۔
Read the full tafseer →72 ثابت قدمی سے مراد ایک تو وہ استقلال ہے جو قبول حق کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ ان کے دلوں میں اللہ کی فرمانبرداری کا جو مستقل جذبہ موجود تھا۔ اسی نے اسے اس نبی پر ایمان لانے کی ترغیب دی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ مذہب تبدیل کرنے میں اور پھر کسی دین کو ابتداًء قبول کرتے وقت ان مسلمانوں کو طرح طرح کی مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے مصائب کو بھی انہوں نے صبر و استقلال کے ساتھ برداشت کیا۔ ایسے لوگوں کے لئے دوہرا اجر ہے ایک پہلے نبی کی کتاب پر لانے کا اور ایک دوسرے نبی اور اس کی کتاب پر لانے کا۔ چناچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے تین طرح کے آدمیوں کا ذکر کیا ہے جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
73۔ (ہمیں ایسی صحبتوں سے تو معاف ہی رکھو) اے لانطلب مخالطتکم (بحر) (آیت) ” لنا ...... الجھلین “۔ اس پورے فقرہ سے مقصود ان کی سلامت روی کا اظہار ہے۔ یہ مقصود نہیں کہ یہ اپنے مخالفین کو سلام کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” سلم علیکم “۔ سلام متارکت و علیحدگی مقصود ہے۔ سلام متعارف مراد نہیں۔ قال الزجاج سلام متارکۃ لاسلام تحیۃ (بحر) قال ابوبکر ھذا سلام متارکۃ ولیس بتحیۃ (جصاص) ومن الناس من یظن ان ھذا یجوز علی جواز ابتداء الکافر بالسلام ولیس کذلک لما وضعنا عن ان السلام ینصرف علی معیین احدھما المسالمۃ التیھی المتارکۃ والثانی التحیۃ التیھی دعاء بالسلامۃ والامن (جصاص) (آیت) ” اللغو “۔ سے مراد ہے ایسا قول جس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : اور ہم نے لوگوں کے لئے قول یعنی قرآن کو (کھول کر بیان کیا) پیہم بھیجا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ایمان لے آئیں جن کو ہم نے اس قرآن سے پہلے کتاب عطا فرمائی وہ اس قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں یہ آیت یہود کی اس جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا، جیسا کہ عبد اللہ بن سلام وغیرہ اور ان نصاریٰ کے بارے میں جو حبشہ اور شام سے آئے تھے اور جب ان کو قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس کے ہمارے رب کی طرف سے حق ہونے پر ہمارا ایمان ہے ہم تو اس سے پہلے ہی سے مسلمان یعنی موحد ہیں یہ لوگ اپنے دونوں کتابوں پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اور دونوں پر عمل…
Read the full tafseer →اولئک یوتون اجرھم مرتین . ان لوگوں کو ان کا اجر دو مرتبہ دیا جائے گا (دوہرا اجر ملے گا) ۔
ایک بار پنی کتاب پر اور کتاب کی شہادت کے بموجب نزول قرآن سے پہلے قرآن پر ایمان لانے کا اور دوسری مرتبہ نزول قرآن کے بعد اس پر ایمان لانے کا۔
بما صبروا . بوجہ اس کے کہ وہ (نزول قرآن کے بعد اپنے ایمان پر) جمے رہے۔ جس طرح پہلے ایمان رکھتے تھے
اسی طرح نزول کے بعد بھی ایمان پر قائم رہے۔ برخلاف دوسرے اہل کتاب کے کہ نزول قرآن سے پہلے تو قرآن پر ان کا ایمان تھا اور کافروں کے مقابلہ میں رسول اللہ کے طفیل سے دعاء فتح کیا کرتے تھے۔ لیکن جب وہ جانا پہچانا قرآن (یا رسول) ان کے پاس آگیا تو محض حسد کی وجہ سے ماننے سے…
Read the full tafseer →(54) ایسے حضرات کو انکی پختگی کی وجہ سے دوہرا ثواب ملے گا کیوں کہ ان حضرات نے اپنی کتاب میں رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت لوگوں کے سامنے بیان کی اور پھر اس دین میں داخل ہوئے تو اس پر انکو کفار نے جو تکالیف پہنچائیں اس پر انھوں نے صبر کیا اور یہ لوگ نیک بات یعنی کلمہ ”لاالہ الا اللہ“۔ سے بری بات یعنی شرک کا توڑ کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو مال دیا ہے اس میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ : یعنی اہل کتاب میں سے جو لوگ نبی کریم ﷺ پر ایمان لائے انھیں دوہرا اجر ملے گا، کیونکہ یہ لوگ پہلے رسول پر ایمان لائے، پھر آپ ﷺ پر بھی ایمان لائے۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (ثَلَاثَۃٌ لَھُمْ أَجْرَانِ : رَجُلٌ مِنْ أَھْلِ الْکِتَابِ آمَنَ بِنَبِیِّہِ وَ آمَنَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوْکُ إِذَا أَدّٰی حَقَّ اللّٰہِ وَ حَقَّ مَوَالِیْہِ وَ رَجُلٌ کَانَتْ عِنْدَہُ أَمَۃٌ [ یَطَؤُھَا ] فَأَدَّبَھَا فَأَحْسَنَ تَأْدِیْبَھَا وَ عَلَّمَھَا فَأَحْسَنَ تَعْلِیْمَھَا ثُمَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ اولئک یوتون اجرھم مرتین بما صبروا صحیح مسلم میں حضرت ابو موسیٰ اشعری سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تین قسم کے افراد ایسے ہیں جنہیں دو گنا اجر دیا جائے گا (1) اہل کتاب میں سے آدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور اس نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا تو وہ حضور ﷺ پر ایمان لایا، آپ کی اتباع کی اور آپ کی تصدیق کی۔ اس کے لئے دو اجر ہیں (2) مملوک غلام حسن نے اللہ تعالیٰ کے حق کو اور اپنے آقا کے حق کو ادا کیا اس کے لئے دو اجر ہیں (3) ایک مرد جس کی ایک لونڈی تھی۔ اس نے اسے غذا دی اور اچھی غذا دی اسے ادب سکھایا اور بہترین ادب سکھایا پھر اسے آزاد کیا اور اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابوالقاسم البغوی فی معجمہ والباوردی وابن قانع الثلاثہ فی معاجم الصحابہ والطبرانی وابن مردویہ جید سند کے ساتھ رفاعہ قرظی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ولقد وصلنا لہم القول لعلم یتذکرون سے لے کر اولئک یوتون اجرہم مرتین بما صبرو تک اور ہم ن اس کلام یعنی قرآن کو مسلسل نازل کیا تھا کہ وہ لوگ نصیحت حاصل کریں سے لے کر یہی لوگ ہیں ان کو دوگناملے گا۔ ان کے صبر کی وجہ سے یہ آیات دس افراد کے بارے میں نازل ہوئیں میں بھی ان میں سے ایک تھا۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد وصلنا قریش کے…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ [یہ لوگ ہیں ] يُؤْتَوْنَ [جن کو دیا جائے گا ] اَجْرَهُمْ [ان کا اجر ] مَّرَّتَيْنِ [دو مرتبہ ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] صَبَرُوْا [وہ ثابت قدم رہے ] وَيَدْرَءُوْنَ [اور وہ لوگ ہٹاتے ہیں ] بِالْحَسَنَةِ [بھلائی سے ] السَّيِّئَةَ [برائی کو ] وَمِمَّا [اور اس سے جو ] رَزَقْنٰهُمْ [ہم نے دیا ان کو ] يُنْفِقُوْنَ [وہ لوگ خرچ کرتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
مؤمنین اہل کتاب کی ایک صفت بیان فرمائی کہ وہ اچھائی کے ذریعہ برائی کو دفع کرتے ہیں یعنی گناہ کے بعد نیک کام کرلیتے ہیں جن سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ نیکیوں کے ذریعہ گناہوں کا معاف ہوجانا یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ہے اور یہ اس کا بہت بڑا کرم ہے۔ سورة ہود میں فرمایا ہے (اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیّْاٰتِ ) (بلاشبہ نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں) حضرت ابوذر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تو جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرو اور برائی کے پیچھے نیکی لگا دو ۔ یہ نیکی اس برائی کو مٹا دے گی۔ اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ میل جول رکھو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 432: از ترمذی)
اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
بیان حکمت درتکریر موعظت ومدح مومنین اہل کتاب وپیران حق وصواب
قال اللہ تعالیٰ ولقد وصلنا لہم القول لعلہم یتذکرون۔۔۔ الی۔۔۔ افلا تعقلون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اس بات کا ذکر تھا کہ اللہ نے رسول بھیج کر اور کتاب ہدایت نازل کر کے لوگوں پر حجت پوری کردی اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ ہم نے حق اور ہدایت کو خوب واضح کردیا اور مفصل اور مکرر اور سہ کرر بیان کر کے بھی لوگوں پر حجت پوری کردی ہے اور قرآن کریم کو ہم نے بتدریج نازل کیا ہے تاکہ لوگوں کو سمجھنے کا موقع ملے اور یاد رکھنے میں سہولت ہو اگر سارے قرآن کو یکبارگی نازل کردیتے تو تذکر کا فائدہ حاصل نہ ہوتا نیز گزشتہ آیات میں ان ظالموں اور نفس پرستوں…
Read the full tafseer →ٖف 51:۔ ان لوگوں کو دوہرا اجر وثواب ملے گا کیونکہ پہلے وہ اپنی کتاب پر ایمان لائے اور پھر قرآن پر ایمان لائے۔ بما صبروا، اپنے دونوں ایمانوں پر قائم رہے اور دشمنوں کی ایذاؤں پر صبر کیا۔ ویدرءون بالحسنۃ السیئۃ الخ، گناہوں سے بچ کر اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں یا مشرکین کی تکلیف و ایذاء کا حلم و عفو سے جواب دیتے ہیں۔ یدفعون بالطاعۃ المعصیۃ و بالحلم الاذی (مدارک ج 3 ص 184) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا تھا کہ وہ ایمان کی بات قبول کرنے کی بجائے ہدایت کی بات کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں ، کبھی کہتے ہیں کہ یہ پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) جیسے معجزات کیوں نہیں لایا اور کبھی کہتے ہیں کہ آپ پر پورا قرآن یکبارگی کیوں نہیں نازل ہوا۔ اللہ نے جواباً فرمایا کہ ضدی او عنادی لوگ ہمیشہ محروم ہی رہتے ہیں ۔ اب تو یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے بات کرتے ہیں ۔ مگر جب خود کلیم اللہ معجزات اور تورات لے کر آئے تھے تو کیا اس وقت انہوں نے تسلیم کیا تھا ؟ نہیں بلکہ ان بدبختوں نے اس وقت بھی ان کو جھٹلا دیا تھا۔ آپ کے معجزات کو جادو سے تعبیر کیا ۔ اور آپ…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَہُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَيَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّيِّئَۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ يُنْفِقُوْنَ 54
أجر
الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72]
( ا ج ر ) الاجروالاجرۃ
کے معنی جزائے عمل کے ہیں خواہ وہ بدلہ دینوی ہو یا اخروی ۔ چناچہ فرمایا : ۔ {إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ } [هود : 29] میرا جر تو خدا کے ذمے ہے ۔
صبر
الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ترکیب : لہم وصلنا سے ای متعلق بینا القول القرآن مفعول و صلنا۔ من قبلہ ای من قبل القران پس یہ آیتنا سے متعلق ہے۔
تفسیر : اہل مکہ کا ایک یہ بھی شبہ تھا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی طرح ایک ہی بار تمام کتاب محمد ﷺ کو کیوں نہ دی گئی ؟ تھوڑا تھوڑا کیوں نازل ہوتا ہے ؟ اور نیز کیا موسیٰ ( علیہ السلام) کی کتاب کافی نہ تھی۔ پھر نئی کتاب کیوں نازل کی گئی ؟ (آج کل کے بعض ناواقف پادریوں نے بھی یہی شبہ کیا ہے) اس کا جواب دیتا ہے، ولقد وصلنا لہم القول لعلہم یتذکرون کہ ہم جو پے درپے 1 ؎ قول یعنی ہدایت کی بات قرآن مجید اور اس کی آیات یکے بعد دیگر اس لیے بھیجتے رہے کہ وہ سمجھیں ہر روز ایک نئے فائدے اور نئی…
Read the full tafseer →اُوْلٰٓئِکَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَھُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَیَدْرَئُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰـھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ (القصص : 54)
(یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کو دہرا اجر ملے گا بوجہ اس کے کہ وہ ثابت قدم رہے، وہ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ )
اہلِ کتاب میں سے ایمان لانے والوں پر اللہ تعالیٰ کے انعامات
اہلِ کتاب میں سے جن سعید روحوں کے ایمان لانے کی خبر گزشتہ آیات میں دی گئی ہے اب ان کے ایمان کی قبولیت اور اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیرمعمولی انعامات کا ذکر فرمایا جارہا ہے، لیکن ان انعامات کی تفصیل بیان کرنے کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پہلی کتب پر ایمان لانے اور عمل کرنے والے جب قرآن مجید کو آخری کتاب مانیں اور اس پر عمل کریں گے تو انھیں دوہرا صلہ دیا جائے گا۔
دین اسلام کے امتیازات میں یہ بات طرہّ امیتاز کی حیثیت رکھتی ہے کہ دین اسلام نہ صرف پہلی کتب اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کو تسلیم کرنے کا حکم دیتا ہے بلکہ جو شخص پہلے یہودی یا عیسائی تھا اب وہ نبی اکرم ﷺ کو آخری نبی تسلیم کرتے ہوئے آپ کی شریعت پر خلوص دل کے ساتھ ایمان لایا اور عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو قرآن اس کے لیے کھلے الفاظ میں اعلان کرتا ہے کہ ایسے شخص کا دوہرا صلہ ہوگا۔ کیونکہ یہ پہلی شریعت پر بھی عمل کرتا رہا اور اب قرآن کو من جانب اللہ…
Read the full tafseer →54: اُولٰٓپکَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَہُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا (ان لوگوں کو ان کا اجر دو مرتبہ دیا جائے گا اس سبب سے کہ انہوں نے صبر کیا) ۔ اس سبب کہ وہ ایمان بالتورات اور ایمان بالقرآن پر جمے رہے۔ نمبر 2۔ قرآن کے نزول سے پہلے وہ قرآن پر جو ایمان لائے تھے اس کے نزول کے بعد وہ اس پر جمے رہے۔ نمبر 3۔ اس وجہ سے کہ انہوں نے مشرکین و یہود کی ایذائوں پر صبر کیا۔ وَیَدْرَئُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ (اور وہ بھلائی سے برائی کو دفع کرتے ہیں) ۔ طاعت کے ذریعہ معصیت کو دور کرتے ہیں۔ نمبر 2۔ حلم و حوصلے کے ذریعہ ایذاء برداشت کرتے ہیں۔ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ (اور جو روزی ہم نے دی اس…
Read the full tafseer →تفسیر۔
دوہرا اجر ملنے والے افراد۔
54۔ اولئک یوتون اجرھم مرتین، ، پہلے نازل ہونے والی کتاب پر ایمان لائے اور قران پر بھی ایمان لائے۔ بماصبروا، ، اپنے دین پر ثابت قدمی کے ساتھ رہے۔ مجاہد کا قول ہے کہ یہ آیات اہل کتاب کے ان افراد کے بارے میں نازل ہوئیں جو ایمان لائے پھر ان کو اذیت دی گئی۔
حضرت ابوموسی اشعری سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، تین اشخاص وہ ہیں جن کو دہرا اجر دیاجاتا ہے ، ایک وہ شخص جس کے پاس باندی ہو تو اس کی تادیب کرے اور اچھی تادیب سکھائے پھر اس کو آزاد کرکے اس کی شادی کروادے۔
دوسرا وہ شخص جو اہل کتاب میں ہو، وہ اپنے نبی کی کتاب پر بھی ایمان لایاہو، اور پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
54 تا 56۔ اوپر کی آیتوں میں اہل کتاب کی یہ تعریف تھی کہ وہ قرآن شریف کو بھی مانتے ہیں اور جو کتاب ان کو پہلے مل چکی ہے اس کو بھی مانتے ہیں اور برائی کو بھلائی کے ساتھ ہٹاتے ہیں اور ہماری دی روزی میں سے خرچ کرتے ہیں ایسے لوگوں کو دوہرا اجر ملی گا اب فرمایا وہ لوگ جب کوئی ناشائستہ بات سنتے ہیں تو اس سے درگزر کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے عمل اور تمہارے واسطے تمہارے عمل بس تمہیں رخصت کا سلام پہنچے ہم جاہلوں کی چال کو پسند نہیں کرتے حضرت ﷺ نے ابو طالب کے لیے کوشش کی کہ مرتے وقت تک کلمہ بڑھ لیں مگر ابوطالب نے اس کو منظور نہ کیا اس پر آیت انک لاتھدی اتری آگے ذکر ہے کہ مکہ والوں نے کہا ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
(آیت 52
اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کی عظمت، صداقت اور حقانیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ حقیقت کا علم رکھنے والے اہل علم ہی اس کو پہچانتے، اس پر ایمان لاتے اور اس کی حقانیت کا اقرار کرتے ہیں، چناچہ فرمایا : (آیت) ” جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی۔ “ اس سے مراد وہ اہل تورات اور اہل انجیل ہیں جنہوں نے اپنی کتاب میں تغیر و تبدل نہیں کیا۔ (ھم بہ) وہی اس قرآن اور قرآن کے لانے والے پر (یومنون) ” ایمان رکھتے ہیں۔ “ (آیت) ” اور جب ان کے سامنے اس قرآن کو پڑھا جاتا ہے “ تو اسے غور سے سنتے ہیں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے ہیں۔ (آیت) ” تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بیشک وہ ہمارے رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–54
شعراء کی دو اقسام
قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…
Read the full tafseer →68 ایسے لوگوں کو دوہرے اجر سے نوازا جائے گا : ایک اجر اس پر کہ وہ اپنے پیغمبر اور اپنی کتاب پر ایمان لائے۔ اور دوسرا اس پر کہ وہ نبی آخر الزمان اور ان کی کتاب یعنی قرآن مجید پر بھی صدق دل سے ایمان لے آئے اور اپنے اس ایمان پر سچے دل سے قائم اور ثابت قدم رہے۔ اور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات و مصائب کو انہوں نے استقلال و استقامت سے برداشت کیا اور اپنے سینوں اور اپنے بواطن کو نور ایمان و یقین سے منور و معمور رکھا اور سعادت دارین سے سرفرازی و بہرہ مندی کا سامان کیا۔ سو ایمان و عقیدہ اور ثبات و استقامت ہی شاہ کلید ہے صلاح و فلاح کی۔ اور صحیح بخاری و مسلم کی روایات میں فرمایا گیا کہ تین شخصوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–64
ہجرت، مدین میں قیام، فرعون کی طرف واپسی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے سرفرازی
نبی کو بھیجنے کا مقصد ‘ نیک و بد کا فرق اور مشرکین کا انجام
تشریح : کفار و مشرکین کی خصلتیں ہر زمانے اور ہر دور میں ایک سی ہی رہی ہیں۔ آج کا دور باوجود ترقی کرنے کے اور علم و فضل میں کافی ترقی کر جانے کے کفار وہی ہٹ دھرمی اور ضد رکھتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں رکھتے تھے۔ کبھی کہتے موسیٰ جیسے معجزے دکھائو کبھی کہتے موسیٰ (علیہ السلام) جیسی کتاب لائو۔ حالانکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اہل عرب کیسے ایمان لاسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور حکیم ہے اس لیے وہ نبی بھیجتا رہا تاکہ قیامت کے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیات 51 تا 60
اسرارو معارف
اور پھر قرآن حکیم کے مسلسل اتارے جانے کی حکمت ارشاد ہوئی کہ ہم نے قرآن کریم کو بتدریج نازل فرمایا کہ لوگوں کو بار بار تازہ بتازہ کلام الہی نصیب ہوتا رہے اور مسلسل دعوت الی اللہ دی جاتی رہے نیز ہر آیت کو واقعات اور سوالات کے جواب میں نازل فرما کر یہ سہولت پیدا کردی کہ یاد رکھنے میں بھی آسانی ہو ورنہ اللہ قادر ہے تورات کی طرح ایک ہی دفعہ بھی عطا فرما دیتا۔ اور یہ محض اعتراض ہے ورنہ وہ لوگ جو اہل کتاب میں سے ایمان دار تھے اور اپنی کتاب پر ہی ایمان رکھتے تھے جب ان کے سامنے یہ آیات پڑھی گئیں تو انہوں نے فورا کہا کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ہمارے پروردگار…
Read the full tafseer →10 ۔ کیونکہ وہ پہلی کتابوں کو بھی حق سمجھ کر مانتے رہے اور جب قرآن اترا اور انہیں اس کی حقانیت معلوم ہوئی تو اس پر ایمان لے آئے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رح) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : تین شخص ایسے ہیں جنہیں دوہرا اجر دیا جائے گا۔ ان میں سے ایک اہل کتاب کا وہ فرد ہے جو پہلی اور آخری دونوں کتابوں پر ایمان لایا۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)
1 ۔ یعنی ان سے کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو اس کے بعد کوئی نیک کام کرتے ہیں جس سے وہ گناہ مٹ جاتا ہے۔ یا ان کے مکارم اخلاق کی تعریف ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے ساتھ برائی سے پیش آتا ہے تو وہ اس کا جواب بھلائی سے دیتے ہیں۔ (دیکھئے سورة رعد آیت 22) 2 ۔ یعنی جہاں شریعت نے…
Read the full tafseer →(28:54) یؤتون مضارع مجہول جمع مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر وہ دئیے جائیں گے۔ ان کو دیا جائے گا۔ اتی مادہ۔
مرتین۔ دو مرتبہ ای مرۃ علی ایمانہم بکتابھم ومرۃ علی ایمانہم بالقران ایک اجر ان کی اپنی کتاب پر ایمان لانے کا اور دوسرا اجر قرآن پر ایمان لانیکا۔
بما میں ب سببیہ ہے بما صبروا بوجہ اس امر کے کہ انہوں نے صبر کیا۔ بہ سبب ان کے صبر کرنے کے۔ یعنی بسبب اس صبر و ثابت قدمی کے جو انہوں نے توراۃ و قرآن پر ایمان رکھنے میں۔ یا قرآن پر اس کے نزول سے قبل و نزول کے بعد ایمان رکھنے میں یا مشرکین اور ان کے ہم مذہب اہل کتاب کی ایذاء دہی پر دکھائی۔
یدرء ون۔ مضارع جمع مذکر غائب درء کے معنی (نیزہ وغیرہ کے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 55 :
وصلنا (ہم نے ایک دوسرے سے ملایا) یئو تون ( وہ دیئے گئے ہیں) ‘ مرتین (مرۃ) دو مرتبہ ‘ یدرءون ( وہ دور کرتے ہیں) ‘ الحسنۃ (بھلائی ۔ خیر) السیئۃ (برائی) اللغو (بیکار۔ فضول) اعرضوا (انہوں نے منہ پھیرلیا) ‘ لانبتغی (ہم نہیں چاہتے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 55 :
قرآن کریم میں اس مضمون کو کئی مرتبہ بیان کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کو ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ اپنی دنیا اور آخرت کو بنانا اور سدھارنا ہوتا ہے وہ طرح طرح کے بہانے اور اعتراضات نہیں کرتے لیکن جو بد نصیب لوگ ہیں ان کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی بھر ایمان اور عمل صالح سے بھاگنے کے لئے بےتکی اور غیر سنجیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
(ف 1) شان نزول :
یہ آیت مومنین اہل کتاب حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے صحابہ کے حق میں نازل ہوئی اور ایک قول یہ ہے کہ یہ ان اہل انجیل کے حق میں نازل ہوئی جو حبشہ سے آکرنبی ﷺ پر ایمان لائے یہ چالیس حضرات تھے جو حضرت جعفر بن ابی طالب کے ساتھ آئے جب انہوں نے مسلمانوں کی حاجت اور تنگی معاش دیکھی تو بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ ہمارے پاس مال ہے نبی ﷺ اجازت دیں تو ہم واپس جاکر اپنے مال لے آئیں، اور ان مسلمانوں کی خدمت کریں۔ نبی ﷺ نے اجازت دی اور وہ جاکر اپنے مال لے آئے اور ان سے مسلمانوں کی خدمت کی ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ، ابن عباس نے فرمایا کہ یہ آیتیں انہیں اہل کتاب کے حق میں نازل ہوئیں جن…
Read the full tafseer →[28] ایک اجر کتب سابقہ پر ایمان لانے کا اور دوسرا اجر قرآن پر ایمان لانے کا۔
[29] یعنی کبھی ان سے برا کام ہوجائے تو اس کا تدارک بھلائی سے کردیتے ہیں، یا یہ مطلب ہے کہ کوئی دوسرا شخص ان کے ساتھ برائی سے پیش آئے تو یہ اس کے جواب میں شرافت سے کام لے کر بھلائی اور احسان کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
اہل کتاب میں سے سعادت مند گروہ
1: ان آیات میں اہل کتاب میں سے اس طبقہ کی تعریف کی ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے توفیق ہدایت سے بہرہ ور کیا ہے ارشاد ہے ۔ کہ ان لوگوں کے قرآن کو تسلیم کیا ۔ اور کہا ۔ کہ ہم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں ۔ یقینا یہ پیغام رشدوہدایت ہے ۔ حق اور سچائی ہے ۔ اور ہم تو اس کو تورات کی روشنی میں پہلے سے تسلیم کرتے تھے فرمایا ۔ ان لوگوں کو قیامت کے دن دوہرا اجر دیا جائے گا ۔ کہ انہوں نے تورات کو بھی حرز جان بنایا ۔ اور اب قرآن کو بھی مانتے ہیں ۔ ان لوگوں نے ایمان کے سلسلہ میں انتہائی صبر اور بھلائی سے کام لیا ہے ان کی عادت ہے کہ اسلام کرنے کے بعد مخالفین کی تکلیف وہی اور…
Read the full tafseer →54۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو ان کی پختگی اور ثابت قدمی کی وجہ سے دوہرا اجر وثواب دیا جائیگا اور وہ لوگ بھلائی اور نیکی کے ساتھ برائی اور لوگوں کی ایذا رسانی کو دفع کرتے ہیں اور جو ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ بھی کرتے ہیں یعنی چونکہ یہ لوگ دو مرتبہ ایمان لائے ہیں ان کا ثواب بھی دوہرا ہوگا ایک اپنی کتاب اور اس کی پیشین گوئیوں پر ایمان لانا پھر جب اس کا مصداق آیا تو اس پر ایمان لانا اس پر دوہرا ثواب بھی عطا ہوگا ۔ یہی ثابت قدمی اور پختگی ہے کفار مکہ بھی ان لوگوں کو برا کہتے تھے اور اہل کتاب بھی ان کی ہجو کرتے تھے اور طعن وتشنیع سے پیش آتے تھے مگر یہ لوگ صبر کرتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
ف 3۔ یعنی ہدایت کرنے کی قدرت تو بجز خدا کے کسی کو کیا ہوتی کسی کو اس کا علم تک بھی تو نہیں کہ کون کون ہدایت پانے والا ہے۔
Read the full tafseer →بلاشبہ یہ لوگ ہیں جو دوہرے اجر کے مستحق ٹھہرے :
54۔ وہ لوگ جو دوہرے اجر کے مستحق ہیں ؟ ایک اجر تو ان کو اس کا ملے گا کہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکار تھے اور اس سچائی کا سچے دل سے اقرار کرتے تھے اور ہر لحاظ سے وہ دین اسلام کے پابند تھے پھر جب نبی اعظم وآخر ﷺ تشریف لائے اور ان کی بعثت کا اعلان ہوا تو انہوں نے بغیر چون وچرا اپنے اس دین اسلام پر قائم رہنے کے باعث آپ کی نبوت و رسالت کا اقرار کرلیا اور وہ مسلم کے مسلم ہی رہے چونکہ وہ اپنی قوم کے عام بگاڑ کرے باوجود ثابت قدم رہے اس لئے وہ عنداللہ دوہرے اجر کے مستحق ٹھہرے اور بلاشبہ اس معاملہ میں ان کو دوسرے مسلمانوں پر فضیلت دی گئی جو کفر سے…
Read the full tafseer →أُولَـٰئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ (Such people will be given their reward twice - 28:54). That is, the believers who are also people of the book will be rewarded twice. A similar promise is made for the wives of the Holy Prophet ، ﷺ وَمَن يَقْنُتْ مِنكُنَّ لِلَّـهِ وَرَسُولِهِ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَا أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ (And whoever from among you stands in obedience to Allah and His messenger and does righteous deeds, We will give her, her reward twice. - 33:31). In a hadith of Sahih a1 Bukhari three types of persons are mentioned for double reward One, those people…
Read the full tafseer →74 That is, one reward for affirming faith in the Prophet Jesus (Allah's peace be upon him) and the second for affirming faith in Muhammad (may Allah's peace be upon him). The same thing has been expressed in the Hadith which Bukhari and Muslim have related on the authority of Hadrat Abu Musa Ash`ari. He says that the Holy Prophet said: "One of the three persons who will get a double reward is he who belonged to the people of the Book, had full faith in his Prophet and then affirmed faith in Muhammad (may Allah's peace be upon him)."
75 That is, "They will get a double reward for the reason…
Read the full tafseer →