Al-Qasas 28:53

Al-Qasas · from ayah 53

28:53

وَاِذَا یُتْلٰی عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ ۟وَاِذَا يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنۡ قَبۡلِهٖ مُسۡلِمِيۡنَ

اور جب (قرآن) اُن کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بیشک وہ ہمارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے اور ہم تو اس سے پہلے کے حکمبردار ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when it is recited to them, they say, "We have believed in it; indeed, it is the truth from our Lord. Indeed we were, [even] before it, Muslims [submitting to Allah]."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 6 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:53

اور جب یہ اُن کو سُنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ "ہم اِس پر ایمان لائے، یہ واقعی حق ہے ہمارے رب کی طرف سے، ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب (قرآن) اُن کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بیشک وہ ہمارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے اور ہم تو اس سے پہلے کے حکمبردار ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب اس کی آیتیں ان کے پاس پڑھی جاتی ہیں تو وه کہہ دیتے ہیں کہ اس کے ہمارے رب کی طرف سے حق ہونے پر ہمارا ایمان ہے ہم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب وہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ : ہم اس پر ایمان لائے، یقینا یہ برحق کلام ہے جو ہمارے پروردگار کی طرف سے آیا ہے۔ ہم تو اس سے پہلے بھی اسے مانتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان پر یہ آیتیں پڑھی جاتی ہیں کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، بیشک یہی حق ہے ہمارے رب کے پا س سے ہم اس سے پہلے ہی گردن رکھ چکے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ان پر (قرآن) پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اس پر ایمان لائے بیشک یہ ہمارے رب کی جانب سے حق ہے، حقیقت میں تو ہم اس سے پہلے ہی مسلمان (یعنی فرمانبردار) ہوچکے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، یقینا یہی ہمارے رب کی طرف سے حق ہے، بیشک ہم اس سے پہلے فرماں بردار تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب انھیں پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں : ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ یہ (قرآن) ہمارے پروردگار کی طرف سے سچی کتاب ہے، ہم تو اس سے پہلے (بھی اللہ کے سچے) فرمانبردار تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب وہ ان کو سنائی جاتی ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، بیشک یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے، ہم اس کے آنے سے پہلے سے اس کو ماننے والے رہے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب یہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے یہ تو قطعی طور پر حق ہے ہمارے رب کی طرف ہم تو اسے پہلے ہی مانتے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب یہ ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے بیشک یہ حق ہے ہمارے پروردگار کی طرف سے اور ہم تو اس سے پہلے بھی (اسے) مانتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب یہ (قرآن) انہیں پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے یقیناً یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے ہم تو اس سے پہلے ہی مسلم تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب قرآن ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بیشک وہ ہمارے رب کی طرف سے برحق ہے اور ہم تو اس سے پہلے کے فرمانبردار ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When it is recited to them they say: "We believe in it for it is the Truth from our Lord. Indeed we were already Muslims."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And when this (Qur‘an) is recited to them, they say, :We believe in it. It is the truth from our Lord, and we are the ones who had submitted (to it) even before it (was revealed).

— Muhammad Taqi Usmani

And when this (Qur‘an) is recited to them, they say, :We believe in it. It is the truth from our Lord, and we are the ones who had submitted (to it) even before it (was revealed).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when it is recited to them, they say: "We believe in it. Verily, it is the truth from our Lord. Indeed even before it we have been from Muslims."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when it is recited unto them, they say: We believe in it. Lo! it is the Truth from our Lord. Lo! even before it we were of those who surrender (unto Him).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when it is recited to them, they say, "We have believed in it; indeed, it is the truth from our Lord. Indeed we were, [even] before it, Muslims [submitting to Allah]."

— Saheeh International

When it is recited to them, they say, "We believe in it. It is the Truth from our Lord. We were Muslims before it was revealed".

— Muhammad Sarwar

And when it is recited to them they say: We believe in it surely it is the truth from our Lord; surely we were submitters before this.

— Muhammad Habib Shakir

And when it is rehearsed unto them they say: we believe therein: verily it is truth from our Lord: verily we have been even before it of those who submit themselves.

— Abdul Majid Daryabadi

And when it is recited to them, they say: "We believe therein, for it is the Truth from our Lord: indeed we have been Muslims (bowing to Allah's Will) from before this.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 52–55

اہل کتاب علماء اہل کتاب کے علماء درحقیقت اللہ کے دوست تھے ان کے پاکیزہ اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں جیسے فرمان ہے جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وہ سمجھ بوجھ کر پڑھتے ہیں ان کا تو اس قرآن پر ایمان ہے۔ اور آیت میں ہے کہ بعض اہل کتاب ایسے بھی ہیں جو اللہ کو مان کر تمہاری طرف نازل شدہ کتاب اور اپنی طرف اتری ہوئی کتاب کو بھی مانتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اور جگہ ہے پہلے کے اہل کتاب ایسے بھی ہیں کہ ہمارے اس قرآن کی آیتیں سن کر سجدوں میں گرپڑتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں کہ دعا (وَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا01008) 17۔ الإسراء :108) اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القصص 73 یعنی اس سے پہلے بھی ہم انبیاء اور کتب آسمانی کے ماننے والے تھے، اس لیے اسلام کے سوا ہمارا کوئی اور دین نہ تھا، اور اب جو نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب لے کر آیا ہے اسے بھی ہم نے مان لیا ہے، لہذا درحقیقت ہمارے دین میں کوئٰ تبدیلی نہیں ہوئی ہے بلکہ جیسے ہم پہلے مسلمان تھے ویسے ہی اب بھی مسلمان ہیں۔ یہ قول اس بات کی صاف صراحت کردیتا ہے کہ اسلام صرف اس دین کا نام نہیں ہے جسے محمد ﷺ لے کر آئے ہیں، اور " مسلم " کی اصطلاح کا اطلاق محض حضور کے پیرو وں تک محدود نہیں ہے، بلکہ ہمیشہ سے تمام انبیاء کا دین یہی اسلام تھا اور ہر زمانہ میں ان سب کے پیرو مسلمان ہی تھے۔ یہ مسلمان اگر کبھی کافر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لفظ مسلمین امت محمدیہ کا مخصوص لقب ہے یا تمام امتوں کے لئے عام ہے اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ ، یعنی ان حضرات اہل کتاب نے کہا کہ ہم تو قرآن کے نازل ہونے سے پہلے ہی مسلمان تھے یہاں لفظ مسلم اگر اپنے لغوی معنے میں لیا جائے یعنی مطیع و فرمانبردار تو بات صاف ہے کہ ان کو جو یقین قرآن اور نبی آخر الزماں پر اپنی کتابوں کی وجہ سے حاصل تھا اس یقین کو لفظ اسلام اور مسلمین سے تعبیر فرمایا کہ ہم تو پہلے ہی سے اس کو مانتے تھے اور اگر لفظ مسلمین اس جگہ اس معنے میں لیا جائے جس کے لحاظ سے امت محمدیہ کا لقب مسلمین ہے تو اس سے یہ ثابت ہوگا کہ اسلام اور مسلمین کا لفظ صرف امت محمدیہ کے لئے مخصوص…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 52–53

آیت 53-52 صالحین اہل کتاب کے …کی تحسین اتینھما الکتب سے صالحین اہل کتاب مراد ہیں۔ ان کے لئے معروف کے صیغہ کا استعمال بھی جیسا کہ اس کے محل میں ہم وضاحت کرچکے ہیں، اس بات کا قرینہ ہے اور قرآن کے باب میں ان کا رویہ بھی جو یہاں مذکور ہوا ہے۔ اس پر شاہد ہے۔ یہ قرآن کے حق میں ایک سند کی طرف توجہ دلائی گی ہے کہ اگر لاخیرے دنا قدرے قسم کے لوگ اس قرآن سے بدک رہے ہیں تو اس کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔ آخر صالحین اہل کتاب بھی تو وہیں جو اس نعمت کی قدر کر رہے ہیں اور آگے بڑھ کر اس پر ایمان لا رہے ہیں ! ان کا حال تو یہ ہے کہ جب ان کو یہ کتاب سنائی جاتی ہے تو وہ پکار اٹھتے ہیں کہ بیشک یہی حق ہے ہمارے رب کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

53-1یہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے جسے قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر دور میں اللہ کے پیغمبروں نے جس دین کی دعوت دی، وہ اسلام ہی تھا اور ان نبیوں کی دعوت پر ایمان لانے والے مسلمان ہی کہلاتے تھے۔ یہود یا نصاری وغیرہ کی اصطلاحیں لوگوں کی اپنی خود ساختہ ہیں جو بعد میں ایجاد ہوئیں۔ اسی اعتبار سے نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے والے اہل کتاب (یہود یا عیسائیوں) نے کہا کہ ہم تو پہلے سے ہی مسلمان چلے آ رہے ہیں۔ یعنی سابقہ انبیاء کے پیروکار اور ان پر ایمان رکھنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 52–53

29: یہ آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی سچائی کی ایک اور دلیل ہے اور وہ یہ کہ جن لوگوں کو پہلے آسمانی کتابیں دی جا چکی ہیں، یعنی یہودی اور عیسائی ان میں سے جو لوگ حق کے طالب تھے، وہ اس پر ایمان لے آئے ہیں، اور انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری اور قرآن کریم کے نزول کی بشارت پچھلی کتابوں میں موجود ہے، اس لیے وہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے ہی آپ کو اور قرآن کریم کو مانتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 52–55

الذین اتینھم الکتب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا نبتغی الجھلین (52 – 55) سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ ان 70 پادریوں کے بارے میں ہے جنہیں نجاشی نے بھیجا تھا۔ جب یہ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے ان پر سورت یسین پڑھی۔ جب سورت ختم ہوگئی تو یہ لوگ رونے لگے اور مسلمان ہوگئے ان کے بارے میں زیر بحث آیات بھی نازل ہوئیں۔ الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون (28: 52) ” وہ لوگ جنہیں ہم نے اس سے قبل کتاب دی ہے ، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں “۔ محمد ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے ” اس کے بعد حضور اکرم ﷺ کے پاس قریبا بیس آدمی آئے۔ آپ ﷺ مکہ میں تھے۔ یہ لوگ عیسائی تھے اور انہوں نے آپ کے بارے میں سنا تھا۔ یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 52–53

4 یعنی ان جاہل مشرکین کا حال تو یہ ہے کہ نہ اگلی کتابوں کو مانیں نہ پچھلی کو، اور ان کے بالمقابل انصاف پسند اہل کتاب کو دیکھو کہ وہ دونوں کو تسلیم کرتے جاتے ہیں پہلے تورات و انجیل پر یقین رکھتے تھے۔ جب قرآن پاک آیا تو بول اٹھے کہ بلاشبہ یہ کتاب برحق ہے، ہمارے رب کی اتاری ہوئی، ہم اس پر اپنے یقین و اعتقاد کا اعلان کرتے ہیں، ہم تو پہلے بھی اللہ کی باتوں کو مانتے تھے آج بھی قبول کرتے ہیں۔ فی الحقیقت ہم آج سے مسلمان نہیں بہت پہلے سے مسلمان ہیں۔ کیونکہ کتب سابقہ پر ہمارا ایمان تھا جن میں پیغمبر آخرالزمان اور قرآن کریم کے متعلق صاف بشارات موجود تھیں۔ لہذا ان پیشین گوئیوں پر بھی ہمارا پہلے سے اجمالی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلِہٖ مُسْلِمِیْنَ ” یعنی اس سے پہلے بھی ہم انبیاء و رسل علیہ السلام اور آسمانی کتب کے ماننے والے تھے اور اب محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کتاب لے کر آئے ہیں تو اس کو بھی ہم نے مان لیا ہے۔ لہٰذا ہمارے دین میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ ہم پہلے بھی مسلمان تھے اور اب بھی مسلمان ہیں۔ تورات اور انجیل کی پیشین گوئیوں کی بنا پر ہم پہلے ہی تسلیم کرچکے تھے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور یہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

71 اس لئے کہ تورات اور قرآن کی بنیادی تعلیمات آپس میں ملتی جلتی ہیں۔ اور جن لوگوں کے دلوں میں تعصب نہ ہو نہ ہی ان کے ذاتی مفادات قبول حق کی راہ میں ان کے آڑے آئیں وہ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ یہ قرآن بھی اللہ کی طرف ہی نازل شدہ کتاب ہے۔ پھر اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اور حقیقت تو یہ کہ وہ پہلے ہی مسلمان تھے۔ اور اب بھی مسلمان ہی رہے۔ کیونکہ اسلام تو دل و جان سے اللہ کی فرمانبرداری کا نام ہے اور وہ ان میں پہلے ہی موجود تھی قرآن میں اس حقیقت کی متعدد مقامات پر صراحت کردی گئی ہے کہ اللہ کے نزدیک قابل قبول دین اسلام یعنی دل و جان سے اللہ کی فرمانبرداری ہی ہے۔ رہا مسئلہ کسی دین کو اس کے پیغمبر کے نام سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

72۔ (اپنی کتابوں کی بشارتوں کی بنا پر۔ اور اب بعد نزول اپنے اس ایمان کی تجدید کرتے ہیں) (آیت) ” مسلمین “ کے لفظ پر حیرت نہ کی جائے ہر وہ شخص جو توحید وسلسلہ وحی کا قائل ہو، مسلم کہا جاسکتا ہے۔ الاسلام صفۃ کل موحد مصدق بالوحی (بحر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–60

آیت نمبر 51 تا 60 ترجمہ : اور ہم نے لوگوں کے لئے قول یعنی قرآن کو (کھول کر بیان کیا) پیہم بھیجا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ایمان لے آئیں جن کو ہم نے اس قرآن سے پہلے کتاب عطا فرمائی وہ اس قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں یہ آیت یہود کی اس جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا، جیسا کہ عبد اللہ بن سلام وغیرہ اور ان نصاریٰ کے بارے میں جو حبشہ اور شام سے آئے تھے اور جب ان کو قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس کے ہمارے رب کی طرف سے حق ہونے پر ہمارا ایمان ہے ہم تو اس سے پہلے ہی سے مسلمان یعنی موحد ہیں یہ لوگ اپنے دونوں کتابوں پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اور دونوں پر عمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا یتلی علیھم قالو امنا بہ انہ الحق من ربنا انا کنا من قبلہ مسلمین . اور جب (قرآن) ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے بلاشبہ یہ ہی سچا ہے ہمارے رب کی طرف سے (اترا ہے) ہم تو اس سے پہلے ہی مسلم (اطاعت گزار) تھے۔ ہم اس پر ایمان لائے یعنی اس بات پر ایمان لائے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ مُسْلِمِیْنَ یعنی اقرار توحید میں مخلص تھے ‘ محمد ﷺ کے نبی ہونے پر ایمان رکھتے تھے۔ پہلے سے رسول اللہ کی نبوت پر ایمان رکھنے کی یہ وجہ تھی کہ حضرت عیسیٰ نے رسول اللہ کی بشارت دے دی تھی اور فرما دیا تھا مُبْشِّرًا بِّرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِیْ اسْمُہٗ اَحْمَدُ اور رسول اللہ کا ذکر توریت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(53) اور جب ان حضرات کے سامنے قرآن کریم رسول اکرم ﷺ کے اوصاف وصفات کے ساتھ پڑھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے بیشک یہ حق ہے اور ہم تو قرآن حکیم کے آنے سے پہلے ہی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کو مانتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖٓ : یعنی جب ان کے سامنے قرآن کی تلاوت ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں، ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ : ”إِنَّ“ علت بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے، مطلب یہ کہ ہم اس پر ایمان لے آئے، کیونکہ یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے۔ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ : یہ بھی ایمان لانے کی ایک علت ہے، یعنی ہم سنتے ہی اس پر اس لیے ایمان لے آئے کہ ہم اس سے پہلے ہی مسلم تھے۔ تورات و انجیل کی بنیادی تعلیم وہی تھی جو قرآن کی ہے، جب ہم نے دیکھا کہ یہ تو وہی ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلی امتوں کا دین اسلام تھا اور وہ بھی مسلم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 52–53

الذین انتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون یہ خبر دی بنی اسرائیل میں سے جنہیں کتاب دی گئی ان میں سے ایک قوم قرآن کے نازل ہونے سے پہلے قرآن پر ایمان رکھتی تھی۔ جس طرح حضرت عبداللہ بن سلام اور حضرت سلمان اور نصاریٰ کے علماء میں سے جو مسلمان ہوئے وہ بھی اس میں داخل ہیں وہ چالیس لوگ تھے۔ وہ حضرت جعفر بن ابی طالب کے سانحہ مدینہ طبہ آئے تھے بتیس آدمی حبشہ سے ائے تھے اور آٹھ آدمی شام سے آئے تھے وہ نصاریٰ کے ائمہ تھے ان میں بحیرا راہب، ابرہہ، اشرف، عامر، ایمن، ادریس اور نافع ھتے۔ ماوردی نے یہی نام ذکر کئے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق یہ اور بعد والی آیت نازل کی ہے اولئک یوتون اجرھم مرتین بما صبروا،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–55

1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابوالقاسم البغوی فی معجمہ والباوردی وابن قانع الثلاثہ فی معاجم الصحابہ والطبرانی وابن مردویہ جید سند کے ساتھ رفاعہ قرظی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ولقد وصلنا لہم القول لعلم یتذکرون سے لے کر اولئک یوتون اجرہم مرتین بما صبرو تک اور ہم ن اس کلام یعنی قرآن کو مسلسل نازل کیا تھا کہ وہ لوگ نصیحت حاصل کریں سے لے کر یہی لوگ ہیں ان کو دوگناملے گا۔ ان کے صبر کی وجہ سے یہ آیات دس افراد کے بارے میں نازل ہوئیں میں بھی ان میں سے ایک تھا۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد وصلنا قریش کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَا [اور جب ] يُتْلٰى [اس (قرآن) کو پڑھا جاتا ہے ] عَلَيْهِمْ [ان پر ] قَالُوْٓا [تو وہ کہتے ہیں ] اٰمَنَّا [ہم ایمان لائے ] بِهٖٓ [اس پر ] اِنَّهُ الْحَقُّ [یقینا یہی حق ہے ] مِنْ رَّبِّنَآ [ہمارے رب (کی طرف) سے ] اِنَّا كُنَّا [بیشک ہم تھے ] مِنْ قَبْلِهٖ [اس (قرآن) سے پہلے (ہی)] مُسْلِمِيْنَ [فرمانبرداری کرنے والے ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 53 ۔ میں وفد کے لوگوں کا قول ہے کہ ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی ہم انبیاء اور کتب آسمانی کے ماننے والے تھے اس لئے اسلام کے سوا ہمارا کوئی اور دین نہ تھا۔ اور اب جو نبی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب لے کر آئے ہیں انھیں بھی ہم نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 52–54

مؤمنین اہل کتاب کی ایک صفت بیان فرمائی کہ وہ اچھائی کے ذریعہ برائی کو دفع کرتے ہیں یعنی گناہ کے بعد نیک کام کرلیتے ہیں جن سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ نیکیوں کے ذریعہ گناہوں کا معاف ہوجانا یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ہے اور یہ اس کا بہت بڑا کرم ہے۔ سورة ہود میں فرمایا ہے (اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیّْاٰتِ ) (بلاشبہ نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں) حضرت ابوذر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تو جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرو اور برائی کے پیچھے نیکی لگا دو ۔ یہ نیکی اس برائی کو مٹا دے گی۔ اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ میل جول رکھو۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 432: از ترمذی) اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 51–56

بیان حکمت درتکریر موعظت ومدح مومنین اہل کتاب وپیران حق وصواب قال اللہ تعالیٰ ولقد وصلنا لہم القول لعلہم یتذکرون۔۔۔ الی۔۔۔ افلا تعقلون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اس بات کا ذکر تھا کہ اللہ نے رسول بھیج کر اور کتاب ہدایت نازل کر کے لوگوں پر حجت پوری کردی اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ ہم نے حق اور ہدایت کو خوب واضح کردیا اور مفصل اور مکرر اور سہ کرر بیان کر کے بھی لوگوں پر حجت پوری کردی ہے اور قرآن کریم کو ہم نے بتدریج نازل کیا ہے تاکہ لوگوں کو سمجھنے کا موقع ملے اور یاد رکھنے میں سہولت ہو اگر سارے قرآن کو یکبارگی نازل کردیتے تو تذکر کا فائدہ حاصل نہ ہوتا نیز گزشتہ آیات میں ان ظالموں اور نفس پرستوں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

50:۔ یہ مومنین اہل کتاب کے اوساف ہیں۔ جب وہ قرآن حکیم کی آیتیں سنتے ہیں تو بےاختیار بول اٹھتے ہیں آمنا و صدقنا یہ قرآن سراپا حق ہے اور ہمارے رب کا کلام ہے ہم تو اس کے نزول سے پہلے ہی اللہ کی توحید پر قائم تھے اور محمد ﷺ اور ان پر نازل ہونے والی وحی پر ایمان لا چکے تھے۔ ہماری کتابوں میں اس کا ذکر موجود ہے۔ ای من قبل القران مسلمین مخلصین للہ بالتوحید مومنین بمحمد ﷺ انہ نبی حق (معالم ج 5 ص 147) ۔ انا کنا من قبلہ مسلمین لما شاھدوا ذکرہ فی الکتب المتقدمۃ وانھم علی دین الاسلام قبل نزول القران (روح ج 20 ص 94) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–56

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا تھا کہ وہ ایمان کی بات قبول کرنے کی بجائے ہدایت کی بات کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں ، کبھی کہتے ہیں کہ یہ پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) جیسے معجزات کیوں نہیں لایا اور کبھی کہتے ہیں کہ آپ پر پورا قرآن یکبارگی کیوں نہیں نازل ہوا۔ اللہ نے جواباً فرمایا کہ ضدی او عنادی لوگ ہمیشہ محروم ہی رہتے ہیں ۔ اب تو یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے بات کرتے ہیں ۔ مگر جب خود کلیم اللہ معجزات اور تورات لے کر آئے تھے تو کیا اس وقت انہوں نے تسلیم کیا تھا ؟ نہیں بلکہ ان بدبختوں نے اس وقت بھی ان کو جھٹلا دیا تھا۔ آپ کے معجزات کو جادو سے تعبیر کیا ۔ اور آپ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا يُتْلٰى عَلَيْہِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِہٖٓ اِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِہٖ مُسْلِـمِيْنَ۝ 53 تلو تَلَاهُ : تبعه متابعة ليس بينهم ما ليس منها، وذلک يكون تارة بالجسم وتارة بالاقتداء في الحکم، ومصدره : تُلُوٌّ وتُلْوٌ ، وتارة بالقراءة وتدبّر المعنی، ومصدره : تِلَاوَة وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2] ( ت ل و ) تلاہ ( ن ) کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنا کے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی اجنبی کو چیز حائل نہ ہو یہ کہیں تو جسمانی طور ہوتا ہے اور کہیں اس کے احکام کا اتباع کرنے سے اس معنی میں اس کا مصدر تلو اور تلو آتا ہے اور کبھی یہ متا بعت کسی کتاب کی قراءت (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–56

ترکیب : لہم وصلنا سے ای متعلق بینا القول القرآن مفعول و صلنا۔ من قبلہ ای من قبل القران پس یہ آیتنا سے متعلق ہے۔ تفسیر : اہل مکہ کا ایک یہ بھی شبہ تھا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی طرح ایک ہی بار تمام کتاب محمد ﷺ کو کیوں نہ دی گئی ؟ تھوڑا تھوڑا کیوں نازل ہوتا ہے ؟ اور نیز کیا موسیٰ ( علیہ السلام) کی کتاب کافی نہ تھی۔ پھر نئی کتاب کیوں نازل کی گئی ؟ (آج کل کے بعض ناواقف پادریوں نے بھی یہی شبہ کیا ہے) اس کا جواب دیتا ہے، ولقد وصلنا لہم القول لعلہم یتذکرون کہ ہم جو پے درپے 1 ؎ قول یعنی ہدایت کی بات قرآن مجید اور اس کی آیات یکے بعد دیگر اس لیے بھیجتے رہے کہ وہ سمجھیں ہر روز ایک نئے فائدے اور نئی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 52–53

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰـھُمُ الْـکِتٰبَ مِنْ قَبْلِہٖ ھُمْ بِہٖ یُؤْمِنُوْنَ ۔ وَاِذَا یُتْلٰی عَلَیْھِمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِہٖ اِنَّـہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَـآ اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلِہٖ مُسْلِمِیْن۔ (القصص : 52، 53) (اور جن کو ہم نے کتاب عطا کی اس سے پہلے، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ اور جب یہ ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لے آئے، بیشک یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے، ہم اس سے پہلے ہی سرتسلیم خم کرچکے ہیں۔ ) اہلِ کتاب کے صالحین کے ایمان لانے پر اظہارِتحسین آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی دعوت کے راستے میں یوں تو مشرکینِ عرب نے بھی رکاوٹیں کھڑی کرنے اور اس کا راستہ روکنے میں کوئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–53

فہم القرآن ربط کلام : بیشک حق آجانے کے باوجود لوگ اپنی خواہشات کے بندے بنے رہے اس کے باوجود اللہ تعالیٰ لوگوں کی خیر خواہی اور ہدایت کی خاطر مسلسل ان کی رہنمائی کا بندوبست کرتا رہا۔ جس بنا پر ہر دور میں کچھ نہ کچھ لوگ ہدایت قبول کرنے والے ضرور موجود رہے ہیں۔ رب کریم نے لوگوں کی رہنمائی کے لیے ہمیشہ اور مسلسل رہنمائی کا بندوبست فرمایا ہے۔ راہنمائی انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعے ہو یا ان کے جانشینوں کے واسطے سے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی رہنمائی کا ہمیشہ سے بندوبست کر رکھا ہے جو نبی ﷺ کے جانشینوں کی طرف سے قیامت تک جاری رہے گا۔ تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور اپنی دنیا اور آخرت کو بہتر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

53: وَاِذَا یُتْلٰی عَلَیْہِمْ (اور جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے) ۔ قَالُوْا اٰمَنَّا بِہٖٓ اِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَآ اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلِہٖ مُسْلِمِیْنَ (وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے بیشک وہ ہمارے رب کی طرف سے برحق ہے ہم تو اس سے پہلے ہی فرمانبرداری کرنے والے ہیں) ۔ قبلہ۔ یعنی قرآن مجید کے نزول سے پہلے۔ مسلمین کا مطلب دین اسلام پر تھے۔ حضرت محمد ﷺ پر یقین رکھتے تھے۔ انہ۔ یہ ایمان کی علت ہے۔ کیونکہ اس کا حق ہونا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اور قرآن اس لائق ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ انا کنا۔ یہ امنا کا بیان ہے۔ کیونکہ قریبی زمانے یا دور زمانے کا ایمان ہر دو کا احتمال ہے۔ پس انہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

53۔ واذایتلی علیھم، ،، اور جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے قالوا امنا بہ انہ الحق من ربنا، یہ اس وجہ سے تھا کہ نبی کریم کی صفات توریت اور انجیل میں موجود تھیں، اناکنا من قبلہ مسلمین، ، قرآن سے پہلے بھی مخلصین مومنین تھے کہ اللہ کا ایک ہونا اور محمد کا سچا پیغمبر ہونا برحق ہونے پر ایمان رکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–53

50 تا 53۔ حضرت نوح جو سب سے پہلے صاحب شریعت نبی ہیں ان کے زمانہ سے لے کر فرعون کے غرق ہونے تک جس قدر پہلی امتیں اللہ کے رسولوں کی نافرمانی میں ہلاک ہوئیں ان کا ذکر قرآن شریف میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اوس ذکر میں سے فرعون کے غرق ہونے کے تذکرہ کا ٹکڑا اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں ذکر فرما کر اس آیت میں رسول ﷺ کے نافرمان لوگوں کو ڈرا دیا ہے اور فرمایا ہے کہ پہلی امتوں کا پے درپے اس لیے ذکر کیا جاتا ہے کہ پہلے نافرمان لوگوں کا حال گھڑی گھڑی سن کر حال کے زمانہ کے نافرمان لوگوں کو ایک طرح کی عبرت اور نصیحت اس بات کی ہو کہ اگر یہ حال کے زمانہ کے لوگ رسول قوت کی نافرمانی سے باز ؓ آویں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 52–55

(آیت 52 اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن کی عظمت، صداقت اور حقانیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ حقیقت کا علم رکھنے والے اہل علم ہی اس کو پہچانتے، اس پر ایمان لاتے اور اس کی حقانیت کا اقرار کرتے ہیں، چناچہ فرمایا : (آیت) ” جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی۔ “ اس سے مراد وہ اہل تورات اور اہل انجیل ہیں جنہوں نے اپنی کتاب میں تغیر و تبدل نہیں کیا۔ (ھم بہ) وہی اس قرآن اور قرآن کے لانے والے پر (یومنون) ” ایمان رکھتے ہیں۔ “ (آیت) ” اور جب ان کے سامنے اس قرآن کو پڑھا جاتا ہے “ تو اسے غور سے سنتے ہیں اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے ہیں۔ (آیت) ” تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بیشک وہ ہمارے رب…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 27–54

شعراء کی دو اقسام قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 52–53

67 ہم تو اس کو پہلے ہی مانتے تھے : یعنی ہمارا تو کام ہی حق کو ماننا اور اس کے آگے سر تسلیم خم کردینا ہے اور بس۔ سو جب پیغام حق و ہدایت اس سے پہلے تورات و انجیل کی شکل میں ہمارے پاس آیا تو ہم نے اس کو قبول کرلیا تھا۔ اور اب جبکہ وہ قرآن پاک کے ابدی اور آخری پیغام کی شکل میں اترا تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ نیز ہم پہلی کتابوں پر اپنے ایمان کے ضمن میں بھی اس پر پہلے سے ہی ایمان رکھتے تھے۔ کیونکہ ان کتابوں کے اندر اس کا تذکرہ موجود تھا۔ اور یوں بھی تمام کتابوں کا مرکزی پیغام ہمیشہ ایک ہی رہا۔ یہودیت اور نصرانیت وغیرہ کے ناموں سے اس پر جو اضافے کئے گئے وہ لوگوں نے اپنی طرف سے بعد میں کئے۔ ورنہ اٹل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–64

ہجرت، مدین میں قیام، فرعون کی طرف واپسی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے سرفرازی نبی کو بھیجنے کا مقصد ‘ نیک و بد کا فرق اور مشرکین کا انجام تشریح : کفار و مشرکین کی خصلتیں ہر زمانے اور ہر دور میں ایک سی ہی رہی ہیں۔ آج کا دور باوجود ترقی کرنے کے اور علم و فضل میں کافی ترقی کر جانے کے کفار وہی ہٹ دھرمی اور ضد رکھتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں رکھتے تھے۔ کبھی کہتے موسیٰ جیسے معجزے دکھائو کبھی کہتے موسیٰ (علیہ السلام) جیسی کتاب لائو۔ حالانکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اہل عرب کیسے ایمان لاسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور حکیم ہے اس لیے وہ نبی بھیجتا رہا تاکہ قیامت کے دن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–60

آیات 51 تا 60 اسرارو معارف اور پھر قرآن حکیم کے مسلسل اتارے جانے کی حکمت ارشاد ہوئی کہ ہم نے قرآن کریم کو بتدریج نازل فرمایا کہ لوگوں کو بار بار تازہ بتازہ کلام الہی نصیب ہوتا رہے اور مسلسل دعوت الی اللہ دی جاتی رہے نیز ہر آیت کو واقعات اور سوالات کے جواب میں نازل فرما کر یہ سہولت پیدا کردی کہ یاد رکھنے میں بھی آسانی ہو ورنہ اللہ قادر ہے تورات کی طرح ایک ہی دفعہ بھی عطا فرما دیتا۔ اور یہ محض اعتراض ہے ورنہ وہ لوگ جو اہل کتاب میں سے ایمان دار تھے اور اپنی کتاب پر ہی ایمان رکھتے تھے جب ان کے سامنے یہ آیات پڑھی گئیں تو انہوں نے فورا کہا کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ہمارے پروردگار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

9 ۔ یعنی اس کے پیغمبروں اور اس کی کتابوں کو مانتے تھے اور محمد ﷺ کی آمد کے منتظر تھے۔ جن کی خوش خبری ہم پچھلی کتابوں میں پڑھ چکے تھے۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:53) یتلی مضارع مجہول واحد مذکر غائب اس میں مفعول مالم یسم فاعلہ القرآن ہے واذا یتلی علیہم اور جب یہ (قرآن) ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے۔ مسلمین اسم فاعل جمع مذکر مسلم واحد منصوب بوجہ خبر کنا۔ ماننے والے فرماں بردار۔ ہر وہ شخص جو توحید الٰہی اور سلسلہ وحی کا قائل ہو اس کو مسلم کہا جاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–55

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 55 : وصلنا (ہم نے ایک دوسرے سے ملایا) یئو تون ( وہ دیئے گئے ہیں) ‘ مرتین (مرۃ) دو مرتبہ ‘ یدرءون ( وہ دور کرتے ہیں) ‘ الحسنۃ (بھلائی ۔ خیر) السیئۃ (برائی) اللغو (بیکار۔ فضول) اعرضوا (انہوں نے منہ پھیرلیا) ‘ لانبتغی (ہم نہیں چاہتے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 55 : قرآن کریم میں اس مضمون کو کئی مرتبہ بیان کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کو ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ اپنی دنیا اور آخرت کو بنانا اور سدھارنا ہوتا ہے وہ طرح طرح کے بہانے اور اعتراضات نہیں کرتے لیکن جو بد نصیب لوگ ہیں ان کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی بھر ایمان اور عمل صالح سے بھاگنے کے لئے بےتکی اور غیر سنجیدہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 52–55

(ف 1) شان نزول : یہ آیت مومنین اہل کتاب حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے صحابہ کے حق میں نازل ہوئی اور ایک قول یہ ہے کہ یہ ان اہل انجیل کے حق میں نازل ہوئی جو حبشہ سے آکرنبی ﷺ پر ایمان لائے یہ چالیس حضرات تھے جو حضرت جعفر بن ابی طالب کے ساتھ آئے جب انہوں نے مسلمانوں کی حاجت اور تنگی معاش دیکھی تو بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ ہمارے پاس مال ہے نبی ﷺ اجازت دیں تو ہم واپس جاکر اپنے مال لے آئیں، اور ان مسلمانوں کی خدمت کریں۔ نبی ﷺ نے اجازت دی اور وہ جاکر اپنے مال لے آئے اور ان سے مسلمانوں کی خدمت کی ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی ، ابن عباس نے فرمایا کہ یہ آیتیں انہیں اہل کتاب کے حق میں نازل ہوئیں جن…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 53–54

اہل کتاب میں سے سعادت مند گروہ 1: ان آیات میں اہل کتاب میں سے اس طبقہ کی تعریف کی ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے توفیق ہدایت سے بہرہ ور کیا ہے ارشاد ہے ۔ کہ ان لوگوں کے قرآن کو تسلیم کیا ۔ اور کہا ۔ کہ ہم اس کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں ۔ یقینا یہ پیغام رشدوہدایت ہے ۔ حق اور سچائی ہے ۔ اور ہم تو اس کو تورات کی روشنی میں پہلے سے تسلیم کرتے تھے فرمایا ۔ ان لوگوں کو قیامت کے دن دوہرا اجر دیا جائے گا ۔ کہ انہوں نے تورات کو بھی حرز جان بنایا ۔ اور اب قرآن کو بھی مانتے ہیں ۔ ان لوگوں نے ایمان کے سلسلہ میں انتہائی صبر اور بھلائی سے کام لیا ہے ان کی عادت ہے کہ اسلام کرنے کے بعد مخالفین کی تکلیف وہی اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

53۔ اور جب یہ قرآن کریم ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے اور ان پر اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے بیشک یہ حق ہے ہمارے پروردگار کی جانب سے نازل ہوا ہے ہم تودر حقیقت اس کے آنے سے پہلے ہی اس کو مانتے تھے۔ یعنی اس قرآن کریم کے متعلق جو پیشین گوئیاں ہماری کتابوں میں مذکور ہیں ہم ان پر ایمان رکھتے تھے تو ہمارا ایمان تو اس قرآن کریم پر پہلے ہی سے ہے بیشک یہ حق ہے ہمارے پروردگار نے اس کو نازل فرمایا ہے اسی کی جانب سے یہ اترا ہے اور ظاہر ہے کہ جب ہم اپنی کتاب پر ایمان رکھتے ہیں تو اس کی پیشین گوئیوں پر بھی ہمارا ایمان ہے اور یہ قرآن کریم انہی بشارتوں کا مصداق ہے تو ہم تو دراصل اس پر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 52–56

ف 3۔ یعنی ہدایت کرنے کی قدرت تو بجز خدا کے کسی کو کیا ہوتی کسی کو اس کا علم تک بھی تو نہیں کہ کون کون ہدایت پانے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جن لوگوں کے دلوں میں ایمان ہے وہ قرآن کریم کو سنتے ہی ایمان لے آتے ہیں : 53۔ زیر نظر آیت میں بعض لوگون نے ایمان لانے کی خبر دی جا رہی ہے جن لوگوں نے قرآن کریم کو سنتے ہی اس کی سچائی کو قبول کرلیا اور بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے اس سچائی کو کیوں قبول کیا ؟ اس لئے کہ ان کے دلوں میں پہلے ہی ایمان ویقین کی دولت موجود تھی اور سچائی نے سچائی کو دیکھتے ہی قبول کرلیا بلاشبہ ایسے لوگ عیسائیوں میں بھی موجود تھے اور یہودیوں میں بھی تھے اگرچہ بہت کم تھے یہود کی مثال دینے کے لئے عبداللہ بن سلام ؓ کا نام گرامی لیا جاسکتا ہے اور عیسائیوں کی مثال کے لئے نجران سے آنے والے بعض وفود کا ذکر بھی گزر چکا ہے اس لئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Is the word Muslim restricted to the Ummah of Muhammad ﷺ or it is common to all Ummahs? إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ (And we are the ones who submitted (to it) even before it (was revealed) - 28:53). The word used by these people of the book for their submission is 'muslims' which may also be translated as ` We were Muslims even before the revelation of Qur'an'. If the word Muslim is taken here in its literal meaning, submissive or obedient, then the meaning is quite clear that the faith they had in Qur'an and the Holy Prophet ﷺ ، because of their books, is referred here by the use…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

73 That is, "Even before this we were believers in the Prophets and the Divine Books. Therefore, we had no other Faith than Islam and we have believed in that Book too, which this Prophet has brought from Allah. Thus, no change has occurred in our religion: we were Muslims before even as we are Muslims now." This saying clearly indicates that Islam is not the name of the Faith brought by the Holy Prophet Muhammad (peace be upon him) and the term "Muslim" is not only applicable to his. followers, but Islam has been the Faith of all the Prophets since the very beginning and their followers were…

Read the full tafseer →