Al-Qasas 28:61

Al-Qasas · from ayah 61

28:61

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ ۟اَفَمَنۡ وَّعَدۡنٰهُ وَعۡدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِيۡهِ كَمَنۡ مَّتَّعۡنٰهُ مَتَاعَ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ثُمَّ هُوَ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ مِنَ الۡمُحۡضَرِيۡنَ‏

بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا اور اُس نے اُسے حاصل کرلیا تو کیا وہ اس شخص کا سا ہے جس کو ہم نے دنیا کی زندگی کے فائدے سے بہرہ مند کیا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہو جو (ہمارے روبرو) حاضر کئے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then is he whom We have promised a good promise which he will obtain like he for whom We provided enjoyment of worldly life [but] then he is, on the Day of Resurrection, among those presented [for punishment in Hell]?

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 7 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:61

بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو کبھی اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جسے ہم نے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا جس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا اور اُس نے اُسے حاصل کرلیا تو کیا وہ اس شخص کا سا ہے جس کو ہم نے دنیا کی زندگی کے فائدے سے بہرہ مند کیا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہو جو (ہمارے روبرو) حاضر کئے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا وه شخص جس سے ہم نے نیک وعده کیا ہے جسے وه قطعاً پانے واﻻ ہے مثل اس شخص کے ہوسکتا ہے؟ جسے ہم نے زندگانیٴ دنیا کی کچھ یونہی سی منفعت دے دی پھر بالﺂخر وه قیامت کے روز پکڑا باندھا حاضر کیا جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا بتاؤ کہ جس شخص سے ہم نے اچھا سا وعدہ کر رکھا ہے اور وہ اس وعدے کو پاکر رہے گا، کیا وہ اس جیسا ہوسکتا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کی پونجی کے کچھ مزے دے دیے ہیں، پھر وہ ان لوگوں میں شامل ہونے والا ہے جو قیامت کے دن دھر لیے جائیں گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا وہ جسے ہم نے اچھا وعدہ دیا تو وہ اس سے ملے گا اس جیسا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کا برتاؤ برتنے دیا پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کرکے حاضر لایا جائے گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا وہ شخص جس سے ہم نے کوئی (آخرت کا) اچھا وعدہ فرمایا ہو پھر وہ اسے پانے والا ہو جائے، اس (بدنصیب) کی مثل ہو سکتا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کے سامان سے نوازا ہو پھر وہ (کفرانِ نعمت کے باعث) روزِ قیامت (عذاب کے لئے) حاضر کئے جانے والوں میں سے ہو جائے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو کیا وہ شخص جسے ہم نے وعدہ دیا اچھا وعدہ، پس وہ اسے ملنے والا ہے، اس شخص کی طرح ہے جسے ہم نے سامان دیا، دنیا کی زندگی کا سامان، پھر قیامت کے دن وہ حاضر کیے جانے والوں سے ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بھلا جسے ہم نے کوئی اچھا وعدہ دیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو، اس شخص کی طرف ہوسکتا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کا سامان دے رکھا ہو پھر وہ قیامت کے دن (سزا یا جوابدہی کے لوے) پیش کیا جانے والا ہو ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا وہ اس سے ہم نے ایک خوش آئند وعدہ کر رکھا ہے پس وہ اس موعود کو لازماً پا کے رہے گا اس کے مانند ہوگا جس کو ہم نے حیات دنیا کی متاع دی ہے پھر وہ قیامت کے دن حاضر کئے جانے والوں سے بننے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو کیا وہ شخص جس سے ہم نے وعدہ کر رکھا ہو عمدہ وعدہ پھر وہ اس کو پانے والا بھی ہو کہیں اس وہ شخص کی طرف ہوسکتا ہے جسے ہم نے صرف دنیاوی زندگی کا سامان دے رکھا ہو پھر قیامت کے روز وہ گرفتار شدہ لوگوں میں سے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

بھلا وہ شخص جس سے ہم نے پسندیدہ وعدہ رکھا ہے اور وہ اسے پالینے والا ہے اس جیسا ہوسکتا ہے جسے ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے اور وہ قیامت کے دن ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کرکے لائے جائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہے اور وہ اس (وعدے کو) پالینے والا بھی ہے اس شخص جیسا ہوجائے گا جسے ہم نے دنیوی زندگی کا سازو سامان دے دیا ہو پھر وہ قیامت کے دن گرفتار کر کے حاضر کیے جانے والوں میں سے ہوگا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلاجس شخص سے ہم نے نیک وعدہ کیا اور اس نے اسے حاصل کرلیا تو کیا وہ اس شخص سا ہے جس کو ہم نے دنیا کی زندگی کے فائدے دیے پھر وہ قیامت کے دن ان لوگوں میں ہو جو ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Now, he to whom We have promised a good which he is going to obtain - can he be like him whom We have given the good things of this life, but who will be brought up for punishment on the Day of Judgement?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is then the one, to whom We have made a good promise which he is going to meet, like the one whom We have given the benefit of enjoying the worldly life, then on the Day of Judgment he will be among those arraigned?

— Muhammad Taqi Usmani

Is then the one, to whom We have made a good promise which he is going to meet, like the one whom We have given the benefit of enjoying the worldly life, then on the Day of Judgment he will be among those arraigned?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Is he whom We have promised an excellent promise -- which he will find true -- like him whom We have made to enjoy the luxuries of the life of the world, then on the Day of Resurrection, he will be among those brought up

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Is he whom We have promised a fair promise which he will find (true) like him whom We suffer to enjoy awhile the comfort of the life of the world, then on the Day of Resurrection he will be of those arraigned?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then is he whom We have promised a good promise which he will obtain like he for whom We provided enjoyment of worldly life [but] then he is, on the Day of Resurrection, among those presented [for punishment in Hell]?

— Saheeh International

Is the case of those to whom We have promised good things - which they will certainly receive in the life to come - equal to the case of those to whom We have granted the means of enjoyment in the worldly life and who will certainly be questioned about them in the life to come?

— Muhammad Sarwar

Is he to whom We have promised a goodly promise which he shall meet with like him whom We have provided with the provisions of this world's life, then on the day of resurrection he shall be of those who are brought up?

— Muhammad Habib Shakir

Is he, then, whom We have promised an excellent promise which he is going to meet, like unto him whom We have suffered to enjoy awhile the enjoyment of the life of the world, then on the Day of Resurrection he shall be of those brought up!

— Abdul Majid Daryabadi

Are (these two) alike?- one to whom We have made a goodly promise, and who is going to reach its (fulfilment), and one to whom We have given the good things of this life, but who, on the Day of Judgment, is to be among those brought up (for punishment)?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:61

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 60–61

دنیا اور اخرت کا تقابلی جائزہ اللہ تعالیٰ دنیا کی حقارت اس کی رونق کی قلت وذلت اس کی ناپائیداری بےثباتی اور برائی بیان فرما رہا ہے اور اس کے مقابلہ میں آخرت کی نعمتوں کی پائیداری دوام عظمت اور قیام کا ذکر فرما رہے ہیں۔ جیسے ارشاد ہے آیت (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ ۭ وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِيْنَ صَبَرُوْٓا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 96؀) 16۔ النحل :96) تمہارے پاس جو کچھ ہے فنا ہونے والا ہے۔ اور اللہ کے پاس تمام چیزیں بقا والی ہیں۔ اللہ کے پاس جو ہے وہ نیک لوگوں کے لئے بہت ہی بہتر اور عمدہ ہے۔ آخرت کے مقابلہ میں دنیا تو کچھ بھی نہیں۔ لیکن افسوس کہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القصص 84 یہ ان کے عذر کا چوتھا جواب ہے۔ اس جواب کو سمجھنے کے لیے پہلے دو باتیں اچھی طرح ذہن نشین ہوجانی چاہیں۔ اول یہ کہ دنیا کی موجودہ زندگی جس کی مقدار کسی کے لیے بھی چند سالوں سے زیادہ نہیں ہوتی، محض ایک سفر کا عارضی مرحلہ ہے، اصل زندگی جو ہمیشہ قائم رہنے والی ہے، آگے آنی ہے، موجودہ عارضی زندگی میں انسان خواہ کتنا ہی سروسامان جمع کرلے اور چند سال کیسے ہی عیش کے ساتھ بسر کرلے، بہرحال اسے ختم ہونا ہے اور یہاں کا سب سروسامان آدمی کو یونہی چھوڑ کر اٹھ جانا ہے۔ اس مختصر سے عرصہ حیات کا عیش اگر آدمی کو اس قیمت پر حاصل ہوتا ہو کہ آئندہ کی ابدی زندگی میں وہ دائما خستہ حال اور مبتلائے مصیبت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–67

خلاصہ تفسیر بھلا وہ شخص جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے پھر وہ شخص اس (وعدہ کی چیز) کو پانے والا ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کر کے لائیں جائیں گے (مراد پہلے شخص سے مومن ہے جس سے جنت کا وعدہ ہے اور دوسرے سے مراد کافر جو مجرم ہو کر آوے گا اور چونکہ متاع دنیا ہی ان لوگوں کی بھول کا سبب ہے اس لئے اس کی تصریح فرما دی، ورنہ ان دونوں کا برابر نہ ہونا تو دراصل اس وجہ سے ہے کہ وہ گرفتار کر کے حاضر کئے جاویں گے یہ جنت کی نعمتوں سے سرفراز ہوں گے) اور (آگے اس تفاوت اور کیفیت احضار کی تفصیل ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

احضار یہاں مجرموں کی طرح پکڑ کر حاضر کئے جانے کے مفہوم میں ہے اس وجہ سے محضرین کے اندر ذلت کے ساتھ حاضر کئے جانے کا مفہوم میں ہے اس وجہ سے محضرین کے اندر ذلت کے ساتھ حاضر کئے جانے کا مفہوم خود پیدا ہوگیا ہے۔ یعنی سوچہ کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جن سے اللہ نے آخرت کی ابدی بادشاہی کا وعدہ کر رکھا ہے اور یہ ابدی بادشاہی لازماً پا کے رہیں گے، اس لئے کہ اللہ کے وعدے سے سچا وعدہ کس کا ہو سکتا ہے۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جن کو میں نے حیات چند روزہ کی متاع فانی تو دی ہے مگر بالآخر قیامت کے دن نیہات ذلت کے ساتھ وہ خدا کے حضور پیشی کے لئے گھسیٹ کر لائے جائیں گے۔ بتائو کہ ان میں سے بہتر اور لازوال (جیو وابقی) انجام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

61-1یعنی سزا اور عذاب کا مستحق ہوگا مطلب ہے اہل ایمان، وعدہ الٰہی کے مطابق نعمتوں سے بہرہ ور اور نافرمان عذاب سے دو چار، کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 59–61

34: یہ بیچ میں کفار عرب کے ایک اور اعتراض کا جواب دیا گیا ہے، وہ لوگ کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمارے مذہب اور طریق کار سے ناراض ہے تو جس طرح اس نے پچھلی قوموں کو ہلاک کیا ہے جن کا حوالہ پچھلی آیت میں بھی دیا گیا ہے اسی طرح ہم کو اب تک کیوں ہلاک نہیں کیا ؟ جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو معاذ اللہ لوگوں کو ہلاک کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے، وہ سب سے پہلے اپنا کوئی پیغبر ان کے مرکزی علاقے میں بھیجتا ہے جو انہیں سیدھے راستے کی دعوت دے اور بار بار دیتا رہے، تاکہ وہ راہ راست پر آئیں اور انہیں سزا دینے کی ضرورت ہی نہ پڑے، اگر وہ اپنی گمراہی سے باز آجاتے ہیں تو انہیں ہلاک نہیں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 57–61

یہ اہل مکہ کا ایک سطحی اور دنیاوی نقطہ نظر تھا۔ قریش کو اسی دنیا پرستی کے نقطہ نظر نے ڈر میں مبتلا کردیا تھا کہ اگر ہم نے اس جدید تحریک کو قبول کیا تو نقصان ہوگا۔ دشمن حملہ آور ہوجائیں گے اور معاون و مددگار حمایت سے ہاتھ اٹھالیں گے اور ہم مالی لحاظ سے کمزور اور بدحال ہوجائیں گے۔ وقالوا ان نتبع ۔۔۔۔۔ من ارضنا (28: 57) ” وہ کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے “۔ یہ لوگ اس بات کے منکر نہیں تھے کہ حضرت پیغمبر ﷺ جو تعلیمات پیش کرتے ہیں وہ حقیقی راہ ہدایت ہے۔ لیکن انہیں ڈر یہ تھا کہ مکہ کے اردگرد کے لوگ ان پر ٹوٹ پڑیں گے دراصل ان کی نظروں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی مومن و کافر دونوں انجام کے اعتبار سے کس طرح برابر ہوسکتے ہیں۔ ایک کے لیے دائمی عیش کا وعدہ جو یقینا پورا ہو کر رہے گا اور دوسرے کے لیے چند روزہ عیش کے بعد گرفتاری کا وارنٹ اور دائمی جیل خانہ، العیاذ باللہ ! ایک شخص خواب میں دیکھے کہ میرے سر پر تاج شاہی رکھا ہے، خدم و حشم پرے باندھے کھڑے ہیں اور الوان نعمت دسترخوان پر چنے ہوئے ہیں جن سے لذت اندوز ہو رہا ہوں، آنکھ کھلی تو دیکھا انسپکٹر پولیس گرفتاری کا وارنٹ اور بیڑی ہتھکڑی لیے کھڑا ہے۔ بس وہ پکڑ کرلے گیا اور فوراً ہی پیش ہو کر حبس دوام کی سزا مل گئی۔ بتاؤ اسے وہ خواب کی بادشاہت اور پلاؤ قورمے کی لذت کیا یاد آئے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 61 اَفَمَنْ وَّعَدْنٰہُ وَعْدًا حَسَنًا فَہُوَ لَاقِیْہِ کَمَنْ مَّتَّعْنٰہُ مَتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ” یعنی ایک وہ بندہ جو اپنی دنیوی زندگی میں آخرت کے بارے میں اللہ کے اچھے وعدوں کا مصداق بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اپنے وعدوں کے مطابق جنت اور اس کی نعمتیں عطا فرمانے والا ہے ‘ کیا کبھی اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جسے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے دیا گیا ہو ؟ ثُمَّ ہُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ ” ظاہر ہے دونوں طرح کے لوگ برابر تو نہیں ہوسکتے۔ قیامت کے دن نیک لوگ اللہ کے وعدوں کے مطابق اس کی رحمت کے سائے میں ہوں گے ‘ جبکہ دنیا میں عیش و عشرت کے مزے لینے والے اور اپنے من…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

84 اس آیت میں دو آدمیوں کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔ ایک وہ جو آخرت کے بہتر انجام پر نظر رکھتا ہو اور اس بہتر انجام کے لئے ہی اپنی کوششیں صرف کر رہا ہو۔ دوسرا وہ شخص جس کا مطمع نظر صرف دنیوی مفادات اور ساز و سامان تک محدود ہو اور آخرت میں اس سے سختی سے باز پرس کی جانے والی ہو۔ اور سوال یہ اٹھایا گیا کہ خود ہی فیصلہ کرلو۔ ان دونوں میں سے کون بہتر ہے ؟ اس آیت اور اس جیسی بعض دوسری آیات سے بعض لوگوں نے یہ غلط نتیجہ نکالا کہ شریعت کی نگاہ میں دنیا اور دنیا کے مفادات کا حصول مذموم چیز ہے اور اس سے حتی الوسع اجتناب کرنا چاہئے اور اپنی نظر صرف اخروی مفادات پر رکھنی چاہئے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

80۔ یعنی وہ متاع دنیوی میں بھولا رہنے والا کافر جو مجرم کی طرح قیامت میں پکڑ کر لایا جائے گا اور وہ مومن جس سے جنت کا وعدہ اور قطعی ایفا ہو کر رہنے والاوعدہ ہے، یہ دونوں کہیں برابر ہوسکتے ہیں ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–75

آیت نمبر 61 تا 75 ترجمہ : بھلا وہ شخص کہ جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے جسے وہ قطعاً پانے والا ہے یعنی اس وعدۂ (موعودبہٖ ) کو پہنچنے والا ہے اور وہ جنت ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے، جو عنقریب زائل ہوجائے گا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کرکے دوزخ میں حاضر کئے جائیں گے اول شخص مومن ہوگا اور دوسرا کافر یعنی دونوں میں کوئی مساوات نہ ہوگی اور اس دن کو یاد کرو کہ جس دن خدا تعالیٰ ان کافروں کو پکار کر کہے گا میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم سمجھتے تھے وہ میرے شریک ہیں جن پر خدا کا دخول نار کا حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

افمن وعدنہ وعدا حسنا فھولا قیہ کمن متعنہ متاع الحیوہ الدنیا ثم ھو یوم القیمۃ من المحضرین . کیا وہ شخص جس سے ہم نے پسندیدہ وعدہ کر رکھا اور وہ اس کو (یعنی وعدہ کئے ہوئے ثواب کو) پائے گا بھی اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کو دنیوی فوائد سے تو ہم نے بہرو اندوز کردیا ہے ؟ پھر قیامت کے دن وہ ان لوگوں میں سے ہوگا جو گرفتار کر کے حاضر کئے جائیں گے۔ اَفَمَنْ میں استفہام انکاری ہے اور اس کا عطف محذوف جملہ پر ہے یعنی کیا اس کھلے ہوئے فرق کے باوجود تم نے اس شخص کو جس سے ہم نے ایک اچھا وعدہ کر رکھا ہے۔ الخ وَعْدًا حَسَنًا یعنی جنت کا وعدہ۔ جس چیز کا وعدہ کی اجائے اگر وہ اچھی ہو تو اس کا وعدہ بھی اچھا ہوا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(61) بھلا وہ شخص جس سے ہم نے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے یعنی رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یا یہ کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ اور پھر وہ اس کو آخرت میں پانے والا ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیا میں چند روزہ مال و دولت دے رکھا ہے پھر وہ دوزخ میں جلے گا یعنی ابوجہل۔ شان نزول : (آیت) ”۔ افمن وعدنہ“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت رسول اکرم ﷺ اور ابوجہل بن ہشام کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور دوسرے طریق سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت حمزہ ؓ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۧ اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَـنًا۔۔ : اس آیت میں مومن و کافر کی زندگیوں کا موازنہ کیا گیا ہے اور سوال کی صورت میں سوچنے کی دعوت دی گئی ہے کہ آیا یہ دونوں زندگیاں کسی صورت برابر ہوسکتی ہیں ؟ جب یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتیں تو تم دنیا کے فائدے کے لیے رسول کی پیروی کیوں چھوڑتے ہو ؟ دنیا کی نعمتیں مومن و کافر دونوں کو ملتی ہیں، مگر مومن اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند رہ کر ان سے فائدہ اٹھاتا ہے، جس کی وجہ سے آخرت کی نعمتیں صرف اس کے لیے خاص ہوجاتی ہیں۔ (دیکھیے اعراف : 32) اور ایمان اور عمل صالح والوں سے اللہ تعالیٰ کا یہی وعدۂ حسنہ ہے، جو ہر حال میں مومن کو مل کر رہے گا، کیونکہ اللہ کا وعدہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

افمن وعدنہ وعدا احسناً فھو لاقیہ ہاء ضمیر سے مراد جنت اور اس میں جو ثواب ہے کمن متعنہ متاع الحیوۃ الدنیا سے وہ عطا کیا جس کا ارادہ کیا۔ ثم ھو یوم القیمۃ من المحضرین آگ میں حاضر ہوگا۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ولو لا نعمۃ ربی لکنت من المحضرین۔ (الصافات) حضرت ابن عباس نے کہا : یہ آیت حضرت حمزہ بن عبدالمطلب اور ابوجہل بن ہشام کے بارے میں نازل ہوئی۔ محمد بن کعب نے کہا : یہ حضرت حمزہ اور حضرت علی اور ابوجہل اور عمار اور ولید کے بارے میں نازل ہوئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، عمار اور ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی، یہ سدی کا قول ہے۔ قشیری نے کہا : صحیح یہ ہے کہ یہ آیت عموماً مومن اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے آیت افمن وعدنہ وعدا حسنا فہو لاقیہ کمن متعنہ متاع الحیوۃ الدنیا کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت نبی اکرم ﷺ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن جریر نے دوسری سند سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت افمن وعدناہ یہ آیت حمزہ ؓ اور ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت افمن وعدناہ وعدا حسنا فہولاقیہ سے مراد ابوجہل بن ہشام ہے۔ 4۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ افمن وعدناہ وعدا حسنا فہولاقیہ سے مراد ہے مومن جس نے اللہ کی کتاب کو سنا اور اس کی تصدیق کی اور ایمان لے آیا اس پر جو اس میں وعدہ کیا گیا خیر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَفَمَنْ [ تو کیا وہ ] وَّعَدْنٰهُ [ہم نے وعدہ کیا جس سے ] وَعْدًا حَسَـنًا [ایک اچھا وعدہ ] فَهُوَ لَاقِيْهِ [ملاقات کرنے والا ہے اس (وعدے) سے ] كَمَنْ [اس کے جیسا ہوگا ] مَّتَّعْنٰهُ [ہم نے برتنے کے لئے دیا جس کو ] مَتَاعَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [دنیوی زندگی کا سامان ] ثُمَّ هُوَ [پھر وہ ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [قیامت کے دن ] مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ [پیش کئے ہوؤں میں سے ہوگا ] ۔ نوٹ۔ 1: ایک شخص کے لئے دائمی عیش کا وعدہ ہے جو یقینا پورا ہو کر رہے گا اور دوسرے کے لئے چند روز ہ عیش کے بعد گرفتاری کا وارنٹ اور دائمی جیل خانہ ہے ۔ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ۔ ایک شخص خواب میں دیکھے کہ میرے سر پر تاج…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا مشرکین سے خطاب اور یہ سوال کہ جنہیں تم نے شریک ٹھہرایا تھا وہ کہاں ہیں ؟ مذکورہ بالا سات آیات ہیں۔ پہلی آیت میں آخرت کے انجام کے اعتبار سے مومن اور کافر کا فرق بتایا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے کہ ایک تو وہ شخص ہے جس سے ہم نے اچھا وعدے کر رکھا ہے کہ اس کو ایمان اور اعمال صالحہ کی وجہ سے ابدی نعمتیں ملیں گی، اور ایک وہ شخص ہے جو مومن نہیں ہے لیکن اسے ہم نے دنیا والی زندگی کا سامان دے رکھا ہے جسے وہ استعمال کرتا ہے دنیا میں تو بظاہر کامیاب سمجھا جاتا ہے لیکن کیونکہ وہ کافر ہے اس لیے وہ قیامت کے دن گرفتار ہو کر آئے گا۔ اور پھر دوزخ میں چلا جائے گا۔ غور کرنے والے غور کریں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–70

ظہور ثمرات ایمان وہدایت ونتائج کفر وضلالت در روز قیامت قال اللہ تعالیٰ افمن وعدنہ وحدا حسنا۔۔۔ الی۔۔۔ الہ الحکم والیہ ترجعون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں ایمان وہدایت کی ترغیب اور کفر وضلالت سے ترہیب کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ ایمان اور ہدایت کے ثمرات اور کفر وضلالت کے نتائج کا ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ اول۔ افمن وعدنہ وعدا حسنا کی آیت میں اجمالی طور پر اہل دنیا اور اہل آخرت کے تفاوت کو بیان کیا بعد ازاں اس تفاوت کی تفصیل فرمائی کہ قیامت کے دن اہل ضلالت سے قیامت کے دن بطور زجر و توبیخ تین سوال ہوں گے۔ پہلا سوال : این شرکای الذین کنتم تزعمون۔ یعنی بتلاؤ کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 58:۔ استفہام انکاری ہے۔ ایک وہ مومن ہے جس سے اللہ نے جنت اور نعیم دائم کا وعدہ فرمایا ہے اور لا محالہ وعدے کے مطابق اسے سب کچھ ملنے والا ہے اور ایک وہ مشرک ہے جو دولت ایمان سے محروم ہے لیکن دنیوی ساز و سامان اور دولت و ثروت سے مالا مال ہے اور آخر قیامت کے دن عذاب جہنم میں مبتلا ہونے والا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–70

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا تھا اور پھر ان کے برے انجام کا ذکر کیا تھا۔ اللہ نے ان کی گرفت کا ذکر کیا کہ وہ ظلم وتعدی کرنے والوں کو ہی پکڑتا ہے ۔ پھر اللہ نے دنیا کے سازو سامان کی نا پانیداری کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اللہ کے ہاں جو نعمتیں ہیں وہ ہمیشہ رہنے والی ہیں اللہ نے انسان کو ترغیب دلائی کہ عقل سے کام لیں اور پائیدار چیزوں کو اختیار کریں اور عارضی چیزوں میں دل نہ لگائیں ۔ اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور نیکی والوں کا تقابل کفر ، شرک اور برائی والوں سے کیا ہے ۔ اس کے بعد رسالت کا ذکر ہے اور پھر توحید خدا ندی کی تائید او شرک کی تردید فرمائی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰہُ وَعْدًا حَسَـنًا فَہُوَ لَاقِيْہِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰہُ مَتَاعَ الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا ثُمَّ ہُوَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ مِنَ الْمُحْضَرِيْنَ۝ 61 وعد الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ، ( وع د ) الوعد ( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 61–69

ترکیب : ھولاء مبتداء، موصوف الذی صلہ موصول صفت اغوینہم خبر کما غوینا صفت ویمکن ھولاء مبتداء الذین الخ خبر اغوینہم جملہ مستانفہ لو انہم کلمہ تسحر۔ اگر شرط ہو تو بارا دہ جواب محذوف۔ تفسیر : پھر دنیا کی نعمت اور آخرت کی مصیبت والے کا اس سے مقابلہ کرکے دکھاتا ہے کہ جس کے لیے حیات جاودانی اور سرور ابدی تیار رکھا ہے، اس کے جانے ہی کی دیر ہے، بقولہ افمن وعدًنہ وعد احسنا فہولا قیہ الخ کہ کیا دونوں شخص برابر ہوگئے ؟ ہرگز نہیں، بھلا کہاں وہ کہ اس کے لیے اس عالم میں بیشمار نعمتیں تیار کر رکھی ہوں اور وہ اس کو ملنے والی ہیں، اس کے برابر ہے کہ جس کو دنیا کی زندگانی کا اسباب عطا ہوا، لیکن قیامت کے روز اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰـہُ وَعْدًا حَسَنًا فَھُوَلاَ قِـیْـہِ کَمَنْ مَّتَّعْنٰـہُ مَتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ثُمَّ ھُوَ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ ۔ (القصص : 61) (بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کر رکھا ہے اور وہ اسے پانے والا بھی ہے کبھی اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جسے ہم نے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے رکھا ہے، پھر وہ قیامت کے دن (کٹہرے میں) حاضر کیے جانے والوں میں سے ہے۔ ) الْمُحْضَرِیْنَ … احضار سے ہے۔ اس کا مفہوم ہے مجرموں کی طرح پکڑ کر حاضر کرنا۔ اس لحاظ سے اس میں ذلت کا معنی پایا جاتا ہے۔ تو مراد اس سے وہ لوگ ہوں گے جو اپنے شرک کے باعث ذلت کے ساتھ میدانِ حشر میں حاضر کیے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 60–61

فہم القرآن ربط کلام : دنیا دار لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ دین پر عمل کرنے سے ان کا نقصان ہوگا۔ اس فرمان میں ان کے اس ذہن کی نفی کی گئی ہے۔ اہل مکہ کا خیال تھا کہ اگر ہم عقیدہ توحید اپنائیں اور دین اسلام کو قبول کریں گے تو لوگ ہمارے مخالف ہوجائیں گے جس سے ہمیں کاروباری لحاظ سے نقصان پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس ذہن کی نفی کرتے ہوئے وضاحت فرمائی ہے کہ اے لوگو ! تم اپنے محدود علم کی بنیاد پر یہ سوچتے ہو کہ اگر تم نے توحید خالص کو اپنایا اور دین اسلام کو اختیار کیا تو تمہیں دنیا کے حوالے سے نقصان پہنچے گا۔ یاد رکھو ! یہ دنیا عارضی اور اس کی زیب وزینت ناپائیدار ہے اگر تمہیں اللہ کے راستے پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

61: اَفَمَنْ وَّعَدْنٰہُ وَعْدًا حَسَنًا (کیا وہ شخص جس سے ہم نے پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے) ۔ یعنی جنت۔ کیونکہ اس سے زیادہ خوبصورت کوئی شئی نہیں اس لئے کہ وہ دائمی ہے۔ اسی لئے جنت کو الحسنٰی فرمایا گیا۔ فَہُوَ لَا قِیْہِ (پس وہ اس کو پانے والا ہے) ۔ دیکھے گا ٗ پالے گا ٗ اس تک پہنچ جائے گا۔ کَمَنْ مَّتَّعْنٰہُ مَتَاعَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ثُمَّ ہُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ (اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کو دنیوی فوائد سے نوازا ہو۔ پھر قیامت کے دن وہ ان لوگوں میں سے ہو جن کو پکڑ کر حاضر کیا جائے گا) ان لوگوں میں سے جن کو آگ پر حاضر کیا جائے گا اور دوسرے موقع پر فرمایا۔ فکذبوہ فانہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

61۔ افمن وعدناہ وعداحسنا، ،، اس سے مراد جنت ہے۔ فھولاقیہ، وہ مصیبت کے مطابق اس کو پائے گا، کمن متعناہ متاع الحیوۃ الدنیا، ، اور وہ عنقریب زائل ہونے والا ہے۔ ثم ھوا یوم القیامۃ من المحضرین، ، اس سے مراد آگ ہے قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد مومن اور کافر ہے، مجاہد کا قول ہے کہ اس کا نزول نبی کریم کے حق میں اور ابوجہل کے حق میں ہوا۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول حمزہ اور ابوجہل کے متعلق ہوا۔ سدی کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول عمار اور ولید بن مغیرہ کے بارے میں ہوا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 61–63

61 تا 63۔ ان آیتوں میں یہ ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مشرکوں سے کہا جاوے گا کہاں ہیں وہ اللہ کے شریک جن کا تم کو دنیا میں بڑا گھمنڈ تھا کیا وہ عذاب سے بچلانے میں تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں پھر فرمایا کہ بہکانے والے کہیں گے اس رب ہمارے یہ لوگ ہیں جن کا بہکا یا ہم نے جس طرح ہم بہکے پھر پوجا کرنے والوں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور کہیں گے کہ وہ ہم کو نہیں پوجتے تھے بہکانے والوں سے مطلب وہی شیاطین الانس والجن ہیں جن ذکر سورة الانعام کی آیت وان الشیطین لیوحون الی اولیائھم میں گزر چکا ہے اور قل اعوذ برب الناس کی تفسری میں بھی یہ ذکر آوے گا پھر قائل کرنے کے لیے مشرکوں سے دوبارہ کہا جائے گا کہ بلاؤ اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 61–65

آیت 61 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دنیا میں زہد کی ترغیب دی ہے نیز انہیں خبردار کیا ہے کہ وہ دنیا کے دھوکے میں نہ آئیں اور یہ کہ وہ آخرت میں رغبت رکھیں، نیز اس نے آخرت کو بندے کا مطلوب و مقصود قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سب کچھ جو مخلوق کو عطا کیا گیا ہے، مثلاً سونا چاندی، حیوانات، مال و متاع، عورتیں، بیٹے، ماکولات، مشروبات اور لذات صرف دنیا کی متاع اور اس کی زینت ہیں۔ بندہ جن سے بہت تھوڑے وقت کے لئے متمتع ہوتا ہے وہ بہت ہی تھوڑی سی متاع ہے جو تکدر سے گھری ہوئی اور غم واندوہ سے لبریز ہے۔ بندہ نہایت قلیل مدت کے لئے فخر وریا کے طور پر اس دنیا سے اپنے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–88

سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 61–62

87 مشرکوں کی تذلیل کا ایک منظر اور ایک تحریف کا جواب : سو اس سے مشرکوں کی تذلیل و تحقیر کے ایک منظر کو پیش فرمایا گیا ہے اور اس سے متعلق اہل بدعت کی ایک تحریف کا جواب بھی دیا جاتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یاد کرو اس دن کو کہ جس دن اللہ ان کو پکار کر پوچھے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم لوگوں کو بڑا گھمنڈ تھا "۔ کہ وہ ہمیں عذاب سے چھڑا دیں گے۔ { شرکائ } کا لفظ عام ہے۔ ہر شریک کو شامل ہے۔ خواہ اس کا تعلق بتوں اور بےجان مورتیوں سے ہو یا انسانوں، جنوں اور پیغمبروں، فرشتوں وغیرہ سے۔ جس کسی کو بھی کسی نے خدائی صفات و اختیارات میں شریک ٹھہرایا ہوگا وہ سب اس میں داخل ہیں۔ اور یہی قول جمہور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–64

ہجرت، مدین میں قیام، فرعون کی طرف واپسی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے سرفرازی نبی کو بھیجنے کا مقصد ‘ نیک و بد کا فرق اور مشرکین کا انجام تشریح : کفار و مشرکین کی خصلتیں ہر زمانے اور ہر دور میں ایک سی ہی رہی ہیں۔ آج کا دور باوجود ترقی کرنے کے اور علم و فضل میں کافی ترقی کر جانے کے کفار وہی ہٹ دھرمی اور ضد رکھتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں رکھتے تھے۔ کبھی کہتے موسیٰ جیسے معجزے دکھائو کبھی کہتے موسیٰ (علیہ السلام) جیسی کتاب لائو۔ حالانکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اہل عرب کیسے ایمان لاسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور حکیم ہے اس لیے وہ نبی بھیجتا رہا تاکہ قیامت کے دن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–75

آیات 61 تا 75 اسرارو معارف اور بھلا جس شخص کو بہت حسین وعدہ دیا اگیا ہو یعنی آخرت کی کامیابی کا اور وہ اسے پانے والا بھی ہو اس کی برابری وہ شخص تو نہیں کرسکتا جس کے پاس چند روز مال و دولت دنیا تو ہو مگر قیامت کے روز اسے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہو وہ ایسا دن ہوگا کہ جب ان کفار و مشرکین پر سوال ہوگا کہ جن لوگوں کو تم نے میرا شریک مان رکھا تھا وہ کہاں ہیں تو وہ لوگ جو یہاں دنیا میں ان کے پیشوا بنے ہوئے ہیں اپنے اوپر جرم ثابت ہوچکنے کے بعد یہ عذر کریں گے کہ اے اللہ خود گمراہ تھے لہذا انہیں بھی وہی کچھ بتایا جس پر خود عمل کرتے تھے لیکن انہوں نے ہماری بات اپنے اختیار سے مانی ہم نے ان پر کوئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

2 ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ خلاف نہیں ہوسکتا۔ 3 ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں شخص ہرگز یکساں نہیں ہوسکتے ہر مومن اور کافر اس آیت کا مصداق بن سکتے ہیں گو بعض نے لکھا ہے کہ حمزہ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کے مزے معمولی بھی ہیں اور عارضی بھی اور آخرت کی نعمتیں اعلیٰ درجہ کی بھی ہیں اور ہمیشہ رہنیوالی بھی اب یہ کوئی عقلمندی نہیں ہے کہ دنیا کے چند روزہ مزوں کی خاطر اپنی آخرت تباہ کرلی جائے۔ (وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:61) لاقیہ : لاقی اسم فاعل واحد مذکر مضاف ہ ضمیر مفعول واحد مذکر اس کو پانے والا۔ اس کو حاصل کرنے والا۔ لقی یلقی (سمع) لقائ۔ لقاء ۃ مصدر۔ متعنہ : متعنا ماضی جمع متکلم۔ تمتیع (تفعیل) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ ہم نے اس کو دنیاوی سامان سے بہرہ یاب کیا۔ المحضرین۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ وہ لوگ جن کو حاضر کیا جائے گا۔ ای محضرین للنار او العذاب۔ وہ دوذخ یا عذاب کے لئے حاضر کئے جائیں گے قرآن مجید میں اور جگہ انہی معنوں میں ارشاد ہے فکذبوہ انھم لمحضرون ۔ (37:127) تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلا دیا۔ سو وہ (دوزخ میں) حاضر کئے جاویں گے اور ولولا نعمۃ ربی لکنت من المحضرین (37:57) اور اگر میرے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 56–61

لغات القرآن آیت نمبر 56 تا 61 ) ۔ لا تھدی (تو ہدایت نہیں دیتا ) ۔ احببت (تو نے چاہا۔ تو نے پسند کیا ) ۔ نتخطف (ہم اچک لئے جائیں گے ) ۔ لم نمکن (ہم نے ٹھکانا نہیں دیا ) ۔ یجبی (کھنچے آتے ہیں ) ۔ ثمرات (ثمرۃ) (پھل، پھول، سبزہ۔ سبزی ) ۔ لدنا (ہمارے پاس ) ۔ بطرت (اترائی ۔ (ناز کیا) ۔ معیشتہ (زندگی گذارنا) ۔ لم تسکن (آباد نہ ہوئے) ۔ یبعث (وہ بھیجتا ہے۔ اٹھاتا ہے) ۔ لا قیہ (اس کو پانے والا ) ۔ متعنا (ہم نے سامان دیا ) ۔ المحضرین (حاضر کئے گئے) ۔ تشریح : آیت نمبر (56 تا 61 ) ۔ ” سورة القصص کی گذشتہ آیات کی تشریح میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ملک حبش سے بیس آدمیوں کی ایک جماعت دین اسلام، نبی کریم ﷺ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 58–61

(ف 1) ارشاد ہوتا ہے کہ اور بہت سی بستیاں ہم نے ہلاک کرڈالیں، کہ ان کے رہنے والوں نے اپنی زندگی میں سرکشی کی تھی، پس جس بستی نے ہمارا کفران نعمت کیا اور عیش و عشرت میں ہمارے احکام کو پس پشت ڈال دیا ہم نے ان کو ایسا برباد اور ہلاک کیا کہ آج صفحہ ہستی پر ان کانشان تک باقی نہیں ہے۔ لیکن ہلاک کرنے سے قبل یہ ہم نے ضرور کیا ہے کہ ان کے پاس اپنے رسول بھیجے ہیں کہ وہ ہمارے احکام انہیں پڑھ کرسنائیں، جب ان لوگوں نے پشت پھیری اور نافرمانی کی، تو ہم نے ان کو ہلاک وبرباد کردیا، آگے فرمایا جو کچھ چیز تم کو دنیا میں دی گئی ہے تو وہ محض چند روزہ دنیا میں دی گئی ہے تو وہ محض چند روزہ دنیا کی زندگی کا برتاوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 60–61

[37] یہاں مشرکین مکہ سے کہا جا رہا ہے کہ دنیا کے فائدے چند روزہ ہیں اور وہ زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوجائیں گے۔ اس کے برعکس اللہ کے پاس جو نعمتیں ہیں وہ دنیوی نعمتوں سے بہتر بھی ہیں اور ابدی بھی۔ اس لئے محض چند روزہ دنیوی نعمتوں کی خاطر تم انکار کی روش پر قائم رہے تو آخرت میں تمہیں اس کا نتیجہ دائمی خسارے کی شکل میں بھگتنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 60–61

دیندار اور مادہ پرستی 1: اس آیت میں منکرین کے شبہ کا جواب ہے کہ اگر ہم اسلام قبول کریں گے تو نتخطف من او حتتا یعنی ہمیں ہماری سرزمین سے نکال باہر کیا جائے گا ۔ اور املاک و دولت سب کچھ چھین لیا جائے گا ۔ ارشاد ہے کہ کیا تم دولت عقبی کے مقابلہ دنیائے ونی کے سامان عیش و عشرت سے کرتے ہو ۔ کیا تمہیں معلوم نہیں ۔ کہ یہ سب کچھ عارضی وفانی ہے ۔ اور آخرت کی نعمتیں باقی رہنے والی اور دائمی ہیں ۔ اور منافع کے لحاظ سے کہیں بہتر اور موزوں ہیں فرمایا پھر اس بات پر بھی غور کرو کہ دیندار اور دنیا دار کیا اگر اور درجہ میں برابر ہیں ؟ دیندار اور متقی کے لئے جنت کے پر بہار دروازے کھلے ہوں گے ۔ اور دنیا کے طالب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

61۔ آگے قیامت کی مختصر تفصیل ہے بھلا ایک وہ شخص جس سے ہم نے ایک اچھا اور پسندیدہ وعدہ کررکھا ہے پھر وہ شخص اس وعدے کی چیز سے ملنے والا اور اس وعدے کو پانے والا بھی ہے کیا ایسا شخص اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا کچھ سامان برتنے کو دے رکھا ہے پھر وہ قیامت کے دن ان لوگوں میں سے ہونے والا ہے جو مجرمانہ حیثیت سے پیش کئے جانے والے ہیں ۔ شاید حضرت علی اور حضرت حمزہ ؓ اور ابو جہل کے مابین سخت گفتگو ہوئی تھی ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی یا شاید عمار بن یاسر ؓ ، اور ولید بن مغیرہ کی باہمی تکرار کے سلسلے میں نازل ہوئی۔ بہر حال ! ایک مومن کامل اور دنیادار کافر کے مابین جو فرق ہے اس کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ مراد پہلے شخص سے مومن ہے جس سے جنت کا وعدہ ہے، اور دوسرے سے مراد کافر ہے جو مجرم ہو کر آوے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دنیا حاصل کرنے والا فائدے میں رہا یا آخرت کا متلاشی فیصلہ خود کرلو : 61۔ ہمارے ہاں اصول یہ طے ہے کہ جو متلاشی ہوتا ہے وہ پالیتا ہے اور جو تلاش نہیں کرتا اس کو کبھی بھی نہیں دیا جاتا اور اس کے ساتھ یہ بھی کہ جس کی اس کو تلاش ہوتی ہے وہی اس کو ملتا ہے ایسا کبھی نہی ہوسکتا کہ کوئی شخص دنیا کی طلب رکھے اور اس کے ہاتھ میں آخرت تھما دی جائے اور ایک آخرت کی طلب رکھتا ہو اور اس کو دنیا دے کر ٹرخا دیا جائے ، ہاں ! یہ دوسری بات ہے کہ مسلمان کی طلب کیا ہے ؟ فرمایا ملتا تو وہی ہے جو جس کی طلب ہوتی ہے اور اگر طلب صادق ہے تو جب تک اس کو وہ دیا نہ جائے گا وہ آخر مطمئن ہی کیوں ہوگا لہذا صرف دنیا طلب کرنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The very first question infidels and disbelievers will be asked at the Tumultuous Place (mahshar) will be about shirk (associating someone else with Allah), that is, ` where are those Shaitans today whom you used to associate with Us? Can they provide you any help today?' In response to these queries the disbelievers would say that it was not a fault of theirs, as they did not associate them with Allah on their own. It was the Shaitan who deluded them. Then Allah Ta’ ala would ask the Shaitans to say if they had anything in their defense; who, while accepting their role of deceit,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 60–61

84 This is the fourth answer to their excuse. To understand it fully one should bear in mind two things: First, the present life which is no more than a few years for anyone, is only the temporary phase of a journey. The real life which will be everlasting is yet to come. In this life man may amass as much provision as he may please and live the few years at his disposal as comfortably as he can, it will in any case come to an end, and man will depart from the world empty-handed. No sensible person will like to make the bad bargain of suffering the everlasting distress and affliction in the…

Read the full tafseer →