Al-Qasas 28:50

Al-Qasas · from ayah 50

28:50

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ ؕ— وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًی مِّنَ اللّٰهِ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۟۠فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَـتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ‌ ؕ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰٮهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ

پھر اگر یہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں۔ اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے۔ بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

But if they do not respond to you - then know that they only follow their [own] desires. And who is more astray than one who follows his desire without guidance from Allah? Indeed, Allah does not guide the wrongdoing people.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 5 of surah · Ruku 8 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:50

اب اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں، اور اُس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر اگر یہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں۔ اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے۔ بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر اگر یہ تیری نہ مانیں تو تو یقین کرلے کہ یہ صرف اپنی خواہش کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے؟ جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہو بغیر اللہ کی رہنمائی کے، بیشک اللہ تعالیٰ ﻇالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر اگر یہ تمہاری فرمائش پوری نہ کریں، تو سمجھ لو کہ درحقیقت یہ لوگ اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں، اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہش کے پیچھے چلے ؟ بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اگر وہ یہ تمہارا فرمانا قبول نہ کریں تو جان لو کہ بس وہ اپنی خواہشو ں ہی کے پیچھے ہیں، اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اپنی خواہش کی پیروی کرے اللہ کی ہدایت سے جدا، بیشک اللہ ہدایت ہیں فرماتا ظالم لوگوں کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اگر وہ آپ کا ارشاد قبول نہ کریں تو آپ جان لیں (کہ ان کے لئے کوئی حجت باقی نہیں رہی) وہ محض اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، اور اس شخص سے زیادہ گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی جانب سے ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔ بیشک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں فرماتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اگر وہ تیری بات قبول نہ کریں تو جان لے کہ وہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔ بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اگر وہ کوئی جواب نہ دے سکیں تو جان لیجئے کہ وہ صرف اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر محض اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اگر وہ تمہارا یہ چیلنج قبول نہ کریں تو یقین کرو کہ بس یہ اپنی خواہشوں کے پیرو ہیں اور ان سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کے پیرو بنے ہوئے ہیں اللہ ظالموں کو ہرگز راہ یاب نہیں کرے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر اگر یہ لوگ آپ کا یہ مطالبہ پورا نہ کرسکیں تو یقین جان لو کہ یہ لوگ محض اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے بڑھ کر گمراہ اور بدبخت اور کون ہوسکتا ہے ؟ جو اپنی خواہشات ہی کے پیچھے چلتا ہو ؟ بغیر اللہ کی کسی ہدایت کے بیشک اللہ ہدایت کی دولت سے سرفراز نہیں فرماتا ایسے ظالم لوگوں کو۔

— مولانا اسحاق مدنی

پھر اگر یہ لوگ آپ کا یہ کہنا نہ کرسکیں تو آپ سمجھ لیجیے کہ یہ لوگ محض اپنی نفسانی خواہشوں پر چلتے ہیں۔ اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہوگا جو شخص محض اپنی نفسانی خواہش پر چلے بغیر اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کرتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر اگر یہ لوگ آپ ﷺ کی بات کو قبول نہ کریں تو جان لیں کہ یہ لوگ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو اپنی خواہشات کی پیروی کر رہا ہو اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بغیر یقیناً اللہ ایسی ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اگر یہ آپ کی بات نہ مانیں تو جان لیں کہ یہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں ‘ اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But if they do not hearken to this, know well that they only follow their lusts and who is in greater error than he who follows his lusts without any guidance from Allah? Allah does not guide those given to wrong-doing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So if they do not respond to you, be sure that they are only following their desires. And who is more astray than the one who follows his desire without guidance from Allah. Surely Allah does not take the wrongdoing people onto the right path.

— Muhammad Taqi Usmani

So if they do not respond to you, be sure that they are only following their desires. And who is more astray than the one who follows his desire without guidance from Allah. Surely Allah does not take the wrongdoing people onto the right path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But if they answer you not, then know that they only follow their own lusts. And who is more astray than one who follows his own lusts, without guidance from Allah Verily, Allah guides not the people who are wrongdoers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if they answer thee not, then know that what they follow is their lusts. And who goeth farther astray than he who followeth his lust without guidance from Allah. Lo! Allah guideth not wrongdoing folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But if they do not respond to you - then know that they only follow their [own] desires. And who is more astray than one who follows his desire without guidance from Allah? Indeed, Allah does not guide the wrongdoing people.

— Saheeh International

If they cannot meet such a challenge, know that they are only following their (evil) desires. Who strays more than one who follows his desires without guidance from God? God does not guide the unjust people.

— Muhammad Sarwar

But if they do not answer you, then know that they only follow their low desires; and who is more erring than he who follows his low desires without any guidance from Allah? Surely Allah does not guide the unjust people.

— Muhammad Habib Shakir

Then if they answer thee not, know thou that they only follow their own desires; and who is farther astray than he who followeth his desire without guidance from Allah? Verily Allah guideth not a wrong- doing people.

— Abdul Majid Daryabadi

But if they hearken not to thee, know that they only follow their own lusts: and who is more astray than one who follow his own lusts, devoid of guidance from Allah? for Allah guides not people given to wrong-doing.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 48–51

پہلے بیان ہوا کہ اگر نبیوں کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان پر عذاب بھیج دیتے تو ان کی یہ بات رہ جاتی کہ اگر رسول ہمارے پاس آتے تو ہم ضرور ان کی مانتے اس لیے ہم نے رسول بھیجے۔ بالخصوص رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کو آخر الزمان رسول بنا کر بھیجا۔ جب حضور ﷺ انکے پاس پہنچے تو انہوں نے آنکھیں پھیر لیں منہ موڑلیا اور تکبر عناد کیساتھ ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کہنے لگے جیسے حضرت موسیٰ کو بہت معجزات دئے گئے تھے جیسے لکڑی اور ہاتھ طوفان ٹڈیاں جوئیں مینڈک خون اور اناج کی پھلوں کی کمی وغیرہ جن سے دشمنان الٰہی تنگ آئے اور دریا کو چیرنا اور ابر کا سایہ کرنا اور من وسلویٰ کا اتارنا وغیرہ جو زبردست اور بڑے بڑے معجزے تھے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 49–50

سورة القصص 70 یعنی مجھے تو ہدایت کی پیروی کرنی ہے، بشرطیکہ وہ کسی کی من گھڑت نہ ہو، بلکہ خدا کی طرف سے حقیقی ہدایت ہو، اگر تمہارے پاس کوئی کتاب اللہ موجود ہے جو قرآن اور توراۃ سے بہتر رہنمائی کرتی ہو تو اسے تم نے چھپا کیوں رکھا ہے ؟ اسے سامنے لاؤ میں بلا تامل اس کی پیروی قبول کرلوں گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–50

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ ، یہاں اس قوم سے عرب مراد ہیں جو حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں ہیں اور ان کے بعد سے خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے تک ان میں کوئی پیغمبر مبعوث نہ ہوا تھا یہی مضمون سورة یٰسٓ میں بھی آنے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دوسری جگہ قرآن کریم کا یہ ارشاد کہ وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ کہ کوئی امت ایسی نہیں جس میں اللہ کا کوئی پیغمبر نہ آیا یہ اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ مراد اس آیت کی یہ ہے کہ زمانہ دراز سے حضرت اسماعیل ؑ کے بعد ان میں کوئی نبی نہیں آیا مگر نبی و رسول کے آنے سے بالکل خالی یہ امت بھی نہیں رہی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی اگر تمہارے اس چیلنج کے جواب میں یہ ان دونوں سے زیادہ ہدایت بخش کوئی کتاب پیش بھی نہیں کرتے اور ان میں سے کسی کی پیروی کے لئے بھی تیار نہیں تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے نفس کی خواہشوں کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو جو اللہ کی ہدایت کے بغیر محض اپنی خواہشوں کا پیرو ہے اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا ! نفس کی خواہشیں صرف اپنے مطالبے پورا کرنا چاتی ہیں۔ ان کے اندر حق و باطل اور خیر و شر میں امتیاز کی صلاحیت نہیں ہے اور بسا اوقات وہ اتنی زور آور ہوجاتی ہیں کہ بڑی آسانی سے انسان کی عقل کو بھی مغلوب کرلیتی ہیں اس وجہ سے انسان کے لئے فلاح کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ ان خواہشوں کی پیروی اللہ کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

50-1یعنی قرآن و تورات سے زیادہ ہدایت والی کتاب پیش نہ کرسکیں اور یقینا نہیں کرسکیں گے۔ 50-2یعنی اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہدایت کو چھوڑ کر خواہش نفس کی پیروی کرنا یہ سب سے بڑی گمراہی ہے اور اس لحاظ سے یہ قریش مکہ سب سے بڑے گمراہ ہیں جو ایسی حرکت کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–50

27: یعنی جس طرح حضرت موسیٰ ؑ کو پوری تورات ایک ہی مرتبہ عطا کردی گئی تھی، اسی طرح آپ کو سارا قرآن ایک ہی مرتبہ کیوں نہیں دیدیا گیا، اس اعتراض کا یہ جواب آگے دیا گیا ہے کہ تم لوگ تورات پر کونسا ایمان لے آئے تھے جو قرآن کے بارے میں یہ مطالبہ کررہے ہو ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 44–51

درس نمبر 177 تشریح آیات 44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی جب یہ لوگ نہ ہدایت کو قبول کرتے ہیں اور نہ اس کے مقابلہ میں کوئی چیز پیش کرسکتے ہیں تو یہ ہی اس کی دلیل ہے کہ ان کو راہ ہدایت پر چلنا مقصود ہی نہیں محض اپنی خواہشات کی پیروی ہے، جس چیز کو دل چاہا مان لیا۔ جس کو اپنی مرضی اور خواہش کے خلاف پایا رد کردیا۔ بتلائیے ایسے ہوا پرست ظالموں کو کیا ہدایت ہوسکتی ہے۔ اللہ کی عادت اسی قوم کو ہدایت کرنے کی ہے جو ہدایت پانے کا ارادہ کرے اور محض ہوا و ہوس کو حق کا معیار نہ بنا لے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 50 فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَکَ ” آپ ﷺ کی اس دلیل کو بھی اگر یہ لوگ تسلیم نہ کریں :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

68 ان کی باتوں اور ان کے اعتراضات سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ یہ لوگ قطعاً ہدایت کے طالب نہیں ہیں بلکہ یہ صرف ایسی کتاب کی پیروی کرسکتے ہیں جو ان کے مشرکانہ مذہب اور ان کی خواہشات کے مطابق ہو۔ گویا یہ لوگ اپنی ہی خواہشات کے پیرو اور پرستار ہیں۔ لہذا ایسے لوگوں کو ہدایت کیسے نصیب ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

68۔ یعنی اگر آپ کا یہ چیلنج یہ لوگ نہ قبول کرسکیں، اور یقیناً نہ کرسکیں گے تو آپ یقین کرلیجئے کہ ان کے انکار کا منشا کوئی اشتباہ عقلی کوئی نادانستہ غلط فہمی نہیں بلکہ محض ان کی خواہش نفس ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ جس طرح بھی بن پڑے بس انکار ہی کیے جانا چاہیے۔ 69۔ ظالم لوگوں کو یعنی ایسے لوگوں کو جو اپنی ضلالت پر مصر ہیں اور قصد ہی ہدایت پانے کا نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–50

آیت نمبر 43 تا 50 ترجمہ : اور ہم نے پہلی امتوں (مثلاً ) قوم نوح و عاد وثمود وغیرہ کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی جو لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت تھی گمراہی سے اس شخص کے لئے جو اس پر عمل کرے اور رحمت تھی اس کے لئے جو اس پر ایمان لائے تاکہ نصیحت حاصل کریں ان نصیحتوں سے جو اس میں ہیں بصَائر للناسً ، الکتاب سے حال ہے اور بَصَائر بصِیٌرَۃ کی جمع ہے اور بصیرت نور قلبی کو کہتے ہیں اور بصائر کا مطلب ہے انوار القلوب اور اے محمد تم مناجات کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی مغربی پہاڑ کی جانب یا غربی وادی کی جانب یا غربی مکان کی جانب موجود نہیں تھے جب ہم نے فرعون اور اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فان لم یستجیبوا لک فاعلم انما یتبعون اھوآء ھم . پھر اگر یہ آپ کے کہنے کو پورا نہ کرسکیں تو آپ سمجھ لیں کہ یہ لوگ محض اپنی نفسانی خواہشات پر چلتے ہیں۔ یعنی آپ جو ان سے ایسی کتاب پیش کرنے کو کہہ رہے ہیں جو قرآن و توریت سے زیادہ ہدایت آگین ہو۔ اگر یہ لوگ ایسی کتاب پیش نہ کرسکیں تو جان لیجئے کہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ‘ اگر کوئی دلیل ہوتی تو پیش کرتے۔ ومن اضل ممن اتبع ھوہ بغیر ھدی من اللہ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین . اور ایسے شخص سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو نفسانی خواہشات پر چلتا ہو بغیر اس کے کہ اللہ کی طرف سے کوئی دلیل اس کے پاس ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے ناحق کوش لوگوں کو اللہ ہدایت نہیں کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(50) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پھر اگر اس احتجاج کے بعد یہ گمراہ آپ کا کہا پورا نہ کرسکیں تو آپ سمجھ لیجے کہ یہ لوگ کفر و شرک اور بتوں کی پوجا میں گرفتار ہیں۔ اور حق وہدایت سے اس شخص سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو کفر وشرک اور بتوں کی پوجا میں گرفتار و سوائے اس کے اللہ کی طرف سے اس کے پاس اس چیز پر کوئی دلیل ہو اور اللہ تعالیٰ ایسے مشرکوں یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کو اپنے دین کی ہدایت نہیں کیا کرتا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ۔۔ : پھر اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ قبول نہ کریں تو جان لو کہ ان کے پاس کوئی دلیل یا حجت نہیں، بلکہ وہ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ یہ مطالبہ قبول کرسکتے ہیں، بلکہ یہ بات ان کے عجز کے اظہار کے لیے کہی جا رہی ہے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ایسی کتاب کہاں سے آسکتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے فرمایا : فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ) [ البقرۃ : 24 ] ”پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا اور نہ کبھی کرو گے تو اس آگ سے بچ جاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔“ وَمَنْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 50–51

فان لم یستجیبوالک اے محمد ! ﷺ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے کتاب نہ لا سکیں فاعلم انما یتبعون اھوآء ھم تو یہ جان لو کہ وہ اپنے دلوں کی خواہش کی پیروی کر رہے ہیں اور جس چیز کو وہ اچھا خیال کرتے ہیں اور شیطان جس چیز کو ان کے لئے محبوب بنا کر پیش کرتا ہے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ ومن اضل ممن اتبع ھو بہ بغیر ھدی من اللہ کوئی اس سے بڑھ کر گمراہ نہیں ان اللہ لایھدی القوم الظلمین ولقد وضلما لھم القول یعنی ایک کے بعد دوسرا قول بھیجا اور ایک رسول کے بعد دوسرا رسول مبعوث کیا۔ حضرت حسن بصری نے پڑھا : وصلنا یہ مخفف ہ۔ ابو عبیدہ اور اخفش نے کہا : وصلنا کا معنی ہے ہم نے مکمل کیا جس طرح تو کسی چیز کو مکمل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 47–50

زمانہ فترت کے لوگوں کی عذر خواہی 1۔ ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نبوت کے منقطع ہونے کے زمانہ میں ہلاک ہونے والا کہے گا اے میرے رب میرے زمانہ میں کوئی کتاب آئی اور نہ کوئی رسول آیا۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت فیقو لوا ربنا لو لا ارسلت الینا رسول فنتبع اٰیتک ونکون من المومنین یعنی اے ہمارے رب تو نے ہمارے پس کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیرے احکام پر چلتے اور ایمان والوں میں سے ہوجاتے 2۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ انے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلما جاء ہم الحق من عندنا قالوا لولا اوتی مثل ما اوتی موسیٰ ، اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل قالوا سحران تظہرا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاِنْ [پھر اگر ] لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا [وہ لوگ جواب نہ دیں ] لَكَ [آپ ﷺ کو ] فَاعْلَمْ [تو آپ ﷺ جان لیں ] اَنَّمَا [کہ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] يَتَّبِعُوْنَ [وہ لوگ پیروی کرتے ہیں ] اَهْوَاۗءَهُمْ ۭ [اپنی خواہشات کی ] وَمَنْ [اور کون ] اَضَلُّ [زیادہ گمراہ ہونے والا ہے ] مِمَّنِ [اس سے جس نے ] اتَّبَعَ [پیروی کی ] هَوٰىهُ [اپنی خواہش کی ] بِغَيْرِ هُدًى [کسی ہدایت کے بغیر ] مِّنَ اللّٰهِ ۭ [اللہ (کی طرف) سے ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] لَا يَهْدِي [ہدایت نہیں دیتا ] الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ [ظلم کرنے والی قوم کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یہ لوگ اگر آپ کی بات قبول نہ کرسکیں اور قبول کر بھی نہیں سکتے کیونکہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب نہیں ہے تو آپ سمجھ لیں کہ یہ لوگ ہدایت کی تلاش میں ہیں ہی نہیں یہ تو حق سے منہ موڑنے کے لیے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ ان کا یہی طریقہ ہے کہ اپنی خواہشوں کا اتباع کرتے ہیں جس کے پاس اللہ کی ہدایت نہ ہو اور وہ اپنی خواہشات نفسانی ہی کا اتباع کرتا رہے اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے۔ (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ) (بلاشبہ اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا) جو وضوح حق کے بعد ہدایت سے منہ موڑے اور نفسانی خواہشات کے پیچھے چلتا رہے۔ (اَھْدٰی مِنْھُمَآ) میں تثنیہ کی ضمیر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–50

اتمام حجت وقطع معذرت ولو لا ان یصیبہم مصیبۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں بعثت رسل اور نزول کتاب الٰہی کا ذکر تھا اب ان آیات میں اسی مسئلہ کو مدلل اور مبرہن کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ بعثت رسل اللہ کی حجت بالغہ ہے جس سے بندوں پر حجت پوری ہوجاتی ہے اور اسی ذیل میں کافروں کے چند حیلوں اور بہانوں کا ذکر کر کے جواب دیتے ہیں کہ بعثت رسل کے بعد کافر یہ عذر نہیں کرسکیں گے کہ ہم کو بلاوجہ کیوں عذاب دیا جا رہا ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ اللہ کا عذاب حجت پوری ہوجانے کے بعد آتا ہے اور بعثت رسل اللہ کی حجت بالغہ ہے جس سے حجت پوری ہوجاتی ہے اور مجرم کے لئے عذر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 50–51

48:۔ یہ ترغیب الی القرآن ہے۔ ہم نے کفار مکہ کے پاس پے بہ پے اور مسلسل آیات بھیجیں اور مسئلہ توحید کو ہر طرح واضح کیا تاکہ وہ سمجھیں اور مانیں لیکن اگر اس کے باوجود بھی وہ نہیں مانتے تو نہ مانیں جن کو اللہ نے توفیق دی ہے وہ تو مان ہی لیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 47–50

ربط آیات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات بیان کرنے کے بعد حضور خاتم النبیین ﷺ کی نبوت و رسالت کا ذکر ہوا۔ اللہ نے واضح طور پر فرمایا کہ اے نبی (علیہ السلام) ! جب موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت عطاہو رہی تھی تو آپ تو وہاں موجود نہیں تھے۔ جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی تھی تو آپ نے تو وہ آواز نہیں سنی تھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارے واقعات ہم نے اپنی خاص مہربانی سے بذریعہ وحی آپ کو بتلائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی نبی اور رسول بنایا ہے اور آپ کو ایک عظیم المرتبت کتاب بھی عطا فرمائی ہے ۔ مقصود یہ ہے کہ آپ اس کتاب کے ذریعے ان لوگوں کو خبردار کردیں اور ڈرا دیں جن کے پاس پہلے کوئی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِنْ لَّمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا يَتَّبِعُوْنَ اَہْوَاۗءَہُمْ۝ 0ۭ وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ بِغَيْرِ ہُدًى مِّنَ اللہِ۝ 0ۭ اِنَّ اللہَ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِـمِيْنَ۝ 50ۧ استجاب والاستجابة قيل : هي الإجابة، وحقیقتها هي التحري للجواب والتهيؤ له، لکن عبّر به عن الإجابة لقلة انفکاکها منها، قال تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24] ، وقال : ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ [ غافر/ 60] ، فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي [ البقرة/ 186] ، فَاسْتَجابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ [ آل عمران/ 195] ، وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ الشوری/ 26]…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–50

ترکیب : لولا کلمہ شرط ان تصیبہم ان مصدر یہ بما تصیبھم سے متعلق ای لولا اصابۃ المصیبۃ علیھم بسبب ما ای اعمال سیئۃ قدمت والعائد محذوف ای اعمال کسبوھا فیقولواتفریح یا تعقیب کے لیے پورے جملہ مقدمہ سے یعنی لووقع علیھم المصیبۃ باعمالھم لقالوا ربنا الخ یہ سب جملہ حیز شرط میں ہے جو اب مخدوف ما ارسلناک الیھم رسولا۔ قالوا سحران جملہ بیان ہے۔ اولم یکفروا کا ساحران بالا لف ای موسیٰ و ہارون و قیل موسیٰ و محمد وبغیر الالف سحران القرآن والتوراتہ۔ تفسیر : لولا ان تصیبہم مصیبتہ یہاں سے پھر اسی رسولوں کے بھیجنے کے مسئلہ کو مدلل کرتا ہے کہ ہم اس لیے بھی رسول بھیجا کرتے ہیں کہ لوگ جب ان پر ان کے اعمالِ بد کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَـکَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَھْوَآئَ ھُمْ ط وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ھَـواہُ بِغَیْرِ ھُدًی مِّنَ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (القصص : 50) (پس اگر وہ آپ کا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو یقین کر لیجیے کہ یہ دراصل اپنی خواہشات کے پیرو ہیں اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے، اللہ ظالموں کو ہرگز راہ یاب نہیں کرے گا۔ ) ہدایت کی پیروی سے گریز کرنے والا خواہشات کا پیرو ہے اگر یہ لوگ آپ ﷺ کے اس چیلنج کے جواب میں تورات اور قرآن کریم سے زیادہ کوئی ہدایت بخش کتاب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–50

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو جادو گر اور قرآن مجید کو من ساختہ کتاب قرار دینے والوں کو چیلنج۔ نبی اکرم ﷺ کے سچا رسول اور قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے کے ثبوت میں قرآن مجید نے منکرین کو بار بار چیلنج کیا ہے کہ اگر تمہیں رسول کے سچا اور قرآن مجید کے کتاب الٰہی ہونے میں شک ہے تو تم بھی ایسی کتاب لے آؤ۔ ہاں تمہیں یہ بھی اختیار دیا جاتا ہے کہ پورا قرآن نہیں بناسکتے تو ایک سورة ہی اس کی سورة جیسی بنا کرلے آؤ۔ بیشک اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا جس سے مدد لے سکتے ہو اس سے مدد حاصل کرو لیکن یاد رکھو نہ تم نے آج تک یہ کام کیا ہے اور نہ قیامت تک کر سکوگے۔ قرآن مجید بنانا تو درکنار اس کی سورة…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

50: فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَکَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَہْوَآئَ ہُمْ (پھر اگر وہ آپ کی بات کو پورا کرسکیں تو سمجھ لیں کہ یہ لوگ محض اپنی نفسانی خواہشات کے پیرو ہیں) ۔ پھر اگر وہ زیادہ ہدایت والی کتاب لانے کے مطالبے کو پورا نہ کرسکیں تو تم سمجھ لو کہ ان پر الزام پورا ہوگیا اور ان کے پاس کوئی دلیل سوائے اتباع خواہشات کے باقی نہیں۔ وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ہَوٰہُ بِغَیْرِہُدًی مِّنَ اللّٰہِ (اور ایسے شخص سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو اپنی نفسانی خواہشات پر چلنے والا ہو بغیر اس کے کہ کوئی دلیل اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے پاس ہو) ۔ یعنی اس سے بڑا کوئی گمراہ نہیں جس نے دین کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

50۔ فان لم یستجیبوا لک، ،، آپ جوان سے ایسی کتاب پیش کرنے کی کہہ رہی ہیں وہ یہ کتاب ہرگز نہیں لاسکتے۔ فاعلم انما یتبعون اھواء ھم ، ومن اضل، ،، ،، ،، تا۔۔۔۔۔۔۔ القو م الظالمین۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–53

50 تا 53۔ حضرت نوح جو سب سے پہلے صاحب شریعت نبی ہیں ان کے زمانہ سے لے کر فرعون کے غرق ہونے تک جس قدر پہلی امتیں اللہ کے رسولوں کی نافرمانی میں ہلاک ہوئیں ان کا ذکر قرآن شریف میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اوس ذکر میں سے فرعون کے غرق ہونے کے تذکرہ کا ٹکڑا اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں ذکر فرما کر اس آیت میں رسول ﷺ کے نافرمان لوگوں کو ڈرا دیا ہے اور فرمایا ہے کہ پہلی امتوں کا پے درپے اس لیے ذکر کیا جاتا ہے کہ پہلے نافرمان لوگوں کا حال گھڑی گھڑی سن کر حال کے زمانہ کے نافرمان لوگوں کو ایک طرح کی عبرت اور نصیحت اس بات کی ہو کہ اگر یہ حال کے زمانہ کے لوگ رسول قوت کی نافرمانی سے باز ؓ آویں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 27–54

شعراء کی دو اقسام قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

64 ظالم لوگ نور حق و ہدایت سے سرفراز نہیں ہوسکتے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ تعالیٰ ہدایت کی دولت سے نہیں نوازتا ظالم لوگوں کو "۔ کیونکہ وہ ربِّ رحمن و رحیم ہدایت کی نعمت عظمیٰ سے نوازتا اسی کو ہے جس کے دل میں حق اور ہدایت کی طلب ہو۔ اور وہ طلب ایسے ظالموں کے پاس ہوتی نہیں۔ اس لئے یہ ہدایت کے نور سے سرفراز و فیضیاب نہیں ہوسکتے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ تمہارے اس چیلنج کے جواب میں نہ کوئی ایسی کتاب پیش کرسکتے ہیں جو ان دونوں یعنی قرآن اور تورات سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو اور نہ ہی یہ ان دونوں کی پیروی کیلئے تیار ہوتے ہیں تو اس کا صاف اور واضح مطلب یہی ہے کہ یہ لوگ حق…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–64

ہجرت، مدین میں قیام، فرعون کی طرف واپسی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے سرفرازی نبی کو بھیجنے کا مقصد ‘ نیک و بد کا فرق اور مشرکین کا انجام تشریح : کفار و مشرکین کی خصلتیں ہر زمانے اور ہر دور میں ایک سی ہی رہی ہیں۔ آج کا دور باوجود ترقی کرنے کے اور علم و فضل میں کافی ترقی کر جانے کے کفار وہی ہٹ دھرمی اور ضد رکھتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں رکھتے تھے۔ کبھی کہتے موسیٰ جیسے معجزے دکھائو کبھی کہتے موسیٰ (علیہ السلام) جیسی کتاب لائو۔ حالانکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اہل عرب کیسے ایمان لاسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور حکیم ہے اس لیے وہ نبی بھیجتا رہا تاکہ قیامت کے دن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–50

آیات 43 تا 50 اسرار ومعارف اور جب پہلی امتیں اپنی گمراہی کے سبب ہلاک ہوگئیں تو ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرما کر مبعوث فرمایا جس میں بصائیر یعنی عقل سلیم کی رہنمائی کرنے والی باتیں اور صحیح رہنمائی اور اللہ کی رحمت تھی کہ حق بات عقل سلیم کو اپیل کرتی ہے پھر بندہ ایمان قبول کرتا ہے تو یہ ہدایت ہوگی اور پھر اعمال صالح نصیب ہوتے ہیں جو رحمت ہیں اور یہ اہتمام اس لیے فرمایا کہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور جب یہ سب ہورہا تھا یا موسیٰ (علیہ السلام) سے بات ہو رہی تھی تو انہیں کتاب عطا ہوئی تو آپ طور پر تشریف نہ رکھتے تھے کہ آپ نے وہ واقعہ دیکھا ہو پھر بر شمار لوگ گزرے اور زمانے بیت گئے یہ باتیں لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 49–50

5 ۔ یعنی اگر ان دونوں سے بہتر کتاب پیش نہ کرسکیں۔ (کبیر) 6 ۔ مطلب یہ ہے کہ ہدایت تو انہی لوگوں کو نصیب ہوسکتی ہے جن کے دل ضد اور ہٹ دھرمی سے پاک ہوں اور وہ حق کی معرفت کے بعد اسے قبول کرنے کو تیار ہوں مگر جن کے دلوں میں زیغ وعناد ہو انہیں راہ ہدایت کیسے مل سکتی ہے ؟

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:50) لم یستجیبوا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ استجابۃ استفعال۔ مصدر۔ فان لم یستجیبوا۔ پھر اگر وہ (لوگ) تجھے جواب نہ دیں۔ یا ایسا نہ کرسکیں۔ یا آپ کے چیلنج قبول نہ کریں۔ اضل۔ افعل التفضیل کا صیغہ۔ زیادہ بےراہ۔ زیادہ گمراہ۔ ضلال مصدر ممن۔ مرکب ہے من اور من سے۔ اس سے جو،

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 43–50

لغات القرآن : آیت نمبر 43 تا 50 : القرون الاولی (گذری ہوئی جماعتیں۔ زمانہ) بصائر (آنکھیں کھولنے والی باتیں) ‘ الشھدین ( دیکھنے والے) انشا نا ( ہم نے اٹھایا۔ ہم نے پیدا کیا) تطاول (طویل ہوگئی) العمر (مدت) ثاوی (رہنے والے) قدمت ایدی (آگے بھیجا۔ دونوں ہاتھوں کے آگے) ‘ سحران ( دو جادو) ‘ تظھرا (ایک دوسرے کے موافق) ‘ اھدی (زیادہ ہدایت) ‘ لم یستجیبوا (جواب نہ دیا) ‘ اھواء (ھوائ) خواہشیں۔ تمنائیں) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 43 تا 50 : سورۃ القصص کی گذشتہ آیات اور قرآن کی متعدد سورتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو کسی جگہ تفصیل سے اور کہیں مختصر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 47–50

آنحضرت ﷺ پر مشرکین کا اعتراض۔ (ف 1) ان آیتوں میں قریش کو یوں قائل کیا کہ جب ان لوگوں میں سے کوئی رسول نہ تھا اور کوئی کتاب اللہ کی طرف سے ان پر نہ اتری تھی تو یہود اور نصاری کو اہل کتاب دیکھ کر قریش کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کا اتباع کرتے اوان احکام اور رسول پر ایمان لاتے پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق کتاب یعنی قرآن آیا تو اب ان کو مناسب تھا کہ اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے اور اس کی پیروی کرتے لیکن یہ تو نہ کیا بلکہ رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ عصا اور یدبیضا اور دریائے قلزم کے بیچ میں سے راستہ کا معجزہ جو حضرت موسیٰ کو ملا تھا اسی طرح کا ظاہر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 49–51

حل لغات :۔ وصلنا لھم القول : قرآن کو ہم نے مسلسل ترتیب کے ساتھ نازل کیا ۔ یعنی ہم ان لوگوں کے پاس پیہم (ہدایت) کی باتیں بھیجتے رہے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

50۔ پھر اگر یہ آپ کا کہا نہ کرسکیں اور آپ کے فرمانے کے مطابق کوئی کتاب حق دکھانے والی ایسی نہ لاسکیں جو توریت و قرآن کریم سے زیادہ راہ حق دکھانے والی ہو تو آپ یقین جانئے کہ یہ کفار مکہ صرف اپنی نفسانی خواہشات پر چلتے ہیں اور اس سے بڑھ کر کون گم کردہ راہ گمراہ ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے بغیر کسی رہنمائی اور بدون کسی دلیل کے محض اپنی نفسانی خواہش اور دل کی چائو پر چلے بلا شبہ اللہ تعالیٰ ایسے نا انصافوں اور ظالم لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا ۔ یعنی دلائل اور براہین سے حق واضح ہوجانے کے بعد بھی حق کو قبول نہ کریں اور نفس کے ابھارنے سے انکار ہی کرتے چلے جائیں اور حق کے مقابلے میں ڈٹ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 50–51

ف 2۔ یعنی ہم تو دفعة واحدة بھیجنے پر بھی قادر ہیں مگر ان ہی کی مصلحت سے تھوڑا تھوڑا نازل کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر وہ آپ ﷺ کا مطالبہ پورا نہیں کرتے تو بات خود بخود واضح ہوجاتی کہ وہ کیا چاہتے ہیں : 50۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اگر یہ لوگ آپ ﷺ کے اس چیلنج کا کوئی جواب نہیں دیتے تو پھر آپ ﷺ کو یقین ہوجانا چاہئے کہ ان لوگوں کا حق سے کوئی سروکار نہیں ہے اور نہ ہی ان کے دلوں میں حق کی کوئی طلب ہے یہ لوگ محض اپنی خواہشات نفسانی کے پیروکار ہیں ، ان کے سامنے ایک دو نہیں بیسیوں دلائل بھی پیش کئے جائیں تو یہ لوگ اسلام قبول نہیں کریں گے اور اسی طرح یہ اپنی خواہشوں کے بندے ہیں اگر آپ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کو نہ مانیں تو آپ ﷺ رنجیدہ خاطر نہ ہوں جو شخص اپنی خواہشات کے ہاتھوں مجبور محض ہے اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا ؟…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–51

وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُ‌ونَ (And We have conveyed (Our) words to them one after the other, so that they may take to advice. - 28:51). The word وَصَّلْنَا (wassalna) is derived from وتَصِیل (Tausil), which literally means to strengthen the rope by adding more strings to its strands. Here it means that Allah Ta` ala has maintained the continuity of guidance. Certain advisory subjects are repeated in the Qur'an in order to make them more effective. Certain rules for preaching It shows that an important trait of preaching carried out by the prophets was that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–51

71 That is, "As far as conveying of the admonition is concerned, we have done full justice to it in the Qur'an in the best way. But guidance is attained only by him who gives up stubbornness and frees his heart from prejudices and is inclined to accept the Truth willingly and sincerely."

Read the full tafseer →