Explained with ayahs 48–51
پہلے بیان ہوا کہ اگر نبیوں کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان پر عذاب بھیج دیتے تو ان کی یہ بات رہ جاتی کہ اگر رسول ہمارے پاس آتے تو ہم ضرور ان کی مانتے اس لیے ہم نے رسول بھیجے۔ بالخصوص رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کو آخر الزمان رسول بنا کر بھیجا۔ جب حضور ﷺ انکے پاس پہنچے تو انہوں نے آنکھیں پھیر لیں منہ موڑلیا اور تکبر عناد کیساتھ ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کہنے لگے جیسے حضرت موسیٰ کو بہت معجزات دئے گئے تھے جیسے لکڑی اور ہاتھ طوفان ٹڈیاں جوئیں مینڈک خون اور اناج کی پھلوں کی کمی وغیرہ جن سے دشمنان الٰہی تنگ آئے اور دریا کو چیرنا اور ابر کا سایہ کرنا اور من وسلویٰ کا اتارنا وغیرہ جو زبردست اور بڑے بڑے معجزے تھے…
Read the full tafseer →سورة القصص 71
یعنی جہاں تک حق نصیحت ادا کرنے کا تعلق ہے ہم اس قرآن میں پیہم اسے ادا کرچکے ہیں، لیکن ہدایت تو اسی کو نصیب ہوسکتی ہے جو ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑے اور تعصبات سے دل کو پاک کر کے سچائی کو سیدھی طرح قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَـهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ ، وصلنا، توصیل سے مشتق ہے جس کے اصل لغوی معنے رسی کے تاروں میں اور تار ملا کر اس کے مضبوط کرنے کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ قرآن حکیم میں حق تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کا سلسلہ یکے بعد دیگرے جاری رکھا اور بہت سے نصیحت کے مضامین کا بار بار تکرار بھی کیا گیا تاکہ سننے والے متاثر ہوں۔
تبلیغ و دعوت کے بعض آداب
اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ کا اہم پہلو یہ تھا کہ وہ حق بات کو مسلسل کہتے اور پہنچاتے ہی رہتے تھے۔ لوگوں کا انکار و تکذیب ان کے اپنے عمل اور اپنی لگن میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرتا تھا بلکہ وہ حق کو اگر ایک مرتبہ…
Read the full tafseer →قرآن کی اہل کتاب کے لئے جانی پہچانی ہوئی چیز ہے
یعنی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت ہی کی خاطر یہ اہتمام فرمایا کہ اپنی تعلیم و تذکیر کے سلسلہ کو کبھی منقطع نہیں ہنے دیا بلکہ اس کے تسلسل کو برابر قائم رکھا۔ حضرت موسیٰ کو جو کتاب عطا ہوئی جب اس کے حاملوں نے اس کو فراموش کردیا تو اللہ تعالیٰ نے بنی امی ﷺ کو اس نعمت سے سرفراز فرمایا۔ اوپر آیات 46-45 میں جو مضمون گزر چکا ہے ایک نئے اسلوب سے یہ اسی کا اعادہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن کوئی انوکھی اور متوحش ہونے کی چیز نہیں ہے بلکہ ایک جانی پہچانی ہوئی چیز ہے اس وجہ سے سب سے پہلے تو اہل کتاب کا فرض ہے کہ اس کو ہاتھوں ہاتھ لیں اس لئے کو جو نعمت ان کو…
Read the full tafseer →51-1یعنی ایک رسول کے بعد دوسرا رسول، ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب ہم بھیجتے رہے اور اس طرح مسلسل لگاتار ہم اپنی بات لوگوں تک پہنچاتے رہے۔
51-2مقصد اس سے یہ تھا کہ لوگ پچھلے لوگوں کے انجام سے ڈر کر اور ہماری باتوں سے نصیحت حاصل کر کے ایمان لے آئیں۔
Read the full tafseer →28: قرآن کریم ایک ہی مرتبہ کیوں نازل نہیں کیا گیا ؟ اس کی وجہ بیان کی جا رہی ہے کہ اس میں تم لوگوں ہی کا فائدہ مقصود تھا کہ ہر موقع پر اس کے مناسب ہدایات دی جاسکیں اور ایک کے بعد ایک ہدایات دے کر تمہیں اس بات کو موقع دیا جائے کہ تم کسی بات کو تو قبول کرلو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
درس نمبر 177 تشریح آیات
44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے…
Read the full tafseer →3 یعنی ہماری وحی کا سلسلہ پہلے سے چلا آتا ہے۔ ایک وحی کی تصدیق و تائید میں دوسری وحی برابر بھیجتے رہے ہیں۔ اور قرآن کو بھی ہم نے بتدریج نازل کیا۔ ایک آیت کے پیچھے دوسری آیت میں سہولت ہو۔
Read the full tafseer →آیت 51 وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَہُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ”
لوگوں کو راہ راست دکھانے کے لیے ہم مسلسل ہدایت بھیجتے رہے ہیں۔ چناچہ تورات ‘ زبور ‘ انجیل اور قرآن اسی ”سلسلۃ الذھب“ سنہری زنجیر کی کڑیاں ہیں۔ یہاں پر وَصَّلْنَا کا اشارہ اہل مکہ کے ”سِحْرٰنِ تَظَاہَرَا“ کے الزام کی طرف بھی ہوسکتا ہے کہ جن کتابوں کو یہ لوگ جادو قرار دے کر ان میں باہمی گٹھ جوڑ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے اندر واقعی وصل ہے ‘ اس لیے کہ وہ ایک ہی سلسلۂ ہدایت کی کڑیاں ہیں۔
Read the full tafseer →69 اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جتنے بھی نبی ان کے آس پاس مبعوث رہے ہیں۔ اب سب کی تعلیمات ان تک بھی پہنچتی رہی ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب سے قرآن کا نزول شروع ہوا ہے۔ لگاتار انھیں ہدایت کی آیات پہنچ رہی ہیں۔ جس کا مقصد یہی تھا کہ وہ کچھ نصیحت قبول کرلیتے۔ اور اگر یہ فی الواقعہ ہدایت کے طالب ہوتے تو کب کے ہدایت قبول کرچکے ہوتے۔
Read the full tafseer →70۔ یعنی بار بار تازہ بتازہ سننے سے امید ان کے قبولیت ایمان کی زیادہ بڑھتی ہے اور اس لیے یہ کلام تھوڑا تھوڑا کرکے وقتا فوقتا نازل کیا گیا لیکن یہ بدبخت خود اپنی مصلحت کی بھی قدر نہیں کرتے اور الٹا اسی کو بنائے اعتراض قرار دے رہے ہیں۔ (آیت) ” وضلنا لھم القول “۔ توصیل قول کے معنی ہیں بات کو بار بار اور مسلسل بیان کرتے رہنا وتوصیل القول ھو اتیان بیان بعد بیان (کبیر) وصلنا لھم القول اے اکثرنا لھم القول موصولا بعضہ ببعض (راغب) یہاں مراد یہ ہے کہ ہم قرآن کو تھوڑا تھوڑا کرکے مسلسل نازل کرتے رہے اور اس کے نظم کو نہایت مرتبط رکھا۔ اے اتبعنا بعضہ بعضا فی الانزال لیتصل التذکیر او فی النظم لتنقرر الدعوۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیت نمبر 51 تا 60
ترجمہ : اور ہم نے لوگوں کے لئے قول یعنی قرآن کو (کھول کر بیان کیا) پیہم بھیجا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ایمان لے آئیں جن کو ہم نے اس قرآن سے پہلے کتاب عطا فرمائی وہ اس قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں یہ آیت یہود کی اس جماعت کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا، جیسا کہ عبد اللہ بن سلام وغیرہ اور ان نصاریٰ کے بارے میں جو حبشہ اور شام سے آئے تھے اور جب ان کو قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ اس کے ہمارے رب کی طرف سے حق ہونے پر ہمارا ایمان ہے ہم تو اس سے پہلے ہی سے مسلمان یعنی موحد ہیں یہ لوگ اپنے دونوں کتابوں پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اور دونوں پر عمل…
Read the full tafseer →ولقد وصلنا لھم القول لعلھم یتذکرون . اور ہم نے اس کلام (یعنی قرآن) کو ان کے لئے مسلسل نازل
کیا (یعنی تازہ بتازہ ایک کے بعد دوسری آیت) تاکہ یہ لوگ (تازہ بتازہ سننے کے بعد) نصیحت حاصل کریں۔
وَلَقَدْ وَصَّلْنَا الخ فراء نے کہا : یعنی ہم نے قرآن کی آیات یکے بعد دیگرے اتاریں۔ بیضاوی نے لکھا ہے : یعنی ہم نے اتارنے میں اتصال رکھا تاکہ یاددہانی ہوتی رہے یا عبارت میں وصل رکھا تاکہ دلائل سے دعوت میں اور وعد و وعید سے مواعظ میں اور عبرتوں سے نصیحتوں میں قوت پیدا ہو۔ مفسر مدارک نے لکھا ہے : توصیل کا معنی ہے تکثیر و تکرار وصل (یعنی بات تفعیل مبالغہ کے لئے ہے ‘ مترجم) حضرت ابن عباس نے وَصَّلْنَا کا ترجمہ…
Read the full tafseer →(51) اور ہم نے اس قرآن کریم میں توحید کے مضامین کو ان کے فائدہ کے لیے وضاحت کے ساتھ بیان کیا تاکہ یہ لوگ اس قرآن کریم سے نصیحت حاصل کرکے ایمان لے آئیں۔
شان نزول : (آیت) ”۔ ولقد وصلنا لہم القول“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ اور طبرانی ؒ نے رفاعہ قرضی ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت دس حضرات کے بارے میں نازل ہوئی ہے میں بھی ان میں سے ایک ہوں۔
Read the full tafseer →ۧوَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَـهُمُ الْقَوْلَ۔۔ :”وَصَّلَ الْقَوْلَ تَوْصِیْلاً“ بات کے ساتھ بات ملانا، پے در پے بات پہنچانا۔ قرآن اور تورات کو جادو قرار دے کر دونوں کے انکار کے اعلان کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے مطابق اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی ہدایت آئی ہی نہیں اور بلاغت کا قاعدہ ہے کہ انکار جتنا شدید ہو اتنی ہی تاکید کے ساتھ بات کی جاتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ”لام“ اور ”قَدْ“ کی دوہری تاکید کے ساتھ، جو قسم کا مفہوم رکھتی ہے، فرمایا : ”اور بلاشبہ یقیناً ہم نے انھیں پے در پے بات پہنچائی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔“ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں اور دونوں ہی مراد ہیں، ایک یہ کہ ہم ایک رسول کے بعد دوسرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
فان لم یستجیبوالک اے محمد ! ﷺ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے کتاب نہ لا سکیں فاعلم انما یتبعون اھوآء ھم تو یہ جان لو کہ وہ اپنے دلوں کی خواہش کی پیروی کر رہے ہیں اور جس چیز کو وہ اچھا خیال کرتے ہیں اور شیطان جس چیز کو ان کے لئے محبوب بنا کر پیش کرتا ہے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ ومن اضل ممن اتبع ھو بہ بغیر ھدی من اللہ کوئی اس سے بڑھ کر گمراہ نہیں ان اللہ لایھدی القوم الظلمین
ولقد وضلما لھم القول یعنی ایک کے بعد دوسرا قول بھیجا اور ایک رسول کے بعد دوسرا رسول مبعوث کیا۔ حضرت حسن بصری نے پڑھا : وصلنا یہ مخفف ہ۔ ابو عبیدہ اور اخفش نے کہا : وصلنا کا معنی ہے ہم نے مکمل کیا جس طرح تو کسی چیز کو مکمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابوالقاسم البغوی فی معجمہ والباوردی وابن قانع الثلاثہ فی معاجم الصحابہ والطبرانی وابن مردویہ جید سند کے ساتھ رفاعہ قرظی (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ولقد وصلنا لہم القول لعلم یتذکرون سے لے کر اولئک یوتون اجرہم مرتین بما صبرو تک اور ہم ن اس کلام یعنی قرآن کو مسلسل نازل کیا تھا کہ وہ لوگ نصیحت حاصل کریں سے لے کر یہی لوگ ہیں ان کو دوگناملے گا۔ ان کے صبر کی وجہ سے یہ آیات دس افراد کے بارے میں نازل ہوئیں میں بھی ان میں سے ایک تھا۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولقد وصلنا قریش کے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ وَصَّلْنَا [اور بیشک ہم بتدریج پہنچاتے رہے ہیں ] لَـهُمُ [ان لوگوں کے لئے ] الْقَوْلَ [اس بات (وحی الٰہی) کو ] لَعَلَّهُمْ [شاید وہ ] يَتَذَكَّرُوْنَ [نصیحت پکڑیں ]
Read the full tafseer →سابق اہل کتاب قرآن کریم پر ایمان لاتے ہیں ان کے لیے دہرا اجر ہے
یہ پانچ آیات ہیں پہلی آیت میں یہ فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کو اس طرح نازل کیا کہ یکے بعد دیگرے آیات نازل ہوتی رہی ہیں جن میں وعدے بھی ہیں وعیدیں بھی، قصے بھی ہیں اور عبرت کے واقعات بھی، نصائح بھی ہیں اور مواعظ بھی، ان کا تقاضا یہ ہے کہ ان سے نصیحت حاصل کریں شرک اور کفر کو چھوڑیں۔ قرآن لانے والے ﷺ پر ایمان لائیں۔
دوسری اور تیسری آیت میں اہل کتاب کے بارے میں فرمایا کہ جنہیں اس سے پہلے کتاب دی گئی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصاف پسند چند یہودیوں نے اسلام قبول کرلیا جن میں حضرت عبداللہ بن سلام ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
بیان حکمت درتکریر موعظت ومدح مومنین اہل کتاب وپیران حق وصواب
قال اللہ تعالیٰ ولقد وصلنا لہم القول لعلہم یتذکرون۔۔۔ الی۔۔۔ افلا تعقلون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اس بات کا ذکر تھا کہ اللہ نے رسول بھیج کر اور کتاب ہدایت نازل کر کے لوگوں پر حجت پوری کردی اب اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ ہم نے حق اور ہدایت کو خوب واضح کردیا اور مفصل اور مکرر اور سہ کرر بیان کر کے بھی لوگوں پر حجت پوری کردی ہے اور قرآن کریم کو ہم نے بتدریج نازل کیا ہے تاکہ لوگوں کو سمجھنے کا موقع ملے اور یاد رکھنے میں سہولت ہو اگر سارے قرآن کو یکبارگی نازل کردیتے تو تذکر کا فائدہ حاصل نہ ہوتا نیز گزشتہ آیات میں ان ظالموں اور نفس پرستوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
48:۔ یہ ترغیب الی القرآن ہے۔ ہم نے کفار مکہ کے پاس پے بہ پے اور مسلسل آیات بھیجیں اور مسئلہ توحید کو ہر طرح واضح کیا تاکہ وہ سمجھیں اور مانیں لیکن اگر اس کے باوجود بھی وہ نہیں مانتے تو نہ مانیں جن کو اللہ نے توفیق دی ہے وہ تو مان ہی لیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا تھا کہ وہ ایمان کی بات قبول کرنے کی بجائے ہدایت کی بات کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں ، کبھی کہتے ہیں کہ یہ پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) جیسے معجزات کیوں نہیں لایا اور کبھی کہتے ہیں کہ آپ پر پورا قرآن یکبارگی کیوں نہیں نازل ہوا۔ اللہ نے جواباً فرمایا کہ ضدی او عنادی لوگ ہمیشہ محروم ہی رہتے ہیں ۔ اب تو یہ موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے بات کرتے ہیں ۔ مگر جب خود کلیم اللہ معجزات اور تورات لے کر آئے تھے تو کیا اس وقت انہوں نے تسلیم کیا تھا ؟ نہیں بلکہ ان بدبختوں نے اس وقت بھی ان کو جھٹلا دیا تھا۔ آپ کے معجزات کو جادو سے تعبیر کیا ۔ اور آپ…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَـہُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّہُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 5 1ۭ
وصل
الِاتِّصَالُ : اتّحادُ الأشياء بعضها ببعض کاتّحاد طرفي الدائرة، ويضادّ الانفصال، ويستعمل الوَصْلُ في الأعيان، وفي المعاني .
يقال : وَصَلْتُ فلاناً. قال اللہ تعالی: وَيَقْطَعُونَ ما أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ [ البقرة/ 27]
( و ص ل ) الا تصال
کے معنی اشیاء کے باہم اس طرح متحد ہوجانے کے ہیں جس طرح کہ قطرہ دائرہ کی دونوں طرفین ملی ہوئی ہوتی ہیں اس کی ضد انفعال آتی ہے اور وصل کے معنی ملائے کے ہیں اور یہ اسم اور معنی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے چناچہ وصلت فلانا صلہ رحمی کے معنی میں آتا ہے قرآن میں ہے وَيَقْطَعُونَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
ترکیب : لہم وصلنا سے ای متعلق بینا القول القرآن مفعول و صلنا۔ من قبلہ ای من قبل القران پس یہ آیتنا سے متعلق ہے۔
تفسیر : اہل مکہ کا ایک یہ بھی شبہ تھا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی طرح ایک ہی بار تمام کتاب محمد ﷺ کو کیوں نہ دی گئی ؟ تھوڑا تھوڑا کیوں نازل ہوتا ہے ؟ اور نیز کیا موسیٰ ( علیہ السلام) کی کتاب کافی نہ تھی۔ پھر نئی کتاب کیوں نازل کی گئی ؟ (آج کل کے بعض ناواقف پادریوں نے بھی یہی شبہ کیا ہے) اس کا جواب دیتا ہے، ولقد وصلنا لہم القول لعلہم یتذکرون کہ ہم جو پے درپے 1 ؎ قول یعنی ہدایت کی بات قرآن مجید اور اس کی آیات یکے بعد دیگر اس لیے بھیجتے رہے کہ وہ سمجھیں ہر روز ایک نئے فائدے اور نئی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَہُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ (القصص : 51)
(اور ہم مسلسل بھیجتے رہے ان کی طرف اپنا کلام تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں۔ )
ہدایت کی تعلیم و تذکیر کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہوا
سابقہ آیات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کے راہ ِ راست پر چلنے اور صحیح رویہ کے مقابلے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہَوائے نفس کی پیروی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو انسان کو راستے سے بھٹکاتی، حق کا دشمن بناتی اور عقل کو اپنا صحیح رول ادا کرنے سے روکنے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔ اس کا علاج اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے جو ہدایت کا راستہ روشن کیا ہے اس کا اتباع کیا جائے اور ہرحال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
فہم القرآن
ربط کلام : بیشک حق آجانے کے باوجود لوگ اپنی خواہشات کے بندے بنے رہے اس کے باوجود اللہ تعالیٰ لوگوں کی خیر خواہی اور ہدایت کی خاطر مسلسل ان کی رہنمائی کا بندوبست کرتا رہا۔ جس بنا پر ہر دور میں کچھ نہ کچھ لوگ ہدایت قبول کرنے والے ضرور موجود رہے ہیں۔
رب کریم نے لوگوں کی رہنمائی کے لیے ہمیشہ اور مسلسل رہنمائی کا بندوبست فرمایا ہے۔ راہنمائی انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ذریعے ہو یا ان کے جانشینوں کے واسطے سے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی رہنمائی کا ہمیشہ سے بندوبست کر رکھا ہے جو نبی ﷺ کے جانشینوں کی طرف سے قیامت تک جاری رہے گا۔ تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور اپنی دنیا اور آخرت کو بہتر…
Read the full tafseer →آیت 51: وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَہُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ (تحقیق ہم نے کلام کو مسلسل ان پر اتارا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں) ۔ التّوصیل۔ (بہت زیادہ ملنا اور بار بار ملنا) ۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید پے در پے اور مسلسل اترا ہے۔ اس میں وعدہ ٗ وعید ٗ قصص وعبر اور مواعظ موجود ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کر کے کامیاب ہوں۔
Read the full tafseer →آیت ولقد وصلنالھم القول کی تفسیر۔
51۔ ولقد وصلنا لھم القول، ،، ابن عباس نے وصلنا ، کا ترجمہ ، بینا ، سے کیا ہے، ہم نے اس کو کھول کر بیان کردیا، یعنی بعض آیات دوسری آیت کے مضمون کو کھول کر بیان کرنے والی ہیں۔ فراء نے کہا کہ یعنی ہم نے قران کی آیات یکے بعد دیگرے اتاریں، قتادہ نے کہا کہ اس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے باربار بیان کیا ہے کہ گزشتہ لوگوں سے کیا سلوک کیا گیا، مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ ہم نے کفار مکہ کے لیے قرآن میں گزشتہ امتوں کے واقعات بیان کیے اور بتادیا کہ تکذیب وکفر کی وجہ سے ان پر کی سے عذاب آئے گا، ابن زید نے کہا کہ ہم نے خبر دنیا کے ساتھ خبر آخرت کو ملا لیا، اس قدر کہ گویا انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
50 تا 53۔ حضرت نوح جو سب سے پہلے صاحب شریعت نبی ہیں ان کے زمانہ سے لے کر فرعون کے غرق ہونے تک جس قدر پہلی امتیں اللہ کے رسولوں کی نافرمانی میں ہلاک ہوئیں ان کا ذکر قرآن شریف میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اوس ذکر میں سے فرعون کے غرق ہونے کے تذکرہ کا ٹکڑا اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیتوں میں ذکر فرما کر اس آیت میں رسول ﷺ کے نافرمان لوگوں کو ڈرا دیا ہے اور فرمایا ہے کہ پہلی امتوں کا پے درپے اس لیے ذکر کیا جاتا ہے کہ پہلے نافرمان لوگوں کا حال گھڑی گھڑی سن کر حال کے زمانہ کے نافرمان لوگوں کو ایک طرح کی عبرت اور نصیحت اس بات کی ہو کہ اگر یہ حال کے زمانہ کے لوگ رسول قوت کی نافرمانی سے باز ؓ آویں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–54
شعراء کی دو اقسام
قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…
Read the full tafseer →65 ہدایت کے تسلسل کا ذکر وبیان : سو ہدایت سے سرفرازی کے لیے قدرت کی طرف سے غیر منقطع انتظام فرمایا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کی خاطر اس بات کا خاص اہتمام فرمایا گیا کہ تعلیم و تذکیر کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہونے پائے۔ سو اسی بنا پر حضرت موسیٰ پر اتاری گئی کتاب یعنی تورات کو اس کے حاملوں نے فراموش کردیا تو اللہ تعالیٰ نے نبی امی پر اس کتاب حکیم یعنی قرآن کریم کو نازل فرمایا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم پے در پے بھیجتے رہے لوگوں کے لیے اپنا کلام تاکہ یہ نصیحت حاصل کریں۔ سو تورات کے بعد قرآن حکیم کو اتارا گیا۔ سو اس کے بارے میں بھی ارشاد فرمایا گیا کہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–64
ہجرت، مدین میں قیام، فرعون کی طرف واپسی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے سرفرازی
نبی کو بھیجنے کا مقصد ‘ نیک و بد کا فرق اور مشرکین کا انجام
تشریح : کفار و مشرکین کی خصلتیں ہر زمانے اور ہر دور میں ایک سی ہی رہی ہیں۔ آج کا دور باوجود ترقی کرنے کے اور علم و فضل میں کافی ترقی کر جانے کے کفار وہی ہٹ دھرمی اور ضد رکھتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں رکھتے تھے۔ کبھی کہتے موسیٰ جیسے معجزے دکھائو کبھی کہتے موسیٰ (علیہ السلام) جیسی کتاب لائو۔ حالانکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اہل عرب کیسے ایمان لاسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور حکیم ہے اس لیے وہ نبی بھیجتا رہا تاکہ قیامت کے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–60
آیات 51 تا 60
اسرارو معارف
اور پھر قرآن حکیم کے مسلسل اتارے جانے کی حکمت ارشاد ہوئی کہ ہم نے قرآن کریم کو بتدریج نازل فرمایا کہ لوگوں کو بار بار تازہ بتازہ کلام الہی نصیب ہوتا رہے اور مسلسل دعوت الی اللہ دی جاتی رہے نیز ہر آیت کو واقعات اور سوالات کے جواب میں نازل فرما کر یہ سہولت پیدا کردی کہ یاد رکھنے میں بھی آسانی ہو ورنہ اللہ قادر ہے تورات کی طرح ایک ہی دفعہ بھی عطا فرما دیتا۔ اور یہ محض اعتراض ہے ورنہ وہ لوگ جو اہل کتاب میں سے ایمان دار تھے اور اپنی کتاب پر ہی ایمان رکھتے تھے جب ان کے سامنے یہ آیات پڑھی گئیں تو انہوں نے فورا کہا کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ہمارے پروردگار…
Read the full tafseer →7 ۔ یعنی ایک کے بعد دوسرا رسول ﷺ مبعوث کیا اور ایک کے بعد دوسری نصیحت بھیجی تاکہ کسی طرح وہ خواب غفلت سے بیدار ہوں یا اس قرآن میں ہم وعدہ وعید، قصص و عبر اور نصائح و مواعظ تدریجاً اس لئے بھیج رہے ہیں کہ کسی طور یہ نصیحت حاصل کریں۔ اس صورت میں یہ لو لا نزل علیہ القرآن جملہ واحدۃ کا جواب ہوگا۔ (کبیر)
Read the full tafseer →(28:51) لقد وصلنا۔ لام تاکید کے لئے ہے قد تحقیق کے معنوں میں ہے یا ماضی قریب کے لئے وصلنا ماضی جمع متکلم توصیل (تفعیل) سے وصل کے معنی ملانے کے ہیں۔ لیکن باب تفعیل سے اس کے معنی ہوئے کہ ہم پے در پے اپنا کلام ان کی طرف بھیجتے رہے القول سے مراد یہاں قرآن مجید ہے جو حالات کے نقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت خداوندی کے مطابق وقتا فوقتا نازل ہوتا رہا۔
لہم۔ لعلہم اور یتذکرون میں ضمیر جمع مذکر گا ئب اہل مکہ کی طرف راجع ہے ۔ جو اس وقت موجود تھے۔
لعلہم یتذکرون تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔ ایمان لاویں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 55 :
وصلنا (ہم نے ایک دوسرے سے ملایا) یئو تون ( وہ دیئے گئے ہیں) ‘ مرتین (مرۃ) دو مرتبہ ‘ یدرءون ( وہ دور کرتے ہیں) ‘ الحسنۃ (بھلائی ۔ خیر) السیئۃ (برائی) اللغو (بیکار۔ فضول) اعرضوا (انہوں نے منہ پھیرلیا) ‘ لانبتغی (ہم نہیں چاہتے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 55 :
قرآن کریم میں اس مضمون کو کئی مرتبہ بیان کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کو ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ اپنی دنیا اور آخرت کو بنانا اور سدھارنا ہوتا ہے وہ طرح طرح کے بہانے اور اعتراضات نہیں کرتے لیکن جو بد نصیب لوگ ہیں ان کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی بھر ایمان اور عمل صالح سے بھاگنے کے لئے بےتکی اور غیر سنجیدہ…
Read the full tafseer →(ف 1) شان نزول :
مشرکین مکہ نے یہود مدینہ کے سرداروں کے پاس قاصد بھیج کردریافت کیا کہ کیا نبی کی نسبت کتب سابقہ میں کوئی خبر ہیی انہوں نے جواب دیا کہ حضور ﷺ کی نعت وصفت ان کی کتاب توریت میں موجود ہے جب یہ خبر قریش کو پہنچی تو حضرت موسیٰ اور نبی کی نسبت کہنے لگے کہ وہ دونوں جادوگر ہیں ان میں ایک دوسرے کے معین و مددگار ہیں موسیٰ اپنی کتاب میں لکھ گئے کہ ایک ایسا شخص پیدا ہوگا ادھر نبی ﷺ ان کی تصدیق کرتے ہیں ہم تو ان کو سچانہ جانیں گے اور نہ ان کو بلکہ دونوں کے منکر ہیں اس پر اللہ تعای نے یہ آیت نازل فرمائی اور ہمنے اس کلام یعنی قران کو ان لوگوں کی ہدایت کے لیے مسلسل بھیجا تاکہ وہ نصیحت قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
[26] ملاحظہ ہو سورة نساء آیت 162 صفحہ 218۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
حل لغات :۔ وصلنا لھم القول : قرآن کو ہم نے مسلسل ترتیب کے ساتھ نازل کیا ۔ یعنی ہم ان لوگوں کے پاس پیہم (ہدایت) کی باتیں بھیجتے رہے
Read the full tafseer →51۔ اور ہم نے ان کے لئے بات کا سلسلہ جاری رکھا اور اس کلام کو پے در پے تھوڑا تھوڑا بھیجا تا کہ یہ نصیحت مانیں اور یاد کھیں ۔ یہ کافروں کے سابقہ اعتراض کا شاید جواب ہے کہ یہ قرآن کریم توریت کی طرح دفعتہ کیوں نہیں دیا گیا ۔ لو لا اوتی مثل ما اوتی موسیٰ ، جو اب کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑا تھوڑا نازل کیا اور کلام کا سلسلہ جاری رکھا تا کہ یہ نصیحت قبول کریں اور اس طرح قرآن کریم کے یاد رکھنے میں آسانی ہو اور یوں بھی ہوسکتا ہے کہ تمام کتب سماوی کے سلسلے کا اظہار ہو کر ہم پے در پے صحائف اور کتابیں نازل فرماتے ہیں ۔ جن میں زبور ، توریت ، انجیل اور قرآن مجید مشہور ہیں ۔ یہ سلسلہ نزول صحائف اور کتب کا اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
ف 2۔ یعنی ہم تو دفعة واحدة بھیجنے پر بھی قادر ہیں مگر ان ہی کی مصلحت سے تھوڑا تھوڑا نازل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →ہم نے ان کی تفہیم کے لئے پے درپے ان کو چونکانے کی کوشش کی ہے :
51۔ ہم نے تو اس قرآن کریم میں تصریف آیات کے ذریعہ ان کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن سوئے ہوئے کو تو جگایا جاسکتا ہے جاگتے کو آخر کون جگائے جب کہ وہ خود جاگنا ہی نہ چاہئے یہ بات مکہ کے رہنے والوں کی ہے کہ ہم نے ان کو سمجھانے کے لئے کون سی کوشش ہے جو نہیں کی لیکن جب تک وہ خود سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو ان کو کیسے سمجھایا جاسکتا ہے ۔ ہدایت تو اسی کو نصیب ہو سکتی ہے جو ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑے اور تعصبات سے دل کو پاک کرکے سچائی کو سیدھی طرح قبول کرنے کے لئے تیار ہو کسی شخص کو مجبور کر کے سنانا اسلام کا حصہ کب ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ (And We have conveyed (Our) words to them one after the other, so that they may take to advice. - 28:51). The word وَصَّلْنَا (wassalna) is derived from وتَصِیل (Tausil), which literally means to strengthen the rope by adding more strings to its strands. Here it means that Allah Ta` ala has maintained the continuity of guidance. Certain advisory subjects are repeated in the Qur'an in order to make them more effective.
Certain rules for preaching
It shows that an important trait of preaching carried out by the prophets was that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
71 That is, "As far as conveying of the admonition is concerned, we have done full justice to it in the Qur'an in the best way. But guidance is attained only by him who gives up stubbornness and frees his heart from prejudices and is inclined to accept the Truth willingly and sincerely."
Read the full tafseer →