Al-Qasas 28:49

Al-Qasas · from ayah 49

28:49

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰی مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۟قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰى مِنۡهُمَاۤ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ

کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم خدا کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں (کتابوں) سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔ تاکہ میں بھی اسی کی پیروی کروں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Then bring a scripture from Allah which is more guiding than either of them that I may follow it, if you should be truthful."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 5 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:49

(اے نبیؐ،) ان سے کہو، "اچھا تو لاؤ اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو اِن دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو اگر تم سچے ہو، میں اسی کی پیروی اختیار کروں گا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم خدا کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں (کتابوں) سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔ تاکہ میں بھی اسی کی پیروی کروں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دے کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اللہ کے پاس سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیاده ہدایت والی ہو میں اسی کی پیروی کروں گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(ان سے) کہو : اچھا اگر تم سچے ہو تو اللہ کے پاس سے کوئی کتاب اور ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل ہو، میں اس کی اتباع کرلوں گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ تو اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت کی ہو میں اس کی پیروی کروں گا اگر تم سچے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ فرما دیں کہ تم اللہ کے حضور سے کوئی (اور) کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو (تو) میں اس کی پیروی کروں گا اگر تم (اپنے الزامات میں) سچے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ پھر اللہ کے پاس سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو کہ میں اس کی پیروی کروں، اگر تم سچے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے : اگر تم سچے ہو تو اللہ کی طرف سے تم ہی کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر رہنمائی کرنے والی ہو، میں بھی اس کی پیروی اختیار کروں گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے کہو کہ اگر تم اس کو جھٹلاتے ہو تو اللہ کے پاس سے کوئی اور کتاب لائو جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو، میں اسی کی پیروی کروں گا، اگر تم سچے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان سے کہو کہ اچھا تو تم خود ہی لے آؤ کوئی ایسی کتاب اللہ کے یہاں سے جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت بخشنے والی ہو میں خود بھی اس کی پیروی کرلوں گا اگر تم سچے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہئے کہ اچھا تو کوئی کتاب اللہ کے پاس سے ایسی لے آؤ جو ہدایت میں ان دونوں سے بہتر ہو میں اسی کی پیروی کرنے لگوں گا اگر تم سچے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ کہیے کہ پھر لاؤ کوئی ایسی کتاب اللہ کے پاس سے جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو میں اس کی پیروی کروں گا اگر تم سچے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرمادیں کہ اگر سچے ہو تو تم اللہ کے پاس سے کوئی اور کتاب لے آئو جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔ تاکہ میں بھی اسی کی پیروی کروں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Tell them, (O Prophet): "Then do bring a Book from Allah which is a better guide than either of them, and I will follow it! Do so if you are truthful!"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Then bring a book from Allah which is better than both, in guidance, and I shall follow it, if you are true.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Then bring a book from Allah which is better than both, in guidance, and I shall follow it, if you are true.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Then bring a Book from Allah, which is a better guide than these two, that I may follow it, if you are truthful."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (unto them, O Muhammad): Then bring a scripture from the presence of Allah that giveth clearer guidance than these two (that) I may follow it, if ye are truthful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Then bring a scripture from Allah which is more guiding than either of them that I may follow it, if you should be truthful."

— Saheeh International

(Muhammad), tell them, "Bring a Book if you are able to, from God better in its guidance than the Torah and the Quran; I shall follow it".

— Muhammad Sarwar

Say: Then bring some (other) book from Allah which is a better guide than both of them, (that) I may follow it, if you are truthful.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: then bring a Book from before Allah, that is better in guidance than these two shall follow it--if ye are truth- tellers.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Then bring ye a Book from Allah, which is a better guide than either of them, that I may follow it! (do), if ye are truthful!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 48–51

پہلے بیان ہوا کہ اگر نبیوں کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان پر عذاب بھیج دیتے تو ان کی یہ بات رہ جاتی کہ اگر رسول ہمارے پاس آتے تو ہم ضرور ان کی مانتے اس لیے ہم نے رسول بھیجے۔ بالخصوص رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کو آخر الزمان رسول بنا کر بھیجا۔ جب حضور ﷺ انکے پاس پہنچے تو انہوں نے آنکھیں پھیر لیں منہ موڑلیا اور تکبر عناد کیساتھ ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کہنے لگے جیسے حضرت موسیٰ کو بہت معجزات دئے گئے تھے جیسے لکڑی اور ہاتھ طوفان ٹڈیاں جوئیں مینڈک خون اور اناج کی پھلوں کی کمی وغیرہ جن سے دشمنان الٰہی تنگ آئے اور دریا کو چیرنا اور ابر کا سایہ کرنا اور من وسلویٰ کا اتارنا وغیرہ جو زبردست اور بڑے بڑے معجزے تھے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 49–50

سورة القصص 70 یعنی مجھے تو ہدایت کی پیروی کرنی ہے، بشرطیکہ وہ کسی کی من گھڑت نہ ہو، بلکہ خدا کی طرف سے حقیقی ہدایت ہو، اگر تمہارے پاس کوئی کتاب اللہ موجود ہے جو قرآن اور توراۃ سے بہتر رہنمائی کرتی ہو تو اسے تم نے چھپا کیوں رکھا ہے ؟ اسے سامنے لاؤ میں بلا تامل اس کی پیروی قبول کرلوں گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–50

لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ ، یہاں اس قوم سے عرب مراد ہیں جو حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں ہیں اور ان کے بعد سے خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے تک ان میں کوئی پیغمبر مبعوث نہ ہوا تھا یہی مضمون سورة یٰسٓ میں بھی آنے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دوسری جگہ قرآن کریم کا یہ ارشاد کہ وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ کہ کوئی امت ایسی نہیں جس میں اللہ کا کوئی پیغمبر نہ آیا یہ اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ مراد اس آیت کی یہ ہے کہ زمانہ دراز سے حضرت اسماعیل ؑ کے بعد ان میں کوئی نبی نہیں آیا مگر نبی و رسول کے آنے سے بالکل خالی یہ امت بھی نہیں رہی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قریش سے ایک مطالبہ یعنی یہ لوگ مخالفت کے جوش میں حضرت موسیٰ کے معجزات اور ان کے فضل و کمال کا حوالہ تو دیتے ہیں لیکن یہ محض تمہارے اوپر اعتراض کے لئے ایک بہانہ ہے۔ اگر ان کی اس بات میں سچائی کا کوئی شائبہ ہے تو آخر یہ حضرت موسیٰ پر ایمان لانے والے کیوں نہ بنے ! تو ان سے کہو کہ اگر ان دونوں (یعنی قرآن اور تورات) سے بھی زیادہ ہدایت بخشنے والی کوئی کتاب ہے تو اس کو لائو، میں اس کی پیروی کرنے کو تیار ہوں۔ ہدایت کی جستجو فطرت کا تقاضا ہے مطلب یہ ہے کہ ہدایت کی جستجو تو ہر سلیم الفطرت انسان کی فطرت کا ایک بدیہی تقاضا ہے جس کے اندر ہدایت کی جستجو نہیں ہے۔ وہ جو ہر انسانیت سے عاری ہے۔ فطرت کے اسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

49-1یعنی اگر تم اس دعوے میں سچے ہو کہ قرآن مجید اور تورات دونوں جادو ہیں، تو تم کوئی اور کتاب الٰہی پیش کردو، جو ان سے زیادہ ہدایت والی ہو، میں اس کی پیروی کرونگا، کیونکہ میں ہدایت کا طالب اور پیرو ہوں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 48–50

27: یعنی جس طرح حضرت موسیٰ ؑ کو پوری تورات ایک ہی مرتبہ عطا کردی گئی تھی، اسی طرح آپ کو سارا قرآن ایک ہی مرتبہ کیوں نہیں دیدیا گیا، اس اعتراض کا یہ جواب آگے دیا گیا ہے کہ تم لوگ تورات پر کونسا ایمان لے آئے تھے جو قرآن کے بارے میں یہ مطالبہ کررہے ہو ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 44–51

درس نمبر 177 تشریح آیات 44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی آسمانی کتابوں میں سب سے بڑی اور مشہور یہ ہی دو کتابیں تھیں جن کی ہمسری کوئی کتاب نہیں کرسکتی۔ اگر یہ دونوں جادو ہیں تو تم کوئی کتاب الٰہی پیش کردو جو ان سے بہتر اور ان سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔ بفرض محال اگر ایسی کتاب لے آئے تو میں اسی کی پیروی کرنے لگوں گا، لیکن تم قیامت تک نہیں لاسکتے۔ اس سے زیادہ بدبختی کیا ہوگی کہ خود ہدایت ربانی سے قطعی تہی دست ہو اور جو کتاب ہدایت آتی ہے اسے جادو کہہ کر رد کردیتے ہو۔ جب یہ ایک انسان کا بنایا ہوا جادو ہے تو تم سارے جہان کے جادو گروں کو جمع کر کے اس سے بڑا جادو لے آتے۔ آخر جادو ایسی چیز تو نہیں کہ اس کا کوئی مقابلہ نہ کرسکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 49 قُلْ فَاْتُوْا بِکِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ہُوَ اَہْدٰی مِنْہُمَآ اَتَّبِعْہُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ” اس جملے سے بات گویا واضح ہوگئی کہ پچھلی آیت میں اہل مکہ ہی کا قول نقل ہوا ہے جس میں انہوں نے قرآن اور تورات کو ”سِحْرٰنِ تَظَاہَرَا“ قرار دیا تھا۔ تو اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہیے کہ اگر قرآن اور تورات دونوں ہی آپ لوگوں کے لیے قابل قبول نہیں تو پھر اللہ کی نازل کردہ کوئی ایسی کتاب پیش کرو جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو۔ اگر تم لوگ اللہ کی طرف سے نازل شدہ کسی ایسی کتاب کی نشان دہی کرو گے تو مجھے اس کی پیروی کرنے میں کوئی تامل نہیں ہوگا۔ مجھے تو بہر حال حق کی پیروی کرنی ہے۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

67 آپ ان کفار مکہ کو یہ جواب دیجئے کہ میں تو اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہدایت کی کتاب کی پیروی کرنے کو تیار ہوں۔ اگر تمہارے پاس تورات اور قرآن سے بہتر کوئی ہدایت کی کتاب موجود ہے تو اسے چھپا کیوں رکھا ہے ؟ وہ لاؤ سب سے پہلے میں اس کی پیروی کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ جواب اس لئے بتلایا کہ وہ تورات اور قرآن دونوں کو جادو کہتے ہیں اور جادو ایسی چیز ہے جس کا مقابلہ بھی کیا جاسکتا ہے اور اس سے بہتر قسم کا جادو لایا جاسکتا ہے۔ لہذا اگر یہ کتابیں جادو ہیں تو تم اس سے بہتر چیز کیوں پیش نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

67۔ گویا کتاب الہی کا اہم ترین جوہر اس کا ہادی ہونا، اس کے مضامین کا پر ہدایت ہونا اور اس کے قانون کا دنیا کے حق میں بہترین ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–50

آیت نمبر 43 تا 50 ترجمہ : اور ہم نے پہلی امتوں (مثلاً ) قوم نوح و عاد وثمود وغیرہ کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی جو لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت تھی گمراہی سے اس شخص کے لئے جو اس پر عمل کرے اور رحمت تھی اس کے لئے جو اس پر ایمان لائے تاکہ نصیحت حاصل کریں ان نصیحتوں سے جو اس میں ہیں بصَائر للناسً ، الکتاب سے حال ہے اور بَصَائر بصِیٌرَۃ کی جمع ہے اور بصیرت نور قلبی کو کہتے ہیں اور بصائر کا مطلب ہے انوار القلوب اور اے محمد تم مناجات کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی مغربی پہاڑ کی جانب یا غربی وادی کی جانب یا غربی مکان کی جانب موجود نہیں تھے جب ہم نے فرعون اور اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل فاتوا بکتب من عند اللہ ھوا ھدی منھما اتبعہ ان کنتم صدیقین . (اے محمد ! ) آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم سچے ہو (کہ محمد ﷺ و موسیٰ جادوگر ہیں اور ان کی پیش کردہ کتابیں جادو ہیں) تو اللہ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب پیش کرو جو ان دونوں سے (یعنی محمد ﷺ و موسیٰ کی کتابوں سے) زیادہ ہدایت آفریں ہو کہ میں اس پر چلوں۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ اس میں حرف شک (یعنی ان) اظہار شک کے لئے نہیں ہے بلکہ بطور استہزاء ذکر کیا گیا ہے اور اس سے مراد ہے صرف لاجواب بنا دینا اور الزام دینا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(49) آپ ان کفار سے فرما دیجیے کہ اللہ کی طرف سے تم کوئی اور کتاب لے آؤ جو ہدایت کرنے میں قرآن اور توریت سے بہتر ہو میں اسی کی پیروی کرنے لگوں گا اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ قرآن کریم اور توریت دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کے موافق ہیں مگر ان میں اس کی کہاں طاقت ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ۔۔ : یعنی ان سے کہہ دیجیے کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ میں اور موسیٰ جادو گر ہیں اور تورات اور قرآن جادو ہیں، تو تم کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو من گھڑت نہ ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت والی ہو، تو میں بلا تامل اس کی پیروی کروں گا، کیونکہ مجھے تو ہدایت سے سروکار ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قل فاتوا بکتب من عند اللہ ھو اھدی منھمآ اتمعہ اے محمد ! ﷺ کہو : اے مشرکوں کی جماعتو ! جب تم نے ان دونوں کتابوں کا انکار کردیا ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے وہ کتاب لے آئو جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت یا فتہ ہو پس کس ای اتباع کروں گا تاکہ تمہارے لئے بھی کفر میں کوئی عذر ہو۔ ان کنتم صدقین اگر تم اس میں سچے ہو کہ وہ دونوں جادوگر ہیں یا تم ایسی کتاب لائو جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی کتابوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو۔ یہ کہ فیول کی قرأت سحر ان کو قوت بہم پہنچاتی ہے۔ اتبعہ، فراء نے کہا : یہ رفع کے ساتھ ہے کیونکہ کتاب کی صفت ہے اور کتاب نکروہ ہے کہا : جب اسے جزم دی جائے جو اس میں ایک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 47–50

زمانہ فترت کے لوگوں کی عذر خواہی 1۔ ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نبوت کے منقطع ہونے کے زمانہ میں ہلاک ہونے والا کہے گا اے میرے رب میرے زمانہ میں کوئی کتاب آئی اور نہ کوئی رسول آیا۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت فیقو لوا ربنا لو لا ارسلت الینا رسول فنتبع اٰیتک ونکون من المومنین یعنی اے ہمارے رب تو نے ہمارے پس کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیرے احکام پر چلتے اور ایمان والوں میں سے ہوجاتے 2۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ انے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلما جاء ہم الحق من عندنا قالوا لولا اوتی مثل ما اوتی موسیٰ ، اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل قالوا سحران تظہرا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] فَاْتُوْا [تو تم لوگ لاؤ] بِكِتٰبٍ [کوئی ایسی کتاب ] مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ [اللہ کے پاس سے ] هُوَ [جو ] اَهْدٰى [زیادہ ہدایت والی ہے ] مِنْهُمَآ [ان دونوں (کتابوں) سے ] اَتَّبِعْهُ [تو میں پیروی کروں گا اس کی ] اِنْ كُنْتُمْ [اگر تم لوگ ] صٰدِقِيْنَ [سچ کہنے والے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 44–49

پنجم : یوں فرمایا (قُلْ فَاْتُوْا بِکِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ھُوَ اَھْدٰی مِنْھُمَآ (الآیۃ) (آپ فرما دیجیے کہ تم اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان کتابوں یعنی قرآن اور توراۃ سے بڑھ کر ہدایت دینے والی ہو میں اس کا اتباع کرلوں گا اگر تم اپنی بات میں سچے ہو) مطلب یہ ہے کہ تم نہ توراۃ کو مانتے ہو نہ قرآن کو مانتے ہو۔ چلو تم اور کوئی کتاب لے آؤجو اللہ کی طرف سے ہو اگر تم بالفرض اسے اللہ کی کتاب ثابت کر دو تو میں اس کی پیروی کرلوں گا۔ اگر تم ایسا نہیں کرسکتے تو میری دلائی ہوئی کتاب کو مانو میں نے اس کا حق ہونا ثابت کردیا ہے اور اس میں توریت شریف کی بھی تصدیق ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–50

اتمام حجت وقطع معذرت ولو لا ان یصیبہم مصیبۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین۔ (ربط) گزشتہ آیات میں بعثت رسل اور نزول کتاب الٰہی کا ذکر تھا اب ان آیات میں اسی مسئلہ کو مدلل اور مبرہن کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ بعثت رسل اللہ کی حجت بالغہ ہے جس سے بندوں پر حجت پوری ہوجاتی ہے اور اسی ذیل میں کافروں کے چند حیلوں اور بہانوں کا ذکر کر کے جواب دیتے ہیں کہ بعثت رسل کے بعد کافر یہ عذر نہیں کرسکیں گے کہ ہم کو بلاوجہ کیوں عذاب دیا جا رہا ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ اللہ کا عذاب حجت پوری ہوجانے کے بعد آتا ہے اور بعثت رسل اللہ کی حجت بالغہ ہے جس سے حجت پوری ہوجاتی ہے اور مجرم کے لئے عذر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

47:۔ اگر قرآن اور تورات جادو کی کتابیں اور تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو تم اللہ کی طرف سے کوئی اور کتاب لا کر ہمیں دیدو جو ان دونوں سے زیادہ رشد و ہدایت پر مشتمل ہو۔ فان لم یستجیبوا لک الخ، اگر تم ان سے بہتر کوئی کتاب نہ لاسکو اور نہ ان کی پیروی کرو تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم محض ضد وعناد کی وجہ سے اعتراض کر رہے ہو اور اپنی خواہشات نفسانیہ کے غلام ہو۔ اس طرح یہ آیت سحران تظاھرا سے متعلق ہوگی۔ یا یہ آیت، تلک ایت الکتب المبین، اور، ولقد ایتنا موسیٰ الکتب الخ، سے متعلق ہے یعنی قرا ان رشد و ہدایت کی واضح اور بین کتاب ہے اور تورات بھی نور بصیرت اور ہدایت ور حمت کا سرچشمہ تھی اگر تمہارے خیال…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 47–50

ربط آیات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات بیان کرنے کے بعد حضور خاتم النبیین ﷺ کی نبوت و رسالت کا ذکر ہوا۔ اللہ نے واضح طور پر فرمایا کہ اے نبی (علیہ السلام) ! جب موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت عطاہو رہی تھی تو آپ تو وہاں موجود نہیں تھے۔ جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی تھی تو آپ نے تو وہ آواز نہیں سنی تھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارے واقعات ہم نے اپنی خاص مہربانی سے بذریعہ وحی آپ کو بتلائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی نبی اور رسول بنایا ہے اور آپ کو ایک عظیم المرتبت کتاب بھی عطا فرمائی ہے ۔ مقصود یہ ہے کہ آپ اس کتاب کے ذریعے ان لوگوں کو خبردار کردیں اور ڈرا دیں جن کے پاس پہلے کوئی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللہِ ہُوَ اَہْدٰى مِنْہُمَآ اَتَّبِعْہُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝ 49 كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 47–50

ترکیب : لولا کلمہ شرط ان تصیبہم ان مصدر یہ بما تصیبھم سے متعلق ای لولا اصابۃ المصیبۃ علیھم بسبب ما ای اعمال سیئۃ قدمت والعائد محذوف ای اعمال کسبوھا فیقولواتفریح یا تعقیب کے لیے پورے جملہ مقدمہ سے یعنی لووقع علیھم المصیبۃ باعمالھم لقالوا ربنا الخ یہ سب جملہ حیز شرط میں ہے جو اب مخدوف ما ارسلناک الیھم رسولا۔ قالوا سحران جملہ بیان ہے۔ اولم یکفروا کا ساحران بالا لف ای موسیٰ و ہارون و قیل موسیٰ و محمد وبغیر الالف سحران القرآن والتوراتہ۔ تفسیر : لولا ان تصیبہم مصیبتہ یہاں سے پھر اسی رسولوں کے بھیجنے کے مسئلہ کو مدلل کرتا ہے کہ ہم اس لیے بھی رسول بھیجا کرتے ہیں کہ لوگ جب ان پر ان کے اعمالِ بد کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ فَاتُوْا بِکِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِاللّٰہِ ھُوَاَھْدٰی مِنْھُمَآ اَتَّبِعْہُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (القصص : 49) (اے پیغمبر ان سے کہہ دیجیے، اچھا تو لائو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہے، میں اسی کی پیروی کروں گا، اگر تم سچے ہو۔ ) قریش سے ایک مطالبہ گزشتہ آیات سے یہ بات تو ثابت ہوجاتی ہے کہ عقل اور فطرت کی روشنی کے باوجود انسان عموماً ہَوائے نفس کی یورش، مفادات کی ہوس اور بعض طبعی عوارض سے اس حد تک مقہور واقع ہوا ہے کہ وحی الٰہی کی رہنمائی قبول کیے بغیر اس کے لیے کوئی چارہ نہیں۔ اسی وجہ سے پروردگار نے ہمیشہ انبیائے کرام مبعوث فرمائے اور کتابیں نازل کیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–50

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو جادو گر اور قرآن مجید کو من ساختہ کتاب قرار دینے والوں کو چیلنج۔ نبی اکرم ﷺ کے سچا رسول اور قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے کے ثبوت میں قرآن مجید نے منکرین کو بار بار چیلنج کیا ہے کہ اگر تمہیں رسول کے سچا اور قرآن مجید کے کتاب الٰہی ہونے میں شک ہے تو تم بھی ایسی کتاب لے آؤ۔ ہاں تمہیں یہ بھی اختیار دیا جاتا ہے کہ پورا قرآن نہیں بناسکتے تو ایک سورة ہی اس کی سورة جیسی بنا کرلے آؤ۔ بیشک اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے سوا جس سے مدد لے سکتے ہو اس سے مدد حاصل کرو لیکن یاد رکھو نہ تم نے آج تک یہ کام کیا ہے اور نہ قیامت تک کر سکوگے۔ قرآن مجید بنانا تو درکنار اس کی سورة…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

49: قُلْ فَاْتُوْا بِکِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ہُوَ اَہْدٰی مِنْہُمَآ (کہہ دیں اے محمد ﷺ تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی کتاب پیش کردو جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت والی ہو) ۔ جو موسیٰ (علیہ السلام) پر اتری اور جو مجھ پر نازل ہوئی۔ اَتَّبِعْہُ (تاکہ میں اس پر چلوں) ۔ نحو : یہ فأتوا کا جواب ہے۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ (اگر تم سچے ہو) کہ وہ دونوں جادو ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

49۔ قل، ،، کہہ دیجئے اے محمد، فاتواب کتاب من عنداللہ ھواھدی منھما، ، یعنی توریت، اور قرآن، اتبعہ ان کنتم صادقین۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 48–49

48‘ 49۔ یہ تو بیان اوپر کردیا گیا ہے کہ اوپر کی آیتوں میں سرن کا مطلب مشرکوں کے نزدیک تو رات اور قرآن ہے حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے کہا ہم تورات اور قرآن دونوں کو نہیں مانتے کہ یہ دونوں جادو ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہو کہ تم ہی لوگ کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو زیادہ ہدایت کرنے والی ہو تو ریت اور قرآن سے تاکہ میں اس کی پیروی کروں پھر اگر یہ لوگ کوئی ایسی کتاب نہ لاسکیں تو جان لو کہ وہ اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اپنی خواہشوں پر چلے ایسے لوگ اللہ کے نزدیک ناانصاف ظالم ہیں اور اللہ ایسے لوگوں کو زبردستی راہ راست پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 27–54

شعراء کی دو اقسام قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

63 منکرین سے قطع حجت کیلئے ایک فیصلہ کن مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ اچھا تو پھر تم ہی کوئی ایسی کتاب اللہ کے یہاں سے لے آؤ جو ان دونوں یعنی قرآن اور تورات سے بڑھ کر ہدایت بخشنے والی ہو۔ میں بھی اسی کی پیروی کروں گا۔ اگر تم لوگ سچے ہو "۔ اپنے قول وقرار اور الزام و اتہام میں۔ تو تم ایسی کوئی کتاب ہدایت لے آؤ ہم بھی اسی کی پیروی کریں گے۔ کیونکہ اصل مقصد تو بہرحال حق و ہدایت کی پیروی ہی ہے۔ مگر ان کے لئے ایسا کرنا کہاں اور کیسے ممکن ہوسکتا ہے جبکہ اس کتاب عظیم قرآن حکیم سے بہتر کوئی کتاب نہ موجود ہے نہ ممکن ہوسکتی ہے۔ بہرکیف اس سے قطع حجت کیلئے ان لوگوں سے یہ فیصلہ کن مطالبہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–64

ہجرت، مدین میں قیام، فرعون کی طرف واپسی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے سرفرازی نبی کو بھیجنے کا مقصد ‘ نیک و بد کا فرق اور مشرکین کا انجام تشریح : کفار و مشرکین کی خصلتیں ہر زمانے اور ہر دور میں ایک سی ہی رہی ہیں۔ آج کا دور باوجود ترقی کرنے کے اور علم و فضل میں کافی ترقی کر جانے کے کفار وہی ہٹ دھرمی اور ضد رکھتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں رکھتے تھے۔ کبھی کہتے موسیٰ جیسے معجزے دکھائو کبھی کہتے موسیٰ (علیہ السلام) جیسی کتاب لائو۔ حالانکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اہل عرب کیسے ایمان لاسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور حکیم ہے اس لیے وہ نبی بھیجتا رہا تاکہ قیامت کے دن…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–50

آیات 43 تا 50 اسرار ومعارف اور جب پہلی امتیں اپنی گمراہی کے سبب ہلاک ہوگئیں تو ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرما کر مبعوث فرمایا جس میں بصائیر یعنی عقل سلیم کی رہنمائی کرنے والی باتیں اور صحیح رہنمائی اور اللہ کی رحمت تھی کہ حق بات عقل سلیم کو اپیل کرتی ہے پھر بندہ ایمان قبول کرتا ہے تو یہ ہدایت ہوگی اور پھر اعمال صالح نصیب ہوتے ہیں جو رحمت ہیں اور یہ اہتمام اس لیے فرمایا کہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور جب یہ سب ہورہا تھا یا موسیٰ (علیہ السلام) سے بات ہو رہی تھی تو انہیں کتاب عطا ہوئی تو آپ طور پر تشریف نہ رکھتے تھے کہ آپ نے وہ واقعہ دیکھا ہو پھر بر شمار لوگ گزرے اور زمانے بیت گئے یہ باتیں لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 49–50

5 ۔ یعنی اگر ان دونوں سے بہتر کتاب پیش نہ کرسکیں۔ (کبیر) 6 ۔ مطلب یہ ہے کہ ہدایت تو انہی لوگوں کو نصیب ہوسکتی ہے جن کے دل ضد اور ہٹ دھرمی سے پاک ہوں اور وہ حق کی معرفت کے بعد اسے قبول کرنے کو تیار ہوں مگر جن کے دلوں میں زیغ وعناد ہو انہیں راہ ہدایت کیسے مل سکتی ہے ؟

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:49) اتبعہ۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب امر۔ صیغہ واحد متکلم ، میں اس کی پیروی کروں اتباع (افتعال) مصدر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 43–50

لغات القرآن : آیت نمبر 43 تا 50 : القرون الاولی (گذری ہوئی جماعتیں۔ زمانہ) بصائر (آنکھیں کھولنے والی باتیں) ‘ الشھدین ( دیکھنے والے) انشا نا ( ہم نے اٹھایا۔ ہم نے پیدا کیا) تطاول (طویل ہوگئی) العمر (مدت) ثاوی (رہنے والے) قدمت ایدی (آگے بھیجا۔ دونوں ہاتھوں کے آگے) ‘ سحران ( دو جادو) ‘ تظھرا (ایک دوسرے کے موافق) ‘ اھدی (زیادہ ہدایت) ‘ لم یستجیبوا (جواب نہ دیا) ‘ اھواء (ھوائ) خواہشیں۔ تمنائیں) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 43 تا 50 : سورۃ القصص کی گذشتہ آیات اور قرآن کی متعدد سورتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو کسی جگہ تفصیل سے اور کہیں مختصر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 47–50

آنحضرت ﷺ پر مشرکین کا اعتراض۔ (ف 1) ان آیتوں میں قریش کو یوں قائل کیا کہ جب ان لوگوں میں سے کوئی رسول نہ تھا اور کوئی کتاب اللہ کی طرف سے ان پر نہ اتری تھی تو یہود اور نصاری کو اہل کتاب دیکھ کر قریش کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کا اتباع کرتے اوان احکام اور رسول پر ایمان لاتے پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق کتاب یعنی قرآن آیا تو اب ان کو مناسب تھا کہ اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے اور اس کی پیروی کرتے لیکن یہ تو نہ کیا بلکہ رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ عصا اور یدبیضا اور دریائے قلزم کے بیچ میں سے راستہ کا معجزہ جو حضرت موسیٰ کو ملا تھا اسی طرح کا ظاہر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 49–51

حل لغات :۔ وصلنا لھم القول : قرآن کو ہم نے مسلسل ترتیب کے ساتھ نازل کیا ۔ یعنی ہم ان لوگوں کے پاس پیہم (ہدایت) کی باتیں بھیجتے رہے

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

49۔ اے پیغمبر آپ ان سے فرمایئے اچھا اگر تم سچے ہو تو قرآن کریم اور توریت کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے کوئی اور کتاب لے آئو جو ہدایت اور ہنمائی کرنے میں ان دونوں سے بہتر ہو تو میں اس کی پیروی کرنے لگوں گا اور اس کی اتباع کروں گا ۔ یعنی اگر قرآن کریم سے مطمئن نہیں ہو اور توریت پر بھی ایمان نہیں ہے تو اب صحیح طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے کوئی اور کتاب لے آئو جو قرآن کریم اور توریت دونوں سے بہتر اور زیادہ روشنی دینے والی ہو اور ہدایت کا نوران دونوں سے اس میں زیادہ ہو تو اس کو مان لوں گا اور اس کا پیرو ہو جائوں گا اگر تم ان دونوں کا انکار کرنے میں سچے ہو تو ایسا کرلو ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ غرض یہ کہ میں حق ثابت کردوں تو تم اس کا اتباع کرو اور اگر تم حق ثابت کردو تو میں اتباع کے لئے آمادہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اگر یہ آپ ﷺ کی پیروی نہیں کرتے تو ان سے کہو کہ تم بھی کچھ پیش کر دو : 49۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے کہا جارہا ہے کہ اگر یہ لوگ آپ ﷺ کی لائی ہوئی کتاب کی پیروی کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور طرح طرح کی کٹ حجتیاں پیش کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ تم کوئی ایسی چیز پیش کر دو جو قرآن کریم سے وہ اور تورات سے بھی زیادہ ہدایت دینے والی ہو تو میں اس کو مان لیتا ہوں اور اس کی پیروی کرتا ہوں کیونکہ مجھے تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت کی پیروی کرنا ہے ضد سے کام لینا قطعا نہیں کہ میں ایک کو مانوں اور دوسری کا انکار کر دوں اگر میں نے اس ہدایت کو گھڑ لیا ہے تو تم بھی گھڑ کرلے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–51

وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُ‌ونَ (And We have conveyed (Our) words to them one after the other, so that they may take to advice. - 28:51). The word وَصَّلْنَا (wassalna) is derived from وتَصِیل (Tausil), which literally means to strengthen the rope by adding more strings to its strands. Here it means that Allah Ta` ala has maintained the continuity of guidance. Certain advisory subjects are repeated in the Qur'an in order to make them more effective. Certain rules for preaching It shows that an important trait of preaching carried out by the prophets was that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

70 That is, "I have to follow the guidance in any case, provided that it is not forged but is real guidance from God. If you possess a Divine Book which gives better guidance than the Qur'an and the Torah, you should produce it: I shall follow it without any hesitation."

Read the full tafseer →