Explained with ayahs 48–51
پہلے بیان ہوا کہ اگر نبیوں کے بھیجنے سے پہلے ہی ہم ان پر عذاب بھیج دیتے تو ان کی یہ بات رہ جاتی کہ اگر رسول ہمارے پاس آتے تو ہم ضرور ان کی مانتے اس لیے ہم نے رسول بھیجے۔ بالخصوص رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کو آخر الزمان رسول بنا کر بھیجا۔ جب حضور ﷺ انکے پاس پہنچے تو انہوں نے آنکھیں پھیر لیں منہ موڑلیا اور تکبر عناد کیساتھ ضد اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کہنے لگے جیسے حضرت موسیٰ کو بہت معجزات دئے گئے تھے جیسے لکڑی اور ہاتھ طوفان ٹڈیاں جوئیں مینڈک خون اور اناج کی پھلوں کی کمی وغیرہ جن سے دشمنان الٰہی تنگ آئے اور دریا کو چیرنا اور ابر کا سایہ کرنا اور من وسلویٰ کا اتارنا وغیرہ جو زبردست اور بڑے بڑے معجزے تھے…
Read the full tafseer →سورة القصص 67
یعنی محمد ﷺ کو وہ سارے معجزے کیوں نہ دیے گئے جو حجرت موسیٰ کو دیے گئے تھے، یہ بھی عصا کا اژدھا بنا کر ہمیں دکھاتے، ان کا ہاتھ بھی سورج کی طرح چمک اٹھتا، جھٹلانے والوں پر ان کے اشارے سے بھی پے درپے طوفانوں اور زمین و آسمان سے بلاؤں کا نزول ہوتا اور یہ بھی پتھر کی تختیوں پر لکھے ہوئے احکام لاکر ہمیں دیتے۔
سورة القصص 68
یہ ان کے اعتراض کا جواب ہے، مطلب یہ ہے کہ ان معجزوں کے باوجود موسیٰ ہی پر تم کب ایمان لائے تھے جو اب محمد ﷺ سے ان کا مطالبہ کر رہے ہو، تم خود کہتے ہو کہ موسیٰ کو یہ معجزے دیے گئے تھے، مگر پھر بھی ان کو نبی مان کر ان کی پیروی تم نے کبھی قبول نہیں کی، سورة سبا آیت 31…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ ، یہاں اس قوم سے عرب مراد ہیں جو حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں ہیں اور ان کے بعد سے خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے تک ان میں کوئی پیغمبر مبعوث نہ ہوا تھا یہی مضمون سورة یٰسٓ میں بھی آنے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دوسری جگہ قرآن کریم کا یہ ارشاد کہ وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ کہ کوئی امت ایسی نہیں جس میں اللہ کا کوئی پیغمبر نہ آیا یہ اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ مراد اس آیت کی یہ ہے کہ زمانہ دراز سے حضرت اسماعیل ؑ کے بعد ان میں کوئی نبی نہیں آیا مگر نبی و رسول کے آنے سے بالکل خالی یہ امت بھی نہیں رہی۔
Read the full tafseer →لفظ حق یہاں رسول اور کتاب دونوں پر مشتمل ہے اس لئے کہ یہ دونوں چیزیں اپنی حقیقت کے اعتبار سے بالکل ایک ہیں من مندنا اس حق کی عظمت و شان کے اظہار کے لئے ہے کہ یہ خدا کی طرف سے آیا ہوا حق ہے اس وجہ سے اب وہ سب کچھ جو اس کے فلاں ہے باطل اور مٹ جانے والی چیز ہے۔
یہود کا سکھایا ہر ایک اعتراض اور اس کا جواب
فرمایا کہ ہم نے تو اتمام حجت، قطع عذر اور شکوک دادہام کے ازالہ کے لئے خاص اپنے پاس سے حق نازل فرمایا لیکن یہ لوگ یہ معاوضہ کر رہے ہیں کہ ان (محمد ﷺ کو اس طرح کے معجزے کیوں نہیں دیئے گئے جس قسم کے حضرت موسیٰ کو دیئے گئے !
قرینہ دلیل ہے کہ اس اعتراض کو پھیلایا تو قریش نے لیکن اس کے سکھانے والے…
Read the full tafseer →48-1یعنی حضرت موسیٰ ؑ کے سے معجزات، جیسے لاٹھی کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا چمکنا وغیرہ
48-2یعنی مطلوبہ معجزات، اگر دکھا بھی دیئے جائیں تو کیا فائدہ، جنہیں ایمان نہیں لانا، وہ ہر طرح کی نشانیاں دیکھنے کے باوجود ایمان سے محروم ہی رہیں گے۔ کیا موسیٰ ؑ کے مذکورہ معجزات دیکھ کر فرعونی مسلمان ہوگئے تھے، انہوں نے کفر نہیں کیا ؟ یا یکفُروا کی ضمیر قریش مکہ کی طرف ہے یعنی کیا انہوں نے نبوت محمدیہ سے پہلے موسیٰ ؑ کے ساتھ کفر نہیں کیا۔
48-3پہلے مفہوم کے اعتبار سے دونوں سے مراد حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) ہوں گے اور دوسرے مفہوم اس سے قرآن اور تورات مراد ہونگے یعنی دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
27: یعنی جس طرح حضرت موسیٰ ؑ کو پوری تورات ایک ہی مرتبہ عطا کردی گئی تھی، اسی طرح آپ کو سارا قرآن ایک ہی مرتبہ کیوں نہیں دیدیا گیا، اس اعتراض کا یہ جواب آگے دیا گیا ہے کہ تم لوگ تورات پر کونسا ایمان لے آئے تھے جو قرآن کے بارے میں یہ مطالبہ کررہے ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
درس نمبر 177 تشریح آیات
44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے…
Read the full tafseer →8 یعنی رسول نہ بھیجتے تو کہتے رسول کیوں نہ بھیجا۔ اب رسول تشریف لائے جو تمام پیغمبروں سے شان و رتبہ میں بڑھ کر ہیں تو کہتے ہیں کہ صاحب ! ہم تو اس وقت مانتے جب دیکھتے کہ ان سے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح " عصاء " اور " ید بیضاء " وغیرہ کے معجزات ظاہر ہوتے اور ان کے پاس بھی تورات کی طرح ایک دم ایک کتاب اترتی یہ کیا کہ دو دو چار چار آیتیں پیش کرتے ہیں۔
9 یعنی موسیٰ کے معجزات اور کتاب ہی کو کہاں سب نے مان لیا تھا ؟ شبہ نکالنے والے ان کو بھی " سحر مفتری " کہتے رہے جیسا کہ ابھی ایک دو رکوع پہلے گزرا بس جن کو ماننا منظور نہیں ہوتا وہ ہر بات میں کچھ نہ کچھ احتمالات نکال لیتے ہیں۔
10 حضرت شاہ صاحب '…
Read the full tafseer →آیت 48 فَلَمَّا جَآءَ ہُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْلَآ اُوْتِیَ مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی ط ”
یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عصا اور ید بیضا جیسے معجزے دیے گئے تھے۔ انہیں تورات تختیوں پر لکھی ہوئی ملی تھی۔ اب اگر محمد ﷺ بھی واقعی اللہ کے رسول ہیں تو انہیں ایسے معجزات کیوں نہیں دیے گئے ؟
اَوَلَمْ یَکْفُرُوْا بِمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ ج ”
تو کیا موسیٰ علیہ السلام کے معجزات کو دیکھ کر فرعون اور اس کی قوم کے لوگ ایمان لے آئے تھے ؟ کیا وہ لوگ معجزات دیکھ لینے کے باوجود انکار کر کے عذاب کے مستحق نہیں ہوئے تھے ؟
قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظَاہَرَاقف ”
اس فقرے کے بارے میں ایک رائے تو…
Read the full tafseer →64 اور اب جو کفار مکہ کے پاس ہمارا رسول آیا ہے اور اپنے ساتھ ہدایت کی کتاب بھی لایا ہے۔ تو انہوں نے اب یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ موسیٰ کی طرح اسے عصا کیوں نہیں دیا گیا۔ جو سانپ بن جاتا ہو یا سورج کی طرح چمکنے والا ہاتھ اسے کیوں نہیں دیا گیا۔ یا یہ کتاب تختیوں کی صورت میں کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ مشرکین مکہ کے اس اعتراض کا جو جواب اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جب حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کے سامنے یہ معجزات پیش کئے تھے۔ تو کیا وہ ایمان لے آئے تھے ؟ تمہارے خیال کے مطابق تو انھیں ضرور ایمان لانا چاہئے تھا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان معجزات کو درست اور نبوت کی دلیل…
Read the full tafseer →65۔ (آیت) ” مااوتی موسیٰ “۔ کے تحت میں کتاب توریت اور معجزات سب آگئے۔ معجزات مادی وحسی آپ کو بہت نہیں ملے تھے اور کتاب بھی آپ کو یکجائی نہیں ملی تھی۔ من الکتب جملۃ والید والعصا وغیرھا (بیضاوی) من الکتاب المنزل جملۃ واحدۃ ومن سائر المعجزات (کبیر) یہ موجودہ منکرین کہتے ہیں کہ یہ جو ہمارے زمانہ میں رسول بن کر آئے ہیں، ان کے پاس نہ تو موسیٰ کی طرح عصا اور یدبیضا کی طرح کھلے ہوئے مادی معجزے ہیں اور نہ اک بارگی لکھی لکھائی ہوئی تیار کتاب۔ (آیت) ” قالوا “ یہ کہنے والے رسول ﷺ کے معاصر مشرکین مکہ تھے۔ اے اولئک القوم والمراد بھم ھنا اھل مکۃ الموجودین عن البعثۃ (روح) (آیت) ” اولم ... قبل “۔ جواب یہ ملتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
آیت نمبر 43 تا 50
ترجمہ : اور ہم نے پہلی امتوں (مثلاً ) قوم نوح و عاد وثمود وغیرہ کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی جو لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت تھی گمراہی سے اس شخص کے لئے جو اس پر عمل کرے اور رحمت تھی اس کے لئے جو اس پر ایمان لائے تاکہ نصیحت حاصل کریں ان نصیحتوں سے جو اس میں ہیں بصَائر للناسً ، الکتاب سے حال ہے اور بَصَائر بصِیٌرَۃ کی جمع ہے اور بصیرت نور قلبی کو کہتے ہیں اور بصائر کا مطلب ہے انوار القلوب اور اے محمد تم مناجات کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی مغربی پہاڑ کی جانب یا غربی وادی کی جانب یا غربی مکان کی جانب موجود نہیں تھے جب ہم نے فرعون اور اس کی…
Read the full tafseer →فلما جاء ھم الحق من عندنا قالوا لولا اوتی مثل ما اوتی موسیٰ . پھر جب ان کے پاس حق
(قرآن یا پیغمبر) ہمارے پاس سے آگیا تو کہنے لگے : اس (پیغمبر) کو ویسا معجزہ کیوں نہیں دیا گیا جیسا موسیٰ کو دیا گیا تھا۔
قَالُوْا یعنی کفار مکہ نے محض ضد اور ہٹ کی وجہ سے کہا۔
مِثْلَ مَا اُوْتِیَ مُوْسٰی یعنی موسیٰ کو جیسے عصا اور ید بیضاء وغیرہ کے معجزات دئیے گئے ایسے معجزات اس پیغمبر کو کیوں نہیں دئیے گئے یا یہ مطلب کہ جیسے پوری کتاب یکدم موسیٰ پر اتاری گئی ویسے یکدم پوری کتاب محمد ﷺ پر کیوں نہ اتاری گئی۔
اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل قالوا سحرن تظھرا . کیا موسیٰ کو جو کچھ پہلے دیا گیا تھا اس
کا انہوں نے…
Read the full tafseer →(48) مگر جب ان کفار مکہ کی طرف رسول اکرم ﷺ قرآن حکیم لے کر آئے تو یہ کہنے لگے کہ اے محمد ﷺ حضرت موسیٰ ؑ کی طرح یدبیضاء عصا اور من سلوی کے معجزات کیوں نہیں ملے اور موسیٰ ؑ کی طرح ایک ہی بار قرآن کریم ان پر کیوں نازل نہیں کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو جو کتاب توریت ملی تھی کیا یہ کفار مکہ آپ سے پہلے اس کے منکر نہیں ہوئے یہ کفار مکہ تو یوں کہتے ہیں کہ قرآن کریم اور توریت دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کے موافق ہیں اور یوں بھی کہتے ہیں کہ ہم تو قرآن کریم اور توریت میں سے کسی کو بھی نہیں مانتے۔
Read the full tafseer →فَلَمَّا جَاۗءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا۔۔ : یعنی رسول نہ بھیجتے تو بہانہ ہوتا کہ رسول کیوں نہ بھیجا، اب ہماری طرف سے رسول آیا تو ضد اور عناد سے کہنے لگے کہ اسے اس قسم کے معجزات کیوں نہیں دیے جو موسیٰ کو دیے گئے تھے، مثلاً عصا، یدِبیضا، سمندر کا پھٹنا، بادلوں کا سایہ کرنا، پتھر سے بارہ چشمے پھوٹنا، من وسلویٰ کا اترنا، اللہ تعالیٰ کا کلام کرنا اور تورات کا الواح کی شکل میں نازل ہونا وغیرہ۔ معلوم ہوا نہ ماننا ہو تو بہانے ختم نہیں ہوتے۔
3 مفسر رازی فرماتے ہیں : ”ان لوگوں نے جو مطالبہ کیا ضروری نہیں تھا کہ اسی طرح ہوتا، کیونکہ نہ تمام انبیاء کے معجزات کا ایک ہونا لازم ہے اور نہ یہ ضروری ہے کہ…
Read the full tafseer →فلما جآء ھم الحق من عندنا حق سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات ہے۔ قالوا یعنی کفار مکہ نے کہا : لولا اوتی مثل ما اوتی موسیٰ لولا، ھلا کے معنی میں ہے مثل ما اوتی سے مراد عصا اور ید بیضا ہے اور تورات کی طرح آپ کو قرآن حکیم اکٹھے کیوں نازل نہیں کیا گیا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں خبر حضرت محمد ﷺ سے پہلے پہنچ چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اولم یکفروا بمآ اوتی موسیٰ من قبل قالوا سحرن تظھرا ساحران سے مراد انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ لئے ہیں جن دونوں نے باہم جادو پر تعاون کیا معاذ اللہ۔ کلبی نے کہا : قریش نے یہودیوں کی طرف پیغام بھجیا اور ان سے حضور ﷺ کی بعثت اور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
زمانہ فترت کے لوگوں کی عذر خواہی
1۔ ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نبوت کے منقطع ہونے کے زمانہ میں ہلاک ہونے والا کہے گا اے میرے رب میرے زمانہ میں کوئی کتاب آئی اور نہ کوئی رسول آیا۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت فیقو لوا ربنا لو لا ارسلت الینا رسول فنتبع اٰیتک ونکون من المومنین یعنی اے ہمارے رب تو نے ہمارے پس کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیرے احکام پر چلتے اور ایمان والوں میں سے ہوجاتے
2۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ انے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلما جاء ہم الحق من عندنا قالوا لولا اوتی مثل ما اوتی موسیٰ ، اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل قالوا سحران تظہرا…
Read the full tafseer →فَلَمَّا [تو جب ] جَاۗءَهُمُ [آیا ان کے پاس ] الْحَقُّ [حق (قرآن)] مِنْ عِنْدِنَا [ہمارے پاس سے ] قَالُوْا [تو انھوں نے کہا ] لَوْلَآ [کیوں نہیں ] اُوْتِيَ [ان (رسول) کو دیا گیا ] مِثْلَ مَآ [اس کے جیسا جو ] اُوْتِيَ [دیا گیا ] مُوْسٰي ۭ [موسیٰ (علیہ السلام) کو ] اَوَ [اور کیا ] لَمْ يَكْفُرُوْا [انہوں نے انکار نہیں کیا ] بِمَآ [اس کا جو ] اُوْتِيَ [دیا گیا ] مُوْسٰي [موسیٰ (علیہ السلام) کو ] مِنْ قَبْلُ ۚ [اس سے پہلے ] قَالُوْا [انہوں نے کہا ] سِحْرٰنِ [(یہ کتابیں) دو جادو ہیں ] تَظٰهَرَ ڠ [دونوں باہم مددگار ہوئیں ] وَقَالُوْٓا [اور انہوں نے کہا ] اِنَّا [کہ ہم ] بِكُلٍّ [سب کا ] كٰفِرُوْنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
پنجم : یوں فرمایا (قُلْ فَاْتُوْا بِکِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ھُوَ اَھْدٰی مِنْھُمَآ (الآیۃ) (آپ فرما دیجیے کہ تم اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان کتابوں یعنی قرآن اور توراۃ سے بڑھ کر ہدایت دینے والی ہو میں اس کا اتباع کرلوں گا اگر تم اپنی بات میں سچے ہو) مطلب یہ ہے کہ تم نہ توراۃ کو مانتے ہو نہ قرآن کو مانتے ہو۔ چلو تم اور کوئی کتاب لے آؤجو اللہ کی طرف سے ہو اگر تم بالفرض اسے اللہ کی کتاب ثابت کر دو تو میں اس کی پیروی کرلوں گا۔ اگر تم ایسا نہیں کرسکتے تو میری دلائی ہوئی کتاب کو مانو میں نے اس کا حق ہونا ثابت کردیا ہے اور اس میں توریت شریف کی بھی تصدیق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
اتمام حجت وقطع معذرت
ولو لا ان یصیبہم مصیبۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں بعثت رسل اور نزول کتاب الٰہی کا ذکر تھا اب ان آیات میں اسی مسئلہ کو مدلل اور مبرہن کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ بعثت رسل اللہ کی حجت بالغہ ہے جس سے بندوں پر حجت پوری ہوجاتی ہے اور اسی ذیل میں کافروں کے چند حیلوں اور بہانوں کا ذکر کر کے جواب دیتے ہیں کہ بعثت رسل کے بعد کافر یہ عذر نہیں کرسکیں گے کہ ہم کو بلاوجہ کیوں عذاب دیا جا رہا ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ اللہ کا عذاب حجت پوری ہوجانے کے بعد آتا ہے اور بعثت رسل اللہ کی حجت بالغہ ہے جس سے حجت پوری ہوجاتی ہے اور مجرم کے لئے عذر…
Read the full tafseer →46:۔ یہ شکوی ہے۔ پھر جب رسول صادق ﷺ کے ذریعے اللہ کا قرآن ان کے پاس آگیا تو اب ایمان لانے کے بجائے ضد وعناد اور مجادلے پر اتر آئے اب کہتے ہیں یہ قرآن تورات کی طرح ایک ہی بار کیوں نازل نہیں کیا گیا یہ سوال کرنے والے یا تو یہودی تھے یا مشرکین نے یہودیوں کے ایماء پر سوال کیا تھا۔ اولم یکفروا الخ یہ جواب شکوی ہے یعنی ان کا سوال محض ازراہ تعنت وعناد ہے، طلب حق کے لیے نہیں کیونکہ وہ اس سے پہلے تورات کا بھی انکار کرچکے ہیں۔ تورات اور قرآن کے بارے میں وہ کہتے ہیں، سحران تظاھرا، یہ دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی تصدیق وتائید کرتے ہیں۔ ایک قراءت میں ساحران ہے تو اس سے ان کا شارہ حضرت رسول اکرم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
ربط آیات
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات بیان کرنے کے بعد حضور خاتم النبیین ﷺ کی نبوت و رسالت کا ذکر ہوا۔ اللہ نے واضح طور پر فرمایا کہ اے نبی (علیہ السلام) ! جب موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت عطاہو رہی تھی تو آپ تو وہاں موجود نہیں تھے۔ جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی تھی تو آپ نے تو وہ آواز نہیں سنی تھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارے واقعات ہم نے اپنی خاص مہربانی سے بذریعہ وحی آپ کو بتلائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی نبی اور رسول بنایا ہے اور آپ کو ایک عظیم المرتبت کتاب بھی عطا فرمائی ہے ۔ مقصود یہ ہے کہ آپ اس کتاب کے ذریعے ان لوگوں کو خبردار کردیں اور ڈرا دیں جن کے پاس پہلے کوئی…
Read the full tafseer →فَلَمَّا جَاۗءَہُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْلَآ اُوْتِيَ مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ مُوْسٰي 0 ۭ اَوَلَمْ يَكْفُرُوْا بِمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰي مِنْ قَبْلُ 0ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰہَرَا وَقَالُوْٓا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ 48
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
ترکیب : لولا کلمہ شرط ان تصیبہم ان مصدر یہ بما تصیبھم سے متعلق ای لولا اصابۃ المصیبۃ علیھم بسبب ما ای اعمال سیئۃ قدمت والعائد محذوف ای اعمال کسبوھا فیقولواتفریح یا تعقیب کے لیے پورے جملہ مقدمہ سے یعنی لووقع علیھم المصیبۃ باعمالھم لقالوا ربنا الخ یہ سب جملہ حیز شرط میں ہے جو اب مخدوف ما ارسلناک الیھم رسولا۔ قالوا سحران جملہ بیان ہے۔ اولم یکفروا کا ساحران بالا لف ای موسیٰ و ہارون و قیل موسیٰ و محمد وبغیر الالف سحران القرآن والتوراتہ۔
تفسیر : لولا ان تصیبہم مصیبتہ یہاں سے پھر اسی رسولوں کے بھیجنے کے مسئلہ کو مدلل کرتا ہے کہ ہم اس لیے بھی رسول بھیجا کرتے ہیں کہ لوگ جب ان پر ان کے اعمالِ بد کی…
Read the full tafseer →فَلَمَّا جَآئَ ھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْلَآ اُوْتِیَ مِثْلَ مَـآ اُوْتِیَ مُوْسٰی ط اَوَلَمْ یَکْفُرُوْا بِمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ ج قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰہَرَا وقفۃ قف وَقَالُوْٓا اِنَّا بِکُلٍّ کٰفِرُوْنَ ۔ (القصص : 48)
(پس جب ہماری طرف سے حق ان کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰ کو دیا گیا تھا، کیا اس طرح کے لوگوں نے اس چیز کا انکار نہیں کیا جو اس سے پہلے موسیٰ کو دی گئی، انھوں نے کہا دونوں ماہر جادوگر ہیں جنھوں نے گٹھ جوڑ کر رکھا ہے اور کہا کہ ہم اس سب کے منکر ہیں۔ )
ایک اعتراض اور اس کا جواب
اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق قطع عذر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مصیبت کے وقت رسول اور ہدایت کا مطالبہ کرنے والوں کے پاس جب رسول ﷺ قرآن لے آکر آئے تو ان کا رد عمل کیا تھا۔
کفار مختلف بہانوں سے قرآن مجید کا انکار کرتے تھے۔ ان کا ایک بہانہ اور عذر لنگ یہ بھی تھا کہ یہ عجب نبی ہے کہ اس کے پاس نہ مال، نہ کوئی جاگیر اور نہ ہی موسیٰ (علیہ السلام) جیسے معجزات ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہر وقت اپنے پاس عصا رکھتے جو مخالفوں کے سامنے اژدھا بن جاتا اور وہ ید بیضا رکھتے تھے جو لوگوں کی آنکھیں چندھیا دیتا تھا۔ اس نبی کے پاس قرآن کی آیات سنانے اور اس میں ہمارے بزرگوں کی تردید کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم اس کی اتباع کریں تو کس بنیاد پر ؟ ہاں اگر…
Read the full tafseer →48: فَلَمَّا جَآئَ ہُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا (جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر آگیا) ۔ حق سے مراد قرآن یا رسول جس کی تصدیق کتاب معجز سے کی گئی ہے۔ قَالُوْا (وہ کہنے لگے) ۔ یعنی کفار کہلَوْلَآ اُوْتِیَ مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی (ان کو کیوں نہ دی گئی اسی کی مانند جو موسیٰ ( علیہ السلام) و دی گئی) ۔ یعنی ایک ہی دفعہ اترنے والی کتاب۔ اَوَلَمْ یَکْفُرُوْا (کیا انہوں نے انکار نہیں کیا) ۔ یعنی انکے ابنائے جنس جن کے مذہب سے انکا مذہب ہے اور جن کے عناد سے ان کا عناد ہے اور مراد وہ کافر ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں تھے۔ بِمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ (جو موسیٰ (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →48۔ فلماجاء ھم الحق، ، من عندنا، ، یعنی محمد ﷺ ، قالوا، کفار مکہ کہنے لگے، لولا، بمعنی ھلا کے ہے۔ اوتی، محمد کو کیوں نہیں دیے گئے، مثل مااوتی، جس طرح حضرت موسیٰ کویدبیضا، اور عصا کا معجزہ دیا گیا، اسی طرح محمد ﷺ کو معجزات کیوں نہ دیے گئے اور کفار مکہ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک ہی بار کتاب عطا کی گئی اسی طرح آپ پر ایک بار کیوں نازل نہیں کی گئی۔ اولم یکفروا، بمااوتی موسیٰ من قبل، ،، انہوں نے حضرت موسیٰ کے معجزات کا انکار کیا تھا جس طرح آپ کے معجزات کا انکار کررہے ہیں ، قالواسحران تظاھرا، ، اہل کوفہ نے (سحران) پڑھا ہے۔ اس سے مراد توریت اور قرآن لیا ہے۔ تظاھرا، یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
48‘ 49۔ یہ تو بیان اوپر کردیا گیا ہے کہ اوپر کی آیتوں میں سرن کا مطلب مشرکوں کے نزدیک تو رات اور قرآن ہے حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے کہا ہم تورات اور قرآن دونوں کو نہیں مانتے کہ یہ دونوں جادو ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہو کہ تم ہی لوگ کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو زیادہ ہدایت کرنے والی ہو تو ریت اور قرآن سے تاکہ میں اس کی پیروی کروں پھر اگر یہ لوگ کوئی ایسی کتاب نہ لاسکیں تو جان لو کہ وہ اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اپنی خواہشوں پر چلے ایسے لوگ اللہ کے نزدیک ناانصاف ظالم ہیں اور اللہ ایسے لوگوں کو زبردستی راہ راست پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–54
شعراء کی دو اقسام
قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…
Read the full tafseer →59 انسان کی بےقدری اور ناشکری کا ایک نمونہ و مظہر : سو حق تعالیٰ نے دنیا کو نور حق و ہدایت کی نعمت عظمیٰ سے نوازا لیکن لوگوں کی طرف سے اس کا انکار اور کفران نعمت ہی سامنے آیا ۔ الا ما شاء اللہ ۔ یعنی ان کو کرم بالائے کرم سے نوازا گیا مگر انہوں نے اس کا جواب کفران نعمت اور ناشکری ہی سے دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ حق و ہدایت کی روشنی جو سب نعمتوں سے بڑھ کر نعمت ہے اس سے ان کو نوازا گیا۔ اور وہ بھی اس وقت اور ایسے دور میں جب کہ کتب سابقہ اور ان کی پاکیزہ تعلیمات کو مٹا اور مسخ کر کے کچھ کا کچھ بنادیا گیا تھا۔ اور چار سو اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ اور یہ لوگ خود کہا کرتے تھے اور رہ رہ کر کہا کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–64
ہجرت، مدین میں قیام، فرعون کی طرف واپسی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے سرفرازی
نبی کو بھیجنے کا مقصد ‘ نیک و بد کا فرق اور مشرکین کا انجام
تشریح : کفار و مشرکین کی خصلتیں ہر زمانے اور ہر دور میں ایک سی ہی رہی ہیں۔ آج کا دور باوجود ترقی کرنے کے اور علم و فضل میں کافی ترقی کر جانے کے کفار وہی ہٹ دھرمی اور ضد رکھتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں رکھتے تھے۔ کبھی کہتے موسیٰ جیسے معجزے دکھائو کبھی کہتے موسیٰ (علیہ السلام) جیسی کتاب لائو۔ حالانکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اہل عرب کیسے ایمان لاسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور حکیم ہے اس لیے وہ نبی بھیجتا رہا تاکہ قیامت کے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
آیات 43 تا 50
اسرار ومعارف
اور جب پہلی امتیں اپنی گمراہی کے سبب ہلاک ہوگئیں تو ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرما کر مبعوث فرمایا جس میں بصائیر یعنی عقل سلیم کی رہنمائی کرنے والی باتیں اور صحیح رہنمائی اور اللہ کی رحمت تھی کہ حق بات عقل سلیم کو اپیل کرتی ہے پھر بندہ ایمان قبول کرتا ہے تو یہ ہدایت ہوگی اور پھر اعمال صالح نصیب ہوتے ہیں جو رحمت ہیں اور یہ اہتمام اس لیے فرمایا کہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور جب یہ سب ہورہا تھا یا موسیٰ (علیہ السلام) سے بات ہو رہی تھی تو انہیں کتاب عطا ہوئی تو آپ طور پر تشریف نہ رکھتے تھے کہ آپ نے وہ واقعہ دیکھا ہو پھر بر شمار لوگ گزرے اور زمانے بیت گئے یہ باتیں لوگوں کے…
Read the full tafseer →2 ۔ یعنی عصا اور ید بیضا وغیرہ جیسے معجزات نہیں دکھلاتے اور یہ قرآن توریت کی طرح ایک ہی مرتبہ پورے کا پورا ان پر کیوں نہیں اتارا گیا۔ (قرطبی) 3 ۔ یا ” کیا یہ لوگ۔ قریش۔ اس (نبوت) کا انکار نہیں کرچکے ہیں جو اس سے پہلے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو دی گئی تھی۔ “ یعنی ان معجزات کے باوجود حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی نبوت پر کونسا ایمان لے آئے تھے جو آج آنحضرت ﷺ سے ان جیسے معجزات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 4 ۔ یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” اولم یکفروا “ کا فاعل پہلے لوگوں… قوم فرعون… کو قرار دیا جائے اور یہ معنی جید ہیں۔ (ابن کثیر) اور اگر اس کا فاعل قریش کو قرار دیا جائے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے تو…
Read the full tafseer →(28:48) الحق : القران ۔ الامر الحق۔ امر حق۔
اوتی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ایتاء افعال مصدر۔ اسے دیا گیا۔ اسے ملا۔ وہ دیا گیا۔
سحران۔ سحر واحد کا تثنیہ۔ دوجادو۔ مراد ہے ذوا سحر دو جادو (کا علم رکھنے والے، جادو گر۔ یا جادو کا وصف رکھنے والوں کو مبالغہ کے طور پر بنفسہ جادو کہہ دیا۔ یعنی دونوں مجسم جادو تھے۔
یا یعنون ما اوتی نبینا وما اوتی موسیٰ علیہما الصلوۃ والسلام سحران۔ یعنی جو رسول کریم ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے نزال ہوا اور جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ملا ہر دو کو وہ جادو سے تشبیہ دیتے ہیں (یعنی قرآن اور تورات کو)
تظاھرا۔ ماضی تثنیہ مذکر غائب۔ وہ دونوں آپس میں موافق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
لغات القرآن : آیت نمبر 43 تا 50 :
القرون الاولی (گذری ہوئی جماعتیں۔ زمانہ) بصائر (آنکھیں کھولنے والی باتیں) ‘ الشھدین ( دیکھنے والے) انشا نا ( ہم نے اٹھایا۔ ہم نے پیدا کیا) تطاول (طویل ہوگئی) العمر (مدت) ثاوی (رہنے والے) قدمت ایدی (آگے بھیجا۔ دونوں ہاتھوں کے آگے) ‘ سحران ( دو جادو) ‘ تظھرا (ایک دوسرے کے موافق) ‘ اھدی (زیادہ ہدایت) ‘ لم یستجیبوا (جواب نہ دیا) ‘ اھواء (ھوائ) خواہشیں۔ تمنائیں) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 43 تا 50 :
سورۃ القصص کی گذشتہ آیات اور قرآن کی متعدد سورتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو کسی جگہ تفصیل سے اور کہیں مختصر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
آنحضرت ﷺ پر مشرکین کا اعتراض۔
(ف 1) ان آیتوں میں قریش کو یوں قائل کیا کہ جب ان لوگوں میں سے کوئی رسول نہ تھا اور کوئی کتاب اللہ کی طرف سے ان پر نہ اتری تھی تو یہود اور نصاری کو اہل کتاب دیکھ کر قریش کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کا اتباع کرتے اوان احکام اور رسول پر ایمان لاتے پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق کتاب یعنی قرآن آیا تو اب ان کو مناسب تھا کہ اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے اور اس کی پیروی کرتے لیکن یہ تو نہ کیا بلکہ رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ عصا اور یدبیضا اور دریائے قلزم کے بیچ میں سے راستہ کا معجزہ جو حضرت موسیٰ کو ملا تھا اسی طرح کا ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
[23] مشرکین کہتے تھے کہ اس رسول کے پاس نہ تو موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح عصا اور یدبیضا کے معجزے ہیں اور نہ اللہ کی طرف سے تختیوں پر لکھے ہوئے احکام۔
[24] یہ ان کے اعتراض کا جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان معجزوں کے باوجود تم موسیٰ (علیہ السلام) ہی پر کب ایمان لائے تھے جو اب محمد ﷺ سے ان کا مطالبہ کر رہے ہو۔ تم خود کہتے ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ معجزے دئیے گئے تھے تو پھر موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان کیوں نہیں لائے ؟
[25] یعنی قرآن اور تورات۔
Read the full tafseer →حل لغات :۔ الحق ۔ پیام صدق ، وصداقت تطاھرا ۔ ایک دوسرے کے ہم نوا ہیں
Read the full tafseer →48۔ پھر اب جب ان کے پاس ہماری طرف سے دین حق پہنچ گیا اور رسول برحق آگیا تو یوں کہنے لگے کہ جیسی کتاب موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی ویسی ہی کتاب اس پیغمبر کو کیوں نہیں دی گئی کیا جو کتاب موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی اس قرآن کریم سے پہلے یہ لوگ اس کا انکار نہیں کرچکے یہ لوگ تو یوں کہتے ہیں کہ یہ دونوں کتابیں قرآن کریم اور تورات جادو ہیں جو آپس میں ایک دوسرے کے موافق اور معاون ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم تو دونوں میں سے کسی کو بھی نہیں مانتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں مکہ کے کافرحضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے سن کر کہنے لگے کہ ویسا معجزہ اس کے پاس ہوتا تو ہم مانتے جب یہود سے…
Read the full tafseer →ف 8۔ یعنی قرآن دفعة واحدة مثل توراة کے کیوں نہ نازل ہوا۔
Read the full tafseer →جب ہم نے حق نازل کیا تو وہ طرح طرح کے بہانے بنانے لگے :
48۔ جب ہم نے اپنی طرف سے حق ان لوگوں پر نازل کیا یعنی کتاب نازل کی اور اپنا رسول ان کی طرف بھیجا اور بلاشبہ ہماری کتاب بھی حق تھی اور ہمارا رسول بھی حق تھا تو انہوں نے ایک عجیب سوال کھڑ اکر دیا وہ کہنے لگے کیوں نہ دیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا حالانکہ جو کچھ ان پر نازل کیا گیا تھا وہ اتمام حجت کے لئے بہت تھا بلکہ اس سے بہت بڑھ کر تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا اور انہوں نے اس بات کی طرف بھی غور نہیں کیا تھا اور صاف صاف کہہ دیا تھا کہ یہ دونوں تو جادوگر ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں اور یہ کہ ہم ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ (And We have conveyed (Our) words to them one after the other, so that they may take to advice. - 28:51). The word وَصَّلْنَا (wassalna) is derived from وتَصِیل (Tausil), which literally means to strengthen the rope by adding more strings to its strands. Here it means that Allah Ta` ala has maintained the continuity of guidance. Certain advisory subjects are repeated in the Qur'an in order to make them more effective.
Certain rules for preaching
It shows that an important trait of preaching carried out by the prophets was that…
Read the full tafseer →67 That is, "Why has. not Muhammad (upon whom be Allah's peace) been given all those miracles which had been given to the Prophet Moses? He also should have shown us the miracle of the staff; his hand also should have shone like the sun; his deniers also should have been struck with storms and plagues from the earth and heaven; and he also should have brought them Commandments written on stone tablets."
68 This is a reply to their objection, which implies: "The disbelievers of Makkah had not believed in Moses either, nor followed his teachings. Therefore they had no right to say: Why has the…
Read the full tafseer →