Explained with ayahs 44–47
دلیل نبوت
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی آخرالزمان ﷺ کی نبوت کی دلیل دیتا ہے کہ ایک وہ شخص جو امی ہو جس نے ایک حرف بھی نہ پڑھا ہو جو اگلی کتابوں سے محض ناآشنا ہو جس کی قوم علمی مشاغل سے اور گذشتہ تاریخ سے بالکل بیخبر ہو وہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ کام فصاحت و بلاغت کے ساتھ بالکل سچے ٹھیک اور صحیح گذشتہ واقعات کو اس طرح بیان کرے جیسے کہ اس کے اپنے چشم دید ہو اور جیسے کہ وہ ان کے ہونے کے وقت وہیں موجود ہو کیا یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے تلقین کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود اپنی وحی کے ذریعہ سے انہیں وہ تمام باتیں بتاتا ہے۔ حضرت مریم صدیقہ کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے بھی قرآن نے اس…
Read the full tafseer →سورة القصص 66
اسی چیز کو قرآن مجید متعدد مقامات پر رسولوں کے بھیجے جانے کی وجہ کے طور پر پیش کرتا ہے۔ مگر اس سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ اس غرض کے لیے ہر وقت ہر جگہ ایک رسول آنا چاہیے۔ جب تک دنیا میں ایک رسول کا پیغام اپنی صحیح صورت میں موجود رہے اور لوگوں تک اس کے پہنچنے کے ذرائع موجود رہیں، کسی نئے رسول کی حاجت نہیں رہتی، الا یہ کہ پچھلے پیغام میں کسی اضافے کی اور کوئی نیا پیغام دینے کی ضرورت ہو۔ البتہ جب انبیاء کی تعلیمات محو ہوجائیں، یا گمراہیوں میں خلط ملط ہو کر وسیلہ ہدایت بننے کے قابل نہ رہیں، تب لوگوں کے لیے یہ عذر پیش کرنے کا موقع پیدا ہوجاتا ہے کہ ہمیں حق و باطل کے فرق سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ ، یہاں اس قوم سے عرب مراد ہیں جو حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں ہیں اور ان کے بعد سے خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے تک ان میں کوئی پیغمبر مبعوث نہ ہوا تھا یہی مضمون سورة یٰسٓ میں بھی آنے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دوسری جگہ قرآن کریم کا یہ ارشاد کہ وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ کہ کوئی امت ایسی نہیں جس میں اللہ کا کوئی پیغمبر نہ آیا یہ اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ مراد اس آیت کی یہ ہے کہ زمانہ دراز سے حضرت اسماعیل ؑ کے بعد ان میں کوئی نبی نہیں آیا مگر نبی و رسول کے آنے سے بالکل خالی یہ امت بھی نہیں رہی۔
Read the full tafseer →آگے کا مضمون …61-47
اوپر کی آیات التفات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا اسی طرح آنحضرت ﷺ کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ کی بعثت بہت بڑی رحمت ہے اگر وہ اس کی قدر کریں گے اور یہ بہت بڑی نقمت بھی ہو سکتی ہے انہوں نے اس کی ناقدری کی آگے اسی مضمون کی مزید وضاحت فرمائی ہے کہ اس رسول کی بعثت سے مقصود اتمام حجت ہے۔ اب اگر یہ لوگ کسی عذاب کی گرفتار میں آئے تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے آگاہ نہیں کیا۔ لیکن ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ یہ یہودیوں سے سیکھ کر ہمارے پغمبرر ﷺ پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان کو بھی اس قسم…
Read the full tafseer →47-1یعنی ان کے اسی عذر کو ختم کرنے کے لئے ہم نے آپ کو ان کی طرف بھیجا ہے کیونکہ طول زمانی کی وجہ سے گزشتہ انبیاء کی تعلیمات مسخ اور ان کی دعوت فراموش ہوچکی ہے اور ایسے ہی حالات کسی نئے نبی کی ضرورت کے متقاضی ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات (قرآن و حدیث) کو مسخ ہونے اور تغیر و تحریف سے محفوظ رکھا اور ایسا تکوینی انتظام فرما دیا ہے جس سے آپ کی دعوت دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گئی ہے اور مسلسل پہنچ رہی ہے تاکہ کسی نئے نبی کی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔ اور جو شخص اس ' ضرورت ' کا دعو یٰ کر کے نبوت کا ڈھونگ رچاتا ہے، وہ جھوٹا اور دجال ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
26: یہاں سے آیت نمبر : 61 تک نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی سچائی کا بیان ہے، پہلے یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے جو واقعات قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں، مثلاً کوہ طور کے مغربی کنارے پر ان کو تورات دیاجانا، اور صحرائے سینا میں ان کو پکار کر نبوت عطا کرنا، اور حضرت موسیٰ ؑ کا عرصہ دراز تک مدین میں رہنا، یہ ساری باتیں ایسی ہیں کہ نہ آنحضرت ﷺ اس وقت موجود تھے کہ ان واقعات کو دیکھتے اور نہ ان کو معلوم کرنے کا آپ کے پاس کوئی ذریعہ تھا، اس کے باجود آپ یہ واقعات اتنی تفصیل سے بیان فرما رہے ہیں تو اس کا کوئی مطلب سوائے اس کے نہیں ہوسکتا کہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے جس نے آپ کو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
درس نمبر 177 تشریح آیات
44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے…
Read the full tafseer →7 یعنی پیغمبر کا ان میں بھیجنا خوش قسمتی ہے۔ اگر بدون پیغمبر بھیجے اللہ تعالیٰ ان کی کھلی ہوئی بےعقلیوں اور بےایمانیوں پر سزا دینے لگتا تب بھی ظلم نہ ہوتا، لیکن اس نے احسان فرمایا اور کسی قسم کی معقول عذر داری کا موقع نہیں چھوڑا۔ ممکن تھا سزا دہی کے وقت کہنے لگتے کہ صاحب ہمارے پاس پیغمبر تو بھیجا نہیں جو ہم کو ہماری غلطیوں پر کم ازکم متنبہ کردیتا، ایک دم پکڑ کر عذاب میں دھر گھسیٹا۔ اگر کوئی پیغمبر آتا تو دیکھ لیتے ہم کیسے نیک اور ایماندار ثابت ہوتے۔
Read the full tafseer →فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ وَنَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ”
اگر رسول مبعوث کیے بغیر ان پر عذاب آجاتا تو یہ لوگ عذر کرتے کہ ہمیں متنبہ کیوں نہیں کیا گیا ؟ جب ہمارے معاملے میں اتمام حجت نہیں ہوئی تو پھر یہ عذاب ہمارے اوپر کیونکر مسلط کردیا گیا ؟ یہی مضمون سورة طٰہٰ میں اس طرح بیان ہوا ہے : وَلَوْ اَنَّآ اَہْلَکْنٰہُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِہٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰی ”اور اگر ہم اس قرآن کے نزول سے پہلے ہی انہیں عذاب سے ہلاک کردیتے تو یہ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم…
Read the full tafseer →63 ان لوگوں میں آپ کو رسول بنا کر بھیجنے کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اگر آپ کی بعثت سے پہلے ان پر ان کے اپنے شامت اعمال کی وجہ سے کوئی عذاب یا مصیبت آن پڑتی تو یہ کہہ سکتے تھے کہ ہم تو عرصہ دو ہزار سال سے صحیح حالات سے واقف ہی نہ تھے۔ یہ ممکن تھا کہ سزا دہی کے وقت یہ لوگ کہنے لگتے کہ ہمارے پاس کوئی پیغمبر تو بھیجا نہیں جو ہمیں ہماری غلطیوں پر کم از کم تنبیہ کردیتا اس طرح یکدم پکڑ کر عذاب میں۔۔ گھسیٹا۔ اور اگر اللہ ہماری طرف کوئی رسول بھیجتا جو ہمیں ہدایت کی راہ دکھلاتا تو کوئی وجہ نہ تھی کہ ہم اس رسول کی پیروی نہ کرتے اور دوسری موجود قوموں سے زیادہ ہدایت یافتہ نہ بن جاتے۔ آپ گویا ان لوگوں کی…
Read the full tafseer →64۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تو ان کے حق میں رحمت مزید و عنایت خاص ہوئی کہ ان کے پاس انہیں میں سے ایک رسول بھی آگیا ورنہ گرفت کے وقت (اور گرفت تو اس لیے ہوتی کہ ان کے کرتوت عقلا بھی قبیح ہیں) انہیں یہ حسرت بھی رہ جاتی کہ کوئی پیغمبر ہمارے پاس کیوں نہ آگئے، آجاتے تو ہم ضرور ان کے متبع ہوجاتے۔ (آیت) ” لولا “۔ کا جواب محذوف ہے جو قوسین میں بڑھا دیا گیا ہے۔ والمعنی لولا قولھم ..... ماارسلنک (بیضاوی) اے انما ارسلنک قطعا لعذر ھم والزاما للحجۃ علیھم (بیضاوی) عربی اسلوب بیان میں ایسے موقع پر حذف وتقدیر کلام عیب نہیں، عین حسن اور داخل فصاحت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
آیت نمبر 43 تا 50
ترجمہ : اور ہم نے پہلی امتوں (مثلاً ) قوم نوح و عاد وثمود وغیرہ کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی جو لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت تھی گمراہی سے اس شخص کے لئے جو اس پر عمل کرے اور رحمت تھی اس کے لئے جو اس پر ایمان لائے تاکہ نصیحت حاصل کریں ان نصیحتوں سے جو اس میں ہیں بصَائر للناسً ، الکتاب سے حال ہے اور بَصَائر بصِیٌرَۃ کی جمع ہے اور بصیرت نور قلبی کو کہتے ہیں اور بصائر کا مطلب ہے انوار القلوب اور اے محمد تم مناجات کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی مغربی پہاڑ کی جانب یا غربی وادی کی جانب یا غربی مکان کی جانب موجود نہیں تھے جب ہم نے فرعون اور اس کی…
Read the full tafseer →ولولا ان تصیبھم مصیبۃ بما قدمت ایدیھم فیقولوا ربنا لولا ارسلت الینا رسولا فنتبع
ایتک ونکون من المؤمنین . اگر یہ بات نہ ہوتی تو ان کی بدکرداری کے سبب جب ان پر کوئی مصیبت آپڑے گی تو وہ کہنے لگیں گے : اے ہمارے رب ! تو نے ہمارے پاس کوئی پیغمبر نہیں بھیجا کہ ہم تیرے احکام پر چلتے اور مؤمنوں میں سے ہوجاتے (تو ہم پیغمبر نہ بھیجتے) ۔
مُصِیْبَۃٌ یعنی عذاب اور سزا وَلَوْلاَ اَنْ تُصِیْبَھُمْ الخ کا جواب محذوف ہے ‘ پورا مطلب اس طرح ہے کہ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ بدکرداری کی وجہ سے نازل ہونے والی مصیبت کے وقت یہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا گیا کہ ہم ایمان لاتے اور احکام اتباع کرتے…
Read the full tafseer →(47) اور اگر ہم ان کی طرف کوئی رسول نہ بھی بھیجتے تو قیامت کے دن آپ کی قوم پر ان کے کرداروں کی وجہ سے جب عذاب نازل ہوتا تو یہ یوں کہنے لگتے کہ اے ہمارے پروردگار اس عذاب کے نازل ہونے سے پہلے کوئی رسول ہمارے پاس کتاب دے کر کیوں نہیں بھیجا تھا تاکہ ہم آپ کی کتاب اور آپ کے رسول کی پیروی کرتے اور کتاب و رسول پر ایمان لانے والوں میں ہوتے اسی لیے ہم نے آپ کو قرآن کریم دے کی طرف بھیجا ہے تاکہ ان کے پاس کسی قسم کا کوئی عذر نہ رہے۔
Read the full tafseer →وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَهُمْ مُّصِيْبَةٌۢ۔۔ : یعنی عرب کے لوگوں کا کفرو شرک اور ان کی سرکشی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی پیغمبر بھیجے بغیر بھی ان پر عذاب بھیجتا تو ظلم نہ ہوتا، کیونکہ ان پر جو مصیبت آتی ان کے ہاتھوں کی کمائی ہوتی، مگر اس نے احسان فرمایا اور ان کے لیے عذر کا کوئی موقع نہیں چھوڑا کہ وہ کہہ سکیں کہ پروردگار ! تو نے ہماری طرف کوئی پیغام پہنچانے والا کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوجاتے۔ یہ مضمون کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء اس لیے بھیجے کہ لوگوں کے پاس کفرو شرک کا کوئی عذر باقی نہ رہے، قرآن میں کئی جگہ بیان ہوا ہے۔ دیکھیے…
Read the full tafseer →ولولا ان تصیبھم ھم ضمیر سے مراد قریش ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد یہودی ہیں۔ قصیبۃ اس سے مراد عقوبت اور اتنقام ہے۔ بسا قذمت ایدیھم اس سے مراد کفر اور معاصی ہیں۔ ابدی کا خصوصاً ذکر کیا کیونکہ عموماً کمائی اس سے واقع ہوتی ہے۔ لولا کا جواب محذوف ہے۔ ان کے سابقہ گناہوں کی وجہ سے انہیں کیوں عذاب نہیں پہنچا۔ فیقولوا ربنا لولا لولا، ھلا کے منی میں ہے۔ ارسلت الینا رسولاً ہم نے رسول کیوں نے بھیجے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم نے کیوں عذاب کو جلدی نہیں بھیجا ؟ رسولوں کو مبعوث کرنا، کافر کے عذر کو ختم کرنے کے لئے ہے جس طرح سورة الاسراء اور سورة طہ کے آخر میں گزر چکا ہے۔ فنتبع ایتک فعل کو نصب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
زمانہ فترت کے لوگوں کی عذر خواہی
1۔ ابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نبوت کے منقطع ہونے کے زمانہ میں ہلاک ہونے والا کہے گا اے میرے رب میرے زمانہ میں کوئی کتاب آئی اور نہ کوئی رسول آیا۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت فیقو لوا ربنا لو لا ارسلت الینا رسول فنتبع اٰیتک ونکون من المومنین یعنی اے ہمارے رب تو نے ہمارے پس کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیرے احکام پر چلتے اور ایمان والوں میں سے ہوجاتے
2۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ انے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلما جاء ہم الحق من عندنا قالوا لولا اوتی مثل ما اوتی موسیٰ ، اولم یکفروا بما اوتی موسیٰ من قبل قالوا سحران تظہرا…
Read the full tafseer →وَلَوْلَآ اَنْ [اور اگر نہ ہوتا کہ (ہم نذیر نہ بھیجتے) پھر ] تُصِيْبَهُمْ [آن لگتی ان کو ] مُّصِيْبَةٌۢ [کوئی آلگنے والی (آفت)] بِمَا [بسبب اس کے جو ] قَدَّمَتْ [آگے بھیجا ] اَيْدِيْهِمْ [ان کے ہاتھوں نے ] فَيَقُوْلُوْا [تو وہ لوگ کہتے ] رَبَّنَا [اے ہمارے رب ] لَوْلَآ [کیوں نہیں ] اَرْسَلْتَ [تو نے بھیجا ] اِلَيْنَا [ہماری طرف ] رَسُوْلًا [کوئی رسول ] فَنَتَّبِعَ [نتیجۃً ہم پیروی کرتے ] اٰيٰتِكَ [تیری آیتوں کی ] وَنَكُوْنَ [اور ہم ہوجاتے ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ایمان لانے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
پنجم : یوں فرمایا (قُلْ فَاْتُوْا بِکِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ھُوَ اَھْدٰی مِنْھُمَآ (الآیۃ) (آپ فرما دیجیے کہ تم اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان کتابوں یعنی قرآن اور توراۃ سے بڑھ کر ہدایت دینے والی ہو میں اس کا اتباع کرلوں گا اگر تم اپنی بات میں سچے ہو) مطلب یہ ہے کہ تم نہ توراۃ کو مانتے ہو نہ قرآن کو مانتے ہو۔ چلو تم اور کوئی کتاب لے آؤجو اللہ کی طرف سے ہو اگر تم بالفرض اسے اللہ کی کتاب ثابت کر دو تو میں اس کی پیروی کرلوں گا۔ اگر تم ایسا نہیں کرسکتے تو میری دلائی ہوئی کتاب کو مانو میں نے اس کا حق ہونا ثابت کردیا ہے اور اس میں توریت شریف کی بھی تصدیق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
اتمام حجت وقطع معذرت
ولو لا ان یصیبہم مصیبۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین۔
(ربط) گزشتہ آیات میں بعثت رسل اور نزول کتاب الٰہی کا ذکر تھا اب ان آیات میں اسی مسئلہ کو مدلل اور مبرہن کرتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ بعثت رسل اللہ کی حجت بالغہ ہے جس سے بندوں پر حجت پوری ہوجاتی ہے اور اسی ذیل میں کافروں کے چند حیلوں اور بہانوں کا ذکر کر کے جواب دیتے ہیں کہ بعثت رسل کے بعد کافر یہ عذر نہیں کرسکیں گے کہ ہم کو بلاوجہ کیوں عذاب دیا جا رہا ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ اللہ کا عذاب حجت پوری ہوجانے کے بعد آتا ہے اور بعثت رسل اللہ کی حجت بالغہ ہے جس سے حجت پوری ہوجاتی ہے اور مجرم کے لئے عذر…
Read the full tafseer →45:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ لَوْ کا جواب آخر میں مقدر ہے ای لما ارسلنا رسولا اور فیقولوا ان تصیبہم الخ پر متفرع ہے۔ مصیبۃ دنیوی عذاب۔ ما قدمت ایدیہم اعمال مشرکانہ یعنی اگر یہ بات نہ ہوتی کہ جب ان پر کفر و شرک کی وجہ سے عذاب آجاتا تو کہتے اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہ بھیجا جس کی ہم پیروی کرتے اور اس پر ایمان لاتے تو ہم کسی رسول بنا کر نہ بھیجتے۔ حاصل یہ ہے کہ مشرکین کا عذر قطع کرنے کے لیے ہم نے آپ کو اور دوسرے رسولوں کو بھیجا۔ والمعنی لولا انھم قائلون اذ عوقبوا بما قدموا من الشرک والمعاصی ھلا ارسلت الینا رسولا محتجین بذلک علینا ارسلناک ہوگا۔ یا جواب مقدر لعذبناھم ہے۔ یعنی ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
ربط آیات
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات بیان کرنے کے بعد حضور خاتم النبیین ﷺ کی نبوت و رسالت کا ذکر ہوا۔ اللہ نے واضح طور پر فرمایا کہ اے نبی (علیہ السلام) ! جب موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت عطاہو رہی تھی تو آپ تو وہاں موجود نہیں تھے۔ جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی تھی تو آپ نے تو وہ آواز نہیں سنی تھی ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سارے واقعات ہم نے اپنی خاص مہربانی سے بذریعہ وحی آپ کو بتلائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی نبی اور رسول بنایا ہے اور آپ کو ایک عظیم المرتبت کتاب بھی عطا فرمائی ہے ۔ مقصود یہ ہے کہ آپ اس کتاب کے ذریعے ان لوگوں کو خبردار کردیں اور ڈرا دیں جن کے پاس پہلے کوئی…
Read the full tafseer →وَلَوْلَآ اَنْ تُصِيْبَہُمْ مُّصِيْبَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْہِمْ فَيَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 47
مُصِيبَةُ
والمُصِيبَةُ أصلها في الرّمية، ثم اختصّت بالنّائبة نحو : أَوَلَمَّا أَصابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْها[ آل عمران/ 165] ، فَكَيْفَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌالنساء/ 62] ، وَما أَصابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 166] ، وَما أَصابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِما كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [ الشوری/ 30] ، وأصاب : جاء في الخیر والشّرّ. قال تعالی:إِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
ترکیب : لولا کلمہ شرط ان تصیبہم ان مصدر یہ بما تصیبھم سے متعلق ای لولا اصابۃ المصیبۃ علیھم بسبب ما ای اعمال سیئۃ قدمت والعائد محذوف ای اعمال کسبوھا فیقولواتفریح یا تعقیب کے لیے پورے جملہ مقدمہ سے یعنی لووقع علیھم المصیبۃ باعمالھم لقالوا ربنا الخ یہ سب جملہ حیز شرط میں ہے جو اب مخدوف ما ارسلناک الیھم رسولا۔ قالوا سحران جملہ بیان ہے۔ اولم یکفروا کا ساحران بالا لف ای موسیٰ و ہارون و قیل موسیٰ و محمد وبغیر الالف سحران القرآن والتوراتہ۔
تفسیر : لولا ان تصیبہم مصیبتہ یہاں سے پھر اسی رسولوں کے بھیجنے کے مسئلہ کو مدلل کرتا ہے کہ ہم اس لیے بھی رسول بھیجا کرتے ہیں کہ لوگ جب ان پر ان کے اعمالِ بد کی…
Read the full tafseer →وَلَوْ لَآ اَنْ تُصِیْبَہُمْ مُّصِیْبَۃٌ م بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْلَآ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلاً فَنَتَّبِعَ اٰیٰـتِکَ وَنَـکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (القصص : 47)
(اور ہم رسول نہ بھیجتے) اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان پر ان کے اعمال کے سبب سے کوئی مصیبت آئے تو وہ کہیں اے ہمارے رب تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے۔ )
تین باتوں کی طرف اشارہ
اس آیت کریمہ میں تین باتوں کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے فطرت، حواس اور عقل کی جو روشنی عطا فرمائی ہے وہ بھی انسان کو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مجرم لوگ اس وقت تک نصیحت حاصل نہیں کرتے جب تک ان کی گرفت نہ کی جائے۔
اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو اس لیے قرآن مجید کے ساتھ مبعوث فرمایا تاکہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ لیکن آپ ﷺ کے مخاطب نصیحت حاصل کرنے کی بجائے آپ کی مخالفت میں کمربستہ ہوگئے۔ آپ کو تسلی دینے اور مجرموں کو انتباہ کرنے کے لیے ارشاد ہوا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا یہ اصول نہ ہوتا کہ وہ مجرموں کو دنیا میں ہلکی پھلی سزا دے تو لوگ کبھی بھی اپنے رب کے حضور جھکنے کے لیے تیار نہ ہوتے۔ اللہ تعالیٰ جب لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے انھیں پکڑتا ہے تو اس وقت وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تو نے ہماری طرف کیوں نہ اپنا رسول…
Read the full tafseer →47: وَلَوْلَآ اَنْ تُصِیْبَہُمْ مُّصِیْبَۃٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ (اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر کوئی عذاب آپڑے گا) ۔ یہاں مصیبت سے عذاب اور سزا مراد ہے اور بما قدمت ایدیہم سے کفر و ظلم۔
نکتہ : اکثر اعمال میں ہاتھ چلتے ہیں۔ اس لئے اعمال کی نسبت ایدی کی طرف کردی اگرچہ کچھ اعمال کا تعلق دل سے بھی ہے گویا اکثر کو اقل پر غلبہ دیکر ایدی کا ذکر کردیا۔ فَیَقُوْلُوْا (پس وہ کہیں گے) ۔ عذاب کے وقت۔ رَبَّنَا لَوْلَآٓ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِکَ وَنَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (اے ربّ ہمارے تو نے ہمارے پاس کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا تاکہ ہم تیری…
Read the full tafseer →47۔ ولولاان تصیبھم مصیبۃ، ، یعنی عذاب اور سزا، بماقدمت ایدیھم ، کفر اور نافرمانی کے بسبب، فیقولوا ربنالولا، ، بمعنی ھلا کے ہے۔ ارسلت الینا رسوال فنتبع آیاتک ونکون من المومنین، جواب لولامحذوف ہے۔ ای لعاجلنا بالعقوبۃ ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ بدکاری کی وجہ سے نازل ہونے والی مصیبت کے وقت یہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا گیا کہ ہم ایمان لاتے اور احکام کا اتباع کرتے توہم کوئی پیغمبر نہ بھیجتے ۔ بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے آپ کی طرف رسول نہ بھیجے ہوتے توپھرتم عذاخواہی کرتے لیکن پھر ہم نے تمہاری طرف رسول بھیجے تاکہ ان پیغمبروں کی بعثت کے بعد لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
46‘ 47۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرما کر اس قصے سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی نبوت قریش پر ظاہر کی ہے اور قریش کی قائل کیا ہے کیونکہ یہ تو قریش کو معلوم تھا کہ آنحضرت ﷺ حضرت شعیب ( علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانہ میں پیدا نہیں ہوئے اور یہ بھی معلوم تھا کہ جب تک آپ مکہ میں تھے۔ کبھی اہل تو ریت سے اور آپ سے ایسا میل جول نہ تھا جس سے آپ حضرت موسیٰ کی پیدائش سے لے کر ان کے نبی ہونے تک کا قصہ سن لیتے پھر بغیر ان دونوں باتوں کے جبکہ آپ نے پورا قصہ حضرت موسیٰ کا اور سب انبیاء ( علیہ السلام) کے اسی طرح سب قصے جس طرح تو ریت میں تھے پورے پورے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–54
شعراء کی دو اقسام
قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…
Read the full tafseer →58 رسول کی بعثت اتمام حجت کیلئے : کہ ان لوگوں پر اگر کوئی مصیبت آپہنچتی ان کے اپنے کرتوتوں کی بنا پر تو اس وقت یہ لوگ یوں کہنے لگتے کہ اے ہمارے رب تو نے کیوں نہ بھیجا ہماری طرف کوئی رسول کہ ہم پیروی کرتے تیری آیتوں کی اور ہم ہوجاتے ایمان والوں میں سے۔ سو اگر ایسی بات نہ ہوتی تو ہم ایسے نا شکرے اور ہٹ دھرم لوگوں کے پاس اپنا رسول بھیجتے ہی نہ کہ انہوں نے ماننا جب نہیں اور ہمیں اپنے علم ازلی و ابدی کی بنا پر پتہ تھا کہ انہوں ماننا نہیں تو پھر ان کے پاس رسول بھیجنے کا فائدہ ہی کیا ؟ لیکن اس صورت میں ان کے لئے حیلے بہانے اور عذر کرنے کی گنجائش بہرحال باقی رہتی۔ اور یہ لوگ یوں کہتے کہ اگر ہمارے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–64
ہجرت، مدین میں قیام، فرعون کی طرف واپسی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے سرفرازی
نبی کو بھیجنے کا مقصد ‘ نیک و بد کا فرق اور مشرکین کا انجام
تشریح : کفار و مشرکین کی خصلتیں ہر زمانے اور ہر دور میں ایک سی ہی رہی ہیں۔ آج کا دور باوجود ترقی کرنے کے اور علم و فضل میں کافی ترقی کر جانے کے کفار وہی ہٹ دھرمی اور ضد رکھتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں رکھتے تھے۔ کبھی کہتے موسیٰ جیسے معجزے دکھائو کبھی کہتے موسیٰ (علیہ السلام) جیسی کتاب لائو۔ حالانکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اہل عرب کیسے ایمان لاسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور حکیم ہے اس لیے وہ نبی بھیجتا رہا تاکہ قیامت کے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
آیات 43 تا 50
اسرار ومعارف
اور جب پہلی امتیں اپنی گمراہی کے سبب ہلاک ہوگئیں تو ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرما کر مبعوث فرمایا جس میں بصائیر یعنی عقل سلیم کی رہنمائی کرنے والی باتیں اور صحیح رہنمائی اور اللہ کی رحمت تھی کہ حق بات عقل سلیم کو اپیل کرتی ہے پھر بندہ ایمان قبول کرتا ہے تو یہ ہدایت ہوگی اور پھر اعمال صالح نصیب ہوتے ہیں جو رحمت ہیں اور یہ اہتمام اس لیے فرمایا کہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور جب یہ سب ہورہا تھا یا موسیٰ (علیہ السلام) سے بات ہو رہی تھی تو انہیں کتاب عطا ہوئی تو آپ طور پر تشریف نہ رکھتے تھے کہ آپ نے وہ واقعہ دیکھا ہو پھر بر شمار لوگ گزرے اور زمانے بیت گئے یہ باتیں لوگوں کے…
Read the full tafseer →1 ۔ گویا اب آپ ﷺ کو بھیج کر اللہ تعالیٰ نے ان پر اتمام حجت کردیا ہے اور کوئی عذر ایسا نہیں رہنے دیا جسے یہ اپنے کفر اور بدعملی پر قائم رہنے کے لئے پیش کرسکیں۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(28:47) لولا۔ کیوں نہ۔ امتناعیہ ہے۔ لو حرف شرط اور لا نافیہ سے مرکب ہے۔ اس کا جواب محذوف ہے۔ جواب کبھی شرط کے بعد آتا ہے مثلاً لولا ان من اللہ علینا لخسف بنا۔ (28:82) اگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں گاڑ دیتا۔ اور کبھی جواب شرط سے قبل بھی آتا ہے مثلا ولقد ھمت بہ وہم بھا لولا ان رابرھان ربہ (12:24) اس عورت نے اس کا قصد کیا اور وہ بھی اس عورت کا قصد کرلیتا اگر اس نے اپنے پروردگار کی دلیل کو نہ دیکھ لیا ہوتا۔
آیت ہذا میں بھی لولا امتناعیہ ہے اور جواب لولا محذوف ہے جو اس سے قبل ہے ای ما ارسلناک الیہم لولا ۔۔ ہم تجھے ان کی طرف نہ بھی بھیجتے اگر یہ بات نہ ہوتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
لغات القرآن : آیت نمبر 43 تا 50 :
القرون الاولی (گذری ہوئی جماعتیں۔ زمانہ) بصائر (آنکھیں کھولنے والی باتیں) ‘ الشھدین ( دیکھنے والے) انشا نا ( ہم نے اٹھایا۔ ہم نے پیدا کیا) تطاول (طویل ہوگئی) العمر (مدت) ثاوی (رہنے والے) قدمت ایدی (آگے بھیجا۔ دونوں ہاتھوں کے آگے) ‘ سحران ( دو جادو) ‘ تظھرا (ایک دوسرے کے موافق) ‘ اھدی (زیادہ ہدایت) ‘ لم یستجیبوا (جواب نہ دیا) ‘ اھواء (ھوائ) خواہشیں۔ تمنائیں) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 43 تا 50 :
سورۃ القصص کی گذشتہ آیات اور قرآن کی متعدد سورتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو کسی جگہ تفصیل سے اور کہیں مختصر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
آنحضرت ﷺ پر مشرکین کا اعتراض۔
(ف 1) ان آیتوں میں قریش کو یوں قائل کیا کہ جب ان لوگوں میں سے کوئی رسول نہ تھا اور کوئی کتاب اللہ کی طرف سے ان پر نہ اتری تھی تو یہود اور نصاری کو اہل کتاب دیکھ کر قریش کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کا اتباع کرتے اوان احکام اور رسول پر ایمان لاتے پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق کتاب یعنی قرآن آیا تو اب ان کو مناسب تھا کہ اس نعمت کا شکریہ ادا کرتے اور اس کی پیروی کرتے لیکن یہ تو نہ کیا بلکہ رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ عصا اور یدبیضا اور دریائے قلزم کے بیچ میں سے راستہ کا معجزہ جو حضرت موسیٰ کو ملا تھا اسی طرح کا ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
[23] مشرکین کہتے تھے کہ اس رسول کے پاس نہ تو موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح عصا اور یدبیضا کے معجزے ہیں اور نہ اللہ کی طرف سے تختیوں پر لکھے ہوئے احکام۔
[24] یہ ان کے اعتراض کا جواب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان معجزوں کے باوجود تم موسیٰ (علیہ السلام) ہی پر کب ایمان لائے تھے جو اب محمد ﷺ سے ان کا مطالبہ کر رہے ہو۔ تم خود کہتے ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ معجزے دئیے گئے تھے تو پھر موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان کیوں نہیں لائے ؟
[25] یعنی قرآن اور تورات۔
Read the full tafseer →منکرین قرآن کی بہانہ جوئی
1: لو لا ان تصیبھم میں لولا امتناعیہ ہے اور اس کی خبرمحذوف ہے اور دوسرا لولا تخفیفہ ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ ہم نے جو آپ کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ۔ تو محض اتمام حجت کے لئے کیونکہ یہ لوگ اس قسم کے ہیں ۔ کہ جب ان کو مصیبت پیش آئی ہے ۔ اور عذاب الٰہی کو دیکھتے ہیں ۔ تو اس وقت محشر سے کہتے ہیں کہ لو لا ارسلت الینا رسولا ۔ یعنی مولا آپ نے ہم میں رسول کیوں مبعوث نہیں فرمایا کہ ہم اس کی پیروی کرتے ۔ اور گناہ ومعصیت کے کاموں کو چھوڑ دیتے ۔ پھر جب وہ وقت آگیا کہ اللہ نے آپ کو حق وصداقت دے کر ۔ تو اب اگر نادانی یہ کہتے ہیں کہ ہم کو بھی تورات کی طرح کی کتاب ملنا چاہیے تھی ۔ قرآن تو…
Read the full tafseer →47۔ اور اگر ہم رسول نہ بھیجتے تو پھر جب کبھی ان کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت اور عذاب نازل ہوتا تو یوں کہتے اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کسی کو رسول بنا کر کیوں نہیں بھیجا کہ ہم تیرے احکام کی اتباع اور پیروی کرتے اور ہم تیرے احکام اور تیرے رسولوں پر ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔
یعنی فرض کرو اگر رسولوں کا بھیجنا بند ہوتا اور لوگوں کو ان کی رائے اور ان کی عقل کے حوالے کردیا جاتا کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کی شرائع جن باتوں کو منع کرتی ہیں اور حرام قرار دیتی ہیں ان کی قباحت اور ان کی برائی عقل صحیح کے نزدیک مسلم ہے تو ان کو اگر ان کی عقل پر چھوڑ دیا جاتا اور یہ عقل سے…
Read the full tafseer →ف 7۔ اگر یہ لوگ ذرا تامل کریں تو سمجھ سکتے ہیں کہ پیغمبر بھیجنے سے ہمارا کوئی فائدہ نہیں بلکہ ان ہی لوگوں کا فائدہ ہے کہ یہ لوگ حسن و قبح پر مطلع ہو کر عقوبت سے بچ سکتے ہیں، ورنہ جن امور کا قبح عقل سے دریافت ہوسکتا ہے اس پر عذاب بلا ارسال بھی ہونا ممکن تھا، لیکن اس وقت ان کو ایک گونہ حسرت ہوتی کہ ہائے اگر رسول آجاتا تو ہم کو زیادہ تنبہ ہوجاتا، اور اس مصیبت میں نہ پڑتے، اس لئے رسول بھی بھیج دیا تاکہ اس حسرت سے بچنا ان کو آسان ہو۔
Read the full tafseer →اگر قریش کی ہلاکت ہی ضروری ہوتی تو ہم بغیر آپ ﷺ کی بعثت کے بھی ہلاک کردیتے :
47۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو عقل وفکر اور سمجھ وسوچ کی صلاحیتیں دی ہیں اگر کوئی شخص ان سے کام نہ لے تو اتنی بات بھی اس کو سزا دینے کے لئے کافی تھی لیکن اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے ایسا نہیں کیا بلکہ ہر قوم کے پاس کوئی نہ کوئی نذیر ضرور بھیجا تاکہ مزید اتمام حجت ہوجائے اور ان کے لئے کوئی عذر وبہانہ نہ رہے پھر ہر نبی ورسول کو اس قوم میں سے بھیجنے کی ضرورت بھی یہی تھی کہ وہ قوم کے سامنے بطور نمونہ پیش ہو اور ان میں رہ کر ان ساری باتوں پر عمل کرکے ان کو دکھا دے کہ ان باتوں اور ان ہدایتوں کے مطابق زندگی گزاری جاسکتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ (And We have conveyed (Our) words to them one after the other, so that they may take to advice. - 28:51). The word وَصَّلْنَا (wassalna) is derived from وتَصِیل (Tausil), which literally means to strengthen the rope by adding more strings to its strands. Here it means that Allah Ta` ala has maintained the continuity of guidance. Certain advisory subjects are repeated in the Qur'an in order to make them more effective.
Certain rules for preaching
It shows that an important trait of preaching carried out by the prophets was that…
Read the full tafseer →66 This very thing has been presented at several places in the Qur'an as the reason for sending the Messengers, but it will not be correct to conclude from this that a Messenger should be sent on every occasion at every place for this purpose. AS long as the message of a Prophet remains intact in the world and the means of conveying it to others exist, there is no need for a new Prophet, unless need arises to supplement the previous message, or to supplant it by a new message, Nevertheless, when the teachings of the Prophets are forgotten, or become mixed up with errors and deviations and can…
Read the full tafseer →