Explained with ayahs 44–47
دلیل نبوت
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی آخرالزمان ﷺ کی نبوت کی دلیل دیتا ہے کہ ایک وہ شخص جو امی ہو جس نے ایک حرف بھی نہ پڑھا ہو جو اگلی کتابوں سے محض ناآشنا ہو جس کی قوم علمی مشاغل سے اور گذشتہ تاریخ سے بالکل بیخبر ہو وہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ کام فصاحت و بلاغت کے ساتھ بالکل سچے ٹھیک اور صحیح گذشتہ واقعات کو اس طرح بیان کرے جیسے کہ اس کے اپنے چشم دید ہو اور جیسے کہ وہ ان کے ہونے کے وقت وہیں موجود ہو کیا یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے تلقین کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود اپنی وحی کے ذریعہ سے انہیں وہ تمام باتیں بتاتا ہے۔ حضرت مریم صدیقہ کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے بھی قرآن نے اس…
Read the full tafseer →سورة القصص 64
یہ تینوں باتیں محمد ﷺ کی نبوت کے ثبوت میں پیش کی گئی ہیں۔ جس وقت یہ باتیں کہی گئی تھیں اس وقت مکہ کے تمام سردار اور عام کفار اس بات پر پوری طرح تلے ہوئے تھے کہ کسی نہ کسی طرح آپ کو غیر نبی اور معاذ اللہ جھوٹا مدعی ثابت کردیں۔ ان کی مدد کے لیے یہود کے علماء اور عیسائیوں کے راہب بھی حجاز کی بستیوں میں موجود تھے۔ اور محمد ﷺ کہیں عالم بالا سے آکر یہ قرآن نہیں سنا جاتے تھے، بلکہ اسی مکہ کے رہنے والے تھے اور آپ کی زندگی کا کوئی گوشہ آپ کی بستی اور آپ کے قبیلہ کے لوگوں سے چھپا ہوا نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت اس کھلے چیلنج کے انداز میں آنحضرت ﷺ کی نبوت کے ثبوت کے طور پر یہ تین باتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ ، یہاں اس قوم سے عرب مراد ہیں جو حضرت اسماعیل ؑ کی اولاد میں ہیں اور ان کے بعد سے خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے تک ان میں کوئی پیغمبر مبعوث نہ ہوا تھا یہی مضمون سورة یٰسٓ میں بھی آنے والا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دوسری جگہ قرآن کریم کا یہ ارشاد کہ وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ کہ کوئی امت ایسی نہیں جس میں اللہ کا کوئی پیغمبر نہ آیا یہ اس آیت کے منافی نہیں کیونکہ مراد اس آیت کی یہ ہے کہ زمانہ دراز سے حضرت اسماعیل ؑ کے بعد ان میں کوئی نبی نہیں آیا مگر نبی و رسول کے آنے سے بالکل خالی یہ امت بھی نہیں رہی۔
Read the full tafseer →یعنی جس طرح تم مدین میں موجود نہ تھے اسی طرح تم طور کے پہلو میں بھی اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کو آواز دی ہے۔ یہ اشارہ ہے اس آواز دینے کی طرف جس کا ذکر آیت 3 میں گزرا ہے۔ فلما اتھا نودی من شاطی و الراد الایمن الآیۃ مطلب یہ ہے کہ تم ان ساری باتوں سے بیخبر تھے لیکن رحمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ وہ تم کو رسول بنائے اس وجہ سے اس نے تم کو ان باتوں سے باخبر کیا اور یہ تمہاری رسالت کی نہایت واضح دلیلیں ہیں۔ رحمۃ سے پہلے ارسلناک یا اس کے ہم معنی کوئی فعل محذوف ہے۔
آنحضرت کی بعثت کا مقصد
لتذرقوما ما اتھم من نذیر من قبلک لعلھم یتذکرون یہ آنحضرت ﷺ کے اصل مقصد بعثت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ…
Read the full tafseer →46-1یعنی اگر آپ رسول برحق نہ ہوتے تو موسیٰ ؑ کے واقعے کا علم بھی آپ کو نہ ہوتا۔
46-2یعنی آپ کا علم، مشاہدہ روئیت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ آپ کے پروردگار کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو نبی بنایا اور وحی سے نوازا۔
46-3اس سے مراد اہل مکہ اور عرب ہیں جن کی طرف نبی ﷺ سے پہلے کوئی نبی نہیں آیا، کیونکہ حضرت ابراہیم ؑ کے بعد نبوت کا سلسلہ خاندان ابراہیمی ہی میں رہا اور ان کی بعث بنی اسرائیل کی طرف سے ہی ہوتی رہی بنی اسماعیل یعنی عربوں میں نبی ﷺ پہلے نبی تھے اور سلسلہ نبوت کے خاتم تھے۔ ان کی طرف نبی بھیجنے کی ضرورت اس لئے نہیں سمجھی گئی ہوگی کہ دوسرے انبیاء کی دعوت اور ان کا پیغام ان کو پہنچتا رہا ہوگا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
26: یہاں سے آیت نمبر : 61 تک نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی سچائی کا بیان ہے، پہلے یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے جو واقعات قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں، مثلاً کوہ طور کے مغربی کنارے پر ان کو تورات دیاجانا، اور صحرائے سینا میں ان کو پکار کر نبوت عطا کرنا، اور حضرت موسیٰ ؑ کا عرصہ دراز تک مدین میں رہنا، یہ ساری باتیں ایسی ہیں کہ نہ آنحضرت ﷺ اس وقت موجود تھے کہ ان واقعات کو دیکھتے اور نہ ان کو معلوم کرنے کا آپ کے پاس کوئی ذریعہ تھا، اس کے باجود آپ یہ واقعات اتنی تفصیل سے بیان فرما رہے ہیں تو اس کا کوئی مطلب سوائے اس کے نہیں ہوسکتا کہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے جس نے آپ کو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
درس نمبر 177 تشریح آیات
44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے…
Read the full tafseer →5 یعنی جب موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی ( اِنِّىْٓ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ) 28 ۔ القصص :30) تم وہاں کھڑے سن نہیں رہے تھے۔ یہ حق تعالیٰ کا انعام ہے کہ آپ کو ان واقعات و حقائق پر مطلع کیا اور تمہارے ساتھ بھی اسی نوعیت کا برتاؤ کیا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ہوا تھا۔ گویا " جبل النور " (جہاں غار حرا ہے) اور " مکہ " میں " جبل طور " اور " مدین " کی تاریخ دوہرا دی گئی۔
6 یعنی عرب کے لوگوں کو یہ چیزیں بتلا کر خطرناک عواقب سے آگاہ کردیں۔ ممکن ہے وہ سن کر یاد رکھیں اور نصیحت پکڑیں۔ (تنبیہ) (مَّآ اُنْذِرَ اٰبَاۗؤُهُمْ فَهُمْ غٰفِلُوْنَ ) 36 ۔ یس :6) سے شاید آبائے اقربین مراد ہوں گے۔…
Read the full tafseer →وَلٰکِنْ رَّحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰٹہُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ ”
قریش مکہّ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام سے لے کر محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت تک کم و بیش تین ہزار برس کا عرصہ بیت چکا تھا ‘ جس میں اس قوم کی طرف نہ کوئی نبی اور رسول آیا اور نہ ہی کوئی کتاب بھیجی گئی۔ اس کے برعکس حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل بنی اسرائیل میں نبوت کا سلسلہ لگاتار چلتا رہا اور انہیں زبور ‘ تورات اور متعدد صحائف بھی عطا کیے گئے۔ بلکہ بنی اسرائیل میں چودہ سو برس کا ایک عرصہ ایسا بھی گزرا جس کے دوران ان…
Read the full tafseer →61 گویا ان تین واقعات کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لئے آپ کی نبوت کی صداقت کے طور پر پیش فرمایا۔ ایک وہ وقت جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو معجزات عطا کرکے انھیں فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجا اور امر رسالت تفویض کیا تھا۔ دوسرے مدین کے حالات کے تفصیل اور تیسرے وہ وقت جب موسیٰ رستہ بھول کر آگ لینے کی غرض سے آئے تھے۔ تو ہم نے خود انھیں پکار کر رسالت بھی عطا کی تھی اور ہم کلامی کا شرف بھی بخشا تھا۔ اور یہ واقعات آپ کی نبوت پر دلیل اس طرح ہیں کہ حضرت محمد ﷺ خود لکھنا پڑھنا نہ جانتے تھے۔ کہ آپ نے کسی کتاب سے پڑھ کر یہ حالات معلوم کر لئے ہوں اور لوگوں کو سنا دیا ہو۔ دوسرے یہ کہ آپ کا کوئی استاد ہی…
Read the full tafseer →63۔ (اور آپ کے اس دعوی نبوت پر دلیل قائم کرنے کو آپ کو یہ تمام علوم صحیح عطا کردیئے گئے ہیں) (آیت) ” قوما ...... قبلک “۔ مراد مشرکین عرب ہیں جن کے پاس پشتہا پشت سے کوئی نبی نہیں آیا تھا گو توحید کی تعلیم ان کو بھی بالواسطہ پہنچ چکی تھی۔” ان آیات میں اولا نفی کی گئی حضور عند عطاء التوراۃ کی جس کا وقوع سب کے بعد ہوا۔ پھر نفی کی گئی حضور وقت قیام مدین کی جو سب سے پہلے واقع ہوا پھر نفی کی گئی حضور وقت النداء کی جو درمیان میں واقع ہوئی۔ اس ترتیب بدلنے میں یہ نکتہ ہے کہ ہر موقع میں آپ کا تشریف نہ رکھنا مستقل دلیل ہو صاحب وحی ہونے، ورنہ اگر وقوع کے موافق ذکر میں ترتیب ہوتی تو مجموعہ دلیل واحد سمجھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
آیت نمبر 43 تا 50
ترجمہ : اور ہم نے پہلی امتوں (مثلاً ) قوم نوح و عاد وثمود وغیرہ کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی جو لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت تھی گمراہی سے اس شخص کے لئے جو اس پر عمل کرے اور رحمت تھی اس کے لئے جو اس پر ایمان لائے تاکہ نصیحت حاصل کریں ان نصیحتوں سے جو اس میں ہیں بصَائر للناسً ، الکتاب سے حال ہے اور بَصَائر بصِیٌرَۃ کی جمع ہے اور بصیرت نور قلبی کو کہتے ہیں اور بصائر کا مطلب ہے انوار القلوب اور اے محمد تم مناجات کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی مغربی پہاڑ کی جانب یا غربی وادی کی جانب یا غربی مکان کی جانب موجود نہیں تھے جب ہم نے فرعون اور اس کی…
Read the full tafseer →وما کنت بجانب الطور اذ نادینا . اور نہ آپ طور کے جانب موجود تھے جس وقت کہ ہم نے (موسیٰ کو) پکارا تھا۔
بِجَانِبِ الطُّوْرِ طور کے کنارے جہاں اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا تھا۔
اِذْنَادَیْنَا جب ہم نے (موسیٰ کو) پکارا تھا اور کہا تھا خُذِ الْکِتٰبِ بِقُوَّۃٍ اس جگہ وَمَا کُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِسے مراد ہے توریت عطا کرنے کا وقت اور ماکُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ سے مراد نے نبوت عطا کرنے کا وقت۔
وہب کا بیان ہے کہ موسیٰ نے کہا : اے میرے رب ! مجھے محمد کا دیدار کرا دے۔ اللہ نے فرمایا : تم ہرگز وہاں تک نہیں پہنچ سکتے اور اگر تم چاہو تو میں ان کی امت کو پکاروں اور ان کی آواز تم کو سنوا دوں۔ موسیٰ نے…
Read the full tafseer →(46) اور اسی طرح آپ طور کی غربی جانب میں اس وقت بھی نہیں تھے جب کہ ہم نے حضرت موسیٰ ؑ سے کلام کیا تھا یا یہ کہ آپ کی امت کو پکارا تھا لیکن اس کا علم بھی اس طرح حاصل ہوا کہ آپ اپنے رب کی رحمت سے نبی بنائے گئے اور بذریعہ جبریل امین ؑ قرآن حکیم میں گزشتہ قوموں کے آپ سے واقعات بیان کیے گئے تاکہ آپ بذریعہ قرآن ایسی قوم کو یعنی قریش کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والانبی نہیں آیا ممکن ہے کہ یہ نصیحت قبول کرلیں اور ایمان لے آئیں۔
Read the full tafseer →وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ : ان تینوں آیات میں ”وما کنت“ (اور تو وہاں موجود نہ تھا) کی تکرار سے رسول اللہ ﷺ کے حق اور صدق پر ہونے کو واضح فرمایا گیا ہے کہ جب آپ ان مقامات میں سے کہیں بھی موجود نہیں تھے، پھر بھی ان کے بارے میں اصل حقائق کو صحیح طور پر اور بالکل واقعہ کے مطابق بیان کرتے ہیں تو یہ اس بات کی کھلی دلیل اور واضح ثبوت ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اس کی وحی آپ کے پاس آتی ہے جس کے ذریعے سے آپ یہ سب کچھ اتنی صحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔
”وَمَا كُنْتَ“ (اور تو وہاں موجود نہ تھا) کی تکرار کے ساتھ یہ اہم حقیقت بھی واضح فرما دی گئی ہے کہ پیغمبر حاضر و ناظر اور ہر جگہ موجود نہیں ہوتے،…
Read the full tafseer →وما کنت بجانب الطور اذنا دینا جس طرح آپ مکان کی غربی جانب نہیں تھے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجا اسی طرح بھیجا اسی طرح آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ندا کی جب وہ ستر افراد کے ساتھ وقت مقررہ پر آئے تھے۔ عمرو بن دینار نے مرفوع روایت نقل کی ہے : ندا کی گئی : اے امت محمد ! میں نے تمہاری دعا قبول کی قبل اس کے کہ تم دعا کرو اور میں نے تمہیں عطا کردیا قبل اس کے کہ تم مجھ سے سوال کرو۔ (1) ۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہی فرمان ہے : وما کنت بجانب الطور اذنا دینا۔
حضرت ابوہریرہ نے کہا : ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے، اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →1۔ الفریابی والنسائی وابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی معا فی الدلائل ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت وما کنت بجانب الطور اذا نادینا سے مراد ہے تم کو آواز دی گئی اے محمد ﷺ کی امت میں نے تم کو عطا کیا تمہارے سوال کرنے سے پہلے پہلے اور میں نے تمہاری دعاؤں کو قبول کیا مجھ سے دعا کرنے سے پہلے۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت غضب پر غالب ہے
2۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن عساکر وابن مردویہ نے ایک اور سند سے ابوہریرہ ؓ سے مرفوع روایت نقل کی ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رب العزت نے آواز دی اے محمد ﷺ کی امت میرے غضب پر سبقت لے گئی۔ پھر موسیٰ اور فرعون کی سورت میں یہ آیت وماکنت…
Read the full tafseer →وَمَا كُنْتَ [اور آپ ﷺ نہیں تھے ] بِجَانِبِ الطُّوْرِ [طور کی جانب ] اِذْ نَادَيْنَا [جب ہم نے ندا دی ] وَلٰكِنْ [اور لیکن ] رَّحْمَةً [یہ کتاب ہے) رحمت ہوتے ہوئے ] مِّنْ رَّبِّكَ [آپ ﷺ کے رب (کی طرف) سے ] لِتُنْذِرَ [تاکہ آپ ﷺ خبردار کریں ] قَوْمًا [ایک ایسی قوم کو ] مَّآ اَتٰىهُمْ [نہیں آیا جن کے پاس ] مِّنْ نَّذِيْرٍ [کوئی خبردار کرنے والا ] مِّنْ قَبْلِكَ [آپ ﷺ سے پہلے ] لَعَلَّهُمْ [شاید یہ لوگ ] يَتَذَكَّرُوْنَ [یاد دہانی حاصل کریں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
پنجم : یوں فرمایا (قُلْ فَاْتُوْا بِکِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ھُوَ اَھْدٰی مِنْھُمَآ (الآیۃ) (آپ فرما دیجیے کہ تم اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان کتابوں یعنی قرآن اور توراۃ سے بڑھ کر ہدایت دینے والی ہو میں اس کا اتباع کرلوں گا اگر تم اپنی بات میں سچے ہو) مطلب یہ ہے کہ تم نہ توراۃ کو مانتے ہو نہ قرآن کو مانتے ہو۔ چلو تم اور کوئی کتاب لے آؤجو اللہ کی طرف سے ہو اگر تم بالفرض اسے اللہ کی کتاب ثابت کر دو تو میں اس کی پیروی کرلوں گا۔ اگر تم ایسا نہیں کرسکتے تو میری دلائی ہوئی کتاب کو مانو میں نے اس کا حق ہونا ثابت کردیا ہے اور اس میں توریت شریف کی بھی تصدیق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
خاتمہء قصہء مذکورہ برا عطا کتاب ہدایت برائے بصیرت وعبرت
و اثبات رسالت محمد یہ مع جوابات از شبہات واھیہ
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتب۔۔۔ الی۔۔۔۔ من قبلک لعلہم یتذکرون۔
(ربط) یہاں تک موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ختم ہوا۔ اب اخیر میں قوم کی ہدایت کے لئے نزول تورات کا ذکر فرمایا جو اصل مقصود تھا اب آئندہ آیات میں اثبات رسالت محمدیہ کا مضمون ذکر فرماتے ہیں اور اس کے ضمن میں بعض شبہات کا جواب بھی دیتے ہیں جو محض عناد پر مبنی تھے اور یہ بتلاتے ہیں کہ جس طرح توریت کتاب ہدایت و رحمت تھی اسی طرح یہ قرآن بھی کتاب ہدایت و رحمت ہے اور آپ کی نبوت و رسالت کی دلیل اور حجت ہے جو لوگوں کی…
Read the full tafseer →44:۔ جب کوہ طور کے دامن میں ہم نے موسیٰ کو آواز دی اس وقت بھی آپ وہاں موجود نہ تھے لیکن یہ آپ پر اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے آپ کو منصب نبوت پر فائز کیا تاکہ آپ ایک ایسی قوم کو توحید کی دعوت دیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی داعی نہیں آیا یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد زمان فترت میں، فی زمان الفترۃ بینک و بین عیسیٰ وھو خمسمائۃ وخمسون سنۃ (مدارک ج 3 ص 182) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
ربط آیات
گزشتہ رکوعات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بچپن سے لے کر کچھ حالات بیان کیے ہیں اور ان پر آنے والے مشکلات کا ذکر کیا ہے ، ایک قبطی کے قتل کے بعد آپ مدین تشریف لے گئے ، دس سال کے بعد واپس آ رہے تھے کہ راستے میں کوہ طور پر اللہ نے آپ کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور عصا اور ید بیضا جیسی عظیم نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے حواریوں کے پاس تبلیغ کے لیے بھیجا ۔ وہ سب مغرور لوگ تھے ، نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے جس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوا کہ اللہ نے ان سب سرکشوں کو بحر قلزم کی موجوں میں غرق کردیا ۔ فرمایا یہ لوگ کفر ، شرک اور ظلم و زیادتی کے پیشوا تھے ، دیکھو ان کا کیسا…
Read the full tafseer →وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَيْنَا وَلٰكِنْ رَّحْمَۃً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰىہُمْ مِّنْ نَّذِيْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّہُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ 46
طور
طَوَارُ الدّارِ وطِوَارُهُ : ما امتدّ منها من البناء، يقال : عدا فلانٌ طَوْرَهُ ، أي : تجاوز حدَّهُ ، ولا أَطُورُ به، أي : لا أقرب فناء ه . يقال : فعل کذا طَوْراً بعد طَوْرٍ ، أي : تارة بعد تارة، وقوله :
وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْواراً [ نوح/ 14] ، قيل : هو إشارة إلى نحو قوله تعالی: خَلَقْناكُمْ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُضْغَةٍ [ الحج/ 5] ، وقیل : إشارة إلى نحو قوله :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
1 ؎ قرن سینگ کو ہی کہتے ہیں اور زماہ کو ہی یہاں اخیر معنی مراد ہیں قرن میں اختلاف ہے کوئی بارہ برس کے زمانہ کو قرن کہتا ہے کوئی کہتا ہے اس سے زیادہ کو کہتے ہیں اس کا ہندی میں ٹھیٹھ ترجمہ جگ ہے کہتے ہیں کئی جگ بیت گئے یعنی کئی زمانے گزر گئے چونکہ آج کل خود قرن کا لفظ مستعمل ہے اس لیے ہم نے اسی کو رہنے دیا اور جہاں کہ آیا ہم نے بہت سے قرن ہلاک کیے وہاں مراد یہ ہے کہ بہت سے قرنوں کے لوگ ہلاک کیے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَمَا کُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْنَادَیْنَا وَلٰـکِنْ رَّحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّـآ اَتٰـھُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍمِّنْ قَبْلِکَ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ (القصص : 46)
(آپ طور کے دامن میں موجود نہ تھے جبکہ ہم نے موسیٰ کو پکارا، مگر آپ اپنے رب کی رحمت سے (مبعوث کیے گئے) تاکہ آپ ان لوگوں کو متنبہ کریں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا، شاید وہ نصیحت حاصل کریں۔ )
آنحضرت ﷺ کی رسالت کے اثبات میں مزید دلیل
جس طرح آپ ﷺ ان مواقع پر موجود نہ تھے جن کا حوالہ سابقہ آیات میں دیا گیا ہے، اسی طرح آپ ﷺ طور کے پہلو میں بھی اس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کو آواز دی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
فہم القرآن
ربط کلام : طور اور مدین میں آپ ﷺ کی غیر حاضری کے ثبوت سے آپ کی نبوت کے دو مزید دلائل دیے گئے ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر سے نکل کر مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خدمت میں آٹھ یا دس (10) سال گزارے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انھیں اپنی دامادی کے شرف سے مشرف فرمایا۔ طے شدہ مدت کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اپنی رفیقہ حیات کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں انھیں طور کی دائیں جانب روشنی نظر آئی۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی اہلیہ کو یہ کہہ کر اس روشنی کی طرف بڑھے کہ آپ یہاں ٹھہریں میں وہاں سے تاپنے کے لیے آگ کا انگارہ لاتا ہوں یا پھر اگلے سفر کی رہنمائی حاصل کرتا ہوں۔ اِ…
Read the full tafseer →46: وَمَا کُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا (اور آپ طور کی جانب موجود نہ تھے جب کہ ہم نے موسیٰ کو پکارا) ۔ کہ اس کتاب کو مضبوطی سے تھام لو۔ وَلٰکِنْ (لیکن) ۔ ہم نے آپ کو علم دیا اور آپ کو رسول بنایا۔ رَحْمَۃً (رحمت کی وجہ سے) ۔ مِنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰہُمْ مِنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ (تیرے رب کی طرف سے تاکہ تم اس قوم کو ڈرائو۔ جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا) ۔ اس فترت کے زمانہ میں جو آپ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان گذرا۔ اور اس کی مقدار پانچ سو پچاس سال ہے۔ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ (تاکہ وہ نصیحت کو قبول کریں) ۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
46۔ وماکنت بجانب الطور، ،، اور نہ ہی آپ اس وقت کوہ طور پر موجود تھے ۔ کہ آپ نے ان کا کلام سنا ہے۔ اذ نادیناہ ، کہا گیا ہے کہ جب ان کو آواز دی کہ کتاب کو مضبوطی سے تھام لو ، وہب کا بیان ہے کہ موسیٰ نے کہا اے میرے رب ، مجھے محمد ﷺ کا دیدار کرادے۔ اگر تم چاہو تو میں ان کی امت کو پکاروں اور ان کی آواز تم کوسنادوں، موسیٰ نے کہابہت خوب، اللہ نے فرمایا، اے امت محمد ! امت محمد والوں نے اپنے باپون کی پشت میں لبیک کہا۔
ابوزرعہ ، عمرو بن جریر کا قول ہے کہ اللہ نے ندادی، اے امت محمد، اس کے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اور مانگنے سے پہلے تم کودے دیا۔
حضرتابن عباس ؓ عنہمانے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
46‘ 47۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کا قصہ ذکر فرما کر اس قصے سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی نبوت قریش پر ظاہر کی ہے اور قریش کی قائل کیا ہے کیونکہ یہ تو قریش کو معلوم تھا کہ آنحضرت ﷺ حضرت شعیب ( علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانہ میں پیدا نہیں ہوئے اور یہ بھی معلوم تھا کہ جب تک آپ مکہ میں تھے۔ کبھی اہل تو ریت سے اور آپ سے ایسا میل جول نہ تھا جس سے آپ حضرت موسیٰ کی پیدائش سے لے کر ان کے نبی ہونے تک کا قصہ سن لیتے پھر بغیر ان دونوں باتوں کے جبکہ آپ نے پورا قصہ حضرت موسیٰ کا اور سب انبیاء ( علیہ السلام) کے اسی طرح سب قصے جس طرح تو ریت میں تھے پورے پورے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–54
شعراء کی دو اقسام
قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
56 اور نہ ہی آپ طور کے پاس موجود تھے جبکہ ہم نے موسیٰ کو پکارا : بلکہ آپ کو اس سب کا علم اپنے رب کی خاص رحمت کی بنا پر ہوا۔ چناچہ ہم نے اپنی رحمت اور اپنے فضل و کرم اور اپنے انتخاب سے آپ کو اس منصب کے لئے چنا اور آپ کو وحی کے ذریعے ان تمام تفصیلات سے آگہی بخشی۔ ورنہ نہ تو ان گزشتہ واقعات کو صحیح طور پر اس طرح جاننے کا اور کوئی ذریعہ آپکے پاس موجود تھا اور نہ ہی آپ کے بس میں تھا کہ آپ ازخود ان کو اس قدر تفصیلات اور ان باریکیوں کے ساتھ بیان کریں۔ سو یہ آپ ﷺ کی حقانیت کی صاف وصریح دلیل اور قطعی ثبوت ہے۔ (روح، قرطبی، مراغی، محاسن، ابن کثیر، صفوہ، فتح اور معارف وغیرہ وغیرہ) ۔ ان آیات کریمات میں {…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–46
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
آیات 43 تا 50
اسرار ومعارف
اور جب پہلی امتیں اپنی گمراہی کے سبب ہلاک ہوگئیں تو ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرما کر مبعوث فرمایا جس میں بصائیر یعنی عقل سلیم کی رہنمائی کرنے والی باتیں اور صحیح رہنمائی اور اللہ کی رحمت تھی کہ حق بات عقل سلیم کو اپیل کرتی ہے پھر بندہ ایمان قبول کرتا ہے تو یہ ہدایت ہوگی اور پھر اعمال صالح نصیب ہوتے ہیں جو رحمت ہیں اور یہ اہتمام اس لیے فرمایا کہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور جب یہ سب ہورہا تھا یا موسیٰ (علیہ السلام) سے بات ہو رہی تھی تو انہیں کتاب عطا ہوئی تو آپ طور پر تشریف نہ رکھتے تھے کہ آپ نے وہ واقعہ دیکھا ہو پھر بر شمار لوگ گزرے اور زمانے بیت گئے یہ باتیں لوگوں کے…
Read the full tafseer →9 ۔ یعنی کوہ طور پر۔ مناجاۃ۔ اور کلام کے طورپ ر۔ اللہ تعالیٰ کے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو پکارنے کا قرآن حکیم میں کئی جگہ ذکر ہے۔ اسی کے مشابہ وہ آیت ہے جو ابھی اوپر گزر چکی ہے یعنی : وما کنت بجانب المغربی اذ قضینا الی موسیٰ الامر بعض علما نے یہاں ندا اور قضا کا مطلب یہ بھی بیان کیا ہے کہ ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو خبر دی کہ محمد (ﷺ) کی امت خیر الامم ہے واللہ اعلم۔ (قرطبی۔ ابن کثیر) 10 ۔ حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کے بعد حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) تک جتنے پیغمبر اولاد ابراہیم میں آئے، بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوتے رہے۔ بنو اسماعیل یعنی عرب کے لوگ) ایسے تھے جن کی طرف حضرت اسماعیل ( علیہ…
Read the full tafseer →(28:46) ولکن رحمۃ من ربک۔ ای رحمک ربک رحمۃ یا رسالک والوحی الیک واطلاعک علی الاخبار الغائبۃ۔ تمہیں پیغمبر بنا کر بھیج کر اور تم پر وحی ارسال کرکے اور غیب کی خبروں سے مطلع کرکے اپنی (خصوصی) رحمت سے نوازا ہے
رحمۃ بوجہ فعل محذوف کے مصدر کے منصوب ہے ای رحمک رحمۃ۔
لتنذر۔ میں لام تعلیل کا ہے تنذر واحد مذکر حاضر مضارع ۔ تاکہ تو ڈراوے ۔ انذار۔ افعال۔ مصدر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
لغات القرآن : آیت نمبر 43 تا 50 :
القرون الاولی (گذری ہوئی جماعتیں۔ زمانہ) بصائر (آنکھیں کھولنے والی باتیں) ‘ الشھدین ( دیکھنے والے) انشا نا ( ہم نے اٹھایا۔ ہم نے پیدا کیا) تطاول (طویل ہوگئی) العمر (مدت) ثاوی (رہنے والے) قدمت ایدی (آگے بھیجا۔ دونوں ہاتھوں کے آگے) ‘ سحران ( دو جادو) ‘ تظھرا (ایک دوسرے کے موافق) ‘ اھدی (زیادہ ہدایت) ‘ لم یستجیبوا (جواب نہ دیا) ‘ اھواء (ھوائ) خواہشیں۔ تمنائیں) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 43 تا 50 :
سورۃ القصص کی گذشتہ آیات اور قرآن کی متعدد سورتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو کسی جگہ تفصیل سے اور کہیں مختصر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
(ف 1) فرعون اور حضرت موسیٰ کا قصہ تھا اس کو تمام کرکے اس قصہ کے نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب پہلے قرن یعنی زمانے والے ہلاک ہوچکے تو خلق کی راہنمائی کے لیے ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث کیا، اس کو یہ یہ باتیں پیش آئیں۔ جنگل میں کلام کیا۔ معجزات دیے اور، کتاب تورات عطا کی، جو بصارت اور ہدایت اور رحمت تھی سمجھداروں کے لیے۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب گمراہی کا ایک زمانہ دراز گزر گیا تو خلق کی ہدایت کے لیے اے محبوب ﷺ تم کو بھیجا اور تم پر قرآن نازل کیا جس میں گزشتہ رسولوں کے واقعات تم پر ظاہر کیے حالانکہ اے محبوب اس زمانہ میں تم موجود نہیں تھے اپنے رب کی رحمت سے رسول بنائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
[21] اور یہ آپ کے پیغمبر ہونے کی دلیل ہے کیونکہ یہ واقعات آپ کے مشاہدے میں نہیں آئے۔ پھر آپ جو انھیں اتنا صاف و صحیح بتا رہے ہیں تو ان کے جاننے کا ذریعہ بجزوحی کے اور کیا ہے ؟ اگر کوئی اور ذریعہ ہوتا تو
کفار مکہ جو آپ کو جھوٹا نبی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں ضرور اس کی نشاندہی کرتے۔
[22] مراد مشرکین عرب ہیں جن کے پاس پشتہا پشت سے کوئی نبی نہیں آیا تھا گرچہ توحید کی تعلیم ان کو بالواسطہ پہنچ چکی تھی۔
Read the full tafseer →آنحضرت ﷺ کی نبوت پر ایک دلیل
2: ان آیات میں واقعات اور قصص کی اس تفصیل کو اللہ تعالیٰ نے بطور اعجاز کے پیش کیا ہے ۔ اور حضور ﷺ کی نبوت پر دلیل ٹھہرایا ہے ۔ ارشاد ہے کہ جب موسیٰ کو جبل طور کے غربی جانب مخاطب کیا گیا ۔ اور اس کو تورات دی گئی تو آپ اس وقت موجود نہ تھے ۔ اور نہ آپ مدین میں مقیم تھے ۔ جب حضرت موسیٰ اور حضرت شعیب میں ملاقات اور گفتگو ہوئی ۔ تو آپ اس وقت بھی حاضر نہ تھے ۔ اور نہ اس وقت موجود تھے ۔ جب کہ ہم نے موسیٰ کو پکارا ۔ اور خلعت نبوت سے نوازا ۔ پھر جو آپ یہ واقعات مبصرانہ تفصیل کے ساتھ ذکر کررہے ہیں ۔ تو کیونکر ؟ ارشاد ہے کہ یہ محض ہمارے فضل ورحمت سے تمہیں یہ علم اور معارف عطا…
Read the full tafseer →46۔ اور نہ آپ اس وقت طور کے کنارے اور کسی جانب میں تھے جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا تھا لیکن آپ اپنے پروردگار کی رحمت اور اس کی مہر سے نبی بنائے گئے تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والام نہیں آیا کیا عجب ہے کہ یہ لوگ نصیحت قبول کرلیں ۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طور پر پکارا تھا اور فرمایا تھا انی انا اللہ رب العالمین اس وقت بھی آپ طور کی کسی جانب موجود نہ تھے اور طور کے آس پاس نہیں تھے لیکن آپ کے پروردگار کی یہ رحمت ہے کہ آپ نبی بنائے گئے اور آپ کو اپنے رب کی مہر سے نبوت عطا ہوئی تا کہ آپ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے پاس اب تک کوئی ڈرانے والا…
Read the full tafseer →ف 6۔ حضور ﷺ کے معاصرین بلکہ ان کے آباء اقربین نے بھی کسی نبی کو نہیں دیکھا۔
Read the full tafseer →بلاشبہ جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر بلایا آپ ﷺ اس وقت بھی ان کے ہمراہ نہیں تھے :
46۔ زیر نظر آیت تیسری آیت ہے جن آیات میں بار بار بیان کیا جا رہا ہے کہ انبیائ کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام (علیہ السلام) کو علم غیب نہیں ہوتا بلکہ وہ وہی بات جانتے ہیں جو اللہ تعالیٰ ان کو بتا دیتا ہے اور جو بات کسی کی طرف سے بتائی گئی ہو وہ غیب نہیں ہوتی بلکہ غیب کی تعریف میں یہ بات ہے کہ بغیر کسی کے بتائیے اور عطا کئے گئے خود بخود جانا جائے اور یہ صفت بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات سے خاص ہے ہم جو غیب پر یقین رکھتے ہیں اس کا مطلب ومفہوم بھی یہی ہے کہ ان باتوں کو ہم نہیں جانتے لیکن ان کی نوعیت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أَتَاهُم مِّن نَّذِيرٍ ( so that you warn a people to whom no warner has come before - 28:46). The expression ` a people' is purported here for the Arabs, who are the progeny of Sayyidna Ismail (علیہ السلام) . No prophet was sent to this ` people' after Sayyidna Ismail علیہ السلام until the Holy Prophet ﷺ was sent. The same subject will follow in Surah Yasin. But this verse is not in conflict with the other verse إِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (There is no community, but there has come a warner among them - 35:24). What the present verse means here is…
Read the full tafseer →63 That is, "You did not exist at the time when the Prophet Moses reached Midian, passed ten years of his life there, and then left for Egypt. You were not preaching in the habitations of Midian that which you are preaching in the streets of Makkah. You are not relating those events as an eye-witness, but because you have been given the knowledge of these by Us through Revelation."
64 These things have been presented as a proof of the Holy Prophet's Prophethood. At the time when these were cued all the chiefs of Makkah and the common disbelievers were bent upon somehow proving him as a…
Read the full tafseer →