Al-Qasas 28:45

Al-Qasas · from ayah 45

28:45

وَلٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ ۚ— وَمَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا ۙ— وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ ۟وَلٰـكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ‌ۚ وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا فِىۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَـتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَاۙ وَلٰـكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ

لیکن ہم نے (موسٰی کے بعد) کئی اُمتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گذر گئی اور نہ تم مدین والوں میں رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے تھے۔ ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But We produced [many] generations [after Moses], and prolonged was their duration. And you were not a resident among the people of Madyan, reciting to them Our verses, but We were senders [of this message].

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 5 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:45

بلکہ اس کے بعد (تمہارے زمانے تک) ہم بہت سی نسلیں اٹھا چکے ہیں اور ان پر بہت زمانہ گزر چکا ہے تم اہلِ مَدیَن کے درمیان بھی موجود نہ تھے کہ اُن کو ہماری آیات سُنا رہے ہوتے، مگر (اُس وقت کی یہ خبریں) بھیجنے والے ہم ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

لیکن ہم نے (موسٰی کے بعد) کئی اُمتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گذر گئی اور نہ تم مدین والوں میں رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے تھے۔ ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

لیکن ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں جن پر لمبی مدتیں گزر گئیں، اور نہ تو مدین کے رہنے والوں میں سے تھا کہ ان کے سامنے ہماری آیتوں کی تلاوت کرتا بلکہ ہم ہی رسولوں کے بھیجنے والے رہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بلکہ ان کے بعد ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں، جن پر طویل زمانہ گزر گیا۔ اور تم مدین کے بسنے والوں کے درمیان بھی مقیم نہیں تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہو، بلکہ (تمہیں) رسول بنانے والے ہم ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مگر ہوا یہ کہ ہم نے سنگتیں پیدا کیں کہ ان پر زمانہ دراز گزرا اور نہ تم اہلِ مدین میں مقیم تھے ان پر ہماری آیتیں پڑھتے ہوئے، ہاں ہم رسول بنانے والے ہوئے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

لیکن ہم نے (موسٰی علیہ السلام کے بعد یکے بعد دیگرے) کئی قومیں پیدا فرمائیں پھر ان پر طویل مدّت گزر گئی، اور نہ (ہی) آپ (موسٰی اور شعیب علیہما السلام کی طرح) اہل مدین میں مقیم تھے کہ آپ ان پر ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہوں لیکن ہم ہی (آپ کو اخبارِ غیب سے سرفراز فرما کر) مبعوث فرمانے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور لیکن ہم نے کئی نسلیں پیدا کیں، پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی اور نہ تو اہل مدین میں رہنے والا تھا کہ ان کے سامنے ہماری آیات پڑھتا ہو اور لیکن ہم ہی بھیجنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس کے بعد ہم نے کئی نسلیں پیدا کیں اور ان پر بہت زمانہ بیت چکا ہے اور آپ مدین کے باشندے بھی نہ تھے کہ انہیں ہماری آیات پڑھ کر سناتے مگر ہم ہی ہیں جو (آپ کو رسول بنا کر اس وقت کی خبریں بھیج رہے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

لیکن ہم نے بہت سی قومیں اٹھائیں تو ان پر ایک زمانہ گزر گیا اور وہ ہماری یاد دہانی کو بھلا بیٹھے تو ہم نے تم کو رسول بنایا کہ ان کو یاد دہانی کرو) اور تم اہل مدین میں بھی ہماری آیتیں سناتے مقیم نہ تھے لیکن ہم تم کو ایک رسولبنانے والے تھے (سو ہم نے ان احوال سے تم کو باخبر کیا)

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

لیکن ہم ہی نے اس دوران بہت سی نسلیں پیدا کیں پھر ان پر بھی بہت زمانہ گزر گیا اور نہ ہی آپ مدین والوں میں قیام پذیر تھے کہ ان لوگوں کو ہماری آیتیں ٹھیک ٹھیک سنا رہے ہوتے بلکہ یہ سب کچھ آپ کو ہماری وحی سے معلوم ہوا کہ ہم ہی ہیں پیغمبر بنا کر بھیجنے والے

— مولانا اسحاق مدنی

لیکن ہم نے (بہت سی) نسلیں پیدا کیں پھر ان پر زمانہ درازگزر گیا۔ اور نہ آپ اہل مدین میں قیام پذیر تھے کہ ہماری آیتیں ان لوگوں کو پڑھ کر سنا رہے ہوں لیکن ہم آپ ہی کو رسول بنانے والے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

لیکن ہم نے پیدا کیں بہت سی نسلیں تو ان کے اوپر ایک لمبی عمر بیت گئی اور نہ ہی آپ ﷺ اہل مدین کے درمیان مقیم تھے کہ ان کو ہماری آیات پڑھ کر سناتے بلکہ یہ تو ہم ہیں (رسولوں کو) بھیجنے والے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

لیکن ہم نے موسیٰ کے بعد کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی اور نہ آپ مدین والوں میں رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے تھے۔ ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

Thereafter We raised up many a generation and a long time passed. You were then not even present among the people of Midian to rehearse Our verses to them. But it is We Who are sending news about that.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

but We created generations (after him) and a long time passed over them. And you were not dwelling among the people of Madyan, reciting Our verses to them, but it is We who do send messengers.

— Muhammad Taqi Usmani

but We created generations (after him) and a long time passed over them. And you were not dwelling among the people of Madyan, reciting Our verses to them, but it is We who do send messengers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But We created generations, and long were the ages that passed over them. And you were not a dweller among the people of Madyan, reciting Our Ayat to them. But it is We Who kept sending (Messengers).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But We brought forth generations, and their lives dragged on for them. And thou wast not a dweller in Midian, reciting unto them Our revelations, but We kept sending (messengers to men).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But We produced [many] generations [after Moses], and prolonged was their duration. And you were not a resident among the people of Madyan, reciting to them Our verses, but We were senders [of this message].

— Saheeh International

But We raised many generations after Moses and they lived for many years. You did not dwell with the people of Midian reciting Our revelations to them, but We had certainly sent Messengers to them.

— Muhammad Sarwar

But We raised up generations, then life became prolonged to them; and you were not dwelling among the people of Madyan, reciting to them Our communications, but We were the senders.

— Muhammad Habib Shakir

But We brought forth generations, and prolonged unto them was life; nor wast thou a dweller among the people of Madyan, reciting unto them Our revelations; but it is We who were to send.

— Abdul Majid Daryabadi

But We raised up (new) generations, and long were the ages that passed over them; but thou wast not a dweller among the people of Madyan, rehearsing Our Signs to them; but it is We Who send messengers (with inspiration).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:45

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 44–47

دلیل نبوت اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی آخرالزمان ﷺ کی نبوت کی دلیل دیتا ہے کہ ایک وہ شخص جو امی ہو جس نے ایک حرف بھی نہ پڑھا ہو جو اگلی کتابوں سے محض ناآشنا ہو جس کی قوم علمی مشاغل سے اور گذشتہ تاریخ سے بالکل بیخبر ہو وہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ کام فصاحت و بلاغت کے ساتھ بالکل سچے ٹھیک اور صحیح گذشتہ واقعات کو اس طرح بیان کرے جیسے کہ اس کے اپنے چشم دید ہو اور جیسے کہ وہ ان کے ہونے کے وقت وہیں موجود ہو کیا یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے تلقین کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود اپنی وحی کے ذریعہ سے انہیں وہ تمام باتیں بتاتا ہے۔ حضرت مریم صدیقہ کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے بھی قرآن نے اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القصص 62 یعنی تمہارے پاس ان معلومات کے حصول کا براہ راست کوئی ذریعہ نہیں تھا، آج جو تم ان واقعات کو دو ہزار برس سے زیادہ مدت گزر جانے کے بعد اس طرح بیان کر رہے ہو کہ گویا یہ سب تمہارا آنکھوں دیکھا حال ہے، اس کی کوئی وجہ اس کے سوا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعہ سے تم کو یہ معلومات بہم پہنچائی جارہی ہیں۔ سورة القصص 63 یعنی جب حضرت موسیٰ مدین پہنچے، اور جو کچھ وہاں ان کے ساتھ پیش آیا، اور دس سال گزار کر جب وہ وہاں سے روانہ ہوئے، اس وقت تمہارا کہیں پتہ بھی نہ تھا، تم اس وقت مدین کی بستیوں میں وہ کام نہیں کر رہے تھے جو آج مکہ کی گلیوں میں کر رہے ہو۔ ان واقعات کا ذکر تم کچھ اس بنا پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 43–45

خلاصہ تفسیر اور (رسالت کا سلسلہ خلق کے محتاج اصلاح ہونے کے سبب ہمیشہ سے چلا آیا ہے چنانچہ) ہم نے موسیٰ ؑ کو (جن کا قصہ ابھی پڑھ چکے ہو) اگلی امتوں (یعنی قوم نوح و عاد وثمود) کے ہلاک ہونے کے پیچھے (جبکہ ان زبانوں کے انبیاء کی تعلیمات نایاب ہوگئی تھیں اور لوگ ہدایت کے سخت حاجتمند تھے) کتاب (یعنی تورات) دی تھی جو لوگوں کے (یعنی بنی اسرائیل کے) لئے دانشمندیوں کا سبب اور ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ (اس سے) نصیحت حاصل کریں (طالب حق کی اول فہم درست ہوتی ہے یہ بصیرت ہے پھر احکام قبول کرتا ہے یہ ہدایت ہے، پھر ہدایت کا ثمرہ یعنی قرب و قبول عنایت ہوتا ہے۔ یہ رحمت ہے) اور (اسی طرح جب یہ دورہ بھی ختم ہوچکا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس آیت کے ابتدائی ٹکڑے کا تعلق اوپر والی آیت سے ہے یعنی تم ان احوال سے واقف نہیں تھے لیکن ہم نے تم کو واقف کیا اور یہ اس لئے کیا کہ موسیٰ کے بعد ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں تو ان پر ایک طویل زمانہ گزر گیا اور لوگ ہماری اس کتاب کو بھلا بیٹھے جو ہم نے ان کو ہدایت و رحمت بنا کر عطا کی تھی اس وجہ سے ضروری ہوا کہ ہم تمہارے ذریعہ سے اس ہدایت کو از سر نو زندہ کریں۔ یہاں لطاول علیھم العمر کے بعد منسوالذکرا اس کے ہم معنی الفاظ بر بنائے قرینہ محذوف ہیں۔ وماکنت ثاویا فی امسل مدین یعنی جس طرح تم موسیٰ کو تورات دیئے جانے کے وقت طور کے جانب غربی میں موجود نہیں تھے اسی طرح مدین میں بھی موجود نہ تھے کہ حضرت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

45-1قرون، قرن کی جمع ہے، زمانہ لیکن یہاں امتوں کے معنی میں ہے یعنی اے محمد ﷺ آپ کے اور موسیٰ ؑ کے درمیان جو زمانہ ہے اس میں ہم نے کئی امتیں پیدا کیں۔ 45-2یعنی مراد ایام سے شرائع و احکام بھی متغیر ہوگئے اور لوگ بھی دین کو بھول گئے، جس کی وجہ سے انہوں نے اللہ کے حکموں کو پس پشت ڈال دیا اور ان کے عہد کو فراموش کردیا اور یوں اس کی ضرورت پیدا ہوگئی کہ ایک نئے بنی کو معبوث کیا جائے یا یہ مطلب ہے کہ طول زماں کی وجہ سے عرب کے لوگ نبوت و رسالت کو بالکل ہی بھلا بیٹھے، اس لئے آپ کی نبوت پر انھیں تعجب ہو رہا ہے اور اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ 45-3جس سے آپ خود اس واقعے کی تفصیلات سے آگاہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 44–47

26: یہاں سے آیت نمبر : 61 تک نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی سچائی کا بیان ہے، پہلے یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے جو واقعات قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں، مثلاً کوہ طور کے مغربی کنارے پر ان کو تورات دیاجانا، اور صحرائے سینا میں ان کو پکار کر نبوت عطا کرنا، اور حضرت موسیٰ ؑ کا عرصہ دراز تک مدین میں رہنا، یہ ساری باتیں ایسی ہیں کہ نہ آنحضرت ﷺ اس وقت موجود تھے کہ ان واقعات کو دیکھتے اور نہ ان کو معلوم کرنے کا آپ کے پاس کوئی ذریعہ تھا، اس کے باجود آپ یہ واقعات اتنی تفصیل سے بیان فرما رہے ہیں تو اس کا کوئی مطلب سوائے اس کے نہیں ہوسکتا کہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے جس نے آپ کو ان…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 44–51

درس نمبر 177 تشریح آیات 44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی تو اس وقت کے واقعات تو ایسی صحت و صفائی اور بسط و تفصیل سے بیان کر رہا ہے جیسے وہیں " طور " کے پاس کھڑا دیکھ رہا ہو۔ حالانکہ تمہارا موقع پر موجود نہ ہونا ظاہر ہے اور ویسے بھی سب جانتے ہیں کہ تم امیّ ہو۔ کسی عالم کی صحبت میں بھی نہیں رہے۔ نہ ٹھیک ٹھیک صحیح واقعات کا کوئی جید عالم مکہ میں موجود تھا۔ پھر غور کرنے کا مقام ہے کہ یہ عالم کہاں سے آیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اقوام دنیا پر مدتیں اور قرن گزر گئے، مرور دہور سے وہ علوم محرف و مندرس ہوتے جا رہے تھے اور وہ ہدایات مٹتی جا رہی تھیں۔ لہذا اس علیم وخبیر کا ارادہ ہوا کہ ایک امی کی زبان سے بھولے ہوئے سبق یاد دلائے جائیں اور ان عبرتناک و موعظت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 45 وَلٰکِنَّآ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْہِمُ الْعُمُرُ ج ” اہل مکہ چونکہ نبوت اور رسالت کے تصورات سے ناواقف ہیں اس لیے وہ آپ ﷺ کے دعوائے رسالت پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں ‘ لیکن اگر وہ قرآن کی فراہم کردہ معلومات پر غور کریں تو ان پر اس کے ”من جانب اللہ“ ہونے کی حقیقت عقلی طور پر بھی واضح ہوجائے گی۔ ماضی کے واقعات کی تفصیلات جب آپ ﷺ ان کو سناتے ہیں تو یہ بات خود بخود ان کی سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ یہ تمام معلومات اللہ تعالیٰ نے براہ راست بذریعہ وحی آپ ﷺ کو فراہم کی ہیں۔ وَمَا کُنْتَ ثَاوِیًا فِیْٓ اَہْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِنَالا ” جب آپ ﷺ ان کو مدین میں موسیٰ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

59 موسیٰ کے عہد سے لے کر دور نبوی تک تقریباً دو ہزار سال کی مدت ہے اور اس عرصہ میں تقریباً چالیس نسلیں یکے بعد دیگرے پیدا ہوتی رہیں۔ مگر اس دوران ملک حجاز میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا تھا۔ دو ہزار سال کے بعد سب سے آخری نبی محمد ﷺ البتہ ان لوگوں (اہل حجاز) کی طرف مبعوث ہوئے۔ 60 یعنی مدین کا باشندہ نہ ہونے کے باوجود آپ ان لوگوں کو حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ کے حالات یوں بتلا رہے ہیں گویا اس وقت آپ وہاں مقیم تھے اور ان لوگوں کو ہماری آیات پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ اور ان واقعات کے صرف عینی شاہد ہی نہ تھے۔ بلکہ عملی طور پر بھی ان واقعات میں آپ کا عمل دخل تھا۔ اور یہ بات چونکہ ناممکن ہے تو اس سے صاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

61۔ (اور دنیا پھر نئے سرے سے ہدایت کی محتاج ہوگئی) اور خاتم الکتب قرآن کے نزول سے قبل ہر دور میں کچھ کچھ وقفہ کے بعد یہی ہوا بھی کرتا تھا۔ 62۔ (اس لیے آپ کو یہ سب صحیح صحیح خبریں وحی سے بتا دیں) (آیت) ” مرسلین “۔ جمع تعظیمی ہے۔ یا تقدیر کلام یوں رکھی ہے۔ مرسلین فی کل زمان رسولا (بحر وغیرہ)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–50

آیت نمبر 43 تا 50 ترجمہ : اور ہم نے پہلی امتوں (مثلاً ) قوم نوح و عاد وثمود وغیرہ کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی جو لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت تھی گمراہی سے اس شخص کے لئے جو اس پر عمل کرے اور رحمت تھی اس کے لئے جو اس پر ایمان لائے تاکہ نصیحت حاصل کریں ان نصیحتوں سے جو اس میں ہیں بصَائر للناسً ، الکتاب سے حال ہے اور بَصَائر بصِیٌرَۃ کی جمع ہے اور بصیرت نور قلبی کو کہتے ہیں اور بصائر کا مطلب ہے انوار القلوب اور اے محمد تم مناجات کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی مغربی پہاڑ کی جانب یا غربی وادی کی جانب یا غربی مکان کی جانب موجود نہیں تھے جب ہم نے فرعون اور اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولکنا انشانا قرونا فتطاول علیھم العمر . لیکن (موسیٰ کے بعد) ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں پھر ان پر زمانہ دراز گزر گیا۔ قُرُوْنًا یعنی ہم عصر لوگ یا مضاف محذوف ہے اور قرن کا معنی ہے زمانہ یعنی مختلف زمانوں والے (اہل قرون) ۔ فَتَطَاوَلَ عَلَیْھِمُ الْعُمُرُ یعنی ہم نے تمہارے پاس وحی بھیجی کیونکہ انقطاع پیغمبری کا زمانہ طویل ہوگیا تھا ‘ علوم مٹ چکے تھے ‘ شریعتیں بگڑ چکی تھیں ‘ خبروں میں اختلاف و تعارض اس وجہ سے ہوگیا تھا کہ ہم نے موسیٰ کے بعد مختلف قرون پیدا کر دئیے۔ مدت طویل ہوگئی اس لئے باہم اختلاف ہوگیا اور ایک دوسرے کو کاذب قرار دینے لگا۔ بغوی نے لکھا ہے : اللہ نے حضرت موسیٰ سے اور ان کی قوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(45) لیکن بات یہ ہے کہ ہم نے ایک نسل کے بعد دوسری نسل پیدا کی اور پہلوں کا واقعہ بعد والوں سے بیان کیا جیسا کہ اب آپ سے پہلے بیان کیا ہے پھر ان پر طویل زمانہ گزر گیا اور وہ ایمان نہیں لائے تو ہم نے یکے بعد دیگرے سب کو ہلاک کردیا اور اے محمد ﷺ آپ اہل مدین میں بھی قیام پذیر نہیں تھے کہ ان کے حالات کے بارے میں اپنی قوم کو ہماری قرآنی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہو لیکن جیسا کہ ہم نے آپ و رسول بنایا اور پہلوں کے واقعات آپ سے بیان کیے اسی طرح ہم نے پہلی قوموں کی طرف رسول بھیجے ہیں اور اگلوں کی باتیں پچھلوں سے بیان کی ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلٰكِنَّآ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيْهِمُ الْعُمُرُ : یعنی آپ اس وقت موجود نہیں تھے، لیکن ہم نے موسیٰ ؑ سے لے کر آپ تک بہت سی نسلیں اور قومیں پیدا کیں، جن پر سیکڑوں ہزاروں سال کی لمبی مدت گزر گئی۔ جس سے اصل واقعات اور دین کے صحیح احکام اپنی اصل صورت پر باقی نہ رہے، لہٰذا ضرورت تھی کہ نئے پیغمبر کے ذریعے سے دین اور شریعت کو صحیح، مکمل اور آخری صورت میں پیش کیا جائے، اس لیے ہم نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور یہ تمام واقعات وحی کے ذریعے سے آپ کو بتائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ لمبی مدتیں گزرنے کی وجہ سے اہل عرب نبوت و رسالت کو بالکل ہی بھلا بیٹھے تھے، اس لیے انھیں آپ کی نبوت پر تعجب ہو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 44–45

وما کنت اے محمد ! ﷺ آپ نہیں بجانب الغربی پہاڑ کی مغربی جانب : شاعر نے کہا : اعطاک من اعطی الھدی النبینا نورا یزین المبر الغربیا جس نے سراپا ہدایت نبی عطا کیا اس نے تجھے ایسا نور عطا کیا جو منبر کی مغربی جانب کو مزین کرتا ہے۔ اذ قضینآ ابی موسیٰ الامر جب ہم نے اسے اپنے امر اور نہی کا مکلف بنایا اور اپنا عہد اس پر لازم کیا ایک قول یہ کیا گیا ہے، جب ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف آپ کا امر پہنچایا اور ہم نے تیرا ذکر اچھے انداز میں کیا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اذ قضینآ کا معنی ہے یعنی ہم نے خبر دی کہ حضرت محمد ﷺ کی امت بہترین امت ہے وما کنت من الشھدین تو حاضرین میں سے نہ تھا۔ ولکنا انثانا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 44–45

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما کنت بجانب الغربی سے مراد ہے پہاڑ کے غربی جانب۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما کنت ثاویا سے مراد ہے مقیم۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلٰكِنَّآ اَنْشَاْنَا [اور لیکن ہم نے اٹھائیں ] قُرُوْنًا [کچھ قومیں ] فَتَطَاوَلَ [پھر لمبائی ظاہر کی ] عَلَيْهِمُ [ان پر ] الْعُمُرُ ۚ [عمر نے ] وَمَا كُنْتَ [اور آپ ﷺ نہیں تھے ] ثَاوِيًا [قیام کرنے والے ] فِيْٓ اَهْلِ مَدْيَنَ [مدین والوں میں ] تَتْلُوْا [تلاوت کرتے ہوئے ] عَلَيْهِمْ [ان پر ] اٰيٰتِنَا ۙ [ہماری آیتوں کو ] وَلٰكِنَّا كُنَّا [اور لیکن ہم ہی ہیں ] مُرْسِلِيْنَ [بھیجنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 44–49

پنجم : یوں فرمایا (قُلْ فَاْتُوْا بِکِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ھُوَ اَھْدٰی مِنْھُمَآ (الآیۃ) (آپ فرما دیجیے کہ تم اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان کتابوں یعنی قرآن اور توراۃ سے بڑھ کر ہدایت دینے والی ہو میں اس کا اتباع کرلوں گا اگر تم اپنی بات میں سچے ہو) مطلب یہ ہے کہ تم نہ توراۃ کو مانتے ہو نہ قرآن کو مانتے ہو۔ چلو تم اور کوئی کتاب لے آؤجو اللہ کی طرف سے ہو اگر تم بالفرض اسے اللہ کی کتاب ثابت کر دو تو میں اس کی پیروی کرلوں گا۔ اگر تم ایسا نہیں کرسکتے تو میری دلائی ہوئی کتاب کو مانو میں نے اس کا حق ہونا ثابت کردیا ہے اور اس میں توریت شریف کی بھی تصدیق ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 43–46

خاتمہء قصہء مذکورہ برا عطا کتاب ہدایت برائے بصیرت وعبرت و اثبات رسالت محمد یہ مع جوابات از شبہات واھیہ قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتب۔۔۔ الی۔۔۔۔ من قبلک لعلہم یتذکرون۔ (ربط) یہاں تک موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ختم ہوا۔ اب اخیر میں قوم کی ہدایت کے لئے نزول تورات کا ذکر فرمایا جو اصل مقصود تھا اب آئندہ آیات میں اثبات رسالت محمدیہ کا مضمون ذکر فرماتے ہیں اور اس کے ضمن میں بعض شبہات کا جواب بھی دیتے ہیں جو محض عناد پر مبنی تھے اور یہ بتلاتے ہیں کہ جس طرح توریت کتاب ہدایت و رحمت تھی اسی طرح یہ قرآن بھی کتاب ہدایت و رحمت ہے اور آپ کی نبوت و رسالت کی دلیل اور حجت ہے جو لوگوں کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

42:۔ لیکن آپ کے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان تو ہم نے کئی قرن پیدا کیے اور صدیوں زمانہ گزر گیا اس کے بعد ہم نے آپ کو مبعوث فرمایا۔ اس طرح فتطاول علیہم العمر کے بعد فارسلناک مقدر ہے بقرینہ ولکنا کنا مرسلین۔ 43:۔ ثاویا ای مقیما اسی طرح آپ اہل مدین یعنی قوم شعیب (علیہ السلام) میں بھی موجود نہ تھے اور نہ ان پر ہماری آیتیں پڑھتے تھے۔ لیکن ہم نے آپ کو منصب رسالت عطا کیا اور ذریعہ وحی گذشتہ واقعات کی آپ کو خبر دی۔ ولکنا ارسلناک و اخبرناک بھا و علیمنا کہا (مدارک ج 3 ص 182) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 43–46

ربط آیات گزشتہ رکوعات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بچپن سے لے کر کچھ حالات بیان کیے ہیں اور ان پر آنے والے مشکلات کا ذکر کیا ہے ، ایک قبطی کے قتل کے بعد آپ مدین تشریف لے گئے ، دس سال کے بعد واپس آ رہے تھے کہ راستے میں کوہ طور پر اللہ نے آپ کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور عصا اور ید بیضا جیسی عظیم نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے حواریوں کے پاس تبلیغ کے لیے بھیجا ۔ وہ سب مغرور لوگ تھے ، نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے جس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوا کہ اللہ نے ان سب سرکشوں کو بحر قلزم کی موجوں میں غرق کردیا ۔ فرمایا یہ لوگ کفر ، شرک اور ظلم و زیادتی کے پیشوا تھے ، دیکھو ان کا کیسا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلٰكِنَّآ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيْہِمُ الْعُمُرُ۝ 0ۚ وَمَا كُنْتَ ثَاوِيًا فِيْٓ اَہْلِ مَدْيَنَ تَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰتِنَا۝ 0ۙ وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَ۝ 45 نشأ النَّشْءُ والنَّشْأَةُ : إِحداثُ الشیءِ وتربیتُهُ. قال تعالی: وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْأَةَ الْأُولی [ الواقعة/ 62] . يقال : نَشَأَ فلان، والنَّاشِئُ يراد به الشَّابُّ ، وقوله : إِنَّ ناشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئاً [ المزمل/ 6] يريد القیامَ والانتصابَ للصلاة، ومنه : نَشَأَ السَّحابُ لحدوثه في الهواء، وتربیته شيئا فشيئا . قال تعالی: وَيُنْشِئُ السَّحابَ الثِّقالَ [ الرعد/ 12] والإنْشَاءُ : إيجادُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–46

1 ؎ قرن سینگ کو ہی کہتے ہیں اور زماہ کو ہی یہاں اخیر معنی مراد ہیں قرن میں اختلاف ہے کوئی بارہ برس کے زمانہ کو قرن کہتا ہے کوئی کہتا ہے اس سے زیادہ کو کہتے ہیں اس کا ہندی میں ٹھیٹھ ترجمہ جگ ہے کہتے ہیں کئی جگ بیت گئے یعنی کئی زمانے گزر گئے چونکہ آج کل خود قرن کا لفظ مستعمل ہے اس لیے ہم نے اسی کو رہنے دیا اور جہاں کہ آیا ہم نے بہت سے قرن ہلاک کیے وہاں مراد یہ ہے کہ بہت سے قرنوں کے لوگ ہلاک کیے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلٰکِنَّـآ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْہِمُ الْعُمُرُ ج وَمَا کُنْتَ ثَاوِیًا فِیْٓ اَھْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰـتِنَا لا وَلٰـکِنَّا کُنَّا مُرْسِلِیْنَ ۔ (القصص : 45) (لیکن اس کے بعد ہم نے اٹھائی ہیں بہت سی نسلیں، پس ان پر بہت زمانہ گزر چکا ہے، آپ اہل مدین کے درمیان بھی مقیم نہ تھے کہ ان کو ہماری آیات سنا رہے ہوتے، لیکن اس وقت کی (یہ خبریں) بھیجنے والے ہم ہیں۔ ) آنحضرت ﷺ کی رسالت کی دلیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دنیا سے رحلت کے بعد کئی قومیں صفحہ ہستی پر نمودار ہوئیں اور تورات کی فراہم کردہ روشنی سے ان قوموں نے استفادہ کیا، لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ویسے ویسے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–46

فہم القرآن ربط کلام : طور اور مدین میں آپ ﷺ کی غیر حاضری کے ثبوت سے آپ کی نبوت کے دو مزید دلائل دیے گئے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر سے نکل کر مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خدمت میں آٹھ یا دس (10) سال گزارے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انھیں اپنی دامادی کے شرف سے مشرف فرمایا۔ طے شدہ مدت کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اپنی رفیقہ حیات کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں انھیں طور کی دائیں جانب روشنی نظر آئی۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی اہلیہ کو یہ کہہ کر اس روشنی کی طرف بڑھے کہ آپ یہاں ٹھہریں میں وہاں سے تاپنے کے لیے آگ کا انگارہ لاتا ہوں یا پھر اگلے سفر کی رہنمائی حاصل کرتا ہوں۔ اِ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

45: وَلٰکِنَّا اَنْشَاْنَا (لیکن ہم نے پیدا کیا) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد۔ قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْہِمُ الْعُمُرُ (بہت ساری نسلیں پھر ان پر زمانہ دراز گزرا) یعنی ان کی عمریں لمبی ہوئیں اور نبوت کا انقطاع رہا اور خبریں قریب تھا کہ بالکل چھپ جائیں علوم مٹ گئے اور ان میں بہت ساری تحریفات ہوئیں ہم نے ان خبروں کی تجدید کے لئے انبیاء بھیجے اور جو تحریفات واقع ہوچکی تھیں ان کی وضاحت کی۔ انبیاء کے حالات کا علم ہم نے دیا۔ اور قصہ موسیٰ (علیہ السلام) گویا کہ اس طرح فرمایا گیا۔ نہ آپ موسیٰ (علیہ السلام) کا مشاہدہ کرنے والے تھے اور نہ ہی ان واقعات کا جو ان پر گزرے۔ لیکن ہم نے آپ کی طرف وحی کی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

45۔ ولکناانشاء نا، قرونا، ، ہم نے موسیٰ کے بعد امم کو پیدا کیا۔ فتطاول علیھم العمر، اس پر بہت طویل ہوگئی، اللہ تعالیٰ کے عہد کو بھول گئے اور اس کو پورا کرنے سے ہٹ گئے۔ وماکنت ثاویا ، اور وہ قیام کرنے والے نہیں تھے۔ فی اھل مدین ، حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ملک میں تھے کہ وہاں آپ ہماری آیات کو پڑھ پڑھ کر سنا رہے تھے۔ تتلوا علیھم آیاتنا، تمہیں وعد اور وعید یاد دلاتے تھے۔ مقاتل نے کہا کہ تم اہل مدین میں موجود نہ تھے کہ ان کی خبر اہل مکہ کو پڑھا کر سنا رہے ہو۔ ” ولکنا کنامرسلین، ، ہم نے آپ کی طرف رسول بناکربھیجا اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی جس میں پہلی قوموں کی خبریں موجود تھیں تو آپ ان پر پڑھیں۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–45

41 تا 46۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا دنیوی انجام اوپر ذکر فرما کر اب ان کا عقبیٰ کے انجام کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے دن ان لوگوں کے پیشوا ہوں گے جو ان کے بہکانے کے سبب سے گمراہ ہو کر دوزخ میں اس طرح جھونکے جاویں گے کہ بہکانے والوں کا بہکنے خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بہکانے کا دوسرا عذاب ہوگا تو ان کے پیرو کچھ ان کی مدد نہ کرسکیں گے اس دو ہرے عذاب کا ذکر سورة النمل میں گزر چکا ہے اور اسی ذکر میں صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث بھی گذر چکی ہے یہی قیامت کے دو ہرے عذاب کا ذکر وَیَوْمَ الْقِیَامَۃ ھم الَمْقُبوحْیِن کی گویا تفسیر ہے پھر فرمایا ” پیچھے رکھی ہم نے ان کے دنیا میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 27–54

شعراء کی دو اقسام قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 45–46

56 اور نہ ہی آپ طور کے پاس موجود تھے جبکہ ہم نے موسیٰ کو پکارا : بلکہ آپ کو اس سب کا علم اپنے رب کی خاص رحمت کی بنا پر ہوا۔ چناچہ ہم نے اپنی رحمت اور اپنے فضل و کرم اور اپنے انتخاب سے آپ کو اس منصب کے لئے چنا اور آپ کو وحی کے ذریعے ان تمام تفصیلات سے آگہی بخشی۔ ورنہ نہ تو ان گزشتہ واقعات کو صحیح طور پر اس طرح جاننے کا اور کوئی ذریعہ آپکے پاس موجود تھا اور نہ ہی آپ کے بس میں تھا کہ آپ ازخود ان کو اس قدر تفصیلات اور ان باریکیوں کے ساتھ بیان کریں۔ سو یہ آپ ﷺ کی حقانیت کی صاف وصریح دلیل اور قطعی ثبوت ہے۔ (روح، قرطبی، مراغی، محاسن، ابن کثیر، صفوہ، فتح اور معارف وغیرہ وغیرہ) ۔ ان آیات کریمات میں {…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–46

تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–50

آیات 43 تا 50 اسرار ومعارف اور جب پہلی امتیں اپنی گمراہی کے سبب ہلاک ہوگئیں تو ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرما کر مبعوث فرمایا جس میں بصائیر یعنی عقل سلیم کی رہنمائی کرنے والی باتیں اور صحیح رہنمائی اور اللہ کی رحمت تھی کہ حق بات عقل سلیم کو اپیل کرتی ہے پھر بندہ ایمان قبول کرتا ہے تو یہ ہدایت ہوگی اور پھر اعمال صالح نصیب ہوتے ہیں جو رحمت ہیں اور یہ اہتمام اس لیے فرمایا کہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور جب یہ سب ہورہا تھا یا موسیٰ (علیہ السلام) سے بات ہو رہی تھی تو انہیں کتاب عطا ہوئی تو آپ طور پر تشریف نہ رکھتے تھے کہ آپ نے وہ واقعہ دیکھا ہو پھر بر شمار لوگ گزرے اور زمانے بیت گئے یہ باتیں لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ چناچہ کئی قرن اور صدہا سال گزرنے کی وجہ سے شرائط و احکام متغیر ہوگئے تھے اور سابقہ ادیان اپنی اصلی صورت پر باقی نہیں رہ گئے تھے لہٰذا اب ضرورت تھی کہ نئے پیغمبر ( علیہ السلام) کے ذریعہ دین کی تجدید ہوتی اور دین و شریعت کو ایک مکمل اور آخری شکل میں پیش کیا جاتا۔ 8 ۔ یعنی آپ ﷺ کو ہم ہی نے قریظ کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ اور یہ آخری کتاب آپ ﷺ پر نازل کی ہے جس میں یہ واقعات صحیح اور مکمل مذکور ہیں۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:45) انشانا۔ ماضی متکلم۔ انشا ینشی انشاء (افعال) سے بمعنی پیدا کرنا۔ پرورش کرنا۔ انشانا ہم نے پیدا کیا۔ ن ش ء مادہ قرونا۔ جمع نکرہ بحالت نصب قرن واحد ۔ قومیں۔ انشانا قرونا : ای خلقنا بین زمانک وزمان موسیٰ قرونا کثیرۃ ہم نے تمہارے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کے مابین کئی قومیں پیدا کیں۔ فتطاول۔ میںتعقیب کی ہے تطاول ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ طول مادہ۔ (باب تفاعل۔ درازی یا وسعت کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے۔ فتطاول علیہم العمر۔ پھر ان پر لمبا عرصہ گزر گیا۔ (العمر زندگی۔ عمر) اسی معنی میں باب نصر سے اور جگہ آیا ہے۔ فطال علیہم الامد (57:16) پھر ان پر لمبا عرصہ گزر گیا۔ ثاویا۔ اسم فاعل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 43–50

لغات القرآن : آیت نمبر 43 تا 50 : القرون الاولی (گذری ہوئی جماعتیں۔ زمانہ) بصائر (آنکھیں کھولنے والی باتیں) ‘ الشھدین ( دیکھنے والے) انشا نا ( ہم نے اٹھایا۔ ہم نے پیدا کیا) تطاول (طویل ہوگئی) العمر (مدت) ثاوی (رہنے والے) قدمت ایدی (آگے بھیجا۔ دونوں ہاتھوں کے آگے) ‘ سحران ( دو جادو) ‘ تظھرا (ایک دوسرے کے موافق) ‘ اھدی (زیادہ ہدایت) ‘ لم یستجیبوا (جواب نہ دیا) ‘ اھواء (ھوائ) خواہشیں۔ تمنائیں) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 43 تا 50 : سورۃ القصص کی گذشتہ آیات اور قرآن کی متعدد سورتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو کسی جگہ تفصیل سے اور کہیں مختصر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–46

(ف 1) فرعون اور حضرت موسیٰ کا قصہ تھا اس کو تمام کرکے اس قصہ کے نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب پہلے قرن یعنی زمانے والے ہلاک ہوچکے تو خلق کی راہنمائی کے لیے ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث کیا، اس کو یہ یہ باتیں پیش آئیں۔ جنگل میں کلام کیا۔ معجزات دیے اور، کتاب تورات عطا کی، جو بصارت اور ہدایت اور رحمت تھی سمجھداروں کے لیے۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب گمراہی کا ایک زمانہ دراز گزر گیا تو خلق کی ہدایت کے لیے اے محبوب ﷺ تم کو بھیجا اور تم پر قرآن نازل کیا جس میں گزشتہ رسولوں کے واقعات تم پر ظاہر کیے حالانکہ اے محبوب اس زمانہ میں تم موجود نہیں تھے اپنے رب کی رحمت سے رسول بنائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 43–46

[21] اور یہ آپ کے پیغمبر ہونے کی دلیل ہے کیونکہ یہ واقعات آپ کے مشاہدے میں نہیں آئے۔ پھر آپ جو انھیں اتنا صاف و صحیح بتا رہے ہیں تو ان کے جاننے کا ذریعہ بجزوحی کے اور کیا ہے ؟ اگر کوئی اور ذریعہ ہوتا تو کفار مکہ جو آپ کو جھوٹا نبی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں ضرور اس کی نشاندہی کرتے۔ [22] مراد مشرکین عرب ہیں جن کے پاس پشتہا پشت سے کوئی نبی نہیں آیا تھا گرچہ توحید کی تعلیم ان کو بالواسطہ پہنچ چکی تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 44–45

حل لغات :۔ قرونا ۔ زمانے کی جمع ہے ۔ مراد اہل زمانہ سے ہے ۔ قومیں ۔ امتیں

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

45۔ لیکن اس واقعہ کے بعد ہم نے اور بہت سی قومیں پیدا کیں پھر ان پر زمانہ داز گزر گیا اور نہ آپ مدین میں رہتے تھے کہ وہاں کے لوگوں کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہوں لیکن واقعہ یہ ہے کہ ہم ہی رسول بنانے والے ہیں اور ہم ہی رسول بھیجتے رہے ہیں ۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کو ایک مدت ہوچکی اور کتنا ہی زمانہ گزر چکا اور یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات عقلی تو ہیں نہیں جو دلائل سے بحث کی جائے یہ واقعات ہیں نقلی ان کے لئے مشاہدے کی ضرورت ہے یا اہل علم سے سماع کی تو یہ بھی متحقق نہیں بلکہ اس کی نفی ہے اور جب قرون گزر چکے ہوں اور تاریخیں مسخ ہوچکی ہوں پھر نہ مشاہدہ ہو نہ اہل علم کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 44–45

ف 5۔ جس سے پھر علوم صحیحہ نایاب ہوگئے، اور لوگ پھر محتاج ہدایت ہوئے، اور گو درمیان انبیاء (علیہم السلام) آیا کئے مگر ان کے علوم بھی اسی طرح نایاب ہوئے، اس لئے ہماری رحمت مقتضی ہوئی کہ ہم نے آپ کو وحی و رسالت سے مشرف فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب ملنے کے بعد بھی ایک لمبے زمانے تک آپ کا نام ونشان موجود نہ تھا : 45۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دینے کے بعد بھی ہم نے بہت سی قومیں پید اکیں اور بنی اسرائیل کی کئی نسلیں گزر گئیں اور کتنے نبی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد پیدا کئے اور مبعوث کئے آپ ﷺ کے پاس ان واقعات کے حصول کا براہ راست تو کوئی ذریعہ نہیں تھا آج جو آپ ﷺ ان لوگوں کو گزشتہ واقعات سنا رہے ہیں اور اس طرح ان کو عزم وجزم کے ساتھ بیان کر رہے ہیں تو یہ سب کچھ کیسے کیا جا رہا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) جو مدت مدین میں رہے ہیں آپ ﷺ ان کے ساتھ تو وہاں موجود نہیں تھے بلکہ اس وقت تو آپ ﷺ کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 44–46

لِتُنذِرَ‌ قَوْمًا مَّا أَتَاهُم مِّن نَّذِيرٍ‌ ( so that you warn a people to whom no warner has come before - 28:46). The expression ` a people' is purported here for the Arabs, who are the progeny of Sayyidna Ismail (علیہ السلام) . No prophet was sent to this ` people' after Sayyidna Ismail علیہ السلام until the Holy Prophet ﷺ was sent. The same subject will follow in Surah Yasin. But this verse is not in conflict with the other verse إِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ‌ (There is no community, but there has come a warner among them - 35:24). What the present verse means here is…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

62 That is, "You had no direct means of obtaining this information. AlI this is being revealed to you by Allah. That is how you have been enabled to relate these two-thousand-year old events, in a manner as if you were an eye-witness."

Read the full tafseer →