Explained with ayahs 44–47
دلیل نبوت
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے نبی آخرالزمان ﷺ کی نبوت کی دلیل دیتا ہے کہ ایک وہ شخص جو امی ہو جس نے ایک حرف بھی نہ پڑھا ہو جو اگلی کتابوں سے محض ناآشنا ہو جس کی قوم علمی مشاغل سے اور گذشتہ تاریخ سے بالکل بیخبر ہو وہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ کام فصاحت و بلاغت کے ساتھ بالکل سچے ٹھیک اور صحیح گذشتہ واقعات کو اس طرح بیان کرے جیسے کہ اس کے اپنے چشم دید ہو اور جیسے کہ وہ ان کے ہونے کے وقت وہیں موجود ہو کیا یہ اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے تلقین کیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ خود اپنی وحی کے ذریعہ سے انہیں وہ تمام باتیں بتاتا ہے۔ حضرت مریم صدیقہ کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے بھی قرآن نے اس…
Read the full tafseer →سورة القصص 60
مغربی گوشے سے مراد جزیرہ نمائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ کو احکام شریعت دیے گئے تھے، یہ علاقہ حجاز کے مغربی جانب واقع ہے۔
سورة القصص 61
یعنی بنی اسرائیل کے ان ستر نمائندوں میں جن کو شریعت کی پابندی کا عہد لینے کے لیے حضرت موسیٰ کے ساتھ بلایا گیا تھا (سورة اعراف، آیت 155 میں ان نمائندوں کے بلائے جانے کا ذکر گزر چکا ہے، اور بائیبل کی کتاب خروج، باب 24 میں بھی اس کا ذکر موجود ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
خلاصہ تفسیر
اور (رسالت کا سلسلہ خلق کے محتاج اصلاح ہونے کے سبب ہمیشہ سے چلا آیا ہے چنانچہ) ہم نے موسیٰ ؑ کو (جن کا قصہ ابھی پڑھ چکے ہو) اگلی امتوں (یعنی قوم نوح و عاد وثمود) کے ہلاک ہونے کے پیچھے (جبکہ ان زبانوں کے انبیاء کی تعلیمات نایاب ہوگئی تھیں اور لوگ ہدایت کے سخت حاجتمند تھے) کتاب (یعنی تورات) دی تھی جو لوگوں کے (یعنی بنی اسرائیل کے) لئے دانشمندیوں کا سبب اور ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ (اس سے) نصیحت حاصل کریں (طالب حق کی اول فہم درست ہوتی ہے یہ بصیرت ہے پھر احکام قبول کرتا ہے یہ ہدایت ہے، پھر ہدایت کا ثمرہ یعنی قرب و قبول عنایت ہوتا ہے۔ یہ رحمت ہے) اور (اسی طرح جب یہ دورہ بھی ختم ہوچکا…
Read the full tafseer →آنحضرت کی رسالت کا اثبات
سرگزشت کے آخر میں یہ اور اس کے بعد آیتیں نبی ﷺ کی طرف التفات کی نوعیت کی ہیں جن میں آپ کی نبوت کا اثبات ہے اور کلام کا رخ یہود کی طرف بھی ہے اور قریش کی طرف بھی فرمایا کہ تم موسیٰ کو کتاب دیے جانے کے وقت نہ تو طور جانب ہی میں موجود تھے جب کہ ہم نے معاملہ کا فیصلہ کر کے اس سے موسیٰ کو آگاہ کیا اور نہ ان لوگوں کے ساتھ ہی موجود تھے جو اس وقت پہاڑ کے نیچے موسیٰ کی قوم میں سے تورات کے انتظار میں تھے۔
بجانب الغربی یعنی بجانب الطور الغربی
قضینا الی موسیٰ الامر قضینا یہاں عھدنا کے مفہوم پر متضمن ہے جس طرح دوسرے مقام میں عدھنا الی ابراہیم آیا ہے۔
وما کنت من الشھدین میں شاھدین…
Read the full tafseer →44-1یعنی کوہ طور پر جب ہم نے موسیٰ ؑ سے کلام کیا اور اسے وحی و رسالت سے نوازا، اے محمد ﷺ تو نہ وہاں موجود تھا اور نہ یہ منظر دیکھنے والوں میں سے تھا۔ بلکہ یہ غیب کی وہ باتیں ہیں جو ہم نے وحی کے ذریعے سے تجھے بتلا رہے ہیں جو اس بات کی دلیل ہیں کہ تو اللہ کا سچا پیغمبر ہے۔ کیونکہ نہ تو نے یہ باتیں کسی سے سیکھی ہیں نہ خود ہی مشاہدہ کیا ہے۔ یہ مضمون اور بھی متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے مثلاً (ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ ۭ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ اَيُّھُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ ۠وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ اِذْ يَخْتَصِمُوْنَ) 3۔ آل عمران :44) (تِلْكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
26: یہاں سے آیت نمبر : 61 تک نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی سچائی کا بیان ہے، پہلے یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کے جو واقعات قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں، مثلاً کوہ طور کے مغربی کنارے پر ان کو تورات دیاجانا، اور صحرائے سینا میں ان کو پکار کر نبوت عطا کرنا، اور حضرت موسیٰ ؑ کا عرصہ دراز تک مدین میں رہنا، یہ ساری باتیں ایسی ہیں کہ نہ آنحضرت ﷺ اس وقت موجود تھے کہ ان واقعات کو دیکھتے اور نہ ان کو معلوم کرنے کا آپ کے پاس کوئی ذریعہ تھا، اس کے باجود آپ یہ واقعات اتنی تفصیل سے بیان فرما رہے ہیں تو اس کا کوئی مطلب سوائے اس کے نہیں ہوسکتا کہ آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے جس نے آپ کو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–51
درس نمبر 177 تشریح آیات
44 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 75
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ابھی گزرا اور سابقہ سبق میں اس کی مفصل تشریح کی گئی۔ اس سبق میں اس قصے پر تبصرے کیے گئے ہیں اور نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ ان نتائج کے بعد پھر سورت کا مضمون اپنے اصلی موضوع کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ اصل موضوع یہ ہے کہ امن و خوف کا مالک اللہ ہے۔ امن دینے والا بھی وہ ہے اور خوف میں مبتلا کرنے والا بھی وہ ہے۔ اس کے بعد روئے سخن مشرکین مکہ کی طرف پھرجاتا ہے جو شرک پر جمے ہوئے تھے۔ اسلام کا انکار کرتے تھے اور اس کے خلاف طرح طرح کے عذرات پیش کرتے تھے۔ مشرکین کو اس پوری کائنات کے اندر موجود شواہد بتائے جاتے ہیں۔ پھر ان کو ارانے کیلئے…
Read the full tafseer →2 یعنی کوہ طور کے غرب کی جانب جہاں موسیٰ کو نبوت اور تورات ملی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
آیت 44 وَمَا کُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَآ اِلٰی مُوْسَی الْاَمْرَ ”
اے نبی ﷺ ! طور کے دامن میں جب ہم موسیٰ علیہ السلام سے گفتگو کر رہے تھے اور انہیں منصب رسالت پر فائز کرکے فرعون کی طرف جانے کا حکم دے رہے تھے تو آپ ﷺ اس وقت وہاں پر موجود نہیں تھے۔
Read the full tafseer →57 یعنی آپ کا وہاں موجود نہ ہونا پھر ان حالات کو یوں بیان کرنا جسے کوئی عینی شاہد بیان کرتا ہے۔ اس بات کی قوی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ ورنہ آپ کے پاس وحی الٰہی کے سوا ان واقعات کو جاننے کا اور کوئی ذریعہ نہیں۔
58 ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا وہی مطلب ہے جو اوپر بیان ہوا۔ اور اگر اس جملہ کو الگ واقعہ سمجھا جائے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ آپ ان ستر (70) آدمیوں سے بھی نہیں تھے جنہوں نے موسیٰ سے دیدار الٰہی کا مطالبہ کیا تھا۔ اور وہ واقعہ بھی آپ نے لوگوں کو ایسے بتلا دیا جیسے آپ ان میں موجود تھے۔
Read the full tafseer →59۔ جس چوٹی کا نام طور ہے وہ کوہستان سینا کی جانب مغرب میں واقع ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر نزول وحی و کتاب کے وقت اے رسول آپ وہاں موجود نہ تھے۔
60۔ یعنی یہ امور آپ کو مشاہدہ سے تو معلوم ہی نہیں ہوسکتے تھے۔ ہماری وحی ہی سے معلوم ہورہے ہیں۔ نہ آپ کو جسما وہاں حضوری حاصل۔ نہ یہ چیزیں آپ کے مشاہدہ میں آئیں۔ پھر آپ جو انہیں اتنا صاف و صحیح بتا رہے ہیں تو بجز وحی کے اور کیا ذریعہ ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
آیت نمبر 43 تا 50
ترجمہ : اور ہم نے پہلی امتوں (مثلاً ) قوم نوح و عاد وثمود وغیرہ کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی جو لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت تھی گمراہی سے اس شخص کے لئے جو اس پر عمل کرے اور رحمت تھی اس کے لئے جو اس پر ایمان لائے تاکہ نصیحت حاصل کریں ان نصیحتوں سے جو اس میں ہیں بصَائر للناسً ، الکتاب سے حال ہے اور بَصَائر بصِیٌرَۃ کی جمع ہے اور بصیرت نور قلبی کو کہتے ہیں اور بصائر کا مطلب ہے انوار القلوب اور اے محمد تم مناجات کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی مغربی پہاڑ کی جانب یا غربی وادی کی جانب یا غربی مکان کی جانب موجود نہیں تھے جب ہم نے فرعون اور اس کی…
Read the full tafseer →وماکنت بجانب الغربی اذقضینا الی موسیٰ الامر وما کنت من الشھدین . اور آپ (طور
کے) مغربی جانب موجود نہ تھے جب کہ ہم نے موسیٰ کو احکام دئیے تھے اور نہ آپ ان لوگوں میں تھے جو (اس زمانہ میں) موجود تھے۔
بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ یعنی موسیٰ کی جگہ سے ‘ غربی جانب۔ مطلب یہ ہے کہ طور کے غربی جانب۔ قتادہ اور سدی نے کہا : کوہ غربی کی جانب۔ کلبی نے کہا : وادی غربی کی جانب۔ سب سے مراد یہ ہے کہ جانب مضاف موصوف اور اَلْغَرْبِی مضاف الیہ صفت نہیں ہے بلکہ اَلْغَرْبِی کا موصوف محذوف ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اس سے مراد وہ مقام ہے جہاں حضرت موسیٰ نے اللہ سے کلام کیا تھا۔ اور مَا کُنْتَ سے خطاب رسول اللہ کو ہے یعنی…
Read the full tafseer →(44) اور اے محمد ﷺ آپ اس وقت کوہ طور کے غربی جانب میں نہیں تھے جب کہ ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کے پاس آنے کا حکم دیا تھا اور آپ تو اس مقام پر موجود بھی نہیں تھے۔
Read the full tafseer →وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ۔۔ : ”بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ“ میں ”جَانِبٌ“ موصوف ہے جو اپنی صفت کی طرف مضاف ہے اور یہ کلام عرب میں عام ہے، جیسے ”مَسْجِدُ الْجَامِعِ ، دِیْنُ الْقَیِّمِ ، حَقُّ الْیَقِیْنِ“ اور ”دَارُ الْآخِرَۃِ۔“ بعض نحوی حضرات جو موصوف کو صفت کی طرف مضاف کرنا جائز نہیں سمجھتے، وہ ان سب مقامات میں کوئی نہ کوئی لفظ محذوف مانتے ہیں، مثلاً ”بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ“ کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ یہ اصل میں ”بِجَانِبِ الْمَکَانِ الْغَرْبِيِّ“ ہے۔ مگر اس تکلف کی ضرورت نہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ مغربی جانب سے کس مقام کی مغربی جانب مراد ہے ؟ کیونکہ ہر جگہ ہی کسی نہ کسی لحاظ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
وما کنت اے محمد ! ﷺ آپ نہیں بجانب الغربی پہاڑ کی مغربی جانب : شاعر نے کہا :
اعطاک من اعطی الھدی النبینا نورا یزین المبر الغربیا
جس نے سراپا ہدایت نبی عطا کیا اس نے تجھے ایسا نور عطا کیا جو منبر کی مغربی جانب کو مزین کرتا ہے۔
اذ قضینآ ابی موسیٰ الامر جب ہم نے اسے اپنے امر اور نہی کا مکلف بنایا اور اپنا عہد اس پر لازم کیا ایک قول یہ کیا گیا ہے، جب ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف آپ کا امر پہنچایا اور ہم نے تیرا ذکر اچھے انداز میں کیا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اذ قضینآ کا معنی ہے یعنی ہم نے خبر دی کہ حضرت محمد ﷺ کی امت بہترین امت ہے وما کنت من الشھدین تو حاضرین میں سے نہ تھا۔
ولکنا انثانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما کنت بجانب الغربی سے مراد ہے پہاڑ کے غربی جانب۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما کنت ثاویا سے مراد ہے مقیم۔
Read the full tafseer →[وَمَا كُنْتَ [اور آپ ﷺ نہیں تھے ] بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ [مغربی (حصے) کی جانب ] اِذْ قَضَيْنَآ [جب ہم نے فیصلہ کیا ] اِلٰى مُوْسَى [موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ] الْاَمْرَ [اس حکم کا ] وَمَا كُنْتَ [اور آپ ﷺ نہیں تھے ] مِنَ الشّٰهِدِيْنَ [موقعہ پر موجود ہونے والوں میں سے ]
نوٹ۔ 2: آیات 44 تا 46 ۔ میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی نبوت کی دلیل دیتا ہے کہ ایک وہ شخص جس نے ایک حرف بھی نہ پڑھا ہو ، جو اگلی کتابوں سے نہ آشنا ہو ، جس کی قوم علمی مشاغل سے اور گذشتہ تاریخ سے بالکل بیخبر ہو ، وہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ بالکل ٹھیک گذشتہ واقعات کو اس طرح بیان کرے جیسے کہ اس کے اپنے چشم دید ہوں ، کیا یہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
پنجم : یوں فرمایا (قُلْ فَاْتُوْا بِکِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ ھُوَ اَھْدٰی مِنْھُمَآ (الآیۃ) (آپ فرما دیجیے کہ تم اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان کتابوں یعنی قرآن اور توراۃ سے بڑھ کر ہدایت دینے والی ہو میں اس کا اتباع کرلوں گا اگر تم اپنی بات میں سچے ہو) مطلب یہ ہے کہ تم نہ توراۃ کو مانتے ہو نہ قرآن کو مانتے ہو۔ چلو تم اور کوئی کتاب لے آؤجو اللہ کی طرف سے ہو اگر تم بالفرض اسے اللہ کی کتاب ثابت کر دو تو میں اس کی پیروی کرلوں گا۔ اگر تم ایسا نہیں کرسکتے تو میری دلائی ہوئی کتاب کو مانو میں نے اس کا حق ہونا ثابت کردیا ہے اور اس میں توریت شریف کی بھی تصدیق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
خاتمہء قصہء مذکورہ برا عطا کتاب ہدایت برائے بصیرت وعبرت
و اثبات رسالت محمد یہ مع جوابات از شبہات واھیہ
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتب۔۔۔ الی۔۔۔۔ من قبلک لعلہم یتذکرون۔
(ربط) یہاں تک موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ختم ہوا۔ اب اخیر میں قوم کی ہدایت کے لئے نزول تورات کا ذکر فرمایا جو اصل مقصود تھا اب آئندہ آیات میں اثبات رسالت محمدیہ کا مضمون ذکر فرماتے ہیں اور اس کے ضمن میں بعض شبہات کا جواب بھی دیتے ہیں جو محض عناد پر مبنی تھے اور یہ بتلاتے ہیں کہ جس طرح توریت کتاب ہدایت و رحمت تھی اسی طرح یہ قرآن بھی کتاب ہدایت و رحمت ہے اور آپ کی نبوت و رسالت کی دلیل اور حجت ہے جو لوگوں کی…
Read the full tafseer →41:۔ یہاں سے لعلھم یتذکرون تک آنحضرت ﷺ کی صداقت کا بیان ہے حاصل یہ ہے کہ آپ گذشتہ زمانے کے احوال ظاہری اسباب علم کے بغیر صحیح صحیح بیان فرما رہے ہیں یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے وحی کے ذریعہ سے یہ ساری باتیں آپ کو بتائی ہیں۔ ان الوقوف علی ما فصل من الاحوال لایتسنی الا بالمشاھدۃ او التعلم ممن شاھدھا وحیث انتفی کلاھما تبین انہ بوح من علام الغیون لا محالۃ (ابو لسعود ج 6 ص 60) ۔ یعنی جب ہم نے کوہ طور کی غربی جانب موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اس وقت آپ وہاں موجود نہ تھے، اسی طرح جب موسیٰ (علیہ السلام) میقات خداوندی کے لیے ستر آدمی منتخب کر کے طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
ربط آیات
گزشتہ رکوعات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بچپن سے لے کر کچھ حالات بیان کیے ہیں اور ان پر آنے والے مشکلات کا ذکر کیا ہے ، ایک قبطی کے قتل کے بعد آپ مدین تشریف لے گئے ، دس سال کے بعد واپس آ رہے تھے کہ راستے میں کوہ طور پر اللہ نے آپ کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور عصا اور ید بیضا جیسی عظیم نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے حواریوں کے پاس تبلیغ کے لیے بھیجا ۔ وہ سب مغرور لوگ تھے ، نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے جس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوا کہ اللہ نے ان سب سرکشوں کو بحر قلزم کی موجوں میں غرق کردیا ۔ فرمایا یہ لوگ کفر ، شرک اور ظلم و زیادتی کے پیشوا تھے ، دیکھو ان کا کیسا…
Read the full tafseer →وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ اِذْ قَضَيْنَآ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَمَا كُنْتَ مِنَ الشّٰہِدِيْنَ 44ۙ
جنب
أصل الجَنْب : الجارحة، وجمعه : جُنُوب، قال اللہ عزّ وجل : فَتُكْوى بِها جِباهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ [ التوبة/ 35] ، وقال تعالی: تَتَجافی جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضاجِعِ [ السجدة/ 16] ، وقال عزّ وجلّ : قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 191] . ثم يستعار من الناحية التي تليها کعادتهم في استعارة سائر الجوارح لذلک، نحو : الیمین والشمال،
( ج ن ب ) الجنب
اصل میں اس کے معنی پہلو کے ہیں اس کی جمع جنوب ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 191] جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
وَ یْومَ الْقِیٰمَۃِ ھم من المقبوحین تک فرعون اور موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ تھا۔ اس کو تمام کرکے ولقد آتینا موسیٰ الکتب الخ سے اس قصہ کے نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب پہلی قرن یعنی زمانے والے ہلاک ہوچکے تو خلق کی رہنمائی کے لیے ہم نے موسیٰ کو مبعوث کیا۔ اس کو یہ یہ باتیں پیش آئیں، جنگل میں کلام کیا۔ معجزات دیے اور کتاب یعنی تورات عطا کی جو بصارت اور ہدایت اور رحمت تھی۔ سمجھداروں کے لیے اس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد جب گمراہی کا ایک زمانہ دراز گزر گیا۔ خلق کی ہدایت کے لیے اے محمد ﷺ تجھ کو مبعوث کیا اور تجھ پر قرآن نازل کیا جس میں گزشتہ انبیاء کے صحیح صحیح واقعات تجھ پر ظاہر کئے ورنہ…
Read the full tafseer →وَمَا کُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْقَضَیْنَـآ اِلٰی مُوْسَی الْاَمْرَ وَمَا کُنْتَ مِنَ الشّٰھِدِیْنَ ۔
(القصص : 44)
(اور اے پیغمبر ! آپ اس وقت پہاڑ کے مغربی گوشے میں موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کو یہ فرمانِ شریعت عطا کیا اور نہ آپ ان لوگوں میں تھے جو وہاں موجود تھے۔ )
یہاں سے خاتمہ سورة کی آیات شروع ہورہی ہیں۔ یہ پہلی تین آیتیں آنحضرت ﷺ کی طرف التفات کی نوعیت کی ہیں جن میں آپ ﷺ کی نبوت کے ایسے دلائل دیئے گئے ہیں جو نہایت سادہ لیکن فطرت کے دروازے پر دستک دینے والے ہیں۔ یہ چونکہ مکی سورة ہے اس لیے اس میں براہ راست کلام کا رخ قریش کی طرف ہے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ یہود کو بھی سنایا جارہا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور اس کے لاؤ لشکر غرق کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تختیوں کی شکل میں توراتعطا کی گئی۔
رب ذوالجلال نے فرعون اور اس کے لشکر کو بحر قلزم میں ڈبکیاں دے دے کر غرق کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو باسلامت بحر قلزم عبور کروایا اور پوری دنیا میں ان کی عزت کو دوبالا فرمایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر وادی طی میں پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ یہاں کئی اہم واقعات بھی رونما ہوئے۔ جن میں سب سے بڑا اور اہم واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عنایت فرمائی جس میں بنی اسرائیل کے لیے…
Read the full tafseer →44: وَمَا کُنْتَ (اور نہیں تھے آپ) اے محمد ﷺ ۔ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ (پہاڑ کی مغربی جانب) ۔ اس سے مراد وہ جگہ ہے جو مغربی جانب واقع تھی اور وہ وہی جگہ ہے جہاں موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ وقت مقرر کیا گیا۔ اِذْ قَضَیْنَا اِلٰی مُوْسَی الْاَمْرَ (جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام دیئے) یعنی اس سے کلام کی جیسا کہ دوسری آیت میں ہے وقربناہ نجیّا۔ ] سورة مریم آیت نمبر 52[
وَمَا کُنْتَ مِنَ الشّٰہِدِیْنَ (اور نہ آپ ان لوگوں میں تھے جو موجود تھے) وحی کے لئے تاکہ آپ بطور مشاہدہ کے موسیٰ (علیہ السلام) کے اس معاملے کو جو اس موقعہ پر پیش آیا۔ مشاہدہ کرنے والوں میں سے ہوتے۔
Read the full tafseer →44۔ وماکنت، اے محمد، ، بجانب الغربی، مغرب کی جانب پہاڑ، یہی قتادہ اور سدی کا قول ہے۔ کلبی کا بیان ہے غرب کی جانب وادی میں ، ابن عباس کا بیان ہے کہ اس سے مراد موسیٰ کا اپنے رب سے مناجات کرنا ہے، اذقضیناالی موسیٰ الامر، یعنی ہم نے ان کی طرف عہد کیا اور ہم نے انکوفرعون کی طرف رسالت کا پیغام دے کر بھیجا اور اس کی قوم کی طرف۔ وماکنت من الشاھدین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
41 تا 46۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا دنیوی انجام اوپر ذکر فرما کر اب ان کا عقبیٰ کے انجام کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے دن ان لوگوں کے پیشوا ہوں گے جو ان کے بہکانے کے سبب سے گمراہ ہو کر دوزخ میں اس طرح جھونکے جاویں گے کہ بہکانے والوں کا بہکنے خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بہکانے کا دوسرا عذاب ہوگا تو ان کے پیرو کچھ ان کی مدد نہ کرسکیں گے اس دو ہرے عذاب کا ذکر سورة النمل میں گزر چکا ہے اور اسی ذکر میں صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث بھی گذر چکی ہے یہی قیامت کے دو ہرے عذاب کا ذکر وَیَوْمَ الْقِیَامَۃ ھم الَمْقُبوحْیِن کی گویا تفسیر ہے پھر فرمایا ” پیچھے رکھی ہم نے ان کے دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–54
شعراء کی دو اقسام
قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…
Read the full tafseer →54 پیغمبر ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں ہوتے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ ۔ اے پیغمبر ! ۔ اس وقت طور کی مغربی جانب موجود نہ تھے جبکہ ہم نے موسیٰ کی طرف اپنا فرمان بھیجا۔ اور نہ ہی آپ سرے سے ان لوگوں میں ہی شامل تھے جو اس زمانے میں موجود تھے "۔ کہ اس بنا پر آپ وہاں کے اور ان لوگوں کے حالات دیکھ کر اس طرح بیان کرتے۔ کچھ نہیں بلکہ یہ سب کچھ آپ (علیہ السلام) کو آپ (علیہ السلام) کے رب نے وحی کے ذریعے بتایا جو آپ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کی واضح وصریح دلیل اور آپ کی حقانیت کا کھلاثبوت ہے۔ (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو بغیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–46
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
آیات 43 تا 50
اسرار ومعارف
اور جب پہلی امتیں اپنی گمراہی کے سبب ہلاک ہوگئیں تو ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرما کر مبعوث فرمایا جس میں بصائیر یعنی عقل سلیم کی رہنمائی کرنے والی باتیں اور صحیح رہنمائی اور اللہ کی رحمت تھی کہ حق بات عقل سلیم کو اپیل کرتی ہے پھر بندہ ایمان قبول کرتا ہے تو یہ ہدایت ہوگی اور پھر اعمال صالح نصیب ہوتے ہیں جو رحمت ہیں اور یہ اہتمام اس لیے فرمایا کہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور جب یہ سب ہورہا تھا یا موسیٰ (علیہ السلام) سے بات ہو رہی تھی تو انہیں کتاب عطا ہوئی تو آپ طور پر تشریف نہ رکھتے تھے کہ آپ نے وہ واقعہ دیکھا ہو پھر بر شمار لوگ گزرے اور زمانے بیت گئے یہ باتیں لوگوں کے…
Read the full tafseer →6 ۔ اب یہاں سے قرآن کی حقانیت پر دلیل قائم کی جا رہی ہے یعنی آپ ﷺ اس وقت موجود نہ تھے کہ اس کا خود مشاہدہ کرتے اور پھر اپنی طرف سے بیان کرتے تو ظاہر ہے کہ یہ ساری معلومات آپ ﷺ پر وحی کے ذریعہ نازل کی گئی ہیں اور آپ ﷺ انہیں بتا رہے ہیں۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(28:44) وما کنت ۔۔ یہاں قرآن مجید کے من جانب اللہ وحی ہونے کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ ولسم کے من جانب اللہ رسول ہونے کے دلائل دئیے جا رہے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے یہ جو آپ نے اپنے مخاطبین کو حضرت موسیٰ کے ساتھ بیتے ہوئے واقعات جن کو وقوع پذیر ہوئے مدت مدیر و عرصہ بعید گزر چکا ہے بیان کئے ہیں کہ اس امر کی دلیل نہیں ہیں کہ آپ کے پاس ان کے علم کا ذریعہ بجز وحی کے اور کوئی نہیں ہے اور آپ پر وحی کا نازل ہونا اس امر کی قطعی دلیل ہے کہ آپ فرستادہ رب جلیل ہیں۔ یہاں تین باتیں بطور دلیل پیش کی گئی ہیں
(1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام دئیے گئے آپ نہ وہاں موجود تھے اور نہ ہی شاہدین میں سے تھے۔
(2)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–50
لغات القرآن : آیت نمبر 43 تا 50 :
القرون الاولی (گذری ہوئی جماعتیں۔ زمانہ) بصائر (آنکھیں کھولنے والی باتیں) ‘ الشھدین ( دیکھنے والے) انشا نا ( ہم نے اٹھایا۔ ہم نے پیدا کیا) تطاول (طویل ہوگئی) العمر (مدت) ثاوی (رہنے والے) قدمت ایدی (آگے بھیجا۔ دونوں ہاتھوں کے آگے) ‘ سحران ( دو جادو) ‘ تظھرا (ایک دوسرے کے موافق) ‘ اھدی (زیادہ ہدایت) ‘ لم یستجیبوا (جواب نہ دیا) ‘ اھواء (ھوائ) خواہشیں۔ تمنائیں) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 43 تا 50 :
سورۃ القصص کی گذشتہ آیات اور قرآن کی متعدد سورتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو کسی جگہ تفصیل سے اور کہیں مختصر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
(ف 1) فرعون اور حضرت موسیٰ کا قصہ تھا اس کو تمام کرکے اس قصہ کے نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب پہلے قرن یعنی زمانے والے ہلاک ہوچکے تو خلق کی راہنمائی کے لیے ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث کیا، اس کو یہ یہ باتیں پیش آئیں۔ جنگل میں کلام کیا۔ معجزات دیے اور، کتاب تورات عطا کی، جو بصارت اور ہدایت اور رحمت تھی سمجھداروں کے لیے۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب گمراہی کا ایک زمانہ دراز گزر گیا تو خلق کی ہدایت کے لیے اے محبوب ﷺ تم کو بھیجا اور تم پر قرآن نازل کیا جس میں گزشتہ رسولوں کے واقعات تم پر ظاہر کیے حالانکہ اے محبوب اس زمانہ میں تم موجود نہیں تھے اپنے رب کی رحمت سے رسول بنائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
[21] اور یہ آپ کے پیغمبر ہونے کی دلیل ہے کیونکہ یہ واقعات آپ کے مشاہدے میں نہیں آئے۔ پھر آپ جو انھیں اتنا صاف و صحیح بتا رہے ہیں تو ان کے جاننے کا ذریعہ بجزوحی کے اور کیا ہے ؟ اگر کوئی اور ذریعہ ہوتا تو
کفار مکہ جو آپ کو جھوٹا نبی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں ضرور اس کی نشاندہی کرتے۔
[22] مراد مشرکین عرب ہیں جن کے پاس پشتہا پشت سے کوئی نبی نہیں آیا تھا گرچہ توحید کی تعلیم ان کو بالواسطہ پہنچ چکی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
حل لغات :۔ قرونا ۔ زمانے کی جمع ہے ۔ مراد اہل زمانہ سے ہے ۔ قومیں ۔ امتیں
Read the full tafseer →44۔ آگے نبی کریم ﷺ کی نبوت کے دلائل کا ذکر ہے اور اے پیغمبر آپ طور کی مغربی جانب میں اس وقت موجود نہیں تھے جس وقت ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو احکام دیئے تھے اور نہ آپ ان لوگوں میں سے تھے جو وہاں موجود تھے۔ یعنی نہ تو آپ اس وقت موجود تھے جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تھی ، شاید میقات کی طرف اشارہ ہوگا جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حسب وعدہ بلا کر توریت عطافرمائی تھی ۔ ظاہر ہے کہ اس وقت نبی کریم ﷺ وہاں موجود نہ تھے اور جو لوگ موجود اور شاہدین تھے ان میں بھی آپ شریک نہ تھے اور باوجود عدم موجودگی کے پھر تمام حالات تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ کی وحی کے بغیر بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
ف 5۔ جس سے پھر علوم صحیحہ نایاب ہوگئے، اور لوگ پھر محتاج ہدایت ہوئے، اور گو درمیان انبیاء (علیہم السلام) آیا کئے مگر ان کے علوم بھی اسی طرح نایاب ہوئے، اس لئے ہماری رحمت مقتضی ہوئی کہ ہم نے آپ کو وحی و رسالت سے مشرف فرمایا۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ اس وقت پاس نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کو فرمان شریعت دیا تھا :
44۔ اب نبی اعظم وآخر ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ جو اتنا صحیح ‘ صاف اور واضح واقع موسیٰ (علیہ السلام) کا بیان کر رہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ ﷺ اس وقت جب ہم موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور کی مغربی جانب سے یہ کتاب دے رہے تھے آپ کہیں موجود تھے نہیں نہیں بلکہ یہ باتیں آپ ان لوگوں کو اس لئے بتا رہے ہیں کہ ہم نے آپ ﷺ کی طرف وحی کی ہے (آیت) ” وما کنت من الشھدین “۔ کے الفاظ سے ہمارے ان بھائیوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو نبی اعظم وآخر ﷺ کے ہر جگہ حاضر وناظر کا گمراہ کن عقیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّا أَتَاهُم مِّن نَّذِيرٍ ( so that you warn a people to whom no warner has come before - 28:46). The expression ` a people' is purported here for the Arabs, who are the progeny of Sayyidna Ismail (علیہ السلام) . No prophet was sent to this ` people' after Sayyidna Ismail علیہ السلام until the Holy Prophet ﷺ was sent. The same subject will follow in Surah Yasin. But this verse is not in conflict with the other verse إِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (There is no community, but there has come a warner among them - 35:24). What the present verse means here is…
Read the full tafseer →60 "Western side": Mount Sinai, which lies to the west of the Hijaz and on which the Prophet Moses was given the Divine Law.
61 "The witnesses": the seventy of the elders of Israel who had been summoned along with Moses for the covenant to follow the Law. (For reference, see AI-A'raf: 155 and Exod., ch. 24)
Read the full tafseer →