Al-Qasas 28:43

Al-Qasas · from ayah 43

28:43

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْكِتٰبَ مِنْ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰی بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ وَهُدًی وَّرَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ ۟وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَ

اور ہم نے پہلی اُمتوں کے ہلاک کرنے کے بعد موسٰی کو کتاب دی جو لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت اور رحمت ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We gave Moses the Scripture, after We had destroyed the former generations, as enlightenment for the people and guidance and mercy that they might be reminded.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 5 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qasas

All translations of 28:43

پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بنا کر، تاکہ شاید لوگ سبق حاصل کریں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے پہلی اُمتوں کے ہلاک کرنے کے بعد موسٰی کو کتاب دی جو لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت اور رحمت ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان اگلے زمانہ والوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ ؑ کو ایسی کتاب عنایت فرمائی جو لوگوں کے لیے دلیل اور ہدایت ورحمت ہوکر آئی تھی تاکہ وه نصیحت حاصل کرلیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے پچھلی امتوں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو ایسی کتاب دی تھی جو لوگوں کے لیے بصیرت کی باتوں پر مشتمل اور سراپا ہدایت و رحمت تھی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی بعد اس کے کہ اگلی سنگتیں (قومیں) ہلاک فرمادیں جس میں لوگوں کے دل کی آنکھیں کھولنے والی باتیں اور ہدایت اور رحمت تاکہ وہ نصیحت مانیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے اس (صورتِ حال) کے بعد کہ ہم پہلی (نافرمان) قوموں کو ہلاک کر چکے تھے موسٰی ؑ کو کتاب عطا کی جو لوگوں کے لئے (خزانۂ) بصیرت اور ہدایت و رحمت تھی، تاکہ وہ نصیحت قبول کریں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، اس کے بعد کہ ہم نے پہلی نسلوں کو ہلاک کردیا، جو لوگوں کے لیے دلائل اور ہدایت اور رحمت تھی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پہلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ کو کتاب دی۔ جس میں لوگوں کے لئے بصیرت افروز دلائل، ہدایت اور حمت تھی تاکہ وہ سبق حاصل کریں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اگلی امتوں کو ہلاک کرنے کے بعدموسیٰ کو کتاب عطا کی لوگوں کے لئے بصیرتیں بخشنے والی اور ہدایت و رحمت بنا کر تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو بھی وہ کتاب دی تھی اس کے بعد کہ ہم نے ہلاک و برباد کردیا تھا پہلی قوموں کو بصیرتوں کے سامان کے طور پر لوگوں کے لیے اور ہدایت دینے کے لئے اور رحمت کا ذریعہ بنا کر تاکہ وہ لوگ نصیحت حاصل کریں

— مولانا اسحاق مدنی

اور بالیقین ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب دی تھی اگلی امتوں کے ہلاک کئے پیچھے جو لوگوں کے لئے ذریعہ تھی دانش مندیوں اور ہدایت اور رحمت کی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب عطا فرمائی اس کے بعد کہ ہم نے پہلی جماعتوں کو ہلاک کردیا تھا (یہ کتاب) لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے تھی اور ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے پہلی امتوں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب دی جو لوگوں کے لیے بصیرت ‘ ہدایت اور رحمت ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

After We had destroyed the earlier generations We bestowed the Book on Moses - a source of enlightenment for people and a guidance and mercy -- that they may take heed.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We gave Musa, after We destroyed the earlier generations, the Book having insights for people and a guidance and mercy, so that they may receive the advice.

— Muhammad Taqi Usmani

And We gave Musa, after We destroyed the earlier generations, the Book having insights for people and a guidance and mercy, so that they may receive the advice.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We gave Musa -- after We had destroyed the generations of old -- the Scripture as an enlightenment for mankind, and a guidance and a mercy, that they might remember.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We verily gave the Scripture unto Moses after We had destroyed the generations of old: clear testimonies for mankind, and a guidance and a mercy, that haply they might reflect.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We gave Moses the Scripture, after We had destroyed the former generations, as enlightenment for the people and guidance and mercy that they might be reminded.

— Saheeh International

After destroying the people of the ancient towns We gave the Book to Moses to be a source of knowledge, a guidance, and mercy for mankind so that perhaps they would take heed.

— Muhammad Sarwar

And certainly We gave Musa the Book after We had destroyed the former generations, clear arguments for men and a guidance and a mercy, that they may be mindful.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We vouchsafed the the Scripture unto Musa after We had destroyed the generations of old: enlightenment unto mankind and a guidance and a mercy, that haply they might be admonished.

— Abdul Majid Daryabadi

We did reveal to Moses the Book after We had destroyed the earlier generations, (to give) Insight to men, and guidance and Mercy, that they might receive admonition.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 28:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اس آیت میں ایک لطیف بات یہ ہے کہ فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد والی امتیں اس طرح عذاب آسمانی سے ہلاک نہیں ہوئیں بلکہ جس امت نے سرکشی کی اس کی سرکشی کا بدلہ اسی زمانے کے نیک لوگوں کے ہاتھوں اللہ نے اسے دلوایا۔ مومنین مشرکین سے جہاد کرتے رہے جیسے فرمان باری ہے آیت (وَجَاۗءَ فِرْعَوْنُ وَمَنْ قَبْلَهٗ وَالْمُؤْتَفِكٰتُ بالْخَاطِئَةِ ۚ) 69۔ الحاقة :9) یعنی فرعون اور جو امتیں اس سے پہلے ہوئیں اور الٹی ہوئی بستی کے رہنے والے یعنی قوم لوط یہ سب لوگ بڑے بڑے قصوروں کے مرتکب ہوئے اور اپنے زمانے کے رسولوں کی نافرمانیوں پر کمر کس لی تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو بھی بڑی سخت پکڑ سے پکڑ لیا۔ اس گروہ کی ہلاکت کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة القصص 59 یعنی پچھلی نسلیں جب انبیائے سابقین کی تعلیمات سے روگردانی کا برا نتیجہ بھگت چکیں اور ان کا آخری انجام وہ کچھ ہوچکا جو فرعون اور اس کے لشکروں نے دیکھا، تو اس کے بعد موسیٰ ؑ کو کتاب عطا کی گئی تاکہ انسانیت کا ایک نیا دور شروع ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 43–45

خلاصہ تفسیر اور (رسالت کا سلسلہ خلق کے محتاج اصلاح ہونے کے سبب ہمیشہ سے چلا آیا ہے چنانچہ) ہم نے موسیٰ ؑ کو (جن کا قصہ ابھی پڑھ چکے ہو) اگلی امتوں (یعنی قوم نوح و عاد وثمود) کے ہلاک ہونے کے پیچھے (جبکہ ان زبانوں کے انبیاء کی تعلیمات نایاب ہوگئی تھیں اور لوگ ہدایت کے سخت حاجتمند تھے) کتاب (یعنی تورات) دی تھی جو لوگوں کے (یعنی بنی اسرائیل کے) لئے دانشمندیوں کا سبب اور ہدایت اور رحمت تھی تاکہ وہ (اس سے) نصیحت حاصل کریں (طالب حق کی اول فہم درست ہوتی ہے یہ بصیرت ہے پھر احکام قبول کرتا ہے یہ ہدایت ہے، پھر ہدایت کا ثمرہ یعنی قرب و قبول عنایت ہوتا ہے۔ یہ رحمت ہے) اور (اسی طرح جب یہ دورہ بھی ختم ہوچکا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مظلوموں پر انعام ظالموں کا انجام واضح کرنے کے بعد یہ اس فضل و انعام کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے مظلوموں پر فرمایا ہے۔ اور جس کی طرف اس سرگزشت کی تمہید ”ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا …الآیۃ کے الفاظ سے اشارہ گزر چکا ہے فرمایا کہ ہم نے پچھلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب عطا کی۔ اس کتاب کی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ لوگوں کے لئے بصیرت، ہدایت اور رحمت تھی۔ بصیرت، یعنی دل و دماغ کی صلاحیتیں اور تعقل و تفکر کی قوتیں پیدا کرنے والی اس کو بصورت جمع لانے سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ وہ ایسی آیات اور ایسے دلائل پر مشتمل تھی جو آنکھیں کھول دینے والی تھیں۔ ھدی و رحمۃ کی وضاحت ہم کرچکے ہیں کہ یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

43-1یعنی فرعون اور اس کی قوم یا نوح و عاد وثمود وغیرہ قوم کی ہلاکت کے بعد موسیٰ ؑ کو کتاب (تورات) دی۔ 43-2جس سے وہ حق کو پہچان لیں اور اسے اختیار کریں اور اللہ کی رحمت کے مستحق قرار پائیں۔ 43-3یعنی اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اللہ پر ایمان لائیں اور اس کے پیغمبروں کی اطاعت کریں جو انھیں خیر و رشد اور فلاح حقیقی کی طرف بلاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولقد اتینا موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لعلھم یتذکرون (43) ۔ یہ ہے حضرت موسیٰ کا انجام۔ یہ ایک بہترین انجام ہے ، کس قدر باعزت انجام و مقام ہے یہ۔ جہاں تک وہ پہنچے ، ان کو کتاب دی گئی جو لوگوں کے لئے اس طرح ذریعہ ہدایت تھی جس طرح انسانوں کے لیے آنکھیں ذریعہ ہدایت ہوتی ہیں۔ ہدایت ہے اور رحمت ہے۔ اور اس لیے ہے کہ بنی اسرائیل سبق سیکھیں۔ دیکھیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے نشیب و فراز میں دست قدرت نے کس طرح بار بار مداخلت کی۔ کس طرح اللہ نے کمزوروں کی حمایت کی اور جباروں کو ہلاک کیا۔ اور مظلومین کو بالاخر برتری حاصل ہوئی۔ قصہ موسیٰ و فرعون اس سورت میں یوں بیان ہوا۔ اس سے یہاں یہ ہدایت دی گئی کہ امن و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 نزول تورات کے بعد دنیا میں ایسے غارت کے عذاب کم آئے۔ بجائے اہلاک سماوی کے جہاد کا طریقہ مشروع کردیا گیا۔ کیونکہ کچھ لوگ احکام شریعت پر قائم رہا کیے۔ 1 یعنی تورات جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی تھی۔ بڑی فہم و بصیرت عطا کرنے والی، لوگوں کو راہ ہدایت پر چلانے والی، اور مستحق رحمت بنانے والی کتاب تھی تاکہ لوگ اسے پڑھ کر اللہ کو یاد رکھیں۔ احکام الٰہی سیکھیں اور پندو نصیحت حاصل کریں، سچ تو یہ ہے کہ قرآن کریم کے بعد ہدایت میں تورات شریف ہی کا درجہ ہے اور آج جب کہ اس کے پیرؤں نے اسے ضائع کردیا، قرآن ہی اس کے ضروری علوم و ہدایات کی حفاظت کر رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 43–44

آیت 44 وَمَا کُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَآ اِلٰی مُوْسَی الْاَمْرَ ” اے نبی ﷺ ! طور کے دامن میں جب ہم موسیٰ علیہ السلام سے گفتگو کر رہے تھے اور انہیں منصب رسالت پر فائز کرکے فرعون کی طرف جانے کا حکم دے رہے تھے تو آپ ﷺ اس وقت وہاں پر موجود نہیں تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

56 پہلی نسلوں سے مراد اقوام سابقہ ہیں۔ مثلاً قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط، قوم شعیب اور قوم فرعون وغیرہ۔ یہ سب لوگ اللہ کے نافرمان اور سرکش لوگ تھے ان سب اقوام نے دنیا کی تکذیب کا نتیجہ بھگت لیا اور فرعون اور ان کے ساتھیوں کا جو انجام ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو تورات عطا کی جس میں انہی تباہ شدہ اقوام سے متعلق بصیرت افروز دلائل بھی تھے اور آئندہ کے لئے بھی انسانیت کی ہدایت کے واضح ہدایات دی گئیں۔ اور یہ لوگوں پر اللہ کی خاص مہربانی تھی اور ان سب باتوں کا مقصد یہ تھا کہ انسانیت آئندہ صحیح راہ پر گامزن ہوجائے اور اس کا نیا دور شروع ہو۔ اس صحیح حدیث میں آیا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

58۔” دانشمندیوں اور ہدایت اور رحمت کا ذریعہ “ ہونا یہ سب صفت بیان ہوئی کتاب موسیٰ یعنی توریت کی (آیت) ” بصآئر۔ ھدی۔ رحمۃ “۔ طالب حق کی اول فہم درست ہوتی ہے۔ یہ بصیرت ہے۔ پھر احکام قبول کرتا ہے، یہ ہدایت ہے۔ پھر ہدایت کا ثمرہ یعنی قرب و قبول عنایت ہوتا ہے۔ یہ رحمت ہے “۔ (تھانوی (رح) (آیت) ” القرون الاولی “۔ اگلی امتوں سے مراد اگلے پیغمبروں کی نافرمان امتیں ہیں، قوم نوح۔ قوم لوط، قوم ہود، قوم صالح (علیہم السلام) وغیرہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–50

آیت نمبر 43 تا 50 ترجمہ : اور ہم نے پہلی امتوں (مثلاً ) قوم نوح و عاد وثمود وغیرہ کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات عطا کی تھی جو لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت تھی گمراہی سے اس شخص کے لئے جو اس پر عمل کرے اور رحمت تھی اس کے لئے جو اس پر ایمان لائے تاکہ نصیحت حاصل کریں ان نصیحتوں سے جو اس میں ہیں بصَائر للناسً ، الکتاب سے حال ہے اور بَصَائر بصِیٌرَۃ کی جمع ہے اور بصیرت نور قلبی کو کہتے ہیں اور بصائر کا مطلب ہے انوار القلوب اور اے محمد تم مناجات کے وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی مغربی پہاڑ کی جانب یا غربی وادی کی جانب یا غربی مکان کی جانب موجود نہیں تھے جب ہم نے فرعون اور اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد اتینا موسیٰ الکتب من بعد ما اھلکنا القرون الاولی بصائر للناس وھدی ورحمۃ لعلھم یتذکرون . اور ہم نے موسیٰ کو اگلی امتوں کو ہلاک کئے پیچھے کتاب (توریت) دی تھی جو (اسرائیلی) لوگوں کے لئے دانشمندیوں کا مجموعہ اور ہدایت و رحمت تھی تاکہ وہ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ اَلْقُرُوْنَ الْاُوْلٰی یعنی قوم نوح ‘ قوم ہود ‘ قوم صالح ‘ قوم لوط وغیرہ۔ بَصَاءِرَ بصائر ‘ بصیرت کی جمع ہے۔ بصیرت وہ نور ہے جو دلوں میں ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ سے دل اشیاء یعنی واجب اور ممکن کی حقائق کو بقدر طاقت بشری دیکھ لیتے ہیں ‘ حق و باطل کو پرکھ لیتے ہیں اور سیدھی ٹیڑھی راہ میں امتیاز کرلیتے ہیں۔ ھُدًی یعنی ایسی ہدایت جس سے راہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(43) اور ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو ان سے پہلے اور امتوں کی ہلاکت کے بعد توریت دی تھی جو بنی اسرائیل کے دانش مندیوں کا سبب اور گمراہی سے ہدایت اور ایمان لانے والوں کے لیے رحمت کا باعث تھی تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ایمان لائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَهْلَكْنَا۔۔ : یہاں سے رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے دلائل اور اس پر اعتراضات کا جواب شروع ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک اعتراض یہ تھا کہ ہم نے یہ بات پہلے آبا و اجداد میں نہیں سنی، جیسا کہ فرمایا : (مَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ ښ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا اخْتِلَاقٌ) [ ص : 7 ] ”ہم نے یہ بات آخری ملت میں نہیں سنی، یہ تو محض بنائی ہوئی بات ہے۔“ زیر تفسیر آیت سے پہلے آیت (36) میں گزرا ہے کہ یہی اعتراض فرعون اور اس کے سرداروں نے موسیٰ ؑ پر کیا تھا : (وَّمَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِيْٓ اٰبَاۗىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ) ”اور ہم نے یہ بات اپنے پہلے باپ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ولقد اتینا موسیٰ الکتب، الکتاب سے مراد تورات ہے، یہ قتادہ کا قول ہے۔ یحییٰ بن سلام نے کہا : وہ پہلی کتاب ہے یعنی تورات جس میں فرائض، حدود اور احکام نازل ہوئے، ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں کتاب سے مراد مثانی سبع میں سے چھ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا : یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، اسے مرفوع روایت کیا ہے من بعدما اھلکما القرن الاولی حضرت اب سعید خدری نے کہا : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اللہ تعالیٰ نے کسی قوم، فرن (زمانہ کے لے لوگ) امت اور اہل قریۃ کو آسمان کے عذاب سے ہلاک کیا اور نہ ہی زمین کے عذاب سے ہلاک کیا۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ البزار وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہلاک کیا نہیں کیا کسی قوم کو نہ کسی جماعت کو نہ کسی امت کو اور نہ کسی بستی والوں کو آسمان کے عذاب سے جب سے زمین پر تورات اتاری گئی سوائے اس بستی والوں کے جن کو بندوں کی صورت میں مسخ کردیا گیا۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کے قول کی طرف نہیں دیکھا آیت ولقد اٰتینا موسیٰ الکتب من بعد ما اہلکنا القرون الاولی، 2۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت بصائر للناس سے مراد ہے دلائل۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید ررحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ آیت البصائر سے مراد ہے ہدایت اور ان کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا [اور بیشک ہم دے چکے ہیں ] مُوْسَى [موسیٰ (علیہ السلام) کو ] الْكِتٰبَ [کتاب (یعنی تورات ] مِنْۢ بَعْدِ مَآ [اس کے بعد کہ جو ] اَهْلَكْنَا [ہم نے ہلاک کیا ] الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى [پہلی قوموں کو ] بَصَاۗىِٕرَ [سمجھ میں آنے والی دلیلیں ہوتے ہوئے ] لِلنَّاسِ [لوگوں کے لئے ] وَهُدًى [اور ہدایت ہوتے ہوئے ] وَّرَحْمَةً [اور رحمت ہوتے ہوئے ] لَّعَلَّهُمْ [شاید وہ لوگ ] يَتَذَكَّرُوْنَ [یاد دہانی حاصل کریں۔ ترکیب : (آیت۔ 43) ۔ بصائر۔ ھدی۔ رحمۃ۔ یہ سب حال ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہیں لیکن یہ القرون الاولی کی ہلاکت کا حال نہیں ہیں بلکہ الکتب یعنی تورات کا حال ہیں۔ (آیت۔ 44) ۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

توریت شریف سراپا بصیرت، ہدایت اور رحمت تھی ان آیات میں چند امور ذکر فرمائے ہیں۔ اول : یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لاتے تھے انہوں نے توحید کی دعوت دی تھی، حق پہنچایا، ایمان قبول کرنے پر بشارتیں دی، کفر پر جمے رہنے پر دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرایا، ان کی امتوں نے نہیں مانا ہم نے انہیں ہلاک کردیا جو اقوام و افراد باقی تھے ان کی نسلیں چلیں، پلے اور بڑھے حتیٰ کہ بنی اسرائیل میں موسیٰ (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیج دیا اس وقت بنی اسرائیل کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی ضرورت تھی اور فرعون کو اور اس کی قوم کو بھی، موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے ہم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 43–46

خاتمہء قصہء مذکورہ برا عطا کتاب ہدایت برائے بصیرت وعبرت و اثبات رسالت محمد یہ مع جوابات از شبہات واھیہ قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ الکتب۔۔۔ الی۔۔۔۔ من قبلک لعلہم یتذکرون۔ (ربط) یہاں تک موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ختم ہوا۔ اب اخیر میں قوم کی ہدایت کے لئے نزول تورات کا ذکر فرمایا جو اصل مقصود تھا اب آئندہ آیات میں اثبات رسالت محمدیہ کا مضمون ذکر فرماتے ہیں اور اس کے ضمن میں بعض شبہات کا جواب بھی دیتے ہیں جو محض عناد پر مبنی تھے اور یہ بتلاتے ہیں کہ جس طرح توریت کتاب ہدایت و رحمت تھی اسی طرح یہ قرآن بھی کتاب ہدایت و رحمت ہے اور آپ کی نبوت و رسالت کی دلیل اور حجت ہے جو لوگوں کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 41–43

40:۔ القرون الاولیٰ سے گذشتہ اقوام متمردہ مراد ہیں۔ ان اقوام کے پاس اللہ کے پیغمبر پیغام توحید لے کر آئے اور انہیں توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے دعوت توحید کو نہ مانا اور اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ان کو دنیا ہی میں عذاب سے ہلاک کردیا گیا۔ اب اسی دین کے احیا کی خاطر موسیٰ کو بھیجا اور اسے تورت دی جس کی ہر آیت میں نور بصیرت کا سامان تھا وہ سراپا ہدایت اور باعث رحمت تھی کیونکہ اس کی ہدایات پر عمل کرنے سے انسان اللہ کی رحمت کا مستحق ہوجاتا تھا۔ اس زمانے کی ضرورت کے مطابق تورات نازل کی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعوت توحید فرعون اور اس کی قوم کے سامنے پیش کی لیکن انہوں نے اس کا انکار کردیا تو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 43–46

ربط آیات گزشتہ رکوعات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بچپن سے لے کر کچھ حالات بیان کیے ہیں اور ان پر آنے والے مشکلات کا ذکر کیا ہے ، ایک قبطی کے قتل کے بعد آپ مدین تشریف لے گئے ، دس سال کے بعد واپس آ رہے تھے کہ راستے میں کوہ طور پر اللہ نے آپ کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور عصا اور ید بیضا جیسی عظیم نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے حواریوں کے پاس تبلیغ کے لیے بھیجا ۔ وہ سب مغرور لوگ تھے ، نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے جس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوا کہ اللہ نے ان سب سرکشوں کو بحر قلزم کی موجوں میں غرق کردیا ۔ فرمایا یہ لوگ کفر ، شرک اور ظلم و زیادتی کے پیشوا تھے ، دیکھو ان کا کیسا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَآ اَہْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَاۗىِٕرَ لِلنَّاسِ وَہُدًى وَّرَحْمَۃً لَّعَلَّہُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۝ 43 أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 39–44

وَ یْومَ الْقِیٰمَۃِ ھم من المقبوحین تک فرعون اور موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ تھا۔ اس کو تمام کرکے ولقد آتینا موسیٰ الکتب الخ سے اس قصہ کے نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب پہلی قرن یعنی زمانے والے ہلاک ہوچکے تو خلق کی رہنمائی کے لیے ہم نے موسیٰ کو مبعوث کیا۔ اس کو یہ یہ باتیں پیش آئیں، جنگل میں کلام کیا۔ معجزات دیے اور کتاب یعنی تورات عطا کی جو بصارت اور ہدایت اور رحمت تھی۔ سمجھداروں کے لیے اس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد جب گمراہی کا ایک زمانہ دراز گزر گیا۔ خلق کی ہدایت کے لیے اے محمد ﷺ تجھ کو مبعوث کیا اور تجھ پر قرآن نازل کیا جس میں گزشتہ انبیاء کے صحیح صحیح واقعات تجھ پر ظاہر کئے ورنہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ اٰتَـیْنَا مُوْسَی الْـکِتٰبَ مِنْ م بَعْدِ مَـآ اَھْلَـکْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰی بَصَآئِرَلِلنَّاسِ وَھُدًی وَّرَحْمَۃً لَّعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ (القصص : 43) (پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بنا کر اور ہدایت و رحمت بنا کر تاکہ وہ یاددہانی حاصل کریں۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی کتاب کی تین صفات گزشتہ آیات میں پروردگار نے ظالموں کا انجام واضح فرمایا ہے اور اب اپنے اسلوب کے مطابق اس فضل و انعام کا ذکر کیا جارہا ہے جس نے مظلوموں کی کایا پلٹ دی۔ اور اس سرگزشت کی تمہید میں اس کی طرف اشارہ بھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 43–44

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس کے لاؤ لشکر غرق کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تختیوں کی شکل میں توراتعطا کی گئی۔ رب ذوالجلال نے فرعون اور اس کے لشکر کو بحر قلزم میں ڈبکیاں دے دے کر غرق کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو باسلامت بحر قلزم عبور کروایا اور پوری دنیا میں ان کی عزت کو دوبالا فرمایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر وادی طی میں پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ یہاں کئی اہم واقعات بھی رونما ہوئے۔ جن میں سب سے بڑا اور اہم واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عنایت فرمائی جس میں بنی اسرائیل کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

43: وَلَقَدْ ٰاتَیْنَا مُوْسٰی الْکِتٰبَ مِنْ بَعْدِ مَا اَہْلَکْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰی (اور ہم نے موسیٰ کو تورات دی اس کے بعد کہ ہم نے پہلے زمانہ والوں کو ہلاک کیا) ۔ پہلے زمانہ والوں سے قوم نوح ٗ ہود ٗ صالح ٗ لوط (علیہم السلام) مراد ہیں۔ بَصَاپرَ لِلنَّاسِ (لوگوں کے لئے بصیرتیں بنا کر) ۔ یہ کتاب سے حال ہے۔ بصیرۃ۔ دل کا وہ نور جس سے ہدایت وسعادت نظر آتی ہے۔ جیسا کہ بصر آنکھ کی اس روشنی کو کہتے ہیں جس سے نظر آتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ ہم نے دلوں کو روشن کرنے کے لئے تورات دی۔ کیونکہ وہ قوم اندھی تھی بصیرت نہیں رکھتی تھی اور نہ ہی حق و باطل کو پہچانتی تھی۔ وَہُدًی (اور رہنمائی) ۔ کیونکہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

43۔ ولقد اتیناموسی الکتاب من مااھلکناالقرون الاولی، ، اس سے مراد قوم نوح ، قوم عاد، قوم ثمود اور اس کے علاوہ جو موسیٰ سے پہلے آئیں۔ بصائر للناس، تاکہ وہ اس کتاب کو دیکھیں اور اس سے ہدایت حاصل کریں۔ وھدی ، گمراہی سے ہدایت جو اس پر عمل کرے۔ ورحمہ، جو اس پر عمل کرے گا، اور اس پر ایمان لائے گا۔ لعلھم یتذکرون، ، جو کچھ اس میں نصائح ہیں ان پر خوب غور و فکر کر۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–45

41 تا 46۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا دنیوی انجام اوپر ذکر فرما کر اب ان کا عقبیٰ کے انجام کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے دن ان لوگوں کے پیشوا ہوں گے جو ان کے بہکانے کے سبب سے گمراہ ہو کر دوزخ میں اس طرح جھونکے جاویں گے کہ بہکانے والوں کا بہکنے خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بہکانے کا دوسرا عذاب ہوگا تو ان کے پیرو کچھ ان کی مدد نہ کرسکیں گے اس دو ہرے عذاب کا ذکر سورة النمل میں گزر چکا ہے اور اسی ذکر میں صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث بھی گذر چکی ہے یہی قیامت کے دو ہرے عذاب کا ذکر وَیَوْمَ الْقِیَامَۃ ھم الَمْقُبوحْیِن کی گویا تفسیر ہے پھر فرمایا ” پیچھے رکھی ہم نے ان کے دنیا میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–51

تفسیر سورة القصص (آیت 1 (تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔ اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 27–54

شعراء کی دو اقسام قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 42–43

53 کتاب الہی بصیرتوں کا سامان اور ہدایت و رحمت کا ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پہلی قوموں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ کو وہ کتاب عطا کی جو کہ لوگوں کے لیے بصیرتوں کا مجموعہ تھی سراسر ہدایت اور عین رحمت بنا کر تاکہ وہ لوگ سبق لیں اور اس کی روشنی میں اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کریں "۔ سو بصیرتوں کے اس سامان پر اگر وہ لوگ غور کرتے اور اس کو سچے دل سے اپناتے اور قبول کرتے اور اس پر ایمان لے آتے تو اس سے ان کو حق کی وہ راہ ملتی اور ہدایت کی وہ روشنی نصیب ہوتی جس سے یہ دارین کی سعادتوں اور فوز و فلاح سے سرفراز اور مشرف ہوتے۔ مگر انہوں نے اس سے منہ موڑ کر اور حق کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–46

تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 43–50

آیات 43 تا 50 اسرار ومعارف اور جب پہلی امتیں اپنی گمراہی کے سبب ہلاک ہوگئیں تو ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرما کر مبعوث فرمایا جس میں بصائیر یعنی عقل سلیم کی رہنمائی کرنے والی باتیں اور صحیح رہنمائی اور اللہ کی رحمت تھی کہ حق بات عقل سلیم کو اپیل کرتی ہے پھر بندہ ایمان قبول کرتا ہے تو یہ ہدایت ہوگی اور پھر اعمال صالح نصیب ہوتے ہیں جو رحمت ہیں اور یہ اہتمام اس لیے فرمایا کہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور جب یہ سب ہورہا تھا یا موسیٰ (علیہ السلام) سے بات ہو رہی تھی تو انہیں کتاب عطا ہوئی تو آپ طور پر تشریف نہ رکھتے تھے کہ آپ نے وہ واقعہ دیکھا ہو پھر بر شمار لوگ گزرے اور زمانے بیت گئے یہ باتیں لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

5 ۔ حضرت ابو سعید ؓ خدری سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ” توراۃ کے اترنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی قبیلے یا نسل یا اسم یا بستی کو آسمان سے عذاب بھیج کر تباہ نہیں کیا سوائے ” اصحاب سبت “ کے جو بند رہنا دیئے گئے۔ (قرطبی) فرعون کو غرق کرنے بعد عذاب کی بجائے جہاد شروع کردیا تاکہ لوگوں کی اصلاح اور تادیب ہوتی رہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(28:43) من بعد ما اہلکنا القرون الاولی۔ بعد اس کے کہ ہم نے ہلاک کردیا تھا پہلی قوموں کو (یعنی قوم نوح۔ قوم ہود۔ قوم صالح۔ قوم لوط وغیرہم) الکتب سے مراد توریت ہے جو حضرت موسیٰ پر نازل کی گئی تھی۔ بصائر : بصیرۃ کی جمع ہے۔ بمعنی بینائی ۔ لیکن اس کا استعمال صرف دل کی بینائی کے متعلق ہوتا ہے یعنی دل کی وہ روشنی جس سے انسانی طاقت کے مطابق اشیاء کی حقیقت پر آگاہی ہوتی ہے۔ للناس : الناس سے مراد یہاں بنی اسرائیل ہے۔: بصائر۔ ھدی ۔ ورحمۃ ۔ الکتب سے حال ہیں اور الکتب ذوالحال یتذکرون۔ مضارع جمع مذکر غائب تذکر تفعل مصدر ۔ وہ نصیحت حاصل کریں (تاکہ) وہ نصیحت پکڑیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 43–50

لغات القرآن : آیت نمبر 43 تا 50 : القرون الاولی (گذری ہوئی جماعتیں۔ زمانہ) بصائر (آنکھیں کھولنے والی باتیں) ‘ الشھدین ( دیکھنے والے) انشا نا ( ہم نے اٹھایا۔ ہم نے پیدا کیا) تطاول (طویل ہوگئی) العمر (مدت) ثاوی (رہنے والے) قدمت ایدی (آگے بھیجا۔ دونوں ہاتھوں کے آگے) ‘ سحران ( دو جادو) ‘ تظھرا (ایک دوسرے کے موافق) ‘ اھدی (زیادہ ہدایت) ‘ لم یستجیبوا (جواب نہ دیا) ‘ اھواء (ھوائ) خواہشیں۔ تمنائیں) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 43 تا 50 : سورۃ القصص کی گذشتہ آیات اور قرآن کی متعدد سورتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو کسی جگہ تفصیل سے اور کہیں مختصر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–46

(ف 1) فرعون اور حضرت موسیٰ کا قصہ تھا اس کو تمام کرکے اس قصہ کے نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب پہلے قرن یعنی زمانے والے ہلاک ہوچکے تو خلق کی راہنمائی کے لیے ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث کیا، اس کو یہ یہ باتیں پیش آئیں۔ جنگل میں کلام کیا۔ معجزات دیے اور، کتاب تورات عطا کی، جو بصارت اور ہدایت اور رحمت تھی سمجھداروں کے لیے۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب گمراہی کا ایک زمانہ دراز گزر گیا تو خلق کی ہدایت کے لیے اے محبوب ﷺ تم کو بھیجا اور تم پر قرآن نازل کیا جس میں گزشتہ رسولوں کے واقعات تم پر ظاہر کیے حالانکہ اے محبوب اس زمانہ میں تم موجود نہیں تھے اپنے رب کی رحمت سے رسول بنائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 43–46

[21] اور یہ آپ کے پیغمبر ہونے کی دلیل ہے کیونکہ یہ واقعات آپ کے مشاہدے میں نہیں آئے۔ پھر آپ جو انھیں اتنا صاف و صحیح بتا رہے ہیں تو ان کے جاننے کا ذریعہ بجزوحی کے اور کیا ہے ؟ اگر کوئی اور ذریعہ ہوتا تو کفار مکہ جو آپ کو جھوٹا نبی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں ضرور اس کی نشاندہی کرتے۔ [22] مراد مشرکین عرب ہیں جن کے پاس پشتہا پشت سے کوئی نبی نہیں آیا تھا گرچہ توحید کی تعلیم ان کو بالواسطہ پہنچ چکی تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

اتمام محبت 1: ارشاد ہے کہ ہم نے موسیٰ کو تورات اس وقت دی ۔ جبکہ عاد اور ثمود کی بربادیوں کے واقعات رونما ہوچکے تھے ۔ جب کہ عمالقہ جیسی شاندار قوم باوجود سازو سامان کی کثرت اور فراوانی کے فنا کے گھاٹ اتر چکی تھی ۔ اور جب کہ کئی قومیں اللہ کے فیض وغضب کا شکار ہوچکی تھیں ۔ مقصد یہ تھا ۔ کہ نافرمان لوگ ان واقعات سے عبرت پکڑیں ۔ اور نصیحت حاصل کریں اور تورات کو اپنے لئے رحمت وہدایت کا سبب قرار دیں ۔ مگر ہوا یہ کہ باوجود واقعات کی تفصیل اور وضاحت کے یہ لوگ آخر وقت تک گمراہی پر مصر رہے ۔ تاآنکہ اللہ کے عذاب نے انہیں آپکڑا ۔ اور یہ بےبس ہوکر رہ گئے ۔ حل لغات : بصائر ۔ جمع بصیرت بمعنی دلیل ۔ یقین ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

43۔ اور بلا شبہ ہم نے پہلی قوموں اور سابقہ امتوں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی تھی جو لوگوں کے لئے بصیرت افروز دلائل کا سبب اور موجب ہدایت اور موجب رحمت تھی تا کہ وہ لوگ اس کتاب سے نصیحت قبول کریں اور یاد رکھیں ۔ یعنی عاد اور ثمود وغیرہ قوموں کو ہلاک کرنے اور پیغمبروں کی نافرمانی کے سبب ان کو تباہ و برباد کرنے کے بعد پھر موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت عطا فرمائی جو بنی اسرائیل کے لئے قلوب کی روشنی کا سبب تھی اس کتاب کا حال یہ تھا کہ وہ بصیرت افروز دلائل کا مجموعہ تھی اور اللہ تعالیٰ کا راستہ دکھانے والی اور اس پر عمل کرنیوالوں کے لئے موجب رحمت و شفقت تھی یعنی ابتداء میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ طالب حق کی اول فہم درست ہوتی ہے، پھر احکام درست کرتا ہے، یہ ہدایت ہے، پھر ہدایت کا ثمرہ یعنی قرب و قبول عنایت ہوتا ہے، یہ رحمت ہے۔ 4۔ اسی طرح جب یہ دورہ بھی ختم ہوچکا اور لوگ پھر محتاج تجدید ہدایت ہوئے تو اپنی سنت مستمرہ کے موافق ہم نے آپ کو رسول بنایا جس کے دلائل میں ایک یہی واقعہ موسویہ کی یقینی خبر دینا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی تاکہ بنی اسرائیل ہدایت پائیں : 43۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے مدمقابل کو تباہ وبرباد کرنے کے بعد جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی تاکہ اب بنی اسرائیل کو آزمایا جائے کہ وہ کیا کرتے ہیں کیونکہ اس دنیا میں جو بھی آیا ہے اپنی آزمائش ہی کے لئے آیا ہے اور جو بھی اس کائنات کے نظام میں ابھری ہے ہم نے اس کو امتحان ہی کے لئے ابھارا ہے کہ یہ لوگ پہلوں کی پیروی کرکے اپنے آپ کو ہلاکت کے گڑھے میں گراتے ہیں یا سیدھی راہ اختیار کرکے جنت کے مستحق ٹھہرتے ہیں ہم تو اپنی طرف سے ہر ایک کو امتحان میں اس لئے داخل کرتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ مِن بَعْدِ مَا أَهْلَكْنَا الْقُرُ‌ونَ الْأُولَىٰ بَصَائِرَ‌ لِلنَّاسِ (And We gave Musa, after We destroyed the earlier generations, the Book having insights for people - 28:43). The words "earlier generations" refer to the people of Nuh, Hud, Salilh, and Lut (علیہم السلام) ، who were destroyed before the time of Sayyidna Musa (علیہ السلام) because of their denial of truth. بَصَائِرَ‌ Basair is the plural of Basirah بَصِیرَہ whose literal meaning is sagacity, insight and discernment. Here it is purported for that light or refulgence which Allah…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

59 That is, "When the former generations met with the evil consequences of turning away from the teachings of the Prophets, and they met the doom that was experienced by Pharaoh and his hosts, then Moses was granted the Book so as to usher in a new era for mankind. "

Read the full tafseer →