Explained with ayahs 38–42
فرعون کی سرکشی اور اس کے الہامی دعوے کا ذکر ہو رہا ہے کہ اس نے اپنی قوم کو بےعقل بناکر ان سے اپنا دعویٰ منوالیا اس نے ان کمینوں کو جمع کرکے ہانک لگائی کہ تمہارا رب میں ہی ہوں سب سے اعلی اور بلند تر ہستی میری ہی ہے اسی بنا پر اللہ نے اسے دنیا اور آخرت کے عذابوں میں پکڑلیا اور دوسروں کے لئے اسے نشان عبرت بنایا۔ ان کمینوں نے اسے اللہ مان کر اس کا دماغ یہاں تک بڑھا دیا کہ اس نے کلیم اللہ حضرت موسیٰ سے ڈانٹ کر کہا کہ سن اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو اپنا معبود بنایا تو میں تجھے قید میں ڈال دونگا۔ انہی سفلے لوگوں میں بیٹھ کر اپنا دعوی انہیں منواکر اپنے ہی جیسے اپنے خبیث وزیر ہامان سے کہتا ہے کہ تو…
Read the full tafseer →سورة القصص 58
اصل الفاظ ہیں قیامت کے روز وہ " مقبوحین " میں سے ہوں گے، اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں، وہ مردود و مطرد ہوں گے۔ اللہ کی رحمت سے بالکل محروم کردیے جائیں گے، ان کی بری گت بنائی جائے گی اور ان کے چہرے بگاڑ دیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِيْنَ ، مقبوحین، مقبوح کی جمع ہے جس کے معنی ہیں بگاڑا ہوا مراد یہ ہے کہ قیامت کے روز ان کے چہرے مسخ ہو کر سیاہ اور آنکھیں نیلی ہوجائیں گی۔
Read the full tafseer →جس دنیا میں وہ لیڈری اور پیشوائی کرتے رہے اور لوگوں سے اپنے نعرے لگواتے رہے، فرمایا کہ اس میں ہم نے انکے پیچھے ہمیشہ کے لئے لعنت لگا دی اور آخرت میں بھی وہ ذلیل و خوار ہوں گے۔ یہی مضمون سورة ہود میں یون بیان ہوا ہے۔
(ھود :99-97)
تو انہوں نے فرعون کی رائے کی پیروی کی اور فرعون کی رائے صائب نہ تھی وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور ان کو دوزخ کے گھاٹ پر اتارے گا اور کیا ہی برا ہوگا یہ گھاٹ ! اور اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگ ادی گئی اور قیامت کے دن بھی، اور کیا ہی برا ہوگا یہ صلہ جو ان کو ملے گا !
Read the full tafseer →42-1یعنی دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ان کا مقدر بنی اور آخرت میں بھی وہ بد حال ہونگے۔ یعنی چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلگوں جیسا کہ جہنمیوں کے تذکرے میں آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
24: یہ اس نے محض مذاق اڑانے کے طور پر کہا تھا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
فلما جآءھم موسیٰ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویوم القیمۃ ھم من المقبوحین (36 – 42)
یہاں قرآن کریم نے نہایت ہی جلدی میں فرعون کا انجام بتا دیا اور ایک فیصلہ کن دار کے نتیجے میں اس کا کام تمام ہوگیا۔
یہاں جادوگروں کے مقابلے کو حذف کردیا گیا ہے جبکہ دوسری سورتوں میں بعض جگہ اجمال اور بعض جگہ تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ہوا ہے۔ یہ کڑی یہاں اس لیے حذف کردی گئی ہے کہ تکذہب کے بعد جلد ہی ہلاکت کا منظر پیش کردیا جائے ۔ اور نہ صرف یہ کہ دنیاوی عذاب کا ذکر ہو بلکہ آخرت کے عذاب کی ایک جھلک بھی دکھا دی جائے۔ اختصار اور جدلی کے ساتھ بات کو انجام پہنچانا اس سورت میں مقصود بالذات ہے۔ کیونکہ پوری سورت کا انداز یوں ہی ہے۔ اس…
Read the full tafseer →7 یعنی آخرت کی برائی اور بدانجامی تو الگ رہی، دنیا ہی میں لوگ رہتی دنیا تک ایسوں پر لعنت بھیجتے رہیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 42 وَاَتْبَعْنٰہُمْ فِیْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً ج ”
یہ لعنت رہتی دنیا تک ہر دور میں ان کا پیچھا کرتی رہے گی۔
وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ہُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ ”
قیامت کے دن وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے۔ وہ ذلیل و خوار اور مردودو مطرود ہوں گے ‘ اللہ کی رحمت سے بالکل محروم کردیے جائیں گے ‘ ان کی بڑی گت بنائی جائے گی اور ان کے چہرے بگاڑ دیے جائیں گے۔ لفظ ”مَقْبُوْحِیْن“ میں یہ سارے معانی موجود ہیں۔
Read the full tafseer →55 یعنی فرعون اور آل فرعون پر بعد میں آنے والی دنیا لعنت ہی بھیجتی رہے گی اور انھیں برے لفظوں میں یاد کیا جاتا رہا گا۔ اور قیامت کے دن تو ان کی بڑی درگت بنائی جائے گی اور ان کے چہرے بگاڑ دیئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →57۔ چناچہ آج انہیں اچھا کہنے والا کوئی بھی نہیں۔ سب کی زبان سے برائی ہی نکلتی ہے۔ (آیت) ” لعنۃ “ کے معنی رحمت خداوندی سے مہجوری اور محرومی کے پیشتر بیان ہوچکے ہیں۔ ان شامت زدوں کا دنیا ہی میں فضل خداوندی سے مہجور و محروم ہوجانا ایک مشاہدواقعہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–42
آیت نمبر 33 تا 42
ترجمہ : موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھ سے ان کے ایک شخص کا خون ہوگیا تھا اور وہی وہی سابق قبطی تھا مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اس کے عوض میں مجھے بھی قتل کر ڈالیں اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے تو اسے بھی (میرا) معاون بنا کر بھیج دیجئے ایک قرأۃ میں ردًا دال کے فتحہ کے ساتھ بغیر ہمزہ کے ہے وہ میری تائید کریں گے یُصَدِّقُنِیْ جزم کے ساتھ جواب دعاء (ارسِلْہٗ کا) اور ایک قرأۃ قاف کے رفع کے ساتھ جملہ ہو کر ردءًا کی صفت ہونے کی وجہ سے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں، ارشاد ہوا ہم ابھی تمہارے بھائی کو تمہارا قوت بازو بنائے دیتے ہیں (یعنی)…
Read the full tafseer →واتبعنھم فی ھذہ الدنیا لعنہ ویوم
القیمہ ھم من المقبوحین . اور اس دنیا میں (بھی) ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے دن (بھی) وہ بدحال لوگوں میں سے ہوں گے۔
اَءِمَّۃً یعنی گمراہوں کے پیشوا جو دوسروں کو گمران کرنے پر آمادہ کرتے تھے یا دنیا میں سردار اور مالدار آبرو والے رئیس۔
اِلَی النَّار دوزخ کی طرف یعنی ان اسباب کی طرف جو دوزخ میں داخلہ کے موجب تھے یعنی کفر و معاصی کی طرف۔
لاَ یُنْصَرُوْنَ یعنی کوئی شخص عذاب الٰہی کے مقابلہ میں ان کی مدد نہیں کرے گا۔
لَعْنَۃً یعنی رحمت سے دور کردیا یا لعنت کرنے والوں کی لعنت ان کے پیچھے لگا دی کہ اللہ اور ملائکہ اور مؤمن بندے ان پر لعنت کرتے ہیں اور…
Read the full tafseer →(42) اور دنیا میں بھی ہم نے ان پر لعنت نازل کرکے غرق کردیا اور قیامت کے دن بھی وہ برے حال میں اٹھیں گے کہ شکلیں کالی اور آنکھیں نیلی ہوں گی۔
Read the full tafseer →وَاَتْبَعْنٰهُمْ فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً : یعنی دنیا میں جو بھی ان کا ذکر کرتا ہے ان پر لعنت بھیجتا ہے۔
وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِيْنَ : ”الْمَقْبُوْحِيْنَ“ ”أَيْ مَطْرُوْدِیْنَ“ یعنی دور دفع کیے ہوئے، قبیح بنائے گئے۔ یعنی صرف دنیا ہی میں ان پر لعنت نہیں پڑے گی بلکہ قیامت کے دن بھی وہ اللہ کی رحمت سے دور کیے ہوئے ہوں گے، ان کی شکلیں قبیح ہوں گی اور چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔
Read the full tafseer →واتبعنھم فی ھذہ الدنیا لعنۃ ہم نے بندوں کو حکم دیا کہ ان پر لعنت کریں تو جو بھی ان کا ذکر کرے تو ان پر لعنت کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یعنی میں نے ان پر لعنت کو لازم کیا یعنی خیر سے دوری کو لازم کیا۔ ویوم القیمۃ ھم من المقبوحین جس کو ہلاک کیا گیا ہو اور ان پر ناراضی کی کوئی ہوئی، یہ ابن کیسان اور ابو عبیدہ کا نقطہ نظر ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : ان کے چہروں کے سیاہ ہونے اور آنکھوں کے نیلے ہونے کے ساتھ ان کی شکلیں ہی بدل گئی ہوں گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ دور کئے گئے لوگوں میں سے ہوں گے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : قبحہ اللہ یعنی اسے یہ بھلائی سے الگ کردیا گیا۔ قبتحہ وقبحہ جب اسے قبیح بنا دیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
1۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت و جنودہ فنبذنہم فی الیم میں الیم سے مراد ہے سمندر، اس سمندر کو ساف کہا جاتا ہے جو مصر سے آگے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو غرق کردیا۔
2۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجعلنہم ائمۃ یدعون الی النار یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے سردار بنایا کہ وہ گناہوں کی طرف بلاتے ہیں۔
3۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت واتبعنہم فی ہذہ الدنیا لعنۃ، ویوم القیمۃ یعنی قیامت کے دن ایک اور لعنت ہوگی پھر ان کی طرف توجہ کرتے ہوئے فرمایا آیت ہم من المقبوحین، کہ وہ قیامت کے دن قباحت والوں میں سے ہوں گے۔
4۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے…
Read the full tafseer →وَاَتْبَعْنٰهُمْ [اور ہم نے ان کے پیچھے لگا دیا ] فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا [اس دنیا میں ] [لَعْنَةً ۚ : ایک لعنت ] [وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ : اور قیامت کے دن ] هُمْ [وہ لوگ ] مِّنَ الْمَقْبُوْحِيْنَ [خیر سے دور کئے ہوؤں میں سے ہیں ]
ق ب ح
(ک) قباحۃ بدنما ہونا۔ بدصورت ہونا۔ اس باب سے کوئی لفظ قرآن میں استعمال نہیں ہوا۔
(ف) قبحا کسی خیر اور بھلائی سے دور کرنا۔
مقبوح اسم المفعول ہے۔ خیر سے دور کیا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 42 ۔
Read the full tafseer →(وَ اَتْبَعْنٰھُمْ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً ) (اور اس دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی) اہل ایمان ان پر ہمیشہ لعنت بھیجتے رہے اور بھیجتے رہیں گے۔ (وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ھُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ ) اور وہ لوگ قیامت کے دن بری حالت میں ہوں گے۔ سورة زمر میں فرمایا (اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ اَدْخِلُوْا آلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ ) (وہ صبح و شام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں (یعنی برزخ میں) اور قیامت کے دن کہا جائے گا کہ آل فرعون کو سخت عذاب میں داخل کر دو ) ۔
فائدہ : فرعون اور اس کی جماعت کے لیے (اَءِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
قال اللہ تعالیٰ فلما قضی موسیٰ الاجل وسار باھلہ الی۔۔۔ ویوم القیمۃ ہم من المقبوحین۔
الغرض جب موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہ کر پوری مدت گزار دی یعنی دس برس تک بکریاں چرائیں اور دس برس تک ایک نبی کی صحبت میں رہے اور مجاہدہ اور ریاضت اور باطنی تربیت کی منزلیں طے ہوگئیں اور چالیس سال کی سن کو پہنچے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی زوجہ اور اہل خانہ کو لے کر مدین سے مصر کی طرف روانہ ہوئے تاکہ اہل قرابت سے جا کر ملیں اور طور کے آس پاس پہنچے۔ رات کا وقت تھا اندھیری چھائی ہوئی تھی اور سخت سردی تھی۔ اتفاق سے راہ بھٹک گئے ایسے وقت میں طبعا آگ کی تلاش ہوتی ہے۔ کوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
40:۔ القرون الاولیٰ سے گذشتہ اقوام متمردہ مراد ہیں۔ ان اقوام کے پاس اللہ کے پیغمبر پیغام توحید لے کر آئے اور انہیں توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے دعوت توحید کو نہ مانا اور اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ان کو دنیا ہی میں عذاب سے ہلاک کردیا گیا۔ اب اسی دین کے احیا کی خاطر موسیٰ کو بھیجا اور اسے تورت دی جس کی ہر آیت میں نور بصیرت کا سامان تھا وہ سراپا ہدایت اور باعث رحمت تھی کیونکہ اس کی ہدایات پر عمل کرنے سے انسان اللہ کی رحمت کا مستحق ہوجاتا تھا۔ اس زمانے کی ضرورت کے مطابق تورات نازل کی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعوت توحید فرعون اور اس کی قوم کے سامنے پیش کی لیکن انہوں نے اس کا انکار کردیا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
ربط آیات
موسیٰ (علیہ السلام) اپنی اہلیہ اور ساز و سامان مدین سے مصر جا رہے تھے کہ راستے میں کوہ طور کی مقدس وادی سے گزر ہوا۔ اس مقام پر اللہ نے ان سے کلام کیا اور نبوت و رسالت عطا فرمائی اور ساتھ دو عظیم معجزات عصا اور ید بیضاء بھی عنایت کیے ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو تبلیغ حق کا حکم ہوا ۔ انہوں نے اس راستے میں حائل مشکلات کا ذکر کیا تو اللہ نے یقین دلایا کہ فکر نہ کرو ، بالآخر تم ہی غالب رہو گے ۔ اللہ نے آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا اور فریضہ نبوت میں آپ کا ممدو معاون بنایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) حکم خداوندی کے مطابق مصر پہنچے اور آگے اپنے بھائی ہارون (علیہ…
Read the full tafseer →وَاَتْبَعْنٰہُمْ فِيْ ہٰذِہِ الدُّنْيَا لَعْنَۃً 0ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ ہُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِيْنَ 42ۧ
تبع
يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ، ثُمَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–44
وَ یْومَ الْقِیٰمَۃِ ھم من المقبوحین تک فرعون اور موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ تھا۔ اس کو تمام کرکے ولقد آتینا موسیٰ الکتب الخ سے اس قصہ کے نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب پہلی قرن یعنی زمانے والے ہلاک ہوچکے تو خلق کی رہنمائی کے لیے ہم نے موسیٰ کو مبعوث کیا۔ اس کو یہ یہ باتیں پیش آئیں، جنگل میں کلام کیا۔ معجزات دیے اور کتاب یعنی تورات عطا کی جو بصارت اور ہدایت اور رحمت تھی۔ سمجھداروں کے لیے اس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد جب گمراہی کا ایک زمانہ دراز گزر گیا۔ خلق کی ہدایت کے لیے اے محمد ﷺ تجھ کو مبعوث کیا اور تجھ پر قرآن نازل کیا جس میں گزشتہ انبیاء کے صحیح صحیح واقعات تجھ پر ظاہر کئے ورنہ…
Read the full tafseer →وَاَتْبَعْنٰـھُمْ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً ج وَیَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ھُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ ۔ (القصص : 42)
(اور ہم نے ان کے پیچھے اس دنیا میں بھی لعنت لگا دی اور قیامت کے دن ان کا شمار ملعونوں میں ہوگا۔ )
یعنی جس دنیا میں وہ لیڈری اور پیشوائی کرتے رہے اسی دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے ہمیشہ کے لیے لعنت لگا دی اور آخرت میں وہ ذلیل و خوار ہوں گے۔ مَقْبُوْحِیْنَ کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ وہ مردود و مطرود ہوں گے، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بالکل محروم کردیئے جائیں گے، ان کی بری گت بنا جائی گی اور ان کے چہرے بگاڑ دیئے جائیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ( رض) نے اس کا معنی کیا ہے کہ مَقْبُوْحِیْنَ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کا دنیا و آخرت میں انجام۔
فرعون کو اپنے اقتدار اور اختیارات پر بڑا ناز تھا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل پر اس قدر مظالم کا بازار گرم رکھا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی انتہائی کرب کے عالم میں بلبلا کر ان الفاظ میں فریاد کرنے لگے۔
” انہوں نے کہا موسیٰ آپ کے ہمارے ہاں آنے سے پہلے ہمیں تکلیف پہنچائی گئی اور آپ کے آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے فرمایا قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں زمین میں جانشین بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ “ [ الاعراف : 129]
” ہم نے موسیٰ کو وحی بھیجی کہ راتوں رات میرے بندوں کو…
Read the full tafseer →42: وَاَتْبَعْنٰہُمْ فِیْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً (اور ان کے پیچھے اس دنیا میں لعنت لگا دی) رحمت سے دوری اور بعد میں ہم نے لازم کردیا۔
ایک قول یہ ہے :
ان کے بعد جو لوگوں کی لعنت ان کو پہنچتی ہے۔ وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ہُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ (قیامت کے دن وہ بدحال لوگوں میں سے ہونگے) ۔ رحمت سے دور ہانکے ہوئے۔ نمبر 2۔ یا ہلاک کیے ہوئے۔ نمبر 3۔ چہروں کی سیاہی اور آنکھوں کی نیل گونی سے بدصورت۔ : نحو یوم یہ مقبوحین کا ظرف ہے۔
Read the full tafseer →42۔ واتبعنا ھم فی ھذہ الدنیا لعنہ، رسوائی اور عذاب۔ ویوم القیامۃ من المقبوحین، ملعونین سے دور، ، ابوعبیدہ کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے ہلاکت والے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انکے چہرے کالے ہوں گے آنکھیں ان کی نیلی ہوں گی ، عرب کہتے ہیں کہ قبحہ اللہ ، اللہ نے اس کی صورت بگاڑ دی اور ہر بھلائی سے اگر کسی کو دور کردیا گیا اور عرب کہتے ہیں کہ ، قبحہ، قبحا، وقبوحا، جب وہ ہر بھلائی سے اور خیر سے دور ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–45
41 تا 46۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں کا دنیوی انجام اوپر ذکر فرما کر اب ان کا عقبیٰ کے انجام کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ قیامت کے دن ان لوگوں کے پیشوا ہوں گے جو ان کے بہکانے کے سبب سے گمراہ ہو کر دوزخ میں اس طرح جھونکے جاویں گے کہ بہکانے والوں کا بہکنے خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بہکانے کا دوسرا عذاب ہوگا تو ان کے پیرو کچھ ان کی مدد نہ کرسکیں گے اس دو ہرے عذاب کا ذکر سورة النمل میں گزر چکا ہے اور اسی ذکر میں صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث بھی گذر چکی ہے یہی قیامت کے دو ہرے عذاب کا ذکر وَیَوْمَ الْقِیَامَۃ ھم الَمْقُبوحْیِن کی گویا تفسیر ہے پھر فرمایا ” پیچھے رکھی ہم نے ان کے دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–54
شعراء کی دو اقسام
قول باری ہے : (والشعرآء یتبعھم الغادون۔ رہے شعرآء ، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں) سفیان نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی ہے، انہوں نے مجاہد سے کہ آیت میں نافرمان قسم کے جن مراد ہیں۔ خصیف نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ جب دو شاعر ایک دوسرے کی ہجو کرتے ہیں تو سرکش اور بہکے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ایک کا ساتھ دیتا ہے اور دوسرا گروہ دوسرے کا۔ “ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان شعراء کا ذکر کیا جن کی نشانیاں یہ ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو خود کرتے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی جو منہ اٹھائے ہر اس وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے جو اسے نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
53 کتاب الہی بصیرتوں کا سامان اور ہدایت و رحمت کا ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پہلی قوموں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ کو وہ کتاب عطا کی جو کہ لوگوں کے لیے بصیرتوں کا مجموعہ تھی سراسر ہدایت اور عین رحمت بنا کر تاکہ وہ لوگ سبق لیں اور اس کی روشنی میں اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کریں "۔ سو بصیرتوں کے اس سامان پر اگر وہ لوگ غور کرتے اور اس کو سچے دل سے اپناتے اور قبول کرتے اور اس پر ایمان لے آتے تو اس سے ان کو حق کی وہ راہ ملتی اور ہدایت کی وہ روشنی نصیب ہوتی جس سے یہ دارین کی سعادتوں اور فوز و فلاح سے سرفراز اور مشرف ہوتے۔ مگر انہوں نے اس سے منہ موڑ کر اور حق کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–46
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) فرعون اور ہامان کا واقعہ پہلے موقع کی مناسبت سے بیان کیا جا چکا ہے یہاں پھر اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ واقعہ آپ کی زبانی اہل مکہ کو سنایا گیا تاکہ اس بات کی تصدیق ہوجائے کہ آپ واقعی اللہ کے آخری نبی ہیں اور آپ پر اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعہ تمام حالات گزری ہوئی قوموں کے نازل ہوئے ہیں۔ کیونکہ اس وقت نہ تو تاریخی کتابیں تھیں اور پھر آپ تو تھے بھی امی۔ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا جس خوبصورت اور وضاحت سے آپ نے بیان کیا ہے حالانکہ نہ تو آپ اس وقت وہاں موجود تھے اور نہ ہی کسی سے آپ کو یہ تمام معلومات اتنی سچی اور پکی مل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
آیات 29 تا 46
اسرارومعارف
چنانچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ عرصہ پورا کردیا جس کا وعدہ فرمایا تھا تو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اجازت سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس مصر کو روانہ ہوئے کہ گھر والوں سے بچھڑے ہوئے دس سال بیت چکے تھے روایات کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس پورے کیے۔ راستے میں رات ہوگئی موسم بھی سرد تھا تو کوہ طور پر جو آپ کی راہ کے ساتھ پڑتا تھا روشنی دیکھی جیسے کسی نے آگ روشن کی ہو۔ تو اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ آپ لوگ یہاں انتظار کریں میں وہاں جاتا ہوں ممکن ہے کوئی راستے کے بارے خبر وہاں سے مل جائے کہ لگتا ہے کہ ہم راستہ بھول رہے ہیں اور آگ بھی لیتا آؤں گا یہاں جلا کر…
Read the full tafseer →4 ۔ یا ” قیامت کے دن وہ مردودومطرود ہوں گے “۔ یعنی انہیں خدا کی رحمت سے کوئی حصہ نہ ملے گا۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(28:42) اتبعنھم۔ اتبعنا ماضی جمع متکلم۔ اتباع افعال سے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ہم نے ان کے پیچھے لگا دیا۔ (لعنت کو)
المقبوحین۔ اسم مفعول جمع مذکر مجرور المقبوح واحد۔ قبح۔ مادہ۔ قباحۃ مصدر لازم باب کرم سے۔ وقع مصدر (متعدی) باب فتح سے قبح ایسی حالت اور شکل جس کو دیکھنے سے آنکھوں کو نفرت اور طبعیت کو کراہت ہو۔ قبیح عمل قبیح صورت بمعنی بدعمل ۔ بد صورت
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–42
لغات القرآن : آیت نمبر 36 تا 42 :
مفتری (گھڑا گیا۔ بنایا گیا) ‘ ماسمعنا (ہم نے نہیں سنا) ‘ عاقبۃ الدار (آخرت کا گھر) اوقد ( بھڑکادے۔ جلادے) الطین (مٹی۔ گارا) ‘ صرح ( بلند محل۔ اونچی بلڈنگ) ‘ اطلع (میں جھانکتا ہوں) نبذنا ( ہم نے پھینک دیا) ‘ المقبوحین ( بد حال لوگ) ۔
تشریح : آیت نمبر 36 تا 42 :
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھلی نشانیوں یعنی معجزات کے ساتھ فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو معجزات کو دیکھ کر فرعون کہنے لگا کہ یہ معجزات نہیں ہیں بلکہ خود سے گھڑا ہواوہ جادو ہے جس کے ذریعہ وہ لوگوں کے دل جیتنا چاہتا ہے۔ حالانکہ ایسی باتیں ہم نے پہلے تو کبھی بھی نہ دیکھیں نہ سنیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–46
(ف 1) فرعون اور حضرت موسیٰ کا قصہ تھا اس کو تمام کرکے اس قصہ کے نتائج کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب پہلے قرن یعنی زمانے والے ہلاک ہوچکے تو خلق کی راہنمائی کے لیے ہم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث کیا، اس کو یہ یہ باتیں پیش آئیں۔ جنگل میں کلام کیا۔ معجزات دیے اور، کتاب تورات عطا کی، جو بصارت اور ہدایت اور رحمت تھی سمجھداروں کے لیے۔ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جب گمراہی کا ایک زمانہ دراز گزر گیا تو خلق کی ہدایت کے لیے اے محبوب ﷺ تم کو بھیجا اور تم پر قرآن نازل کیا جس میں گزشتہ رسولوں کے واقعات تم پر ظاہر کیے حالانکہ اے محبوب اس زمانہ میں تم موجود نہیں تھے اپنے رب کی رحمت سے رسول بنائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–42
[20] لعنت پیچھے لگا دینے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو کوئی ظالموں اور کافروں پر لعنت کرتا ہے چونکہ یہ لوگ بھی ایسے ہی تھے اس لئے ان پر بھی لعنت پڑتی ہے۔
Read the full tafseer →عذاب الٰہی کب آتا ہے
2: مقصد یہ ہے کہ فرعونیوں پر اس وقت تک عذاب نہیں آیا ۔ جب تک کہ انہونے کفر وعصیان میں فلوکا درجہ حاصل نہیں کرلیا ۔ کیونکہ خدا کا قانون ہے کہ مقدمین کو مہلت دی جائے ۔ ان کے اعمال سے تعرض نہ کیا جائے ۔ اور کردار رہ عمل کے لئے پوری آزادی دی جائے حتیٰ کہ دل سیاہ ہوجائے ۔ طبیعت میں تاثیر وانفعال کی تمام قوتیں مفقود ہوجائیں ۔ اور گناہوں کا پیمانہ چھلک جائے قرآن کی اصطلاح میں لعنت سے مراد اللہ کے فیوض وبرکات سے محرومی ہے : اور اس کی رحمت سے دوری سب وشتم کے قسم کی کوئی چیز مراد نہیں
Read the full tafseer →42۔ اور ہم نے دنیا میں بھی انکے پیچھے لعنت اور پھٹکار لگا دی اور قیامت کے دن بھی وہ بد حال اور دور پھینکے ہوئے لوگوں میں سے ہوں گے ۔ دنیا کی لعنت تو یہ کہ جب ظالموں پر لعنت کی جائے گی تو یہ بھی اس میں شریک ہوں گے اور قیامت میں تو ان کا مطردو اور مردود ہونا اور ان کا بد انجامی اور ان کے لئے برائی کا ہونا ظاہری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–42
ف 1۔ لعنت پیچھے لگا دینے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو ظالموں کافروں وغیرہم پر لعنت کرتا ہے چونکہ وہ لوگ بھی ایسے ہی تھے ان پر بھی پڑتی ہے۔
2۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ فرعون کے ساتھ ختم ہوا۔ آگے اس قصہ کے اعظم مقاصد یعنی اثبات رسالت محمدیہ ﷺ کا مضمون مذکور ہے، مع جواب بعض شبہات کفار، اور تمہید کے لئے تصریح رسالت موسویہ کی ارشاد ہے۔
Read the full tafseer →اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگائی گئی اور آخرت میں بھی وہی مردود ہوں گے :
42۔ اس دنیا میں جو ان کو مہلت دی گئی تھی اس سے انہوں نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا اور جو قدم انہوں نے اٹھایا وہ پہلے سے زیادہ غلط تھا اس لئے ان کا انجام اس دنیا میں دریائے نیل یابحرقلزم میں غرق ہونا رکھا گیا تھا لہذا وہ غرق ہوگئے اس طرح ان کے پیچھے لعنت خداوندی لگی کہ آج تک لوگ ان کو ملعون کہتے ہیں اور رہتی دنیا تک کہتے رہیں گے اور ازیں بعد آخرت اور قیامت کا روز جب آئے گا تو بلاشبہ ان کا شمار انہیں لوگوں میں ہوگا جو مردود ومطرود ہوں گے گویا اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کردیئے جائیں گے دنیا کے سارے نیک اور صالح لوگوں کی…
Read the full tafseer →وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ هُم مِّنَ الْمَقْبُوحِينَ (And on the day of judgment they will be among those treated badly - 28:42). Maqbuhin is the plural of Maqbuh, which means spoilt, damaged or disfigured. Thus the meaning of the verse is that on the Doomsday their faces will be disfigured to turn black, and eyes will turn blue.
Read the full tafseer →58 The words in the Text mean: "On the Day of Resurrection they will be among the maqbuhin ", which has several meanings: (l) They will stand rejected and repulsed; (2) they will be wholly deprived of Allah's mercy; and (3) they will be severely beaten up and their faces will become distorted .
Read the full tafseer →