Explained with ayahs 1–6
حروف مقطعہ کا بیان پہلے ہوچکا ہے۔
یہ آیتیں ہیں واضح جلی روشن صاف اور کھلے قرآن کی تمام کاموں کی اصلیت اب گذشتہ اور آئندہ کی خبریں اس میں ہیں اور سب سچی اور کھلی۔ ہم تیرے سامنے موسیٰ اور فرعون کا سچا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے ہم تیرے سامنے بہترین واقعہ بیان کرتے ہیں۔ اس طرح کہ گویا تو اس کے ہونے کے وقت وہیں موجود تھا۔ فرعون ایک متکبر سرکش اور بددماغ انسان تھا۔ اس نے لوگوں پر بری طرح قبضہ جمارکھا تھا اور انہیں آپس میں لڑوا لڑوا کر ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈلوا کر انہیں کمزور کرکے خود ان پر جبر وتعدی کے ساتھ سلطنت کر رہا تھا۔ خصوصا بنی اسرائیل کو تو اس ظالم نے نیست ونابود کرنے کا…
Read the full tafseer →سورة القصص 6
یعنی انہیں دنیا میں قیادت و رہنمائی کا مقام عطا کریں۔
سورة القصص 7
یعنی ان کو زمین کی وراثت بخشیں اور وہ حکمران و فرمانروا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَي الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ اَىِٕمَّةً ، الآیتہ، اس آیت میں تدبیر فرعونی کا بمقابلہ تقدیر الہی کے نہ صرف خائب و خاسر ہونا بلکہ فرعون اور اس کے سب اہل دربار کو انتہائی بیوقوف بلکہ اندھا بنانے کا ذکر ہے کہ جس لڑکے کے متعلق خواب اور تعبیر خواب کی بناء پر فرعون کو خطرہ لاحق ہوا تھا اور جس کی بناء پر بنی اسرائیل کے لاتعداد نوزائیدہ لڑکوں کو ذبح کرنے کا قانون جاری کیا تھا اس کو حق تعالیٰ نے اسی فرعون کے گھر میں اسی کے ہاتھوں پرورش کرایا اور والدہ کے اطمینان کے لئے انہی کی گود میں حیرت انگیز طریقہ پر پہنچا دیا اور فرعون سے رضاعت کا خرچ جو بعض…
Read the full tafseer →اسرائیل کو پیشوائی طعنے کا خدائی فیصلہ
نرید سے پہلے عربی زبان کے معروف قاعدے کے مطابق فعل ناقص محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ فرعون اور اس کے اعیان تو یہ ظلم و ستم ڈھائے ہوئے تھے اور ان کی پوری کوشش یہ تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو کسی طرح ابھرنے دیں لیکن ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ہم مظلوموں پر احسان کریں، ان کو پیشوائی کا منصب بخشیں اور ظالموں کو مٹا کر مظلوموں کو وراثت و خلافت عطا کریں۔ نجعلھم آئمۃ سے اشارہ اس دینی پیشوائی کی طرف ہے جو حضرت موسیٰ کی بعثت کے بعد بنی اسرائیل کو حاصل ہوئی اور نجعلھم الورثین سے خلافت و حکوتم راد ہے جو ان کو ارض فلسطین میں ملی اور حضرت سلیمن ؑ کے عہد میں جس کے حدود نہایت وسیع…
Read the full tafseer →5-1چناچہ ایسا ہی ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس کمزور اور غلام قوم کو مشرق و مغرب کا وارث (مالک و حکمران) بنادیا نیز انھیں دین کا پیشوا اور امام بھی بنادیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
1: جیسا کہ سورة طٰہٰ :36 کے حاشیے میں ہم نے عرض کیا ہے، فرعون کو کسی نجومی نے یہ کہہ دیا تھا کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص تمہاری سلطنت ختم کرے گا، اس لیے اس نے یہ حکم جاری کردیا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو کوئی بچہ پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے۔ جب حضرت موسیٰ ؑ پیدا ہوئے تو ان کی والدہ کو فکر ہوئی کہ ان کو بھی فرعون کے آدمی قتل کر ڈالیں گے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پر الہام فرمایا کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریائے نیل میں ڈال دو۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس پہنچ گیا اور فرعون کے کارندوں نے بچے کو اٹھا کر فرعون کے پاس پیش کیا، اور اس کی بیوی حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ونرید ان نمن علی الذین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ما کانوا یحذرون (28: 5 – 6) ”
“۔ یہ کمزور لوگ جن کو اس سرکش نے پوری طرح غلام بنا رکھا تھا ، ان کے حالات میں اپنی مرضی سے تصرف کرتا تھ ، ان کو سخت سے سخت سزائیں دیتا تھا ، ان کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا۔ اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑتا تھا۔ اس تشدد اور ظلم و ستم کے باوجود وہ اپنی ذات اور اپنے اقتدار کے بارے میں ان عوام سے سخت خائف تھا۔ چناچہ اس نے ان کے خلاف خفیہ پولیس قائم کر رکھی تھی اور ان کے ہاں جو بچہ بھی پیدا ہوتا اسے رپورٹ مل جاتی اور وہ اسے مذبح خانے کو بھیج دیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک قصاب تھا۔ یہ مفلوک الحال مستضعفین تھے جن پر اللہ نے پناہ فضل و کرم کرنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
9 یعنی اس ملعون کے انتظامات تو وہ تھے، اور ہمارا ارادہ یہ تھا کہ کمزوروں کو قوی اور پستوں کو بالا کیا جائے۔ جس قوم کو فرعونیوں نے ذلیل غلام بنا رکھا تھا ان ہی کے سر پر دین کی امامت اور دنیا کی سرداری کا تاج رکھ دیں۔ ظالموں اور متکبروں سے جگہ خالی کرا کر اس مظلوم و ستم رسیدہ قوم سے زمین کو آباد کریں اور دینی سیادت کے ساتھ دنیاوی حکومت بھی اس مظلوم و مقہور قوم کے حوالے کی جائے۔
10 " ہامان " وزیر تھا فرعون کا جو ظلم و ستم میں اس کا شریک اور آلہ کار بنا ہوا تھا۔
11 یعنی جس خطرہ کی وجہ سے انہوں نے بنی اسرائیل کے ہزارہا بچوں کو ذبح کر ڈالا تھا۔ ہم نے چاہا کہ وہ ہی خطرہ ان کے سامنے آئے۔ فرعون نے…
Read the full tafseer →آیت 5 وَنُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ ”
یعنی ہم نے بنی اسرائیل کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا جنہیں مصر میں مسلسل ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
Read the full tafseer →7 یعنی فرعون تو اس مظلوم گروہ کا کلی طور پر استیصال کرنا چاہتا تھا۔ مگر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اللہ یہ چاہتا تھا کہ ایسی سفاک اور ظالم قوم کا استیصال ہونا چاہئے۔ اور جن بےچاروں پر یہ ظلم و ستم ڈھائے جارہے ہیں۔ انھیں نہ صرف ان سے نجات دلائی جائے۔ بلکہ انھیں ان ظالموں کی جائیدادوں اور ملک کا وارث بھی بنادیا جائے۔ دین کی امامت بھی ان کے سپرد کی جائے اور دنیا کی سرداری کا تاج بھی ان کے سر پر رکھ دیا جائے۔ اور اللہ کی سنت جاریہ یہی ہے کہ وہ ظالموں اور متکبروں سے زمین کو خالی کرا کر ان کی جگہ ان مظلوموں کو آباد کرتا ہے۔ جن پر ظلم ڈھائے گئے تھے۔
Read the full tafseer →3۔ یعنی ہماری مشیت میں یہ تھا کہ ہم انہیں دنیوی ودینی عروج دے کر رہیں۔ (آیت) ” نجعلھم ائمۃ “۔ اس ارادۂ الہی کا ظہور دینی پیشوائی میں یوں ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر صحفیہ آسمانی نازل ہوا۔ شریعت الہی اسی قوم پر اتری۔ انبیاء اس میں برابر پیدا ہوتے رہے۔ (آیت) ” نجعلھم الورثین “۔ اس مشیت کا ظہور یوں ہوا کہ فرعون کی غلامی سے آزادی نصیب ہوئی اور آگے چل کر شام و فلسطین کی حکومت بھی مل گئی۔ (آیت) ” نمن ..... الارض “۔ بعض عارفوں نے اس سے یہ نکتہ بھی نکالا ہے کہ کمزور ومظلوم ہونا خود موجب التفات ونصرت الہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
آیت نمبر 1 تا 13
ترجمہ : طٓسمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے یہ آیات مبین کی آیات ہیں آیات الکتاب میں اضافت بمعنی من اور مبین سے حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی آیات ہیں ہم آپ کے سامنے موسیٰ و فرعون کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں (یعنی) مومنین کے لئے اس لئے کہ وہی اس قصہ سے استفادہ کرتے ہیں یقیناً فرعون نے سرزمین مصر میں سرکشی کر رکھی تھی اور مصر کے باشندوں کو اپنی خدمت کے لئے فرقوں میں تقسیم کر رکھا تھا ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا اور وہ بنی اسرائیل تھے ان کے نومود لڑکوں کو قتل کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا…
Read the full tafseer →ونرید ان لمن علی الذین اتضعفوا فی الارض ونجعلھم ائمۃ ونجعلھم الوارثین۔ ور ہم کو منظور تھا کہ سرزمین مصر میں جن لوگوں کا زور گھٹایا جا رہا تھا ان پر احسان کریں اور ان کو پیشوا بنا دیں اور وارث کردیں
Read the full tafseer →(5) اور ہمیں یہ منظور تھا کہ جن لوگوں کا سرزمین مصر میں زور گھٹایا جارہا تھا ہم ان کو نجات دیں اور ان کو دین کا پیشوا بنادیں اور سرزمین مصر کا ان کو وارث بنائیں۔
Read the full tafseer →وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَي الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ۔۔ : فرعون کے اس ظلم کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کس طرح برداشت کرسکتی تھی، خصوصاً جب مظلوم قوم مسلمان بھی ہو۔ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ ؓ کو یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا : (اِتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ فَإِنَّہُ لَیْسَ بَیْنَھَا وَ بَیْنَ اللّٰہِ حِجَابٌ) [ بخاري، الزکاۃ، باب أخذ الصدقۃ من الأغنیاء۔۔ : 1496 ] ”مظلوم کی بد دعا سے بچ، کیونکہ اس کے درمیان اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔“ یعنی فرعون تو اس مظلوم قوم کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنے پر تلا ہوا تھا، مگر ہمارا ارادہ یہ تھا کہ ان لوگوں پر احسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
طسم اس کے متعلق گفتگو گزر چکی ہے۔ تلک ایت الکتب المبین تلک محل میں ہے یہ ھذہ تلک کے معنی میں ہے آیات اس سے بدل ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ تلو کی وجہ سے محل نصب میں ہو۔ ایٓات اس سے بدل ہو تو اس کو نصب دے گا جس طرح تو کہتا ہے : زید اضربت۔
المبین اس کی برکت اور خیر کو واضح کرنے والی ہے، حق کو باطل سے واضح کرنے والی ہے، حلال کو حرام سے واضح کرنے والی ہے۔ انبیاء کے قصے اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت کو واضح کرنے والی ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : بان الثی، وأبان شے واضح ہوگئی۔ نتلوا علیک من نبا موسیٰ و فرعون بالحق لقوم یومنون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور قارون کے قصہ کا ذکر کیا اور قریش کے مشرکین کے خلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
1۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ اس آیت ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض سے یوسف اور آپ کی اولاد مراد ہے۔
2۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض سے بنواسرائیل مراد ہیں آیت وجنعلہم ائمۃ سے مراد معاملات کے نگران ہیں آیت ونجعلہم الوارثین یعنی فرعون اور اس کی قوم کے بعد وہ زمین کے وارث ہیں آیت ونری فرعون وہامان وجنودہما منہم ماکانوا یحذرون یعنی وہ قوم جن سے ڈرتی تھی۔
3۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ونجعلہم الوارثین یعنی آل فرعون کے…
Read the full tafseer →وَ [ حالانکہ ] نُرِيْدُ [ ہم ارادہ رکھتے تھے ] اَنْ [ کہ ] نَّمُنَّ [ ہم احسان کریں ] عَلَي الَّذِيْنَ [ ان لوگوں پر جن کو ] اسْتُضْعِفُوْا [ کمزور سمجھا گیا ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَنَجْعَلَهُمْ [ اور ہم بنائیں ان کو ] اَىِٕمَّةً [ پیشوا ] وَّنَجْعَلَهُمُ [ اور ہم بنائیں ان کو ائمۃ ][ الْوٰرِثِيْنَ [ وارث ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا صندوق میں رکھ کر انہیں سمندر میں ڈال دینا اور فرعون کے گھر والوں کا ان کو اٹھا لینا، پھر فرعون کے محل میں پرورش پانا
فرعون یہ سن کر کہ میری سلطنت کا زوال بنی اسرائیل کے لڑکے کے ہاتھ ہوگا اس کے توڑ میں لگ گیا اور اس کے نزدیک اس کا توڑ یہ تھا کہ بنی اسرائیل میں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے چناچہ اس کی حکومت کے جاسوس بنی اسرائیل کے رہنے کی جگہوں میں گھومتے پھرتے تھے اور بنی اسرائیل کے جس گھر میں کسی لڑکے کے پیدا ہونے کی خبر ملتی تھی اسے ماں باپ سے چھین کرلے جاتے تھے اور ذبح کر ڈالتے تھے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو ان کی والدہ اپنے بچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–21
تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون
قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں…
Read the full tafseer →6:۔ اب مشیت ایزدی کو منظور ہوا کہ ان مظلوم و مقہور لوگوں پر نظر کرم ہو، انہیں دین و دنیا کے مقتدا بنایا جائے، انہیں فرعون کی حکومت و سلطنت کا وارث بنایا جائے اور ملک مصر پر انہیں حکومت دی جائے۔ فرعون، ہامان اور ان کے لاؤ لشکر کو ان کا وہ انجام دکھایا جائے جس کا انہیں خطرہ تھا۔ ائمۃ مقتدی بھم فی الدین والدنیا علی ما فی البحر (روح ج 20 ص 44) ای قادۃ فی الخیر یقتدی بہم وقیل ولاۃ ملوکا (خازن ج 5 ص 134) ۔ ما کانوا یحذرون۔ جس چیز کا ان کو ڈر اور خطرہ تھا یعنی بنی اسرائیل کے ایک مولود کے ہاتھوں ان کی تباہی اور سلطنت سے محرومی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة القصص ہے ۔ قصص قصہ کی جمع ہے جس کا معنی واقعہ یا کہانی ہوتا ہے ، چونکہ اس سورة میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قارون اور بعض دیگر اقوام کے واقعات مذکور ہیں ۔ اس لیے اس کا نام سورة القصص ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تفصیلی واقعات کی نسبت سے اس سورة کا دوسرا نام سورة موسیٰ بھی بیان کیا جاتا ہے تا ہم زیادہ مشہور زیادہ سورة القصص ہی ہے۔ گزشتہ سورة الشعراء اور سورة النمل کی طرح یہ سورة بھی مکی زندگی کے آخری حصے میں نازل ہوئی ۔ اس کی بعض آیات دوران ہجرت حجفہ کے مقام پر نازل ہوئیں ۔ جن میں آپ کی تسلی دی گئی ہے ۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة ہجرت سے…
Read the full tafseer →وَنُرِيْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَي الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِي الْاَرْضِ وَنَجْعَلَہُمْ اَىِٕمَّۃً وَّنَجْعَلَہُمُ الْوٰرِثِيْنَ 5ۙ
رود
والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17]
( ر و د ) الرود
الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ترکیب : نتلوا کا مفعول محذوف ای شیئاً من نباء اس کی صفت جو اس پر دال ہے۔ اخفش کے نزدیک من زائد تب یہ نباء موسیٰ مفعول ہے، بالحق حال ہے نباء سے۔ نتلوا کے فاعل سے بھی حال ہوسکتا ہے۔ ای نتلوا متلبساً بالحق لقوم لام نتلوا سے متعلق ونری معطوف ہے، نمکن پر اور وہ اور نجعل لمن پر اَنْ کے نیچے فرعون ھامان و جنودھما نری کا اول مفعول ماکانوا یحذرون مفعول دوم منہم تری سے متعلق اور بعض کہتے ہیں یحذرون سے وفیہ مافیہ لان الصلۃ لا تتقدم علی الموصول۔
تفسیر : اس سے پہلے سورة نمل کے خاتمہ میں یہ کہا وان اتلوا القرآن کہ مجھے قرآن سنانے کا حکم ہوا ہے، خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔ اس لیے اس سورة کا ابتداء طسم حروف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
وَنُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَنَجْعَلَھُمْ اَئِمَّۃً وَّنَجْعَلَھُمُ الْوٰرِثِیْنَ ۔ وَنُمَکِّنَ لَہُمْ فِی الْاَرْضِ وَنُرِیَ فِرْعَوْنَ وَھَا مٰـنَ وَجُنُوْدَھُمَا مِنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَحْذَرُوْنَ ۔ (القصص : 5، 6)
(اور ہم چاہتے تھے ان لوگوں پر احسان کریں جنھیں ملک (مصر) میں کمزور بنادیا گیا تھا اور ان کو پیشوا بنائیں اور انھیں (فرعون کے تاج و تخت کا) وارث بنائیں۔ اور ان کو زمین میں اقتدار عطا کریں اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو ان کی جانب سے وہ دکھائیں جن کا وہ اندیشہ رکھتے تھے۔ )
فرعون کے مظالم کے برعکس خدائی فیصلہ
گزشتہ آیت میں فرعون کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ فرعون اس کے ساتھیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ۔
بنی اسرائیل حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں مصر میں برسراقتدار آئے اور مدت دراز تک انہیں اقتدار اور اختیار حاصل رہا لیکن اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے نہ صرف اقتدار سے محروم ہوئے بلکہ مصر میں انھیں حقیر ترین شہری بنا دیا گیا۔ وہ مدّت تک فرعون کے مظالم سہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ جناب موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی بےمثال جدوجہد سے بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے میں کامیابی نصیب ہوئی اور ان کے لیے شام اور فلسطین کی فتح کا دروازہ کھول دیا…
Read the full tafseer →5: وَنُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ (اور ہم چاہتے ہیں کہ ہم احسان کریں) ۔ ہم فضل و مہربانی کریں۔
یہ آیت مسئلہ اصلح میں دلیل ہے۔
نحو : یہ جملہ ان فرعون علا فی الارض پر معطوف ہے۔ کیونکہ نبا ٔ موسیٰ و فرعون کی تفسیر ہونے میں یہ اس کی نظیر ہے۔ اور اس کا بیان ہے۔ نمبر 2۔ یستضعف سے حال ہے۔ یعنی فرعون نے ان کو کمزور بنا رکھا تھا اور ہم ان پر احسان کرنا چاہتے تھے۔
اور ارادئہ الٰہی تو بہر صورت واقع ہونے والا ہے۔ پس اس جملہ کو ان کے استضعاف کے ساتھ بطور مقارنت ذکر کیا۔
عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَنَجْعَلَہُمْ اَپِمَّۃً (ان لوگوں پر جن کو زمین میں کمزور کردیا گیا تھا اور ہم ان کو پیشوا…
Read the full tafseer →5۔ ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض، اس سے مراد بنی اسرائیل ہے۔ ونجعلھم ائمۃ، جو نیک راستے پرچلنے والے اور ان کی اقتداء کرنے والے۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد والیا ن ملک اور بادشاہ مراد ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے متعلق اور آیت میں فرمایا، وجعلم ملوکا، مجاہد کے نزدیک دینی پیشوا اور داعیان خیرمراد ہیں۔ ونجعلھم الوارثین، یعنی فرعون اور اس کی قوم کے گھروں اور ملک ومالک کے وارث بنادیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
3 تا 7۔ اوپر گزر چکا ہے کہ فرعون نے ایک رات کو سوتے میں خواب دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ مصر میں آن کر پھیل گئی اور فرعون کی قوم کے تمام گھر تو اس آگ میں جل گئے لیکن مصر میں بنی اسرائیل کا محلہ اس آگ سے بچ گیا ہے صبح کو فرعون جب سو کر اٹھا تو اس نے اپنے نجومیوں اور جادو گروں کو جمع کر کے اس خواب کی تعبیر پوچھی انہوں نے کہا بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جس کے ہاتھوں سے تیری بادشاہت غارت ہوجائے گی اور مصر کو صدمہ پہنچے گا اس خواب اور اس تعبیر کے ڈر سے فرعون نے بنی اسرائیل کے لڑکوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا تھا۔ جب ہزارہا لڑکے بنی اسرائیل کے قتل ہونے لگے تو فرعون کی قوم کے سرداروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →7 بنی اسرائیل کو پیشوا بنانے کا خدائی فیصلہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور ہم چاہتے تھے کہ انکو پیشوا بنادیں "۔ یعنی فرعون اور اس کی قوم کی پوری کوشش تو یہ تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو کسی بھی صورت ابھرنے نہ دیں لیکن ہمارا فیصلہ یہ تھا کہ ہم ان کو پیشوا بنادیں۔ یعنی دین و دنیا میں تاکہ یہ حق و ہدایت کے مطابق لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کریں۔ اور لوگ ان کی اقتداء و پیروی کریں۔ امامت و پیشوائی اپنے عموم کے ساتھ اگرچہ دینی اور دنیاوی دونوں قسم کی پیشوائی کو عام اور شامل ہے لیکن یہاں پر چونکہ وراثت کا ذکر آگے آرہا ہے جس کا تعلق یہاں دنیاوی وراثت و پیشوائی ہی سے ہے اس لیے یہاں پر امامت و پیشوائی سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اور پرورش
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ قرآن پاک میں بار بار آیا ہے۔ سورة کہف میں خضر (علیہ السلام) کے ساتھ آیا ہے پھر سورة طہٰ میں سورة نمل میں اور اب سورة قصص میں کچھ کچھ حصہ ضرورت کے مطابق آیا ہے۔ یہاں تدبیر الٰہی کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ فرعون نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام اسرائیلی نوزائیدہ بچوں کو قتل کردینے کا حکم دے رکھا تھا۔ مگر اللہ کی تدبیر کے سامنے وہ اندھا ہوگیا اور اسی خاص اسرائیلی بچے کو خود پرورش کیا جو اس کا اصل دشمن تھا۔ اور اللہ نے اپنی حکمت اور تدبیر سے اس بچے کو اس کی ماں کے سپرد بھی کروا دیا بلکہ ماں کو دودھ پلانے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
سورة القصص
آیات 1 تا 13
اسرار و معارف
طسم۔ وہ آیات ایسی کتاب کی ہیں جو حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے۔ اور یہاں آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعی اور اس کی حقیقت کا بیان سنایا جائے ا کہ مومنین کو اس سے مزید عبرت حاصل ہو۔ قرآن اگرچہ مخاطب تو ساری انسانیت کو کرتا ہے مگر اس سے فائدہ وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جنہیں ایمان نصیب ہوتا ہے۔
بے شک فرعون اپنی سرزمین میں بہت طاقتور شاہنشاہ تھا اور اس نے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔
لفظ شیعہ :
یہ پہلے بھی گزر چکا کہ شیعہ کا لفظی تر جمہ گروہ ، پارٹی یا جماعت ہے مگر قرآن کریم نے ہمیشہ گمراہ لوگوں کے ٹولہ پر اس کا اطلاق کیا ہے۔ جیسے اس جگہ کہ…
Read the full tafseer →5 ۔ یعنی فرعون اور اس کی قوم کو جو غلبہ و اقتدار حاصل ہے وہ آئندہ انہیں حاصل ہو اور فرعون کی سلطنت کے وارث بنیں۔ (اعراف :137)
Read the full tafseer →(28:5) نرید۔ مضارع جمع متکلم ارادۃ (افعال) مصدر۔ ہم چاہتے ہیں ۔ یہاں مضارع بمعنی ماضی آیا ہے۔ ہم نے ارادہ کیا۔ ہم نے چاہا۔ رود مادہ۔
ان لمن۔ نمن مضارع جمع متکلم من مصدر۔ باب نصر۔ منصوب بوجہ عمل ان کہ ہم احسان کریں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیہم رسولا من انفسھم (3:164) بیشک اللہ نے بڑا احسان کیا ہے مؤمنوں پر کہ انہی میں سے ایک پیغمبر ان میں بھیجا۔ اور یایھا الذین امنوا لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی (2:624) اے ایمان والو اپنے صدقات کو احسان (جتا کر) اور اذیت (دے کر) ضائع مت کرو۔
استضعفواماضی مجہول جمع مذکر غائب استضعاف (استفعال) مصدر ضعف مادہ وہ کمزور سمجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 :
نتلوا (ہم پڑھتے ہیں) نبا (خبر۔ حال) ‘ علا (اس نے سرکشی کی) شیع (فرقے۔ گروہ) ‘ یستضعف (وہ کمزور کرتا ہے) ‘ یذبح (وہ ذبح کرتا ہے) یستحی (وہ زندہ رکھتا ہے) ‘ نمن (ہم احسان کرتے ہیں) ‘ ائمۃ (امام) پیشوا۔ رہنما ‘ نری (ہم دکھائیں گے) ‘ یحذرون (وہ ڈرتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 :
سورۃ القصص کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے۔ یہ وہ حروف ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو حاصل ہے۔ ممکن ہے ان حروف کے معنی اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو بتادیئے ہوں اور آپ نے امت کو بتانا ضروری نہ سمجھا ہو۔ لہٰذا ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ ان حروف کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا ذکر۔
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ فرعون تو اپنا مکر کررہا تھ اور تم یہ ارادہ کررہے تھے کہ جو لوگ زمین میں ذلیل اور ناتواں سمجھے گئے ہیں یعنی اسرائیل پر اپنا فضل کریں اور نجات دیں اور ان کو امام بنائیں اور اس ملک کا وارث اور مالک بنائیں اور اس زمین میں ان کو قابض کردیں اور دکھائیں فرعون اور اس کے وزیر ہامان اور ان دونوں کے لشکروں کو اس بنی اسرائیل سے وہ چیز جس کا ڈر تھا کہ یہ ملک کہیں ہمارے قبضہ سے نہ نکل جائے فرعون تو یہ تدبیریں کررہا تھا کہ جابجا جاسوس بٹھارکھے تھے جب کسی عورت کو حمل ہوتا تھا تو وضع حمل تک نگرانی کی جاتی تھی پھر اگر لڑکا پیدا ہوتا ذبح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[4] ہامان فرعون کا وزیر تھا جو ظلم و استبداد میں اس کا شریک اور آلہ کار تھا۔
Read the full tafseer →ف 1: ارشاد ہے کہ ایک طرف تو فرعون نے لوگوں کو ذلیل ٹھہرانے کی ٹھانی ، اور دوسری طرف ہم نے ارادہ کرلیا ۔ کہ غریبوں اور کمزوروں کی مدد کریں گے ۔ ان کو شرف وعزت کی نعمتوں سے نوازیں گے ۔ انہیں لوگوں کے لئے نمونہ بنائیں گے ۔ اور ارض مصر کی وراثت بخشیں گے ! اور فرعون وہامان کو بتائیں گے ۔ کہ تمہاری کوششیں بارآور نہیں ہوسکتیں اور اب تم بنی اسرائیل کو زیادہ دیر غلام نہیں رکھ سکتے
حل لغات :۔ آئمۃ ۔ قائدین ۔ امام کی جمع ہے
Read the full tafseer →5۔ اور ہم کو یہ منظور تھا اور ہم نے یہ ارادہ کیا کہ ہم ان لوگوں پر جن کو ملک مصر میں کمزور کردیا گیا تھا احسان کریں اور ہم انہی کمزوروں کو امام اور پیشوا بنائیں اور ہم انہی کمزوروں کو ملک کا مالک بنائیں۔ یعنی جن لوگوں پر ظلم کر کے ان کمزور اور ذلیل و خوار کر رکھا تھا اور جن کو غلامی کی پست زندگی گزارنے پر مجبور کردیا گیا تھا۔ ہمارا منشاء یہ تھا کہ ہم ان پر احسان فرمائیں اور ہم ان بنی اسرائیل کو پیشوا بنائیں اور ان کو نبی اور مقتدا مقرر کریں اور ان کو ملک مصر کا مالک بنائیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 5۔ مراد اس سے زوال سلطنت و ہلاکت ہے کہ اسی سے بچاو کرنے کے لئے ابناء بنی اسرائیل کو بنا بر تعبیر ایک خواب کے جو فرعون نے دیکھا تھا اور نجومیوں نے تعبیر دی تھی قتل کر رہا تھا، پس ہمارے قضا و قدر کے سامنے ان لوگوں کی تدبیر کچھ کام نہ آئی۔
Read the full tafseer →کمزور لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے احسان کا ارادہ کیا تو انکو ملک کا وارث بنا دیا :
5۔ یہ آیت گویا موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش سے لے کر فرعون کی ہلاکت تک کے سارے مضمون پر محیط ہے اور اس طرح تقریبا ایک صد سالہ زندگی کی پوری روئیداد اس میں بیان کردی گئی ہے ، فرعون اور اس کی قوم یا اس کے اعوان وانصار کی اسکیم کیا تھی ؟ یہی کہ وہ لوگ جو ملک میں کمزور ہوچکے ہیں ان کو کمزور سے کمزور بنا دیا جائے تاکہ اس بات کا خطرہ مکمل طور پر ٹل جائے کہ کبھی یہ لوگ بھی حکومت کے اہل ہو سکتے ہیں ، ادھر اللہ تعالیٰ نے یہ ارادہ کیا کہ وہ لوگ جو اس وقت ملک کے حصہ مغرب سے لے کر مشرک تک کمزور سے کمزور تر بنا دیئے گئے ہیں اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً ؓ (And We intended to favour those who were held as weak in the land and to make them leaders - 28:5). In this verse it is emphasized that the plan of the Pharaoh was not equal to that of the divine fate, rather it turned out to be completely ineffective and he and his entire courtiers were befooled. On the basis of the dream and it's interpretation about an Isra'ili boy from whom the life of the Pharaoh was at risk, and because of which hundreds of newly born Isra'ili male issues were put to death…
Read the full tafseer →6 That is, "Make them leaders and guides of the people in the world."
Read the full tafseer →