Explained with ayahs 1–6
حروف مقطعہ کا بیان پہلے ہوچکا ہے۔
یہ آیتیں ہیں واضح جلی روشن صاف اور کھلے قرآن کی تمام کاموں کی اصلیت اب گذشتہ اور آئندہ کی خبریں اس میں ہیں اور سب سچی اور کھلی۔ ہم تیرے سامنے موسیٰ اور فرعون کا سچا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے ہم تیرے سامنے بہترین واقعہ بیان کرتے ہیں۔ اس طرح کہ گویا تو اس کے ہونے کے وقت وہیں موجود تھا۔ فرعون ایک متکبر سرکش اور بددماغ انسان تھا۔ اس نے لوگوں پر بری طرح قبضہ جمارکھا تھا اور انہیں آپس میں لڑوا لڑوا کر ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈلوا کر انہیں کمزور کرکے خود ان پر جبر وتعدی کے ساتھ سلطنت کر رہا تھا۔ خصوصا بنی اسرائیل کو تو اس ظالم نے نیست ونابود کرنے کا…
Read the full tafseer →سورة القصص 3
اصل میں لفظ علا فی الارض استعمال ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے زمین میں سر اٹھایا، باغیانہ روش اختیار کی، اپنی اصل حیثیت یعنی بندگی کے مقام سے اٹھ کر خود مختاری اور خداوندی کا روپ دھار لیا، ماتحت بن کر رہنے کے بجائے بالادست بن بیٹھا، اور جبار و متکبر بن کر ظلم ڈھانے لگا۔
سورة القصص 4
یعنی اس کی حکومت کا قاعدہ یہ نہ تھا کہ قانون کی نگاہ میں ملک کے سب باشندے یکساں ہوں اور سب کو برابر کے حقوق دیے جائیں، بلکہ اس نے تمدن و سیاست کا یہ طرز اختیار کیا کہ ملک کے باشنوں کو گروہوں میں تقسیم کیا جائے، کسی کو مراعات و امتیازات دے کر حکمراں گروہ ٹھہرایا جائے اور کسی کو محکوم بنا کر یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
معارف و مسائل
سورة قصص مکی سورتوں میں سب سے آخری سورت ہے جو ہجرت کے وقت مکہ مکرمہ اور جحفہ (رابغ) کے درمیان نازل ہوئی۔ بعض روایات میں ہے کہ سفر ہجرت میں جب رسول اللہ ﷺ جحفہ یعنی رابغ کے قریب پہنچے تو جبرئیل امین تشریف لائے اور رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اے محمد ﷺ کیا آپ کو آپ کا وطن جس میں آپ پیدا ہوئے یاد آتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہاں ضرور یاد آتا ہے۔ اس پر جبرئیل امین نے یہ سورت قرآن سنائی جس کے آخر میں آنحضرت ﷺ کو اس کی بشارت ہے کہ انجام کار مکہ مکرمہ فتح ہو کر آپ کے قبضہ میں آئے وہ آیت یہ ہے اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَاۗدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ ، سورة قصص میں سب سے پہلے حضرت…
Read the full tafseer →اصل سرگزشت سے پہلے یہ اور اس کے بعد کی دو آیتیں اس غایت و مقصد کو سامنے کردینے کے لئے وارد ہوئی ہیں جس کو پیش نظر رکھ کر بہ سنائی جا رہی ہے۔ قرآن میں یہ اسلوب متعدد مقامات میں اختیار کیا گیا ہے کہ کوئی سرگزشت سنانے سے پہلے وہ مدعا مختصر الفاظ میں قاری کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے جو اس کے سنانے سے پیش نظر ہوتا ہے تاکہ سرگزشت کے پھیلائو میں اصل حقیقت قاری کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہونے پائے۔ سورة کہف میں اسکی مثال گزر چکی ہے۔
ان قرعون علانی الارض زمین میں علو (سرکشی) یہ ہے کہ زمین کے اصل خالق ومالک کی مرضی اور اس کے احکام کو نظر انداز کر کے کوئی اس میں اپنی من مانی کرنے لگے جائے اور خدا کے بندوں کو…
Read the full tafseer →4-1یعنی ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا تھا اور اپنے کو بڑا معبود کہلاتا تھا۔
4-2جن کے ذمے الگ الگ کام اور ڈیوٹیاں تھیں۔
4-3اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں، جو اس وقت کی افضل ترین قوم تھی لیکن آزمائش کے طور پر فرعون کی غلام اور اس کی ستم زانیوں کا تختہ مشق بنی ہوئی تھی۔
4-4جس کی وجہ بعض نجومیوں کی پیش گوئی تھی کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ایک بچے کے ہاتھوں فرعون کی ہلاکت اور اس کی سلطنت کا خاتمہ ہوگا۔ جس کا حل اس نے یہ نکالا کہ ہر پیدا ہونے والا اسرائیلی بچہ قتل کردیا جائے۔ حالانکہ اس احمق نے یہ نہیں سوچا کہ اگر کاہن سچا ہے تو ایسا یقینا ہو کر رہے گا چاہے وہ بچے قتل کرواتا رہے اور اگر وہ جھوٹا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
1: جیسا کہ سورة طٰہٰ :36 کے حاشیے میں ہم نے عرض کیا ہے، فرعون کو کسی نجومی نے یہ کہہ دیا تھا کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص تمہاری سلطنت ختم کرے گا، اس لیے اس نے یہ حکم جاری کردیا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو کوئی بچہ پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے۔ جب حضرت موسیٰ ؑ پیدا ہوئے تو ان کی والدہ کو فکر ہوئی کہ ان کو بھی فرعون کے آدمی قتل کر ڈالیں گے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پر الہام فرمایا کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریائے نیل میں ڈال دو۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے پاس پہنچ گیا اور فرعون کے کارندوں نے بچے کو اٹھا کر فرعون کے پاس پیش کیا، اور اس کی بیوی حضرت…
Read the full tafseer →ونری فرعون ۔۔۔۔۔ کانوا یحذرون (28: 6) ”“۔ جس طرح پورے قرآن میں قرآن کریم کا انداز بیان قصص ہوتا ہے ۔ قصہ فرعون و کلیم کو بھی یہاں مناظر کی شکل میں لایا گیا ہے۔ ان مناظر کے درمیان ان کڑیوں کو حذف کردیا گیا ہے۔ جن کو انسان کی قوت متحیلہ خود بخود نظروں کے سامنے لے آتی ہے ، لہٰذا دو مناظر کے درمیان جو کڑیاں ترک کردی جاتی ہیں۔ ان کے بارے میں انسان لاعلم نہیں رہتا ، بلکہ انسان کی قوت متحیلہ پر دہ خیال پر ان واقعات کو لے آتی ہے۔ یوں ظاہری اسکرین کے ساتھ ساتھ پردہ خیال پر بھی مناظر آتے اور جاتے رہتے ہیں۔
اس قصے کا پہلا حصہ پانچ مناظر ، دوسرا نو مناظر ، تیسرا حصہ چار مناظر پر مشتمل ہے۔ اور ان مناظر…
Read the full tafseer →6 یعنی " مصر " میں قبطی بھی آباد تھے جو فرعون کی قوم تھی اور سبطی بھی جو " بنی اسرائیل " کہلاتے تھے لیکن فرعون ظلم وتکبر کی راہ سے " بنی اسرائیل " کو پنپنے اور ابھرنے نہیں دیتا تھا۔ گویا سب قبطی آقا بنے ہوئے تھے اور پیغمبروں کی اولاد بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا رکھا تھا۔ ان سے ذلیل کام اور بیگاریں لیتے اور کسی طرح اس قابل نہ ہونے دیتے کہ ملک میں وہ کوئی قوت و وقعت حاصل کرسکیں۔
7 کہتے ہیں فرعون نے کوئی خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر کاہنوں نے یہ دی کہ کسی اسرائیلی کے ہاتھ سے تیری سلطنت برباد ہوگی۔ اس لیے پیش بندی کے طور پر یہ احمقانہ اور ظالمانہ تدبیر سوچی کہ بنی اسرائیل کو ہمیشہ کمزور کرتے رہنا…
Read the full tafseer →وَجَعَلَ اَہْلَہَا شِیَعًا ”
فرعون نے مصر کے عوام کو دو طبقوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ایک طبقہ حاکم تھا اور دوسرا محکوم۔ یعنی قبطی قوم حاکم تھی جبکہ بنی اسرائیل ان کے محکوم تھے۔
یَّسْتَضْعِفُ طَآءِفَۃً مِّنْہُمْ ”
بنی اسرائیل کو اس نے محکومی اور غلامی کے شکنجے میں جکڑ رکھا تھا اور ان پر وہ بہت سختی کا برتاؤ کرتا تھا۔
Read the full tafseer →4 یعنی فرعون نے سر اٹھا رکھا تھا۔ اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھنے لگا تھا، لوگوں پر ظلم و زیادتی میں حد سے بڑھنے لگا تھا۔ اپنے آپ کو بندگی کے مقام سے اٹھا کر مکمل خود مختاری کے مقام تک لے گیا تھا اور سخت باغیانہ روش اختیار کر رکھی تھی۔ بعد میں فرعون کا لفظ لغوی لحاظ سے متکبر، سرکش اور متمرد کے معنوی میں استعمال ہونے لگا ہے۔
5 اپنی حکومت کو مستحکم کرنے اور مستحکم بنائے رکھنے کے سلسلہ میں اس کی سیاسی پالیسی یہ تھی کہ اس نے اپنی رعایا میں طبقاتی تقسیم پیدا کردی تھی۔ ایک تو اس کی اپنی قوم یا مصر کے قدیم باشندے تھے جنہیں قبطی کہتے ہیں اور یہ معزز طبقہ تھا۔ سرکاری مناصب بھی انھیں ہی مل سکتے تھے اور…
Read the full tafseer →2۔ ملک سے مراد ملک مصر ہے (آیت) ” الارض “ کا اطلاق جس طرح سارے روئے زمین پر ہوتا ہے اسی طرح اس کے ہر ٹکڑے پر (آیت) ” طآئفۃ منھم “۔ یعنی بنی اسرائیل یہ فرعون کونسا تھا، کس زمانہ میں تھا۔ اس کے مظالم کی کیا نوعیت تھی، اسی قسم کے سارے سوالات کے جوابات تفسیر کے ابتدائی حصوں میں آچکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
آیت نمبر 1 تا 13
ترجمہ : طٓسمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے یہ آیات مبین کی آیات ہیں آیات الکتاب میں اضافت بمعنی من اور مبین سے حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی آیات ہیں ہم آپ کے سامنے موسیٰ و فرعون کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں (یعنی) مومنین کے لئے اس لئے کہ وہی اس قصہ سے استفادہ کرتے ہیں یقیناً فرعون نے سرزمین مصر میں سرکشی کر رکھی تھی اور مصر کے باشندوں کو اپنی خدمت کے لئے فرقوں میں تقسیم کر رکھا تھا ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا اور وہ بنی اسرائیل تھے ان کے نومود لڑکوں کو قتل کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا…
Read the full tafseer →ان فرعون علا فی الارض وجعل اھلھا شیعا . فرعون سرزمین (مصر) میں بہت بڑھ چڑھ گیا تھا اور
اس نے وہاں کے باشندوں کو مختلف قسمیں بنا رکھا تھا۔
عَلا یعنی مغرور ‘ متکبر اور جابر بن گیا تھا (مطلب یہ کہ بڑا اور عالی مرتبہ واقع میں تو اتنا نہ تھا ‘ اونچا ہونے کا مدعی تھا ‘ مغرور ہوگیا تھا۔ مترجم) ۔
اَ لْاَرْض سے مراد ہے مصر کی سرزمین (یعنی اَ لْاَرْض میں الف لام عہد خارجی کے لئے ہے جس سے مصر کی سرزمین کی طرف اشارہ ہے۔ مترجم) ۔
شِیَعًا فرقے فرقے۔ کہ سب فرعون کے تابع تھے ‘ فرعون جو کام لینا چاہتا تھا وہ کرتے تھے۔ یا ایک دوسرے کا پیرو اور تابع تھا۔ یا یہ مطلب کہ اس نے رعایا کے الگ الگ فرقے بنا رکھے تھے۔…
Read the full tafseer →(4) غرض کہ فرعون سرزمین مصر میں بہت بڑھ چڑھ گیا تھا اور اس نے ان کے باشندوں کی مختلف جماعتیں بنا رکھی تھیں۔ ان جماعتوں میں سے بنی اسرائیل زور کم کردیا تھا، اس طرح کہ انکے بیٹوں کو ذبح کراتا تھا اور ان کی عورتوں سے خدمت لیتا تھا، واقعی وہ بڑا فساد پھیلانے والا، کفر وشرک اور قتل و غارت گری میں حد سے بڑھا ہوا تھا۔
Read the full tafseer →اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْاَرْضِ : ”الْاَرْضِ“ سے مراد سرزمین مصر ہے، جس کا قرینہ فرعون کا ذکر ہے، کیونکہ اس کی حکومت صرف مصر میں تھی۔ جو لوگ اسے پوری زمین کا بادشاہ سمجھتے ہیں ان کی بات درست نہیں، کیونکہ ہجرت کے بعد مصر کے قریب ہی مدین پہنچنے پر موسیٰ ؑ اس کی گرفت سے آزاد تھے۔ ”عَلَا“ کا لفظی معنی ہے ”اس نے سر اٹھایا، اونچا بن گیا“ یعنی اپنے اصل مقام بندگی سے اونچا ہو کر خدائی کا دعویٰ کر بیٹھا اور اپنی حقیقت کو بھول گیا۔ ”فِي الْاَرْضِ“ کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ بلندی اور کبریائی تو اس ذات کا لباس ہے جو عرش پر بلند ہے، زمین پر رہنے والے کا حق تو عرش والے کے سامنے پستی اور عاجزی ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
طسم اس کے متعلق گفتگو گزر چکی ہے۔ تلک ایت الکتب المبین تلک محل میں ہے یہ ھذہ تلک کے معنی میں ہے آیات اس سے بدل ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ تلو کی وجہ سے محل نصب میں ہو۔ ایٓات اس سے بدل ہو تو اس کو نصب دے گا جس طرح تو کہتا ہے : زید اضربت۔
المبین اس کی برکت اور خیر کو واضح کرنے والی ہے، حق کو باطل سے واضح کرنے والی ہے، حلال کو حرام سے واضح کرنے والی ہے۔ انبیاء کے قصے اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت کو واضح کرنے والی ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : بان الثی، وأبان شے واضح ہوگئی۔ نتلوا علیک من نبا موسیٰ و فرعون بالحق لقوم یومنون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور قارون کے قصہ کا ذکر کیا اور قریش کے مشرکین کے خلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کی باتوں میں سے ایک بات یہ ہے کہ اس نے انی نیند میں ایک خواب دیکھا کہ ایک آگ بیت المقدس سے آئی یہاں تک کہ اس نے مصر کے تمام تھروں کو گھیرلیا قبطیوں کو جلادیا ہے۔ اور بنی اسرائیل کو چھوڑد یا ہے یہ خواب دیکھنے بعد اس نے جادوگروں کو کاہنوں کو فال پکڑنے والوں کو بلایا زجرہ سے مراد فال پکڑنے والے ہیں۔ پرندوں کو اڑاتے ہیں اس نے ان سے اپنے خواب کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرعون سے کہا ایک آدمی اس شہر سے جہاں بنواسرائیل آئے ہیں یعنی بیت المقدس سے نکلے گا اس کی وجہ سے مصر تباہ و برباد ہوجائے گا یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو…
Read the full tafseer →اِنَّ فِرْعَوْنَ [ بیشک فرعون نے ] عَلَا [ سرکشی کی ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَجَعَلَ [ اور اس نے بنایا ] اَهْلَهَا [ اس کے لوگوں کو ] شِيَعًا [ فرقہ (میں) يَّسْتَضْعِفُ [ وہ کمزور سمجھتا تھا ] طَاۗىِٕفَةً [ ایک گروہ کو ] مِّنْهُمْ [ ان میں سے ] يُذَ بِّحُ [ اس حال میں کہ وہ ذبح کرتا تھا ] اَبْنَاۗءَهُمْ [ ان کے بیٹوں کو ] وَيَسْتَحْيٖ [ اور زندہ رکھتا تھا ] نِسَاۗءَهُمْ ۭ [ ان کی عورتوں کو ] اِنَّهٗ كَانَ [ بیشک وہ تھا ] مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ [ نظم بگاڑنے والوں میں سے ]
نوٹ۔ ا : بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرنے اور بیٹیوں کو زندہ رکھنے کے متعلق بائبل میں جو تشرح ملتی ہے اس سے معلوم ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
فرعون کی سرکشی اور بنی اسرائیل پر مظالم کا تذکرہ
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں پھر فرمایا کہ آپ کو موسیٰ اور فرعون کی بعض خبروں کو حق کے ساتھ بالکل ٹھیک ٹھیک آپ کو سناتے ہیں آپ کے واسطہ سے یہ خبریں اہل ایمان کو پہنچیں گی اور وہ ان سے عبرت حاصل کریں گے۔
پھر فرمایا کہ فرعون زمین میں یعنی سر زمین مصر میں حکومت اور اقتدار کے اعتبار سے بڑھ چڑھ گیا تھا۔ اس نے وہاں کے رہنے والوں کو کئی جماعتوں میں تقسیم کر رکھا تھا انہیں جماعتوں میں سے ایک جماعت بنی اسرائیل کی تھی ان کو اس نے ضعیف بنا رکھا تھا اور ان کے ضعف اور مجبوری کا یہ عالم تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–21
تفصیل قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون
قال اللہ تعالیٰ ان فرعون علا فی الارض۔۔۔۔ الی۔۔۔۔ ولکن اکثرہم لا یعلمون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کا نہایت اجمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا اب آئندہ رکوعات میں اس کی تفصیل فرماتے ہیں اور یہ قصہ اگرچہ سورة شعرا اور سورة نمل میں جو ایجاز اور اختصار تھا اس سورت میں اس کی شرح اور تفصیل ہے چناچہ فرماتے ہیں تحقیق فرعون اللہ کی زمین میں تکبر اور تجبر اور طغیان اور سرکشی پر اتر آیا زمین کے باشندہ میں تو یہ قدرت نہیں کہ وہ بلندی میں ہوا کا مقابلہ کرسکے۔ چہ جائیکہ آسمان کی بلندی پر پہنچ سکے اس کی سرکشی نے تو حد ہی کردی۔ زمین پر بیٹھ کر زمین والوں…
Read the full tafseer →4:۔ فرعون ارض مصر میں سرکش ہوگیا ہے اور ظلم وعدوان کی انتہا کو پہنچ گیا۔ وجعل اھلہا شیعا الخ، مصر کے لوگوں کو مختلف جماعتوں میں تقسیم کردیا اور ان سے مختلف قسم کی شدید اور شاق خدمات لیتا تھا یا مطلب یہ ہے کہ رعیت کو مختلف فرقوں میں پارہ پارہ کردیا اور ان کے درمیان بغض و عداوت کا بیج بو دیا تاکہ وہ متفق نہ ہوسکیں اور آپس کے اختلافات میں لگے رہیں اور اس کے نیک وبد کاموں پر کسی کو نقد و تبصرہ کا موقع ہی نہ ملے۔ انگریزوں کی بعینہ یہی پالیسی تھی بلکہ ہر ظالم اور جابر حکمران یہی پالیسی اختیار کرتا ہے۔ اصنافا فی است خدا مہ لیستعمل کل صنف فی عمل من بناء و حرث و حفر وغیر ذلک من الاعمال الشاقۃ او فرقا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة القصص ہے ۔ قصص قصہ کی جمع ہے جس کا معنی واقعہ یا کہانی ہوتا ہے ، چونکہ اس سورة میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قارون اور بعض دیگر اقوام کے واقعات مذکور ہیں ۔ اس لیے اس کا نام سورة القصص ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تفصیلی واقعات کی نسبت سے اس سورة کا دوسرا نام سورة موسیٰ بھی بیان کیا جاتا ہے تا ہم زیادہ مشہور زیادہ سورة القصص ہی ہے۔ گزشتہ سورة الشعراء اور سورة النمل کی طرح یہ سورة بھی مکی زندگی کے آخری حصے میں نازل ہوئی ۔ اس کی بعض آیات دوران ہجرت حجفہ کے مقام پر نازل ہوئیں ۔ جن میں آپ کی تسلی دی گئی ہے ۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة ہجرت سے…
Read the full tafseer →اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْاَرْضِ وَجَعَلَ اَہْلَہَا شِيَعًا يَّسْتَضْعِفُ طَاۗىِٕفَۃً مِّنْہُمْ يُذَبِّحُ اَبْنَاۗءَہُمْ وَيَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَہُمْ 0 ۭ اِنَّہٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ 4
علا
العُلْوُ : ضدّ السُّفْل، والعُلْوِيُّ والسُّفْليُّ المنسوب إليهما، والعُلُوُّ : الارتفاعُ ، وقد عَلَا يَعْلُو عُلُوّاً وهو عَالٍ وعَلِيَ يَعْلَى عَلَاءً فهو عَلِيٌّ فَعَلَا بالفتح في الأمكنة والأجسام أكثر . قال تعالی:
عالِيَهُمْ ثِيابُ سُندُسٍ [ الإنسان/ 21] . وقیل : إنّ ( عَلَا) يقال في المحمود والمذموم، و ( عَلِيَ ) لا يقال إلّا في المحمود، قال : إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلا فِي الْأَرْضِ [ القصص/ 4]
( ع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ترکیب : نتلوا کا مفعول محذوف ای شیئاً من نباء اس کی صفت جو اس پر دال ہے۔ اخفش کے نزدیک من زائد تب یہ نباء موسیٰ مفعول ہے، بالحق حال ہے نباء سے۔ نتلوا کے فاعل سے بھی حال ہوسکتا ہے۔ ای نتلوا متلبساً بالحق لقوم لام نتلوا سے متعلق ونری معطوف ہے، نمکن پر اور وہ اور نجعل لمن پر اَنْ کے نیچے فرعون ھامان و جنودھما نری کا اول مفعول ماکانوا یحذرون مفعول دوم منہم تری سے متعلق اور بعض کہتے ہیں یحذرون سے وفیہ مافیہ لان الصلۃ لا تتقدم علی الموصول۔
تفسیر : اس سے پہلے سورة نمل کے خاتمہ میں یہ کہا وان اتلوا القرآن کہ مجھے قرآن سنانے کا حکم ہوا ہے، خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔ اس لیے اس سورة کا ابتداء طسم حروف…
Read the full tafseer →اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلاَ فِی الْاَرْضِ وَجَعَلَ اَھْلَھَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَـآئِفَۃً مِّنْھُمْ یُذَبِّحُ اَبْـنَـآئَ ھُمْ وَیَسْتَحْیِ نِسَآئَ ھُمْ ط اِنَّـہٗ کَانَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ۔ (القصص : 4)
(بیشک فرعون سرزمینِ مصر میں بہت سرکش ہوگیا تھا اور اس نے اس کے باشندوں کو مختلف گروہوں میں تقسیم کردیا تھا، ان میں سے ایک گروہ کو اس نے دبا رکھا تھا، ان کے لڑکوں کو قتل کرتا اور ان کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا، بیشک وہ فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔ )
سرگزشت کے مقصد کے اہم اجزاء
اصل سرگزشت شروع کرنے سے پہلے یہ اور اس کے بعد کی دو آیتوں میں اس غایت و مقصد کو سامنے رکھ دیا گیا ہے جو اس سرگزشت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ فرعون اس کے ساتھیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ۔
بنی اسرائیل حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں مصر میں برسراقتدار آئے اور مدت دراز تک انہیں اقتدار اور اختیار حاصل رہا لیکن اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے نہ صرف اقتدار سے محروم ہوئے بلکہ مصر میں انھیں حقیر ترین شہری بنا دیا گیا۔ وہ مدّت تک فرعون کے مظالم سہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ جناب موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی بےمثال جدوجہد سے بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے میں کامیابی نصیب ہوئی اور ان کے لیے شام اور فلسطین کی فتح کا دروازہ کھول دیا…
Read the full tafseer →4: اِنَّ فِرْعَوْنَ (بیشک فرعون) ۔ نحو : یہ جملہ مستانفہ ہے مجمل کی تفسیر کی طرح ہے۔ گویا کوئی اس طرح کہہ رہا ہے۔ ان کی خبر کس طرح ہوگی۔ تو فرمایا بیشک فرعون نے تکبر کیا۔ عَلَا (سرکشی کی) اور ظلم میں انتہاء کو پہنچ گیا۔ نمبر 2۔ تکبر کیا اور اپنے آپ پر فخر کرنے لگا۔ اور اپنی غلامی کو بھول گیا۔ فِی الْاَرْضِ (زمین میں) یعنی سرزمین مصر میں۔ وَجَعَلَ اَہْلَہَا شِیَعًا (اور اس کے رہنے والوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا ) ۔ ایک گروہ اس کے ارادوں میں اس کا ساتھ دینے والا اور اطاعت کرنے والا تھا۔ ان میں سے کسی کو اختیار نہ تھا کہ وہ اس کی گردن کو خلاف ارادہ موڑ دے۔ نمبر 2۔ مختلف گروہوں میں بانٹ دیا۔ ایک…
Read the full tafseer →4۔ ان فرعون علا، اس نے تکبر کیا مغرور ہوگیا، اور ظالم بن گیا۔ فی الارض، مصر کی زمین میں ، وجعل اھلھا شیعا، فرقے فرقے کہ سب فرعون کے تابع تھے، فرعون جو کام لیناچاہتا تھا وہ کرتے تھے۔ یستضعف طائفۃ منھم، طائفہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ پھر استضعاف کی وضاحت کردی اور فرمایا ، یذبح ابناء ھم ویستحی نساء ھم، ان کو استضعاف اس لیے فرمایا کیو کہ یہ اس سے عاجز تھے یا اپنے آپ سے اس ظلم کو دور کرنے سے عاجز تھے ، انہ کان من المفسدین ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
3 تا 7۔ اوپر گزر چکا ہے کہ فرعون نے ایک رات کو سوتے میں خواب دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ مصر میں آن کر پھیل گئی اور فرعون کی قوم کے تمام گھر تو اس آگ میں جل گئے لیکن مصر میں بنی اسرائیل کا محلہ اس آگ سے بچ گیا ہے صبح کو فرعون جب سو کر اٹھا تو اس نے اپنے نجومیوں اور جادو گروں کو جمع کر کے اس خواب کی تعبیر پوچھی انہوں نے کہا بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جس کے ہاتھوں سے تیری بادشاہت غارت ہوجائے گی اور مصر کو صدمہ پہنچے گا اس خواب اور اس تعبیر کے ڈر سے فرعون نے بنی اسرائیل کے لڑکوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا تھا۔ جب ہزارہا لڑکے بنی اسرائیل کے قتل ہونے لگے تو فرعون کی قوم کے سرداروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →4 فرعون بڑا سرکش ہوگیا تھا : کہ اس نے خدائی کا دعوی کرلیا تھا اور۔ { اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلٰی } ۔ کا نعرہ لگا دیا تھا جو کہ طغیان و سرکشی کی حد و انتہا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ بندے کا اصل مرتبہ و مقام اور اس کی حدود اربعہ یہ ہے کہ وہ بندہ بن کر رہے اور اس کائنات کے خالق ومالک کے اوامرو ارشادات کی پابندی اور پاسداری کرے۔ اور اس کے برعکس اگر وہ اس سے غافل ہو کر اپنی من مانی کرنے لگے اور بندگی کی حدود کو پھلانگ کر اپنی خدائی کا دعویدار بن جائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور لوگوں کو خدا کی اطاعت و بندگی کی طرف بلانے کی بجائے ان سے اپنی بندگی اور غلامی کرانے لگے تو اس سے بڑھ کر علو اور سرکشی اور کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اور پرورش
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ قرآن پاک میں بار بار آیا ہے۔ سورة کہف میں خضر (علیہ السلام) کے ساتھ آیا ہے پھر سورة طہٰ میں سورة نمل میں اور اب سورة قصص میں کچھ کچھ حصہ ضرورت کے مطابق آیا ہے۔ یہاں تدبیر الٰہی کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ فرعون نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام اسرائیلی نوزائیدہ بچوں کو قتل کردینے کا حکم دے رکھا تھا۔ مگر اللہ کی تدبیر کے سامنے وہ اندھا ہوگیا اور اسی خاص اسرائیلی بچے کو خود پرورش کیا جو اس کا اصل دشمن تھا۔ اور اللہ نے اپنی حکمت اور تدبیر سے اس بچے کو اس کی ماں کے سپرد بھی کروا دیا بلکہ ماں کو دودھ پلانے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
سورة القصص
آیات 1 تا 13
اسرار و معارف
طسم۔ وہ آیات ایسی کتاب کی ہیں جو حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے۔ اور یہاں آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعی اور اس کی حقیقت کا بیان سنایا جائے ا کہ مومنین کو اس سے مزید عبرت حاصل ہو۔ قرآن اگرچہ مخاطب تو ساری انسانیت کو کرتا ہے مگر اس سے فائدہ وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جنہیں ایمان نصیب ہوتا ہے۔
بے شک فرعون اپنی سرزمین میں بہت طاقتور شاہنشاہ تھا اور اس نے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔
لفظ شیعہ :
یہ پہلے بھی گزر چکا کہ شیعہ کا لفظی تر جمہ گروہ ، پارٹی یا جماعت ہے مگر قرآن کریم نے ہمیشہ گمراہ لوگوں کے ٹولہ پر اس کا اطلاق کیا ہے۔ جیسے اس جگہ کہ…
Read the full tafseer →3 ۔ مصر میں ” قبطی “ بھی آباد تھے، جو فرعون کی اپنی قوم تھی اور ” بنی اسرائیل “ بھی۔ فرعون نے اپنی پالیسی یہ رکھی کہ قبطی آقا بن کر رہیں اور بنی اسرائیل غلام اور خدمتگار بن کر۔ 4 ۔ کیونکہ اس نے خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر میں وقت کے نجومیوں نے انہیں بتایا کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیری بادشاہی چھین لے گا۔ (دیکھئے سورة بقرہ :49)
Read the full tafseer →(28:4) علا۔ ماضی واحد مذکر غائب علو مصدر (باب نصر) وہ غالب آیا ۔ وہ چڑھ گیا۔ اس نے چڑھائی کی۔
العلو کسی چیز کا بلند ترین حصہ۔ سفل کی ضد ہے۔ علا فی الارض اس نے ملک مصر میں سر اٹھا رکھا تھا۔ بعض نے علا کے معنی تجبر و تکبر کے لئے ہیں یعنی جبر و تکبر میں بڑھا ہوا تھا۔ اور ظلم ۔ عدوان میں حد سے بڑھا ہوا تھا۔
شیعا۔ شیعۃ کی جمع ہے بحالت نصب ۔ فرقے ۔ گروہ۔ وجعل اہلہا سیعا اور اس ملک الارض کے باشندوں کو گروہ در گروہ کر رکھا تھا۔ (مختلف مقاصد کے لئے)
یستضعف۔ مضارع واحد مذکر غائب (بمعنی ماضی استعمال ہوا ہے) استضعاف (استفعال) مصدر۔ ضعف مادہ۔ اس نے کمزور کر رکھا تھا۔
طائقۃ۔ گروہ، جماعت ، یہاں مراد بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 :
نتلوا (ہم پڑھتے ہیں) نبا (خبر۔ حال) ‘ علا (اس نے سرکشی کی) شیع (فرقے۔ گروہ) ‘ یستضعف (وہ کمزور کرتا ہے) ‘ یذبح (وہ ذبح کرتا ہے) یستحی (وہ زندہ رکھتا ہے) ‘ نمن (ہم احسان کرتے ہیں) ‘ ائمۃ (امام) پیشوا۔ رہنما ‘ نری (ہم دکھائیں گے) ‘ یحذرون (وہ ڈرتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 :
سورۃ القصص کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے۔ یہ وہ حروف ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو حاصل ہے۔ ممکن ہے ان حروف کے معنی اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو بتادیئے ہوں اور آپ نے امت کو بتانا ضروری نہ سمجھا ہو۔ لہٰذا ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ ان حروف کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
فرعون کا واقعہ۔
(ف 1) ان آیتوں میں موسیٰ اور فرعون کا قصہ بیان فرمایا کہ فرعون نے خدا ہونے کا دعوی کیا تھا فرعون نے مصر کے رہنے والوں کے کئی گروہ کرڈالے تھے ان میں سے ایک گروہ بنی اسرائیل کو ہر طرح سے کمزور اور ضعیف کررہا تھا اور ان سے ذلیل کام لیتا تھا بنی اسرائیل اپنے زمانہ کے لوگوں میں عزت دار تھے فرعون نے ان کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں یہیاں تک کہ فرعون ان کے لڑکوں کو ذبح کرادیتا تھ اور لڑکیوں کو چھوڑ دیتا تھا یہاں تک کہ ننانوے ہزار معصوم بچوں کو ذبح کرادیا، اور جو لڑکی پیدا ہوتی تھی اس کو خدمت کے لیے چھوڑ دیتا تھا اور یہ اس لیے کرتا تھا کہ کسی نجومی نے اس کو خبر دی تھی کہ بنی اسرائیل میں…
Read the full tafseer →[3] یعنی سرزمین مصر میں اس کا تسلط تھا اور وہ ظلم و استبداد اور تکبر میں انتہا کو پہنچ گیا تھا اور بندگی کے مقام کو چھوڑ کر اِلٰہ بن بیٹھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
قصہ غلامی وآزادی
1: سورة قصص کی ابتدا موسیٰ اور فرعون کے قصے سے ہوتی ہے کیونکہ یہ قصہ اپنے اندر مظلوموں اور بیکسوں کے لئے ایک عجیب کشش رکھتا ہے ۔ اس کے بیان کرنے سے مقصد یہ ہے ۔ کہ مکہ کے زبردست انسانوں کے دل میں ابھار اور بلندی کی خواہشات پیدا کی جائیں ۔ اور انہیں بتایا جائے ۔ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی کیونکر مدد کرتا ہے ۔ اور کس طرح حضیض غلامی سے اٹھا کر حکومت و وراثت کے بام بلند تک پہنچا دیتا ہے
یہ قصہ حقیقت میں فرعون اور موسیٰ کا قصہ ہی نہیں ۔ بلکہ حق و باطل کی معرکہ آرائی کا مکمل نقشہ ہے ۔ فرعون اور فرعون جیسے ظالموں کی داستان عبرت ہے ۔ بلکہ یوں کہیے کہ آزادی اور غلامی کا کامل فوٹو ہے…
Read the full tafseer →4۔ بلا شبہ فرعون سر زمین مصر میں بہت بڑھ چڑھ رہا تھا اور اونچا ہو رہا تھا اور بڑ ی سرکشی اختیار کر رکھی تھی اور وہاں کے باشندوں کو کئی فرقے کر رکھا تھا ان میں سے ایک فرقے اور جماعت کو اتنا کمزور کر رکھا تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیا کرتا تھا۔ بیشک وہ فساد کرنے اور خرابی ڈالنے والوں میں سے تھا۔ مطلب یہ ہے کہ فرعون نے ملک مصر میں بڑی سر بلندی اور سرکشی اختیار کر رکھی تھی اور اپنی سلطنت کو مضبوط کرنے کی غرض سے لوگوں میں فرقہ بندی کر رکھی تھی ایک فرقہ کو اس قدر کمزور کر رکھا تھا بنی اسرائیل کو اس قدر دبا رکھا تھا کہ ان کی نرینہ اولاد ہی کو ذبح کرا دیتا…
Read the full tafseer →ف 4۔ اس طرح کہ قبطیوں کو معزز بنا رکھا تھا اور سبطیوں یعنی بنی اسرائیل کو پست اور خوار کر رکھا تھا۔
Read the full tafseer →فرعون کے اقتدار پر قبضہ کرنے اور پھر قبضہ قائم رکھنے کا اصل راز :
4۔ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کس حکمت کے تحت مصر میں لایا تھا اس کا خاکہ ذرا ذہن میں تازہ کرو کہ یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائیوں کے درمیان ایک خاندانی چپقلش کے نتیجہ میں بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو اٹھا کر ایک کنوئیں میں گرا دیا اور یہ واقعہ عین اس وقت معرض وجود میں آیا جب ایک تجارتی قافلہ اس راستے سے گزرنے والا تھا بھائی یوسف کو ٹھکانے لگا کر واپس آئے ادھر اس قافلہ کے سقہ نے کنوئیں میں ڈول ڈالا تاکہ پانی نکالے اور کام میں لائے اس نے جب ڈول کھینچا تو بجائے پانی کے ایک خوبرو اور خوش اخلاق بچے کو دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً ؓ (And We intended to favour those who were held as weak in the land and to make them leaders - 28:5). In this verse it is emphasized that the plan of the Pharaoh was not equal to that of the divine fate, rather it turned out to be completely ineffective and he and his entire courtiers were befooled. On the basis of the dream and it's interpretation about an Isra'ili boy from whom the life of the Pharaoh was at risk, and because of which hundreds of newly born Isra'ili male issues were put to death…
Read the full tafseer →3 The words ala fil-ard in the Text are comprehensive and mean that he adopted a rebellious attitude in the land, assumed independence and godhead and superiority instead of behaving like a servant and a subordinate, and started oppressing his subjects like a tyrannical and haughty ruler.
4 That is, "He did not rule his subjects with an even hand giving equal rights to all of them, but he had adopted the polity of dividing them into groups. He bestowed privileges and preferential rights on some to be made the ruling class and reduced others to serfs to be oppressed and exploited."
Here,…
Read the full tafseer →