Explained with ayahs 1–6
حروف مقطعہ کا بیان پہلے ہوچکا ہے۔
یہ آیتیں ہیں واضح جلی روشن صاف اور کھلے قرآن کی تمام کاموں کی اصلیت اب گذشتہ اور آئندہ کی خبریں اس میں ہیں اور سب سچی اور کھلی۔ ہم تیرے سامنے موسیٰ اور فرعون کا سچا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے ہم تیرے سامنے بہترین واقعہ بیان کرتے ہیں۔ اس طرح کہ گویا تو اس کے ہونے کے وقت وہیں موجود تھا۔ فرعون ایک متکبر سرکش اور بددماغ انسان تھا۔ اس نے لوگوں پر بری طرح قبضہ جمارکھا تھا اور انہیں آپس میں لڑوا لڑوا کر ان میں پھوٹ اور اختلاف ڈلوا کر انہیں کمزور کرکے خود ان پر جبر وتعدی کے ساتھ سلطنت کر رہا تھا۔ خصوصا بنی اسرائیل کو تو اس ظالم نے نیست ونابود کرنے کا…
Read the full tafseer →سورة القصص 1
تقابل کے لیے ملاحظۃ ہو البقرہ رکوع 6۔ الاعراف رکوع 13 تا 16۔ یونس رکوع 8۔ 9۔ ہود رکوع 9۔ بنی اسرائیل رکوع 12۔ مریم رکوع 4۔ طہ رکوع 4۔ المومنون رکوع 3۔ الشعراء رکوع 2۔ 4۔ النمل رکوع 1۔ العنکبوت رکوع 4۔ المومن رکوع 3۔ 5۔ الزخرف رکوع 5۔ الدخان رکوع 1۔ الذاریات رکوع 2۔ النازعات رکوع 1۔
سورة القصص 2
یعنی جو لوگ بات ماننے کے لیے تیار ہی نہ ہوں ان کو سنانا تو بےکار ہے، البتہ جنہوں نے ہٹ دھرمی کا قفل اپنے دلوں چڑھا نہ رکھا ہو وہ اس گفتگو کے مخاطب ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
معارف و مسائل
سورة قصص مکی سورتوں میں سب سے آخری سورت ہے جو ہجرت کے وقت مکہ مکرمہ اور جحفہ (رابغ) کے درمیان نازل ہوئی۔ بعض روایات میں ہے کہ سفر ہجرت میں جب رسول اللہ ﷺ جحفہ یعنی رابغ کے قریب پہنچے تو جبرئیل امین تشریف لائے اور رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اے محمد ﷺ کیا آپ کو آپ کا وطن جس میں آپ پیدا ہوئے یاد آتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ ہاں ضرور یاد آتا ہے۔ اس پر جبرئیل امین نے یہ سورت قرآن سنائی جس کے آخر میں آنحضرت ﷺ کو اس کی بشارت ہے کہ انجام کار مکہ مکرمہ فتح ہو کر آپ کے قبضہ میں آئے وہ آیت یہ ہے اِنَّ الَّذِيْ فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَاۗدُّكَ اِلٰى مَعَادٍ ، سورة قصص میں سب سے پہلے حضرت…
Read the full tafseer →موسیٰ و فرعون کی سرگزشت سنانے کا اصل مقصد
خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن آیت کے آخری الفاظ لقوم یومنون خود شاہد ہیں کہ مقصود اس سرگزشت کے سنانے سے وقت کے فراعنہ یعنی قریش کے لیڈروں کے کان کھولنا ہے۔ بالحق یعنی بالکل ٹھیک ٹھیک غایت و مدعا اور عبرت و موعظت کے ساتھ تورات میں حضرت موسیٰ اور فرعون کی سرگشت نہ تو ٹھیک ٹھیک بیان ہونی ہے اور نہ اس سے وہ موعظت ہی سامنے آتی ہے جو اس کی اصل روح ہے۔ قرآن نے یہ سرگزشت اس کے ان دونوں پہلوئوں کو سامنے رکھ کر سنائی ہے۔ لقوم یومنون میں فعل ہمارے نزدیک ارادہ فعل کے مفہوم میں ہے۔ یہ ٹکڑا اپنے اندر ایک قسم کی تنبہ۔ رکھتا ہے کہ ہم یہ سرگزشت سنا رہے ہیں لیکن اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
3-1یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں کیونکہ وحی الٰہی کے بغیر صدیوں قبل کے واقعات بالکل اس طریقے سے بیان کردینا جس طرح پیش آتے ناممکن ہے، تاہم اس کے باوجود اس سے فائدہ اہل ایمان ہی کو ہوگا کیونکہ وہی آپ کی باتوں کی تصدیق کریں گے۔
Read the full tafseer →نتلوا علیک من نبا موسٰی وفرعون بالحق لقوم یومنون (3)
” “۔ یہ کتاب اب لوگوں کے لیے آرہی جو ایمان لانے والے ہوتے ہیں ، یہ ان کی تربیت کرتی ہے ، ان کو اٹھاتی ہے اور ان کے لیے منہاج حیات وضع کرتی ہے ۔ راستہ بتاتی ہے ۔ یہ قصص بھی ایسے ہی اہل ایمان کے لیے لائے جارہے ہیں اور ایسے ہی لوگ ان سے نفع اٹھاتے ہیں ۔
اس کتاب کی یہ تلاوت براہ راست اللہ کی طرف سے ہے ، یہ اللہ کی عنایات میں سے ایک عنایت ہے ۔ اور اہل ایمان کے لیے اس کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔ یہ کتاب اہل ایمان کو بتاتی ہے کہ وہ نمایت ہی بلند مر تبہ اور قیمتی لوگ ہیں اور اللہ کے نزدیک وہ مرتبہ بلند رکھتے ہیں ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
5 یعنی مسلمان لوگ اپنا حال قیاس کرلیں ظالموں کے مقابلہ میں (موضح) جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو باوجود کمزوری کے فرعونیوں کی طاقت کے مقابلہ میں منصور و کامیاب کیا۔ ایسے ہی مسلمان جو فی الحال مکہ میں قلیل اور ضعیف و ناتواں نظر آتے ہیں اپنے بیشمار طاقتور حریفوں کے مقابلہ پر کامیاب ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آیت 3 نَتْلُوْا عَلَیْکَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰی وَفِرْعَوْنَ بالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ”
گویا سورت کا آغاز ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر سے ہو رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 قرآن کریم میں اکثر مقامات پر حض موسیٰ اور فرعون کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے اور انبیاء کے ذکر میں حضرت موسیٰ کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔ اس کی وجوہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں۔ مختصراً یہ کہ موسیٰ کو رسول اللہ سے زیادہ شدید حالات میں فریضہ ئرسالت سرانجام دینے کا حکم ہوا تھا۔ مثلاً یہ کہ حضرت موسیٰ جس قوم بنی اسرائیل کے فرد تھے، فرعون نے انھیں اچھوتوں کی طرح کم تر درجہ کی مخلوق اور عملاً غلام بنا کر رکھا ہوا تھا۔ جبکہ آپ اپنی قوم قریش ہی کے ایک فرد تھے۔ پھر حضرت موسیٰ کو فرعون جیسے مغرور، متمرد اور سرکش، فوراً بھڑک اٹھنے والے فرمانروا کے ہاں دعوت رسالت کے لئے بھیجا گیا تھا جبکہ آپ کے مخاطبین اول آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ یعنی نفع اس سے وہی اٹھائیں گے، سبق اس سے وہی حاصل کریں گے جو صاحب ایمان ہیں خواہ حقیقۃ، یا حکما، یعنی ایمان کا ارادہ رکھتے ہوں۔ (آیت) ” من نبا “۔ میں (آیت) ” من “۔ تبعیضیہ ہے ” کچھ “ کے معنی میں۔ جیسا کہ ظاہر ہے، قصہ پورا نہیں بلکہ اس کا کچھ حصہ یہاں بیان ہورہا ہے۔ (آیت) ” بالحق “۔ بالکل صحیح ومتعبر۔ توریت وغیرہ کے ذریعہ سے ناقص اور محرف قصہ پہلے سے مشہور تھا ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
آیت نمبر 1 تا 13
ترجمہ : طٓسمٓ اس سے اللہ کی کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے یہ آیات مبین کی آیات ہیں آیات الکتاب میں اضافت بمعنی من اور مبین سے حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی آیات ہیں ہم آپ کے سامنے موسیٰ و فرعون کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کیلئے جو ایمان رکھتے ہیں (یعنی) مومنین کے لئے اس لئے کہ وہی اس قصہ سے استفادہ کرتے ہیں یقیناً فرعون نے سرزمین مصر میں سرکشی کر رکھی تھی اور مصر کے باشندوں کو اپنی خدمت کے لئے فرقوں میں تقسیم کر رکھا تھا ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا اور وہ بنی اسرائیل تھے ان کے نومود لڑکوں کو قتل کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا…
Read the full tafseer →نتلوا علیک من نبا موسیٰ و فرعون بالحق لقوم یومنون . ہم نے آپ کو موسیٰ اور فرعون کا کچھ
حصہ ٹھیک ٹھیک پڑھ کر (یعنی نازل کر کے) سناتے ہیں ان لوگوں کے (فائدے) کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔
تَتْلُوْا ہم پڑھتے ہیں یعنی جبرئیل کی زبانی ‘ مراد ہے نازل کرنا۔
مِنْ نَبَاِکچھ خبر ‘ کچھ قصہ (مِنْ تبعیضہ ہے) ۔
بالحق یعنی سچائی کا حامل۔ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں کیونکہ انہی کو اس سے فائدہ ہوگا (جو ایمان نہ رکھتا ہو اس کو اس کے سننے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ایمان دار کے ایمان میں پختگی اس کو سننے سے پیدا ہوتی ہے ‘ ایمان ہی نہ ہو تو استحکام ایمان کیسے ہوگا۔ مترجم) ۔
Read the full tafseer →(3) ہم آپ کو حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کا کچھ واقعہ بذریعہ قرآن کریم سناتے ہیں ان لوگوں کے فائدہ کیلیے جو آپ کی اور قرآن کریم کی تصدیق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →نَتْلُوْا عَلَيْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَفِرْعَوْنَ : ”نَّبَاِ“ اس خبر کو کہتے ہیں جو اہم اور شان والی ہو۔ ”مِن“
بعض کے معنی میں ہے، اس لیے ترجمہ ”کچھ خبر“ کیا گیا ہے۔ شوق دلانے کے لیے قصے کا آغاز ان الفاظ سے فرمایا، ہم تجھ پر موسیٰ ؑ اور فرعون کے اہم واقعے کا کچھ حصہ حق کے ساتھ، یعنی ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں۔
لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ :”یعنی مسلمان اپنا حال قیاس کرلیں ظالموں کے مقابلہ میں۔“ (موضح) مطلب یہ ہے کہ اس قصے میں مسلمانوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ فرعون سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہوسکتا اور بنی اسرائیل سے زیادہ کوئی مظلوم نہیں۔ تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کے ذریعے سے بنی اسرائیل کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
طسم اس کے متعلق گفتگو گزر چکی ہے۔ تلک ایت الکتب المبین تلک محل میں ہے یہ ھذہ تلک کے معنی میں ہے آیات اس سے بدل ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ تلو کی وجہ سے محل نصب میں ہو۔ ایٓات اس سے بدل ہو تو اس کو نصب دے گا جس طرح تو کہتا ہے : زید اضربت۔
المبین اس کی برکت اور خیر کو واضح کرنے والی ہے، حق کو باطل سے واضح کرنے والی ہے، حلال کو حرام سے واضح کرنے والی ہے۔ انبیاء کے قصے اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت کو واضح کرنے والی ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : بان الثی، وأبان شے واضح ہوگئی۔ نتلوا علیک من نبا موسیٰ و فرعون بالحق لقوم یومنون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور قارون کے قصہ کا ذکر کیا اور قریش کے مشرکین کے خلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کی باتوں میں سے ایک بات یہ ہے کہ اس نے انی نیند میں ایک خواب دیکھا کہ ایک آگ بیت المقدس سے آئی یہاں تک کہ اس نے مصر کے تمام تھروں کو گھیرلیا قبطیوں کو جلادیا ہے۔ اور بنی اسرائیل کو چھوڑد یا ہے یہ خواب دیکھنے بعد اس نے جادوگروں کو کاہنوں کو فال پکڑنے والوں کو بلایا زجرہ سے مراد فال پکڑنے والے ہیں۔ پرندوں کو اڑاتے ہیں اس نے ان سے اپنے خواب کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرعون سے کہا ایک آدمی اس شہر سے جہاں بنواسرائیل آئے ہیں یعنی بیت المقدس سے نکلے گا اس کی وجہ سے مصر تباہ و برباد ہوجائے گا یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو…
Read the full tafseer →نَتْلُوْا عَلَيْكَ [ ہم سناتے ہیں آپ ﷺ کو ] مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰى وَفِرْعَوْنَ [ فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر میں سے ] بِالْحَقِّ [ حق کے ساتھ ] لِقَوْمٍ [ ایسی قوم کے لئے جو ] يُّؤْمِنُوْنَ [ ایمان لاتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
فرعون کی سرکشی اور بنی اسرائیل پر مظالم کا تذکرہ
ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں پھر فرمایا کہ آپ کو موسیٰ اور فرعون کی بعض خبروں کو حق کے ساتھ بالکل ٹھیک ٹھیک آپ کو سناتے ہیں آپ کے واسطہ سے یہ خبریں اہل ایمان کو پہنچیں گی اور وہ ان سے عبرت حاصل کریں گے۔
پھر فرمایا کہ فرعون زمین میں یعنی سر زمین مصر میں حکومت اور اقتدار کے اعتبار سے بڑھ چڑھ گیا تھا۔ اس نے وہاں کے رہنے والوں کو کئی جماعتوں میں تقسیم کر رکھا تھا انہیں جماعتوں میں سے ایک جماعت بنی اسرائیل کی تھی ان کو اس نے ضعیف بنا رکھا تھا اور ان کے ضعف اور مجبوری کا یہ عالم تھا کہ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
آغاز سورت بحقانیت قرآن وذکر اجمالی قصۂ
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) وفرعون برائے تہدید اہل نخوت و رعونت ومنکرین نبوت ورسالت
قال اللہ تعالیٰ طسم تلک ایات الکتب المبین۔۔۔ الی۔۔۔۔ موسیٰ وفرعون بالحق لقوم یؤمنون۔
(ربط) گزشتہ سورت کی طرح اس سورت کا آغاز بھی حقانیت قرآن سے فرمایا جو رسالت محمد یہ کی سب سے واضح اور روشن دلیل ہے اور فرعون کا قصہ ذکر کیا جس سے اہل نخوت و رعونت کی تہدید مقصود ہے کہ متکبرین کو چاہئے کہ فرعون کے قصہ سے عبرت پکڑیں کہ جس نے بنی اسرائیل کو ضعیف اور کمزور سمجھ کر ظلم وستم میں کسر نہ اٹھا رکھی اور اپنی وقتی طاقت کے غرور میں خدا کے حکم اور اس کی تاخیر اور مہلت سے غافل رہا اس کا…
Read the full tafseer →3:۔ یہاں سے لے کر، ماکانوا یحذرون، تک میں موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ مجملا ذکر کیا گیا ہے آگے اس کی تفصیل آرہی ہے۔ لقوم جار مجرور نتلوا کے متعلق ہے۔ ہم موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا عجیب و غریب قصہ صحیح صحیح آپ کو سناتے ہیں تاکہ مومنین اس سے عبرت و نصیحت حاصل کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ انہوں نے فرعون اور اس کی قوم کے سامنے دعوت توحید پیش کی اور اس کی خاطر طویل عرصہ تک تکلیفیں اٹھاتے رہے آخر وہ کامیاب ہوئے۔ اے پیغمبر آپ بھی ہمت و استقلال سے دعوت کا کام جار رکھیں اور جس قدر مصائب آئیں حوصلہ مندی سے ان کا مقابلہ کریں آخر آپ کامیاب ہوں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة القصص ہے ۔ قصص قصہ کی جمع ہے جس کا معنی واقعہ یا کہانی ہوتا ہے ، چونکہ اس سورة میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قارون اور بعض دیگر اقوام کے واقعات مذکور ہیں ۔ اس لیے اس کا نام سورة القصص ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تفصیلی واقعات کی نسبت سے اس سورة کا دوسرا نام سورة موسیٰ بھی بیان کیا جاتا ہے تا ہم زیادہ مشہور زیادہ سورة القصص ہی ہے۔ گزشتہ سورة الشعراء اور سورة النمل کی طرح یہ سورة بھی مکی زندگی کے آخری حصے میں نازل ہوئی ۔ اس کی بعض آیات دوران ہجرت حجفہ کے مقام پر نازل ہوئیں ۔ جن میں آپ کی تسلی دی گئی ہے ۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة ہجرت سے…
Read the full tafseer →نَتْلُوْا عَلَيْكَ مِنْ نَّبَـاِ مُوْسٰى وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 3
تلو
تَلَاهُ : تبعه متابعة ليس بينهم ما ليس منها، وذلک يكون تارة بالجسم وتارة بالاقتداء في الحکم، ومصدره : تُلُوٌّ وتُلْوٌ ، وتارة بالقراءة وتدبّر المعنی، ومصدره : تِلَاوَة وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2]
( ت ل و ) تلاہ ( ن )
کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنا کے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی اجنبی کو چیز حائل نہ ہو یہ کہیں تو جسمانی طور ہوتا ہے اور کہیں اس کے احکام کا اتباع کرنے سے اس معنی میں اس کا مصدر تلو اور تلو آتا ہے اور کبھی یہ متا بعت کسی کتاب کی قراءت ( پڑھنے ) ۔ اور اس کے معانی سمجھنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
ترکیب : نتلوا کا مفعول محذوف ای شیئاً من نباء اس کی صفت جو اس پر دال ہے۔ اخفش کے نزدیک من زائد تب یہ نباء موسیٰ مفعول ہے، بالحق حال ہے نباء سے۔ نتلوا کے فاعل سے بھی حال ہوسکتا ہے۔ ای نتلوا متلبساً بالحق لقوم لام نتلوا سے متعلق ونری معطوف ہے، نمکن پر اور وہ اور نجعل لمن پر اَنْ کے نیچے فرعون ھامان و جنودھما نری کا اول مفعول ماکانوا یحذرون مفعول دوم منہم تری سے متعلق اور بعض کہتے ہیں یحذرون سے وفیہ مافیہ لان الصلۃ لا تتقدم علی الموصول۔
تفسیر : اس سے پہلے سورة نمل کے خاتمہ میں یہ کہا وان اتلوا القرآن کہ مجھے قرآن سنانے کا حکم ہوا ہے، خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔ اس لیے اس سورة کا ابتداء طسم حروف…
Read the full tafseer →نَتْلُوْا عَلَیْکَ مِنْ نَّـبَاِ مُوْسٰی وَفِرْعُوْنَ بِالْحَقِّ لِقَوْمٍ یُّـؤْمِنُوْنَ ۔ (القصص : 3)
(ہم آپ کو حضرت موسیٰ اور فرعون کا کچھ حال ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں۔ ان لوگوں کی ہدایت کے لیے جو ایمان لانا چاہیں۔ )
سرگزشت کے سنانے کا اصل مقصد
اس آیت کریمہ میں خطاب اگرچہ نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن آیت کے آخری الفاظ خود بول رہے ہیں کہ اس واقعہ کو سنانے کا مقصد داستان سرائی نہیں بلکہ وہ لوگ جو ایمان لانا چاہتے ہیں لیکن حق و باطل کی کشمکش اور اس میں پیش آنے والا زیروبم ان کے ارادوں کو متزلزل کردیتا ہے۔ وہ جب مشرکین کے مظالم کو دیکھتے ہیں تو ان کے آگے بڑھتے ہوئے قدم رک جاتے ہیں اور مسلمانوں کی مظلومیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
فہم القرآن
ربط کلام : سورة نمل کا اختتام ان الفاظ میں ہوا کہ اے لوگو ! عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی نشانیاں دکھلائے گا، کیونکہ آپ کا رب کسی کے اچھے اور برے عمل سے غافل نہیں ہے۔” اللہ “ کی نشانیوں میں یہ بھی اس کی قدرت کی نشانی ہے کہ اس نے بنی اسرائیل جیسی مظلوم قوم اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے وسائل کے لحاظ سے کمزور شخص کو فرعون جیسے ظالم شخص سے نجات دی اور بنی اسرائیل کو پوری دنیا میں معزز بنایا۔
حضرت موسیٰ اور فرعون کی کشمکش کا تذکرہ پایا جاتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اہل مکہ اور آل فرعون کے کردار میں بڑی مماثلت پائی جاتی ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کا مقصد :
” اے موسیٰ ! تو اور…
Read the full tafseer →3: نَتْلُوْا عَلَیْکَ (ہم تم پر پڑھتے ہیں) ۔ یہاں نتلوا نقرأ علیک کے معنی میں ہے۔ یعنی ہمارے حکم سے جبرئیل پڑھیں گے۔
نتلوا کا مفعول مِنْ نَّبَأِ مُوْسٰی وَ فِرْعَوْنَ ہے۔ یعنی ہم تم پر ان کے بعض حالات پڑھیں گے۔ (موسیٰ و فرعون کی کچھ خبر) من تبعیضیہ ہے۔ بِالْحَقِّ (حق کے ساتھ) ای محقین۔ پختگی کرنے والے ہیں۔
نحو : یہ حال ہے۔
لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ (ایمان والے لوگوں کے لئے) ۔ جن کے متعلق ہمارے علم میں یہ بات سبقت کرچکی کہ وہ ایمان لائیں گے۔ کیونکہ تلاوت الٰہی ان ہی کو فائدہ دے گی نہ کہ دوسروں کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
تفسیر۔
3۔ نتلو علیک من نبا موسیٰ و فرعون بالحق، حق سے مراد صدق ہے ۔ لقوم یومنون، اور وہ قرآن کی تصدیق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
3 تا 7۔ اوپر گزر چکا ہے کہ فرعون نے ایک رات کو سوتے میں خواب دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ مصر میں آن کر پھیل گئی اور فرعون کی قوم کے تمام گھر تو اس آگ میں جل گئے لیکن مصر میں بنی اسرائیل کا محلہ اس آگ سے بچ گیا ہے صبح کو فرعون جب سو کر اٹھا تو اس نے اپنے نجومیوں اور جادو گروں کو جمع کر کے اس خواب کی تعبیر پوچھی انہوں نے کہا بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا۔ جس کے ہاتھوں سے تیری بادشاہت غارت ہوجائے گی اور مصر کو صدمہ پہنچے گا اس خواب اور اس تعبیر کے ڈر سے فرعون نے بنی اسرائیل کے لڑکوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا تھا۔ جب ہزارہا لڑکے بنی اسرائیل کے قتل ہونے لگے تو فرعون کی قوم کے سرداروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–51
تفسیر سورة القصص
(آیت 1
(تلک) یہ آیات جو تعظیم و توقیر کی مستحق ہیں۔ (ایت الکتب المبین) کتاب مبین کی آیات ہیں ہر اس معاملے کو کھول کھول کر بیان کتی ہیں جن کے بندے حاجت مند ہیں، مثلاً رب تعالیٰ کی معرفت، اس کے حقوق کی معرفت، اس کے اولاء و اعداء کی معرفت، اس کے ایام و وقائع کی معرفت اعمال کے ثواب اور عمل کرنے والوں کی جزا کی معرفت۔ قرآن مجید نے ان تمام امور کو کھول کھول کر بیان کرکے بندوں کے سامنے پوری طرح واضح کردیا۔
اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقدمات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس…
Read the full tafseer →2 قصہ موسیٰ و فرعون کا ذکر عبرت گیری کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں آپ کو کچھ حصہ موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت کا "۔ یعنی " مِنْ " یہاں پر تبعیضیہ ہے۔ یعنی اس قصے کا وہی حصہ بیان کیا جاتا ہے جس کا اظہار وبیان اس کتاب کے موضوع و مقصد کے اعتبار سے ضروری ہے۔ اور جو تعلیم حق اور اصلاح خلق کے لئے مفید ہے۔ کیونکہ قرآن حکیم کوئی تاریخ کی کتاب نہیں کہ اس میں محض داستان سرائی کے طور پر اور تاریخی ترتیب کے ساتھ پورا قصہ بیان کردیا جائے بلکہ یہ کتاب عزیز کتاب حق و ہدایت ہے۔ جس کا اصل موضوع و مقصود راہ حق کی راہنمائی کرنا اور بندگان خدا کو فوز و فلاح کے راستے پر ڈالنا ہے۔ { بالحق }…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت اور پرورش
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ قرآن پاک میں بار بار آیا ہے۔ سورة کہف میں خضر (علیہ السلام) کے ساتھ آیا ہے پھر سورة طہٰ میں سورة نمل میں اور اب سورة قصص میں کچھ کچھ حصہ ضرورت کے مطابق آیا ہے۔ یہاں تدبیر الٰہی کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔ فرعون نے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے تمام اسرائیلی نوزائیدہ بچوں کو قتل کردینے کا حکم دے رکھا تھا۔ مگر اللہ کی تدبیر کے سامنے وہ اندھا ہوگیا اور اسی خاص اسرائیلی بچے کو خود پرورش کیا جو اس کا اصل دشمن تھا۔ اور اللہ نے اپنی حکمت اور تدبیر سے اس بچے کو اس کی ماں کے سپرد بھی کروا دیا بلکہ ماں کو دودھ پلانے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
سورة القصص
آیات 1 تا 13
اسرار و معارف
طسم۔ وہ آیات ایسی کتاب کی ہیں جو حقائق کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے۔ اور یہاں آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعی اور اس کی حقیقت کا بیان سنایا جائے ا کہ مومنین کو اس سے مزید عبرت حاصل ہو۔ قرآن اگرچہ مخاطب تو ساری انسانیت کو کرتا ہے مگر اس سے فائدہ وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جنہیں ایمان نصیب ہوتا ہے۔
بے شک فرعون اپنی سرزمین میں بہت طاقتور شاہنشاہ تھا اور اس نے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ رکھا تھا۔
لفظ شیعہ :
یہ پہلے بھی گزر چکا کہ شیعہ کا لفظی تر جمہ گروہ ، پارٹی یا جماعت ہے مگر قرآن کریم نے ہمیشہ گمراہ لوگوں کے ٹولہ پر اس کا اطلاق کیا ہے۔ جیسے اس جگہ کہ…
Read the full tafseer →2 ۔ ” یعنی مسلمان اپنا حال قیاس کرلیں ظالموں کے مقابلہ میں۔ “ مطلب یہ ہے کہ اس قصہ میں مسلمانوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ذریعہ بنی اسرائیل کو کمزور ہونے کے باوجود فرعون کے مقابلہ میں کامیاب کیا اسی طرح اب جو مسلمان مکہ میں کمزور اور مغلوب ہیں انہیں بھی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں کامیاب کرے گا۔ اس کے بعد ” ان فرعون “ سے اسی قصہ کی تفصیل شروع ہو رہی ہے۔ (روح)
Read the full tafseer →(28:3) نتلوا مضارع جمع متکلم تلاوۃ مصدر۔ ہم تلاوت کرتے ہیں۔ ہم پڑھتے ہیں۔ ہم پڑھ کر سناتے ہیں۔
نباء خبر۔ واقعہ۔ قصہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 :
نتلوا (ہم پڑھتے ہیں) نبا (خبر۔ حال) ‘ علا (اس نے سرکشی کی) شیع (فرقے۔ گروہ) ‘ یستضعف (وہ کمزور کرتا ہے) ‘ یذبح (وہ ذبح کرتا ہے) یستحی (وہ زندہ رکھتا ہے) ‘ نمن (ہم احسان کرتے ہیں) ‘ ائمۃ (امام) پیشوا۔ رہنما ‘ نری (ہم دکھائیں گے) ‘ یحذرون (وہ ڈرتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 :
سورۃ القصص کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے۔ یہ وہ حروف ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو حاصل ہے۔ ممکن ہے ان حروف کے معنی اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو بتادیئے ہوں اور آپ نے امت کو بتانا ضروری نہ سمجھا ہو۔ لہٰذا ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ ان حروف کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
فرعون کا واقعہ۔
(ف 1) ان آیتوں میں موسیٰ اور فرعون کا قصہ بیان فرمایا کہ فرعون نے خدا ہونے کا دعوی کیا تھا فرعون نے مصر کے رہنے والوں کے کئی گروہ کرڈالے تھے ان میں سے ایک گروہ بنی اسرائیل کو ہر طرح سے کمزور اور ضعیف کررہا تھا اور ان سے ذلیل کام لیتا تھا بنی اسرائیل اپنے زمانہ کے لوگوں میں عزت دار تھے فرعون نے ان کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں یہیاں تک کہ فرعون ان کے لڑکوں کو ذبح کرادیتا تھ اور لڑکیوں کو چھوڑ دیتا تھا یہاں تک کہ ننانوے ہزار معصوم بچوں کو ذبح کرادیا، اور جو لڑکی پیدا ہوتی تھی اس کو خدمت کے لیے چھوڑ دیتا تھا اور یہ اس لیے کرتا تھا کہ کسی نجومی نے اس کو خبر دی تھی کہ بنی اسرائیل میں…
Read the full tafseer →[2] یعنی جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو باوجود کمزوری کے فرعونیوں کے مقابلے میں کامیاب کیا اسی طرح مسلمان جو فی الحال مکہ میں قلیل و کمزور نظر آتے ہیں اپنے بیشمار طاقت ور حریفوں کے مقابلے میں کامیاب ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
قصہ غلامی وآزادی
1: سورة قصص کی ابتدا موسیٰ اور فرعون کے قصے سے ہوتی ہے کیونکہ یہ قصہ اپنے اندر مظلوموں اور بیکسوں کے لئے ایک عجیب کشش رکھتا ہے ۔ اس کے بیان کرنے سے مقصد یہ ہے ۔ کہ مکہ کے زبردست انسانوں کے دل میں ابھار اور بلندی کی خواہشات پیدا کی جائیں ۔ اور انہیں بتایا جائے ۔ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی کیونکر مدد کرتا ہے ۔ اور کس طرح حضیض غلامی سے اٹھا کر حکومت و وراثت کے بام بلند تک پہنچا دیتا ہے
یہ قصہ حقیقت میں فرعون اور موسیٰ کا قصہ ہی نہیں ۔ بلکہ حق و باطل کی معرکہ آرائی کا مکمل نقشہ ہے ۔ فرعون اور فرعون جیسے ظالموں کی داستان عبرت ہے ۔ بلکہ یوں کہیے کہ آزادی اور غلامی کا کامل فوٹو ہے…
Read the full tafseer →3۔ اے پیغمبر ! ہم آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے بعض صحیح صحیح واقعات پڑھ کر ان لوگوں کے لئے سناتے ہیں جو لوگ ایمان رکھتے اور تصدیق کرتے ہیں ۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے احوال و واقعات تو بہت ہیں ان میں سے کچھ واقعات اس موقع پر نازل فرماتے ہیں اور آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں اور آپ پر تلاوت کرتے ہیں اور یہ سنانا انہی لوگوں کو مفید ہوسکتا ہے جو فی الحال ایمان رکھتے ہیں یا آئندہ ایمان لانے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ اقوام سابقین کے قصص اور واقعات سے وہی لوگ عبرت آموز سبق حاصل کرتے ہیں جو ایمان والے ہوں یا ایمان لانے کی غرض سے نیک نیتی کے ساتھ تحقیق کرنا چاہتے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 3۔ کیونکہ مقاصد قصص کے کہ عبرت و استدلال علی النبوة وغیرہما ہیں مومنین ہی کو نافع ہیں، خواہ حقیقة مومن ہوں یا حکما۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی مختلف خبریں بتائی جا رہی ہیں تاکہ لوگ ایمان لائیں :
3۔ سورة القصص 28 ویں سورت ہے اسمیں سے بیس سورتوں میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر آیا ہے اور صرف 8 سورتوں میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر نہیں کیا گیا گزشتہ سورتوں میں موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم بنی اسرائیل کے قصہ کی بہت سی باتیں بیان ہوچکی ہیں لیکن یہاں اس قصہ کی چند ایسی کڑیاں ذکر کی جا رہی ہیں جو کسی اور جگہ مذکور نہیں ہے اور جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے اس کا مقصد داستان سرائی نہیں بلکہ ان اہل ایمان کے دلوں کو تازہ اور شگفتہ کرنا مقصود ہے جو ایک عرصہ سے مشرکین کے مظالم کا ہدف بنے ہوئے تھے تاکہ انہیں یقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً ؓ (And We intended to favour those who were held as weak in the land and to make them leaders - 28:5). In this verse it is emphasized that the plan of the Pharaoh was not equal to that of the divine fate, rather it turned out to be completely ineffective and he and his entire courtiers were befooled. On the basis of the dream and it's interpretation about an Isra'ili boy from whom the life of the Pharaoh was at risk, and because of which hundreds of newly born Isra'ili male issues were put to death…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 For comparison, see AI-Baqarah: 47-59, AI-A'raf: 100-141, Yunus: 75-92. Hud: 96-109, Bani Isra'il: 101-111, Maryam: 51-53. Ta Ha: 1-89, Al- Mu'minun: 45-49, Ash-Shu`araa: 10-68, An-Naml: 7-14, Al-`Ankabut: 39-40, AlMu'min: 23-50, Az-Zukhruf: 46-56, Ad-Dukhan: 1 7-33, Adh-Dhariyat: 38-40, An-Naziyat: 1 5-26.
2 That is, "For the benefit of those who are not obstinate and stubborn, for it would be useless to address those who are not at all inclined to listen to you.
Read the full tafseer →